سنن أبي داود حدیث نمبر: 3822
Sunan Abi Dawud 3822
کتاب #28: کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل
41: باب فِي أَكْلِ الثُّومِ
باب: لہسن کھانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلًا، فَلْيَعْتَزِلْنَا أَوْ لِيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا، وَلْيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ، وَإِنَّهُ أُتِيَ بِبَدْرٍ فِيهِ خَضِرَاتٌ مِنَ الْبُقُولِ، فَوَجَدَ لَهَا رِيحًا، فَسَأَلَ فَأُخْبِرَ بِمَا فِيهَا مِنَ الْبُقُولِ، فَقَالَ: قَرِّبُوهَا إِلَى بَعْضِ أَصْحَابِهِ كَانَ مَعَهُ، فَلَمَّا رَآهُ كَرِهَ أَكْلَهَا، قَالَ: كُلْ فَإِنِّي أُنَاجِي مَنْ لَا تُنَاجِي"، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ بِبَدْرٍ: فَسَّرَهُ ابْنُ وَهْبٍ طَبَقٌ.
عطا بن ابی رباح کا بیان ہے کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لہسن یا پیاز کھائے وہ ہم سے الگ رہے“ یا آپ نے فرمایا: ”ہماری مسجد سے الگ رہے، اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک طبق لایا گیا جس میں کچھ سبزیاں تھیں، آپ نے اس میں بو محسوس کی تو پوچھا: ”کس چیز کی سبزی ہے؟“ تو اس میں جس چیز کی سبزی تھی آپ کو بتایا گیا، تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض ساتھیوں کے پاس لے جانے کو کہا جو آپ کے ساتھ تھے تو جب دیکھا کہ یہ لوگ بھی اسے کھانا ناپسند کر رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کھاؤ کیونکہ میں ایسی ذات سے سرگوشی کرتا ہوں جس سے تم نہیں کرتے“۔ احمد بن صالح کہتے ہیں: ابن وہب نے بدر کی تفسیر طبق سے کی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3822]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (855) صحيح مسلم (564)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 160 (854)، الأطعمة 49 (ز545)، الاعتصام 24 (7359)، صحیح مسلم/المساجد 17 (564)، (تحفة الأشراف: 2485)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة 13 (1806)، سنن النسائی/المساجد 16 (708)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 59 (3363)، مسند احمد (3/ 374، 387، 400) (صحیح)