کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ
قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور
کتاب #8 • کل احادیث: 114
|
33: باب الْأَمْرِ بِتَعَهُّدِ الْقُرْآنِ، وَكَرَاهَةِ قَوْلِ نَسِيتُ آيَةَ كَذَا، وَجَوَازِ قَوْلِ أُنْسِيتُهَا
باب: قرآن کی نگہبانی کرنے کا حکم اور اس قول کے کہنے کی ممانعت کہ میں فلاں آیت بھول گیا اور آیت بھلا دی گئی کہنے کے جواز میں۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ: يَرْحَمُهُ اللَّهُ، لَقَدْ أَذْكَرَنِي كَذَا وَكَذَا آيَةً، كُنْتُ أَسْقَطْتُهَا مِنْ سُورَةِ كَذَا وَكَذَا ".
ابواسامہ نے ہشام سے انھوں نے اپنے والد ( عروہ ) سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی قراءت سنی جو وہ رات کو کر رہا تھا تو فر ما یا : " اللہ اس پر رحم فر ما ئے !اس نے مجھے فلاں آیت یاد دلا دی جس کی تلاوت فلاں سورت میں چھوڑ چکا تھا
|
|
|
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يَسْتَمِعُ قِرَاءَةَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: رَحِمَهُ اللَّهُ لَقَدْ أَذْكَرَنِي آيَةً كُنْتُ أُنْسِيتُهَا ".
عبد ہ اور ابو معاویہ نے ہشام سے انھوں نے اپنے والد ( عروہ ) سے اور انھوں نے حضڑت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ایک آدمی کی قراءت سن رہے تھے تو آپ نے فر ما یا : " اللہ اس پر رحم فر ما ئے ! اس نے مجھے ایک آیت یاد دلا دی ہے جو مجھے بھلا دی گئی تھی ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ الإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ، إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ "،
امام مالک نے نافع کے واسطے سے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا " صاحب قرآن ( قرآن حفظ کرنے والے ) کی مثال پاؤں بندھے اونٹوں ( کے چرواہے ) کی مانند ہے اگر اس نے ان کی نگہداشت کی تو وہ انھیں قابو میں رکھے گا اور اگر انھیں چھوڑ دے گا تو وہ چلے جا ئیں گے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي كُلُّهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ جَمِيعًا، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ: وَإِذَا قَامَ صَاحِبُ الْقُرْآنِ فَقَرَأَهُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ذَكَرَهُ، وَإِذَا لَمْ يَقُمْ بِهِ نَسِيَهُ.
عبید اللہ ایوب اور موسیٰ بن عقبہ سب نے ( جن تک سندوں کے مختلف سلسلے پہنچے ) نافع سے انھوں نے حضڑت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مالک کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی اور موسیٰ بن عقبہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے : " جب صاحب قرآن قیام کرے گا اور رات دن اس کی قراءت کرے گا تو وہ اسے یاد رکھے گا اور جب اس ( کی قراءت ) کے ساتھ قیام نہیں کرے گا تو وہ اسے بھول جا ئے گا ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وإسحاق بن إبراهيم ، قَالَ إِسْحَاق: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِئْسَمَا لِأَحَدِهِمْ يَقُولُ: نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ، اسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ، فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا، مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ، مِنَ النَّعَمِ بِعُقُلِهَا ".
منصور نے ابو وائل ( شفیق بن سلمہ ) سے اور انھوں نے حضڑت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کسی بھی انسان کے لیے انتہائی ناز یبا بات ہے کہ وہ کہے ۔ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں بلکہ وہ بھوادیا گیا ہے قرآن کو یاد کرتے رہو کیونکہ وہ لو گوں کے سینوں سے دور بھاگنے میں رسیوں سمیت بھا گ جا نے والے اونٹوں سے بھی بڑھ کر ہے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي وَأَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : تَعَاهَدُوا هَذِهِ الْمَصَاحِفَ، وَرُبَّمَا قَالَ: الْقُرْآنَ، فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ، مِنَ النَّعَمِ، مِنْ عُقُلِهِ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ ".
اعمش نے شفیق بن سلمہ سے روا یت کی انھوں نے کہا ۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا ان مصاحف ۔ ۔ اور کبھی کہا : قرآن ۔ ۔ کے ساتھ تجدید عہد کرتے رہا کرو کیونکہ وہ انسانوں کے سینوں سے بھا گ جا نے میں اپنے پاؤں کی رسیوں سے نکل بھاگنے والے اونٹوں سے بھی بڑھ کر ہے کہا : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا ہے ۔ " تم میں سے کسی کو یہ نہیں کہنا چا ہیے کہ میں فلا ں فلا ں آیت بھول گیا ہوں بلکہ اسے بھلوا دیا گیا ہے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " بِئْسَمَا لِلرَّجُلِ، أَنْ يَقُولَ: نَسِيتُ سُورَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ، أَوْ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ ".
عبدہ بن ابی لبابہ نے شفیق بن سلمہ سے روایت کی انھوں نے کہا : میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہو ئے سنا انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے ہو ئے سنا : " کسی آدمی کے لیے یہ بہت بری بات ہے کہ وہ کہے میں فلا ں فلاں سورت بھول گیا یا فلا ں فلاں آیت بھول گیا بلکہ اسے بھلوا دیا گیا ہے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَعَاهَدُوا هَذَا الْقُرْآنَ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَهُوَ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنَ الإِبِلِ فِي عُقُلِهَا "، وَلَفْظُ الْحَدِيثِ لِابْنِ بَرَّادٍ.
عبد اللہ بن براد اشعری اور ابو کریب نے کہا ہمیں ابو اسامہ نے برید سے انھوں نے ابو بردہ سے انھوں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " قرآن کی نگہداشت کرو اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جا ن ہے ! یہ بھا گنے میں پاؤں بندھے اونٹؤں سے بڑھ کر ہے ۔ اس حدیث کے الفاظ ابن براد ( کی روایت ) کے ہیں ۔
|
|
|
34: باب اسْتِحْبَابِ تَحْسِينِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ:
باب: خوش آوازی سے قرآن پڑھنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ، مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ ".
سفیان بن عیینہ نے زہری سے انھوں نے ابو سلمہ سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی وہ اس ( فر ما ن ) کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا تے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اللہ تعا لیٰ نے ( کبھی ) کسی چیز پر اس قدر کان نہیں دھرا ( توجہ سے نہیں سنا ) جتنا کسی خوش آواز نبی ( کی آواز ) پر کان دھرا جس نے خوش الحانی سے قراءت کی ۔
|
|
|
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: كَمَا يَأْذَنُ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ.
یونس اور عمر ( بن حارث ) دونوں نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ یہ روایت کی اس میں ) ما اذن لنبي کے بجا ئے ) كما ياذن لنبي ( جس طرح ایک نبی کے لیے کان دھرتا ہے جو خوش الحانی سے قراءت کررہا ہو ۔ ) کے الفاظ ہیں
|
|
|
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ، مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ حَسَنِ الصَّوْتِ، يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ، يَجْهَرُ بِهِ ".
عبد العزیز بن محمد نے کہا : یزید بن ہاد نے ہمیں محمد بن ابرا ہیم سے حدیث بیان کی انھوں نے ابو سلمہ سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے ہوئے سنا : اللہ تعا لیٰ نے ( کبھی ) کسی چیز پر اس طرح کان نہیں دھرا جس طرح کسی خوش آواز نبی ( کی قراءت ) پر جب وہ بلند آواز کے ساتھ خوش الحانی سے قراءت کرے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي ابْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مَالِكٍ ، وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ سَوَاءً وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلَمْ يَقُلْ: سَمِعَ.
عمر بن مالک اور حیوہ بن شریح نے ابن ہاد سے اسی سند کے ساتھ بالکل اس جیسی روا یت بیان کی اور انھوں نے ( ان رسول الله ) ( بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا ) کہا اور سَمِعَ ( اس نے سنا ) کا لفظ نہیں بولا ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هِقْلٌ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ، كَأَذَنِهِ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ، يَجْهَرُ بِهِ ".
حییٰ بن ابی کثیرؒ نے ابو سلمہ سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : اللہ تعا لیٰ نے ( کبھی ) کسی چیز پر اس طرح کا ن نہیں دھرا جیسے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( کی آواز ) پر کا ن دھرتا ہے جو بلند آواز کے ساتھ خوش الحانی سے قراءت کرتا ہے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، غَيْرَ أَنَّ ابْنَ أَيُّوبَ، قَالَ فِي رِوَايَتِهِ: كَإِذْنِهِ.
یحییٰ بن ایوب قتیبہ بن سعید اور ابن حجر نے کہا : ہمیں اسماعیل بن جعفر نے محمد بن عمرو سے حدیث بیان کی انھوں نے ابو سلمہ سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یحییٰ بن ابی کثیر کی حدیث کی طرح روا یت بیان کی مگر ابن ایوب نے اپنی روا یت میں ( كاذنه کے بجا ئے ) كاذنه ( جس طرح وہ اجازت دیتا ہے ) کہا ۔ اس ( طرح ما اذن الله کا معنی ہو گا اللہ تعا لیٰ نے ( بار یابی کی اجازت نہیں دی ۔)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ وَهُوَ ابْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَوِ الأَشْعَرِيَّ، أُعْطِيَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ ".
حضرت برید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " عبد اللہ بن قیس ۔ ۔ یا اشعری ۔ ۔ ۔ کو آل داودکی بنسریوں ( خوبصورت آوازوں ) میں سے ایک بنسری ( خوبصورت آواز ) عطاکی گئی ہے
|
|
|
وحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي مُوسَى: " لَوْ رَأَيْتَنِي وَأَنَا أَسْتَمِعُ لِقِرَاءَتِكَ الْبَارِحَةَ، لَقَدْ أُوتِيتَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ ".
(حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فر ما یا ) : کیا ہی خوب ہو تا ) کاش! تم مجھے دیکھتے جب گزشتہ رات میں بڑے انہماک سے تمھاری قراءت سن رہا تھا تمھیں آل داؤدکی خوبصورت آوازوں میں سے ایک خوبصورت آوازدی گئی ہے ۔
|
|
|
35: باب ذِكْرِ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةَ الْفَتْحِ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ:
باب: فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سورۃ الفتح پڑھنا۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيَّ ، يَقُولُ: " قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فِي مَسِيرٍ لَهُ سُورَةَ الْفَتْحِ عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَرَجَّعَ فِي قِرَاءَتِهِ "، قَالَ مُعَاوِيَةُ: لَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ يَجْتَمِعَ عَلَيَّ النَّاسُ، لَحَكَيْتُ لَكُمْ قِرَاءَتَهُ.
عبداللہ بن ادریس اور وکیع نے شعبہ سے اور انھوں نے معاویہ بن قرہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے سال اپنے سفر میں اپنی سواری پر سورہ فتح کی تلاوت فرمائی اور اپنی قراءت میں آواز کو دہرایا ۔ معاویہ نے کہا : اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ میرے گرد جمع ہوجائیں گے تو میں تمھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی قراء ت سناتا ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى نَاقَتِهِ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْحِ "، قَالَ: فَقَرَأَ ابْنُ مُغَفَّلٍ، وَرَجَّعَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: لَوْلَا النَّاسُ، لَأَخَذْتُ لَكُمْ بِذَلِكَ الَّذِي ذَكَرَهُ ابْنُ مُغَفَّلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد بن جعفر نے کہا : شعبہ نے ہمیں معاویہ بن قرہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عبداللہ بن مغفل سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن اپنی اونٹنی پر ( سوار ) سورہ فتح پڑھتے ہوئے دیکھا ۔ ( معاویہ بن قرہ نے ) کہا : حضرت ابن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےقراءت کی اور اس میں ترجیع کی ، معاویہ نے کہا : اگر مجھے لوگوں ( کے اکھٹے ہوجانے ) کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمھارے لئے ( قراءت کا ) وہی ( طریقہ اختیار ) کرتا جو حضرت ابن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کیا تھا ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَفِي حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: عَلَى رَاحِلَةٍ يَسِيرُ، وَهُوَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْحِ.
