سنن النسائي حدیث نمبر: 660
Sunan an-Nasa'i 660
کتاب #10: کتاب: اذان کے احکام و مسائل
20: بَابُ : الإِقَامَةِ لِمَنْ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ
باب: جو شخص جمع بین الصلاتین کرے وہ اقامت ایک بار کہے یا دو بار کہے؟
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ" صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَمْعٍ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مزدلفہ میں ایک اقامت سے نماز پڑھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 660]
قال الشيخ الألباني:
شاذ م ولفظ البخاري كل واحدة منهما بإقامة وهو المحفوظ
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 482 (شاذ) (ایک اقامت سے دونوں نمازیں پڑھنے کی بات شاذ ہے، صحیح بات یہ ہے کہ ہر ایک الگ الگ اقامت سے پڑھے)