سنن أبي داود حدیث نمبر: 3753
Sunan Abi Dawud 3753
کتاب #28: کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل
6: باب نَسْخِ الضَّيْفِ يَأْكُلُ مِنْ مَالِ غَيْرِهِ
باب: دوسرے کے مال سے مہمان نوازی کی حرمت جو سورۃ نساء میں تھی وہ سورۃ النور کی آیت سے منسوخ ہو گئی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " لا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ سورة النساء آية 29، فَكَانَ الرَّجُلُ يُحْرَجُ أَنْ يَأْكُلَ عِنْدَ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ بَعْدَ مَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، فَنَسَخَ ذَلِكَ الْآيَةُ الَّتِي فِي النُّورِ، قَالَ: لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَأْكُلُوا سورة النور آية 61 مِنْ بُيُوتِكُمْ إِلَى قَوْلِهِ أَشْتَاتًا سورة النور آية 61، كَانَ الرَّجُلُ الْغَنِيُّ يَدْعُو الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِهِ إِلَى الطَّعَامِ، قَالَ: إِنِّي لَأَجَّنَّحُ أَنْ آكُلَ مِنْهُ، وَالتَّجَنُّحُ الْحَرَجُ، وَيَقُولُ: الْمِسْكِينُ أَحَقُّ بِهِ مِنِّي، فَأُحِلَّ فِي ذَلِكَ أَنْ يَأْكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَأُحِلَّ طَعَامُ أَهْلِ الْكِتَابِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ: «لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم» (سورۃ النساء: ۲۹) کے نازل ہونے کے بعد لوگ ایک دوسرے کے یہاں کھانا کھانے میں گناہ محسوس کرنے لگے تو یہ آیت سورۃ النور کی آیت: «ليس عليكم جناح أن تأكلوا من بيوتكم ..... أشتاتا» ( سورۃ النساء: ۶۱) سے منسوخ ہو گئی، جب کوئی مالدار شخص اپنے اہل و عیال میں سے کسی کو دعوت دیتا تو وہ کہتا: میں اس کھانے کو گناہ سمجھتا ہوں اس کا تو مجھ سے زیادہ حقدار مسکین ہے چنانچہ اس میں مسلمانوں کے لیے ایک دوسرے کا کھانا جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو حلال کر دیا گیا ہے اور اہل کتاب کا کھانا بھی حلال کر دیا گیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3753]
قال الشيخ الألباني:
حسن الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6264) (حسن الإسناد)