📖 سنن النسائي (Sunan an-Nasa'i) • تمام کتب ↗

كتاب الأذان

کتاب: اذان کے احکام و مسائل

کتاب #10 • کل احادیث: 62
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: بَابُ : بَدْءِ الأَذَانِ
باب: اذان کی شروعات۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال: قال ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَاةَ وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى، وَقَالَ بَعْضَهُمْ: بَلْ قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا بِلَالُ، قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جس وقت مسلمان مدینہ آئے تو وہ جمع ہو کر نماز کے وقت کا اندازہ کرتے تھے ، اس وقت کوئی نماز کے لیے اذان نہیں دیتا تھا ، تو ایک دن لوگوں نے اس سلسلے میں گفتگو کی ، تو کچھ لوگ کہنے لگے : نصاریٰ کے مانند ایک ناقوس بنا لو ، اور کچھ لوگ کہنے لگے : بلکہ یہود کے سنکھ کی طرح ایک سنکھ بنا لو ، تو اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا تم کسی شخص کو بھیج نہیں سکتے کہ وہ نماز کے لیے پکار دیا کرے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلال ! اٹھو اور نماز کے لیے پکارو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 627]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 1 (604)، صحیح مسلم/الصلاة 1 (377)، سنن الترمذی/الصلاة 25 (190)، (تحفة الأشراف: 7775)، مسند احمد 2/148 (صحیح)
2: بَابُ : تَثْنِيَةِ الأَذَانِ
باب: اذان دہری کہنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قال: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ بِلَالًا أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَأَنْ يُوتِرَ الْإِقَامَةَ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دہری اور اقامت اکہری کہنے کا حکم دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 628]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح، متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 1 (603)، 2 (605)، 3 (607)، أحادیث الأنبیاء 50 (3457)، صحیح مسلم/الصلاة 2 (378)، سنن ابی داود/الصلاة 29 (508، 509)، سنن الترمذی/الصلاة 27 (193)، سنن ابن ماجہ/الأذان 6 (729، 730)، (تحفة الأشراف: 943)، مسند احمد 3/103، 189، سنن الدارمی/الصلاة 6 (1230، 1231) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: " كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْإِقَامَةُ مَرَّةً مَرَّةً، إِلَّا أَنَّكَ تَقُولُ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ عہدرسالت میں اذان دہری اور اقامت اکہری تھی ، البتہ تم «قد قامت الصلاة ، قد قامت الصلاة ‏» ( دو بار ) کہو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 629]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 29 (510، 511)، (تحفة الأشراف: 7455)، مسند احمد 2/85، 87، سنن الدارمی/الصلاة 6 (1229)، ویأتي عند المؤلف برقم: (669) (حسن)
3: بَابُ : خَفْضِ الصَّوْتِ فِي التَّرْجِيعِ فِي الأَذَانِ
باب: اذان میں ترجیع، دھیمی آواز سے کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ، قال: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ وَهُوَ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ الْعَزِيزِ، وَجَدِّي عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْعَدَهُ فَأَلْقَى عَلَيْهِ الْأَذَانَ حَرْفًا حَرْفًا، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: هُوَ مِثْلُ أَذَانِنَا هَذَا، قُلْتُ لَهُ: أَعِدْ عَلَيَّ، قَالَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَرَّتَيْنِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: بِصَوْتٍ دُونَ ذَلِكَ الصَّوْتِ يُسْمِعُ مَنْ حَوْلَهُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَرَّتَيْنِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ مَرَّتَيْنِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ مَرَّتَيْنِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ".
ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بٹھایا ، اور حرفاً حرفاً اذان سکھائی ( راوی ) ابراہیم کہتے ہیں : وہ ہمارے اس اذان کی طرح تھی ، بشر بن معاذ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے ( ابراہیم سے ) کہا کہ میرے اوپر دہراؤ ، تو انہوں نے کہا : «اللہ أكبر اللہ أكبر» ۲؎ «أشهد أن لا إله إلا اللہ» دو مرتبہ ، «أشهد أن محمدا رسول اللہ» دو مرتبہ ، پھر اس آواز سے دھیمی آواز میں کہا : وہ اپنے اردگرد والوں کو سنا رہے تھے ، «أشهد أن لا إله إلا اللہ» دو بار ، «أشهد أن محمدا رسول اللہ» دو بار ، «حى على الصلاة» دو بار ، «حى على الفلاح» دو بار ، «اللہ أكبر اللہ أكبر» ، « لا إله إلا اللہ» “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 630]
💡 وضاحت:
۱؎: شہادتیں کے کلمات کو پہلے دو بار آہستہ کہنے، پھر انہیں دو بار بلند آواز سے پکار کر کہنے کو ترجیع کہتے ہیں، جیسا کہ ابوداؤد کی روایت میں اس کی تصریح آئی ہے، لیکن باب کی حدیث سے اس کے برعکس ظاہر ہے، الاّ یہ کہ «دون ذلک» کی تاویل «سوی ذالک» سے کی جائے۔ ۲؎: اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دیگر کلمات کی طرح تکبیر بھی دو ہی بار ہے لیکن آگے روایت آ رہی ہے جس میں اذان کے کلمات ضبط کئے گئے ہیں، اس میں تکبیر چار بار ہے نیز اس روایت میں ترجیع کی تصریح آئی ہے، اور بلال رضی اللہ عنہ کی اذان میں ترجیع کا ذکر نہیں ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں صورتیں جائز ہیں، ترجیع کے ساتھ بھی اذان کہی جا سکتی ہے اور بغیر ترجیع کے بھی۔
قال الشيخ الألباني: منكر مخالف للروايات الأخرى عن أبي محذورة
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 28 (500، 501، 503، 505)، سنن الترمذی/الصلاة 26 (191) مختصراً، سنن ابن ماجہ/الأذان 2 (708)، مسند احمد 2/ 408، 409، سنن الدارمی/الصلاة 7 (1232)، (تحفة الأشراف: 12169)، ویأتي عند المؤلف: (633) (منکر) (یہ حدیث ابو محذورہ سے مروی دیگر روایات کے بر خلاف ہے جس میں اس بات کی صراحت ہے کہ اذان کے کلمات (19) ہیں، دیکھیں اگلی روایات)
4: بَابُ : كَمِ الأَذَانُ مِنْ كَلِمَةٍ
باب: اذان میں کتنے کلمے ہیں؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا مَكْحُولٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْأَذَانُ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً، وَالْإِقَامَةُ سَبْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً". ثُمَّ عَدَّهَا أَبُو مَحْذُورَةَ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً وَسَبْعَ عَشْرَةَ.
ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اذان کے انیس کلمے ہیں ، اور اقامت کے سترہ کلمے “ ، پھر ابومحذورۃ رضی اللہ عنہ نے انیس اور سترہ کلموں کو گن کر بتایا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 631]
💡 وضاحت:
۱؎: اذان میں انیس کلمات ترجیع والی اذان کے ساتھ مکمل ہوتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 3 (379)، سنن ابی داود/ الصلاة 28 (502، 504)، سنن الترمذی/الصلاة 26 (192)، سنن ابن ماجہ/الأذان 2 (709)، (تحفة الأشراف: 12169)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 632، 634 (صحیح)
5: بَابُ : كَيْفَ الأَذَانُ
باب: اذان کیسے دیں؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، قال: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَذَانَ، فَقَالَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ يَعُودُ، فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ".
ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اذان سکھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «اللہ أكبر اللہ أكبر» ، «اللہ أكبر اللہ أكبر» ، «أشهد أن لا إله إلا اللہ» ، «أشهد أن لا إله إلا اللہ» ، «أشهد أن محمدا رسول اللہ» ، «أشهد أن محمدا رسول اللہ» “ پھر آپ لوٹتے اور کہتے : «أشهد أن لا إله إلا اللہ» ، «أشهد أن لا إله إلا اللہ» ، «أشهد أن محمدا رسول اللہ» ، «أشهد أن محمدا رسول اللہ» ، «حى على الصلاة» ، «حى على الصلاة» ، «حى على الفلاح» ، «حى على الفلاح» ، «اللہ أكبر اللہ أكبر» ، «لا إله إلا اللہ» ۔ ” اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ، نماز کے لیے آؤ ، نماز کے لیے آؤ ، کامیابی کی طرف آؤ ، کامیابی کی طرف آؤ ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 632]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 631 (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ، أَخْبَرَهُ وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي مَحْذُورَةَ حَتَّى جَهَّزَهُ إِلَى الشَّامِ، قال: قُلْتُ لِأَبِي مَحْذُورَةَ: إِنِّي خَارِجٌ إِلَى الشَّامِ وَأَخْشَى أَنْ أُسْأَلَ عَنْ تَأْذِينِكَ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ، قال لَهُ: خَرَجْتُ فِي نَفَرٍ فَكُنَّا بِبَعْضِ طَرِيقِ حُنَيْنٍ مَقْفَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ، فَلَقِيَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ، فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْنَا صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ وَنَحْنُ عَنْهُ مُتَنَكِّبُونَ فَظَلِلْنَا نَحْكِيهِ وَنَهْزَأُ بِهِ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّوْتَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا حَتَّى وَقَفْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّكُمُ الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ قَدِ ارْتَفَعَ؟" فَأَشَارَ الْقَوْمُ إِلَيَّ وَصَدَقُوا، فَأَرْسَلَهُمْ كُلَّهُمْ وَحَبَسَنِي، فَقَالَ: " قُمْ فَأَذِّنْ بِالصَّلَاةِ"، فَقُمْتُ، فَأَلْقَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّأْذِينَ هُوَ بِنَفْسِهِ، قَالَ: " قُلْ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: ارْجِعْ فَامْدُدْ صَوْتَكَ، ثُمَّ قَالَ: قُلْ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ"، ثُمَّ دَعَانِي حِينَ قَضَيْتُ التَّأْذِينَ، فَأَعْطَانِي صُرَّةً فِيهَا شَيْءٌ مِنْ فِضَّةٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مُرْنِي بِالتَّأْذِينِ بِمَكَّةَ، فَقَالَ: أَمَرْتُكَ بِهِ، فَقَدِمْتُ عَلَى عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ عَامِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ فَأَذَّنْتُ مَعَهُ بِالصَّلَاةِ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن محیریز جو ابومحذورہ کے زیر پرورش ایک یتیم کے طور پر رہے تھے یہاں تک کہ انہوں نے ان کے شام کے سفر کے لیے سامان تیار کیا ) کہتے ہیں کہ میں نے ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے کہا : میں شام جا رہا ہوں ، اور میں ڈرتا ہوں کہ آپ کی اذان کے متعلق مجھ سے کہیں سوال کیا جائے ( اور میں جواب نہ دے پاؤں ، اس لیے مجھے اذان سکھا دو ) ، تو آپ نے کہا : میں چند لوگوں کے ساتھ نکلا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حنین سے لوٹتے وقت ہم حنین کے راستہ میں تھے ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے راستے میں ملے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے نماز کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( ہی ) اذان دی ، ہم نے مؤذن کی آواز سنی ، تو ہم اس کی نقل اتارنے ، اور اس کا مذاق اڑانے لگے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز سنی تو ہمیں بلوایا تو ہم آ کر آپ کے سامنے کھڑے ہو گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” میں نے ( ابھی ) تم میں سے کس کی آواز سنی ہے ؟ “ تو لوگوں نے میری جانب اشارہ کیا ، اور انہوں نے سچ کہا تھا ، آپ نے ان سب کو چھوڑ دیا ، اور مجھے روک لیا اور فرمایا : ” اٹھو اور نماز کے لیے اذان دو ، تو میں اٹھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود مجھے اذان سکھائی ، آپ نے فرمایا : کہو : «اللہ أكبر اللہ أكبر» ، «اللہ أكبر اللہ أكبر» ، «اللہ أكبر اللہ أكبر» ، «اللہ أكبر اللہ أكبر» ، «أشهد أن لا إله إلا اللہ» ، «أشهد أن لا إله إلا اللہ» ، «أشهد أن محمدا رسول اللہ» ، «أشهد أن محمدا رسول اللہ» ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دوبارہ اپنی آواز کھینچو ( بلند کرو ) “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کہو ! «أشهد أن لا إله إلا اللہ» ، «أشهد أن لا إله إلا اللہ» ، «أشهد أن محمدا رسول اللہ» ، «أشهد أن محمدا رسول اللہ» ، «حى على الصلاة» ، «حى على الصلاة» ، «حى على الفلاح» ، «حى على الفلاح» ، «اللہ أكبر اللہ أكبر» ، «لا إله إلا اللہ» ، پھر جس وقت میں نے اذان پوری کر لی تو آپ نے مجھے بلایا ، اور ایک تھیلی دی جس میں کچھ چاندی تھی ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے مکہ میں اذان دینے پر مامور فرما دیجئیے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تمہیں اس کے لیے مامور کر دیا “ ، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عامل عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کے پاس مکہ آیا تو میں نے ان کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے نماز کے لیے اذان دی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 633]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 630 (حسن صحیح)
6: بَابُ : الأَذَانِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر میں اذان دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ السَّائِبِ، قال: أَخْبَرَنِي أَبِي وَأُمُّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، قال: لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ، خَرَجْتُ عَاشِرَ عَشْرَةٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ نَطْلُبُهُمْ، فَسَمِعْنَاهُمْ يُؤَذِّنُونَ بِالصَّلَاةِ، فَقُمْنَا نُؤَذِّنُ نَسْتَهْزِئُ بِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ سَمِعْتُ فِي هَؤُلَاءِ تَأْذِينَ إِنْسَانٍ حَسَنِ الصَّوْتِ"، فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا، فَأَذَّنَّا رَجُلٌ رَجُلٌ وَكُنْتُ آخِرَهُمْ، فَقَالَ حِينَ أَذَّنْتُ: " تَعَالَ، "، فَأَجْلَسَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ فَمَسَحَ عَلَى نَاصِيَتِي وَبَرَّكَ عَلَيَّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: " اذْهَبْ فَأَذِّنْ عِنْدَ الْبَيْتِ الْحَرَامِ"، قُلْتُ: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَعَلَّمَنِي كَمَا تُؤَذِّنُونَ الْآنَ بِهَا" اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ فِي الْأُولَى مِنَ الصُّبْحِ، قَالَ: وَعَلَّمَنِي الْإِقَامَةَ مَرَّتَيْنِ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ". قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ هَذَا الْخَبَرَ كُلَّهُ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ أُمِّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، أَنَّهُمَا سَمِعَا ذَلِكَ مِنْ أَبِي مَحْذُورَةَ.
ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے نکلے تو میں ( بھی ) نکلا ، میں اہل مکہ کا دسواں شخص تھا ، ہم انہیں تلاش کر رہے تھے تو ہم نے انہیں نماز کے لیے اذان دیتے ہوئے سنا ، تو ہم بھی اذان دینے ( اور ) ان کا مذاق اڑانے لگے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان لوگوں میں سے ایک اچھی آواز والے شخص کی اذان میں نے سنی ہے “ چنانچہ آپ نے ہمیں بلا بھیجا تو یکے بعد دیگرے سبھی لوگوں نے اذان دی ، اور میں ان میں سب سے آخری شخص تھا جب میں اذان دے چکا ( تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) : ” ادھر آؤ ! “ چنانچہ آپ نے مجھے اپنے سامنے بٹھایا ، اور میری پیشانی پر ( شفقت کا ) ہاتھ پھیرا ، اور تین بار برکت کی دعائیں دیں ، پھر فرمایا : ” جاؤ اور خانہ کعبہ کے پاس اذان دو “ ( تو ) میں نے کہا : کیسے اللہ کے رسول ؟ تو آپ نے مجھے اذان سکھائی جیسے تم اس وقت اذان دے رہے ہو : «اللہ أكبر اللہ أكبر» ، «اللہ أكبر اللہ أكبر» ، «اللہ أكبر اللہ أكبر» ، «اللہ أكبر اللہ أكبر» ، «أشهد أن لا إله إلا اللہ» ، «أشهد أن لا إله إلا اللہ» ، «أشهد أن محمدا رسول اللہ» ، «أشهد أن محمدا رسول اللہ» ( پھر دوبارہ ) «أشهد أن لا إله إلا اللہ» ، «أشهد أن لا إله إلا اللہ» ، «أشهد أن محمدا رسول اللہ» ، «أشهد أن محمدا رسول اللہ» ، «حى على الصلاة» ، «حى على الصلاة» ، «حى على الفلاح» ، «حى على الفلاح» ، «اللہ أكبر اللہ أكبر» ، «لا إله إلا اللہ» ، اور فجر میں «الصلاة خير من النوم» ، «الصلاة خير من النوم» ” نماز نیند سے بہتر ہے ، نماز نیند سے بہتر ہے “ کہا ، ( اور ) کہا : مجھے آپ نے اقامت دہری سکھائی : «اللہ أكبر اللہ أكبر» ، «اللہ أكبر اللہ أكبر» ، «أشهد أن لا إله إلا اللہ» ، «أشهد أن لا إله إلا اللہ» ، «أشهد أن محمدا رسول اللہ» ، «أشهد أن محمدا رسول اللہ» ، «حى على الصلاة» ، «حى على الصلاة» ، «حى على الفلاح» ، «حى على الفلاح» ، «قد قامت الصلاة» ، «قد قامت الصلاة» ، «اللہ أكبر اللہ أكبر» ، «لا إله إلا اللہ» ۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ یہ پوری حدیث مجھے عثمان نے بتائی ، وہ اسے اپنے والد اور عبدالملک بن ابی محذورہ رضی اللہ عنہ کی ماں دونوں کے واسطہ سے روایت کر رہے تھے کہ ان دونوں نے اسے ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 634]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 631 (صحیح)
7: بَابُ : أَذَانِ الْمُنْفَرِدَيْنِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر میں دو شخص ہوں تو ان کے اذان کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قال: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي، وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: أَنَا وَصَاحِبٌ لِي، فَقَالَ: " إِذَا سَافَرْتُمَا فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے ایک چچا زاد بھائی دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ( دوسری بار انہوں نے کہا کہ میں اور میرے ایک ساتھی دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم دونوں سفر کرو تو دونوں اذان کہو ۱؎ اور دونوں اقامت کہو ، اور جو تم دونوں میں بڑا ہو وہ امامت کرے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 635]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ایک اذان کہے اور دوسرا جواب دے، یا یہ کہا جائے کہ دونوں کی طرف اسناد مجازی ہے، مطلب یہ ہے کہ تم دونوں کے درمیان اذان اور اقامت ہونی چاہیئے، جو بھی کہے، اذان اور اقامت کا معاملہ چھوٹے یا بڑے کے ساتھ خاص نہیں، البتہ امامت جو بڑا ہو وہ کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 18 (630)، الجھاد 42 (2848)، صحیح مسلم/المساجد 53 (674)، سنن الترمذی/الصلاة 37 (205)، سنن ابن ماجہ/إقامة 46 (979)، (تحفة الأشراف: 11182)، مسند احمد 3/436، 5/53، سنن الدارمی/الصلاة 42 (1288)، ویأتي عند المؤلف: 782 (صحیح)
8: بَابُ : اجْتِزَاءِ الْمَرْءِ بِأَذَانِ غَيْرِهِ فِي الْحَضَرِ
باب: حضر میں دوسرے کی اذان پر آدمی کے اکتفاء کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قال: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا فَظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَقْنَا إِلَى أَهْلِنَا، فَسَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَاهُ مِنْ أَهْلِنَا، فَأَخْبَرْنَاهُ، فَقَالَ: " ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ فَأَقِيمُوا عِنْدَهُمْ وَعَلِّمُوهُمْ وَمُرُوهُمْ، إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، ہم سب نوجوان اور ہم عمر تھے ، ہم نے آپ کے پاس بیس روز قیام کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحیم ( بہت مہربان ) اور نرم دل تھے ، آپ نے سمجھا کہ ہم اپنے گھر والوں کے مشتاق ہوں گے ، تو آپ نے ہم سے پوچھا : ہم اپنے گھروں میں کن کن لوگوں کو چھوڑ کر آئے ہیں ؟ ہم نے آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا : ” تم اپنے گھر والوں کے پاس واپس جاؤ ، ( اور ) ان کے پاس رہو ، اور ( جو کچھ سیکھا ہے اسے ) ان لوگوں کو بھی سیکھاؤ ، اور جب نماز کا وقت آ پہنچے تو انہیں حکم دو کہ تم میں سے کوئی ایک اذان کہے ، اور تم میں سے جو بڑا ہو وہ امامت کرے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 636]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 17 (628) مطولاً، 18 (631) مطولاً، 35 (658)، 49 (685) مطولاً، 140 (819)، الأدب 27 (6008) مطولاً، أخبار الآحاد 1 (7246) مطولاً، صحیح مسلم/المساجد 53 (674) مطولاً، سنن ابی داود/الصلاة 61 (589)، (تحفة الأشراف: 11182)، ویأتی عند المؤلف (670) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، فَقَالَ لِي أَبُو قِلَابَةَ: هُوَ حَيٌّ أَفَلَا تَلْقَاهُ؟ قال أَيُّوبُ: فَلَقِيتُهُ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: لَمَّا كَانَ وَقْعَةُ الْفَتْحِ بَادَرَ كُلُّ قَوْمٍ بِإِسْلَامِهِمْ فَذَهَبَ أَبِي بِإِسْلَامِ أَهْلِ حِوَائِنَا فَلَمَّا قَدِمَ اسْتَقْبَلْنَاهُ، فَقَالَ: جِئْتُكُمْ وَاللَّهِ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا، فَقَالَ: " صَلُّوا صَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا وَصَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا".
