📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: اذان کے احکام و مسائل (كتاب الأذان) 🏷️ باب: باب: سفر میں دو شخص ہوں تو ان کے اذان کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 635 Sunan an-Nasa'i 635
کتاب #10: کتاب: اذان کے احکام و مسائل
7: بَابُ : أَذَانِ الْمُنْفَرِدَيْنِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر میں دو شخص ہوں تو ان کے اذان کا بیان۔
أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قال: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي، وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: أَنَا وَصَاحِبٌ لِي، فَقَالَ: " إِذَا سَافَرْتُمَا فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے ایک چچا زاد بھائی دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ( دوسری بار انہوں نے کہا کہ میں اور میرے ایک ساتھی دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم دونوں سفر کرو تو دونوں اذان کہو ۱؎ اور دونوں اقامت کہو ، اور جو تم دونوں میں بڑا ہو وہ امامت کرے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 635]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ایک اذان کہے اور دوسرا جواب دے، یا یہ کہا جائے کہ دونوں کی طرف اسناد مجازی ہے، مطلب یہ ہے کہ تم دونوں کے درمیان اذان اور اقامت ہونی چاہیئے، جو بھی کہے، اذان اور اقامت کا معاملہ چھوٹے یا بڑے کے ساتھ خاص نہیں، البتہ امامت جو بڑا ہو وہ کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 18 (630)، الجھاد 42 (2848)، صحیح مسلم/المساجد 53 (674)، سنن الترمذی/الصلاة 37 (205)، سنن ابن ماجہ/إقامة 46 (979)، (تحفة الأشراف: 11182)، مسند احمد 3/436، 5/53، سنن الدارمی/الصلاة 42 (1288)، ویأتي عند المؤلف: 782 (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #635
633 634 635 636 637
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