سنن أبي داود حدیث نمبر: 3771
Sunan Abi Dawud 3771
کتاب #28: کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل
17: باب مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ مُتَّكِئًا
باب: ٹیک لگا کر کھانا کھانا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سُلَيْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: " بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَوَجَدْتُهُ يَأْكُلُ تَمْرًا وَهُوَ مُقْعٍ".
مصعب بن سلیم کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کہیں) بھیجا جب میں لوٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ کو پایا کہ آپ کھجوریں کھا رہے ہیں، سرین پر بیٹھے ہوئے ہیں اور دونوں پاؤں کھڑا کئے ہوئے ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3771]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الأشربة 24 (2044)، سنن الترمذی/الشمائل (142)، (تحفة الأشراف: 1591)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/180، 203)، دی/ الأطعمة 26 (2106) (صحیح)