ایوب کہتے ہیں کہ ابوقلابہ نے مجھ سے کہا کہ عمرو بن سلمہ زندہ ہیں تم ان سے مل کیوں نہیں لیتے ، ( کہ براہ راست ان سے یہ حدیث سن لو ) تو میں عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے ملا ، اور میں نے ان سے جا کر پوچھا تو انہوں نے کہا : جب فتح ( مکہ ) کا واقعہ پیش آیا ، تو ہر قبیلہ نے اسلام لانے میں جلدی کی ، تو میرے باپ ( بھی ) اپنی قوم کے اسلام لانے کی خبر لے کر گئے ، جب وہ ( واپس ) آئے تو ہم نے ان کا استقبال کیا ، تو انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ، میں اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے آیا ہوں ، انہوں نے فرمایا ہے : ” فلاں نماز فلاں وقت اس طرح پڑھو ، فلاں نماز فلاں وقت اس طرح ، اور جب نماز کا وقت آ جائے تو تم میں سے کوئی ایک اذان دے ، اور جسے قرآن زیادہ یاد ہو وہ تمہاری امامت کرے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 637]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المغازي 53 (4302) مطولاً، سنن ابی داود/الصلاة 61 (585، 586، 587)، (تحفة الأشراف: 4565)، مسند احمد 3/475، و5/29، 30، 71، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 768، 790 (صحیح)
9: بَابُ : الْمُؤَذِّنَيْنِ لِلْمَسْجِدِ الْوَاحِدِ
باب: ایک مسجد میں دو مؤذن ہونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلال رات ہی میں اذان دیتے ہیں تو تم لوگ کھاؤ پیو ۱؎ یہاں تک کہ ( عبداللہ ) ابن ام مکتوم اذان دیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 638]
💡 وضاحت:
۱؎: بلال رضی اللہ عنہ سحری کے لیے سونے والوں کو جگاتے ہیں، اور فجر کی تیاری کے لیے رات باقی رہتی تھی تبھی اذان دیتے تھے، اور عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ صبح صادق کے طلوع ہونے کے بعد اذان دیا کرتے تھے، اس لیے بلال رضی اللہ عنہ کی اذان پر کھاتے پیتے رہنے کی اجازت دی گئی۔
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 12 (620)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 3 (14)، (تحفة الأشراف: 7237) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا تَأْذِينَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلال رات رہتی ہے تبھی اذان دے دیتے ہیں ، تو تم لوگ کھاؤ پیو یہاں تک کہ تم ابن ام مکتوم کے اذان دینے کی آواز سنو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 639]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصیام 8 (1092)، سنن الترمذی/الصلاة 35 (203)، (تحفة الأشراف: 6909) (صحیح)
10: بَابُ : هَلْ يُؤَذِّنَانِ جَمِيعًا أَوْ فُرَادَى
باب: کیا دونوں مؤذن ایک ساتھ اذان دیتے تھے یا یکے بعد دیگرے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَذَّنَ بِلَالٌ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، قَالَتْ: وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا إِلَّا أَنْ يَنْزِلَ هَذَا وَيَصْعَدَ هَذَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب بلال اذان دیں تو کھاؤ پیو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دیں “ ، ان دونوں کے درمیان صرف اتنا وقفہ ہوتا تھا کہ یہ اتر رہے ہوتے اور وہ چڑھ رہے ہوتے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 640]
💡 وضاحت:
۱؎: مبالغہ کے طور پر ایسا کہا ہے، ورنہ صحیح بخاری میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں صراحت ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ تہجد پڑھنے والوں کو اور سونے والوں کی متنبہ کرنے کے لیے اذان دیتے تھے کہ جا کر سحری کھا لو، یا غسل وغیرہ کی ضرورت ہو تو فارغ ہو لو، (دیکھئیے حدیث نمبر ۶۴۲)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 13 (622، 623)، مختصراً الصوم 17 (1918، 1919)، صحیح مسلم/الصیام 8 (1092)، (تحفة الأشراف: 17535)، مسند احمد 6/44، 45، 185، 186، سنن الدارمی/الصلاة 4 (1227) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هُشَيْمٍ، قال: أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمَّتِهِ أُنَيْسَةَ، قالت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَذَّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا، وَإِذَا أَذَّنَ بِلَالٌ فَلَا تَأْكُلُوا وَلَا تَشْرَبُوا".
انیسہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب ( عبداللہ ) ابن ام مکتوم اذان دیں تو کھاؤ پیو ، اور جب بلال اذان دیں تو کھانا پینا بند کر دو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 641]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ ان بیشتر روایتوں کے خلاف ہے جن میں ہے کہ بلال کی اذان پہلے ہوتی تھی، چنانچہ ابن عبدالبر وغیرہ نے کہا ہے کہ اس روایت میں قلب ہوا ہے، اور صحیح وہی ہے جو بیشتر روایتوں میں ہے، امام بیہقی نے ابن خزیمہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا: اگر یہ روایت صحیح ہے تو ممکن ہے ان دونوں کے درمیان باری رہی ہو، تو جب بلال رضی اللہ عنہ کی باری رات میں اذان کہنے کی ہوتی تو وہ رات میں اذان کہتے، اور جب ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی ہوتی تو وہ رات میں کہتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15783)، مسند احمد 6/433 (صحیح)
11: بَابُ : الأَذَانِ فِي غَيْرِ وَقْتِ الصَّلاَةِ
باب: نماز کا وقت ہوئے بغیر اذان دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ لِيُوقِظَ نَائِمَكُمْ وَلِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ، وَلَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا يَعْنِي فِي الصُّبْحِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلال رات رہتی ہے تبھی اذان دے دیتے ہیں تاکہ سونے والوں کو جگا دیں ، اور تہجد پڑھنے والوں کو ( سحری کھانے کے لیے ) گھر لوٹا دیں ، اور وہ اس طرح نہیں کرتے یعنی صبح ہونے پر اذان نہیں دیتے ہیں بلکہ پہلے ہی دیتے ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 642]
💡 وضاحت:
۱؎: لہٰذا ان کی اذان پر کھانا پینا نہ چھوڑو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 13 (621) مطولاً، الطلاق 24 (5298) مطولاً، أخبار الآحاد 1 (7248) مطولاً، صحیح مسلم/الصوم 8 (1093) مطولاً، سنن ابی داود/الصوم 17 (2347) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الصوم 23 (1696) مطولاً، (تحفة الأشراف: 9375)، مسند احمد 1/386، 392، 435، ویأتي عند المؤلف بأتم منہ في الصیام 30 برقم: 2172 (صحیح)
12: بَابُ : وَقْتِ أَذَانِ الصُّبْحِ
باب: صبح کی اذان کا وقت۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قال: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ سَائِلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ الصُّبْحِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَذَّنَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَخَّرَ الْفَجْرَ حَتَّى أَسْفَرَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ فَصَلَّى، ثُمَّ قَالَ: " هَذَا وَقْتُ الصَّلَاةِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک پوچھنے والے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فجر کی اذان کا وقت پوچھا ، تو آپ نے بلال کو حکم دیا ، تو انہوں نے فجر طلوع ہونے کے بعد اذان دی ، پھر جب دوسرا دن ہوا تو انہوں نے فجر کو مؤخر کیا یہاں تک کہ خوب اجالا ہو گیا ، پھر آپ نے انہیں ( اقامت کا ) حکم دیا ، تو انہوں نے اقامت کہی ، اور آپ نے نماز پڑھائی پھر فرمایا : ” یہ ہے فجر کا وقت “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 643]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 815)، مسند احمد 3/121 (صحیح الإسناد)
13: بَابُ : كَيْفَ يَصْنَعُ الْمُؤَذِّنُ فِي أَذَانِهِ
باب: اذان دیتے وقت مؤذن کیا کرے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ بِلَالٌ فَأَذَّنَ" فَجَعَلَ يَقُولُ فِي أَذَانِهِ هَكَذَا يَنْحَرِفُ يَمِينًا وَشِمَالًا".
ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو بلال رضی اللہ عنہ نے نکل کر اذان دی ، تو وہ اپنی اذان میں اس طرح کرنے لگے یعنی ( «حى على» … کے وقت ) دائیں اور بائیں مڑ رہے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 644]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 19 (634)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 11807)، مسند احمد 4/308، سنن الدارمی/الصلاة 8 (1234) (صحیح)
14: بَابُ : رَفْعِ الصَّوْتِ بِالأَذَانِ
باب: اذان میں آواز بلند کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ الْأَنْصَارِيُّ الْمَازِنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ لَهُ: إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ، " فَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ أَوْ بَادِيَتِكَ فَأَذَّنْتَ بِالصَّلَاةِ، فَارْفَعْ صَوْتَكَ، فَإِنَّهُ لَا يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا شَيْءٌ إِلَّا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن صعصعہ انصاری مازنی روایت کرتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم بکریوں اور صحراء کو محبوب رکھتے ہو ، تو جب تم اپنی بکریوں میں یا اپنے جنگل میں رہو اور نماز کے لیے اذان دو تو اپنی آواز بلند کرو کیونکہ مؤذن کی آواز جو بھی جن و انس یا کوئی اور چیز ۱؎ سنے گی تو وہ قیامت کے دن اس کی گواہی دے گی ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی سنا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 645]
💡 وضاحت:
۱؎: کوئی اور چیز عام ہے اس میں حیوانات نباتات اور جمادات سبھی داخل ہیں، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انہیں بھی قوت گویائی عطا فرمائے گا اور یہ چیزیں بھی مؤذن کی اذان کی گواہی دیں گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 5 (609)، بدء الخلق 12 (3296)، التوحید 52 (7548)، سنن ابن ماجہ/الأذان 5 (723)، موطا امام مالک/الصلاة 1 (5)، مسند احمد 3/6، 35، 43، (تحفة الأشراف: 4105) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، سَمِعَهُ مِنْ فَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ بِمَدِّ صَوْتِهِ وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک کو یہ کہتے سنا ہے : ” مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے اس کی مغفرت کر دی جائے گی ، اور تمام خشک وتر اس کی گواہی دیں گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 646]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جتنی بلند اس کی آواز ہو گی اسی قدر اس کی بخشش ہو گی، یا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس قدر مسافت میں اس کے جتنے گناہوں کی سمائی ہو گی وہ سب بخش دیئے جائیں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 31 (515) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الأذان 5 (724) مطولاً، (تحفة الأشراف: 15466)، مسند احمد 2/266، 411، 429، 458، 461 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْكُوفِيِّ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قال: " إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ، وَالْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ بِمَدِّ صَوْتِهِ وَيُصَدِّقُهُ مَنْ سَمِعَهُ مِنْ رَطْبٍ وَيَابِسٍ، وَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ صَلَّى مَعَهُ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ پہلی صف والوں پر صلاۃ یعنی رحمت بھیجتا ہے اور فرشتے ان کے لیے صلاۃ بھیجتے یعنی ان کے حق میں دعا کرتے ہیں ، اور مؤذن کو جہاں تک اس کی آواز پہنچتی ہے بخش دیا جاتا ہے ، اور خشک وتر میں سے جو بھی اسے سنتا ہے اس کی تصدیق کرتا ہے ، اور اسے ان تمام کے برابر ثواب ملے گا جو اس کے ساتھ صلاۃ پڑھیں گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 647]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، قتادة عنعن. وأبو إسحاق السبيعي مدلس وعنعن. والحديثان السابقان (645،646) يغنيان عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 325
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1888)، مسند احمد 4/284، 298، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 94 (664)، سنن ابن ماجہ/إقامة 51 (997) (صحیح)
15: بَابُ : التَّثْوِيبِ فِي أَذَانِ الْفَجْرِ
باب: فجر کی اذان میں تثویب یعنی «الصلاۃ خیر من النوم» کے کہنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سَلْمَانَ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، قال: كُنْتُ أُؤَذِّنُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ" أَقُولُ فِي أَذَانِ الْفَجْرِ الْأَوَّلِ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ".
ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اذان دیتا تھا ، اور میں فجر کی پہلی اذان ۲؎ میں کہتا تھا : «حى على الفلاح ، الصلاة خير من النوم ، الصلاة خير من النوم ، اللہ أكبر اللہ أكبر ، لا إله إلا اللہ‏» ” آؤ کامیابی کی طرف ، نماز نیند سے بہتر ہے ، نماز نیند سے بہتر ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 648]
💡 وضاحت:
۱؎: تثویب سے مراد فجر کی اذان میں «الصلاة خير من النوم» کہنا ہے۔ ۲؎: پہلی اذان سے مراد اذان ہے، اقامت کو دوسری اذان کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، [648.649] إسناده ضعيف، أبو سلمان همام المؤذن مجهول الحال. وأبو جعفر مجهول ليس هو الفراء. والحديث السابق (634) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 325
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 12170)، مسند احمد 3/408 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، قال أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَلَيْسَ بِأَبِي جَعْفَرٍ الْفَرَّاءِ.
اس سند سے بھی سفیان سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 649]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، .649] إسناده ضعيف، أبو سلمان همام المؤذن مجهول الحال. وأبو جعفر مجهول ليس هو الفراء. والحديث السابق (634) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 325
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 12170) (صحیح) ابوعبدالرحمن امام نسائی کہتے ہیں: ابو جعفر سے مراد ابو جعفر الفراء نہیں ہیں۔
16: بَابُ : آخِرِ الأَذَانِ
باب: اذان کے آخری الفاظ۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى، قال: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، قال: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قال: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ بِلَالٍ، قال: " آخِرُ الْأَذَانِ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ".
بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اذان کا آخری کلمہ «اللہ أكبر اللہ أكبر ، لا إله إلا اللہ» ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 650]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2031) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، قال: " كَانَ آخِرُ أَذَانِ بِلَالٍ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ".
اسود کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کے آخری کلمات یہ تھے «اللہ أكبر اللہ أكبر ، لا إله إلا اللہ» ۔ [سنن نسائي/حدیث: 651]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2031) (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، مِثْلَ ذَلِكَ.
اس سند سے بھی اسود سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 652]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2031) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، قال: حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، " أَنّ آخِرَ الْأَذَانِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ".
ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اذان کا آخری کلمہ «لا إله إلا اللہ» ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 653]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 12171) (صحیح)
17: بَابُ : الأَذَانِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْ شُهُودِ الْجَمَاعَةِ، فِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ
باب: بارش کی رات میں جماعت میں نہ آنے کے لیے اذان کے طریقہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، يَقُولُ: أَنْبَأَنَا رَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُنَادِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فِي لَيْلَةٍ مَطِيرَةٍ فِي السَّفَرِ، يَقُولُ: " حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ".
عمرو بن اوس کہتے ہیں کہ ہمیں قبیلہ ثقیف کے ایک شخص نے خبر دی کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی کو سفر میں بارش کی رات میں «حى على الصلاة ، حى على الفلاح ، صلوا في رحالكم» ” نماز کے لیے آؤ ، فلاح ( کامیابی ) کے لیے آؤ ، اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو “ کہتے سنا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 654]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ نماز میں نہ آنے کے اجازت ہے، اور «حى على الصلاة» میں جو آنا چاہے اس کے لیے آنے کی نداء ہے، دونوں میں کوئی منافات نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، رجل من ثقيف مجهول و أخطأ من صحح هذا الحديث. والحديث الآتي (655) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 325
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15706)، مسند احمد 4/168، 346، 5/370، 373 (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَذَّنَ بِالصَّلَاةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحٍ، فَقَالَ: أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ، فَإِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ بَارِدَةٌ ذَاتُ مَطَرٍ، يَقُولُ: " أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ".