خالد بن حارث اور معاذ نے کہا : شعبہ نے ہمیں اسی سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث بیان کی ، خالد بن حارث کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( سورہ فتح تلاوت کرتے ہوئے اپنی ) سواری پر سفر کررہے تھے ۔
|
|
|
36: باب نُزُولِ السَّكِينَةِ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ:
باب: قرأت قرآن کی برکت سے تسکین کا اترنا۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: " كَانَ رَجُلٌ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْكَهْفِ وَعِنْدَهُ فَرَسٌ مَرْبُوطٌ بِشَطَنَيْنِ، فَتَغَشَّتْهُ سَحَابَةٌ فَجَعَلَتْ تَدُورُ وَتَدْنُو، وَجَعَلَ فَرَسُهُ يَنْفِرُ مِنْهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: تِلْكَ السَّكِينَةُ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ ".
ابو خثیمہ نے ابو اسحاق سے اور انھوں نے حضرت بر اء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ایک آدمی سورہ کہف کی تلاوت کررہاتھا اور اس کے پاس ہی دو رسیوں میں بندھا ہواگھوڑا ( موجود ) تھا ۔ تو اسے ایک بدلی نے ڈھانپ لیا ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ: " قَرَأَ رَجُلٌ الْكَهْفَ، وَفِي الدَّارِ دَابَّةٌ فَجَعَلَتْ تَنْفِرُ، فَنَظَرَ، فَإِذَا ضَبَابَةٌ أَوْ سَحَابَةٌ قَدْ غَشِيَتْهُ، قَالَ: فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " اقْرَأْ فُلَانُ، فَإِنَّهَا السَّكِينَةُ تَنَزَّلَتْ عِنْدَ الْقُرْآنِ أَوْ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ ".
محمد بن جعفر نے کہا : ہم سے شعبہ نے ابو اسحاق سے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے کہا : میں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : ایک آدمی نے سورہ کہف کی قراءت کی ۔ گھرمیں ( اس وقت ) ایک چوپا یہ بھی تھا ۔ وہ بدکنے لگا اس شخص نے دیکھا کہ جا نور کے اوپر دھندیا بدلی تھی جو اس پر چھائی ہو ئی ہے تو اس نے یہ واقعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا آپ نے فر ما یا : اے شخص ! پڑھا کرو یہ تو سکینت تھی جو قراءت کے وقت اتری ( یا قرآن کی خاطر نازل ہو ئی ۔)
|
|
|
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ: فَذَكَرَا نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُمَا قَالَا: تَنْقُزُ.
عبد الرحمٰن بن مہدی اور داؤد نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابو اسحاق سے حدیث بیان کی انھوں نے کہا : میں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہو ئے سنا ۔ ۔ ۔ آگے دونوں ( عبد الرحمٰن بن مہدی اور ابوداؤد ) نے سابقہ حدیث کے مانند ذکر کیا ۔ البتہ اتنا فرق ہے کہ انھوں نے ( تنفر " وہ بدکنے لگا " کے بجا ئے ) تنقز ( وہ اچھلنے لگا ) کہا
|
|
|
وحَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ ، حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ بَيْنَمَا هُوَ لَيْلَةً يَقْرَأُ فِي مِرْبَدِهِ إِذْ جَالَتْ فَرَسُهُ فَقَرَأَ، ثُمَّ جَالَتْ أُخْرَى فَقَرَأَ، ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا، قَالَ أُسَيْدٌ: فَخَشِيتُ أَنْ تَطَأَ يَحْيَى، فَقُمْتُ إِلَيْهَا، فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فَوْقَ رَأْسِي، فِيهَا أَمْثَالُ السُّرُجِ عَرَجَتْ فِي الْجَوِّ حَتَّى مَا أَرَاهَا، قَالَ: فَغَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَيْنَمَا أَنَا الْبَارِحَةَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ أَقْرَأُ فِي مِرْبَدِي، إِذْ جَالَتْ فَرَسِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ، قَالَ: فَقَرَأْتُ، ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ، قَالَ: فَقَرَأْتُ، ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ، قَالَ: فَانْصَرَفْتُ، وَكَانَ يَحْيَى قَرِيبًا مِنْهَا، خَشِيتُ أَنْ تَطَأَهُ، فَرَأَيْتُ مِثْلَ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ السُّرُجِ، عَرَجَتْ فِي الْجَوِّ حَتَّى مَا أَرَاهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ كَانَتْ تَسْتَمِعُ لَكَ، وَلَوْ قَرَأْتَ لَأَصْبَحَتْ يَرَاهَا النَّاسُ مَا تَسْتَتِرُ مِنْهُمْ ".
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ حجرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک رات اپنے باڑے میں قراءت کر رہے تھے کہ اچانک ان کا گھوڑا بدکنے لگا انھوں نے پھر پڑھا وہ دوبارہ بدکا پھر پڑھا وہ پھر بدکا ۔ اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : مجھے خوف پیدا ہوا کہ وہ ( میرے بیٹے ) یحییٰ کو روند ڈالے گا میں اٹھ کر اس کے پاس گیا تو اچانک چھتری جیسی کو ئی چیز میرے سر پر تھی اس میں کچھ چراغوں جیسا تھا وہ فضا میں بلند ہو گئی حتیٰ کہ مجھے نظر آنا بند ہو گئی کہا : میں صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول !اس اثنا میں کہ کل میں آدھی رات کے وقت اپنے باڑے میں قراءت کر رہا تھا کہ اچانک میرا گھوڑا بدکنے لگا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : ابن حضیر!پڑھتے رہتے ۔ " میں نے عرض کی : میں پڑھتا رہا پھر اس نے دوبارہ اچھل کود کی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : ابن حضیر! پڑھتے رہتے ۔ میں نے کہا : میں نے قراءت جاری رکھی اس نے کچھ بدک کر چکر لگانے شروع کر دیے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ابن حضیر! پڑھتے رہتے ۔ میں نے کہا : پھر میں نے چھوڑ دیا ۔ ( میرا بیٹا ) یحییٰ اس کے قریب تھا میں ڈر گیا کہ وہ اسے روند دے گا ۔ تو میں چھتری جیسی چیز دیکھی اس میں چراغوں کی طرح کی چیزیں تھیں وہ فضا میں بلند ہو ئی حتیٰ کہ مجھے نظر آنی بند ہو گئی اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " وہ فرشتے تھے جو تمھاری قراءت سن رہے تھے اور اگر تم پڑھتے رہتے تو لوگ صبح کو دیکھ لیتے وہ ان سے اوجھل نہ ہوتے ۔
|
|
|
37: باب فَضِيلَةِ حَافِظِ الْقُرْآنِ:
باب: حافظ قرآن کی فضیلت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الأُتْرُجَّةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ، وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ التَّمْرَةِ، لَا رِيحَ لَهَا، وَطَعْمُهَا حُلْوٌ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ، وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ، لَيْسَ لَهَا رِيحٌ، وَطَعْمُهَا مُرٌّ ".
(ابو عوانہ نے قتادہ سے انھوں نے حضرت انس ) سے انھوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : اس مومن کی مثال جو قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے نارنگی کی سی ہے اس کی خوشبوبھی عمدہ ہے اور اس کا ذائقہ ( بھی خوشگوار ہے اور اس مومن کی مثال جو قرآن مجید کی تلاوت نہیں کرتا کھجور کی سی ہے اس کی خوشبو نہیں ہو تی جبکہ اس کا ذائقہ شیریں ہے اور اس منافق کی مثال جو قرآن کی تلاوت کرتا نیاز بو جیسی ہے اس کی خوشبوعمدہ ہے اور ذائقہ کڑوا ہے اور اس منافق کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا اندر ائن ( تمے ) کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی نہیں ہو تی اور اس کا ذائقہ ( بھی سخت ) کڑوا ہے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ هَمَّامٍ: بَدَلَ الْمُنَافِقِ، الْفَاجِرِ.
ہمام اور شعبہ نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کی طرح حدیث روایت کی ۔ اس میں یہ فرق ہے کہ ہمام کی روایت میں منا فق کی جگہ فاجر ( بدکردار ) کا لفظ ہے ۔
|
|
|
38: باب فَضْلِ الْمَاهِرِ بِالْقُرْآنِ وَالَّذِي يَتَتَعْتَعُ فِيهِ:
باب: قرآن کے ماہر اور اس کو اٹک اٹک کر پڑھنے والے کی فضیلت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، قَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ، وَالَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَتَتَعْتَعُ فِيهِ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ، لَهُ أَجْرَانِ ".
ابو عوانہ نے قتادہؒ سے روایت کی ، انھوں نے زراہ بن اوفیٰ ( عامری ) سے ، انھوں نےسعد بن ہشام سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قرآن مجید کا مہر قرآن لکھنے والے انتہائی معزز اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور جو انسان قرآن مجیدپڑھتاہے اور ہکلاتا ہے ۔ اور وہ ( پڑھنا ) اس کے لئے مشقت کا باعث ہے ، اس کے لئے دو اجر ہیں ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ كِلَاهُمَا، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وقَالَ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ وَالَّذِي يَقْرَأُ وَهُوَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ، لَهُ أَجْرَانِ.
ابن ابی عدی نے سعید سے روایت کی ، وکیع نے ہشام دستوائی سے روایت کی ، ان دونوں نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی البتہ وکیع کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں : " جو اسے پڑھتا ہے اور وہ اس پر گراں ہوتا ہے ، اس کے لئے دو اجر ہیں ۔
|
|
|
39: باب اسْتِحْبَابِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ عَلَى أَهْلِ الْفَضْلِ وَالْحُذَّاقِ فِيهِ وَإِنْ كَانَ الْقَارِئُ أَفْضَلَ مِنَ الْمَقْرُوءِ عَلَيْهِ:
باب: افضل کا اپنے سے کم کے آگے قرآن پڑھنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأُبَيٍّ: " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ، قَالَ: آللَّهُ سَمَّانِي لَكَ، قَالَ: اللَّهُ سَمَّاكَ لِي، قَالَ: فَجَعَلَ أُبَيٌّ يَبْكِي ".
ہمام نےکہا : ہم سے قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمھارے سامنے قراءت کروں ۔ " انھوں نےکہا : کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے سامنے میرا نام لیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے تمہارا نام لیا ۔ " تو حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ رونے لگے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا، قَالَ: وَسَمَّانِي لَكَ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَبَكَى ".
محمد بن جعفر نے کہا : ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے قتادہ کو حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کرتے سنا ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنےلَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا کی قراءت کروں ۔ " انھوں نے کہا : اور ( اللہ تعالیٰ نے ) آپ کے سامنے میرا نام لیا ہے؟آپ نے فرمایا : " ہاں ۔ " ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو وہ رودیئے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيٍّ، بِمِثْلِهِ.
