كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا
کتاب #6: مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام
|
1: باب صَلاَةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا:
باب: مسافر کی نماز کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ، وَالسَّفَرِ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ، وَزِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ ".
صالح بن کیسان نے عروہ بن زبیر سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: سفر اور حضر (مقیم ہونے کی حالت) میں نماز دو رکعت فرض کی گئی تھی، پھر سفر کی نماز (پہلی حالت پر) قائم رکھی گئی اور حضر کی نماز میں اضافہ کر دیا گیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1570]
|
|
|
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " فَرَضَ اللَّهُ الصَّلَاةَ حِينَ فَرَضَهَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَتَمَّهَا فِي الْحَضَرِ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ عَلَى الْفَرِيضَةِ الأُولَى ".
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے حدیث بیان کی، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب اللہ تعالیٰ نے نماز فرض کی تو وہ دو رکعت فرض کی، پھر حضر کی صورت میں اسے مکمل کر دیا اور سفر کی نماز کو پہلے فریضے پر قائم رکھا گیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1571]
|
|
|
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ الصَّلَاةَ أَوَّلَ مَا فُرِضَتْ رَكْعَتَيْنِ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ، وَأُتِمَّتْ صَلَاةُ الْحَضَرِ "، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ: مَا بَالُ عَائِشَةَ، تُتِمُّ فِي السَّفَرِ، قَالَ: إِنَّهَا تَأَوَّلَتْ كَمَا تَأَوَّلَ عُثْمَانُ.
ابن عینیہ نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ابتدا میں نماز دو رکعت فرض کی گئی، پھر سفر کی نماز (اسی حالت میں) برقرار رکھی گئی اور حضر کی نماز مکمل کر دی گئی۔ زہری نے کہا: میں نے عروہ سے پوچھا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا موقف کیا ہے، وہ سفر میں پوری نماز (کیوں) پڑھتی تھیں؟ انہوں نے کہا: انہوں نے اس کا ایک مفہوم لے لیا ہے جس طرح عثمان رضی اللہ عنہ نے لیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1572]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاق: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الآخَرُونَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ " فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة النساء آية 101، فَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ، فَقَالَ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: صَدَقَةٌ، تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ ".
عبداللہ بن ادریس نے ابن جریج سے، انہوں نے ابن ابی عمار سے، انہوں نے عبداللہ بن بابیہ سے اور انہوں نے یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے عرض کی (کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے) إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ (اگر تمہیں خوف ہو کہ کافر تمہیں فتنے میں ڈال دیں گے تو تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم نماز قصر کرو) اب تو لوگ امن میں ہیں (پھر قصر کیوں کرتے ہیں؟) تو انہوں نے جواب دیا: مجھے بھی اس بات پر تعجب ہوا تھا جس پر تمہیں تعجب ہوا ہے۔ تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(یہ) صدقہ (رعایت) ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم پر کیا ہے اس لیے تم اس کا صدقہ قبول کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1573]
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ.
یحییٰ نے ابن جریج سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے عرض کی۔ (بقیہ روایت) ابن ادریس کی حدیث کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1574]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الآخَرُونَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَخْنَسِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " فَرَضَ اللَّهُ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا، وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً ".
ابوعوانہ نے بکیر بن اخنس سے، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نماز فرض کی، حضر (جب مقیم ہوں) میں چار رکعتیں، سفر میں دو رکعتیں اور خوف (جنگ) میں (امام کے ساتھ) ایک رکعت (پھر اس کی امامت کے بغیر ایک رکعت)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1575]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جميعا، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا قَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عَائِذٍ الطَّائِيُّ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَخْنَسِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى الْمُسَافِرِ رَكْعَتَيْنِ، وَعَلَى الْمُقِيمِ أَرْبَعًا، وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً ".
ایوب بن عائد طائی نے بکیر بن اخنس سے، انہوں نے مجاہد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، کہا: بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نماز فرض کی، مسافر پر دو رکعتیں، مقیم پر چار اور (جنگ کے) خوف کے عالم میں (امام کی اقتداء میں) ایک رکعت (اور اقتداء کے بغیر ایک رکعت)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1576]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ الْهُذَلِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، " كَيْفَ أُصَلِّي إِذَا كُنْتُ بِمَكَّةَ، إِذَا لَمْ أُصَلِّ مَعَ الإِمَامِ؟ فَقَالَ: " رَكْعَتَيْنِ سُنَّةَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
شعبہ نے کہا: میں نے قتادہ سے سنا، وہ موسیٰ بن سلمہ ہذلی (بصری) سے حدیث بیان کر رہے تھے، کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: جب میں مکہ میں ہوں اور امام کے ساتھ نماز نہ پڑھوں تو پھر کیسے نماز پڑھوں؟ تو انہوں نے جواب دیا: دو رکعتیں، (یہی) ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1577]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ . ح، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
(شعبہ کی بجائے) سعید بن ابی عروبہ اور معاذ بن ہشام نے اپنے والد کے واسطے سے قتادہ سے، اسی مذکورہ سند کے ساتھ اسی طرح (حدیث بیان کی)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1578]
|
|
|
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ، قَالَ: فَصَلَّى لَنَا الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ، وَأَقْبَلْنَا مَعَهُ حَتَّى جَاءَ رَحْلَهُ وَجَلَسَ، وَجَلَسْنَا مَعَهُ، فَحَانَتْ مِنْهُ الْتِفَاتَةٌ نَحْوَ حَيْثُ صَلَّى، فَرَأَى نَاسًا قِيَامًا، فَقَالَ: مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟ قُلْتُ: يُسَبِّحُونَ، قَالَ: لَوْ كُنْتُ مُسَبِّحًا لَأَتْمَمْتُ صَلَاتِي يَا ابْنَ أَخِي، " إِنِّي صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ "، وَصَحِبْتُ أَبَا بَكْرٍ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ، وَصَحِبْتُ عُمَرَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ، ثُمَّ صَحِبْتُ عُثْمَانَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21.
عیسیٰ بن حفص بن عاصم بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے والد (حفص) سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے مکہ کے راستے میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ سفر کیا، انہوں نے ہمیں ظہر کی نماز دو رکعتیں پڑھائی، پھر وہ اور ہم آگے بڑھے اور اپنی قیام گاہ پر آئے اور بیٹھ گئے، ہم بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔ پھر اچانک ان کی توجہ اس طرف ہوئی جہاں انہوں نے نماز پڑھی تھی، انہوں نے (وہاں) لوگوں کو قیام کی حالت میں دیکھا، انہوں نے پوچھا: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: سنتیں پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: اگر مجھے سنتیں پڑھنی ہوتیں تو میں نماز (بھی) پوری کرتا (قصر نہ کرتا)۔ بھتیجے! میں سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا، آپ نے دو رکعت سے زائد نماز نہ پڑھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پاس بلا لیا اور میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ رہا، انہوں نے بھی دو رکعت سے زائد نماز نہ پڑھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی بلا لیا، اور میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ رہا، انہوں نے بھی دو رکعت سے زائد نماز نہ پڑھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی بلا لیا۔ پھر میں عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا، انہوں نے بھی دو سے زائد رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ نے انہیں بلا لیا اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (بے شک تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کے عمل) میں بہترین نمونہ ہے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 1579]
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، قَالَ: مَرِضْتُ مَرَضًا، فَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ يَعُودُنِي، قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَنِ السُّبْحَةِ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ " صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، فَمَا رَأَيْتُهُ يُسَبِّحُ، وَلَوْ كُنْتُ مُسَبِّحًا لَأَتْمَمْتُ "، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21.
عمر بن محمد نے حفص بن عاصم سے روایت کی، کہا: میں بیمار ہوا تو (عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما میری عیادت کرنے آئے، کہا: میں نے ان سے سفر میں سنتیں پڑھنے کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے کہا: میں سفر کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رہا ہوں۔ میں نے دیکھا کہ آپ سنتیں نہیں پڑھتے، اور اگر مجھے سنتیں پڑھنی ہوتیں تو میں نماز ہی پوری پڑھتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (بے شک تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کے عمل) میں بہترین نمونہ ہے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 1580]
|
|
|
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ . ح، وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل كِلَاهُمَا، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " صَلَّى الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ".
ابوقلابہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر کی چار رکعتیں پڑھیں اور ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعتیں پڑھیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1581]
|
|
|
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، سَمِعَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ".
محمد بن منکدر اور ابراہیم بن میسرہ دونوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں ظہر کی چار رکعتیں پڑھیں اور آپ کے ساتھ ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعتیں پڑھیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1582]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ كِلَاهُمَا، عَنْ غُنْدَرٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ الْهُنَائِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا خَرَجَ مَسِيرَةَ ثَلَاثَةِ أَمْيَالٍ أَوْ ثَلَاثَةِ، فَرَاسِخَ شُعْبَةُ الشَّاكُّ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ".
شعبہ نے یحییٰ بن یزید ہنائی سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز قصر کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تین میل یا تین فرسخ کی مسافت پر نکلتے (مسافت کے بارے میں شک کرنے والے شعبہ ہیں) تو دو رکعت نماز پڑھتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1583]
|
|
|
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ جميعا، عَنِ ابْنِ مَهْدِيٍّ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، قَالَ: " خَرَجْتُ مَعَ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ إِلَى قَرْيَةٍ عَلَى رَأْسِ سَبْعَةَ عَشَرَ أَوْ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِيلًا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ "، فَقُلْتُ لَهُ: فَقَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ صَلَّى بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ، فَقُلْتُ لَهُ: فَقَالَ: إِنَّمَا أَفْعَلُ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ.
عبدالرحمان بن مہدی نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے یزید بن خمیر سے حدیث سنائی، انہوں نے حبیب بن عبید سے، انہوں نے جبیر بن نفیر سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں شرجیل بن سمط (الکندی) کی معیت میں ایک بستی کو گیا جو سترہ یا اٹھارہ میل کے فاصلے پر تھی تو انہوں نے دو رکعت نماز پڑھی، میں نے ان سے پوچھا، انہوں نے جواب دیا: میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ذوالحلیفہ میں دو رکعت پڑھتے دیکھا ہے، تو میں نے ان (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) سے پوچھا، انہوں نے جواب دیا: میں اسی طرح کرتا ہوں جس طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1584]
|
|
|
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَ: عَنِ ابْنِ السِّمْطِ وَلَمْ يُسَمِّ شُرَحْبِيلَ، وَقَالَ: إِنَّهُ أَتَى أَرْضًا، يُقَالُ لَهَا: دُومِينَ مِنْ حِمْصَ، عَلَى رَأْسِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِيلًا.
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی اور کہا: ابن سمط سے روایت ہے اور انہوں نے شرجیل کا نام لیا اور کہا: وہ حمص کی دومین نامی جگہ پر پہنچے جو اٹھارہ میل کے فاصلے پر تھی (اور وہاں نماز قصر پڑھی)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1585]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ "، حَتَّى رَجَعَ، قُلْتُ: كَمْ أَقَامَ بِمَكَّةَ؟ قَالَ: عَشْرًا.
ہشیم نے یحییٰ بن ابی اسحاق سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ جانے کے لیے نکلے تو آپ دو رکعت نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ مدینہ واپس پہنچ گئے۔ راوی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ مکہ کتنا عرصہ ٹھرے؟ انہوں نے جواب دیا: دس دن (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ مختلف مقامات پر دس دن گزارے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 1586]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ . ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ جَمِيعًا، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ هُشَيْمٍ.
ابوعوانہ اور (اسماعیل) ابن علیہ نے یحییٰ بن ابی اسحاق سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہشیم کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1587]
|
|
|
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاق ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: خَرَجْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الْحَجِّ، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَهُ.
شعبہ نے کہا: مجھے یحییٰ بن ابی اسحاق نے حدیث سنائی، کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ ہم حج کے لیے مدینہ سے چلے۔ پھر مذکورہ بالا روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1588]
|
|
|
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح، وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْحَجَّ.
(سفیان) ثوری نے یحییٰ بن ابی اسحاق سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی سابقہ حدیث کے مانند حدیث روایت کی اور (اس میں) حج کا تذکرہ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1589]
|
|
|
2: باب قَصْرِ الصَّلاَةِ بِمِنًى:
باب: منیٰ میں نماز قصر پڑھنے کا بیان۔
|
|
|
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّهُ صَلَّى صَلَاةَ الْمُسَافِرِ بِمِنًى وَغَيْرِهِ رَكْعَتَيْنِ "، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، رَكْعَتَيْنِ صَدْرًا مِنْ خِلَافَتِهِ، ثُمَّ أَتَمَّهَا أَرْبَعًا.
عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم بن عبداللہ (بن عمر) سے، انہوں نے اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ اور دوسری جگہوں، یعنی اس کے نواح میں اور (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد) حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے مسافر کی نماز، یعنی دو رکعتیں پڑھیں۔ اور عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی خلافت کے ابتدائی سالوں میں دو رکعتیں پڑھیں، بعد میں پوری چار پڑھنے لگے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1590]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ . ح وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ جَمِيعًا، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، قَالَ: بِمِنًى وَلَمْ يَقُلْ وَغَيْرِهِ.
اوزاعی اور معمر نے (اپنی اپنی سند سے روایت کرتے ہوئے) زہری سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ یہی حدیث روایت کی، انہوں نے "منیٰ میں" کہا اور "دوسری جگہوں" کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1591]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ "، وَأَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ، وَعُمَرُ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ، وَعُثْمَانُ صَدْرًا مِنْ خِلَافَتِهِ، ثُمَّ إِنَّ عُثْمَانَ صَلَّى بَعْدُ أَرْبَعًا، فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا صَلَّى مَعَ الإِمَامِ صَلَّى أَرْبَعًا، وَإِذَا صَلَّاهَا وَحْدَهُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ.
ابواسامہ نے کہا: ہمیں عبیداللہ بن عمر نے نافع سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں دو رکعتیں پڑھیں، آپ کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے ابتدائی سالوں میں (دو رکعتیں پڑھیں) پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد چار رکعتیں پڑھیں۔ اس لیے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب امام کے ساتھ نماز پڑھتے تو چار رکعتیں پڑھتے اور جب اکیلے پڑھتے تو دو رکعتیں پڑھتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1592]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ . ح، وحدثناه أبو كريب ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ . ح، وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ كُلُّهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
یحییٰ قطان، ابن ابی زائدہ اور عقبہ بن خالد نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1593]
|
|
|
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَمِعَ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى صَلَاةَ الْمُسَافِرِ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، ثَمَانِيَ سِنِينَ، أَوَ قَالَ: سِتَّ سِنِينَ، قَالَ حَفْصٌ: " وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ، يُصَلِّي بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ "، ثُمَّ يَأْتِي فِرَاشَهُ، فَقُلْتُ: أَيْ عَمِّ لَوْ صَلَّيْتَ بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ؟ قَالَ: لَوْ فَعَلْتُ لَأَتْمَمْتُ الصَّلَاةَ.
عبیداللہ بن معاذ نے حدیث بیان کی، کہا: میرے والد نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: ہمیں شعبہ نے خبیب بن عبدالرحمان سے حدیث سنائی، انہوں نے حفص بن عاصم سے سنا، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر، اور عثمان، رضوان اللہ علیہم اجمعین نے (پہلے) آٹھ سال یا کہا: چھ سال۔ منیٰ میں مسافر والی نماز پڑھی۔ حفص نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما منیٰ میں دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ پھر اپنے بستر پر آجاتے تھے۔ میں نے کہا: چچا جان! اگر آپ فرض نماز کے بعد دو سنتیں بھی پڑھ لیا کریں! تو انہوں نے کہا: اگر میں ایسا کروں تو (گویا) پوری نماز پڑھوں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1594]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ . ح، وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَلَمْ يَقُولَا فِي الْحَدِيثِ: بِمِنًى، وَلَكِنْ قَالَا: صَلَّى فِي السَّفَرِ.
خالد بن حارث اور عبدالصمد نے کہا: ہمیں شعبہ نے (باقی ماندہ) اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی لیکن ان دونوں نے اس حدیث میں "منیٰ میں" کے الفاظ نہیں کہے لیکن دونوں نے یہ کہا: "آپ نے سفر میں نماز پڑھی۔" [صحيح مسلم/حدیث: 1595]
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ، يَقُولُ: صَلَّى بِنَا عُثْمَانُ بِمِنًى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، فَقِيلَ ذَلِكَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَاسْتَرْجَعَ، ثُمَّ قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ "، وَصَلَّيْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّيْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، فَلَيْتَ حَظِّي مِنْ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ، رَكْعَتَانِ مُتَقَبَّلَتَانِ ".
عبدالواحد نے اعمش سے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابراہیم نے حدیث سنائی، کہا: میں نے عبدالرحمان بن یزید سے سنا، کہہ رہے تھے: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ہمیں منیٰ میں چار رکعتیں پڑھائیں، یہ بات عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو بتائی گئی تو انہوں نے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھا پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعتیں نماز پڑھی، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ میں دو رکعتیں نماز پڑھی، اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ میں دو رکعتیں نماز پڑھی، کاش! میرے نصیب میں چار رکعات کے بدلے شرف قبولیت حاصل کرنے والی دو رکعتیں ہوں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1596]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، ح. وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح، وحَدَّثَنَا إِسْحَاق ، وَابْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ابومعاویہ، جریر اور عیسیٰ سب نے (مختلف سندوں سے روایت کرتے ہوئے) اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1597]
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى آمَنَ مَا كَانَ النَّاسُ، وَأَكْثَرَهُ رَكْعَتَيْنِ ".
ابواحوص نے ابواسحاق سے اور انہوں نے حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعتیں نماز پڑھی، (جب) لوگ سب سے زیادہ امن میں اور کثیر تعداد میں تھے۔ (یہ اللہ کی رخصت کو قبول کرنے کا معاملہ تھا، خوف، بدامنی یا جنگ کا معاملہ نہ تھا۔) [صحيح مسلم/حدیث: 1598]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق ، حَدَّثَنِي حَارِثَةُ بْنُ وَهْبٍ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: " صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى، وَالنَّاسُ أَكْثَرُ مَا كَانُوا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ "، قَالَ مُسْلِم 12 حَارِثَةُ بْنُ وَهْبٍ الْخُزَاعِيُّ هُوَ أَخُ وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ لِأُمِّهِ.
زہیر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابواسحاق نے حدیث سنائی، کہا: مجھ سے حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھی جبکہ لوگ (تعداد میں) جتنے زیادہ ہو سکتے تھے (موجود تھے) آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر دو رکعت نماز پڑھائی۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا: حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ ماں (ملیکہ بنت جرول الخزاعیہ) کی طرف سے عبیداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1599]
|
|
|
3: باب الصَّلاَةِ فِي الرِّحَالِ فِي الْمَطَرِ:
باب: بارش میں گھروں میں نماز پڑھنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، أَذَّنَ بِالصَّلَاةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحٍ، فَقَالَ: أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ، ثُمّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ بَارِدَةٌ، ذَاتُ مَطَرٍ، يَقُولُ: أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ".
امام مالک نے نافع سے روایت کی کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سردی اور ہوا والی ایک رات اذان کہی اور اس کے آخر میں کہا: أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ (سنو! اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو۔) پھر کہا کہ جب رات سرد اور بارش والی ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موذن کو حکم دیتے کہ وہ کہے: أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ (سنو! اپنے ٹھکانوں پر نماز پڑھ لو۔) [صحيح مسلم/حدیث: 1600]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ نَادَى بِالصَّلَاةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ، وَرِيحٍ، وَمَطَرٍ، فَقَالَ فِي آخِرِ نِدَائِهِ: أَلَا صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ، أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ، إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ بَارِدَةٌ، أَوْ ذَاتِ مَطَرٍ فِي السَّفَرِ، أَنْ يَقُولَ: أَلَا صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ ".
محمد بن عبداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے میرے والد نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں عبیداللہ نے حدیث سنائی، کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے سردی، ہوا اور بارش والی ایک رات میں اذان دی اور اذان کے آخر میں کہا: ”سنو! اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو، سنو! اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو۔“ پھر کہا: جب سفر میں رات سرد یا بارش والی ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موذن کو یہ کہنے کا حکم دیتے: أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِكُمْ (سنو! اپنی قیام گاہوں میں نماز پڑھ لو۔) [صحيح مسلم/حدیث: 1601]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ نَادَى بِالصَّلَاةِ بِضَجْنَانَ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ، وَقَالَ: أَلَا صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ، وَلَمْ يُعِدْ ثَانِيَةً، أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ، مِنْ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ.
ابواسامہ نے کہا: ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے (مکہ سے چھ میل کے فاصلے پر واقع) بضاع نامی پہاڑ پر اذان کہی۔ پھر اوپر والی حدیث کے مانند بیان کیا اور (ابواسامہ نے) کہا: أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِكُمْ اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے دوبارہ أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ کہنے کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1602]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . ح، وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَمُطِرْنَا، فَقَالَ: لِيُصَلِّ مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فِي رَحْلِهِ ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے تو بارش ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو چاہے اپنی قیام گاہ میں نماز پڑھ لے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1603]
|
|
|
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ صَاحِبِ الزِّيَادِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّهُ قَالَ لِمُؤَذِّنِهِ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ: إِذَا قُلْتَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَلَا تَقُلْ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، قُلْ: صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ، قَالَ: فَكَأَنَّ النَّاسَ اسْتَنْكَرُوا ذَاكَ، فَقَالَ: أَتَعْجَبُونَ مِنْ ذَا، قَدْ فَعَلَ ذَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي، إِنَّ الْجُمُعَةَ عَزْمَةٌ، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أُخْرِجَكُمْ فَتَمْشُوا فِي الطِّينِ، وَالدَّحْضِ ".
اسماعیل (ابن علیہ) نے (ابن ابی سفیان) الزیادی کے ساتھی عبدالحمید سے، انہوں نے عبداللہ بن حارث سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے ایک بارش والے دن اپنے موذن سے فرمایا: جب تم أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ کہہ چکو تو حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ نہ کہنا (بلکہ) صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ (اپنے گھروں میں نماز پڑھو) کہنا۔ کہا: لوگوں نے گویا اسے ایک غیر معروف کام سمجھا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تم اس پر تعجب کر رہے ہو؟ یہ کام انہوں نے کیا جو مجھ سے بہت زیادہ بہتر تھے۔ جمعہ پڑھنا لازم ہے اور مجھے برا معلوم ہوا کہ میں تمہیں تنگی میں مبتلا کروں اور تم کیچڑ اور پھسلن میں چل کر آؤ۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1604]
|
|
|
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ ، قَالَ: خَطَبَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، فِي يَوْمٍ ذِي رَدْغٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ: الْجُمُعَةَ، وَقَالَ: قَدْ فَعَلَهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وقَالَ أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بِنَحْوِهِ.
ابوکامل جحدری نے کہا: ہمیں حماد، یعنی ابن زید نے عبدالحمید سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن حارث سے سنا، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک پھسلن والے دن ہمارے سامنے خطبہ دیا۔ آگے ابن علیہ کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی، لیکن جمعے کا نام نہیں لیا، اور کہا: یہ کام اس شخصیت نے کیا ہے جو مجھ سے بہت زیادہ بہتر تھے، یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ کام کیا ہے)۔ ابوکامل نے کہا: حماد نے ہم سے یہ حدیث (عبدالحمید کی بجائے) عاصم سے، انہوں نے عبداللہ بن حارث سے اسی طرح روایت کی ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1605]
|
|
|
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ هُوَ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، وَعَاصِمٌ الأَحْوَلُ ، بهذا الإسناد، ولم يذكر في حديثه يعني النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوربیع عتکی زہرانی نے کہا: ہمیں حماد، یعنی ابن زید نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں ایوب اور عاصم احول نے اس سند کے ساتھ حدیث سنائی، البتہ انہوں (ابوربیع) نے اپنی حدیث میں یعنی النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1606]
|
|
|
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شُمَيْلٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ صَاحِبُ الزِّيَادِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ ، قَالَ: أَذَّنَ مُؤَذِّنُ ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَوْمَ جُمُعَةٍ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، وَقَالَ: وَكَرِهْتُ أَنْ تَمْشُوا فِي الدَّحْضِ وَالزَّلَلِ.
