سنن أبي داود حدیث نمبر: 3817
Sunan Abi Dawud 3817
کتاب #28: کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل
37: باب فِي الْمُضْطَرِّ إِلَى الْمَيْتَةِ
باب: مردار کھانے پر مجبور ہو تو اس کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ وَهْبِ بْنِ عُقْبَةَ الْعَامِرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ الْفُجَيْعِ الْعَامِرِيِّ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَا يَحِلُّ لَنَا مِنَ الْمَيْتَةِ؟، قَالَ: مَا طَعَامُكُمْ؟، قُلْنَا: نَغْتَبِقُ وَنَصْطَبِحُ، قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: فَسَّرَهُ لِي عُقْبَةُ قَدَحٌ غُدْوَةً، وَقَدَحٌ عَشِيَّةً، قَالَ: ذَاكَ وَأَبِي الْجُوعُ، فَأَحَلَّ لَهُمُ الْمَيْتَةَ عَلَى هَذِهِ الْحَالِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْغَبُوقُ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ، وَالصَّبُوحُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ.
فجیع عامری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور پوچھا: مردار میں سے ہمارے لیے کیا حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کھانا کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ہم شام کو دودھ پیتے ہیں اور صبح کو دودھ پیتے ہیں۔ ابونعیم کہتے ہیں: عقبہ نے مجھ سے اس کی تفسیر یہ کی کہ صبح کو ایک پیالہ پیتے ہیں اور شام کو ایک پیالہ پیتے ہیں میرا کل یہی کھانا ہے قسم ہے میرے والد کی میں بھوکا رہتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی صورت حال میں ان کے لیے مردار کو حلال کر دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «غبوق» کے معنی دن کے آخری حصہ کے ہیں اور «صبوح» کے معنی دن کے شروع حصہ کے ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3817]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ في سماع وھب بن عقبة من فجيع رضي اللّٰه عنه نظر ¤ والحديث ضعفه البيهقي (357/9) بقوله:”وفي ثبوت ھذه الأحاديث نظر“ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 136
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11021) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی عقبہ عامری لین الحدیث ہیں)