خالد بن حارث نے کہا : شعبہ نے ہمیں قتادہ کے حوالے سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا ۔ ۔ ۔ ( آگے سابقہ حدیث ) کے مانند ہے ۔
|
|
|
40: باب فَضْلِ اسْتِمَاعِ الْقُرْآنِ وَطَلَبِ الْقِرَاءَةِ مِنْ حَافِظِهِ لِلاِسْتِمَاعِ وَالْبُكَاءِ عِنْدَ الْقِرَاءَةِ وَالتَّدَبُّرِ:
باب: قرآن سننے، حافظ سے اس کی فرمائش کرنے اور بوقت قرأت رونے اور غور کرنے کا بیان۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا ، عَنْ حَفْصٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَأْ عَلَيَّ الْقُرْآنَ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقْرَأُ عَلَيْكَ، وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ؟ قَالَ: إِنِّي أَشْتَهِي أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي، فَقَرَأْتُ النِّسَاءَ حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا سورة النساء آية 41 رَفَعْتُ رَأْسِي، أَوْ غَمَزَنِي رَجُلٌ إِلَى جَنْبِي، فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَرَأَيْتُ دُمُوعَهُ تَسِيلُ ".
حفص بن غیاث نے اعمش سے روایت کی ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں عبیدہ ( سلمانی ) سےاور انھوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " میرے سامنے قرآن مجید کی قراءت کرو ۔ " انھوں نے کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں آپ کو سناؤں ، جبکہ آپ پر ہی تو ( قرآن مجید ) نازل ہوا ہے؟آپ نے فرمایا : " میری خواہش ہے کہ میں اسےکسی دوسرے سے سنوں ۔ " تو میں نے سورہ نساء کی قراءت شروع کی ، جب میں اس آیت پر پہنچا : فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ شَهِيدًا " اس وقت کیا حال ہوگا ، جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان پر گواہ بنا کرلائیں گے ۔ " تو میں نے اپنا سر اٹھایا ، یا میرے پہلو میں موجود آدمی نے مجھے ٹھوکا دیا تو میں نے اپنا سر اٹھایا ، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو بہہ رہے تھے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، وَمِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ جميعا، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَزَادَ هَنَّادٌ فِي رِوَايَتِهِ، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: اقْرَأْ عَلَيَّ.
ہناد بن سری اور منجانب بن حارث تمیمی نے علی بن مسہر سے روایت کی ، انھوں نے اعمش سے اسی سندکے ساتھ روایت کی ، ہناد نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ، جب آپ منبر پر تشریف فرماتھے ، مجھ سے کہا : " مجھے قرآن سناؤ
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي مِسْعَرٌ ، وَقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : " اقْرَأْ عَلَيَّ، قَالَ: أَقْرَأُ عَلَيْكَ، وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ؟ قَالَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي، قَالَ: فَقَرَأَ عَلَيْهِ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ النِّسَاءِ إِلَى قَوْلِهِ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا سورة النساء آية 41 فَبَكَى "، قَالَ مِسْعَرٌ : فَحَدَّثَنِي مَعْنٌ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، شَهِيدًا عَلَيْهِمْ مَا دُمْتُ فِيهِمْ، أَوْ مَا كُنْتُ فِيهِمْ شَكَّ مِسْعَرٌ.
مسعر نے عمرو بن مرہ سے اور انھوں نے ابراہیم سے روایت کی ، انھوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : "" مجھے قرآن مجید سناؤ ۔ "" انھوں نے کہا : کیا میں آپ کو سناؤں جبکہ ( قرآن ) اترا ہی آپ پر ہے؟آپ نے فرمایا : "" مجھے اچھا لگتاہے کہ میں اسے کسی دوسرے سے سنوں ۔ "" ( ابراہیم ) نے کہا : انھوں نے آپ کے سامنے سورہ نساء ابتداء سے اس آیت تک سنائی : فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ شَهِيدًا "" اس وقت کیا حال ہوگا ، جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان پر گواہ بنا کرلائیں گے ۔ "" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس آیت پر ) رو پڑے ۔ مسعر نے ایک دوسری سند سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول نقل کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میں ان پر اس وقت تک گواہ تھا جب تک میں ان میں رہا ۔ "" مسعر کو شک ہے ۔ ما دمت فيهم کہایا ما كنت فيهم ( جب تک میں ان میں تھا ) کہا ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّه ، قَالَ: كُنْتُ بِحِمْصَ، فَقَالَ لِي بَعْضُ الْقَوْمِ " اقْرَأْ عَلَيْنَا، فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمْ سُورَةَ يُوسُفَ، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَاللَّهِ مَا هَكَذَا أُنْزِلَتْ، قَالَ: قُلْتُ: وَيْحَكَ وَاللَّهِ، لَقَدْ قَرَأْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: أَحْسَنْتَ فَبَيْنَمَا أَنَا أُكَلِّمُهُ إِذْ وَجَدْتُ مِنْهُ رِيحَ الْخَمْرِ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: أَتَشْرَبُ الْخَمْرَ، وَتُكَذِّبُ بِالْكِتَابِ، لَا تَبْرَحُ حَتَّى أَجْلِدَكَ، قَالَ: فَجَلَدْتُهُ الْحَدَّ ".
جریر نے اعمش سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے علقمہ سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : "" میں حمص میں تھا تو کچھ لوگوں نے مجھے کہا : ہمیں قرآن مجید سنائیں تو میں نے انھیں سورہ یوسف سنائی ۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : اللہ کی قسم! یہ اس طرح نہیں اتری تھی ۔ میں نے کہا : تجھ پر افسوس ، اللہ کی قسم!میں نے یہ سورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی تھی تو آ پ نے مجھ سے فرمایا : "" تو نے خوب قراءت کی ۔ "" اسی اثنا میں کہ میں اس سے گفتگو کررہا تھا تو میں نے اس ( کے منہ ) سے شراب کی بو محسوس کی ، میں نے کہا : تو شراب بھی پیتا ہے اور کتاب اللہ کی تکذیب بھی کرتا ہے؟تو یہاں سے نہیں جاسکتا حتیٰ کہ میں تجھے کوڑے لگاؤں ، پھر میں نے اسے حد کے طور پر کوڑے لگائے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ جَمِيعًا، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ لِي: أَحْسَنْتَ.
عیسیٰ بن یونس اور ابو معاویہ نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ ر وایت کی لیکن ابومعاویہ کی روایت میں فقال لي احسنت ( آپ نے مجھے فرمایا : " تو نے بہت اچھا پڑھا " ) کے الفاظ نہیں ہیں ۔
|
|
|
41: باب فَضْلِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الصَّلاَةِ وَتَعَلُّمِهِ:
باب: نماز میں قرآن پڑھنے اور اس کی فضیلت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، أَنْ يَجِدَ فِيهِ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: فَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَأُ بِهِنَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ ".
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ جب وہ ( باہر سے ) اپنے گھر واپس آئے تو اس میں تین بڑی فربہ حاملہ اونٹنیاں موجود پائے؟ " ہم نے عرض کی : جی ہاں!آپ نے فرمایا : " تین آیات جنھیں تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں پڑھتا ہے ۔ وہ اس کے لئے تین بھاری بھرکم اور موٹی تازی حاملہ اونٹنیوں سے بہتر ہیں ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ كُلَّ يَوْمٍ إِلَى بُطْحَانَ، أَوْ إِلَى الْعَقِيقِ فَيَأْتِيَ مِنْهُ بِنَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ، فِي غَيْرِ إِثْمٍ، وَلَا قَطْعِ رَحِمٍ؟ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نُحِبُّ ذَلِكَ، قَالَ: " أَفَلَا يَغْدُو أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيَعْلَمُ، أَوْ يَقْرَأُ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ، وَثَلَاثٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثٍ، وَأَرْبَعٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَرْبَعٍ، وَمِنْ أَعْدَادِهِنَّ مِنَ الإِبِلِ؟ ".
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سےنکل کر تشریف لائے ۔ ہم صفہ ( چبوترے ) پر مووجودتھے ، آپ نے فرمایا : " تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ روزانہ صبح بطحان یا عقیق ( کی وادی ) میں جائے اور وہاں سے بغیر کسی گناہ اور قطع رحمی کے دو بڑے بڑے کوہانوں والی اونٹنیاں لائے؟ " ہم نے عرض کی ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم سب کو یہ بات پسندہے آپ نے فرمایا : " پھر تم میں سے صبح کوئی شخص مسجد میں کیوں نہیں جاتا کہ وہ اللہ کی کتاب کی دو آیتیں سیکھے یا ان کی قراءت کرے تو یہ اس کے لئے دو اونٹنیوں ( کے حصول ) سے بہتر ہے اور یہ تین آیات تین اونٹنیوں سے بہتر اور چار آیتیں اس کے لئے چار سے بہتر ہیں اور ( آیتوں کی تعداد جو بھی ہو ) اونٹوں کی اتنی تعداد سے بہتر ہے ۔
|
|
|
42: باب فَضْلِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَسُورَةِ الْبَقَرَةِ:
باب: قرأت قرآن اور سورۂ بقرہ کی فضیلت۔
|
|
|
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ وَهُوَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ، عَنْ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ، فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لِأَصْحَابِهِ، اقْرَءُوا الزَّهْرَاوَيْنِ الْبَقَرَةَ وَسُورَةَ آلِ عِمْرَانَ فَإِنَّهُمَا تَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ، أَوْ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ، أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ أَصْحَابِهِمَا، اقْرَءُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ، وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ، وَلَا تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ "، قَالَ مُعَاوِيَةُ: بَلَغَنِي أَنَّ الْبَطَلَةَ السَّحَرَةُ.
ابو توبہ ربیع بن نافع نے بیان کیا کہ ہم سے معاویہ ، یعنی ابن اسلام نے حدیث بیان کی ، انھوں نے زید سے روایت کی کہ انھوں نے ابو سلام سے سنا ، وہ کہتے تھے : مجھ سے حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی ، انھوں کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا : "" قرآن پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اصحاب قرآن ( حفظ وقراءت اور عمل کرنے والوں ) کا سفارشی بن کر آئےگا ۔ دو روشن چمکتی ہوئی سورتیں : البقرہ اور آل عمران پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جیسے وہ دو بادل یا دو سائبان ہوں یا جیسے وہ ایک سیدھ میں اڑتے پرندوں کی وہ ڈاریں ہوں ، وہ اپنی صحبت میں ( پڑھنے اور عمل کرنے ) والوں کی طرف سے دفاع کریں گی ۔ سورہ بقرہ پڑھا کرو کیونکہ اسے حاصل کرنا باعث برکت اور اسے ترک کرناباعث حسرت ہے اور باطل پرست اس کی طاقت نہیں رکھتے ۔ "" معاویہ نے کہا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ باطل پرستوں سے ساحر ( جادوگر ) مراد ہیں ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَكَأَنَّهُمَا فِي كِلَيْهِمَا، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ مُعَاوِيَةَ: بَلَغَنِي.
یحییٰ بن حسان نے کہا : معاویہ بن سلام نے ہمیں اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی لیکن انہوں نے دونوں جگہوں پراوكانهما ( یا جیسے وہ ) کی جگہ " وكانهما " ( اور جیسے وہ ) کہا اور معاویہ کا قول ہے کہ " مجھے یہ خبرپہنچی " ذکر نہیں کیا ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْكِلَابِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يُؤْتَى بِالْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَهْلِهِ الَّذِينَ كَانُوا يَعْمَلُونَ بِهِ، تَقْدُمُهُ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَآلُ عِمْرَانَ وَضَرَبَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثَلَاثَةَ أَمْثَالٍ مَا نَسِيتُهُنَّ بَعْدُ، قَالَ: كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ ظُلَّتَانِ سَوْدَاوَانِ بَيْنَهُمَا شَرْقٌ، أَوْ كَأَنَّهُمَا حِزْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا ".