شعبہ نے کہا: ہمیں عبدالحمید صاحب الزیادی نے حدیث سنائی، کہا: میں نے عبداللہ بن حارث سے سنا، انہوں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے موذن نے جمعے کے روز بارش والے دن اذان دی۔ پھر ابن علیہ کی حدیث کی طرح بیان کیا، اور کہا: میں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ تم پھسلن میں چل کر آؤ۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1607]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح. وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَمَرَ مُؤَذِّنَهُ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ، فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ، فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ، وَذَكَرَ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ فَعَلَهُ: مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
شعبہ اور معمر دونوں نے (اپنی اپنی سند سے روایت کرتے ہوئے) عاصم احول سے اور انہوں نے عبداللہ بن حارث سے روایت کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے موذن کو حکم دیا۔ معمر کی روایت میں ہے: جمعے کے روز بارش کے دن۔ (آگے) سابقہ راویوں کی روایت کی طرح ہے۔ اور معمر کی حدیث میں یہ بھی ہے: یہ کام انہوں نے کیا جو مجھ سے بہت زیادہ بہتر ہیں، یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1608]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاق الْحَضْرَمِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ وُهَيْبٌ: لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ، قَالَ: أَمَرَ ابْنُ عَبَّاسٍ، مُؤَذِّنَهُ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ، فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.
وہیب نے کہا: ہمیں ایوب نے عبداللہ بن حارث سے حدیث بیان کی۔ وہیب نے کہا: ایوب نے یہ حدیث عبداللہ بن حارث سے نہیں سنی۔ (جبکہ ابن حجر رحمہ اللہ کی تحقیق ہے کہ وہیب کی بات درست نہیں بلکہ ایوب نے یہ حدیث سنی ہے) انہوں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جمعے کے روز بارش کے دن اپنے موذن کو حکم دیا۔ (آگے اسی طرح ہے) جس طرح دوسرے راویوں نے بیان کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1609]
|
|
|
4: باب جَوَازِ صَلاَةِ النَّافِلَةِ عَلَى الدَّابَّةِ فِي السَّفَرِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ:
باب: سفر میں سواری پر نفل پڑھنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يُصَلِّي سُبْحَتَهُ، حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ نَاقَتُهُ ".
محمد بن عبداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبیداللہ نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (سفر میں سواری پر) اپنی نفل نماز پڑھتے تھے آپ کی اونٹنی جس طرف بھی آپ کو لے کر رخ کر لیتی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1610]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ، حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ ".
ابوخالد احمر نے عبیداللہ سے، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے، وہ چاہے آپ کو لے کر جس طرف بھی رخ کر لیتی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1611]
|
|
|
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُصَلِّي وَهُوَ مُقْبِلٌ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ عَلَى رَاحِلَتِهِ، حَيْثُ كَانَ وَجْهُهُ، قَالَ: وَفِيهِ نَزَلَتْ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ سورة البقرة آية 115 ".
یحییٰ بن سعید نے عبدالملک بن ابی سلیمان سے روایت کی، کہا: ہمیں سعید بن جبیر نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے مدینہ کی طرف آ رہے ہوتے، اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے، جس طرف بھی آپ کا رخ ہو جاتا۔ کہا: اسی کے بارے میں یہ آیت اتری: فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ (سو جس طرف تم رخ کرو، وہیں اللہ کا چہرہ ہے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 1612]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ . ح، وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي كُلُّهُمْ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُبَارَكٍ، وَابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، ثُمَّ تَلَا ابْنُ عُمَرَ: فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ سورة البقرة آية 115 وَقَالَ فِي هَذَا نَزَلَتْ.
ابن مبارک، ابن ابی زائدہ اور ابن نمیر نے اپنے والد کے حوالے سے، سب نے عبدالملک سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث روایت کی اور ان میں سے ابن مبارک اور ابن ابی زائدہ کی روایت میں ہے کہ پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے آیت تلاوت کی: فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ (تم جس طرف بھی رخ کرو وہیں اللہ کا چہرہ ہے۔) اور کہا: یہ اسی کے بارے میں اتری ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1613]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ، وَهُوَ مُوَجِّهٌ إِلَى خَيْبَرَ ".
عمرو بن یحییٰ مازنی نے سعید بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھے پر نماز پڑھتے دیکھا جبکہ آپ نے خیبر کا رخ کیا ہوا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1614]
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ، قَالَ سَعِيدٌ: فَلَمَّا خَشِيتُ الصُّبْحَ، نَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ، ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ، فَقَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ: أَيْنَ كُنْتَ؟ فَقُلْتُ لَهُ: خَشِيتُ الْفَجْرَ، فَنَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَلَيْسَ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُسْوَةٌ؟ فَقُلْتُ: بَلَى وَاللَّهِ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ ".
ابوبکر بن عمر بن عبدالرحمان، بن عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سعید بن یسار سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں مکہ کے راستے میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔ پھر جب مجھے صبح ہو جانے کا اندیشہ ہوا تو میں سواری سے اترا اور وتر پڑھے، پھر میں ان سے جا ملا تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے پوچھا: تم کہاں (رہ گئے) تھے؟ میں نے ان سے کہا: مجھے فجر ہو جانے کا اندیشہ ہوا، اس لیے میں نے اتر کر وتر پڑھے۔ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل میں نمونہ نہیں ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کی قسم ہے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر وتر پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1615]
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ، يَفْعَلُ ذَلِكَ.
امام مالک رحمہ اللہ نے عبداللہ بن دینار سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے وہ آپ کو لے کر جدھر کا بھی رخ کر لیتی۔ عبداللہ بن دینار نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی یہی کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1616]
|
|
|
وحَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُوتِرُ عَلَى رَاحِلَتِهِ ".
ابن ہاد نے عبداللہ بن دینار سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر وتر ادا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1617]
|
|
|
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُسَبِّحُ عَلَى الرَّاحِلَةِ، قِبَلَ أَيِّ وَجْهٍ تَوَجَّهَ، وَيُوتِرُ عَلَيْهَا، غَيْرَ أَنَّهُ لَا يُصَلِّي عَلَيْهَا الْمَكْتُوبَةَ.
سالم بن عبداللہ نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نفل پڑھتے جدھر بھی آپ کا رخ ہو جاتا اور اسی پر وتر بھی پڑھتے، البتہ آپ فرض نماز اس پر نہیں پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1618]
|
|
|
وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُصَلِّي السُّبْحَةَ بِاللَّيْلِ فِي السَّفَرِ، عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ ".
حضرت عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہیں ان کے والد نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ سفر میں رات کے وقت سواری پر نفل پڑھتے تھے جدھر کا بھی وہ رخ کر لیتی تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1619]
|
|
|
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، قَالَ: تَلَقَّيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، حِينَ قَدِمَ الشَّامَ، فَتَلَقَّيْنَاهُ بِعَيْنِ التَّمْرِ، " فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَوَجْهُهُ ذَلِكَ الْجَانِبَ "، وَأَوْمَأَ هَمَّامٌ عَنْ يَسَارِ الْقِبْلَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: رَأَيْتُكَ تُصَلِّي لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ، قَالَ: لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَفْعَلُهُ، لَمْ أَفْعَلْهُ.
ہمام نے کہا: ہمیں انس بن سیرین نے حدیث بیان کی کہ جب حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ شام سے آئے تو ہم نے ان کا استقبال کیا، ہم عین التمر کے مقام پر جا کر ان سے ملے تو میں نے انہیں دیکھا، وہ گدھے پر نماز پڑھ رہے تھے اور ان کا رخ اس طرف تھا۔ ہمام نے قبلے کی بائیں طرف اشارہ کیا۔ تو میں (انس بن سیرین) نے ان سے کہا: میں نے آپ کو قبلے کی بائیں طرف نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں (کبھی) ایسا نہ کرتا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1620]
|
|
|
5: باب جَوَازِ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ فِي السَّفَرِ:
باب: سفر میں نمازوں کے جمع کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِذَا عَجِلَ بِهِ السَّيْرُ، جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ".
امام مالک رحمہ اللہ نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چلنے کی جلدی ہوتی تو مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کر لیتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1621]
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، كَانَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ، جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، بَعْدَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ، وَيَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ، جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ".
عبیداللہ سے روایت ہے، کہا: مجھے نافع نے خبر دی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جب (سفر کے لیے) جلدی چلنا ہوتا تو شفق (سورج کی سرخی) غائب ہونے کے بعد (یعنی عشاء کا وقت شروع ہونے کے بعد) مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھتے تھے اور بتاتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب جلد چلنا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب اور عشاء کو جمع کر لیتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1622]
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ كلهم، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ عَمْرٌو، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ ".
سفیان نے (ابن شہاب) زہری سے، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد (ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ کو چلنے کی جلدی ہوتی تو آپ مغرب اور عشاء کو جمع کر لیتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1623]
|
|
|
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَاهُ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ فِي السَّفَرِ، يُؤَخِّرُ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ، حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ".
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ ان کے والد نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ کو سفر میں جلد چلنا ہوتا تو مغرب کی نماز کو موخر کر دیتے حتیٰ کہ اسے اور عشاء کی نماز کو جمع کر لیتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1624]
|
|
|
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ، أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ، ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا، فَإِنْ زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ، صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ رَكِبَ ".
مفضل بن فضالہ نے عقیل سے، انہوں نے ابن شہاب سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو اس وقت تک موخر فرماتے کہ عصر کا وقت ہو جاتا، پھر آپ (سواری سے) اترتے، دونوں نمازوں کو جمع کرتے، اور اگر آپ کے کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو ظہر پڑھ کر سوار ہوتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1625]
|
|
|
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ الْمَدَايِنِيُّ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِذَا أَرَادَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ، أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَدْخُلَ أَوَّلُ وَقْتِ الْعَصْرِ، ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا ".
لیث بن سعد نے عقیل بن خالد سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں جب دو نمازوں کو جمع کرنا چاہتے تو ظہر کو موخر کرتے حتیٰ کہ عصر کا اول وقت ہو جاتا، پھر آپ دونوں نمازوں کو جمع کرتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1626]
|
|
|
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِذَا عَجِلَ عَلَيْهِ السَّفَرُ، يُؤَخِّرُ الظُّهْرَ إِلَى أَوَّلِ وَقْتِ الْعَصْرِ، فَيَجْمَعُ بَيْنَهُمَا، وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ، حِينَ يَغِيبُ الشَّفَقُ ".
جابر بن اسماعیل نے بھی عقیل بن خالد سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب سفر میں جلدی ہوتی تو ظہر کو عصر کے اول وقت تک موخر کر دیتے، پھر دونوں کو جمع کر لیتے اور مغرب کو موخر کرتے اور عشاء کے ساتھ اکٹھا کر کے پڑھتے جب شفق غائب ہو جاتی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1627]
|
|
|
6: باب الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ:
باب: اقامت میں دو نمازوں کو جمع کرنا۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا، فِي غَيْرِ خَوْفٍ، وَلَا سَفَرٍ ".
امام مالک رحمہ اللہ نے ابوزبیر سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کو اکٹھا پڑھا اور مغرب اور عشاء کو اکٹھا پڑھا کسی خوف اور سفر کے بغیر۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1628]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، وَعَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ جميعا، عَنْ زُهَيْرٍ ، قَالَ ابْنُ يُونُسَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا بِالْمَدِينَةِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ، وَلَا سَفَرٍ "، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: فَسَأَلْتُ سَعِيدًا: لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِهِ.
زہیر نے کہا: ہمیں ابوزبیر نے سعید بن جبیر سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کو مدینہ میں کسی خوف اور سفر کے بغیر جمع کر کے پڑھا۔ ابوزبیر نے کہا: میں نے (ابن عباس رضی اللہ عنہما کے شاگرد) سعید سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تھا جیسے تم نے مجھ سے سوال کیا ہے تو انہوں نے کہا: آپ نے چاہا کہ اپنی امت کے کسی فرد کو تنگی اور دشواری میں نہ ڈالیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1629]
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاةِ فِي سَفْرَةٍ سَافَرَهَا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ "، قَالَ سَعِيدٌ: فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ.
قرہ بن خالد نے کہا: ہمیں ابوزبیر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سعید بن جبیر نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے دوران ایک سفر میں نمازوں کو جمع کیا، ظہر اور عصر کو اکٹھا پڑھا اور مغرب اور عشاء کو اکٹھا پڑھا۔ سعید نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ نے چاہا اپنی امت کو حرج (اور تنگی) میں نہ ڈالیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1630]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرٍ ، عَنْ مُعَاذٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، " فَكَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا ".
زہیر نے کہا: ہمیں ابوزبیر نے ابوطفیل عامر سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ہم غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو (اس دوران میں) آپ ظہر اور عصر اکٹھے پڑھتے رہے اور مغرب اور عشاء کو جمع کرتے رہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1631]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ أَبُو الطُّفَيْلِ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، قَالَ: " جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ "، قَالَ: فَقُلْتُ: مَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: فَقَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ.
قرہ بن خالد نے کہا: ہمیں ابوزبیر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عامر بن واثلہ ابوطفیل نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک میں ظہر، عصر کو اور مغرب، عشاء کو جمع کیا۔ (عامر بن واثلہ نے) کہا: میں نے (حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے) پوچھا: آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو انہوں نے کہا: آپ نے چاہا کہ اپنی امت کو دشواری میں نہ ڈالیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1632]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح. وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ كِلَاهُمَا، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ، فِي غَيْرِ خَوْفٍ، وَلَا مَطَرٍ "، فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ؟ قَالَ: كَيْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا أَرَادَ إِلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ.
ابومعاویہ اور وکیع دونوں نے اعمش سے روایت کی، انہوں نے حبیب بن ثابت سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر، عصر اور مغرب، عشاء کو مدینہ میں کسی خوف اور بارش کے بغیر جمع کیا۔ وکیع کی روایت میں ہے (سعید نے) کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا: تاکہ اپنی امت کو دشواری میں مبتلا نہ کریں۔ اور ابومعاویہ کی حدیث میں ہے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا چاہتے ہوئے ایسا کیا؟ انہوں نے کہا: آپ نے چاہا اپنی امت کو دشواری میں نہ ڈالیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1633]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثَمَانِيًا جَمِيعًا، وَسَبْعًا جَمِيعًا، قُلْتُ: يَا أَبَا الشَّعْثَاءِ، " أَظُنُّهُ أَخَّرَ الظُّهْرَ، وَعَجَّلَ الْعَصْرَ، وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ، وَعَجَّلَ الْعِشَاءَ؟ قَالَ: وَأَنَا أَظُنُّ ذَاكَ ".
سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے (ابوشعشاء) جابر بن زید سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آٹھ رکعات (ظہر اور عصر) اکٹھے اور سات رکعات (مغرب اور عشاء) اکٹھے پڑھیں۔ (عمرو نے کہا) میں نے ابوشعشاء (جابر بن زید) سے کہا کہ میرا خیال ہے آپ نے ظہر کو موخر کیا اور عصر جلدی پڑھی اور مغرب کو موخر کیا اور عشاء میں جلدی کی۔ انہوں نے کہا: میرا بھی یہی خیال ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1634]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " صَلَّى بِالْمَدِينَةِ سَبْعًا، وَثَمَانِيًا الظُّهْرَ، وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ، وَالْعِشَاءَ ".
حماد بن زید نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے جابر بن زید سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں سات رکعات اور آٹھ رکعات نماز پڑھی، یعنی ظہر، عصر، مغرب اور عشاء (ملا کر پڑھیں)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1635]
|
|
|
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، يَوْمًا بَعْدَ الْعَصْرِ، حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَبَدَتِ النُّجُومُ، وَجَعَلَ النَّاسُ، يَقُولُونَ: الصَّلَاةَ، الصَّلَاةَ، قَالَ: فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، لَا يَفْتُرُ، وَلَا يَنْثَنِي، الصَّلَاةَ، الصَّلَاةَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَتُعَلِّمُنِي بِالسُّنَّةِ، لَا أُمَّ لَكَ؟ ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ: فَحَاكَ فِي صَدْرِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ، فَأَتَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَسَأَلْتُهُ، فَصَدَّقَ مَقَالَتَهُ.
زبیر بن خریت نے عبداللہ بن شفیق سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک دن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما عصر کے بعد ہمیں خطاب کرنے لگے حتیٰ کہ سورج غروب ہو گیا اور ستارے نمودار ہو گئے اور لوگ کہنے لگے: نماز، نماز! پھر ان کے پاس بنو تمیم کا ایک آدمی آیا جو نہ تھکتا تھا اور نہ باز آ رہا تھا، نماز، نماز کہے جا رہا تھا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تیری ماں نہ ہو! تو مجھے سنت سکھا رہا ہے؟ پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے ظہر و عصر کو اور مغرب و عشاء کو جمع کیا۔ عبداللہ بن شفیق نے کہا: تو اس سے میرے دل میں کچھ کھٹکنے لگا، چنانچہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے ان (ابن عباس رضی اللہ عنہما) کے قول کی تصدیق کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1636]
|
|
|
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ : الصَّلَاةَ، فَسَكَتَ، ثُمّ قَالَ: الصَّلَاةَ، فَسَكَتَ، ثُمّ قَالَ: الصَّلَاةَ، فَسَكَتَ، ثُمّ قَالَ: لَا أُمَّ لَكَ، أَتُعَلِّمُنَا بِالصَّلَاةِ، " وَكُنَّا نَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
عمران بن خدیر نے عبداللہ بن شقیق عقیلی سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: نماز! آپ خاموش رہے، اس نے پھر کہا: نماز! آپ پھر چپ رہے، اس نے پھر کہا: نماز! تو آپ (کچھ دیر) چپ رہے، پھر فرمایا: تیری ماں نہ ہو! کیا تو ہمیں نماز کی تعلیم دیتا ہے؟ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دو نمازیں جمع کر لیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1637]
|
|
|
7: باب جَوَازِ الاِنْصِرَافِ مِنَ الصَّلاَةِ عَنِ الْيَمِينِ وَالشِّمَالِ:
باب: نماز پڑھ کے دائیں بائیں دونوں طرف مڑنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " لَا يَجْعَلَنَّ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ مِنْ نَفْسِهِ جُزْءًا، لَا يَرَى إِلَّا أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ، أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ، أَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَنْصَرِفُ عَنْ شِمَالِهِ ".
ابومعاویہ اور وکیع نے اعمش سے، انہوں نے عمارہ سے، انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ (ابن مسعود) سے روایت کی، کہا: تم میں سے کوئی شخص اپنی ذات میں سے شیطان کا حصہ نہ رکھے (وہم اور وسوسے کا شکار نہ ہو) یہ خیال نہ کرے کہ اس پر لازم ہے کہ وہ نماز سے دائیں کے علاوہ کسی اور جانب سے رخ نہ موڑے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر دیکھا تھا، آپ بائیں جانب سے رخ مبارک موڑتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1638]
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح، وَحَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى جَمِيعًا، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
جریر اور عیسیٰ بن یونس نے اسی سند کے ساتھ سابقہ حدیث کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1639]
|
|
|
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا ، كَيْفَ أَنْصَرِفُ إِذَا صَلَّيْتُ عَنْ يَمِينِي أَوْ عَنْ يَسَارِي؟ قَالَ: أَمَّا أَنَا، " فَأَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ ".
ابوعوانہ نے (اسماعیل بن عبدالرحمان) سدی سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: جب میں نماز پڑھ لوں تو اپنا رخ کیسے موڑوں، اپنی دائیں طرف یا اپنی بائیں طرف سے؟ انہوں نے کہا: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ تر دائیں طرف سے رخ پھیرتے دیکھا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1640]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ عَن السُّدِّيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ ".
سفیان بن عینیہ نے سدی سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دائیں طرف سے رخ پھیرا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1641]
|
|
|
8: باب اسْتِحْبَابِ يَمِينِ الإِمَامِ:
باب: امام کی داہنی طرف کھڑا ہونا مستحب ہے۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ الْبَرَاءِ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ: " كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحْبَبْنَا أَنْ نَكُونَ عَنْ يَمِينِهِ، يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ، أَوْ تَجْمَعُ عِبَادَكَ ".
ابن ابی زائدہ نے مسعر سے، انہوں نے ثابت بن عبید سے، انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ کے بیٹے (عبید) سے اور انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو پسند کرتے تھے کہ ہم آپ کی دائیں طرف ہوں، آپ ہماری طرف رخ فرمائیں۔ (براء رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے (ایسے ہی ایک موقع پر) آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اے میرے رب! تو جب اپنے بندوں کو اٹھائے گا یا جمع کرے گا اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچانا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1642]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ: يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ.
وکیع نے مسعر سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی اور انہوں نے يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ (آپ ہماری طرف رخ فرمائیں) کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1643]
|
|
|
9: باب كَرَاهَةِ الشُّرُوعِ فِي نَافِلَةٍ بَعْدَ شُرُوعِ الْمُؤَذِّنِ:
باب: فرض شروع ہونے کے بعد نفل کا مکروہ ہونا۔ اس حکم میں سنت مؤکدہ مثلاً صبح اور ظہر کی سنتیں اور سنت غیر مؤکدہ برابر ہیں نیز نمازی کو امام کے ساتھ رکعت ملنے کا علم ہونا اور نہ ہونا برابر ہیں۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَرْقَاءَ ، عَنِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ ".
شعبہ نے ورقاء سے، انہوں نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اقامت ہو جائے تو فرض نماز کے سوا کوئی نماز نہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1644]
|
|
|
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَابْنُ رَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.
(شعبہ کی بجائے) شبابہ نے ورقاء سے یہی روایت اسی سند کے ساتھ بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1645]
|
|
|
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ ، يَقُولُ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ ".
روح نے کہا: ہمیں زکریا بن اسحاق نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں عمرو بن دینار نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے عطاء بن یسار سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو فرض نماز کے سوا کوئی نماز نہیں ہوتی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1646]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاق ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
(روح کی بجائے) عبدالرزاق نے خبر دی کہ ہمیں زکریا بن اسحاق نے اسی سند کے ساتھ اسی طرح خبر دی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1647]
|
|
|
وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، قَالَ حَمَّادٌ: ثُمَّ لَقِيتُ عَمْرًا، فَحَدَّثَنِي بِهِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
حماد بن زید نے ایوب سے روایت کی، انہوں نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ حدیث کی مانند روایت کی۔ حماد نے کہا: پھر میں (براہ راست) عمرو (بن دینار) سے ملا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی لیکن انہوں نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کیا۔ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول روایت کیا) [صحيح مسلم/حدیث: 1648]
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ بِرَجُلٍ يُصَلِّي، وَقَدْ أُقِيمَتِ صَلَاةُ الصُّبْحِ، فَكَلَّمَهُ بِشَيْءٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا، أَحَطْنَا نَقُولُ: مَاذَا؟ قَالَ: لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ لِي: " يُوشِكُ أَنْ يُصَلِّيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ أَرْبَعًا "، قَالَ: الْقَعْنَبِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَالِكٍ ابْنُ بُحَيْنَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَبُو الْحُسَيْنِ مُسْلِمٌ وَقَوْلُهُ عَنْ أَبِيهِ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ خَطَأٌ.
عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابراہیم بن سعد نے اپنے والد سے حدیث سنائی۔ انہوں نے حفص بن عاصم سے اور انہوں نے عبداللہ بن مالک ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہا تھا جب صبح کی نماز کے لیے اقامت کہی جا چکی تھی، آپ نے کسی چیز کے بارے میں اس سے گفتگو فرمائی، ہم نہ جان سکے کہ وہ کیا تھی، جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے اسے گھیر لیا، ہم پوچھ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا کہا؟ اس نے بتایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”لگتا ہے کہ تم میں سے کوئی صبح کی چار رکعات پڑھنے لگے گا۔“ قعنبی نے کہا: عبداللہ بن مالک ابن بحینہ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے روایت کی۔ ابوالحسین مسلم رحمہ اللہ (مولف کتاب) نے کہا: قعنبی کا اس حدیث میں عَنْ أَبِيهِ (والد سے روایت کی) کہنا درست نہیں۔ (عبداللہ کے والد صحابی مالک صحابی تو ہیں لیکن ان سے کوئی حدیث مروی نہیں) [صحيح مسلم/حدیث: 1649]
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ ، قَالَ: " أُقِيمَتِ صَلَاةُ الصُّبْحِ، فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَجُلًا يُصَلِّي، وَالْمُؤَذِّنُ يُقِيمُ، فَقَالَ: أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا؟ ".
