سنن النسائي حدیث نمبر: 673
Sunan an-Nasa'i 673
کتاب #10: کتاب: اذان کے احکام و مسائل
32: بَابُ : اتِّخَاذِ الْمُؤَذِّنِ الَّذِي لاَ يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا
باب: اجرت نہ لینے والے آدمی کو مؤذن مقرر کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قال: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي، فَقَالَ: " أَنْتَ إِمَامُهُمْ وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ، وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا".
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے میرے قبیلے کا امام بنا دیجئیے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ان کے امام ہو ( لیکن ) ان کے کمزور لوگوں کی اقتداء کرنا ۱؎ اور ایسے شخص کو مؤذن رکھنا جو اپنی اذان پر اجرت نہ لے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 673]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ان کی رعایت کرتے ہوئے نماز ہلکی پڑھانا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 40 (531)، سنن ابن ماجہ/الأذان 3 (987)، (تحفة الأشراف: 9770)، مسند احمد 4/21 (217، 218)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ الصلاة 37 (468) (صحیح)