حضرت نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " قیامت کے دن قرآن اور قرآن والے ایسے لوگوں کو لایا جائے گا جو اس پر عمل کرتے تھے ، سورہ بقرہ اورسورہ آل عمران اس کے آگے آگے ہوں گی ۔ " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سورتوں کے لئے تین مثالیں دیں جن کو ( سننے کے بعد ) میں ( آج تک ) نہیں بھولا ، آپ نے فرمایا : " جیسے وہ دو بادل ہیں یا دو کالے سائبان ہیں جن کے درمیان روشنی ہے جیسے وہ ایک سیدھ میں اڑنے والے پرندوں کی دو ٹولیاں ہیں ، وہ ا پنے صاحب ( صحبت میں رہنے والے ) کی طرف سے مدافعت کریں گی ۔
|
|
|
43: باب فَضْلِ الْفَاتِحَةِ وَخَوَاتِيمِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَالْحَثِّ عَلَى قِرَاءَةِ الآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَةِ:
باب: سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتوں کی فضیلت اور ان دونوں آیتوں کو پڑھنے کی ترغیب۔
|
|
|
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنْفِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا جِبْرِيلُ قَاعِدٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعَ نَقِيضًا مِنْ فَوْقِهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: هَذَا بَابٌ مِنَ السَّمَاءِ، فُتِحَ الْيَوْمَ، لَمْ يُفْتَحْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ، فَنَزَلَ مِنْهُ مَلَكٌ، فَقَالَ: هَذَا مَلَكٌ نَزَلَ إِلَى الأَرْضِ، لَمْ يَنْزِلْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ، فَسَلَّمَ، وَقَالَ: " أَبْشِرْ بِنُورَيْنِ أُوتِيتَهُمَا لَمْ يُؤْتَهُمَا نَبِيٌّ قَبْلَكَ، فَاتِحَةُ الْكِتَابِ وَخَوَاتِيمُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، لَنْ تَقْرَأَ بِحَرْفٍ مِنْهُمَا إِلَّا أُعْطِيتَهُ ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت ہے کہ جبرئیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک انھوں نے اوپر سے ایسی آواز سنی جیسی دروازہ کھلنے کی ہوتی ہے تو انھوں نے اپنا سر اوپر اٹھایا اور کہا : آسمان کا یہ دروازہ آج ہی کھولا گیا ہے ، آج سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا ، اس سے ایک فرشتہ اترا تو انھوں نے کہا : یہ ایک فرشتہ آسمان سے اترا ہے یہ آج سے پہلے کبھی نہیں اترا ، اس فرشتے نے سلام کیا اور ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ) کہا : آپ کو دو نور ملنے کی خوشخبری ہو جو آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیئے گئے : ( ایک ) فاتحہ الکتاب ( سورہ فاتحہ ) اور ( دوسری ) سورہ بقرہ کی آخری آیات ۔ آپ ان دونوں میں سے کوئی جملہ بھی نہیں پڑھیں گے مگر وہ آپ کو عطا کردیا جائے گا ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: لَقِيتُ أَبَا مَسْعُودٍ عِنْدَ الْبَيْتِ، فَقُلْتُ حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ فِي الآيَتَيْنِ فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الآيَتَانِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مَنْ قَرَأَهُمَا فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ ".
زہیر نے کہا : ہم سے منصور نے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابراہیم سے اور انھوں نے عبدالرحما بن یزید سے ر وایت کی ، انھوں نے کہا : میں بیت اللہ کے پاس حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا تو میں نے کہا : مجھے آپ کے حوالے سے سورہ بقرہ کی دو آیتوں کے بارے میں حدیث پہنچی ہے ۔ تو انھوں نے کہا : ہاں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : " سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں ، جو شخص رات میں انھیں پڑھے گا وہ اس کے لئے کافی ہوں گی ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كِلَاهُمَا، عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ.
جریر اور شعبہ دونوں نے منصور سے اسی سند کے ساتھ یہی ر وایت بیان کی ہے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَرَأَ هَاتَيْنِ الآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ "، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَلَقِيتُ أَبَا مَسْعُودٍ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَسَأَلْتُهُ فَحَدَّثَنِي بِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
علی بن مسہر نے اعمش سے روایت کی ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے عبدالرحمان بن یزید سے ، انھوں نے علقمہ بن قیس سے اور انھوں نے حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جس نے رات کے وقت سورہ بقرہ کی یہ آخری دو آیات پڑھیں ، وہ اس کے لئے کافی ہوں گی ۔ "" عبدالرحمان نے کہا : میں خود ابومسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ملا ، وہ بیت اللہ کا طواف کررہے تھے ، میں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے مجھے یہ روایت ( براہ راست ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنائی ۔
|
|
|
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
عیسیٰ بن یونس اور عبداللہ بن نمیر نے اعمش سے باقی ماندہ اسی سند کےساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
حفص اور ابو معاویہ نے بھی اعمش سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ اسی کے مانند ر وایت بیان کی ہے ۔
|
|
|
44: باب فَضْلِ سُورَةِ الْكَهْفِ وَآيَةِ الْكُرْسِيِّ:
باب: سورۃ کہف اور آیت الکرسی کی فضیلت۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْكَهْف عُصِمَ مِنَ الدَّجَّالِ ".
معاذ بن ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے قتادہ سے ، انھوں نے سالم بن ابی جعد غطفانی سے ، انھوں نے معدان بن ابی طلحہ یعمری سے اور انھوں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس ( مسلمان ) نے سورہ کہف کی پہلی دس آیات حفظ کرلیں ، اسے دجال کے فتنے سے محفوظ کرلیا گیا ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ جَمِيعًا، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، قَالَ شُعْبَةُ: مِنْ آخِرِ الْكَهْفِ، وقَالَ هَمَّامٌ: مِنْ أَوَّلِ الْكَهْف، كَمَا قَالَ هِشَامٌ.
شعبہ اور ہمام نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ۔ اس میں شعبہ نے سورہ کہف کی آخری ( دس ) آیات کہا ہے جبکہ ہمام نے ابتدائی ( دس ) آیات کہا ہے جس طرح ہشام کی روایت ہے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: " يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، أَتَدْرِي أَيُّ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَعَكَ أَعْظَمُ؟ قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، " أَتَدْرِي أَيُّ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَعَكَ أَعْظَمُ؟ قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ سورة البقرة آية 255 "، قَالَ: فَضَرَبَ فِي صَدْرِي، وَقَالَ: وَاللَّهِ لِيَهْنِكَ الْعِلْمُ أَبَا الْمُنْذِرِ.
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے ابو منذر!کیا تم جانتے ہو کتاب اللہ کی کونسی آیت ، جو تمھارے پاس ہے ، سب سے عظیم ہے؟ " کہا : میں نے عرض کی : اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جانتے ہیں ۔ آپ نے ( دوبارہ ) فرمایا : " اے ابو منذر! کیا تم جانتے ہو اللہ کی کتاب کی کونسی آیت جو تمہارے پاس ہے ، سب سے عظمت والی ہے؟ " کہا : میں نے عرض کیاللَّهُ لَا إِلہ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ کہا : تو آپ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا : اللہ کی قسم !ابو منذر! تمھیں یہ علم مبارک ہو ۔
|
|
|
45: باب فَضْلِ قِرَاءَةِ: {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ}:
باب: «قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ» کی فضیلت۔
|
|
|
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ فِي لَيْلَةٍ ثُلُثَ الْقُرْآنِ؟ قَالُوا: وَكَيْفَ يَقْرَأْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ؟ قَالَ: " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ".
شعبہ نے قتادہ سے ، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے ، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ سے ، انھوں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم میں سے کوئی شخص اتنا بھی نہیں کرسکتا کہ ایک رات میں تہائی قرآن کی تلاوت کرلے؟ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے عرض کی : ( کوئی شخص ) تہائی قرآن کی تلاوت کیسے کرسکتاہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ جَمِيعًا، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا، مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ جَزَّأَ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ، فَجَعَلَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ جُزْءًا مِنْ أَجْزَاءِ الْقُرْآنِ ".
سعید بن ابی عروبہ اور ابان عطار نے قتادہ سے اسی سابقہ سند کے ساتھ روایت کی ، ان دونوں ( سعید اور ابان ) کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے تین اجزاء ( حصے ) کئے ہیں اور قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ کو قرآن کے اجزاء میں سے ایک جز قرار دیاہے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْشُدُوا، فَإِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ، فَحَشَدَ مَنْ حَشَدَ، ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُمَّ دَخَلَ، فَقَالَ: بَعْضُنَا لِبَعْضٍ، إِنِّي أُرَى هَذَا خَبَرٌ جَاءَهُ مِنَ السَّمَاءِ فَذَاكَ الَّذِي أَدْخَلَهُ، ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي قُلْتُ لَكُمْ: " سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ، أَلَا إِنَّهَا تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ".
یزید بن کیسان نے کہا : ہمیں ابو حازم نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اکھٹے ہوجاؤ!میں تمھارے سامنے ایک تہائی قرآن مجید پڑھوں گا ۔ " جنھوں نے جمع ہونا تھا وہ جمع ہوگئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ کی قراءت فرمائی ، پھر گھر میں چلے گئے تو ہم میں سے ایک سے دوسرے نے کہا : مجھے لگتاہے آپ کے پاس شاید آسمان سے کوئی اہم خبرآئی ہے ۔ جو آپ کو اندر لے گئی ہے ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( دوبارہ ) باہر تشریف لائے اور فرمایا : " میں نے تم سے کہا تھا نا کہ میں تمھیں تہائی قرآن سناؤں گا ، جان لو یہ کہ ( سورت ) قرآن کے تیسرے حصے کے برابر ہے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ بَشِيرٍ أَبِي إِسْمَاعِيل ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ؟ فَقَرَأَ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ {1} اللَّهُ الصَّمَدُ {2} سورة الإخلاص آية 1-2 حَتَّى خَتَمَهَا ".
ابواسماعیل بشیر نے ابو حازم سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : " میں تمھارے سامنے تہائی قرآن کی قراءت کرتا ہوں ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ﴿ اللَّهُ الصَّمَدُ پڑھا یہاں تک کہ اسے ( سورت ) کو ختم کردیا ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، أَنَّ أَبَا الرِّجَالِ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَكَانَتْ فِي حَجْرِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " بَعَثَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ، وَكَانَ يَقْرَأُ لِأَصْحَابِهِ فِي صَلَاتِهِمْ فَيَخْتِمُ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَلَمَّا رَجَعُوا، ذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: سَلُوهُ، لِأَيِّ شَيْءٍ يَصْنَعُ ذَلِكَ؟ فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ: " لِأَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمَنِ "، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَ بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَخْبِرُوهُ أَنَّ اللَّهَ يُحِبُّهُ.
عمرہ بنت عبدالرحمان نے ، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی پرورش میں تھیں ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو ایک مہم کا امیر بنا کر روانہ فرمایا ، وہ اپنے ساتھیوں کی نماز میں قراءت کرتا اور ( اس کا ) اختتام قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ سے کرتا تھا ۔ جب وہ لوگ واپس آئے تو انھوں نے اس بات کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا ۔ آپ نے فرمایا : " اسے پوچھو ، وہ ایسا کس لئے کرتا تھا؟ " صحابہ کرام نے پوچھا تو اس نے جواب دیا : اس لئے کہ یہ رحمٰن ( جل وعلا ) کی صفت ہے ، اس لئے مجھے اس بات سے محبت ہے کہ میں اس کی قراءت کروں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اسے بتادو! اللہ بھی اس سے محبت کرتا ہے ۔
|
|
|
46: باب فَضْلِ قِرَاءَةِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ:
باب: معوذتین کی فضیلت۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَمْ تَرَ آيَاتٍ أُنْزِلَتِ اللَّيْلَةَ، لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قَطُّ؟ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ".
