سنن أبي داود حدیث نمبر: 3761
Sunan Abi Dawud 3761
کتاب #28: کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل
12: باب فِي غَسْلِ الْيَدِ قَبْلَ الطَّعَامِ
باب: کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا قَيْسٌ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَرَأْتُ فِي التَّوْرَاةِ: أَنَّ بَرَكَةَ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بَرَكَةُ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهُ وَالْوُضُوءُ بَعْدَهُ"، وَكَانَ سُفْيَانُ يَكْرَهُ الْوُضُوءَ قَبْلَ الطَّعَامِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے تورات میں پڑھا کہ کھانے کی برکت کھانے سے پہلے وضو کرنا ہے۔ میں نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: ”کھانے کی برکت کھانے سے پہلے وضو کرنا ہے اور کھانے کے بعد بھی“۔ سفیان کھانے سے پہلے وضو کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ضعیف ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3761]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1846) ¤ قيس بن الربيع ضعيف ضعفه الجمهور من جھة حفظه وفي التحرير:”ضعيف يعتبر به في الشواهد والمتابعات“ (5573) وقال أحمد: ”ھو منكر،ما حدث به إلا قيس بن الربيع‘‘ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 133
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الأطعمة 39 (1846)، (تحفة الأشراف: 4489)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/441) (ضعیف) (اس کے راوی قیس بن ربیع ضعیف ہیں)