ابوعوانہ نے سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے حفص بن عاصم سے، اور انہوں نے حضرت (عبداللہ) ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: صبح کی نماز کی اقامت (شروع) ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا جبکہ موذن اقامت کہہ رہا تھا تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم صبح کی چار رکعتیں پڑھو گے؟“ [صحيح مسلم/حدیث: 1650]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ . ح، وحَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ . ح، وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ عَاصِمٍ . ح، وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ: " دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا فُلَانُ، بِأَيِّ الصَّلَاتَيْنِ اعْتَدَدْتَ، أَبِصَلَاتِكَ وَحْدَكَ، أَمْ بِصَلَاتِكَ مَعَنَا؟ ".
حضرت عبداللہ بن سرجس (المزنی حلیف بنی مخزوم رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک آدمی مسجد میں آیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھا رہے تھے، اس نے مسجد کے ایک کونے میں دو رکعتیں پڑھیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہو گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: ”اے فلاں! تو نے دو نمازوں میں سے کون سی نماز کو شمار کیا ہے؟ اپنی اس نماز کو جو تم نے اکیلے پڑھی ہے یا اس کو جو ہمارے ساتھ پڑھی ہے؟“ [صحيح مسلم/حدیث: 1651]
|
|
|
10: باب مَا يَقُولُ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ:
باب: مسجد میں جانے کی دعا کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ ، أَوْ عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، وَإِذَا خَرَجَ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ "، قَالَ مُسْلِم: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ يَحْيَى، يَقُولُ: كَتَبْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ كِتَابِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ يَحْيَى الْحِمَّانِيَّ ، يَقُولُ: وَأَبِي أُسَيْدٍ .
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: ہمیں سلیمان بن بلال نے ربیعہ بن عبدالرحمان سے خبر دی، انہوں نے عبدالملک بن سعید سے، اور انہوں نے حضرت ابوحمید رضی اللہ عنہ یا حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو کہے: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔ اور جب مسجد سے نکلے تو کہے: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں۔“ امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا: میں نے یحییٰ بن یحییٰ سے سنا، وہ کہتے تھے، میں نے یہ حدیث سلیمان بن بلال کی کتاب سے لکھی ہے، انہوں نے کہا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ یحییٰ (حمانی شک کے بغیر) ”و أبي أسيد اور ابواسید“ سے کہتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1652]
|
|
|
وحَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ ، أَوْ عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
(سلیمان بن بلال کے بجائے) عمارہ بن غزیہ نے ربیعہ بن عبدالرحمان سے روایت کی، انہوں نے عبدالملک بن سعید بن سوید انصاری سے، انہوں نے حضرت ابوحمید یا حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1653]
|
|
|
11: باب اسْتِحْبَابِ تَحِيَّةِ الْمَسْجِدِ بِرَكْعَتَيْنِ وَكَرَاهَةِ الْجُلُوسِ قَبْلَ صَلاَتِهِمَا وَأَنَّهَا مَشْرُوعَةٌ فِي جَمِيعِ الأَوْقَاتِ:
باب: دو رکعات تحیۃ المسجد پڑھنا مستحبب ہے اور دو رکعت پڑھے بغیر مسجد میں بیٹھنے کے مکروہ ہونے اور ان دو رکعتوں کے تمام اوقات میں مشروع ہونے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكٌ . ح، وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ، فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ، قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ ".
عامر بن عبداللہ بن زبیر نے عمرو بن سلیم زرقی سے اور انہوں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1654]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمِ بْنِ خَلْدَةَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَانَي النَّاسِ، قَالَ: فَجَلَسْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تَجْلِسَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُكَ جَالِسًا، وَالنَّاسُ جُلُوسٌ، قَالَ: " فَإِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ، فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى يَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ ".
محمد بن یحییٰ بن حبان نے عمرو بن سلیم بن خلدہ انصاری سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں مسجد میں داخل ہوا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے، کہا: تو میں بھی بیٹھ گیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں بیٹھنے سے پہلے دو رکعات نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا ہے؟“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو بیٹھتے دیکھا ہے اور لوگ بھی بیٹھے تھے (اس لیے میں بھی بیٹھ گیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں آئے تو دو رکعت نماز پڑھے بغیر نہ بیٹھے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1655]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيُّ أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " كَانَ لِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ، فَقَضَانِي، وَزَادَنِي، وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ الْمَسْجِدَ، فَقَالَ لِي: " صَلِّ رَكْعَتَيْنِ ".
سفیان نے محارب بن وثار سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے قرض تھا، آپ نے اسے ادا کیا اور مجھے زائد رقم دی اور جب میں آپ کی مسجد میں داخل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”دو رکعت نماز ادا کر لو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1656]
|
|
|
12: باب اسْتِحْبَابِ الرَّكْعَتَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ لِمَنْ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ أَوَّلَ قُدُومِهِ:
باب: مسافر کو پہلے مسجد میں آ کر دو رکعت پڑھنا مستحب ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " اشْتَرَى مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ، أَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْمَسْجِدَ، فَأُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ".
شعبہ نے محارب سے روایت کی، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک اونٹ خریدا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں مسجد میں آؤں اور دو رکعتیں پڑھوں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1657]
|
|
|
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَأَبْطَأَ بِي جَمَلِي وَأَعْيَا، ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلِي، وَقَدِمْتُ بِالْغَدَاةِ، فَجِئْتُ الْمَسْجِدَ فَوَجَدْتُهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، قَالَ: الْآنَ حِينَ قَدِمْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَدَعْ جَمَلَكَ، وَادْخُلْ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: فَدَخَلْتُ فَصَلَّيْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ ".
وہب بن کیسان نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں ایک غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا، میرے اونٹ نے مجھے دیر کرا دی اور تھک گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے پہلے مدینہ میں آ گئے اور میں اگلے دن پہنچا، میں مسجد میں آیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد کے دروازے پر پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم اب اس وقت تک پہنچے ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا اونٹ چھوڑ دو اور مسجد میں داخل ہو کر دو رکعتیں پڑھو۔“ میں مسجد میں داخل ہوا، نماز پڑھی، پھر واپس (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) آیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1658]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ . ح، وحَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا جَمِيعًا، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، وَعَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ لَا يَقْدَمُ مِنْ سَفَرٍ، إِلَّا نَهَارًا فِي الضُّحَى، فَإِذَا قَدِمَ، بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسَ فِيهِ ".
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن میں چاشت کے وقت کے سوا (کسی اور وقت) سفر سے واپس تشریف نہ لاتے، پھر جب تشریف لاتے تو مسجد جاتے، اس میں دو رکعتیں ادا کرتے، پھر (کچھ دیر) وہیں تشریف رکھتے (تاکہ گھر والوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا علم ہو جائے)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1659]
|
|
|
13: باب اسْتِحْبَابِ صَلاَةِ الضُّحَى وَأَنَّ أَقَلَّهَا رَكْعَتَانِ وَأَكْمَلَهَا ثَمَانِ رَكَعَاتٍ وَأَوْسَطَهَا أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ أَوْ سِتٌّ وَالْحَثِّ عَلَى الْمُحَافَظَةِ عَلَيْهَا:
باب: نماز چاشت کے استحباب کا بیان کم از کم اس کی دورکعتیں اور زیادہ سے زیادہ آٹھ رکعتیں اور درمیانی چار یا چھ ہیں اور ان کو ہمیشہ پڑھنے کی ترغیبیں۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ " هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَتْ: لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِه ".
سعید جزیری نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، الا یہ کہ باہر (سفر) سے واپس آئے ہوں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1660]
|
|
|
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَيْسِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ " أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَتْ: لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ ".
کیمس بن حسن قیسی نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، الا یہ کہ سفر سے واپس آئے ہوں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1661]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ، وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعُ الْعَمَلَ، وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ، خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ، فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (گھر میں قیام کے دوران میں) چاشت کے نفل پڑھتے نہیں دیکھا، جبکہ میں چاشت کی نماز پڑھتی ہوں۔ یہ بات یقینی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام کو کرنا پسند فرماتے تھے، لیکن اس ڈر سے کہ لوگ (بھی آپ کو دیکھ کر) وہ کام کریں گے اور (ان کی دلچسپی کی بناء پر) وہ کام ان پر فرض کر دیا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کام کو چھوڑ دیتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1662]
|
|
|
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي الرِّشْكَ ، حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، " كَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى؟ قَالَتْ: أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، وَيَزِيدُ مَا شَاءَ ".
عبدالوارث نے کہا: ہمیں یزید رشک نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے معاذہ نے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز کتنی (رکعتیں) پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: چار رکعتیں اور جس قدر زیادہ پڑھنا چاہتے (پڑھ لیتے)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1663]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالَ: يَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ.
شعبہ نے یزید سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی اور یزید نے (ماشاء کے بجائے) مَا شَاءَ اللَّهُ (جتنی اللہ چاہتا) کہا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1664]
|
|
|
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةَ حَدَّثَتْهُمْ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُصَلِّي الضُّحَى أَرْبَعًا، وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ ".
سعید نے کہا: قتادہ نے ہمیں حدیث بیان کی کہ معاذہ عدویہ نے ان (حدیث سننے والوں) کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز چار رکعتیں پڑھتے تھے اور اللہ تعالیٰ جس قدر چاہتا زیادہ (بھی) پڑھ لیتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1665]
|
|
|
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا، عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
معاذ بن ہشام نے روایت کی، کہا: مجھے میرے والد نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1666]
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: مَا أَخْبَرَنِي أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى، إِلَّا أُمُّ هَانِئٍ ، فَإِنَّهَا حَدَّثَتْ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ بَيْتَهَا يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، فَصَلَّى ثَمَانِي رَكَعَاتٍ، مَا رَأَيْتُهُ صَلَّى صَلَاةً قَطُّ أَخَفَّ مِنْهَا، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يُتِمُّ الرُّكُوعَ، وَالسُّجُودَ "، وَلَمْ يَذْكُرْ ابْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ قَوْلَهُ: قَطُّ.
محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں شعبہ نے عمرو بن مرہ سے، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے سوا کسی نے یہ نہیں بتایا کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا۔ انہوں نے بتایا کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں تشریف لائے اور آپ نے آٹھ رکعتیں پڑھیں، میں نے آپ کو کبھی اس سے ہلکی نماز پڑھتے نہیں دیکھا، ہاں آپ رکوع اور سجود مکمل طریقے سے کر رہے تھے۔ ابن بشار نے اپنی روایت میں قط (کبھی) کا لفظ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1667]
|
|
|
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ وَحَرَصْتُ عَلَى أَنْ أَجِدَ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ يُخْبِرُنِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ سُبْحَةَ الضُّحَى، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُحَدِّثُنِي ذَلِكَ، غَيْرَ أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَتْنِي، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَتَى بَعْدَ مَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَأُتِيَ بِثَوْبٍ فَسُتِرَ عَلَيْهِ، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، لَا أَدْرِي أَقِيَامُهُ فِيهَا أَطْوَلُ، أَمْ رُكُوعُهُ، أَمْ سُجُودُهُ، كُلُّ ذَلِكَ مِنْهُ مُتَقَارِبٌ "، قَالَتْ: فَلَمْ أَرَهُ سَبَّحَهَا قَبْلُ، وَلَا بَعْدُ، قَالَ الْمُرَادِيُّ: عَنْ يُونُسَ، وَلَمْ يَقُلْ: أَخْبَرَنِي.
حرملہ بن یحییٰ اور محمد بن سلمہ مرادی دونوں نے مجھے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبداللہ بن وہب نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، کہا: مجھے عبداللہ بن حارث کے بیٹے نے حدیث سنائی کہ ان کے والد عبداللہ بن حارث بن نوفل نے کہا: میں نے (سب سے) پوچھا اور میری یہ شدید خواہش تھی کہ مجھے کوئی ایک شخص مل جائے جو مجھے بتائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز پڑھی ہے۔ مجھے ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کے سوا کوئی نہ ملا جو مجھے یہ بتاتا۔ انہوں نے مجھے خبر دی کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن بلند ہونے کے بعد تشریف لائے، ایک کپڑا لا کر آپ کو پردہ مہیا کیا گیا، آپ نے غسل فرمایا، پھر آپ کھڑے ہوئے اور آٹھ رکعتیں پڑھیں۔ میں نہیں جانتی کہ ان میں آپ کا قیام (نسبتاً) زیادہ لمبا تھا یا آپ کا رکوع یا آپ کا سجود، یہ سب (ارکان) قریب قریب تھے اور انہوں نے (ام ہانی رضی اللہ عنہا) بتایا، میں نے اس سے پہلے اور اس کے بعد آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے یہ نماز پڑھی ہو۔ (محمد بن سلمہ) مرادی نے اپنی روایت میں ”یونس سے روایت ہے“ کہا، ”مجھے یونس نے خبر دی“ نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1668]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ ، تَقُولُ: ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ، وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ، قَالَتْ: فَسَلَّمْتُ، فَقَالَ: مَنْ هَذِهِ؟ قُلْتُ: أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ، " قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ "، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زَعَمَ ابْنُ أُمِّي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلًا أَجَرْتُهُ فُلَانُ ابْنُ هُبَيْرَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ، قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ: وَذَلِكَ ضُحًى.
ابونضر سے روایت ہے کہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہاتے ہوئے پایا جبکہ آپ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کو کپڑے سے چھپائے ہوئے تھیں (آگے پردہ کیا ہوا تھا) میں نے سلام عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: ام ہانی بنت ابی طالب ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”ام ہانی کو خوش آمدید!“ جب آپ نہانے سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہوئے اور صرف ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے آٹھ رکعتیں پڑھیں، جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا ماں جایا بھائی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ چاہتا ہے کہ ایک ایسے آدمی کو قتل کر دے جسے میں نے پناہ دے چکی ہوں، یعنی ہبیرہ کا بیٹا، فلاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام ہانی! جس کو تم نے پناہ دی اسے ہم نے بھی پناہ دی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1669]
|
|
|
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " صَلَّى فِي بَيْتِهَا عَامَ الْفَتْحِ، ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ ".
جعفر بن محمد رحمہ اللہ کے والد محمد باقر رحمہ اللہ نے عقیل کے آزاد کردہ غلام ابومرہ سے اور انہوں نے حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں ایک کپڑے میں جس کے دونوں کنارے ایک دوسرے کی مخالف جانب ڈالے گئے تھے، آٹھ رکعتیں پڑھیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1670]
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدُّؤَلِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلَامَى مِنْ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ، فَكُلُّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَيُجْزِئُ مِنْ ذَلِكَ رَكْعَتَانِ يَرْكَعُهُمَا مِنَ الضُّحَى ".
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”صبح کو تم میں سے ہر ایک شخص کے ہر جوڑ پر ایک صدقہ ہوتا ہے۔ پس ہر ایک تسبیح (ایک دفعہ سبحان اللہ کہنا) صدقہ ہے۔ ہر ایک تحمید (الحمد للہ کہنا) صدقہ ہے، ہر ایک تہلیل (لا إله إلا اللہ کہنا) صدقہ ہے، ہر ایک تکبیر (اللہ اکبر کہنا) بھی صدقہ ہے۔ (کسی کو) نیکی کی تلقین کرنا صدقہ ہے اور (کسی کو) برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے۔ اور ان تمام امور کی جگہ دو رکعتیں جو انسان چاشت کے وقت پڑھتا ہے کفایت کرتی ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1671]
|
|
|
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ، بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى، وَأَنْ أُوتِرَ قَبْلَ أَنْ أَرْقُدَ ".
ابوتیاح نے کہا: ہمیں ابوعثمان نہدی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی تلقین فرمائی، ہر ماہ تین روزے رکھنے کی، چاشت کی دو رکعتوں کی اور اس بات کی کہ سونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کروں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1672]
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ وَأَبِي شِمْرٍ الضُّبَعِيِّ قَالَا: سَمِعْنَا أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
عباس جریری اور ابوشمر ضبعی دونوں نے کہا: ہم نے ابوعثمان نہدی سے سنا، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی سابقہ حدیث کی مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1673]
|
|
|
وحَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو رَافِعٍ الصَّائِغُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي، أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِثَلَاثٍ، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ.
ابورافع الصائغ نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: مجھے میرے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی تلقین فرمائی۔ آگے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ابوعثمان نہدی کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1674]
|
|
|
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ: " أَوْصَانِي حَبِيبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ، لَنْ أَدَعَهُنَّ مَا عِشْتُ، بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَصَلَاةِ الضُّحَى، وَبِأَنْ لَا أَنَامَ حَتَّى أُوتِرَ ".
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی تلقین فرمائی ہے، جب تک میں زندہ رہوں گا ان کو کبھی ترک نہیں کروں گا، ہر ماہ تین دنوں کے روزے، چاشت کی نماز اور یہ کہ جب تک وتر نہ پڑھ لوں نہ سوؤں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1675]
|
|
|
14: باب اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْ سُنَّةِ الْفَجْرِ وَالْحَثِّ عَلَيْهِمَا وَتَخْفِيفِهِمَا وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُقْرَأَ فِيهِمَا:
باب: فجر کی سنت کی فضیلت و رغبت کا بیان اور ان کو ہلکا پڑھنا اور ہمیشہ پڑھنا اور ان میں جو قرأت زیادہ مستحب ہے اس کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَن ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ حَفْصَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ إِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنَ الأَذَانِ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ، وَبَدَا الصُّبْحُ، رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، قَبْلَ أَنْ تُقَامَ الصَّلَاةُ ".
امام مالک رحمہ اللہ نے نافع سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ جب موذن صبح کی اذان کہہ کر خاموش ہو جاتا اور صبح ظاہر ہو جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی اقامت سے پہلے دو مختصر رکعتیں پڑھتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1676]
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح. وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح، وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ أَيُّوبَ كُلُّهُمْ، عَنْ نَافِعٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، كَمَا قَالَ مَالِكٌ.
لیث بن سعد، عبیداللہ اور ایوب سب نے نافع سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت بیان کی ہے جس طرح امام مالک رحمہ اللہ نے کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1677]
|
|
|
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، لَا يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ".
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے زید بن محمد سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے نافع سے سنا، وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کرتے تھے اور وہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت بیان کر رہے تھے، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب فجر طلوع ہو جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو مختصر رکعتوں کے سوا کوئی نماز نہ پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1678]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
(محمد بن جعفر کی بجائے) نضر نے ہمیں خبر دی، کہا: شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی سابقہ حدیث کی مانند حدیث بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1679]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ إِذَا أَضَاءَ لَهُ الْفَجْرُ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ".
سالم نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب فجر روشن ہو جاتی تو آپ دو رکعتیں نماز پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1680]
|
|
|
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، إِذَا سَمِعَ الأَذَانَ، وَيُخَفِّفُهُمَا ".
عبدہ بن سلیمان نے کہا: ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے والد کے حوالے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذان سنتے تو فجر کی دو رکعتیں پڑھتے اور ان میں تخفیف کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1681]
|
|
|
وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مُسْهِرٍ . ح، وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح، وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ . ح، وحَدَّثَنَاه عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ: إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ.
علی بن مسہر، ابواسامہ، عبداللہ بن نمیر، اور وکیع سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث روایت کی، البتہ ابواسامہ کی روایت میں (جب اذان سننے کی بجائے) ”جب فجر طلوع ہوتی“ کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1682]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ ".
ابوسلمہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کی اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1683]
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَةَ تُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَيُخَفِّفُ، حَتَّى إِنِّي أَقُولُ: هَلْ قَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ؟ ".
یحییٰ بن سعید نے کہا: مجھے محمد بن عبدالرحمان نے بتایا کہ انہوں نے عمرہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا وہ کہا کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی (سنت) دو رکعتیں پڑھتے اور ان کو اتنا ہلکا پڑھتے کہ میں (دل میں) کہتی تھی: کیا آپ نے ان میں فاتحہ بھی پڑھی ہے یا نہیں؟ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً فاتحہ بھی بہت ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 1684]
|
|
|
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْصَارِيِّ ، سَمِعَ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، أَقُولُ: هَلْ يَقْرَأُ فِيهِمَا بِ فَاتِحَةِ الْكِتَاب؟ ".
شعبہ نے محمد بن عبدالرحمان انصاری سے روایت کی، انہوں نے عمرہ بنت عبدالرحمان سے سنا، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: جب فجر طلوع ہو جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں ادا کرتے۔ (دل میں) کہتی: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں فاتحہ پڑھتے ہیں؟ [صحيح مسلم/حدیث: 1685]
|
|
|
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " لَمْ يَكُنْ عَلَى شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مُعَاهَدَةً مِنْهُ، عَلَى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ ".
یحییٰ بن سعید نے ابن جریج سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عطاء بن عبید بن عمیر سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نوافل میں سے کسی اور (نماز) کی اتنی زیادہ پاسداری نہیں کرتے تھے جتنی آپ صبح سے پہلے کی دو رکعتوں کی کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1686]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ جميعا، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَسْرَعَ مِنْهُ، إِلَى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ".
حفص نے ابن جریج سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بھی نفل (کی ادائیگی) کے لیے اس قدر جلدی کرتے نہیں دیکھا جتنی جلدی آپ نماز فجر سے پہلے کی دو رکعتوں کے لیے کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1687]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " رَكْعَتَا الْفَجْرِ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ".
ابوعوانہ نے قتادہ سے، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے، انہوں نے سعد بن ہشام سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”فجر کی دو رکعتیں دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے، اس سے بہتر ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1688]
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: قَالَ أَبِي : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّهُ قَالَ فِي شَأْنِ الرَّكْعَتَيْنِ، عِنْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ لَهُمَا: أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا ".
معتمر کے والد سلیمان بن طرخان نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے طلوع فجر کے وقت کی دو رکعتوں کے بارے میں فرمایا: ”وہ دو (رکعتیں) مجھے ساری دنیا سے زیادہ پسند ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1689]
|
|
|
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ يَزِيدَ هُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " قَرَأَ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، قُلْ: يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی دو رکعتوں میں قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ اور قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ تلاوت کیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1690]
|
|
|
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْفَزَارِيُّ يَعْنِي مَرْوَانَ بْنَ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فِي الأُولَى مِنْهُمَا قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا سورة البقرة آية 136 الآيَةَ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ، وَفِي الآخِرَةِ مِنْهُمَا آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 52 ".
مروان بن معاویہ فزاری نے عثمان بن حکیم انصاری سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے سعید بن یسار نے بتایا کہ انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعتوں میں سے پہلی میں (قرآن مجید سے آیت) قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا (والاحصہ) پڑھتے جو سورہ بقرہ کی آیت ہے اور دوسری میں (آل عمران کی آیت) آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ (والاحصہ) پڑھتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1691]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا سورة البقرة آية 136، وَالَّتِي فِي آلِ عِمْرَانَ، تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ سورة آل عمران آية 64 ".
ابوخالد احمر نے عثمان بن حکیم سے، انہوں نے سعید بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعتوں میں (قرآن مجید میں سے) قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا (والاحصہ) اور جو سورہ آل عمران میں ہے تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ (والاحصہ) پڑھا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1692]
|
|
|
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ.
عیسیٰ بن یونس نے عثمان بن حکیم سے اسی سند کے ساتھ مروان فزاری کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1693]
|
|
|
15: باب فَضْلِ السُّنَنِ الرَّاتِبَةِ قَبْلَ الْفَرَائِضِ وَبَعْدَهُنَّ وَبَيَانِ عَدَدِهِنَّ:
باب: سنتوں کی فضیلت اور ان کی گنتی کا بیان فرضوں سے پہلے اور ان کے بعد۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَنْبَسَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ بِحَدِيثٍ يَتَسَارُّ إِلَيْهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ حَبِيبَةَ ، تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ صَلَّى اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، بُنِيَ لَهُ بِهِنَّ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ "، قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ عَنْبَسَةُ: فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، وَقَالَ عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ: مَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ عَنْبَسَةَ، وَقَالَ النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ: مَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ.