بیان ( بن بشر ) نے قیس بن ابی حازم سے اور انھوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تمھیں معلوم نہیں کہ جو آیتیں آج مجھ پر نازل کی گئی ہیں ان جیسی ( آیتیں ) کبھی دیکھی تک نہیں گئیں؟ " قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۔
|
|
|
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُنْزِلَ، أَوْ " أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَاتٌ، لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قَطُّ، الْمُعَوِّذَتَيْنِ ".
محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا ، کہا : میرے والد نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھ سے اسماعیل نے حدیث بیان کی ، انھوں نے قیس سے اور انھوں نے عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " مجھ پر ایسی آیتیں اتاری گئی ہیں کہ ان جیسی ( آیتیں ) کبھی دیکھی تک نہیں گئیں ۔ ( یعنی ) معوذ تین ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ إِسْمَاعِيل ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَه، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ وَكَانَ مِنْ رُفَعَاءِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
۔ وکیع اور ابو اسامہ نے اسماعیل سے اسی سند کے سات اسی طرح روایت بیان کی ، البتہ ابو اسامہ نے عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جو روایت کی ، اس میں ہے ، عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے اور وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بلند مرتبہ ساتھیوں میں سے تھے ۔
|
|
|
47: باب فَضْلِ مَنْ يَقُومُ بِالْقُرْآنِ وَيُعَلِّمُهُ وَفَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ حِكْمَةً مِنْ فِقْهٍ أَوْ غَيْرِهِ فَعَمِلَ بِهَا وَعَلَّمَهَا.
باب: قرآن پر عمل کرنے والے اور اس کے سکھانے والے کی فضیلت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ كلهم، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ، رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ، فَهُوَ يَقُومُ بِهِ، آنَاءَ اللَّيْلِ، وَآنَاءَ النَّهَارِ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا، فَهُوَ يُنْفِقُهُ، آنَاءَ اللَّيْلِ، وَآنَاءَ النَّهَارِ ".
سفیان بن عینیہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ( ابن شہاب ) زہری نے سالم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " دو چیزوں ( خوبیوں ) کے سوا کسی اور چیز میں حسد ( رشک ) کی گنجائش نہیں : ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی نعمت عنایت فرمائی ، پھر وہ دن اور رات کی گھڑیوں میں اس کے ساتھ قیام کرتا ہے ۔ اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے مال ودولت سے نوازا اور وہ دن اور رات کے اوقات میں اسے ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرتا ہے ۔
|
|
|
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا حَسَدَ إِلَّا عَلَى اثْنَتَيْنِ، رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ هَذَا الْكِتَابَ فَقَامَ بِهِ، آنَاءَ اللَّيْلِ، وَآنَاءَ النَّهَارِ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَتَصَدَّقَ بِهِ، آنَاءَ اللَّيْلِ، وَآنَاءَ النَّهَارِ ".
یونس نے ابن شہاب ( زہری ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے والد سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دو چیزوں کے علاوہ کسی چیز میں حسد ( رشک ) نہیں : ایک اس شخص سے متعلق جسے اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب عنایت فرمائی اور اس نے دن رات کی گھڑیوں میں اس کے ساتھ قیام کیا اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال سے نوازا اور اس نے دن رات کے اوقات میں اسے صدقہ کیا ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ، رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا، فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ حِكْمَةً، فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا ".
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دو باتوں کے سوا کسی چیز میں حسد ( رشک ) نہیں کیا جاسکتا : ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا پھر اسے اس پر مسلط کردیا کہ وہ اس مال کو حق کی راہ میں بے دریغ لٹائے ۔ دوسرا وہ انسان جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت ( دانائی ) عطا کی اور وہ اس کے مطابق ( اپنے اور دوسروں کے ) معاملات طے کر تا ہے اور اس کی تعلیم دیتاہے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ، لَقِيَ عُمَرَ بِعُسْفَانَ وَكَانَ عُمَرُ يَسْتَعْمِلُهُ عَلَى مَكَّةَ، فَقَالَ: مَنِ اسْتَعْمَلْتَ عَلَى أَهْلِ الْوَادِي؟ فَقَالَ: ابْنَ أَبْزَى، قَالَ: وَمَنْ ابْنُ أَبْزَى؟ قَالَ: مَوْلًى مِنْ مَوَالِينَا، قَالَ: فَاسْتَخْلَفْتَ عَلَيْهِمْ مَوْلًى، قَالَ: إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِنَّهُ عَالِمٌ بِالْفَرَائِضِ، قَالَ عُمَرُ : أَمَا إِنَّ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ ".
ابراہیم بن سعد نے ابن شہاب ( زہری ) سے اور انھوں نے عامر بن واثلہ سے روایت کی کہ نافع بن عبدالحارث ( مدینہ اور مکہ کے راستے پر ایک منزل ) عسفان آکر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملے ، ( وہ استقبال کے لئے آئے ) اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ انھیں مکہ کا عامل بنایا کرتے تھے ، انھوں ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اہل وادی ، یعنی مکہ کے لوگوں پر ( بطور نائب ) کسے مقرر کیا؟نافع نے جواب دیا : ابن ابزیٰ کو ۔ انھوں نے پوچھا ابن ابزیٰ کون ہے؟کہنے لگے : ہمارے آزاد کردہ غلاموں میں سے ایک ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : تم نے ان پر ایک آزاد کردہ غلام کو اپنا جانشن بنا ڈالا؟تو ( نافع نے ) جواب دیا : و ہ اللہ عزوجل کی کتاب کو پڑھنے والا ہے اور فرائض کا عالم ہے ۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ( ہاں واقعی ) تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب ( قرآن ) کے ذریعے بہت سے لوگوں کو اونچا کردیتا ہے اور بہتوں کو اس کے ذریعے سے نیچا گراتا ہے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ اللَّيْثِيُّ ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ الْخُزَاعِيَّ، لَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِعُسْفَانَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ.
شعیب نے زہری سے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے عامر بن واثلہ لیثی نے حدیث بیان کی کہ نافع بن عبدالحارث خزاعی نے عسفان ( کے مقام ) پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات کی ۔ ۔ ۔ ( آگے ) زہری سے ابراہیم بن سعد کی روایت کی طرح بیان کیا ۔
|
|
|
48: باب بَيَانِ أَنَّ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ وَبَيَانِ مَعْنَاهُ:
باب: قرآن کا سات حرفوں میں اترنے اور اس کے مطلب کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا، فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ، ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ، فَجِئْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا، " يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْسِلْهُ اقْرَأْ، فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَكَذَا أُنْزِلَتْ، ثُمَّ قَالَ لِي: اقْرَأْ، فَقَرَأْتُ، فَقَالَ: هَكَذَا أُنْزِلَتْ، إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ ".
مالک نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عروہ بن زبیر سے انھوں نے عبدالرحمان بن عبدالقاری سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے ہشام بن حکیم بن حزام کو سورہ فرقان اس سے مختلف ( صورت میں ) پڑھتے سنا جس طرح میں پڑھتا تھا ۔ ، حالانکہ مجھے ( خود ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت پڑھائی تھی ، قریب تھا کہ میں اس سے جھگڑا کرنے میں جلد بازی سے کام لیتا لیکن میں نے اس کو مہلت دی حتیٰ کہ وہ نماز سے فارغ ہوگیا ، پھر میں نے اسے گلے کی چادر سے اسے باندھا اور کھینچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س لے آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے اس کو اس طرح سورہ فرقان پڑھتے ہوئےسنا ہے جو اس سے مختلف ہے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وہ سورت پڑھائی تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اسے چھوڑ دو ( اور اسے مخاطت ہوکر فرمایا : ) پڑھو ۔ " تو اس نے اسی طرح پڑھا جس طرح میں نے اسے پڑھتے ہوئے سنا تھا ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ سورت اسی طرح نازل ہوئی ہے ۔ " پھر مجھ سے کہا : " تم پڑھو ۔ " میں نے پڑھا تو ( اس پر بھی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ سورت اسی طرح اتری تھی ۔ بلاشبہ یہ قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے ۔ پس ان میں سے جو تمھارے لئے آسان ہواسی کے مطابق پڑھو ۔
|
|
|
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخَرَمَةَ ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ أَخْبَرَاهُ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمٍ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ، وَزَادَ، فَكِدْتُ أُسَاوِرُهُ فِي الصَّلَاةِ، فَتَصَبَّرْتُ حَتَّى سَلَّمَ.
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ مسود بن مخرمہ اور عبدالرحمان بن عبدالقاری نے بتایا کہ ان دونوں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہشام بن حکیم کو سورہ فرقان پڑھتے سنا ۔ ۔ ۔ آگے اسی کے مانند حدیث سنائی اور یہ اضافہ کیا کہ قریب تھا کہ میں اس پر نماز پر ہی پل پڑوں ، میں نے بڑی مشکل سے صبر کیا یہاں تک کہ اس نے سلام پھیرا ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، كَرِوَايَةِ يُونُسَ بِإِسْنَادِهِ.
معمر نے زہری سے یونس کی روایت کی طرح اسی کی سند کے ساتھ روایت کی ۔
|
|
|
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَقْرَأَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى حَرْفٍ فَرَاجَعْتُهُ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيدُهُ فَيَزِيدُنِي، حَتَّى انْتَهَى إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ "، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : بَلَغَنِي أَنَّ تِلْكَ السَّبْعَةَ الأَحْرُفَ، إِنَّمَا هِيَ فِي الأَمْرِ الَّذِي يَكُونُ وَاحِدًا لَا يَخْتَلِفُ فِي حَلَالٍ وَلَا حَرَامٍ.
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جبرئیل علیہ السلام نے مجھے ایک حرف پر ( قرآن ) پڑھایا ، میں نے ان سے مراجعت کی ، پھر میں زیادہ کا تقاضا کرتا رہا اور وہ میرے لئے حروف میں اضافہ کرتے گئے یہاں تک کہ سات حرفوں تک پہنچ گئے ۔ "" ابن شہاب نے کہا : مجھے خبر پہنچی کہ پڑھنے کی یہ سات صورتیں ( سات حروف ) ایسے معاملے میں ہوتیں جو ( حقیقتاً اور معناً ) ایک ہی رہتا ، ( ان کی وجہ سے ) حلال وحرام کے اعتبار سے کوئی اختلاف نہ ہوتا ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.
ہمیں معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ خبر دی ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ، فَدَخَلَ رَجُلٌ يُصَلِّي فَقَرَأَ قِرَاءَةً، أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ، ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ قِرَاءَةً سِوَى قَرَاءَةِ صَاحِبِهِ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الصَّلَاةَ، دَخَلْنَا جَمِيعًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّ هَذَا قَرَأَ قِرَاءَةً، أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ، وَدَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ سِوَى قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ، فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَءَا فَحَسَّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَأْنَهُمَا، فَسَقَطَ فِي نَفْسِي مِنَ التَّكْذِيبِ وَلَا إِذْ كُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ غَشِيَنِي، ضَرَبَ فِي صَدْرِي، فَفِضْتُ عَرَقًا وَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَرَقًا، فَقَالَ لِي: يَا أُبَيُّ، " أُرْسِلَ إِلَيَّ أَنِ اقْرإِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ، فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي، فَرَدَّ إِلَيَّ الثَّانِيَةَ اقْرَأْهُ عَلَى حَرْفَيْنِ، فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي، فَرَدَّ إِلَيَّ الثَّالِثَةَ اقْرَأْهُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَلَكَ بِكُلِّ رَدَّةٍ رَدَدْتُكَهَا مَسْأَلَةٌ تَسْأَلُنِيهَا، فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي، وَأَخَّرْتُ الثَّالِثَةَ لِيَوْمٍ يَرْغَبُ إِلَيَّ الْخَلْقُ كُلُّهُمْ حَتَّى إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلامُ ".
