سنن النسائي حدیث نمبر: 666
Sunan an-Nasa'i 666
کتاب #10: کتاب: اذان کے احکام و مسائل
25: بَابُ : أَذَانِ الرَّاعِي
باب: چرواہے کی اذان کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُبَيِّعَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَسَمِعَ صَوْتَ رَجُلٍ يُؤَذِّنُ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ هَذَا لَرَاعِي غَنَمٍ أَوْ عَازِبٌ عَنْ أَهْلِهِ، فَنَظَرُوا، فَإِذَا هُوَ رَاعِي غَنَمٍ".
عبداللہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، آپ نے ایک شخص کی آواز سنی جو اذان دے رہا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کہا جیسے اس نے کہا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ کوئی بکریوں کا چرواہا ہے ، یا اپنے گھر والوں سے بچھڑا ہوا ہے “ ، لوگوں نے دیکھا تو وہ ( واقعی ) بکریوں کا چرواہا نکلا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 666]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5251)، مسند احمد 4/336، وفي الیوم واللیلة 18 (38) (صحیح الإسناد)