ابوخالد سلیمان بن حیان نے داود بن ابی سند سے حدیث بیان کی، انہوں نے نعمان بن سالم سے اور انہوں نے عمرو بن اوس سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عنبسہ بن ابی سفیان نے اپنے مرض الموت میں ایک ایسی حدیث سنائی جس سے انتہائی خوشی حاصل ہوتی ہے، کہا: میں نے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ کہتی تھیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے ایک دن اور ایک رات میں بارہ رکعات ادا کیں اس کے لیے ان کے بدلے جنت میں ایک گھر بنا دیا جاتا ہے۔“ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب سے میں نے ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، میں نے انہیں کبھی ترک نہیں کیا۔ عنبسہ نے کہا: جب سے میں نے ان کے بارے میں حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے سنا، میں نے انہیں کبھی ترک نہیں کیا۔ عمرو بن اوس نے کہا: جب سے میں نے ان کے بارے میں عنبسہ سے سنا، منیں نے انہیں کبھی ترک نہیں کیا۔ نعمان بن سالم نے کہا: جب سے میں نے عمرو بن اوس سے ان کے بارے میں سنا، میں نے انہیں کبھی ترک نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1694]
|
|
|
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَجْدَةً تَطَوُّعًا، بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ.
بشر بن مفضل نے کہا: ہمیں داود نے نعمان بن سالم سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی: ”جس نے ایک دن میں بارہ رکعات نوافل پڑھے اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1695]
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُصَلِّي لِلَّهِ كُلَّ يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعًا غَيْرَ فَرِيضَةٍ، إِلَّا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ أَوْ إِلَّا بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ "، قَالَتْ أَمُّ حَبِيبَةَ: فَمَا بَرِحْتُ، أُصَلِّيهِنَّ بَعْدُ؟ وقَالَ عَمْرٌو: مَا بَرِحْتُ أُصَلِّيهِنَّ بَعْدُ، وقَالَ النُّعْمَانُ مِثْلَ ذَلِكَ.
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے نعمان بن سالم سے حدیث سنائی، انہوں نے عمرو بن اوس سے، انہوں نے عنبسہ بن ابی سفیان سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”کوئی ایسا مسلمان بندہ نہیں جو ہر روز اللہ کے لیے فرائض کے علاوہ بارہ رکعات سنتیں ادا کرتا ہے مگر اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دیتا ہے یا اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دیا جاتا ہے۔“ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اب تک انہیں مسلسل ادا کرتی آ رہی ہوں۔ عمرو نے کہا: میں اب تک ان کو ہمیشہ ادا کرتا آ رہا ہوں۔ نعمان نے بھی اس کے مطابق کہا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1696]
|
|
|
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ : أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَنْبَسَةَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ، تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ صَلَّى لِلَّهِ كُلَّ يَوْمٍ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.
بہز نے شعبہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس بھی مسلمان بندے نے اہتمام کے ساتھ مکمل وضو کیا، پھر اللہ کی رضا کی خاطر ہر روز (نفل) نماز پڑھی...“ اور اسی کے مطابق روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1697]
|
|
|
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ . ح، وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَبْلَ الظُّهْرِ سَجْدَتَيْنِ، وَبَعْدَهَا سَجْدَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ سَجْدَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْعِشَاءِ سَجْدَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْجُمُعَةِ سَجْدَتَيْنِ، فَأَمَّا الْمَغْرِبُ، وَالْعِشَاءُ، وَالْجُمُعَةُ، فَصَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ ".
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعتیں اور مغرب کے بعد دو رکعتیں اور عشاء کے بعد دو رکعتیں اور جمعے کے بعد دو رکعتیں ادا کیں۔ جہاں تک مغرب، عشاء اور جمعے (کی سنتوں) کا تعلق ہے، وہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے گھر میں پڑھیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1698]
|
|
|
16: باب جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا:
باب: نوافل کا کھڑے بیٹھے یا ایک رکعت میں کچھ کھڑے اور کچھ بیٹھے جائز ہونا۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ تَطَوُّعِهِ، فَقَالَتْ: " كَانَ يُصَلِّي فِي بَيْتِي، قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ يَدْخُلُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَدْخُلُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَيُصَلِّي بِالنَّاسِ الْعِشَاءَ، وَيَدْخُلُ بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ، فِيهِنَّ الْوِتْرُ، وَكَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا، وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا، وَكَانَ إِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ، رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٌ، وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ".
خالد نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کے بارے میں سوال کیا؟ تو انہوں نے جواب دیا: آپ میرے گھر میں ظہر سے پہلے چار رکعت پڑھتے، پھر (گھر سے) نکلتے اور لوگوں کو نماز پڑھاتے، پھر گھر واپس آتے اور دو رکعتیں ادا فرماتے۔ اور آپ لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھاتے پھر گھر آتے اور دو رکعت نماز پڑھتے، اور لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھاتے اور میرے گھر آتے اور دو رکعتیں پڑھتے، اور رات میں نو رکعتیں پڑھتے جن میں وتر شامل ہوتی، اور طویل رات کھڑے ہو کر اور طویل رات بیٹھ کر نماز ادا کرتے اور جب کھڑے ہو کر قراءت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر قراءت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی بیٹھ کر کرتے اور جب فجر طلوع ہوتی تو دو رکعتیں پڑھتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1699]
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، وَأَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا ".
حماد نے بدیل اور ایوب سے روایت کی، انہوں نے عبداللہ بن شقیق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو لمبا وقت نماز پڑھتے رہتے، پس جب آپ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تو کھڑے کھڑے رکوع کرتے اور جب بیٹھ کر نماز پڑھتے تو بیٹھے ہوئے رکوع کرتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1700]
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: كُنْتُ شَاكِيًا بِفَارِسَ، فَكُنْتُ أُصَلِّي قَاعِدًا، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِك عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
شعبہ نے بدیل سے حدیث سنائی، انہوں نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں فارس (ایران) میں بیمار تھا، اس لیے بیٹھ کر نماز پڑھتا تھا۔ میں نے اس کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو لمبا وقت کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے۔ آگے (اسی طرح) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1701]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ: " كَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا، وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا، وَكَانَ إِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا، وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا.
حمید نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا: آپ رات کو لمبا وقت کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور رات کو لمبا وقت بیٹھ کر نماز پڑھتے اور جب آپ کھڑے ہو کر قراءت کرتے تو کھڑے کھڑے رکوع کرتے اور جب بیٹھ کر قراءت کرتے تو بیٹھے بیٹھے رکوع کرتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1702]
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ، قَالَ: سَأَلْنَا عَائِشَةَ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُكْثِرُ الصَّلَاةَ قَائِمًا، وَقَاعِدًا، فَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا، وَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا ".
محمد بن سیرین نے عبداللہ بن شقیق عقیلی سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم لوگوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ کثرت سے کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے۔ جب آپ کھڑے ہو کر نماز کا آغاز فرماتے تو کھڑے کھڑے رکوع کرتے اور جب آپ بیٹھے ہوئے نماز کا آغاز کرتے تو بیٹھے ہوئے رکوع کرتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1703]
|
|
|
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ . ح، قَالَ وحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ . ح، وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح، وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ. ح، وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ جَالِسًا، حَتَّى إِذَا كَبِرَ قَرَأَ جَالِسًا، حَتَّى إِذَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنَ السُّورَةِ ثَلَاثُونَ، أَوْ أَرْبَعُونَ آيَةً، قَامَ فَقَرَأَهُنَّ، ثُمَّ رَكَعَ ".
ہشام بن عروہ سے روایت ہے، کہا: مجھے میرے والد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے رات کی نماز کے کسی حصے میں بیٹھ کر قراءت کی ہو یہاں تک کہ جب آپ کی عمر زیادہ ہو گئی تو آپ بیٹھ کر قراءت کرتے اور جب سورت کی تیس یا چالیس آیتیں رہ جاتیں تو کھڑے ہو کر انہیں پڑھتے پھر رکوع کرتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1704]
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، " كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا، فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ قَدْرُ مَا يَكُونُ ثَلَاثِينَ، أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً، قَامَ فَقَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر (بھی) نماز پڑھتے تھے، آپ بیٹھے ہوئے قراءت فرماتے جب آپ کی قراءت سے اتنا حصہ بچ جاتا جتنی تیس یا چالیس آیتیں ہوتی ہیں تو آپ کھڑے ہو جاتے اور کھڑے ہو کر ان کی قراءت فرماتے پھر رکوع کرتے پھر سجدہ کرتے، پھر دوسری رکعت میں ایسا ہی کرتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1705]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يَقْرَأُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، قَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ إِنْسَانٌ أَرْبَعِينَ آيَةً ".
عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے قراءت فرماتے، پس جب رکوع کرنا چاہتے تو اتنی دیر کے لیے کھڑے ہو جاتے جتنی دیر میں ایک انسان چالیس آیتیں پڑھ لیتا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1706]
|
|
|
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ : " كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ؟ قَالَتْ: " كَانَ يَقْرَأُ فِيهِمَا، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، قَامَ فَرَكَعَ ".
علقمہ بن وقاص سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے تو کیا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: آپ ان میں قراءت کرتے رہتے، جب رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تو کھڑے ہو جاتے پھر رکوع کرتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1707]
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ " هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ قَاعِدٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، بَعْدَ مَا حَطَمَهُ النَّاسُ ".
سعید بن جریری نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھ لیتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، جب لوگوں (کے معاملات کی دیکھ بھال اور فکرمندی) نے آپ کو بوڑھا کر دیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1708]
|
|
|
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ : فَذَكَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
کہمس نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا۔ آگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1709]
|
|
|
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " لَمْ يَمُتْ حَتَّى كَانَ كَثِيرٌ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ کی نماز کا بہت سا حصہ بیٹھے ہوئے ہوتا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1710]
|
|
|
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ كلاهما، عَنْ زَيْدٍ ، قَالَ حَسَنٌ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " لَمَّا بَدَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَقُلَ، كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ جَالِسًا ".
عبداللہ بن عروہ کے والد عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن ذرا بڑھ گیا اور آپ بھاری ہو گئے تو آپ کی نماز کا زیادہ تر حصہ بیٹھے ہوئے (ادا) ہوتا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1711]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ ، عَنْ حَفْصَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا، حَتَّى كَانَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِعَامٍ، فَكَانَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا، وَكَانَ يَقْرَأُ بِالسُّورَةِ فَيُرَتِّلُهَا حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا ".
امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب سے، انہوں نے سائب بن یزید سے، انہوں نے مطلب بن ابی وداعہ سہمی سے اور انہوں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نفل نماز بیٹھ کر کبھی نہ پڑھتے دیکھا تھا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ایک سال پہلے کا زمانہ ہوا تو آپ نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے لگے۔ آپ سورت کی قراءت کرتے تو اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے حتیٰ کہ وہ طویل ترین سورت سے بھی لمبی ہو جاتی۔ (یعنی بیٹھ کر لیکن اور بھی زیادہ لمبی نماز پڑھتے) [صحيح مسلم/حدیث: 1712]
|
|
|
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح، وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌجَمِيعًا، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُمَا قَالَا: بِعَامٍ وَاحِدٍ، أَوِ اثْنَيْنِ.
یونس اور معمر دونوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اس کے مانند روایت کی، البتہ ان دونوں (یونس اور معمر) نے ایک یا دو سال کہا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1713]
|
|
|
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " لَمْ يَمُتْ حَتَّى صَلَّى قَاعِدًا ".
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات نہ ہوئی یہاں تک کہ آپ (رات کو) بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1714]
|
|
|
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: حُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلَاةِ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي جَالِسًا، فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى رَأْسِهِ، فَقَالَ: مَا لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو؟ قُلْتُ: حُدِّثْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، " أَنَّكَ قُلْتَ صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا عَلَى نِصْفِ الصَّلَاةِ، وَأَنْتَ تُصَلِّي قَاعِدًا، قَالَ: أَجَلْ، وَلَكِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ ".
جریر نے مجھے حدیث سنائی، انہوں نے منصور سے، انہوں نے ہلال بن یساف سے، انہوں نے ابویحییٰ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹھ کر آدمی کی نماز (اجر میں) آدھی نماز ہے۔“ انہوں نے کہا: ایک بار میں آپ کے پاس آیا اور میں نے آپ کو بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے پایا تو میں نے اپنا ہاتھ آپ کے سر مبارک پر رکھا۔ آپ نے پوچھا: ”اے عبداللہ بن عمرو! تمہیں کیا ہوا؟“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے بتایا گیا کہ آپ نے فرمایا ہے: ”بیٹھ کر آدمی کی نماز آدھی نماز کے برابر ہے۔“ جبکہ آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”ہاں، ایسا ہی ہے، لیکن میں تم میں سے کسی ایک طرح کا نہیں ہوں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1715]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح، وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الأَعْرَجِ.
شعبہ اور سفیان دونوں نے منصور سے اسی سابقہ سند کے ساتھ حدیث بیان کی، البتہ شعبہ کی روایت میں ہے: ”ابویحییٰ الاعرج سے روایت ہے“ (انہوں نے ابویحییٰ کے ساتھ ان کے لقب الاعرج کا بھی ذکر کیا ہے) [صحيح مسلم/حدیث: 1716]
|
|
|
17: باب صَلاَةِ اللَّيْلِ وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلاَةٌ صَحِيحَةٌ:
باب: نماز شب اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قیام اللیل میں رکعتوں کی تعداد، وتر کے ایک ہونے کا بیان اور اس بات کا بیان کہ ایک رکعت صحیح نماز ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْهَا، اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ، حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ، فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ".
مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ سے، اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعت پڑھتے تھے، ان میں سے ایک کے ذریعے وتر ادا فرماتے، جب آپ اس (ایک رکعت) سے فارغ ہو جاتے تو آپ اپنے دائیں پہلو کے بل لیٹ جاتے یہاں تک کہ آپ کے پاس موذن آ جاتا تو آپ دو (نسبتاً) ہلکی رکعتیں پڑھتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1717]
|
|
|
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ، وَهِيَ الَّتِي يَدْعُو النَّاسُ الْعَتَمَةَ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُسَلِّمُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ وَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ، قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ، حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ لِلإِقَامَةِ ".
عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز سے، جس کو لوگ عتمہ کہتے ہیں، فراغت کے بعد سے فجر تک گیارہ رکعت پڑھتے تھے۔ ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے اور وتر ایک رکعت پڑھتے۔ جب موذن صبح کی نماز کی اذان کہہ کر خاموش ہو جاتا، آپ کے سامنے صبح واضح ہو جاتی۔ اور موذن آپ کے پاس آ جاتا تو آپ اٹھ کر دو ہلکی رکعتیں پڑھتے پھر اپنے دائیں پہلو کے بل لیٹ جاتے حتیٰ کہ موذن آپ کے پاس اقامت (کی اطلاع دینے) کے لیے آ جاتا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1718]
|
|
|
وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَسَاقَ حَرْمَلَةُ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ، وَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ، وَلَمْ يَذْكُرْ: الإِقَامَةَ، وَسَائِرُ الْحَدِيثِ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَمْرٍ وَسَوَاءً.
حرملہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی (کہا) ہمیں ابن وہب نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے یونس نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ خبر دی۔ اگر حرملہ نے سابقہ حدیث کی مانند حدیث بیان کی، البتہ اس میں ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صبح کے روشن ہو جانے اور موذن آپ کے پاس آتا“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے اور ”اقامت“ کا ذکر کیا۔ باقی حدیث بالکل عمرو کی حدیث کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1719]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح، وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُوتِرُ مِنْ ذَلِكَ بِخَمْسٍ، لَا يَجْلِسُ فِي شَيْءٍ إِلَّا فِي آخِرِهَا ".
عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی اور کہا: ہمیں اپنے ہشام نے اپنے والد (عروہ) سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، ان میں سے پانچ رکعتوں کے ذریعے وتر (ادا) کرتے تھے، ان میں آخری رکعت کے علاوہ کسی میں بھی تشہد کے لیے نہ بیٹھتے تھے۔ (بعض راتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول ہوتا) [صحيح مسلم/حدیث: 1720]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح، وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.
عبدہ بن سلیمان، وکیع اور ابواسامہ سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ (یہ) روایت بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1721]
|
|
|
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ".
عروہ بن مالک نے عروہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعتوں سمیت تیرہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1722]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ ، كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ؟ قَالَتْ: " مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ، وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُصَلِّي أَرْبَعًا، فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا، فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا "، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ؟ فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ، إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ، وَلَا يَنَامُ قَلْبِي.
سعید بن ابی سعید مقبری نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسے ہوتی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور اس کے علاوہ (دوسرے مہینوں) میں (رات کو) گیارہ رکعتوں سے زائد نہیں پڑھتے تھے، چار رکعتیں پڑھتے، ان کی خوبصورتی اور ان کی طوالت کے بارے میں مت پوچھو، پھر چار رکعتیں پڑھتے، ان کے حسن اور طوالت کے بارے میں نہ پوچھو، پھر تین رکعتیں پڑھتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ”اے عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا۔“ (وہ بدستور اللہ کے ذکر میں مشغول رہتا ہے) [صحيح مسلم/حدیث: 1723]
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " كَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُصَلِّي ثَمَانَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ يُوتِرُ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالإِقَامَةِ مِنَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ".
ہشام نے یحییٰ سے اور انہوں نے ابوسلمہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: آپ تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، آٹھ رکعتیں پڑھتے پھر (ایک رکعت سے) وتر ادا فرماتے، پھر بیٹھے ہوئے دو رکعتیں پڑھتے، پھر جب رکوع کرنا چاہتے تو اٹھ کھڑے ہوتے اور رکوع کرتے، پھر صبح کی نماز کی اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے۔ (کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تہجد اور وتر کی ترتیب یہ بن جاتی تھی) [صحيح مسلم/حدیث: 1724]
|
|
|
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ . ح، وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمَا: تِسْعَ رَكَعَاتِ قَائِمًا، يُوتِرُ مِنْهُنَّ.
شیبان اور معاویہ بن سلام نے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے ابوسلمہ نے بتایا کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا۔ آگے سابقہ حدیث کی طرح ہے، البتہ ان دونوں کی روایت میں ہے: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر نو رکعتیں پڑھتے تھے، وتر انہی میں ادا کرتے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1725]
|
|
|
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ: أَيْ أُمّهْ أَخْبِرِينِي، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " كَانَتْ صَلَاتُهُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ، ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِاللَّيْلِ، مِنْهَا رَكْعَتَا الْفَجْرِ ".
عبداللہ بن ابی لبید سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوسلمہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اے میری ماں! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بتائیے۔ تو انہوں نے کہا: رمضان اور غیر رمضان میں رات کے وقت آپ کی نماز تیرہ رکعتیں تھیں، ان میں فجر کی (سنت) دو رکعتیں بھی شامل تھیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1726]
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ " كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ عَشَرَ رَكَعَاتٍ، وَيُوتِرُ بِسَجْدَةٍ، وَيَرْكَعُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَتْلِكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ".
قاسم بن محمد سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، فرما رہی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز دس رکعتیں تھیں اور آپ ایک رکعت وتر ادا کرتے، پھر فجر کی (سنتیں) دو رکعت پڑھتے۔ اس طرح یہ تیرہ رکعتیں ہوئیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1727]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، قَالَ: سَأَلْتُ الأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ عَمَّا حَدَّثَتْهُ عَائِشَةُ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتِ: " كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِ آخِرَهُ، ثُمَّ إِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى أَهْلِهِ، قَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ يَنَامُ، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ النِّدَاءِ الأَوَّلِ، قَالَتِ: وَثَبَ، وَلَا وَاللَّهِ مَا قَالَتِ، قَامَ فَأَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ، وَلَا وَاللَّهِ مَا قَالَتِ، اغْتَسَلَ وَأَنَا أَعْلَمُ مَا تُرِيدُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ جُنُبًا، تَوَضَّأَ وُضُوءَ الرَّجُلِ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ ".
ابوخثیمہ (زہیر بن معاویہ) نے ابواسحاق سے خبر دی، کہا: میں نے اسود بن یزید سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا جو ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بیان کی تھی۔ انہوں (عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پہلے حصے میں سو جاتے اور آخری حصے کو زندہ کرتے (اللہ کے سامنے قیام فرماتے ہوئے جاگتے) پھر اگر اپنے گھر والوں سے کوئی ضرورت ہوتی تو اپنی ضرورت پوری کرتے اور سو جاتے، پھر جب پہلی اذان کا وقت ہوتا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ اچھل کر کھڑے ہو جاتے (راوی نے کہا:) اللہ کی قسم! عائشہ رضی اللہ عنہا نے وثب کہا، قام (کھڑے ہوتے) نہیں کہا۔ پھر اپنے اوپر پانی بہاتے، اللہ کی قسم! انہوں نے اغتسل (نہاتے) نہیں کہا: ”اپنے اوپر پانی بہاتے“ میں جانتا ہوں ان کی مراد کیا تھی۔ (یعنی زیادہ مقدار میں پانی بہاتے) اور اگر آپ جنبی نہ ہوتے تو جس طرح آدمی نماز کے لیے وضو کرتا ہے، اسی طرح وضو فرماتے، پھر دو رکعتیں (سنت فجر) ادا فرماتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1728]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الأَسْوَدِ ، عَنِ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، حَتَّى يَكُونَ آخِرَ صَلَاتِهِ الْوِتْرُ ".
عمار بن زریق نے ابواسحاق سے، انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے حتیٰ کہ ان کی نماز کا آخری حصہ وتر ہوتا۔ (اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہی تھا) [صحيح مسلم/حدیث: 1729]
|
|
|
حَدَّثَنِي هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، عَنْ عَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كَانَ يُحِبُّ الدَّائِمَ، قَالَ: قُلْتُ: أَيَّ حِينٍ كَانَ يُصَلِّي؟ فَقَالَتْ: " كَانَ إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ، قَامَ فَصَلَّى ".
مسروق نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ کو ہمیشہ کیا جانے والا عمل پسند تھا۔ میں نے کہا: آپ کس وقت نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: جب آپ مرغ کی آواز سنتے تو کھڑے ہو جاتے اور نماز پڑھتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1730]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا أَلْفَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّحَرُ الأَعْلَى فِي بَيْتِي أَوْ عِنْدِي، إِلَّا نَائِمًا ".
ابوسلمہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: سحر کے آخری حصے (جب طلوع فجر سے بالکل پہلے سحر اپنی انتہا پر ہوتی ہے) نے میرے گھر میں یا میرے پاس، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سوئے ہوئے ہی پایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1731]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي وَإِلَّا اضْطَجَعَ ".
ابونضر نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی سنتیں پڑھ لیتے تو اگر میں جاگتی ہوتی تو میرے ساتھ گفتگو فرماتے، ورنہ لیٹ جاتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1732]
|
|
|
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَتَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ابن ابی عتاب نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1733]
|
|
|
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُصَلِّي منَ اللَّيْلِ، فَإِذَا أَوْتَرَ، قَالَ: قُومِي فَأَوْتِرِي يَا عَائِشَةُ ".
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے رہتے، جب وتر پڑھنے لگتے تو فرماتے: ”اے عائشہ! اٹھو اور وتر پڑھ لو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1734]
|
|
|
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يُصَلِّي صَلَاتَهُ بِاللَّيْلِ، وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِذَا بَقِيَ الْوِتْرُ، أَيْقَظَهَا فَأَوْتَرَتْ ".
قاسم بن محمد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اپنی نماز پڑھتے اور وہ (عائشہ رضی اللہ عنہا) آپ کے سامنے لیٹی ہوتی تھیں، جب آپ کے وتر باقی رہ جاتے تو آپ انہیں جگا دیتے اور وہ وتر پڑھ لیتیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1735]
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ وَاسْمُهُ وَاقِدٌ وَلَقَبُهُ وَقْدَانُ . ح، وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ كِلَاهُمَا ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ ".
مسلم (بن صبیح) نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں وتر (یا رات) کی نماز پڑھی، (لیکن عموماً) آپ کے وتر سحری کے وقت تک پہنچتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1736]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَأَوْسَطِهِ، وَآخِرِهِ، فَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ ".