عبداللہ بن نمیر نے کہا : اسماعیل بن ابی خالد نے ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے عبداللہ بن عیسیٰ بن عبدالرحمان بن ابی یعلیٰ سے ، انھوں نے اپنے دادا ( عبدالرحمان ) سے اور انھوں نے حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں مسجد میں تھا کہ ایک آدمی داخل ہوا ، نماز پڑھنے لگا اور اس نے جس طرح قراءت کی اس کو میں نے اس کے سامنے ناقابل مقبول قرار دے دیا ۔ پھر ایک اور آدمی آیا ، پھر ایک اور آدمی آیا ، اس نے ایسی قراءت کی جو اس کے ساتھی ( پہلے آدمی ) کی قراءت سے مختلف تھی ، جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، میں نے عرض کی کہ اس شخص نے ایسی قراءت کی جو میں نے اس کے سامنے رد کردی اور دوسرا آیا تو اس نے اپنے ساتھی سے بھی الگ قراءت کی ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا ، ان دونوں نے قراءت کی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے انداز کی تحسین فرمائی تو میرے دل میں آپ کی تکذیب ( جھٹلانے ) کا داعیہ اس زور سے ڈالا گیا جتنا اس وقت بھی نہ تھا جب میں جاہلیت میں تھا ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر طاری ہونے والی اس کیفیت کو دیکھا تو میرے سینے میں مارا جس سے میں پسینہ پسینہ ہوگیا ، جیسے میں ڈر کے عالم میں اللہ کو دیکھ رہا ہوں ، آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " میرے پاس حکم بھیجا گیا کہ میں قرآن ایک حرف ( قراءت کی ایک صورت ) پر پڑھوں ۔ تو میں نے جواباً درخواست کی کہ میری امت پر آسانی فرمائیں ۔ تو میرے پاس دوبارہ جواب بھیجا کہ میں اسے دو حرفوں پر پڑھوں ۔ میں نے پھر عرض کی کہ میری امت کے لئے آسانی فرمائیں ۔ تو میرئے پاس تیسری بار جواب بھیجا کہ اسے سات حروف پر پڑھیے ، نیز آپ کے لئے ہر جواب کے بدلے جو میں نے دیا ایک دعا ہے جو آپ مجھ سے مانگیں ۔ میں نے عرض کی : اے میرے اللہ!میری امت کو بخش دے ۔ اور تیسری دعا میں نے اس دن کے لئے موخر کرلی ہے جس دن تمام مخلوق حتیٰ کہ ابراہیم علیہ السلام بھی میری طرف راغب ہوں گے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، أَخْبَرَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ، إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى فَقَرَأَ قِرَاءَةً، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ.
محمد بن بشر نے اسماعیل بن ابی خالد سے اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ میں اس مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی داخل ہوا اور نماز پڑھی ، اس نے اس طرح قراءت کی ۔ ۔ ۔ ( آگے ) عبداللہ بن نمیر کی طرح حدیث بیان کی ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ عِنْدَ أَضَاةِ بَنِي غِفَارٍ، قَالَ: " فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ، أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ، فَقَالَ: أَسْأَلُ اللَّهَ، مُعَافَاتَهُ، وَمَغْفِرَتَهُ، وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ، أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفَيْنِ، فَقَالَ: أَسْأَلُ اللَّهَ، مُعَافَاتَهُ، وَمَغْفِرَتَهُ، وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، ثُمَّ جَاءَهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ، أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ، فَقَالَ: أَسْأَلُ اللَّهَ، مُعَافَاتَهُ، وَمَغْفِرَتَهُ، وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، ثُمَّ جَاءَهُ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ، أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَأَيُّمَا حَرْفٍ قَرَءُوا عَلَيْهِ، فَقَدْ أَصَابُوا ".
محمد بن جعفر غندر نے شعبہ سے روایت کی ، انھوں نے حکم سے ، انھوں نے مجاہد سے ، انھوں نے ابن ابی لیلیٰ سے اور انھوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو غفار کے اضاۃ ( بارانی تالاب ) کے پاس تشریف فرما تھے ۔ کہا : آپ کے پاس جبرئیل ؑ آئے اور کہا : اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ کی امت ایک حرف ( قراءت کی صورت ) پر قرآن پڑھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں اللہ تعالیٰ سے اس کا عفو ( درگزر ) اور اس کی مغفرت چاہتاہوں میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی ۔ " پھر وہ جبرئیل علیہ السلام دوبارہ آپ کے پاس آئے ۔ اور کہا کہ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت دو حرفوں پرقرآن پڑھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : " میں اللہ تعالیٰ سے اس کا عفو اور بخشش مانگتا ہوں ، میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی ۔ پھر وہ جبرئیل علیہ السلام تیسری بار آپ کے پاس آئے ۔ اور کہا کہ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت تین حرفوں پرقرآن پڑھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : " میں اللہ تعالیٰ سے اس کا عفو اور بخشش مانگتا ہوں ، میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی ۔ پھر وہ جبرئیل علیہ السلام چوتھی مرتبہ آپ کے پاس آئے ۔ اور کہا کہ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت سات حرفوں پرقرآن پڑھے ۔ وہ جس حرف پر بھی پڑھیں گے ٹھیک پڑھیں گے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
معاذ عنبری نےشعبہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
|
|
|
49: باب تَرْتِيلِ الْقِرَاءَةِ وَاجْتِنَابِ الْهَذِّ وَهُوَ الإِفْرَاطُ فِي السُّرْعَةِ وَإِبَاحَةِ سُورَتَيْنِ فَأَكْثَرَ فِي الرَّكْعَةِ.
باب: قرآن ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے اور ایک رکعت میں دو یا دو سے زیادہ سورتیں پڑھنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ جميعا، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ، يُقَالُ لَهُ: نَهِيكُ بْنُ سِنَانٍ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كَيْفَ تَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ، أَلِفًا تَجِدُهُ، أَمْ يَاءً مِنْ مَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ، أَوْ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ يَاسِنٍ؟ قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَكُلَّ الْقُرْآنِ قَدْ أَحْصَيْتَ غَيْرَ هَذَا؟ قَالَ: إِنِّي لَأَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ، إِنَّ أَقْوَامًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، وَلَكِنْ إِذَا وَقَعَ فِي الْقَلْبِ فَرَسَخَ فِيهِ، نَفَعَ إِنَّ أَفْضَلَ الصَّلَاةِ، الرُّكُوعُ، وَالسُّجُودُ، إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ، سُورَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، ثُمَّ قَامَ عَبْدُ اللَّهِ، فَدَخَلَ عَلْقَمَةُ فِي إِثْرِهِ، ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ: قَدْ أَخْبَرَنِي بِهَا، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي رِوَايَتِهِ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي بَجِيلَةَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ، وَلَمْ يَقُلْ: نَهِيكُ بْنُ سِنَانٍ.
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابن نمیر نے وکیع سے ، انھوں نے اعمش سے اور انھوں نے ابو وائل سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ا یک آدمی جو نہیک بن سنان کہلاتا تھا ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور کہا : ابو عبدالرحمان! آپ اس کلمے کو کیسےپڑھتے ہیں؟آپ اسے الف کے ساتھ مِّن مَّاءٍ غَيْرِآسِنٍ سمجھتے ہیں ۔ یا پھر یاء کے ساتھ ص مِّن مَّاءٍ غَيْرِياسِنٍ ؟تو عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے پوچھا : تم نے اس لفظ کے سواتمام قرآن مجید یادکرلیاہے؟اس نے کہا : میں ( تمام ) مفصل سورتیں ایک رکعت میں پڑھتاہوں ۔ اس پر حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : شعر کی سی تیز رفتاری کےساتھ پڑھتے ہو؟کچھ لوگ قرآن مجید پڑھتے ہیں وہ ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترتا ، لیکن جب وہ دل میں پہنچتا اور اس میں راسخ ہوتاہے تو نفع دیتا ہے ۔ نماز میں افضل رکوع اور سجدے ہیں اور میں ان ایک جیسی سورتوں کو جانتا ہوں جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملایا کر تے تھے ، دو دو ( ملا کر ) ایک رکعت میں پڑھتے تھے ، پھر عبداللہ اٹھ کرچلے گئے ، اس پر علقمہ بھی ان کے پیچھے اندر چلے گئے ، پھر واپس آئے اور کہا : مجھے انھوں نے وہ سورتیں بتادی ہیں ۔ ابن نمیر نے اپنی روایت میں کہا : بنو بجیلہ کا ایک شخص حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بن مسعود ) کے پاس آیا ، انھوں نے "" نہیک بن سنان "" نہیں کہا ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ ، يُقَالُ لَهُ: نَهِيكُ بْنُ سِنَانٍ، بِمِثْلِ حَدِيثِ وَكِيعٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَجَاءَ عَلْقَمَةُ لِيَدْخُلَ عَلَيْهِ، فَقُلْنَا لَهُ: سَلْهُ عَنِ النَّظَائِرِ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فِي رَكْعَةٍ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَسَأَلَهُ، ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: عِشْرُونَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ فِي تَأْلِيفِ عَبْدِ اللَّهِ .
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے ابو وائل سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت عبداللہ کے پاس ایک آدمی آیا جسے نہیک بن سنان کہا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) وکیع کی روایت کے مانند ہے ، مگر انھوں نے کہا : علقمہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ( گھر کے اندر ) حاضری دینے آئے تو ہم نے ان سے کہا : حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان باہم ملتی جلتی سورتوں کے بارے میں پوچھیں جو ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رکعت میں پڑھتے تھے ۔ وہ ان کے پاس اندر چلے گئے اور ان سورتوں کے بارے میں ان سے پوچھا ، پھر ہمارے پاس تشریف لائے اوربتایا ، وہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( کے مصحف ) کی ترتیب کے مطابق مفصل بیس سورتیں ہیں ( جنھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) دس رکعتوں میں ( پڑھتے تھے ۔)
|
|
|
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا، وَقَالَ: إِنِّي لَأَعْرِفُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ يَقْرَأُ بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " اثْنَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ، عِشْرِينَ سُورَةً فِي عَشْرِ رَكَعَاتٍ ".
