سنن أبي داود حدیث نمبر: 3784
Sunan Abi Dawud 3784
کتاب #28: کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل
24: باب فِي كَرَاهِيَةِ التَّقَذُّرِ لِلطَّعَامِ
باب: کھانے سے گھن کرنا مکروہ ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي قَبِيصَةُ بْنُ هُلْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: " إِنَّ مِنَ الطَّعَامِ طَعَامًا أَتَحَرَّجُ مِنْهُ؟، فَقَالَ: لَا يَتَخَلَّجَنَّ فِي صَدْرِكَ شَيْءٌ ضَارَعْتَ فِيهِ النَّصْرَانِيَّةَ".
ہلب طائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور آپ سے ایک شخص نے پوچھا: کھانے کی چیزوں میں بعض ایسی چیزیں بھی ہوتی ہیں جن کے کھانے میں میں حرج محسوس کرتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے دل میں کوئی شبہ نہ آنے دو (اگر اس کے سلسلہ میں تم نے شک کیا اور اپنے اوپر سختی کی تو) تم نے اس میں نصرانیت کے مشابہت کی“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3784]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (4087) ¤ أخرجه الترمذي (1565 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/السیر 16 (1565)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 26 (2830)، (تحفة الأشراف: 11734)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/226) (حسن)