سنن النسائي حدیث نمبر: 655
Sunan an-Nasa'i 655
کتاب #10: کتاب: اذان کے احکام و مسائل
17: بَابُ : الأَذَانِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْ شُهُودِ الْجَمَاعَةِ، فِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ
باب: بارش کی رات میں جماعت میں نہ آنے کے لیے اذان کے طریقہ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَذَّنَ بِالصَّلَاةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحٍ، فَقَالَ: أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ، فَإِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ بَارِدَةٌ ذَاتُ مَطَرٍ، يَقُولُ: " أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ".
نافع روایت کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہم نے ایک سرد اور ہوا والی رات میں نماز کے لیے اذان دی ، تو انہوں نے کہا : «ألا صلوا في الرحال» ” لوگو سنو ! ( اپنے ) گھروں میں نماز پڑھ لو “ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سرد بارش والی رات ہوتی تو مؤذن کو حکم دیتے تو وہ کہتا : «ألا صلوا في الرحال» ” لوگو سنو ! ( اپنے ) گھروں میں نماز پڑھ لو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 655]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 40 (666)، صحیح مسلم/المسافرین 3 (697)، سنن ابی داود/الصلاة 214 (1063)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 2 (10)، مسند احمد 2/63، سنن الدارمی/الصلاة 55 (1311)، (تحفة الأشراف: 8342) (صحیح)