یحییٰ بن وثاب نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں وتر (رات) کی نماز پڑھی، رات کے ابتدائی حصے میں بھی، درمیان میں بھی اور آخر میں بھی، آپ کے وتر (کے اوقات) سحری تک جاتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1737]
|
|
|
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ قَاضِي كِرْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُلَّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى آخِرِ اللَّيْلِ ".
ابوضحیٰ نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھے ہیں، (لیکن عموماً) آپ کے وتر رات کے آخری حصے تک چلتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1738]
|
|
|
18: باب جَامِعِ صَلاَةِ اللَّيْلِ وَمَنْ نَامَ عَنْهُ أَوْ مَرِضَ:
باب: رات کی نماز کے احکام اور جس سے سونے یا بیمار ہونے کی وجہ سے رہ جائے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ أَرَادَ أَنْ يَغْزُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَأَرَادَ أَنْ يَبِيعَ عَقَارًا لَهُ بِهَا، فَيَجْعَلَهُ فِي السِّلَاحِ وَالْكُرَاعِ، وَيُجَاهِدَ الرُّومَ حَتَّى يَمُوتَ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ، لَقِيَ أُنَاسًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فَنَهَوْهُ عَنْ ذَلِكَ، وَأَخْبَرُوهُ أَنَّ رَهْطًا سِتَّةً أَرَادُوا ذَلِكَ فِي حَيَاةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَاهُمْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" أَلَيْسَ لَكُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ، فَلَمَّا حَدَّثُوهُ بِذَلِكَ، رَاجَعَ امْرَأَتَهُ وَقَدْ كَانَ طَلَّقَهَا وَأَشْهَدَ عَلَى رَجْعَتِهَا، فَأَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ، فَسَأَلَهُ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَعْلَمِ أَهْلِ الأَرْضِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: مَنْ؟ قَالَ: عَائِشَةُ، فَأْتِهَا فَاسْأَلْهَا، ثُمَّ ائْتِنِي فَأَخْبِرْنِي بِرَدِّهَا عَلَيْكَ، فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهَا، فَأَتَيْتُ عَلَى حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ، فَاسْتَلْحَقْتُهُ إِلَيْهَا، فَقَالَ: مَا أَنَا بِقَارِبِهَا، لِأَنِّي نَهَيْتُهَا أَنْ تَقُولَ فِي هَاتَيْنِ الشِّيعَتَيْنِ شَيْئًا، فَأَبَتْ فِيهِمَا إِلَّا مُضِيًّا، قَالَ: فَأَقْسَمْتُ عَلَيْهِ، فَجَاءَ فَانْطَلَقْنَا إِلَى عَائِشَةَ فَاسْتَأْذَنَّا عَلَيْهَا، فَأَذِنَتْ لَنَا فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: أَحَكِيمٌ، فَعَرَفَتْهُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَتْ: مَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَتْ: مَنْ هِشَامٌ؟ قَالَ: ابْنُ عَامِرٍ، فَتَرَحَّمَتْ عَلَيْهِ، وَقَالَتْ: خَيْرًا، قَالَ قَتَادَةُ وَكَانَ أُصِيبَ يَوْمَ أُحُدٍ: فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ الْقُرْآنَ، قَالَ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ وَلَا أَسْأَلَ أَحَدًا عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أَمُوتَ، ثُمَّ بَدَا لِي، فَقُلْتُ: أَنْبِئِينِي عَنْ قِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ يَأَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ سورة المزمل آية 1؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، افْتَرَضَ قِيَامَ اللَّيْلِ فِي أَوَّلِ هَذِهِ السُّورَةِ، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصْحَابُهُ حَوْلًا، وَأَمْسَكَ اللَّهُ خَاتِمَتَهَا اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا فِي السَّمَاءِ، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ فِي آخِرِ هَذِهِ السُّورَةِ التَّخْفِيفَ، فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ فَرِيضَةٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْبِئِينِي عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" كُنَّا نُعِدُّ لَهُ، سِوَاكَهُ، وَطَهُورَهُ، فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ مَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَيَتَسَوَّكُ، وَيَتَوَضَّأُ، وَيُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ، لَا يَجْلِسُ فِيهَا إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ، فَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ ثُمَّ يَنْهَضُ، وَلَا يُسَلِّمُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي التَّاسِعَةَ، ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يَا بُنَيَّ، فَلَمَّا أَسَنَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمَ، أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَنَعَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِثْلَ صَنِيعِهِ الأَوَّلِ، فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ، وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا، وَكَانَ إِذَا غَلَبَهُ نَوْمٌ أَوْ وَجَعٌ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ، صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً، وَلَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ، وَلَا صَلَّى لَيْلَةً إِلَى الصُّبْحِ، وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِهَا، فَقَالَ: صَدَقَتْ لَوْ كُنْتُ أَقْرَبُهَا أَوْ أَدْخُلُ عَلَيْهَا لَأَتَيْتُهَا حَتَّى تُشَافِهَنِي بِهِ، قَالَ: قُلْتُ: لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهَا مَا حَدَّثْتُكَ حَدِيثَهَا.
ابن ابی عدی نے سعید (ابن ابی عروبہ) سے، انہوں نے قتادہ سے اور انہوں نے زرارہ سے روایت کی کہ (حضرت انس رضی اللہ عنہ کے قریبی عزیز) سعد بن ہشام بن عامر نے ارادہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جنگ (جہاد) کریں، وہ مدینہ منورہ آگئے اور وہاں اپنی ایک جائیداد فروخت کرنا چاہی تاکہ اس سے ہتھیار اور گھوڑے مہیا کریں اور موت آنے تک رومیوں کے خلاف جہاد کریں، چنانچہ جب مدینہ آئے تو اہل مدینہ میں سے کچھ لوگوں سے ملے، انہوں نے اس کو اس ارادے سے روکا اور ان کو بتایا کہ چھ افراد کے ایک گروہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ایسا کرنے کا ارادہ کیا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک دیا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”کیا میرے طرز عمل میں تمہارے لیے نمونہ نہیں ہیں؟“ چنانچہ جب ان لوگوں نے انہیں یہ بات بتائی تو انہوں نے اپنی بیوی سے رجوع کر لیا جبکہ وہ اسے طلاق دے چکے تھے، اور اس سے رجوع کے لیے گواہ بنائے۔ پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر (بشمول قیام اللیل) کے بارے میں سوال کیا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا میں تمہیں اس ہستی سے آگاہ نہ کروں جو روئے زمین کے تمام لوگوں کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کو زیادہ جاننے والی ہے؟ سعد نے کہا: وہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، ان کے پاس جاؤ اور پوچھو، پھر (دوبارہ) میرے پاس آنا اور ان کا جواب مجھے بھی آ کر بتانا۔ (سعد نے کہا:) میں ان کی طرف چل پڑا اور (پہلے) حکیم بن افلح کے پاس آیا اور انہیں اپنے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلنے کو کہا تو انہوں نے کہا: میں ان کے پاس نہیں جاؤں گا کیونکہ میں نے انہیں (آپس میں لڑنے والی) ان دو جماعتوں کے بارے میں کچھ بھی کہنے سے روکا تھا۔ تو وہ ان دونوں کے بارے میں اسی طریقے پر چلتے رہنے کے سوا اور کچھ نہ مانیں۔ (سعد نے) کہا: تو میں نے انہیں قسم دی تو وہ آگئے، پس ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف چل پڑے، اور ان سے حاضری کی اجازت طلب کی، انہوں نے اجازت مرحمت فرما دی اور ہم ان کے گھر (دروازے) میں داخل ہوئے، انہوں نے کہا: کیا حکیم ہو؟ انہوں نے اسے پہچان لیا، اس نے کہا: جی ہاں۔ تو انہوں نے کہا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: سعد بن ہشام۔ انہوں نے پوچھا: ہشام کون؟ اس نے کہا: عامر رضی اللہ عنہ (بن امیہ انصاری) کے بیٹے۔ تو انہوں نے ان کے لیے رحمت کی دعا کی اور کلمات خیر کہے۔ قتادہ نے کہا: وہ (عامر رضی اللہ عنہ) غزوہ احد میں شہید ہو گئے تھے۔ میں نے کہا: ام المؤمنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق مبارک کے بارے میں بتائیے۔ انہوں نے کہا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے عرض کی: کیوں نہیں! انہوں نے کہا: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن ہی تھا (آپ کی سیرت و کردار قرآن کا عملی نمونہ تھی) کہا: اس پر میں نے یہ چاہا کہ اٹھ (کر چلا) جاؤں اور موت تک کسی سے کچھ نہ پوچھوں، پھر اچانک ذہن میں آیا تو میں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (رات کے) قیام کے بارے میں بتائیں، تو انہوں نے کہا: کیا تم يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ نہیں پڑھتے؟ میں نے عرض کی: کیوں نہیں! انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آغاز میں رات کا قیام فرض قرار دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں نے سال بھر قیام کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی آخری آیات بارہ ماہ تک آسمان پر روکے رکھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخر میں تخفیف کا حکم نازل فرمایا تو رات کا قیام فرض ہونے کے بعد نفل (میں تبدیل) ہو گیا۔ سعد نے کہا: میں نے عرض کی: اے ام المؤمنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں بتائیے۔ تو انہوں نے کہا: ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آپ کی مسواک اور آپ کے وضو کا پانی تیار کر کے رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ رات کو جب چاہتا، آپ کو بیدار کر دیتا تو آپ مسواک کرتے، وضو کرتے اور پھر نو رکعتیں پڑھتے، ان میں آپ آٹھویں کے علاوہ کسی رکعت میں نہ بیٹھتے، پھر اللہ کا ذکر کرتے، اس کی حمد بیان کرتے اور دعا فرماتے، پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہو جاتے، پھر کھڑے ہو کر نویں رکعت پڑھتے، پھر بیٹھتے، اللہ کا ذکر اور حمد کرتے اور اس سے دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے جو ہمیں سناتے، پھر سلام کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے، تو میرے بیٹے! یہ گیارہ رکعتیں ہو گئیں۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک بڑھی اور (جسم پر کسی حد تک) گوشت چڑھ گیا (جسم مبارک بھاری ہو گیا) تو آپ سات وتر پڑھنے لگ گئے اور دو رکعتوں میں وہی کرتے جو پہلے کرتے تھے (بیٹھ کر پڑھتے) تو بیٹا! یہ نو رکعتیں ہو گئیں اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو آپ پسند کرتے کہ اس پر قائم رہیں اور جب نیند یا بیماری غالب آ جاتی اور رات کا قیام نہ کر سکتے تو آپ دن کو بارہ رکعتیں پڑھ لیتے۔ میں نہیں جانتی کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پورا قرآن ایک رات میں پڑھا ہو اور نہ ہی آپ نے کسی رات صبح تک نماز پڑھی اور نہ رمضان کے سوا کبھی پورے مہینے کے روزے رکھے۔ (سعد نے) کہا: پھر میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف گیا اور انہیں ان (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) کی حدیث سنائی تو انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے سچ کہا، اگر میں ان کے قریب ہوتا یا ان کے گھر جاتا ہوتا تو ان کے پاس جاتا تاکہ وہ مجھے یہ حدیث روبرو سناتیں۔ (سعد نے) کہا: میں نے کہا: اگر مجھے علم ہوتا کہ آپ ان کے ہاں حاضر نہیں ہوتے تو میں آپ کو ان کی حدیث نہ سناتا (یہ سعد بالآخر سرزمین ہند میں شہید ہوئے) [صحيح مسلم/حدیث: 1739]
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى الْمَدِينَةِ لِيَبِيعَ عَقَارَهُ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
معاذ بن ہشام نے قتادہ سے، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے اور انہوں نے سعد بن ہشام سے روایت کی کہ انہوں نے بیوی کو طلاق دے دی، پھر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تاکہ اپنی جائیداد فروخت کریں۔ آگے (اسی سابقہ حدیث کی) طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1740]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنَّهُ قَالَ: انْطَلَقْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْوِتْرِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ، وَقَالَ فِيهِ: قَالَتْ: مَنْ هِشَامٌ؟ قُلْتُ: ابْنُ عَامِرٍ، قَالَتْ: نِعْمَ، الْمَرْءُ كَانَ عَامِرٌ، أُصِيبَ يَوْمَ أُحُدٍ.
محمد بن بشر نے کہا: ہمیں سعید بن ابی عروبہ نے حدیث سنائی، کہا: ہم سے قتادہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے اور انہوں نے سعد بن ہشام سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور ان سے وتر کے بارے میں سوال کیا۔ (اس کے بعد) انہوں نے اپنے پورے قصے سمیت حدیث بیان کی اور اس میں کہا: انہوں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا: کون ہشام؟ میں نے عرض کی: عامر رضی اللہ عنہ کے بیٹے۔ انہوں نے کہا: عامر بہت اچھے انسان تھے، احد کے دن شہید ہوئے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1741]
|
|
|
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ كِلَاهُمَا، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامٍ كَانَ جَارًا لَهُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ سَعِيدٍ، وَفِيهِ قَالَتْ: مَنْ هِشَامٌ؟ قَالَ: ابْنُ عَامِرٍ، قَالَتْ: نِعْمَ، الْمَرْءُ كَانَ أُصِيبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَفِيهِ فَقَالَ حَكِيمُ بْنُ أَفْلَحَ: أَمَا إِنِّي لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهَا، مَا أَنْبَأْتُكَ بِحَدِيثِهَا.
معمر نے قتادہ سے اور انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے روایت کی کہ سعد بن ہشام ان کے پڑوسی تھے، انہوں نے ان کو بتایا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ آگے سعید (بن ابی عروبہ) کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ اس میں ہے، (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: کون ہشام؟ عرض کی: عامر رضی اللہ عنہ کے بیٹے۔ انہوں نے کہا: وہ اچھے انسان تھے، غزوہ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (لڑتے ہوئے) تھے، شہید ہوئے، نیز اس (روایت) میں ہے کہ (سعد کے بجائے) حکیم بن افلح نے کہا: اگر میں جانتا کہ آپ ان کے پاس حاضر نہیں ہوتے تو میں آپ کو ان کی حدیث نہ بتاتا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1742]
|
|
|
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جميعا، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، قَالَ سَعِيدٌ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ إِذَا فَاتَتْهُ الصَّلَاةُ مِنَ اللَّيْلِ مِنْ وَجَعٍ أَوْ غَيْرِهِ، صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً ".
ابوعوانہ نے قتادہ سے، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے، انہوں نے سعد بن ہشام سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آپ کی رات کی نماز بیماری یا کسی اور وجہ سے رہ جاتی تو دن کو بارہ رکعتیں پڑھ لیتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1743]
|
|
|
وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِذَا عَمِلَ عَمَلًا أَثْبَتَهُ، وَكَانَ إِذَا نَامَ مِنَ اللَّيْلِ أَوْ مَرِضَ، صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً "، قَالَتْ: وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَاحِ، وَمَا صَامَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا، إِلَّا رَمَضَانَ.
شعبہ نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی کام کرتے تو اس کو برقرار رکھتے اور جب آپ رات سوتے رہ جاتے یا بیمار ہو جاتے تو آپ دن کو بارہ رکعتیں پڑھ لیتے۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (کبھی) نہیں دیکھا کہ آپ نے ساری رات صبح تک نماز پڑھی ہو اور نہ (کبھی) آپ نے رمضان کے سوا مسلسل مہینے بھر کے روزے رکھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1744]
|
|
|
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ . ح، وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أخبراه، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ، فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ، كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ ".
عبدالرحمان بن عبدالقاری سے روایت ہے، کہا: میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا حزب (قرآن کا 1/7 حصہ جو عموماً ایک رات میں تہجد کے دوران پڑھا جاتا تھا) یا اس کا کچھ حصہ سوتے رہ جانے کی وجہ سے رہ گیا اور اس نے اسے نماز فجر اور نماز ظہر کے درمیان پڑھ لیا تو اس کے حق میں یہ لکھا جائے گا، جیسے اس نے رات ہی کو اسے پڑھا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1745]
|
|
|
19: باب صَلاَةُ الأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ:
باب: اوابین (چاشت) کی نماز کا وقت وہ ہے جب اونٹ کے بچوں کے پاؤں تپش محسوس کریں۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، رَأَى قَوْمًا يُصَلُّونَ مِنَ الضُّحَى، فَقَالَ: أَمَا لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ الصَّلَاةَ فِي غَيْرِ هَذِهِ السَّاعَةِ أَفْضَلُ، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَلَاةُ الأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ ".
ایوب نے قاسم شیبانی سے روایت کی کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو چاشت کے وقت نماز پڑھتے دیکھا تو کہا: ہاں، یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ نماز اس وقت کی بجائے ایک اور وقت میں پڑھنا افضل ہے۔ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” أَوَّابِينَ (اطاعت گزار، توبہ کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والے لوگوں) کی نماز اس وقت ہوتی ہے، جب (گرمی سے) اونٹ کے دودھ چھڑائے جانے والے بچوں کے پاؤں جلنے لگتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1746]
|
|
|
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ قُبَاءَ وَهُمْ يُصَلُّونَ، فَقَالَ: " صَلَاةُ الأَوَّابِينَ إِذَا رَمِضَتِ الْفِصَالُ ".
ہشام بن ابی عبداللہ نے کہا: ہمیں قاسم شیبانی نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل قباء کے پاس تشریف لائے، وہ لوگ (اس وقت) نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے فرمایا: ” أَوَّابِينَ کی نماز اونٹ کے دودھ چھڑائے جانے والے بچوں کے پاؤں جلنے کے وقت (پر ہوتی) ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1747]
|
|
|
20: باب صَلاَةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ:
باب: رات کی نماز دو دو رکعت ہیں اور وتر ایک رکعت ہے رات کے آخری حصہ میں۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَةً، تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى ".
نافع اور عبداللہ بن دینار نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعتیں ہیں، جب تم میں سے کسی کو صبح ہونے کا اندیشہ ہو تو وہ ایک رکعت پڑھ لے، یہ اس کی پڑھی ہوئی (تمام) نماز کو وتر (طاق) بنا دے گی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1748]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ح. وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ . ح وحَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ: " مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِرَكْعَةٍ ".
سفیان نے زہری سے، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو دو رکعتیں۔ اور جب تمہیں صبح ہونے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت وتر پڑھ لو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1749]
|
|
|
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَحُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ حَدَّثَاهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ قَالَ: قَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ ".
عمرو نے کہا: ابن شہاب نے اس سے بیان کیا کہ اسے سالم بن عبداللہ بن عمر اور حمید بن عبدالرحمان بن عوف دونوں نے عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے کہا: ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! رات کی نماز کیسے ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور جب تمہیں صبح ہونے کا خطرہ ہو تو ایک ایک رکعت (پڑھ کر انہیں) وتر کر لو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1750]
|
|
|
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، وَبُدَيْلٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّائِلِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ؟ قَالَ: " مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَصَلِّ رَكْعَةً، وَاجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِكَ وِتْرًا "، ثُمَّ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ، وَأَنَا بِذَلِكَ الْمَكَانِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا أَدْرِي هُوَ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَوْ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ.
ابوربیع زہرانی نے کہا: ہمیں حماد نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں ایوب اور بدیل نے عبداللہ بن شقیق سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، اور میں آپ اور پوچھنے والے کے درمیان میں تھا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! رات کی نماز کیسے ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو دو رکعتیں، پھر جب تمہیں صبح ہونے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو اور وتر کو اپنی نماز کا آخری حصہ بناؤ۔“ پھر سال کے بعد ایک آدمی نے آپ سے پوچھا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب اسی جگہ (درمیان میں) تھا اور مجھے معلوم نہیں کہ وہ پہلے والا آدمی تھا یا کوئی اور، اسے بھی آپ نے اسی طرح جواب دیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1751]
|
|
|
وحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، وَبُدَيْلٌ ، وَعِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَا بِمِثْلِهِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا: ثُمَّ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ وَمَا بَعْدَهُ.
ابوکامل نے کہا: ہمیں حماد نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں ایوب، بدیل اور عمران بن حدیر نے عبداللہ بن شقیق سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، نیز (دوسری سند سے) محمد بن عبید غبری نے کہا: ہمیں حماد نے حدیث سنائی، کہا: ہم سے ایوب اور زبیر بن خریت نے عبداللہ بن شقیق سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔ پھر دونوں (ابوکامل اور محمد بن عبید) نے اوپر والی روایت بیان کی مگر ان دونوں کی روایت میں "ایک آدمی نے آپ سے ایک سال گزرنے کے بعد پوچھا" اور اس کے بعد کا حصہ مروی نہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1752]
|
|
|
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا ، عَنِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ هَارُونُ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، أَخْبَرَنِي عَاصِمٌ الأَحْوَلُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بَادِرُوا الصُّبْحَ بِالْوِتْرِ ".
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وتر پڑھنے میں صبح سے سبقت کرو۔“ (صبح ہونے سے پہلے پہلے وتر پڑھ لو۔) [صحيح مسلم/حدیث: 1753]
|
|
|
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ: " مَنْ صَلَّى مِنَ اللَّيْلِ، فَلْيَجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِهِ وِتْرًا، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَأْمُرُ بِذَلِكَ ".
لیث نے نافع سے روایت کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جو شخص رات کو نماز پڑھے، وہ وتر کو اپنی نماز کا آخری حصہ بنائے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کا حکم دیتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1754]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى كُلُّهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْرًا ".
عبیداللہ نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”رات کے وقت وتر کو اپنی نماز کا آخری حصہ بناؤ۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1755]
|
|
|
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ: " مَنْ صَلَّى مِنَ اللَّيْلِ، فَلْيَجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِهِ وِتْرًا قَبْلَ الصُّبْحِ، كَذَلِكَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُهُمْ ".
ابن جریج نے کہا: مجھے نافع نے بتایا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے: جو شخص رات کو نماز پڑھے وہ صبح سے پہلے نماز کا آخری حصہ وتر کو بنائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان (اپنے ساتھیوں) کو یہی حکم دیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1756]
|
|
|
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مِجْلَزٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ".
ابوتیاح نے کہا: مجھے ابومجلز نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وتر رات کے آخری حصے کی ایک رکعت ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1757]
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ".
شعبہ نے قتادہ سے، انہوں نے ابومجلز سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے تھے کہ آپ نے فرمایا: ”وتر رات کے آخری حصے کی ایک رکعت ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1758]
|
|
|
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ "، وَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ".
ہمام نے کہا: ہمیں قتادہ نے ابومجلز سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”(وتر) رات کے آخری حصے کی ایک رکعت ہے۔“ اور میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”(وتر) رات کے آخر کی ایک رکعت ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1759]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ رَجُلًا نَادَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أُوتِرُ صَلَاةَ اللَّيْلِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى، فَلْيُصَلِّ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِنْ أَحَسَّ أَنْ يُصْبِحَ سَجَدَ سَجْدَةً فَأَوْتَرَتْ لَهُ مَا صَلَّى "، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: وَلَمْ يَقُلْ ابْنِ عُمَرَ.
ابوکریب اور ہارون بن عبداللہ نے کہا: ہمیں ابواسامہ نے ولید بن کثیر سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے عبیداللہ بن عبداللہ نے حدیث سنائی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ ایک آدمی نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے آپ کو آواز دی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں رات کی نماز کو وتر (طاق) کیسے بناؤں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو (رات) کی نماز پڑھے وہ دو دو رکعت پڑھے، پھر وہ اگر محسوس کرے کہ صبح ہو رہی ہے تو ایک رکعت پڑھ لے، یہ (ایک رکعت) اس کی ساری نماز کو وتر (طاق) بنا دے گی۔“ ابوکریب نے کہا، عبیداللہ بن عبداللہ نے کہا، (آگے) ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1760]
|
|
|
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، أَأُطِيلُ فِيهِمَا الْقِرَاءَةَ؟ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي لَسْتُ عَنْ هَذَا أَسْأَلُكَ، قَالَ: إِنَّكَ لَضَخْمٌ، أَلَا تَدَعُنِي أَسْتَقْرِئُ لَكَ الْحَدِيثَ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ، كَأَنَّ الأَذَانَ بِأُذُنَيْهِ "، قَالَ خَلَفٌ: أَرَأَيْتَ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ؟ وَلَمْ يَذْكُرْ صَلَاةِ.