عیسیٰ بن یونس نے کہا : اعمش نے ہم سے اپنی اسی سند کے ساتھ ان دونوں ( وکیع اور ابو معاویہ ) کی حدیث کی طرح بیان کی ۔ اس میں ہے انھوں ( عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : میں ان ایک جیسی سورتوں کو جانتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو دو ملا کر ایک رکعت میں پڑھتے تھے ، بیس سورتیں دس رکعتوں میں ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الأَحْدَبُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: غَدَوْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَوْمًا بَعْدَ مَا صَلَّيْنَا الْغَدَاة، فَسَلَّمْنَا بِالْبَابِ، فَأَذِنَ لَنَا، قَالَ: فَمَكَثْنَا بِالْبَابِ هُنَيَّةً، قَالَ: فَخَرَجَتِ الْجَارِيَةُ، فَقَالَتْ: أَلَا تَدْخُلُونَ؟ فَدَخَلْنَا فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ يُسَبِّحُ، فَقَالَ: مَا مَنَعَكُمْ أَنْ تَدْخُلُوا وَقَدْ أُذِنَ لَكُمْ؟ فَقُلْنَا: لَا، إِلَّا أَنَّا ظَنَنَّا أَنَّ بَعْضَ أَهْلِ الْبَيْتِ نَائِمٌ، قَالَ: ظَنَنْتُمْ بِآلِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ غَفْلَةً، قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلَ يُسَبِّحُ، حَتَّى ظَنَّ أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ طَلَعَتْ، فَقَالَ: يَا جَارِيَةُ، انْظُرِي هَلْ طَلَعَتْ؟ قَالَ: فَنَظَرَتْ فَإِذَا هِيَ لَمْ تَطْلُعْ، فَأَقْبَلَ يُسَبِّحُ حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ طَلَعَتْ، قَالَ: يَا جَارِيَةُ، انْظُرِي هَلْ طَلَعَتْ؟ فَنَظَرَتْ فَإِذَا هِيَ قَدْ طَلَعَتْ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَقَالَنَا يَوْمَنَا هَذَا، فَقَالَ: مَهْدِيٌّ وَأَحْسِبُهُ، قَالَ: وَلَمْ يُهْلِكْنَا بِذُنُوبِنَا، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ الْبَارِحَةَ كُلَّهُ، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ، إِنَّا لَقَدْ سَمِعْنَا الْقَرَائِنَ، وَإِنِّي لَأَحْفَظُ الْقَرَائِنَ الَّتِي كَانَ يَقْرَؤُهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " ثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِنَ الْمُفَصَّلِ، وَسُورَتَيْنِ مِنْ آلِ، حم ".
مہدی بن میمون نے کہا : واصل حدب نے ہمیں ابو وائل سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ایک دن ہم صبح کی نماز پڑھنے کے بعدحضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم نے دروازے سے ( انھیں ) سلام عرض کیا ، انھوں نے ہمیں اندر آنے کی اجازت دی ، ہم کچھ دیر دروازے پر رکے رہے ، اتنے میں ایک بچی نکلی اور کہنے لگی : کیا آپ لوگ اندر نہیں آئیں گے؟ ہم اندر چلے گئے اور وہ بیٹھے تسبیحات پڑھ رہے تھے ، انھوں نے پوچھا : جب آپ لوگوں کو اجازت دے دی گئی تو پھر آنے میں کیارکاوٹ تھی؟ہم نے عرض کی : نہیں ( رکاوٹ نہیں تھی ) ، البتہ ہم نے سوچا ( کہ شاید ) گھر کے بعض افراد سوئے ہوئے ہوں ۔ انھوں نے فرمایا : تم نے ابن ام عبد کے گھر والوں کے متعلق غفلت کا گمان کیا؟ پھر دوبارہ تسبحات میں مشغول ہوگئے حتیٰ کہ انھوں نے محسوس کیا کہ سورج نکل آیا ہوگا تو فرمایا : اے بچی!دیکھو تو! کیا سورج نکل آیا ہے؟اس نے دیکھا ، ابھی سورج نہیں نکلا تھا ، وہ پھر تسبیح کی طرف متوجہ ہوگئے حتیٰ کہ پھر جب انھوں نے محسوس کیا کہ سورج طلوع ہوگیا ہے تو کہا اے لڑکی!دیکھو کیاسورج طلوع ہوگیا ہے اس نے د یکھا تو سورج طلوع ہوچکا تھا ، انھوں نے فرمایا : اللہ کی حمد جس نے ہمیں یہ دن لوٹا دیا ۔ مہدی نے کہا : میرے خیال میں انھوں نے یہ بھی کہا ۔ ۔ ۔ اور ہمارے گناہوں کی پاداش میں ہمیں ہلاک نہیں کیا ۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : میں نے کل رات تمام مفصل سورتوں کی تلاوت کی ، اس پر عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : تیزی سے ، جس طرح شعر تیز پڑھے جاتے ہیں؟ہم نے باہم ملا کر پڑھی جانے والی سورتوں کی سماعت کی ہے ۔ اور مجھے وہ دو دو سورتیں یاد ہیں جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھےمفصل میں سے اٹھارہ سورتیں اور دوسورتیں حمٰ والی ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي بَجِيلَةَ، يُقَالُ لَهُ: نَهِيكُ بْنُ سِنَانٍ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: إِنِّي أَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ، لَقَدْ عَلِمْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ بِهِنَّ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ ".
منصور نے ( ابووائل ) شقیق سے روایت کی ، انھوں نے کہا : بنو بجیلہ میں سے ایک آدمی جسے نہیک بن سنان کہا جاتاتھا ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا : میں ( تمام ) مفصل سورتیں ایک رکعت میں پڑھتا ہوں ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : تیزی سے جیسے شعر تیزی سے پڑھے جاتے ہیں؟مجھے وہ باہم ملتی جلتی سورتیں معلوم ہیں جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک رکعت میں دو دو کرکے پڑھتے تھے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ: إِنِّي قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ اللَّيْلَةَ كُلَّهُ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: هَذًّا كَهَذِّا الشِّعْرِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَقَدْ عَرَفْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ، قَالَ: فَذَكَرَ، " عِشْرِينَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ، سُورَتَيْنِ، سُورَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ".
عمرو بن مرہ سے روایت ہے ۔ انھوں نے ابو وائل سے سنا وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ ایک آدمی حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور کہا : میں نے آج رات ( تمام ) مفصل سورتیں ایک رکعت میں پڑھی ہیں تو عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فر ما یا : اس تیز رفتاری سے جس طرح شعر پڑھے جاتے ہیں؟ ( پھر ) عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فر ما یا : میں وہ نظائر ( ایک جیسی سورتیں ) پہچا نتا ہوں جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھا کرتے تھے انھوں نے مفصل سورتوں میں سے بیس سورتیں بتا ئیں جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو دوملا کر ایک رکعت میں پڑھتے تھے ۔ ( ان سورتوں کی تفصیل کے لیے دیکھیے سنن ابی داؤد شھر رمضان باب تخریب القرآن 1396)
|
|
|
50: باب مَا يَتَعَلَّقُ بِالْقِرَاءَاتِ:
باب: قرأت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَجُلًا سَأَلَ الأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ وَهُوَ يُعَلِّمُ الْقُرْآنَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: كَيْفَ تَقْرَأُ هَذِهِ الآيَةَ، فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 15 أَدَالًا، أَمْ ذَالًا؟ قَالَ: بَلْ دَالًا، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مُدَّكِرٍ دَالًا ".
زہیر نے کہا : ہم سے ابو اسحاق نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے ایک آدمی کو دیکھا اس نے اسود بن یزید ( سبیعی کوفی ) سے جبکہ وہ مسجد میں قرآن کی تعلیم دے رہے تھے ۔ سوال کیا : تم اس ( آیت ) کو کیسے پڑھتے ہو ؟دال پڑھتے یا ذال ؟ انھوں نے جواب دیا : دال پڑھتا ہوں ۔ میں نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ بتا رہے تھے ۔ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ دال کے ساتھ پڑھتے سنا ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْف: فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ ".
شعبہ نے ابو اسحاق سے انھوں نے اسود سے انھوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روا یت کی کہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم اس کلمے مُّدَّكِرٍ پڑھتے تھے ( یعنی دال کے ساتھ)
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: قَدِمْنَا الشَّامَ، فَأَتَانَا أَبُو الدَّرْدَاءِ ، فَقَالَ: " أَفِيكُمْ أَحَدٌ يَقْرَأُ عَلَى قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، أَنَا، قَالَ: " فَكَيْفَ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ يَقْرَأُ هَذِهِ الآيَةَ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى سورة الليل آية 1؟ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ 0 وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى 0، قَالَ: وَأَنَا وَاللَّهِ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا، وَلَكِنْ هَؤُلَاءِ يُرِيدُونَ أَنْ أَقْرَأَ، وَمَا خَلَقَ فَلَا أُتَابِعُهُمْ ".
اعمش نے ابرا ہیم سے اور انھوں نے علقمہ ( بن قیس کوفی ) سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم شام آئے تو ہمارے پاس حضرت ابو دارداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لا ئے اور انھوں نے پو چھا : کیا تم میں سے کو ئی ایسا ہے جو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قراءت کے مطابق پڑھتا ہو ؟میں نے عرض کی : جی ہاں میں ( پڑھتا ہوں ) انھوں نے پو چھا : تم نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ آیت وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ کسی طرح پڑھتے سناہے ۔ ( میں نے ) کہا : میں نے انھیںوَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ و الذَّكَرَوَالْأُنثَىٰ پڑھتے سنا ۔ انھوں نے کہا : اور میں نے بھی اللہ کی قسم !رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی پڑھتے سنا لیکن یہ لو گ چا ہتے ہیں کہ میں وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَوَالْأُنثَىٰ پڑھوں میں ان کے پیچھے نہیں چلوں گا ۔ ( ابن مسعود اور ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ غالباًقراءت کی اس دوسری صورت سے آگاہ نہ ہو سکے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے سکھا ئی تھی ۔)
|
|
|
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَتَى عَلْقَمَةُ الشَّامَ، فَدَخَلَ مَسْجِدًا فَصَلَّى فِيهِ، ثُمَّ قَامَ إِلَى حَلْقَةٍ فَجَلَسَ فِيهَا، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ، فَعَرَفْتُ فِيهِ تَحَوُّشَ الْقَوْمِ وَهَيْئَتَهُمْ، قَالَ: فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي، ثُمَّ قَالَ: أَتَحْفَظُ كَمَا كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.
مغیرہ نے ابرا ہیم سے روا یت کی ، انھوں نے کہا : علقم ہشام آئے اور ایک مسجد میں داخل ہو ئے اس میں نماز پڑھی ، پھر لو گو ں کے ایک حلقے میں جا کر بیٹھ گئے اتنے میں ایک صاحب آئے تو مجھے ان کے ( ارد گرد ) لو گوں کے اکٹھا ہو نے اور ( انکی وجہ سے ) ایک خاص ہیئت اختیار کر لینے کا پتہ چل گیا ( اس سے معلوم ہو تا تھا کہ وہ خاص شخصیت ہیں ) ( علقمہ نے کہا : وہ میرے پہلو میں بیٹھ گئے ۔ پھر فر ما یا : عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) جس طرح پڑھا کرتے تھے کیا تمھیں وہ یاد ہے؟ اس کے بعد اسی ( پہلی حدیث کی ) طرح بیان کیا ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، فَقَالَ لِي: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، قَالَ: مِنْ أَيِّهِمْ؟ قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، قَالَ: هَلْ تَقْرَأُ عَلَى قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " فَاقْرَأْ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى سورة الليل آية 1، قَالَ: فَقَرَأْتُ 0 وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى 0، قَالَ: فَضَحِكَ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا ".
اسماعیل بن ابرا ہیم ( ابن علیہ ) نے داودبن ابی ہند سے انھوں نے شعبی سے اور انھوں نے علقمہ سے روا یت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا انھوں نے مجھ سے پو چھا : تم کہاں سے ہو؟ میں نے کہا : اہل عراق سے انھوں نے پو چھا : ان کے کو ن سے لو گو ں میں سے؟ میں نے کہا : اہل کو فہ سے انھوں نے پوچھا : کیاتم ( قرآن مجید ) عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قراءت کے مطا بق پڑھتے ہو؟میں نے کہا : جی ہاں انھوں نے کہا : وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ پڑھو ۔ میں نے پڑھا وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ ﴿
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ الشَّامَ، فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ.