نافع روایت کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہم نے ایک سرد اور ہوا والی رات میں نماز کے لیے اذان دی ، تو انہوں نے کہا : «ألا صلوا في الرحال» ” لوگو سنو ! ( اپنے ) گھروں میں نماز پڑھ لو “ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سرد بارش والی رات ہوتی تو مؤذن کو حکم دیتے تو وہ کہتا : «ألا صلوا في الرحال» ” لوگو سنو ! ( اپنے ) گھروں میں نماز پڑھ لو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 655]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 40 (666)، صحیح مسلم/المسافرین 3 (697)، سنن ابی داود/الصلاة 214 (1063)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 2 (10)، مسند احمد 2/63، سنن الدارمی/الصلاة 55 (1311)، (تحفة الأشراف: 8342) (صحیح)
18: بَابُ : الأَذَانِ لِمَنْ يَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ فِي وَقْتِ الأُولَى مِنْهُمَا
باب: نماز میں جمع تقدیم کے لیے پہلی نماز کے وقت اذان کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ، قال: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قال: أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قال: سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ، فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ، فَنَزَلَ بِهَا حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ فَرُحِّلَتْ لَهُ، حَتَّى إِذَا انْتَهَى إِلَى بَطْنِ الْوَادِي خَطَبَ النَّاسَ، ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ، ثُمَّ" أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے یہاں تک کہ عرفہ آئے ، تو آپ کو نمرہ میں اپنے لیے خیمہ لگا ہوا ملا ، وہاں آپ نے قیام کیا یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ نے قصواء نامی اونٹنی پر کجاوہ کسنے کا حکم دیا ، تو وہ کسا گیا ( اور آپ سوار ہو کر چلے ) یہاں تک کہ جب آپ وادی کے بیچو بیچ پہنچے تو آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا ، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی ، پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھائی ، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھائی ، اور ان دونوں کے درمیان کوئی اور چیز نہیں پڑھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 656]
💡 وضاحت:
۱؎: نمرہ عرفات کی حدود سے پہلے ایک جگہ کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث حدیث رقم: 605 (صحیح)
19: بَابُ : الأَذَانِ لِمَنْ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ بَعْدَ ذَهَابِ وَقْتِ الأُولَى مِنْهُمَا
باب: نماز میں جمع تاخیر کے لیے پہلی نماز کے ختم ہو جانے کے بعد کی اذان کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ، قال: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قال: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قال: " دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ، فَصَلَّى بِهَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَتَيْنِ وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( عرفہ سے ) لوٹے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اذان اور دو اقامت سے مغرب اور عشاء پڑھائی ، اور ان دونوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 657]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2630) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: " كُنَّا مَعَهُ بِجَمْعٍ فَأَذَّنَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ، ثُمَّ قَالَ: الصَّلَاةَ، فَصَلَّى بِنَا الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ"، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: هَكَذَا صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ.
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ہم ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مزدلفہ میں تھے ، تو انہوں نے اذان دی پھر اقامت کہی ، اور ہمیں مغرب پڑھائی ، پھر کہا : عشاء بھی پڑھ لی جائے ، پھر انہوں نے عشاء دو رکعت پڑھائی ، میں نے کہا : یہ کیسی نماز ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس جگہ ایسی ہی نماز پڑھی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 658]
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله ثم قال الصلاة والمحفوظ ثم أقام
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث حدیث رقم: 482 (صحیح) (لیکن ’’ثم قال: الصلاة‘‘ کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے، اس کی جگہ ’’ثم أقام الصلاة‘‘ صحیح ہے، جیسا کہ رقم: 82 میں گزرا)۔
20: بَابُ : الإِقَامَةِ لِمَنْ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ
باب: جو شخص جمع بین الصلاتین کرے وہ اقامت ایک بار کہے یا دو بار کہے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، وَسَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ" صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ". ثُمَّ حَدَّثَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَحَدَّثَ ابْنُ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ.
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء ایک اقامت سے پڑھی ، پھر ابن عمر رضی اللہ عنہم نے ( بھی ) ایسے ہی کیا تھا ، اور ابن عمر رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسے ہی کیا تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 659]
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 482 (شاذ) (لیکن ’’بإقامة واحدة‘‘ (ایک اقامت سے) کا ٹکڑا شاذ ہے، محفوظ یہ ہے کہ ’’دو اقامت سے پڑھی‘‘ جیسا کہ رقم: 482 میں گزرا)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ" صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَمْعٍ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مزدلفہ میں ایک اقامت سے نماز پڑھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 660]
قال الشيخ الألباني: شاذ م ولفظ البخاري كل واحدة منهما بإقامة وهو المحفوظ
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 482 (شاذ) (ایک اقامت سے دونوں نمازیں پڑھنے کی بات شاذ ہے، صحیح بات یہ ہے کہ ہر ایک الگ الگ اقامت سے پڑھے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ وَكِيعٍ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" جَمَعَ بَيْنَهُمَا بِالْمُزْدَلِفَةِ، صَلَّى كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بِإِقَامَةٍ وَلَمْ يَتَطَوَّعْ قَبْلَ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا وَلَا بَعْدُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں دو نمازیں جمع کیں ( اور ) ان دونوں میں سے ہر ایک کو ایک اقامت سے پڑھا ۱؎ اور ان دونوں ( نمازوں ) سے پہلے اور بعد میں کوئی نفل نہیں پڑھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 661]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر نماز کے لیے الگ الگ اقامت کہی، اور اس سے پہلے جو روایتیں گزری ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ دونوں کے لیے ایک ہی اقامت کہی، دونوں کے لیے الگ الگ اقامت کہنے کی تائید جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے جو مسلم میں آئی ہے، اور جس میں «بأذان واحد وإقامتین» کے الفاظ آئے ہیں، نیز اسامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے «اقیمت الصلوۃ فصلی المغرب، ثم أناخ کل إنسان بعیرہ فی منزلہ، ثم أقیمت العشاء فصلاہا» لہذا مثبت کی روایت کو منفی روایت پر ترجیح دی جائے گی، یا ایک اقامت والی حدیث کی تاویل یہ کی جائے کہ ہر نماز کے لیے اقامت کہی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 96 (1673)، سنن ابی داود/المناسک 65 (1927، 1928)، مسند احمد 2/56، 157، سنن الدارمی/المناسک 52 (1926)، ویأتي عند المؤلف: 3031) (تحفة الأشراف: 6923) (صحیح)
21: بَابُ : الأَذَانِ لِلْفَائِتِ مِنَ الصَّلَوَاتِ
باب: فوت شدہ نمازوں کے لیے اذان کہنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: شَغَلَنَا الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ فِي الْقِتَالِ مَا نَزَلَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ سورة الأحزاب آية 25، " فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا، فَأَقَامَ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ فَصَلَّاهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا لِوَقْتِهَا، ثُمَّ أَقَامَ لِلْعَصْرِ فَصَلَّاهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا لِوَقْتِهَا، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْمَغْرِبِ فَصَلَّاهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا لِوَقْتِهَا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مشرکین نے غزوہ خندق ( غزوہ احزاب ) کے دن ہمیں ظہر سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا ، ( یہ ( واقعہ ) قتال کے سلسلہ میں جو ( آیتیں ) اتری ہیں ان کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے ) چنانچہ اللہ عزوجل نے «وكفى اللہ المؤمنين القتال» ” اور اس جنگ میں اللہ تعالیٰ خود ہی مؤمنوں کو کافی ہو گیا “ ( الاحزاب : ۲۵ ) نازل فرمائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی نماز کی اقامت کہی تو آپ نے اسے ویسے ہی ادا کیا جیسے آپ اسے اس کے وقت پر ادا کرتے تھے ، پھر انہوں نے عصر کی اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ویسے ہی ادا کیا جیسے آپ اسے اس کے وقت پر پڑھا کرتے تھے ، پھر انہوں نے مغرب کی اذان دی تو آپ نے ویسے ہی ادا کیا ، جیسے آپ اسے اس کے وقت پر پڑھا کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 662]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4126)، مسند احمد 3/25، 49، 67، سنن الدارمی/الصلاة 186 (1565) (صحیح)
22: بَابُ : الاِجْتِزَاءِ لِذَلِكَ كُلِّهِ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ وَالإِقَامَةِ لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا
باب: ساری فوت شدہ نمازوں کے لیے ایک اذان کے کافی ہونے اور ہر ایک کے لیے الگ الگ اقامت کہنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قال: قال عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّ الْمُشْرِكِينَ شَغَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَأَمَرَ بِلَالًا" فَأَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جنگ خندق ( احزاب ) کے دن مشرکین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چار نمازوں سے روکے رکھا ، چنانچہ آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان دی ، پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی ، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھی ، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ نے مغرب پڑھی ، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ نے عشاء پڑھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 663]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (623). والحديث السابق (662) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 325
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 623 (صحیح) (پچھلی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’ابو عبیدہ‘‘ کا اپنے والد ابن مسعود سے سماع نہیں ہے)
23: بَابُ : الاِكْتِفَاءِ بِالإِقَامَةِ لِكُلِّ صَلاَةٍ
باب: ہر نماز کے لیے صرف اقامت پر اکتفاء کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قال: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ حَدَّثَهُمْ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: كُنَّا فِي غَزْوَةٍ فَحَبَسَنَا الْمُشْرِكُونَ عَنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ، وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ، وَالْعِشَاءِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ الْمُشْرِكُونَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا فَأَقَامَ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ فَصَلَّيْنَا، وَأَقَامَ لِصَلَاةِ الْعَصْرِ فَصَلَّيْنَا، وَأَقَامَ لِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ فَصَلَّيْنَا، وَأَقَامَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ فَصَلَّيْنَا. ثُمَّ طَافَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: " مَا عَلَى الْأَرْضِ عِصَابَةٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَيْرُكُمْ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں تھے ، تو مشرکوں نے ہمیں ظہر عصر ، مغرب اور عشاء سے روکے رکھا ، تو جب مشرکین بھاگ کھڑے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا ، تو اس نے نماز ظہر کے لیے اقامت کہی تو ہم نے ظہر پڑھی ( پھر ) اس نے عصر کے لیے اقامت کہی تو ہم نے عصر پڑھی ، ( پھر ) اس نے مغرب کے لیے اقامت کہی تو ہم لوگوں نے مغرب پڑھی ، پھر اس نے عشاء کے لیے اقامت کہی تو ہم نے عشاء پڑھی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف گھومے ( اور ) فرمایا : ” روئے زمین پر تمہارے علاوہ کوئی جماعت نہیں جو اللہ عزوجل کو یاد کر رہی ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 664]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (623). والحديث السابق (662) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 325
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 623 (صحیح) (اس کے راوی ’’ابو الزبیر‘‘ مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں، اور ’’ابو عبیدہ‘‘ اور ان کے والد ’’ابن مسعود‘‘ کے درمیان سند میں انقطاع ہے، مگر شواہد سے تقویت پا کر صحیح ہے)
24: بَابُ : الإِقَامَةِ لِمَنْ نَسِيَ رَكْعَةً مَنْ صَلاَةٍ
باب: ایک رکعت بھول جانے کے بعد اسے پڑھنے کے لیے اقامت کہنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ قَيْسٍ حَدَّثَهُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمًا فَسَلَّمَ وَقَدْ بَقِيَتْ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةٌ، فَأَدْرَكَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: " نَسِيتَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَأَمَرَ بِلَالًا، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى لِلنَّاسِ رَكْعَةً". فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ النَّاسَ، فَقَالُوا لِي: أَتَعْرِفُ الرَّجُلَ؟ قُلْتُ: لَا، إِلَّا أَنْ أَرَاهُ، فَمَرَّ بِي، فَقُلْتُ: هَذَا هُوَ، قَالُوا: هَذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ.
معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی ، اور ابھی نماز کی ایک رکعت باقی ہی رہ گئی تھی کہ آپ نے سلام پھیر دیا ، ایک شخص آپ کی طرف بڑھا ، اور اس نے عرض کیا کہ آپ ایک رکعت نماز بھول گئے ہیں ، تو آپ مسجد کے اندر آئے اور بلال کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایک رکعت نماز پڑھائی ، میں نے لوگوں کو اس کی خبر دی تو لوگوں نے مجھ سے کہا : کیا تم اس شخص کو پہچانتے ہو ؟ میں نے کہا : نہیں ، لیکن میں اسے دیکھ لوں ( تو پہچان لوں گا ) کہ یکایک وہ میرے قریب سے گزرا تو میں نے کہا : یہ ہے وہ شخص ، تو لوگوں نے کہا : یہ طلحہ بن عبیداللہ ( رضی اللہ عنہ ) ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 665]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 196 (1023)، (تحفة الأشراف: 11376)، مسند احمد 6/401 (صحیح)
25: بَابُ : أَذَانِ الرَّاعِي
باب: چرواہے کی اذان کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُبَيِّعَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَسَمِعَ صَوْتَ رَجُلٍ يُؤَذِّنُ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ هَذَا لَرَاعِي غَنَمٍ أَوْ عَازِبٌ عَنْ أَهْلِهِ، فَنَظَرُوا، فَإِذَا هُوَ رَاعِي غَنَمٍ".
عبداللہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، آپ نے ایک شخص کی آواز سنی جو اذان دے رہا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کہا جیسے اس نے کہا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ کوئی بکریوں کا چرواہا ہے ، یا اپنے گھر والوں سے بچھڑا ہوا ہے “ ، لوگوں نے دیکھا تو وہ ( واقعی ) بکریوں کا چرواہا نکلا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 666]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5251)، مسند احمد 4/336، وفي الیوم واللیلة 18 (38) (صحیح الإسناد)
26: بَابُ : الأَذَانِ لِمَنْ يُصَلِّي وَحْدَهُ
باب: اکیلے نماز پڑھنے والے کے لیے اذان کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يَعْجَبُ رَبُّكَ مِنْ رَاعِي غَنَمٍ فِي رَأْسِ شَظِيَّةِ الْجَبَلِ يُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ وَيُصَلِّي، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ يَخَافُ مِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي وَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” تمہارا رب اس بکری کے چرواہے سے خوش ہوتا ہے جو پہاڑ کی چوٹی کے کنارے پر اذان دیتا اور نماز پڑھتا ہے ، اللہ عزوجل فرماتا ہے : دیکھو میرے اس بندے کو یہ اذان دے رہا ہے اور نماز قائم کر رہا ہے ، یہ مجھ سے ڈرتا ہے ، میں نے اپنے ( اس ) بندے کو بخش دیا ، اور اسے جنت میں داخل کر دیا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 667]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 272 (1203)، (تحفة الأشراف: 9919)، مسند احمد 4/145، 157، 158 (صحیح)
27: بَابُ : الإِقَامَةِ لِمَنْ يُصَلِّي وَحْدَهُ
باب: اکیلے نماز پڑھنے والے کے لیے اقامت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ فِي صَفِّ الصَّلَاةِ الْحَدِيثَ".
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان نماز کی صف میں بیٹھے ہوئے تھے ، آگے راوی نے پوری حدیث ذکر کی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 668]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ «مسئی صلاۃ» جلدی جلدی صلاۃ پڑھنے والے شخص والی حدیث ہے جسے مصنف نے درج ذیل تین ابواب: باب «الرخصۃ فی ترک الذکر فی الرکوع، باب الرخصۃ فی الذکر فی السجوداورباب أقل ما یجزی بہ الصلاۃ» میں ذکر کیا ہے، لیکن ان تینوں جگہوں پر کسی میں بھی اقامت کا ذکر نہیں ہے، البتہ ابوداؤد اور ترمذی نے اس حدیث کی روایت کی ہے اس میں «فتوضأ کما امرک اللہ ثم تشہد فأقم» کے الفاظ وارد ہیں جس سے حدیث اور باب میں مناسبت ظاہر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 148 (861)، سنن الترمذی/الصلاة 111 (302) مطولاً، (تحفة الأشراف: 3604)، مسند احمد 4/340، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 148 (857، 858، 859، 860)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 57 (460)، ویأتي عند المؤلف: 1054، 1137، 1314، 1315 (صحیح)
28: بَابُ : كَيْفَ الإِقَامَةُ
باب: اقامت کیسے کہے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قال: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُؤَذِّنَ مَسْجِدِ الْعُرْيَانِ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى مُؤَذِّنِ مَسْجِدِ الْجَامِعِ قال: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْأَذَانِ، فَقَالَ: " كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْإِقَامَةُ مَرَّةً مَرَّةً، إِلَّا أَنَّكَ إِذَا قُلْتَ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَالَهَا مَرَّتَيْنِ، فَإِذَا سَمِعْنَا: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، تَوَضَّأْنَا ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الصَّلَاةِ".
جامع مسجد کے مؤذن ابو مثنیٰ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے اذان کے متعلق پوچھا ، تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اذان دوہری اور اقامت اکہری ہوتی تھی ، البتہ جب آپ «قد قامت الصلاة» کہتے تو اسے دو بار کہتے ، چنانچہ جب ہم «قد قامت الصلاة» سن لیتے ، تو وضو کرتے پھر ہم نماز کے لیے نکلتے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 669]
💡 وضاحت:
۱؎: ایسا بعض لوگ اور کبھی کبھی کرتے تھے، پھر بھی آپ کی لمبی قراءت کے سبب جماعت پا لیتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 629 (صحیح)
29: بَابُ : إِقَامَةِ كُلِّ وَاحِدٍ لِنَفْسِهِ
باب: ہر ایک کا اپنے لیے الگ الگ اقامت کہنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قال: قال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِصَاحِبٍ لِي: " إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَأَذِّنَا ثُمَّ أَقِيمَا، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمَا أَحَدُكُمَا".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اور میرے ایک ساتھی سے فرمایا : ” جب نماز کا وقت آ جائے تو تم دونوں اذان دو ، پھر دونوں اقامت کہو ، پھر تم دونوں میں سے کوئی ایک امامت کرے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 670]
💡 وضاحت:
۱؎: ترجمہ الباب پر «ثم أقیما» سے استدلال ہے، اس سے لازم آتا ہے کہ اذان بھی ہر ایک اپنے لیے الگ الگ کہے، لیکن یہ بعید ازفہم ہے، اور اس کی توجیہ حدیث رقم: ۶۳۵ میں گزر چکی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 636 (صحیح)
30: بَابُ : فَضْلِ التَّأْذِينِ
باب: اذان دینے کی فضیلت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ، فَإِذَا قُضِيَ النِّدَاءُ أَقْبَلَ، حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ، حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ، حَتَّى يَخْطُرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ، يَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ، حَتَّى يَظَلَّ الْمَرْءُ إِنْ يَدْرِي كَمْ صَلَّى".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا ۱؎ پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے کہ اذان ( کی آواز ) نہ سنے ، پھر جب اذان ہو چکتی ہے تو واپس لوٹ آتا ہے یہاں تک کہ جب نماز کے لیے اقامت کہی جاتی ہے ، تو ( پھر ) پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے ، اور جب اقامت ہو چکتی ہے تو ( پھر ) آ جاتا ہے یہاں تک کہ آدمی اور اس کے نفس کے درمیان وسوسے ڈالتا ہے ، کہتا ہے ( کہ ) فلاں چیز یاد کر فلاں چیز یاد کر ، پہلے یاد نہ تھیں یہاں تک کہ آدمی کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ وہ جان نہیں پاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 671]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی تیزی سے پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے جس سے اس کے جوڑ ڈھیلے ہو جاتے ہیں اور پیچھے سے ہوا خارج ہونے لگتی ہے، یا وہ بالقصد شرارتاً گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 4 (608)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/، سنن ابی داود/المساجد 31 (516)، موطا امام مالک/الالهة 1 (6)، (تحفة الأشراف: 13818)، مسند احمد 2/313، 398، 411، 460، 503، 522، 531، سنن الدارمی/الصلاة 11 (1240) (صحیح)
31: بَابُ : الاِسْتِهَامِ عَلَى التَّأْذِينِ
باب: اذان دینے کے لیے قرعہ اندازی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوا عَلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ عَلِمُوا مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر لوگ جان لیں کہ اذان دینے میں اور پہلی صف میں رہنے میں کیا ثواب ہے ، پھر قرعہ اندازی کے علاوہ اور کوئی راستہ نہ پائیں تو وہ اس کے لیے قرعہ اندازی کریں گے ، نیز اگر وہ جان لیں ( کہ ) ظہر اول وقت پر پڑھنے کا کیا ثواب ہے تو وہ اس کی طرف ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کریں گے ، اور اگر وہ اس ثواب کو جان لیں جو عشاء اور فجر میں ہے تو وہ ان دونوں صلاتوں میں ضرور آئیں گے ، گو چوتڑ کے بل گھسٹ کر آنا پڑے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 672]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث میں «حبوا» کا لفظ آیا ہے جس کے معنی ہاتھوں کے سہارے چلنے کے ہیں جیسے بچہ ابتداء میں چلتا ہے یا چوتڑوں کے بل گھسٹ کر چلنے کو «حبوا» کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 541 (صحیح)
32: بَابُ : اتِّخَاذِ الْمُؤَذِّنِ الَّذِي لاَ يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا
باب: اجرت نہ لینے والے آدمی کو مؤذن مقرر کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قال: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي، فَقَالَ: " أَنْتَ إِمَامُهُمْ وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ، وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا".