خلف بن ہشام اور ابوکامل نے کہا: ہمیں حماد بن زید نے انس بن سیرین سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کی: صبح کی نماز سے پہلے کی دو رکعتوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، کیا میں ان میں طویل قراءت کر سکتا ہوں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دو دو رکعت پڑھتے تھے اور ایک رکعت سے اس کو وتر بناتے، میں نے کہا: میں آپ سے اس کے بارے میں نہیں پوچھ رہا۔ انہوں نے کہا: تم ایک بوجھل آدمی ہو (اپنی سوچ کو ترجیح دیتے ہو) کیا مجھے موقع نہ دو گے کہ میں تمہارے لیے بات کو مکمل کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دو دو رکعت پڑھتے تھے اور ایک وتر پڑھتے اور صبح (کی نماز) سے پہلے (مختصر سی) دو رکعتیں پڑھتے، گویا کہ اذان (اقامت) آپ کے کانوں میں (سنائی دے رہی) ہے۔ خلف نے اپنی حدیث میں کہا: صبح سے پہلے کی دو رکعتوں کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ اور انہوں نے "صلاۃ" کا لفظ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1761]
|
|
|
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ، بِمِثْلِهِ، وَزَادَ وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، وَفِيهِ فَقَالَ: بَهْ، بَهْ، إِنَّكَ لَضَخْمٌ.
شعبہ نے انس بن سیرین سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا۔ پھر مذکورہ بالا حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا: رات کے آخری حصے میں ایک رکعت وتر پڑھتے۔ اس میں ہے (اور میرے دوبارہ سوال پر) کہا: بس، بس، تم ایک بوجھل آدمی ہو۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1762]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ حُرَيْثٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا رَأَيْتَ أَنَّ الصُّبْحَ يُدْرِكُكَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ "، فَقِيلَ لِابْنِ عُمَرَ: مَا مَثْنَى مَثْنَى؟ قَالَ: أَنْ تُسَلِّمَ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ.
عقبہ بن حریث نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور جب تم دیکھو کہ صبح آنے والی ہے تو ایک رکعت سے (اپنی نماز کو) وتر کرو۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کی گئی: مثنیٰ، مثنیٰ، کا کیا مفہوم ہے؟ انہوں نے کہا: یہ کہ تم ہر دو رکعتوں (کے آخر) میں سلام پھیرو۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1763]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَوْتِرُوا قَبْلَ أَنْ تُصْبِحُوا ".
معمر نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح سے پہلے پہلے وتر پڑھ لو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1764]
|
|
|
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو نَضْرَةَ الْعَوَقِيُّ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ أَخْبَرَهُمْ، أَنَّهُمْ سَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: " أَوْتِرُوا قَبْلَ الصُّبْحِ ".
شیبان نے یحییٰ (بن ابی کثیر) سے روایت کی، انہوں نے کہا: ابونضرہ عوقی نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ انہوں (صحابہ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھ لو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1765]
|
|
|
21: باب مَنْ خَافَ أَنْ لاَ يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ أَوَّلَهُ:
باب: جسے رات کے آخر میں نہ اٹھنے کا اندیشہ ہو وہ رات کے شروع میں وتر پڑھ لے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ خَافَ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، فَلْيُوتِرْ أَوَّلَهُ، وَمَنْ طَمِعَ أَنْ يَقُومَ آخِرَهُ، فَلْيُوتِرْ آخِرَ اللَّيْلِ، فَإِنَّ صَلَاةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَشْهُودَةٌ، وَذَلِكَ أَفْضَلُ "، وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: مَحْضُورَةٌ.
حفص اور ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوسفیان سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں نہیں اٹھ سکے گا، وہ رات کے شروع میں وتر پڑھ لے۔ اور جسے امید ہو کہ وہ رات کے آخر میں اٹھ جائے گا، وہ رات کے آخر میں وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصے کی نماز کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ افضل ہے۔“ ابومعاویہ نے (مشہودہ کی بجائے) محضورہ (اس میں حاضری دی جاتی ہے) کہا۔ (مفہوم ایک ہی ہے) [صحيح مسلم/حدیث: 1766]
|
|
|
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَيُّكُمْ خَافَ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ، ثُمَّ لِيَرْقُدْ، وَمَنْ وَثِقَ بِقِيَامٍ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ مِنْ آخِرِهِ، فَإِنَّ قِرَاءَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ، وَذَلِكَ أَفْضَلُ ".
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”تم میں سے جسے یہ خدشہ ہو کہ وہ رات کے آخر میں نہیں اٹھ سکے گا تو وہ وتر پڑھ لے، پھر سو جائے اور جسے رات کو اٹھ جانے کا یقین ہو، وہ رات کے آخر میں وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصے میں قراءت کے وقت حاضری دی جاتی ہے اور یہ بہتر ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1767]
|
|
|
22: باب أَفْضَلُ الصَّلاَةِ طُولُ الْقُنُوتِ:
باب: افضل نماز وہ ہے جس کا قیام لمبا ہو۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُ الصَّلَاةِ طُولُ الْقُنُوتِ ".
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیام کا لمبا ہونا بہترین نماز ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1768]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: طُولُ الْقُنُوتِ "، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الأَعْمَشِ .
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب دونوں نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں اعمش نے ابوسفیان سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”قیام کا لمبا ہونا۔“ ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ابومعاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1769]
|
|
|
23: باب فِي اللَّيْلِ سَاعَةٌ مُسْتَجَابٌ فِيهَا الدُّعَاءُ:
باب: رات کو ایک قبولیت کی گھڑی ہے اس میں دعا کرنا۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ فِي اللَّيْلِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ، يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ، وَذَلِكَ كُلَّ لَيْلَةٍ ".
ابوسفیان سے روایت ہے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”رات میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ جو مسلمان بندہ بھی اس کو پا لیتا ہے اور اس میں وہ دنیا و آخرت کی کسی بھی خیر اور بھلائی کا سوال کرتا ہے تو اللہ اسے وہ (بھلائی) ضرور عطا فرما دیتا ہے۔ اور یہ گھڑی ہر رات میں ہوتی ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1770]
|
|
|
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ مِنَ اللَّيْلِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ، يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ ".
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو مسلمان بھی اسے پا لیتا ہے اور اس میں اللہ سے کسی بھی خیر کا سوال کرتا ہے تو وہ اسے وہ (بھلائی) عطا فرما دیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1771]
|
|
|
24: باب التَّرْغِيبِ فِي الدُّعَاءِ وَالذِّكْرِ فِي آخِرِ اللَّيْلِ وَالإِجَابَةِ فِيهِ:
باب: رات کے آخر میں دعا کرنے اور ذکر کرنے کی ترغیب اور اس میں قبولیت کا ذکر۔
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الله الْأَغَرّ ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ، فَيَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ؟ وَمَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ؟ وَمَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ؟ ".
ابن شہاب نے ابوعبداللہ اغر اور ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: برکت اور رفعت کا مالک ہمارا رب، ہر رات کو جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے، (تو) دنیا کے آسمان پر نزول فرما تا ہے اور کہتا ہے: کون مجھے پکارتا ہے کہ میں اس کی پکار کو سنوں؟ کون مجھ سے مانگتا ہے کہ میں اس کو دوں، اور کون مجھ سے بخشش طلب کرتا ہے کہ میں اسے بخش دوں؟ [صحيح مسلم/حدیث: 1772]
|
|
|
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَنْزِلُ اللَّهُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا كُلَّ لَيْلَةٍ حِينَ يَمْضِي ثُلُثُ اللَّيْلِ الأَوَّلُ، فَيَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ، أَنَا الْمَلِكُ، مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ؟ فَلَا يَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يُضِيءَ الْفَجْرُ ".
سہیل کے والد ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہر رات کو، جب رات کا پہلا تہائی حصہ گزر جاتا ہے، دنیا کے آسمان پر نزول فرما تا ہے اور کہتا ہے: میں بادشاہ ہوں، صرف میں بادشاہ ہوں، کون ہے جو مجھے پکارتا ہے کہ میں اس کی پکار کو سنوں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگتا ہے کہ میں اسے دوں؟ کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرتا ہے کہ میں اسے معاف کروں؟ وہ یہی اعلان فرما تا رہتا ہے حتیٰ کہ صبح چمک اٹھتی ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1773]
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا مَضَى شَطْرُ اللَّيْلِ أَوْ ثُلُثَاهُ، يَنْزِلُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: هَلْ مِنْ سَائِلٍ يُعْطَى؟ هَلْ مِنْ دَاعٍ يُسْتَجَابُ لَهُ؟ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ يُغْفَرُ لَهُ؟ حَتَّى يَنْفَجِرَ الصُّبْحُ ".
ابوبن سلمہ عبدالرحمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رات کا آدھا یا دو تہائی حصہ گزر جاتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرما تا ہے اور کہتا ہے: کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ اسے دیا جائے؟ کیا کوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس کی دعا قبول کی جائے؟ کیا کوئی بخشش کا طلبگار ہے کہ اسے بخشا جائے حتیٰ کہ صبح پھوٹ پڑتی ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1774]
|
|
|
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَاضِرٌ أَبُو الْمُوَرِّعِ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ مَرْجَانَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَنْزِلُ اللَّهُ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا لِشَطْرِ اللَّيْلِ أَوْ لِثُلُثِ اللَّيْلِ الآخِرِ، فَيَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ؟ أَوْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ "، ثُمَّ يَقُولُ: مَنْ يُقْرِضُ غَيْرَ عَدِيمٍ وَلَا ظَلُومٍ، قَالَ مُسْلِم ابْنُ مَرْجَانَةَ هُوَ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمَرْجَانَةُ أُمُّهُ،
محاضر ابومورع نے کہا: ہم سے سعد بن سعید (بن قیس انصاری) نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے ابن مرجانہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدھی رات یا رات کی آخری تہائی کے وقت اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرما تا ہے اور کہتا ہے: کون مجھ سے دعا کرے گا کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ یا مجھ سے سوال کرے، میں اسے عطا کروں؟ پھر فرما تا ہے: کون اس (ذات) کو قرض دے گا جو نہ محتاج ہے اور نہ حق مارنے والی ہے (اللہ تعالیٰ کو)؟“ امام مسلم نے کہا: ابن مرجانہ سے مراد سعید بن عبداللہ (ابوالعثمان المدنی) ہیں اور مرجانہ ان کی والدہ ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1775]
|
|
|
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَزَادَ، ثُمَّ يَبْسُطُ يَدَيْهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، يَقُولُ: مَنْ يُقْرِضُ غَيْرَ عَدُومٍ وَلَا ظَلُومٍ.
سلیمان بن بلال نے سعد بن سعید سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور اس میں یہ اضافہ ہے: پھر اللہ تعالیٰ اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتا ہے اور فرماتا ہے: ”کون اس کو قرض دے گا جو نہ محتاج ہے اور نہ ہی ظالم۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1776]
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، وَأَبُو بَكْرِ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَاللَّفْظُ لِابْنَي أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ إِسْحَاق: أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ يَرْوِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الأَوَّلُ، نَزَلَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ؟ هَلْ مِنْ تَائِبٍ؟ هَلْ مِنْ سَائِلٍ؟ هَلْ مِنْ دَاعٍ؟ حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ ".
منصور نے ابواسحاق سے اور انہوں نے اغر ابومسلم سے روایت کی، وہ حضرت ابوسعید اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔ دونوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ (بندوں کو آرام کی) مہلت دیتا ہے حتیٰ کہ جب رات کا پہلا تہائی حصہ گزر جاتا ہے تو وہ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے: کیا کوئی مغفرت کا طلب گار ہے؟ کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے؟ کیا کوئی مانگنے والا ہے؟ کیا کوئی پکارنے والا ہے؟ حتیٰ کہ فجر پھوٹ پڑتی ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1777]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ مَنْصُورٍ أَتَمُّ وَأَكْثَرُ.
شعبہ نے ابواسحاق سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث بیان کی، البتہ منصور کی روایت مکمل اور زیادہ (تفصیلات پر محیط) ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1778]
|
|
|
25: باب التَّرْغِيبِ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ وَهُوَ التَّرَاوِيحُ:
باب: قیام رمضان کی ترغیب یعنی تراویح کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ، إِيمَانًا، وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ".
حمید بن عبدالرحمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے ایمان (کی حالت میں) اور اجر طلب کرتے ہوئے رمضان کا قیام کیا اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دیے گئے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1779]
|
|
|
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ فِيهِ بِعَزِيمَةٍ، فَيَقُولُ: " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ، إِيمَانًا، وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ "، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ كَانَ الأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ عَلَى ذَلِكَ.
امام زہری نے ابوسلمہ (بن عبدالرحمان) سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لازم ٹھہرائے بغیر رمضان کے قیام کی ترغیب دیتے تھے، آپ فرماتے: ”جس نے رمضان کا قیام ایمان (کی حالت میں) اور اجر طلب کرتے ہوئے کیا، اس کے گزشتہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک معاملہ یہی رہا، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت اور عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دور میں بھی معاملہ اسی طرح رہا (ترغیب دی جاتی رہی، اجتماعی طور پر اہتمام نہیں کیا گیا) [صحيح مسلم/حدیث: 1780]
|
|
|
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُمْ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ، إِيمَانًا، وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، إِيمَانًا، وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ".
یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا: ہمیں سلمہ بن عبدالرحمان نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے روزے ایمان (کی حالت میں) اور ثواب کے لیے رکھے، اس کے گزشتہ سب گناہ معاف کر دیے جائیں گے اور جس نے لیلۃ القدر کا قیام ایمان کے ساتھ اور ثواب کے لیے کیا تو اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1781]
|
|
|
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ يَقُمْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَيُوَافِقُهَا أُرَاهُ قَالَ إِيمَانًا، وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص لیلۃ القدر کا قیام کرے گا اور اس کو پا لے گا، میرا خیال ہے آپ نے فرمایا، ایمان کے عالم میں اور احتساب کے لیے، اسے بخش دیا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1782]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ، ثُمَّ صَلَّى مِنَ الْقَابِلَةِ فَكَثُرَ النَّاسُ، ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالَ: قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ، فَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنَ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ، إِلَّا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ، قَالَ: وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ ".
امام مالک نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی تو کچھ اور لوگوں نے (بھی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپ نے اس سے اگلی رات نماز پڑھی تو لوگوں (کی تعداد) میں اضافہ ہو گیا، پھر تیسری یا چوتھی رات لوگ جمع ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر ان کے پاس تشریف نہ لائے۔ جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تم نے کیا میں نے دیکھا، مجھے تمہارے پاس آنے سے اس کے سوا کسی چیز نے نہیں روکا کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں یہ (نماز) تم پر فرض نہ ہو جائے۔“ (عروہ یا ان کے بعد کے کسی راوی نے) کہا: اور یہ رمضان میں ہوا [صحيح مسلم/حدیث: 1783]
|
|
|
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَرَجَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ، فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى رِجَالٌ بِصَلَاتِهِ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ بِذَلِكَ فَاجْتَمَعَ أَكْثَرُ مِنْهُمْ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلَةِ الثَّانِيَةِ، فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَذْكُرُونَ ذَلِكَ، فَكَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ، فَخَرَجَ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ، عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَفِقَ رِجَالٌ مِنْهُمْ، يَقُولُونَ: الصَّلَاةَ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى خَرَجَ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ، فَلَمَّا قَضَى الْفَجْرَ، أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ تَشَهَّدَ، فَقَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ شَأْنُكُمُ اللَّيْلَةَ، وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ صَلَاةُ اللَّيْلِ، فَتَعْجِزُوا عَنْهَا ".
یونس بن یزید نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وسط میں (گھر سے) نکلے اور مسجد میں نماز پڑھی، کچھ لوگوں نے (بھی) آپ کی نماز کے ساتھ نماز ادا کی، صبح کو لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی، چنانچہ (دوسری رات) لوگ پہلے سے زیادہ جمع ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رات بھی باہر تشریف لائے اور لوگوں نے آپ کی نماز کے ساتھ (اقتداء میں) نماز پڑھی، صبح اس کا تذکرہ کرتے رہے، تیسری رات مسجد میں آنے والے اور زیادہ ہو گئے، آپ باہر تشریف لائے اور لوگوں نے آپ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھی، جب چوتھی رات ہوئی تو مسجد نمازیوں کے لیے تنگ ہو گئی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر ان کے پاس تشریف نہ لائے حتیٰ کہ آپ صبح کی نماز کے لیے تشریف لائے۔ جب صبح کی نماز پوری کر لی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، پھر شہادتین پڑھ کر (یہ خطبے کا حصہ ہیں) فرمایا: ”اما بعد! واقعہ یہ ہے کہ آج رات تمہارا حال مجھ سے مخفی نہ تھا لیکن مجھے خدشہ ہوا کہ رات کی نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے اور تم اس (کی ادائیگی) سے عاجز رہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1784]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدَةُ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، يَقُولُ: وَقِيلَ لَهُ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: " مَنْ قَامَ السَّنَةَ، أَصَابَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَقَالَ أُبَيٌّ: وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، إِنَّهَا لَفِي رَمَضَانَ يَحْلِفُ مَا يَسْتَثْنِي، وَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَيُّ لَيْلَةٍ هِيَ، هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِيَامِهَا، هِيَ لَيْلَةُ صَبِيحَةِ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، وَأَمَارَتُهَا أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فِي صَبِيحَةِ يَوْمِهَا بَيْضَاءَ لَا شُعَاعَ لَهَا ".
اوزاعی نے کہا: مجھ سے عبدہ (بن ابی لبابہ) نے زر (بن حبیش) سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے جب کہ ان سے کہا گیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں: جس نے سال بھر قیام کیا اس نے شب قدر کو پا لیا تو ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! وہ رات رمضان میں ہے۔ وہ بغیر کسی استثناء کے حلف اٹھاتے تھے۔ اور اللہ کی قسم! میں خوب جانتا ہوں کہ وہ رات کون سی ہے، یہ وہی رات ہے جس میں قیام کا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا، یہ ستائیسویں صبح کی رات ہے اور اس کی علامت یہ ہے کہ اس دن کی صبح کو سورج سفید طلوع ہوتا ہے، اس کی کوئی شعاع نہیں ہوتی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1785]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَةَ بْنَ أَبِي لُبَابَةَ ، يُحَدِّثُ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ أُبَيٌّ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُهَا، " وَأَكْثَرُ عِلْمِي هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِيَامِهَا، هِيَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ "، وَإِنَّمَا شَكَّ شُعْبَةُ فِي هَذَا الْحَرْفِ هِيَ اللَّيْلَةُ، الَّتِي أَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي بِهَا صَاحِبٌ لِي عَنْهُ.
محمد بن جعفر نے کہا: ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے عبدہ بن ابی لبابہ کو زر بن حبیش سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، (زر نے) کہا: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے لیلۃ القدر کے بارے میں کہا: اللہ کی قسم! میں اس کے بارے میں جانتا ہوں اور میرا غالب گمان ہے کہ یہ وہی رات ہے جس کے قیام کا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا، یہ ستائیسویں رات ہے۔ شعبہ نے ”یہ وہی رات ہے جس کے قیام کا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا“ فقرے کے بارے میں شک کیا، انہوں نے کہا: مجھے یہ روایت میرے ساتھی نے ان (عبدہ بن ابی لبابہ کے حوالے) سے سنائی تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1786]
|
|
|
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ: إِنَّمَا شَكَّ شُعْبَةُ وَمَا بَعْدَهُ.
(عبیداللہ کے والد) معاذ نے کہا: ہم سے شعبہ نے اسی سند کے ساتھ سابقہ روایت کی مانند حدیث بیان کی لیکن اس میں انما شک شعبۃ (شعبہ نے اس کے بارے میں شک کیا) اور اس کے بعد کی عبارت بیان نہیں کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1787]
|
|
|
26: باب الدُّعَاءِ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ:
باب: نماز اور دعائے شب۔
|
|
|
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَأَتَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ فَأَتَى الْقِرْبَةَ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ وَلَمْ يُكْثِرْ وَقَدْ أَبْلَغَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، فَقُمْتُ فَتَمَطَّيْتُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَرَى، أَنِّي كُنْتُ أَنْتَبِهُ لَهُ فَتَوَضَّأْتُ فَقَامَ فَصَلَّى، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَتَتَامَّتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ اضْطَجَعَ، فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ، فَأَتَاهُ بِلَالٌ، فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، وَكَانَ فِي دُعَائِهِ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ يَسَارِي نُورًا، وَفَوْقِي نُورًا، وَتَحْتِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَخَلْفِي نُورًا، وَعَظِّمْ لِي نُورًا "، قَالَ كُرَيْبٌ: وَسَبْعًا فِي التَّابُوتِ، فَلَقِيتُ بَعْضَ وَلَدِ الْعَبَّاسِ فَحَدَّثَنِي بِهِنَّ، فَذَكَرَ: عَصَبِي، وَلَحْمِي، وَدَمِي، وَشَعْرِي، وَبَشَرِي، وَذَكَرَ: خَصْلَتَيْنِ.
سلمہ بن کہیل نے کریب سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گزاری، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے اور اپنی ضرورت (کی جگہ) آئے، پھر اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے، پھر سو گئے پھر اٹھے اور مشکیزے کے پاس آئے اور اس کا بندھن کھولا، پھر دو (طرح کے) وضو (بہت ہلکا وضو اور بہت زیادہ وضو) کے درمیان کا وضو کیا اور (پانی) زیادہ (استعمال) نہیں کیا اور (وضو) اچھی طرح کیا، پھر اٹھے اور نماز شروع کی تو میں اٹھا اور میں نے انگڑائی لی، اس ڈر سے کہ آپ یہ نہ سمجھیں کہ میں آپ (کے حالات جاننے) کی خاطر جاگ رہا تھا، پھر میں نے وضو کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی۔ تو میں آپ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب (کھڑا) کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیرہ رکعت رات کی نماز مکمل ہوئی، پھر آپ لیٹ گئے اور سو گئے حتیٰ کہ آپ کی سانس لینے کی آواز آنے لگی، آپ جب سوتے تھے تو آواز آتی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت بلال رضی اللہ عنہ آئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دی، آپ نے نماز پڑھی (سنت فجر ادا کیں) اور وضو نہ کیا اور آپ کی دعا میں تھا: اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ يَسَارِي نُورًا، وَفَوْقِي نُورًا، وَتَحْتِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَخَلْفِي نُورًا، وَعَظِّمْ لِي نُورًا ”اے اللہ! میرے دل میں نور ڈال دے اور میری آنکھوں میں اور میرے کانوں میں نور بھر دے اور میری دائیں طرف نور کر دے اور میری بائیں طرف نور کر دے اور میرے نیچے نور کر دے اور میرے آگے اور میرے پیچھے نور کر دے اور میرے لیے نور کو عظیم کر دے۔“ (ابن عباس رضی اللہ عنہما کے شاگرد) کریب نے بتایا کہ (ان کے علاوہ مزید) سات (چیزوں کے بارے میں دعا مانگی جن) کا تعلق جسم کے صندوق (پسلیوں اور ارد گرد کے حصے) سے ہے، میری ملاقات حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے ہوئی تو انہوں نے مجھے ان کے بارے میں بتایا، انہوں نے بتایا کہ میرے پٹھوں، میرے گوشت، میرے خون، میرے بالوں اور میری کھال (کو نور کر دے)، دو اور بھی چیزیں بتائیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1788]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ بَاتَ لَيْلَةً عِنْدَ مَيْمُونَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ وَهِيَ خَالَتُهُ، قَالَ: فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ، وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ، اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي، وَأَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا، " فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَ الْمُؤَذِّنُ فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ ".
امام مالک نے مخرمہ بن سلیمان سے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ کریب سے روایت کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا کہ انہوں نے ایک رات ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گزاری جو ان کی خالہ تھیں، تو میں سرہانے (بستر) کے عرض میں لیٹا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ اس (بستر) کے طول (لمبائی) میں لیٹے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے یہاں تک کہ رات آدھی ہوئی یا اس سے تھوڑا پہلے یا تھوڑا بعد کا وقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے اور اپنے ہاتھ کے ساتھ اپنے چہرے سے نیند زائل کرنے لگے، (چہرے پر ہاتھ پھیرا) پھر آپ نے سورہ آل عمران کی آخری دس آیات تلاوت فرمائیں، پھر آپ اٹھ کر ایک لٹکے ہوئے مشکیزے کے پاس گئے اور اس سے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں اٹھا اور میں نے بھی وہی کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ پھر جا کر آپ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرے دائیں کان کو پکڑ کر (آہستہ سے) مروڑنے لگے۔ پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر وتر پڑھا، پھر آپ لیٹ گئے حتیٰ کہ موذن آپ کے پاس آیا تو آپ کھڑے ہوئے اور دو ہلکی رکعتیں پڑھیں، پھر تشریف لے گئے اور صبح کی نماز ادا کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1789]
|
|
|
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْفِهْرِيِّ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَزَادَ، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى شَجْبٍ مِنْ مَاءٍ، فَتَسَوَّكَ، وَتَوَضَّأَ وَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ وَلَمْ يُهْرِقْ مِنَ الْمَاءِ إِلَّا قَلِيلًا، ثُمَّ حَرَّكَنِي فَقُمْتُ، وَسَائِرُ الْحَدِيثِ نَحْوُ حَدِيثِ مَالِكٍ.
