سنن النسائي حدیث نمبر: 661
Sunan an-Nasa'i 661
کتاب #10: کتاب: اذان کے احکام و مسائل
20: بَابُ : الإِقَامَةِ لِمَنْ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ
باب: جو شخص جمع بین الصلاتین کرے وہ اقامت ایک بار کہے یا دو بار کہے؟
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ وَكِيعٍ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" جَمَعَ بَيْنَهُمَا بِالْمُزْدَلِفَةِ، صَلَّى كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بِإِقَامَةٍ وَلَمْ يَتَطَوَّعْ قَبْلَ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا وَلَا بَعْدُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں دو نمازیں جمع کیں ( اور ) ان دونوں میں سے ہر ایک کو ایک اقامت سے پڑھا ۱؎ اور ان دونوں ( نمازوں ) سے پہلے اور بعد میں کوئی نفل نہیں پڑھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 661]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر نماز کے لیے الگ الگ اقامت کہی، اور اس سے پہلے جو روایتیں گزری ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ دونوں کے لیے ایک ہی اقامت کہی، دونوں کے لیے الگ الگ اقامت کہنے کی تائید جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے جو مسلم میں آئی ہے، اور جس میں «بأذان واحد وإقامتین» کے الفاظ آئے ہیں، نیز اسامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے «اقیمت الصلوۃ فصلی المغرب، ثم أناخ کل إنسان بعیرہ فی منزلہ، ثم أقیمت العشاء فصلاہا» لہذا مثبت کی روایت کو منفی روایت پر ترجیح دی جائے گی، یا ایک اقامت والی حدیث کی تاویل یہ کی جائے کہ ہر نماز کے لیے اقامت کہی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحج 96 (1673)، سنن ابی داود/المناسک 65 (1927، 1928)، مسند احمد 2/56، 157، سنن الدارمی/المناسک 52 (1926)، ویأتي عند المؤلف: 3031) (تحفة الأشراف: 6923) (صحیح)