سنن أبي داود حدیث نمبر: 3741
Sunan Abi Dawud 3741
کتاب #28: کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا دُرُسْتُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ طَارِقٍ، عَنْ طَارِقٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ دُعِيَ فَلَمْ يُجِبْ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَمَنْ دَخَلَ عَلَى غَيْرِ دَعْوَةٍ دَخَلَ سَارِقًا وَخَرَجَ مُغِيرًا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبَانُ بْنُ طَارِقٍ مَجْهُولٌ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے دعوت دی گئی اور اس نے قبول نہیں کیا تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، اور جو بغیر دعوت کے گیا تو وہ چور بن کر داخل ہوا اور لوٹ مار کر نکلا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابان بن طارق مجہول راوی ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3741]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ درست ضعيف و أبان بن طارق: مجهول الحال (تق: 1825،139) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 132
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7469) (ضعیف) (اس کے راوی درست ضعیف، اور ابان مجہول ہیں، لیکن پہلا ٹکڑا ابوہریرہ کی اگلی حدیث سے صحیح ہے)