سنن أبي داود حدیث نمبر: 3810
Sunan Abi Dawud 3810
کتاب #28: کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل
34: باب فِي أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ
باب: گھریلو گدھے کا گوشت کھانا حرام ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عُبَيْدٍ، عَنْ ابْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ رَجُلَيْنِ مِنْ مُزَيْنَةَ أَحَدُهُمَا عَنْ الْآخَرِ أَحَدُهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ عُوَيْمٍ، وَالْآخَرُ غَالِبُ بْنُ الْأَبْجَرِ، قَالَ مِسْعَرٌ: أَرَى غَالِبًا الَّذِي أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
ابن معقل مزینہ کے دو آدمیوں سے روایت کرتے ہیں اور ان میں سے ایک شخص دوسرے سے روایت کرتا ہے ایک کا نام عبداللہ بن عمرو بن عویم اور دوسرے کا نام غالب بن أبجر ہے۔ مسعر کہتے ہیں: میرا خیال ہے غالب ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس بات (قحط والے معاملے) کو لے کر آئے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3810]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ انظرالحديث السابق (3809) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 135
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11018) (ضعیف الإسناد) (اس سند میں سخت اضطراب ہے)