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے میرے قبیلے کا امام بنا دیجئیے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ان کے امام ہو ( لیکن ) ان کے کمزور لوگوں کی اقتداء کرنا ۱؎ اور ایسے شخص کو مؤذن رکھنا جو اپنی اذان پر اجرت نہ لے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 673]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ان کی رعایت کرتے ہوئے نماز ہلکی پڑھانا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 40 (531)، سنن ابن ماجہ/الأذان 3 (987)، (تحفة الأشراف: 9770)، مسند احمد 4/21 (217، 218)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ الصلاة 37 (468) (صحیح)
33: بَابُ : الْقَوْلِ مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ
باب: جس طرح مؤذن کہے اسی طرح اذان سننے والا بھی کہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم اذان سنو تو ویسے ہی کہو جیسا مؤذن کہتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 674]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 7 (611)، صحیح مسلم/الصلاة 7(383)، سنن ابی داود/الصلاة 36 (522)، سنن الترمذی/الصلاة 40 (208)، سنن ابن ماجہ/الأذان 4 (720)، (تحفة الأشراف: 4150)، موطا امام مالک/الصلاة 1 (2)، مسند احمد 3/5، 53، 78، 90، سنن الدارمی/الصلاة 10 (1237) (صحیح)
34: بَابُ : ثَوَابِ ذَلِكَ
باب: اذان کا جواب دینے کے ثواب کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ خَالِدٍ الزُّرَقِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّضْرَ بْنَ سُفْيَانَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ بِلَالٌ يُنَادِي، فَلَمَّا سَكَتَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ مِثْلَ هَذَا يَقِينًا دَخَلَ الْجَنَّةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ بلال رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر اذان دینے لگے ، جب وہ خاموش ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے یقین کے ساتھ اس طرح کہا ، وہ جنت میں داخل ہو گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 675]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14641)، مسند احمد 2/352 (حسن)
35: بَابُ : الْقَوْلِ مِثْلَ مَا يَتَشَهَّدُ الْمُؤَذِّنُ
باب: مؤذن کے تشہد کی طرح سننے والا بھی تشہد کہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ يَحْيَى الْأَنْصَارِيِّ، قال: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ، فَقَالَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، فَكَبَّرَ اثْنَتَيْنِ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَتَشَهَّدَ اثْنَتَيْنِ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَتَشَهَّدَ اثْنَتَيْنِ". ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي هَكَذَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مجمع بن یحییٰ انصاری کہتے ہیں کہ میں ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ مؤذن اذان دینے لگا ، اور اس نے کہا : «اللہ أكبر اللہ أكبر» ، تو انہوں نے بھی دو مرتبہ «اللہ أكبر اللہ أكبر» کہا ، پھر اس نے «أشهد أن لا إله إلا اللہ» کہا ، تو انہوں نے بھی دو مرتبہ «أشهد أن لا إله إلا اللہ» کہا ، پھر اس نے «أشهد أن محمدا رسول اللہ» کہا ، تو انہوں نے بھی دو مرتبہ «أشهد أن محمدا رسول اللہ» کہا ، پھر انہوں نے کہا : معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کہتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 676]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجمعة 23 (914)، (تحفة الأشراف: 11400)، وفي عمل الیوم واللیلة رقم: (350، 351)، مسند احمد 4/93، 95، 98 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُجَمِّعٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، قال: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَمِعَ الْمُؤَذِّنَ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ.
ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنا تو جیسے اس نے کہا ویسے ہی آپ نے بھی کہا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 677]
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، وقد أخرجہ المؤلف فی الیوم واللیلة برقم: (349) (صحیح)
36: بَابُ : الْقَوْلِ إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ
باب: جب مؤذن «حي علی الصلاۃ، حي علی الفلاح» کہے تو سننے والا کیا کہے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِقْسَمِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، أَنَّ عِيسَى بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، قال: إِنِّي عِنْدَ مُعَاوِيَةَ إِذْ أَذَّنَ مُؤَذِّنُهُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ كَمَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ، حَتَّى إِذَا قَالَ: " حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، فَلَمَّا قَالَ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، وَقَالَ بَعْدَ ذَلِكَ مَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ"، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ.
علقمہ بن وقاص کہتے ہیں کہ میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ ان کے مؤذن نے اذان دی ، تو آپ ویسے ہی کہتے رہے جیسے مؤذن کہہ رہا تھا یہاں تک کہ جب اس نے «حى على الصلاة» کہا تو انہوں نے : «لا حول ولا قوة إلا باللہ» کہا ، پھر جب اس نے «حى على الفلاح» کہا تو انہوں نے : «لا حول ولا قوة إلا باللہ» کہا ، اور اس کے بعد مؤذن جس طرح کہتا رہا وہ بھی ویسے کہتے رہے پھر انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کہتے ہوئے سنا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 678]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11431)، مسند احمد 4/91، 98، سنن الدارمی/الصلاة 10 (1239) (حسن)
37: بَابُ : الصَّلاَةِ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ الأَذَانِ
باب: اذان کے بعد نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر درود (صلاۃ) بھیجنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ عَلْقَمَةَ، سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ مَوْلَى نَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ، يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ وَصَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللَّهَ لِي الْوَسِيلَةَ فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ أَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ لِي الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا : ” جب مؤذن کی آواز سنو تو تم بھی ویسے ہی کہو جیسے وہ کہتا ہے ، اور مجھ پر صلاۃ و سلام ۱؎ بھیجو کیونکہ جو مجھ پر ایک بار صلاۃ بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس بار رحمت و برکت بھیجتا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ ۲؎ طلب کرو کیونکہ وہ جنت میں ایک درجہ و مرتبہ ہے جو کسی کے لائق نہیں سوائے اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ کے ، اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہی ہوں ، تو جو میرے لیے وسیلہ طلب کرے گا ، اس پر میری شفاعت واجب ہو جائے گی “ ۳؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 679]
💡 وضاحت:
۱؎: صلاۃ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کے معنی رحمت و مغفرت کے ہیں، اور فرشتوں کی طرف ہو تو مغفرت طلب کرنے کے ہیں، اور بندوں کی طرف ہو تو دعا کرنے کے ہیں۔ ۲؎: وسیلہ کے معنی قرب کے، اور اس طریقہ کے ہیں جس سے انسان اپنے مقصود تک پہنچ جائے، یہاں مراد جنت کا وہ درجہ ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا جائے گا۔ ۳؎: بشرطیکہ اس کا خاتمہ ایمان اور توحید پر ہوا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 7 (384)، سنن ابی داود/الصلاة 36 (523)، سنن الترمذی/المناقب 1 (3614)، (تحفة الأشراف: 8871)، مسند احمد 2/168، وفی الیوم واللیلة (45) (صحیح)
38: بَابُ : الدُّعَاءِ عِنْدَ الأَذَانِ
باب: اذان سننے کے بعد کی دعا کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ اللَّيْثِ، عَنْ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ: وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے مؤذن ( کی اذان ) سن کر یہ کہا : «وأنا أشهد أن لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله رضيت باللہ ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا» ” اور میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ، میں اللہ کے رب ہونے ، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے ، اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں “ تو اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 680]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 7 (386)، سنن ابی داود/الصلاة 36 (525)، سنن الترمذی/الصلاة 42 (210)، سنن ابن ماجہ/الأذان 4 (721)، (تحفة الأشراف: 3877)، مسند احمد 1/181، فی الیوم واللیلة (73) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ: اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ الَّذِي وَعَدْتَهُ، إِلَّا حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اذان سن کر یہ دعا پڑھی : «اللہم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه المقام المحمود الذي وعدته إلا حلت له شفاعتي يوم القيامة» ” اے اللہ ! اس کامل پکار اور قائم رہنے والی صلاۃ کے رب ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ ۱؎ اور فضیلت ۲؎ عطا فرما ، اور مقام محمود ۳؎ میں پہنچا جس کا تو نے وعدہ کیا ہے ۴؎ تو قیامت کے دن اس پر میری شفاعت نازل ہو گی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 681]
💡 وضاحت:
۱؎: وسیلہ جنت کے درجات میں سے ایک اعلی درجہ کا نام ہے۔ ۲؎: فضیلت وہ اعلی مرتبہ ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خصوصیت کے ساتھ تمام مخلوق پر حاصل ہو گا، اور یہ بھی احتمال ہے کہ وسیلہ ہی کی تفسیر ہو۔ ۳؎: مقام محمود یہ وہ مقام ہے جو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کرے گا، اور اسی جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ شفاعت عظمی فرمائیں گے جس کے بعد لوگوں کا حساب و کتاب ہو گا۔ ۴؎: بیہقی کی روایت میں اس دعا کے بعد «إنك لا تخلف الميعاد» کا اضافہ ہے، لیکن یہ صحیح نہیں، اسی طرح اس دعا کے پڑھتے وقت کچھ لوگ «یا ا ٔرحم الراحمین» کا اضافہ کرتے ہیں، اس اضافہ کا بھی کتب حدیث میں کہیں وجود نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 8 (614)، تفسیر الإسراء 11 (4719)، سنن ابی داود/الصلاة 38 (529)، سنن الترمذی/الصلاة 43 (211)، سنن ابن ماجہ/الأذان 4 (723)، (تحفة الأشراف: 3046)، وفی الیوم واللیلة (46) (صحیح)
39: بَابُ : الصَّلاَةِ بَيْنَ الأَذَانِ وَالإِقَامَةِ
باب: اذان اور اقامت کے درمیان سنت (نفل نماز) پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ كَهْمَسٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ لِمَنْ شَاءَ".
