سنن النسائي حدیث نمبر: 657
Sunan an-Nasa'i 657
کتاب #10: کتاب: اذان کے احکام و مسائل
19: بَابُ : الأَذَانِ لِمَنْ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ بَعْدَ ذَهَابِ وَقْتِ الأُولَى مِنْهُمَا
باب: نماز میں جمع تاخیر کے لیے پہلی نماز کے ختم ہو جانے کے بعد کی اذان کا بیان۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ، قال: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قال: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قال: " دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ، فَصَلَّى بِهَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَتَيْنِ وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( عرفہ سے ) لوٹے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اذان اور دو اقامت سے مغرب اور عشاء پڑھائی ، اور ان دونوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 657]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2630) (صحیح)