عیاض بن عبداللہ فہری نے مخرمہ بن سلیمان سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی اور یہ اضافہ کیا: پھر آپ نے پانی کے ایک پرانے مشکیزے کا رخ کیا، پھر مسواک کی اور وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا، لیکن پانی بہت ہی کم بہایا، پھر مجھے ہلایا اور میں کھڑا ہو گیا۔ باقی ساری حدیث مالک کی حدیث کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1790]
|
|
|
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: نِمْتُ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ، فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، " فَصَلَّى فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً "، ثُمَّ نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَفَخَ، وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ، ثُمَّ أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، قَالَ عَمْرٌو: فَحَدَّثْتُ بِهِ بُكَيْرَ بْنَ الأَشَجِّ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي كُرَيْبٌ بِذَلِكَ.
عمرو نے عبدربہ بن سعید سے، انہوں نے مخرمہ بن سلیمان سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ کریب سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں سویا اور اس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے، میں آپ کی بائیں طرف کھڑا ہو گیا تو آپ نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کر لیا۔ اس رات آپ نے تیرہ رکعتیں پڑھیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتیٰ کہ آپ (کے سانسوں) کی آواز آنے لگی، جب آپ سوتے تو سانس لینے کی آواز آتی تھی۔ پھر آپ کے پاس موذن آیا تو آپ باہر تشریف لے گئے اور نماز ادا کی، آپ نے (از سر نو) وضو نہیں کیا۔ عمرو نے کہا: میں نے یہ حدیث بکیر بن اشج کو سنائی تو انہوں نے کہا: کریب نے مجھے یہی حدیث سنائی تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1791]
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، فَقُلْتُ لَهَا: إِذَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْقِظِينِي، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ الأَيْسَرِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَجَعَلَنِي مِنْ شِقِّهِ الأَيْمَنِ، فَجَعَلْتُ إِذَا أَغْفَيْتُ يَأْخُذُ بِشَحْمَةِ أُذُنِي، قَالَ: " فَصَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ احْتَبَى حَتَّى إِنِّي لَأَسْمَعُ نَفَسَهُ رَاقِدًا، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ".
ضحاک نے مخرمہ بن سلیمان سے، انہوں نے کریب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ایک رات اپنی خالہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے ہاں بسر کی، میں نے ان سے عرض کی: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھیں تو آپ مجھے بھی بیدار کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو میں آپ کی بائیں جانب کخڑا ہو گیا۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اپنی دائیں طرف کر دیا، جب مجھے جھپکی آنے لگتی تو آپ میرے کان کی لو پکڑ لیتے، آپ نے گیارہ رکعتیں پڑھیں، پھر آپ نے کمر اور پنڈلیوں کے گرد کپڑا لپیٹ کر اسے سہارا بنا لیا (اور سو گئے) یہاں تک کہ میں آپ کے سونے کی حالت میں آپ کے سانس لینے کی آواز سن رہا تھا۔ تو جب آپ کے سامنے صبح ظاہر ہوئی تو آپ نے ہلکی دو رکعتیں پڑھیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1792]
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ، " فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنٍّ مُعَلَّقٍ وُضُوءًا خَفِيفًا، قَالَ: وَصَفَ وُضُوءَهُ وَجَعَلَ يُخَفِّفُهُ وَيُقَلِّلُهُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخْلَفَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى، ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ أَتَاهُ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ فَخَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، قَالَ سُفْيَانُ: وَهَذَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً لِأَنَّهُ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ ".
سفیان بن عمرو بن دینار سے، انہوں نے کریب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات بسر کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت اٹھے، پھر آپ نے لٹکی ہوئی مشک سے ہلکا وضو کیا (کریب نے) کہا: انہوں (ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے آپ کے وضو کی کیفیت بیان کی اور وضو کو ہلکا اور کم کرتے رہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں اٹھا اور وہی کیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔ پھر آ کر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف کھڑا ہو گیا، آپ نے مجھے اپنے پیچھے کیا (اور گھما کر) اپنی دائیں جانب کر لیا۔ پھر آپ نے نماز پڑھی۔ پھر لیٹ کر سو گئے حتیٰ کہ آواز سے سانس لینے لگے۔ پھر بلال رضی اللہ عنہ آئے اور آپ کو نماز کی اطلاع دی، آپ باہر تشریف لے گئے اور صبح کی نماز ادا فرمائی اور (نیا) وضو نہ کیا۔ سفیان نے کہا: یہ (نیند کے باوجود وضو کی ضرورت نہ ہونا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ تھا کیونکہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کی آنکھیں سوتی تھیں دل نہیں سوتا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1793]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَبَقَيْتُ كَيْفَ يُصَلِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَامَ فَبَالَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْقِرْبَةِ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا، ثُمَّ صَبَّ فِي الْجَفْنَةِ أَوِ الْقَصْعَةِ فَأَكَبَّهُ بِيَدِهِ عَلَيْهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا حَسَنًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَجِئْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، قَالَ: فَأَخَذَنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَتَكَامَلَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ نَامَ حَتَّى نَفَخَ، وَكُنَّا نَعْرِفُهُ إِذَا نَامَ بِنَفْخِهِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى فَجَعَلَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ أَوْ فِي سُجُودِهِ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ شِمَالِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَخَلْفِي نُورًا، وَفَوْقِي نُورًا، وَتَحْتِي نُورًا، وَاجْعَلْ لِي نُورًا، أَوَ قَالَ وَاجْعَلْنِي نُورًا ".
محمد بن جعفر (غندر) نے کہا: ہم سے شعبہ نے سلمہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کریب سے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے اپنی خالہ میمونہ کے ہاں رات گزاری، میں نے (وہاں رہ کر) مشاہدہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نماز پڑھتے ہیں۔ کہا: آپ اٹھے، پیشاب کیا، پھر اپنا چہرہ اور ہتھیلیاں دھوئیں۔ پھر سو گئے۔ آپ (کچھ دیر بعد) پھر اٹھے، مشکیزے کے پاس گئے اور اس کا بندھن کھولا، پھر لگن یا پیالے میں پانی انڈیلا اور اس کو اپنے ہاتھ سے جھکایا، پھر دو وضوؤں کے درمیان کا خوبصورت وضو کیا (وضو نہ بہت ہلکا کیا اور نہ اس میں مبالغہ کیا لیکن اچھی طرح کیا)، پھر اٹھ کر نماز پڑھنے لگے، میں آپ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا، آپ کی بائیں جانب کھڑا ہوا۔ کہا: تو آپ نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کر دیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیرہ رکعت نماز مکمل ہوئی، پھر آپ سو گئے حتیٰ کہ سانسوں کی آواز آنے لگی اور جب آپ سو جاتے تو ہم آپ کے سونے کو آپ کے سانس کی آواز سے پہچانتے، پھر آپ نماز کے لیے باہر تشریف لائے اور نماز ادا کی۔ اور آپ اپنی نماز یا اپنے سجدے میں یہ دعا مانگنے لگے: ”اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا کر اور میرے کانوں میں نور پیدا کر اور میری آنکھوں میں نور پیدا کر اور میرے دائیں نور بنا اور میرے بائیں نور پیدا فرما اور میرے آگے اور میرے پیچھے نور کر اور میرے اوپر نور کر اور میرے لیے نور بنا۔“ یا فرمایا: ”مجھے نور بنا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1794]
|
|
|
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ سَلَمَةُ: فَلَقِيتُ كُرَيْبًا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كُنْتُ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ غُنْدَرٍ، وَقَالَ: وَاجْعَلْنِي نُورًا، وَلَمْ يَشُكَّ.
نضر بن شمیل نے کہا: ہمیں شعبہ نے خبر دی، کہا: ہمیں سلمہ بن کہیل نے بکیر سے حدیث سنائی، انہوں نے کریب سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ سلمہ نے کہا: میں کریب کو ملا تو انہوں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں اپنی خالہ میمونہ کے ہاں تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ پھر انہوں نے غندر (محمد بن جعفر) کی حدیث (1794) کی طرح بیان کیا اور کہا: ”اور مجھے سراپا نور کر دے“ اور انہوں نے (کسی بات میں) شک کا اظہار نہ کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1795]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي رِشْدِينٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ، وَلَمْ يَذْكُرْ: غَسْلَ الْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: ثُمَّ أَتَى الْقِرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ، ثُمَّ أَتَى فِرَاشَهُ فَنَامَ، ثُمَّ قَامَ قَوْمَةً أُخْرَى فَأَتَى الْقِرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا هُوَ الْوُضُوءُ، وَقَالَ: أَعْظِمْ لِي نُورًا، وَلَمْ يَذْكُرْ: وَاجْعَلْنِي نُورًا.
سعید بن مسروق نے سلمہ بن کہیل سے، انہوں نے ابورشدین (کریب) مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات گزاری، پھر حدیث بیان کی لیکن اس میں چہرے اور ہتھیلیاں دھونے کا ذکر نہیں ہے، ہاں، یہ کہا: پھر آپ مشک کے پاس آئے، اس کا بندھن کھولا، اور دو وضوؤں کے درمیان کا وضو کیا پھر بستر پر آئے اور سو گئے پھر آپ دوبارہ اٹھے اور مشک کے پاس آئے، اس کا بندھن کھولا، پھر دوبارہ وضو کیا جو (صحیح معنی میں) وضو تھا اور کہا: ”میرا نور عظیم کر دے“ اور یہ ہدایت نہیں کیا کہ مجھے سراپا نور کر دے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1796]
|
|
|
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَلْمَانَ الْحَجْرِيِّ ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ كُهَيْلٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ كُرَيْبًا حَدَّثَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ بَاتَ لَيْلَةً عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْقِرْبَةِ فَسَكَبَ مِنْهَا، فَتَوَضَّأَ وَلَمْ يُكْثِرْ مِنَ الْمَاءِ وَلَمْ يُقَصِّرْ فِي الْوُضُوءِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ قَالَ: وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَئِذٍ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً، قَالَ سَلَمَةُ: حَدَّثَنِيهَا كُرَيْبٌ، فَحَفِظْتُ مِنْهَا ثِنْتَيْ عَشْرَةَ وَنَسِيتُ مَا بَقِيَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِي فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي لِسَانِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَمِنْ فَوْقِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ شِمَالِي نُورًا، وَمِنْ بَيْنِ يَدَيَّ نُورًا، وَمِنْ خَلْفِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي نَفْسِي نُورًا، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا ".
عقیل بن خالد سے روایت ہے کہ سلمہ بن کہیل نے ان (عقیل) سے حدیث بیان کی کہ کریب نے ان (سلمہ) سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گزاری، انہوں (ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر مشکیزے کے پاس گئے اور اس میں سے پانی انڈیلا اور وضو کیا اور آپ نے نہ پانی زیادہ استعمال کیا نہ وضو میں کوئی کمی کی۔ پوری حدیث بیان کی اور اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے اس رات انیس کلمات پر مشتمل دعا کی۔ (تمام الفاظ جمع کریں تو انیس بنتے ہیں) سلمہ نے کہا: کریب نے وہ کلمات مجھے بتائے تھے اور میں ان میں سے بارہ کلمات کو یاد رکھ سکا اور باقی بھول گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما اور میری زبان میں نور پیدا فرما اور میرے کان میں نور پیدا فرما اور میری آنکھ میں نور پیدا فرما اور میرے اوپر نور کر دے اور میرے نیچے نور کر دے اور میرے دائیں نور کر دے اور میرے بائیں نور کر دے اور میرے آگے نور کر دے اور میرے پیچھے نور کر دے اور میرے اندر نور کر دے اور میرے نور کو عظیم کر دے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1797]
|
|
|
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: رَقَدْتُ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ، لَيْلَةَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا، لِأَنْظُرَ كَيْفَ صَلَاةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، قَالَ: فَتَحَدَّثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَهْلِهِ سَاعَةً، ثُمَّ رَقَدَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ ثُمَّ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَاسْتَنَّ.
شریک بن ابی نمر نے کریب سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں ایک رات حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر سویا، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تھے تاکہ میں دیکھوں کہ رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی کیفیت کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ وقت اپنے گھر والوں کے ساتھ گفتگو فرمائی، پھر آپ سو گئے۔ آگے پوری حدیث بیان کی اور اس میں یہ بھی تھا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، وضو کیا اور مسواک کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1798]
|
|
|
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ رَقَدَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَيْقَظَ، فَتَسَوَّكَ، وَتَوَضَّأَ، وَهُوَ يَقُولُ: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لأُولِي الأَلْبَابِ سورة آل عمران آية 190 فَقَرَأَ هَؤُلَاءِ الآيَاتِ حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَأَطَالَ فِيهِمَا، الْقِيَامَ، وَالرُّكُوعَ، وَالسُّجُودَ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، سِتَّ رَكَعَاتٍ كُلَّ ذَلِكَ، يَسْتَاكُ، وَيَتَوَضَّأُ، وَيَقْرَأُ هَؤُلَاءِ الآيَاتِ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ، فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَهُوَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي لِسَانِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ خَلْفِي نُورًا، وَمِنْ أَمَامِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، اللَّهُمَّ أَعْطِنِي نُورًا ".
حبیب بن ابی ثابت نے محمد بن علی بن عبداللہ بن عباس سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ وہ (ایک رات) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سوئے تو (رات کو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاگے، مسواک کی اور وضو فرمایا اور آپ (اس وقت) یہ آیات مبارکہ پڑھ رہے تھے: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ ”یقیناً آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور دن رات کی آمد و رفت میں خالص عقل رکھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔“ یہ آیات تلاوت فرمائیں حتیٰ کہ سورہ ختم کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں، ان میں بہت طویل قیام، رکوع اور سجدے کیے، پھر واپس پلٹے اور سو گئے یہاں تک کہ آپ کے سانس آواز سنائی دینے لگی، پھر آپ نے اسی طرح تین دفعہ کیا، چھ رکعتیں پڑھیں، ہر دفعہ آپ مسواک کرتے، وضو فرماتے اور ان آیات کو تلاوت فرماتے، پھر آپ نے تین وتر پڑھے، پھر موذن نے اذان دی تو آپ نماز کے لیے باہر تشریف لے گئے اور آپ یہ دعا کر رہے تھے: ”اے اللہ! میرے دل میں نور کر دے اور میری زبان میں نور کر دے اور میری سماعت میں نور کر دے اور میری آنکھ میں نور کر دے اور میرے پیچھے نور کر دے اور میرے آگے نور کر دے اور میرے اوپر نور کر دے اور میرے نیچے نور کر دے، اے اللہ! مجھے نور عنایت فرما۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1799]
|
|
|
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ ذَاتَ لَيْلَةٍ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، " فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي مُتَطَوِّعًا مِنَ اللَّيْلِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْقِرْبَةِ فَتَوَضَّأَ، فَقَامَ فَصَلَّى، فَقُمْتُ لَمَّا رَأَيْتُهُ صَنَعَ ذَلِكَ فَتَوَضَّأْتُ مِنَ الْقِرْبَةِ، ثُمَّ قُمْتُ إِلَى شِقِّهِ الأَيْسَرِ، فَأَخَذَ بِيَدِي مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ يَعْدِلُنِي كَذَلِكَ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ إِلَى الشِّقِّ الأَيْمَنِ "، قُلْتُ: أَفِي التَّطَوُّعِ كَانَ ذَلِكَ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ابن جریج نے کہا، مجھے عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے ایک رات اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس بسر کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نفل نماز پڑھنے کے لیے جاگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر مشک کی طرف گئے اور وضو فرمایا، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھی، جب میں نے آپ کو یہ کرتے دیکھا تو میں بھی اٹھا اور میں نے بھی مشک سے وضو کیا، (جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے رہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما جاگنے کے بعد غور سے انہیں دیکھتے رہے تاکہ آپ کی اتباع کر سکیں) پھر میں آپ کے بائیں پہلو میں کھڑا ہو گیا تو آپ نے اپنی پشت کے پیچھے سے میرا ہاتھ پکڑا، اسی طرح پیچھے سے مجھے دائیں جانب ٹھیک کر کے کھڑا کیا۔ (عطاء نے کہا:) میں نے پوچھا: کیا یہ نفل نماز میں ہوا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں [صحيح مسلم/حدیث: 1800]
|
|
|
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ ، يُحَدِّثُ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بَعَثَنِي الْعَبَّاسُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَبِتُّ مَعَهُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، " فَقَامَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَتَنَاوَلَنِي مِنْ خَلْفِ ظَهْرِهِ فَجَعَلَنِي عَلَى يَمِينِهِ ".
قیس بن سعد، عطاء سے حدیث بیان کرتے ہیں، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے تو وہ رات میں نے آپ کے ساتھ گزاری، آپ رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے لگے اور میں آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا تو آپ نے مجھے اپنی پشت کے پیچھے سے پکڑا اور اپنی دائیں جانب کر لیا (اس حدیث میں مزید یہ تفصیل سامنے آئی کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ان کے والد نے بھیجا تھا) [صحيح مسلم/حدیث: 1801]
|
|
|
وحَدَّثَنِي ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَقَيْسِ بْنِ سَعْدٍ.
عبدالملک نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات گزاری۔ آگے ابن جریج اور قیس بن سعد کی روایت کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1802]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ".
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن مثنیٰ، اور ابن بشار نے غندر، شعبہ اور ابوجمرہ کی سند سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے (یہی رات کی رکعتوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد ہے جس میں دو خفیف رکعتیں شامل ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول گیارہ کا تھا جس طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا۔) [صحيح مسلم/حدیث: 1803]
|
|
|
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: لَأَرْمُقَنَّ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَةَ، " فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، طَوِيلَتَيْنِ، طَوِيلَتَيْنِ، طَوِيلَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ أَوْتَرَ، فَذَلِكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ".
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے (دل میں) کہا: میں آج رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا (گہری نظر سے) مشاہدہ کروں گا، تو (میں نے دیکھا کہ) آپ نے دو ہلکی رکعتیں پڑھیں، پھر دو انتہائی لمبی رکعتیں، بہت ہی زیادہ لمبی رکعتیں ادا کیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو (ان طویل ترین) رکعتوں سے ہلکی تھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو اپنے سے پہلے کی دو رکعتوں سے ہلکی تھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو اپنے سے پہلے کی دو رکعتوں سے کم تر تھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو اپنے سے پہلی والی رکعتوں سے کم تھیں، پھر وتر پڑھا تو یہ تیرہ رکعتیں ہوئیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1804]
|
|
|
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى مَشْرَعَةٍ، فَقَالَ: أَلَا تُشْرِعُ يَا جَابِرُ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَشْرَعْتُ، قَالَ: ثُمَّ ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ، وَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا، قَالَ: " فَجَاءَ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، فَقُمْتُ خَلْفَهُ، فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ ".
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، ہم پانی کے ایک گھاٹ پر پہنچے تو آپ نے فرمایا: ”جابر! کیا تم سواری کو پلانے کے لیے گھاٹ پر نہیں اترو گے؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (بھی) گھاٹ پر اترے اور میں بھی اترا، پھر آپ ضرورت کے لیے تشریف لے گئے اور میں نے آپ کے لیے وضو کا پانی رکھ دیا، آپ واپس آئے اور وضو فرمایا، پھر آپ کھڑے ہوئے اور ایک کپڑے میں نماز پڑھی جس کے دونوں کنارے آپ نے مخالف سمتوں میں ڈال رکھے تھے (دائیں کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کنارے کو دائیں کندھے پر ڈالا) میں آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا تو آپ نے میرے کان سے پکڑ کر مجھے اپنی دائیں طرف کر لیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1805]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا، عَنْ هُشَيْمٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو حُرَّةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِذَا قَامَ مِنِ اللَّيْلِ لِيُصَلِّيَ، افْتَتَحَ صَلَاتَهُ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو نماز پڑھنے کے لیے اٹھتے، اپنی نماز کا آغاز دو ہلکی رکعتوں سے فرماتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1806]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلْيَفْتَتِحْ صَلَاتَهُ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی رات کو (نماز کے لیے) اٹھے تو وہ اپنی نماز کا آغاز دو ہلکی رکعتوں سے کرے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1807]
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ: " إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَمَنْ فِيهِنَّ أَنْتَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَأَخَّرْتُ وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ "،
امام مالک نے ابوزہیر سے، انہوں نے طاؤس سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کی آخری تہائی میں نماز کے لیے اٹھتے تو فرماتے: ”اے اللہ! تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے، تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے اور تیرے ہی لیے حمد ہے، تو آسمانوں اور زمین کو قائم رکھنے والا ہے اور تیرے ہی لیے حمد ہے، تو آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان میں ہے اس کا پالنے والا ہے۔ اور تو برحق ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تیرا قول اٹل ہے اور تیرے ساتھ ملاقات قطعی ہے اور جنت حق ہے اور جہنم حق ہے اور قیامت حق ہے۔ اے اللہ! میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کر دیا اور میں تجھ پر ایمان لایا اور میں نے تجھ پر توکل اور بھروسہ کیا اور تیری طرف رجوع کیا اور تیری توفیق سے (تیرے منکروں سے) جھگڑا کیا اور تیرے ہی حضور فیصلہ لایا (تجھے ہی حاکم تسلیم کیا) تو بخش دے وہ گناہ جو میں نے پہلے کیے اور جو بعد میں کیے اور جو چھپ کر کیے اور جو ظاہراً کیے، تو ہی میرا معبود ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1808]
|
|
|
حَدَّثَنَا وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وابن أبي عمر ، عَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ كِلَاهُمَا، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ، فَاتَّفَقَ لَفْظُهُ مَعَ حَدِيثِ مَالِكٍ، لَمْ يَخْتَلِفَا إِلَّا فِي حَرْفَيْنِ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: مَكَانَ قَيَّامُ، قَيِّمُ، وَقَالَ: وَمَا أَسْرَرْتُ، وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ، فَفِيهِ بَعْضُ زِيَادَةٍ، وَيُخَالِفُ مَالِكًا، وَابْنَ جُرَيْجٍ فِي أَحْرُفٍ.
سفیان اور ابن جریج دونوں نے سلیمان احول سے، انہوں نے طاؤس سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ ابن جریج اور امام مالک کی (گزشتہ) حدیث کے الفاظ ایک جیسے ہیں، دو جملوں کے سوا کوئی اختلاف نہیں، ابن جریج نے قیام کے بجائے قیم کہا (معنی ایک ہیں) اور واسررت کی جگہ وما اسررت کہا۔ (سفیان) ابن عیینہ کی حدیث میں کچھ اضافہ ہے، وہ متعدد جملوں میں امام مالک اور ابن جریج سے اختلاف کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1809]
|
|
|
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَصِيرُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ وَاللَّفْظُ قَرِيبٌ مِنْ أَلْفَاظِهِمْ.