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر دو اذان ۱؎ کے درمیان ایک نماز ہے ، ہر دو اذان کے درمیان ایک نماز ہے ، ہر دو اذان کے درمیان ایک نماز ہے ، جو چاہے اس کے لیے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 682]
💡 وضاحت:
۱؎: ہر دو اذان سے مراد اذان اور اقامت ہے جیسا کہ مؤلف نے ترجمۃ الباب میں اشارہ کیا ہے، اس حدیث سے مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنے کا استحباب ثابت ہو رہا ہے، جس کے لیے دوسرے دلائل موجود ہیں «واللہ أعلم» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 14 (624)، 16 (627)، صحیح مسلم/المسافرین 56 (838)، سنن ابی داود/الصلاة 300 (1283)، سنن الترمذی/الصلاة 22 (185) مختصراً، سنن ابن ماجہ/إقامة 110 (1162)، (تحفة الأشراف: 9658)، مسند احمد 4/86 و 5/54، 55، 57، سنن الدارمی/الصلاة 145 (1480) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال: " كَانَ الْمُؤَذِّنُ إِذَا أَذَّنَ قَامَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبْتَدِرُونَ السَّوَارِيَ يُصَلُّونَ حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ كَذَلِكَ، وَيُصَلُّونَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ، وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ شَيْءٌ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مؤذن جب اذان دیتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگ کھڑے ہوتے ، اور ستون کے پاس جانے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ، اور نماز پڑھتے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلتے ، اور وہ اسی طرح ( نماز کی حالت میں ) ہوتے ، اور مغرب سے پہلے بھی پڑھتے ، اور اذان و اقامت کے بیچ کوئی زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا تھا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 683]
💡 وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ ان دونوں رکعتوں کے پڑھنے میں جلدی کرتے کیونکہ اذان اور اقامت میں کوئی زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة 95 (503)، الأذان 14 (625)، (تحفة الأشراف: 1112)، وقد أخرجہ: مسند احمد 3/280، سنن الدارمی/الصلاة 145 (1481) (صحیح)
40: بَابُ : التَّشْدِيدِ فِي الْخُرُوجِ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَ الأَذَانِ
باب: اذان کے بعد مسجد سے باہر نکلنے کی برائی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، قال: " رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَمَرَّ رَجُلٌ فِي الْمَسْجِدِ بَعْدَ النِّدَاءِ حَتَّى قَطَعَهُ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: " أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوالشعثاء کہتے ہیں : میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ایک شخص اذان کے بعد مسجد سے گزرنے لگا یہاں تک کہ مسجد سے باہر نکل گیا ، تو انہوں نے کہا : رہا یہ شخص تو اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 684]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 45 (655)، سنن ابی داود/الصلاة 43 (536)، سنن الترمذی/الصلاة 36 (204)، سنن ابن ماجہ/الأذان 7 (733)، (تحفة الأشراف: 13477)، مسند احمد 2/410، 416، 471، 506، 537، سنن الدارمی/الصلاة 12 (1241) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قال: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، قال: أَخْبَرَنَا أَبُو صَخْرَةَ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قال: خَرَجَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَ مَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: " أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ایک شخص نماز کی اذان ہو جانے کے بعد مسجد سے باہر نکلا ، تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اس شخص نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 685]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 684 (صحیح)
41: بَابُ : إِيذَانِ الْمُؤَذِّنِينَ الأَئِمَّةَ بِالصَّلاَةِ
باب: مؤذن کا امام کو نماز کی خبر دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَيُونُسُ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُسَلِّمُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ وَيَسْجُدُ سَجْدَةً قَدْرَ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ، رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ بِالْإِقَامَةِ، فَيَخْرُجُ مَعَهُ". وَبَعْضُهُمْ يَزِيدُ عَلَى بَعْضٍ فِي الْحَدِيثِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے فارغ ہونے سے لے کر فجر تک گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ، ہر دو رکعت کے درمیان سلام پھیرتے ، اور ایک رکعت وتر پڑھتے ۱؎ اور ایک اتنا لمبا سجدہ کرتے کہ اتنی دیر میں تم میں کا کوئی پچاس آیتیں پڑھ لے ، پھر اپنا سر اٹھاتے ، اور جب مؤذن فجر کی اذان دے کر خاموش ہو جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فجر عیاں اور ظاہر ہو جاتی تو ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھتے ، پھر اپنے داہنے پہلو پر لیٹ جاتے یہاں تک کہ مؤذن آ کر آپ کو خبر کر دیتا کہ اب اقامت ہونے والی ہے ، تو آپ اس کے ساتھ نکلتے ۔ بعض راوی ایک دوسرے پر اس حدیث میں اضافہ کرتے ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 686]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے صراحت کے ساتھ ایک رکعت کے وتر کا جواز ثابت ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 17 (736)، سنن ابی داود/الصلاة 316 (1337)، (تحفة الأشراف: 16573)، مسند احمد 6/34، 74، 83، 85، 88، 143، 215، 248، ویأتي عند المؤلف في السھو 74 (برقم: 1329) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ اللَّيْثِ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، أَنَّ كُرَيْبًا مُولِي ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، قال: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قُلْتُ: كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ؟ فَوَصَفَ أَنَّهُ" صَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً بِالْوِتْرِ ثُمَّ نَامَ حَتَّى اسْتَثْقَلَ فَرَأَيْتُهُ يَنْفُخُ، وَأَتَاهُ بِلَالٌ، فَقَالَ: الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّى بِالنَّاسِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
کریب مولی ابن عباس کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہم سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تہجد ( صلاۃ اللیل ) کیسی تھی ؟ تو انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر کے ساتھ گیارہ رکعتیں پڑھیں ، پھر سو گئے یہاں تک کہ نیند گہری ہو گئی ، پھر میں نے آپ کو خراٹے لیتے ہوئے دیکھا ، اتنے میں آپ کے پاس بلال رضی اللہ عنہ آئے ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! نماز ؟ تو آپ نے اٹھ کر دو رکعتیں پڑھیں ، پھر لوگوں کو نماز پڑھائی اور ( پھر سے ) وضو نہیں کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 687]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوضوء 5 (138)، 36 (183)، الأذان 58 (698)، 77 (726)، 161 (859)، الوتر 1 (992)، العمل في الصلاة 1 (1198)، تفسیر آل عمران 19 (4571)، 20 (4572)، الدعوات 10 (6316)، التوحید 27 (7452)، صحیح مسلم/المسافرین 26 (763)، سنن ابی داود/الصلاة 316 (1364، 1367)، سنن الترمذی/الشمائل 38، 39، 245، 252، سنن ابن ماجہ/إقامة 181 (1363)، (تحفة الأشراف: 6362)، موطا امام مالک/صلاة اللیل 2 (11)، مسند احمد 1/242، 358، ویأتي عند المؤلف برقم: 1621 (صحیح)
42: بَابُ : إِقَامَةِ الْمُؤَذِّنِ عِنْدَ خُرُوجِ الإِمَامِ
باب: امام کے نکلنے کے وقت مؤذن کے اقامت کہنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قال: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي خَرَجْتُ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو جب تک تم مجھے دیکھ نہ لو کھڑے نہ ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 688]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 22 (637)، 23 (638)، الجمعة 18 (909)، صحیح مسلم/المساجد 29 (604)، سنن ابی داود/الصلاة 46 (539، 540)، سنن الترمذی/الصلاة 298 (592)، (تحفة الأشراف: 12106)، مسند احمد 5/303، 304، 307، 308، 309، 310، سنن الدارمی/الصلاة 47 (1296، 1297)، ویأتي عند المؤلف في الإمامة برقم: 791) (صحیح)
← پچھلی کتاب #9 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #11 →