قیس بن سعد نے طاؤس سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی۔ (اس حدیث کے راوی عمران القصیر کے) الفاظ ان (امام مالک، سفیان، ابن جریج) کے الفاظ سے ملتے جلتے ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1810]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، وأبو معن الرقاشي ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ، إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ؟ قَالَتْ: كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ افْتَتَحَ صَلَاتَهُ " اللَّهُمَّ رَبَّ جَبْرَائِيلَ، وَمِيكَائِيلَ، وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے کہا: میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو نماز کے لیے اٹھتے تھے تو کس چیز کے ساتھ نماز کا آغاز کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: جب آپ رات کو اٹھتے تو نماز کا آغاز (اس دعا سے) کرتے: ”اے اللہ! جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے رب! آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمانے والے! پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والے! تیرے بندے جن باتوں میں اختلاف کرتے تھے تو ہی ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا، جن باتوں میں اختلاف کیا گیا ہے تو ہی اپنے حکم سے مجھے ان میں سے جو حق ہے اس پر چلا، بے شک تو ہی جسے چاہے سیدھی راہ پر چلاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1811]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْمَاجِشُونُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: " وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي، وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي، لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الأَخْلَاقِ، لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا، لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، أَنَا بِكَ، وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ، وَإِذَا رَكَعَ، قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي، وَبَصَرِي، وَمُخِّي، وَعَظْمِي، وَعَصَبِي، وَإِذَا رَفَعَ، قَالَ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ، وَمِلْءَ الأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، وَإِذَا سَجَدَ، قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ، ثُمَّ يَكُونُ مِنْ آخِرِ مَا يَقُولُ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ "،
یوسف ماجثون نے کہا: مجھ سے میرے والد (یعقوب بن ابی سلمہ ماجثون) نے عبدالرحمان اعرج سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبیداللہ بن ابی رافع سے، انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو فرماتے: ”میں نے اپنا رخ اس ذات کی طرف کر دیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا، ہر طرف سے یکسو ہو کر، اور میں اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے والوں میں سے نہیں، میری نماز اور میری ہر (بدنی و مالی) عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لیے ہے جو کائنات کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور اسی کا مجھے حکم ملا ہے اور میں فرمانبرداری کرنے والوں میں سے ہوں۔ اے اللہ! تو ہی بادشاہ ہے، تیرے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں، تو میرا رب ہے، میں تیرا بندہ ہوں اور میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور اپنے گناہ کا اعتراف کیا ہے، اس لیے میرے سارے گناہ بخش دے کیونکہ گناہوں کو بخشنے والا تیرے سوا کوئی نہیں، اور میری بہترین اخلاق کی طرف راہنمائی فرما، تیرے سوا بہترین اخلاق کی راہ پر چلانے والا کوئی نہیں، اور برے اخلاق مجھ سے ہٹا دے، تیرے سوا برے اخلاق کو مجھ سے دور کرنے والا کوئی نہیں، میں تیرے حضور حاضر ہوں اور دونوں جہانوں کی سعادتیں تجھ سے ہیں، ہر طرح کی بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے اور برائی کا تیری طرف کوئی گزر نہیں ہے، میں تیرے ہی سہارے ہوں، اور تیری ہی طرف میرا رخ ہے، تو برکت والا، رفعت والا اور بلندی والا ہے، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں۔“ اور جب آپ رکوع کرتے تو فرماتے: ”اے اللہ! میں تیرے سامنے جھکا ہوا ہوں اور میں تجھ ہی پر ایمان لایا ہوں، اپنے آپ کو تیرے ہی سپرد کر دیا ہے، میرے کان اور میری آنکھیں اور میرا مغز اور میری ہڈیاں اور میری رگیں اور میرے پٹھے تیرے ہی حضور جھکے ہوئے ہیں۔“ اور جب رکوع سے اٹھتے تو کہتے: ”اے اللہ! ہمارے رب، تیرے ہی لیے حمد ہے جس سے آسمانوں اور زمین کی وسعتیں بھر جائیں اور اس کے بعد جو تو چاہے اس کی وسعتیں بھر جائیں۔“ اور جب آپ سجدہ کرتے تو کہتے: ”اے اللہ! میں نے تیرے ہی حضور سجدہ کیا اور تجھ ہی پر ایمان لایا اور اپنے آپ کو تیرے ہی حوالے کیا، میرا چہرہ اس ذات کے سامنے سجدہ ریز ہے جس نے اسے پیدا کیا، اس کی صورت گری کی اور اس کے کان اور اس کی آنکھیں تراشیں، برکت والا ہے اللہ جو بہترین خالق ہے۔“ پھر تشہد اور سلام کے درمیان میں یہ دعا پڑھتے: ”اے اللہ! بخش دے جو خطائیں میں نے پہلے کیں یا بعد میں کیں اور چھپا کر کیں یا علانیہ کیں اور جو بھی زیادتی میں نے کی اور جس کا مجھ سے زیادہ تمہیں علم ہے (اطاعت اور خیر میں) تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے اور تیرے سوا کوئی عبادت کا حقدار نہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1812]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ: وَجَّهْتُ وَجْهِي، وَقَالَ: وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، وَقَالَ: وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَقَالَ: وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ، وَقَالَ: وَإِذَا سَلَّمَ، قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ، إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ، وَلَمْ يَقُلْ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ.
عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ نے اپنے چچا الماجثون (یعقوب بن ابی سلمہ) سے اور انہوں نے (عبدالرحمان) اعرج سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز فرماتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر دعا پڑھتے: ”وجہت وجهي“ اس میں (کے بجائے) ”أنا من المسلمين“ اور ”میں اطاعت و فرمانبرداری میں اولین (مقام پر فائز) ہوں“ کے الفاظ ہیں اور کہا: جب آپ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو ”سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولك الحمد“ کہتے اور صورہ (اس کی صورت گری کی) کے بعد ”فأحسن صورها“ (اس کو بہترین شکل و صورت عنایت فرمائی) کے الفاظ کہے اور کہا: جب سلام پھیرتے تو کہتے: ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ“ ”اے اللہ! بخش دے جو میں نے پہلے کیا۔“ حدیث کے آخر تک اور انہوں نے ”تشہد اور سلام پھیرنے کے درمیان“ کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1813]
|
|
|
27: باب اسْتِحْبَابِ تَطْوِيلِ الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ:
باب: تہجد میں لمبی قرأت کا مستحب ہونا۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا، عَنْ جَرِيرٍ كُلُّهُمْ، عَنِ الأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الأَحْنَفِ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ، فَقُلْتُ يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَةِ، ثُمَّ مَضَى، فَقُلْتُ: يُصَلِّي بِهَا فِي رَكْعَةٍ، فَمَضَى، فَقُلْتُ: يَرْكَعُ بِهَا، ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَاءَ فَقَرَأَهَا، ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَهَا، يَقْرَأُ مُتَرَسِّلًا، إِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا، تَسْبِيحٌ سَبَّحَ، وَإِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَأَلَ، وَإِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَجَعَلَ يَقُولُ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ، فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ قَامَ طَوِيلًا، قَرِيبًا مِمَّا رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ، فَقَالَ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى، فَكَانَ سُجُودُهُ قَرِيبًا مِنْ قِيَامِه "، قَالَ: وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ مِنَ الزِّيَادَةِ، فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ.
عبداللہ بن نمیر، ابومعاویہ اور جریر سب نے اعمش سے، انہوں نے سعد بن عبیدہ سے، انہوں نے مستورد بن احنف سے، انہوں نے صلہ بن زفر سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ نے سورہ بقرہ کا آغاز فرمایا، میں نے (دل میں) کہا: آپ سو آیات پڑھ کر رکوع فرمائیں گے مگر آپ آگے بڑھ گئے، میں نے کہا: آپ اسے (پوری) رکعت میں پڑھیں گے، آپ آگے پڑھتے گئے، میں نے سوچا، اسے پڑھ کر رکوع کریں گے مگر آپ نے سورہ نساء شروع کر دی، آپ نے وہ پوری پڑھی، پھر آپ نے آل عمران شروع کر دی، اس کو پورا پڑھا، آپ ٹھر ٹھر کر قرائت فرماتے رہے، جب ایسی آیت سے گزرتے جس میں تسبیح ہے تو سبحان اللہ کہتے اور جب سوال (کرنے والی آیت) سے گزرتے (پڑھتے) تو سوال کرتے اور جب پناہ مانگنے والی آیت سے گزرتے تو (اللہ سے) پناہ مانگتے، پھر آپ نے رکوع فرمایا اور سبحان ربی العظیم کہنے لگے، آپ کا رکوع (تقریباً) آپ کے قیام جتنا تھا۔ پھر آپ نے ”سمع اللہ لمن حمدہ“ کہا، پھر آپ لمبی دیر کھڑے رہے، تقریباً اتنی دیر جتنی دیر رکوع کیا تھا، پھر سجدہ کیا اور ”سبحان ربی الأعلى“ کہنے لگے اور آپ کا سجدہ (بھی) آپ کے قیام کے قریب تھا۔ جریر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ آپ نے کہا: (”سمع اللہ لمن حمدہ ربنا لك الحمد“ یعنی ربنا لك الحمد کا اضافہ ہے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 1814]
|
|
|
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ كِلَاهُمَا، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَطَالَ حَتَّى هَمَمْتُ بِأَمْرِ سَوْءٍ، قَالَ: قِيلَ: وَمَا هَمَمْتَ بِهِ؟ قَالَ: هَمَمْتُ أَنْ أَجْلِسَ وَأَدَعَهُ ".
جریر نے اعمش سے اور انہوں نے ابووائل سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ نے اتنی لمبی نماز پڑھی کہ میں نے ایک ناپسندیدہ کام کا ارادہ کر لیا۔ کہا: تو ان سے پوچھا گیا آپ نے کس بات کا ارادہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا: میں نے ارادہ کیا کہ بیٹھ جاؤں اور آپ کو (اکیلے ہی قیام کی حالت میں) چھوڑ دوں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1815]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه إِسْمَاعِيل بْنُ الْخَلِيلِ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
علی بن مسہر نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1816]
|
|
|
28: باب مَا رُوِيَ فِيمَنْ نَامَ اللَّيْلَ أَجْمَعَ حَتَّى أَصْبَحَ:
باب: نماز تہجد کی ترغیب اگرچہ کم ہی ہو۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق ، قَالَ عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَجُلٌ نَامَ لَيْلَةً حَتَّى أَصْبَحَ، قَالَ: " ذَاكَ رَجُلٌ بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنَيْهِ "، أَوَ قَالَ: فِي أُذُنِهِ.
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک ایسے آدمی کا ذکر کیا گیا جو رات بھر سویا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی، آپ نے فرمایا: ”وہ (ایسا) شخص ہے کہ شیطان نے اس کے کان میں۔“ یا فرمایا: ”اس کے دونوں کانوں میں پیشاب کر دیا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1817]
|
|
|
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيّ حَدَّثَهُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ، وَفَاطِمَةَ، فَقَالَ: " أَلَا تُصَلُّونَ؟ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ يَضْرِبُ فَخِذَهُ، وَيَقُولُ: وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا ".
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت انہیں اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جگایا اور فرمایا: ”کیا تم لوگ نماز نہیں پڑھو گے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں، جب وہ ہمیں اٹھانا چاہتا ہے اٹھا دیتا ہے، جب میں نے آپ سے یہ کہا تو آپ واپس چلے گئے، پھر میں نے آپ کو سنا کہ آپ واپس پلٹتے ہوئے اپنی ران پر ہاتھ مارتے تھے اور کہتے (آیت کا ایک ٹکڑا پڑھتے) تھے: ”إن الإنسان لكثير الجدل“ ”انسان سب سے بڑھ کر جھگڑا کرنے والا ہے۔“ (جدل (جھگڑا) یہ تھا کہ جگائے جانے پر ممنون ہونے اور نماز پڑھنے کی بجائے عذر پیش کیا گیا۔) [صحيح مسلم/حدیث: 1818]
|
|
|
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ عَمْرٌو، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ ثَلَاثَ عُقَدٍ، إِذَا نَامَ بِكُلِّ عُقْدَةٍ يَضْرِبُ عَلَيْكَ لَيْلًا طَوِيلًا، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عَنْهُ عُقْدَتَانِ، فَإِذَا صَلَّى انْحَلَّتِ الْعُقَدُ، فَأَصْبَحَ نَشِيطًا، طَيِّبَ النَّفْسِ، وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ، كَسْلَانَ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے یہ فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا، آپ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی سو جاتا ہے تو شیطان اس کے سر کے پچھلے حصے پر تین گرہیں لگاتا ہے، ہر گرہ پر تھپکی دیتا ہے کہ تم پر ایک بہت لمبی رات (کا سونا لازم) ہے، جب انسان بیدار ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے اور جب وہ وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے، پھر جب نماز پڑھتا ہے تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں اور وہ چاق و چوبند، ہشاش بشاش پاک طبیعت (کے ساتھ) صبح کرتا ہے، ورنہ (جاگ کر عبادت نہیں کرتا تو) صبح کو گندے دل کے ساتھ اور سست اٹھتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1819]
|
|
|
29: باب اسْتِحْبَابِ صَلاَةِ النَّافِلَةِ فِي بَيْتِهِ وَجَوَازِهَا فِي الْمَسْجِدِ:
باب: نفل نماز کا گھر میں مستحب اور مسجد میں جائز ہونا۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا ".
عبیداللہ نے کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”کچھ نمازیں گھر میں پڑھا کرو اور ان (گھروں) کو قبریں نہ بناؤ۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1820]
|
|
|
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا ".
ایوب نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”گھروں میں (نفل) نمازیں پڑھو اور انہیں قبریں نہ بناؤ۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1821]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَضَى أَحَدُكُمُ الصَّلَاةَ فِي مَسْجِدِهِ، فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی مسجد میں نماز (باجماعت) ادا کر لے تو اپنی نماز میں سے اپنے گھر کے لیے بھی کچھ حصہ رکھے کیونکہ اللہ اس کے گھر میں اس کے نماز پڑھنے کی وجہ سے خیر و بھلائی رکھے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1822]
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَثَلُ الْبَيْتِ الَّذِي يُذْكَرُ اللَّهُ فِيهِ، وَالْبَيْتِ الَّذِي لَا يُذْكَرُ اللَّهُ فِيهِ، مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ ".
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس گھر کی مثال جس میں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے اور اس گھر کی مثال جس میں اللہ کو یاد نہیں کیا جاتا، زندہ اور مردہ جیسی ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1823]
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ، إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1824]
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: احْتَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَيْرَةً بِخَصَفَةٍ أَوْ حَصِيرٍ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيهَا، قَالَ: فَتَتَبَّعَ إِلَيْهِ رِجَالٌ وَجَاءُوا يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ، قَالَ: ثُمَّ جَاءُوا لَيْلَةً، فَحَضَرُوا وَأَبْطَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمْ، قَالَ: فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ، فَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ وَحَصَبُوا الْبَابَ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا زَالَ بِكُمْ صَنِيعُكُمْ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُكْتَبُ عَلَيْكُمْ، فَعَلَيْكُمْ بِالصَّلَاةِ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ خَيْرَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ، إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ ".
عبداللہ سعید نے کہا: عمر بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سالم ابونضر نے ہمیں بسر بن سعید سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چٹائی کا ایک چھوٹا سا حجرہ بنوایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (گھر سے) باہر آ کر اس میں نماز پڑھنے لگے، لوگ اس (حجرے) تک آپ کے پیچھے پیچھے آئے اور آ کر آپ کی اقتدا میں نماز پڑھنے لگے، پھر ایک اور رات لوگ آئے اور (حجرے کے) پاس آ گئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس آنے میں تاخیر کر دی۔ کہا: آپ ان کے پاس تشریف نہ لائے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنی آوازیں بلند کیں (تاکہ آپ آوازیں سن کر تشریف لے آئیں) اور دروازے پر چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں ان کی طرف تشریف لائے اور ان سے فرمایا: ”تم مسلسل یہ عمل کرتے رہے حتیٰ کہ مجھے خیال ہوا کہ یہ نماز تم پر لازم کر دی جائے گی، اس لیے تم اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو کیونکہ انسان کی فرض نماز کے سوا وہی بہتر ہے جو گھر میں پڑھے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 1825]
|
|
|
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا لَيَالِيَ، حَتَّى اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَزَادَ فِيهِ، وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ.
موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: میں نے ابونضر سے سنا، انہوں نے بسر بن سعید سے اور انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں چٹائی سے ایک حجرہ بنوایا اور آپ نے اس میں چند راتیں نماز پڑھی حتیٰ کہ آپ کے پاس لوگ جمع ہو گئے۔ پھر مذکورہ بالا روایت بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) "اگر تم پر نماز فرض کر دی گئی تو تم (سب) اس کی پابندی نہیں کر سکو گے۔" (یہ حجرہ اعتکاف کے لیے تھا۔) [صحيح مسلم/حدیث: 1826]
|
|
|
30: باب فَضِيلَةِ الْعَمَلِ الدَّائِمِ مِنْ قِيَامِ اللَّيْلِ وَغَيْرِهِ:
باب: ہمیشگی والے عمل کی فضیلت قیام اللیل وغیرہ میں اور عبادت میں میانہ روی اختیار کرنے کا حکم۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصِيرٌ، وَكَانَ يُحَجِّرُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيُصَلِّي فِيهِ، فَجَعَلَ النَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ وَيَبْسُطُهُ بِالنَّهَارِ، فَثَابُوا ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، عَلَيْكُمْ مِنَ الأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا، وَإِنَّ أَحَبَّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ مَا دُووِمَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ "، وَكَانَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا عَمِلُوا عَمَلًا أَثْبَتُوهُ.
سعید بن ابی نے ابوسلمہ (بن عبدالرحمان بن عوف) سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک چٹائی تھی، آپ رات کو اس سے حجرہ بنا لیتے اور اس میں نماز پڑھتے تو لوگوں نے بھی آپ کی اقتدا میں نماز پڑھنی شروع کر دی، آپ دن کے وقت اسے بچھا لیتے تھے، ایک رات لوگ کثرت کے ساتھ جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا: "لوگو! اتنے اعمال کی پابندی کرو جتنے اعمال کی تم میں طاقت ہے کیونکہ (اس وقت تک) اللہ تعالیٰ (اجر و ثواب دینے سے) نہیں اکتاتا حتیٰ کہ تم خود اکتا جاؤ اور یقیناً اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب عمل وہی ہے جس پر ہمیشگی اختیار کی جائے چاہے وہ کم ہو۔" اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والے جب کوئی عمل کرتے تو اسے ہمیشہ برقرار رکھتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1827]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " سُئِلَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ ".
سعد بن ابراہیم سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوسلمہ سے سنا، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فرمایا: "جسے ہمیشہ کیا جائے اگرچہ کم ہو۔" [صحيح مسلم/حدیث: 1828]
|
|
|
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، كَيْفَ كَانَ عَمَلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ هَلْ كَانَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنَ الأَيَّامِ؟ قَالَتْ: لَا، " كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً "، وَأَيُّكُمْ يَسْتَطِيعُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطِيعُ.
علقمہ سے روایت ہے، کہا: میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا اور کہا: ام المؤمنین! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی کیفیت کیا تھی؟ کیا آپ (کسی خاص عمل کے لیے) کچھ ایام مخصوص فرما لیتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، آپ کا عمل دائمی ہوتا تھا اور تم میں سے کون اس قدر استطاعت رکھتا ہے جتنی استطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تھی؟ [صحيح مسلم/حدیث: 1829]
|
|
|
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ "، قَالَ: وَكَانَتْ عَائِشَةُ، إِذَا عَمِلَتِ الْعَمَلَ لَزِمَتْهُ.
قاسم بن محمد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ کے ہاں محبوب ترین کام وہ ہے جس پر ہمیشہ عمل کیا جائے اگرچہ وہ قلیل ہو۔" (قاسم بن محمد نے) کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جب کوئی عمل کرتیں تو اس کو لازم کر لیتیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1830]
|
|
|
31: باب أَمْرِ مَنْ نَعَسَ فِي صَلاَتِهِ أَوِ اسْتَعْجَمَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ أَوِ الذِّكْرُ بِأَنْ يَرْقُدَ أَوْ يَقْعُدَ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ ذَلِكَ:
باب: نماز یا قرآن مجید کی تلاوت یا ذکر کے دوران اونگھنے یا سستی غالب آنے پر اس کے جانے تک سونے یا بیٹھے رہنے کا حکم۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، وَحَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: لِزَيْنَبَ تُصَلِّي، فَإِذَا كَسِلَتْ أَوْ فَتَرَتْ أَمْسَكَتْ بِهِ، فَقَالَ: حُلُّوهُ، " لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ، فَإِذَا كَسِلَ أَوْ فَتَرَ، قَعَدَ "، وَفِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ: فَلْيَقْعُدْ.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں ابن علیہ نے حدیث سنائی، نیز زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں اسماعیل نے حدیث سنائی، ان دونوں (ابن علیہ اور اسماعیل) نے عبدالعزیز بن صہیب سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور (دیکھا کہ) دو ستونوں کے درمیان ایک رسی لٹکی ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: "یہ کیا ہے؟" صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی: حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی رسی ہے، وہ نماز پڑھتی رہتی ہیں، جب سست پڑتی ہیں یا تھک جاتی ہیں تو اس کو پکڑ لیتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اسے کھول دو، ہر شخص نماز پڑھے جب تک ہشاش بشاش رہے، جب سست پڑ جائے یا تھک جائے تو بیٹھ جائے۔" زہیر کی روایت میں (قعد کی بجائے) "فلیقعد" ہے۔ یعنی ماضی کی بجائے امر کا صیغہ استعمال کیا، مفہوم ایک ہی ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1831]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَس ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
عبدالوارث نے عبدالعزیز (بن صہیب) سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1832]
|
|
|
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ الْحَوْلَاءَ بِنْتَ تُوَيْتِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، مَرَّتْ بِهَا وَعِنْدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: هَذِهِ الْحَوْلَاءُ بِنْتُ تُوَيْتٍ، وَزَعَمُوا أَنَّهَا لَا تَنَامُ اللَّيْلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَنَامُ اللَّيْلَ، خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَوَاللَّهِ لَا يَسْأَمُ اللَّهُ حَتَّى تَسْأَمُوا ".
ابن شہاب نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ حولا بنت تویت بن حبیب بن اسد بن عبدالعزیٰ اس عالم میں ان کے قریب سے گزری جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تھے، کہا: میں نے عرض کی: یہ حولا بنت تویت ہیں اور لوگوں کا خیال ہے کہ یہ رات بھر نہیں سوتیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا رات بھر نہیں سوتی! اتنا عمل اپناؤ جتنے کی تم طاقت رکھتے ہو۔ اللہ کی قسم! اللہ نہیں اکتائے گا یہاں تک کہ تم اکتا جاؤ۔" [صحيح مسلم/حدیث: 1833]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ . ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظ لَهُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي امْرَأَةٌ، فَقَالَ: مَنْ هَذِهِ؟ فَقُلْتُ: امْرَأَةٌ لَا تَنَامُ، تُصَلِّي، قَالَ: " عَلَيْكُمْ مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ حَتَّى تَمَلُّوا، وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ "، وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ: أَنَّهَا امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ.
ابواسامہ اور یحییٰ بن سعید نے ہشام بن عروہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے خبر دی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میرے پاس ایک خاتون موجود تھیں، آپ نے پوچھا: "یہ کون ہے؟" میں نے کہا: یہ ایسی عورت ہے جو رات بھر نہیں سوتی، نماز پڑھتی رہتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اتنا عمل کرو جتنا تمہارے بس میں ہو، اللہ کی قسم! اللہ نہیں اکتائے گا یہاں تک کہ تم ہی عمل سے اکتا جاؤ۔" اللہ کے ہاں دین کا وہی عمل پسند ہے جس پر عمل کرنے والا ہمیشگی کرے۔ ابواسامہ کی روایت میں ہے، یہ بنو اسد کی عورت تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1834]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ، لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں اونگھنے لگے تو وہ سو جائے حتیٰ کہ نیند جاتی رہے کیونکہ جب تم میں سے کوئی شخص اونگھ کی حالت میں نماز پڑھتا ہے تو وہ ممکن ہے وہ استغفار کرنے چلے لیکن (اس کی بجائے) اپنے آپ کو برا بھلا کہنے لگے۔" [صحيح مسلم/حدیث: 1835]
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ، فَاسْتَعْجَمَ الْقُرْآنُ عَلَى لِسَانِهِ، فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُولُ فَلْيَضْطَجِعْ ".
ہمام بن منبہ نے کہا: یہ احادیث ہیں جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے بیان کی ہیں، پھر ان میں سے کچھ احادیث ذکر کیں، ان میں سے یہ بھی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی شخص رات کو قیام کرے اور اس کی زبان پر قراءت مشکل ہو جائے اور اسے پتہ نہ چلے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے تو اسے لیٹ جانا چاہیے۔" [صحيح مسلم/حدیث: 1836]
|
|