عبد الاعلیٰ نے کہا : ہم سے داودنے عامر ( شعبی ) سے اور انھوں نے علقمہ سے روا یت کی ، انھوں نے کہا : میں شام آیا اور حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا ۔ ۔ ۔ ۔ آگے ابن علیہ ( اسماعیل بن ابرا ہیم ) کی ( مذکورہ با لا ) حدیث کی طرح بیا ن کیا ۔
|
|
|
51: باب الأَوْقَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الصَّلاَةِ فِيهَا:
باب: جن وقتوں میں نماز ممنوع ہے ان کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ، حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَعَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ".
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر کے بعد سورج غروب ہو نے تک نماز پڑھنے سے منع فر ما یا ۔ اور صبح کے بعد سورج طلوع ہو نے تک نماز سے منع فر ما یا ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، وإِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، جميعا، عَنْ هُشَيْمٍ ، قَالَ دَاوُدُ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ غَيْر وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَكَانَ أَحَبَّهُمْ إِلَيَّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ".
منصور نے قتادہ سے روا یت کی انھوں نے کہا : ہمیں ابو عالیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک سے زیادہ ساتھیوں سے سنا ہے ان میں عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل ہیں اور وہ مجھے ان میں سب سے زیادہ محبوب تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کے بعد سورج طلوع ہو نے تک اور عصر کے بعد سورج غروب ہو نے تک نماز پڑھنے سے منع فر ما یا ہے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، كُلُّهُمْ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سَعِيدٍ، وهِشَامٍ " بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَشْرُقَ الشَّمْسُ ".
شعبہ سعید اور معاذ بن ہشام نے اپنے والد کے واسطے سے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ یہ روا یت بیان کی ، البتہ سعید اور ہشام کی حدیث میں ( نماز فجر کے بعد سورج طلوع ہو نے تک کے بجا ئے ) " صبح کے بعد سورج چمکنے تک " کے الفاظ ہیں ۔
|
|
|
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ".
عطاء بن یزید لیثی نے خبر دی کہ انھوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نماز عصر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج غروب ہوجائے اور نماز فجر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج طلوع ہوجائے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَتَحَرَّى أَحَدُكُمْ فَيُصَلِّيَ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا ".
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی شخص ( جان بوجھ کر ) طلوع شمس اور غروب شمس کے وقت کا قصد کرکے ان اوقات میں نماز نہ پڑھے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، ومُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَحَرَّوْا بِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ، وَلَا غُرُوبَهَا فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بِقَرْنَيْ شَيْطَانٍ ".
ہشام کے والد عروہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اپنی نماز کے لئے جان بوجھ کر نہ سورج کے طلوع ہونے کا قصد کرو اور نہ اس کے غروب ہونے کا کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے ساتھ طلوع ہوتا ہے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وابْنُ بِشْرٍ ، قَالُوا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ، فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَبْرُزَ، وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَغِيبَ ".
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب سورج کا کنارہ نمودار ہوجائے تو نماز موخر کردو حتیٰ کہ وہ ( سورج ) نکل آئے ( بلند ہوجائے ) اور جب سورج کا کنارہ غروب ہوجائے تو نماز موخر کردو حتیٰ کہ وہ ( سورج ) پوری طرح غائب ہوجائے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ ابْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بِالْمُخَمَّصِ، فَقَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ عُرِضَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَضَيَّعُوهَا، فَمَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا كَانَ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَهَا حَتَّى يَطْلُعَ الشَّاهِدُ "، وَالشَّاهِدُ النَّجْمُ.
لیث نے خیر بن نعیم حضرمی سے روایت کی ، انھوں نے عبداللہ بن ہبیرہ سے ، انھوں نے ابو تمیم جیشانی سے اور انھوں نے ابو بصرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ غفاری سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مخمص نامی جگہ میں عصر کی نماز پڑھائی اور فرمایا " یہ نماز تم سے پہلے لوگوں کو دی گئی ( ان پر فرض کی گئی ) تو انھوں نے اسے ضائع کردیا ، اس لئے جو بھی اس کی حفاظت کرے گا اسے اس کا دوگنا اجر ملے گا اور ا س کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ ( اس کا ) شاہد طلوع ہوجائے ۔ " شاہد ( سے مراد ) ستارہ ہے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إسحاق ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ السَّبَائِيِّ ، وَكَانَ ثِقَةً، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بِمِثْلِهِ.
یزید بن ابی حبیب نے خیر بن نعیم حضرمی سے ، انھوں نے عبداللہ بن ہبیرہ سبائی سے ۔ ۔ ۔ اور وہ ثقہ تھے ۔ انھوں نے ابو تمیم جیشانی سے اور انھوں نے ابو بصرہ غفار ی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی ۔ ۔ ۔ آگے سابقہ حدیث کے مانند ہے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ: " ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ، أَوْ أَنْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا: حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ، وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ ".
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے تھے کہ تین ا وقات ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں روکتے تھے کہ ہم ان میں نماز پڑھیں یا ان میں اپنے مردوں کو قبروں میں اتاریں : جب سورج چمکتا ہوا طلوع ہورہا ہو یہاں تک کہ وہ بلند ہوجائے اور جب دوپہر کو ٹھہرنے والا ( سایہ ) ٹھہر جاتا ہے حتیٰ کہ سورج ( آگے کو ) جھک جائے اور جب سورج غروب ہونے کے لئے جھکتا ہے یہاں تک کہ وہ ( پوری طرح ) غروب ہوجائے ۔
|
|
|
52: باب إِسْلاَمِ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ:
باب: عمرو بن عبسہ کا اسلام قبول کرنا۔
|
|
|
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو عَمَّارٍ ، ويَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ عِكْرِمَةُ : وَلَقِيَ شَدَّادٌ، أَبَا أُمَامَةَ، ووَاثِلَةَ، وَصَحِبَ أَنَسًا إِلَى الشَّامِ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ فَضْلًا وَخَيْرًا، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ السُّلَمِيُّ : كُنْتُ وَأَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَظُنُّ أَنَّ النَّاسَ عَلَى ضَلَالَةٍ، وَأَنَّهُمْ لَيْسُوا عَلَى شَيْءٍ وَهُمْ يَعْبُدُونَ الْأَوْثَانَ، فَسَمِعْتُ بِرَجُلٍ بِمَكَّةَ يُخْبِرُ أَخْبَارًا، فَقَعَدْتُ عَلَى رَاحِلَتِي فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَخْفِيًا جُرَآءُ عَلَيْهِ قَوْمُهُ، فَتَلَطَّفْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَيْهِ بِمَكَّةَ، فَقُلْتُ لَهُ: مَا أَنْتَ، قَالَ: " أَنَا نَبِيٌّ "، فَقُلْتُ: وَمَا نَبِيٌّ؟ قَالَ: " أَرْسَلَنِي اللَّهُ "، فَقُلْتُ: وَبِأَيِّ شَيْءٍ أَرْسَلَكَ؟ قَالَ: " أَرْسَلَنِي بِصِلَةِ الْأَرْحَامِ، وَكَسْرِ الْأَوْثَانِ، وَأَنْ يُوَحَّدَ اللَّهُ لَا يُشْرَكُ بِهِ شَيْءٌ "، قُلْتُ لَهُ: فَمَنْ مَعَكَ عَلَى هَذَا؟ قَالَ: " حُرٌّ وَعَبْدٌ "، قَالَ: " وَمَعَهُ يَوْمَئِذٍ أَبُو بَكْرٍ، وَبِلَالٌ مِمَّنْ آمَنَ بِهِ "، فَقُلْتُ: إِنِّي مُتَّبِعُكَ، قَالَ: " إِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ يَوْمَكَ هَذَا، أَلَا تَرَى حَالِي وَحَالَ النَّاسِ، وَلَكِنْ ارْجِعْ إِلَى أَهْلِكَ، فَإِذَا سَمِعْتَ بِي قَدْ ظَهَرْتُ، فَأْتِنِي "، قَالَ: فَذَهَبْتُ إِلَى أَهْلِي، وَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَكُنْتُ فِي أَهْلِي، فَجَعَلْتُ أَتَخَبَّرُ الْأَخْبَارَ، وَأَسْأَلُ النَّاسَ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ حَتَّى قَدِمَ عَلَيَّ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ يَثْرِبَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةَ، فَقُلْتُ: مَا فَعَلَ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي قَدِمَ الْمَدِينَةَ؟ فَقَالُوا: النَّاسُ إِلَيْهِ سِرَاعٌ، وَقَدْ أَرَادَ قَوْمُهُ قَتْلَهُ فَلَمْ يَسْتَطِيعُوا ذَلِكَ، فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَعْرِفُنِي؟ قَالَ: " نَعَمْ أَنْتَ الَّذِي لَقِيتَنِي بِمَكَّةَ "، قَالَ: فَقُلْتُ: بَلَى، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ وَأَجْهَلُهُ، أَخْبِرْنِي، عَنِ الصَّلَاةِ، قَالَ: " صَلِّ صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ أَقْصِرْ، عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، حَتَّى تَرْتَفِعَ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ حِينَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ، ثُمَّ صَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ، حَتَّى يَسْتَقِلَّ الظِّلُّ بِالرُّمْحِ، ثُمَّ أَقْصِرْ، عَنِ الصَّلَاةِ فَإِنَّ حِينَئِذٍ تُسْجَرُ جَهَنَّمُ، فَإِذَا أَقْبَلَ الْفَيْءُ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ، حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ، ثُمَّ أَقْصِرْ، عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَالْوُضُوءَ حَدِّثْنِي عَنْهُ، قَالَ: " مَا مِنْكُمْ رَجُلٌ يُقَرِّبُ وَضُوءَهُ، فَيَتَمَضْمَضُ وَيَسْتَنْشِقُ فَيَنْتَثِرُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ وَفِيهِ وَخَيَاشِيمِهِ، ثُمَّ إِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْيَتِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا يَدَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رَأْسِهِ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رِجْلَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ، فَإِنْ هُوَ قَامَ فَصَلَّى فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَمَجَّدَهُ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ، وَفَرَّغَ قَلْبَهُ لِلَّهِ إِلَّا انْصَرَفَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ". فَحَدَّثَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، أَبَا أُمَامَةَ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو أُمَامَةَ: يَا عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ انْظُرْ مَا تَقُولُ فِي مَقَامٍ وَاحِدٍ يُعْطَى هَذَا الرَّجُلُ، فَقَالَ عَمْرٌو: يَا أَبَا أُمَامَةَ لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَرَقَّ عَظْمِي وَاقْتَرَبَ أَجَلِي، وَمَا بِي حَاجَةٌ أَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ وَلَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا حَتَّى عَدَّ سَبْعَ مَرَّاتٍ مَا حَدَّثْتُ بِهِ أَبَدًا، وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ.
ابو عمار شداد بن عبداللہ اور یحییٰ بن ابی کثیر نے ابو امامہ سے روایت کی ۔ ۔ ۔ عکرمہ نے کہا : شداد ابو امامہ اور واثلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مل چکا ہے ، وہ شام کے سفر میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ رہااور ان کی فضیلت اور خوبی کی تعریف کی ۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : میں جب اپنے جاہلیت کے دور میں تھا تو ( یہ بات ) سمجھتا تھا کہ لوگ گمراہ ہیں اور جب وہ بتوں کی عبادت کرتے ہیں تو کسی ( سچی ) چیز ( دین ) پر نہیں ، پھر میں نے مکہ کے ایک آدمی کے بارے میں سنا کہ وہ بہت سی باتوں کی خبر دیتا ہے ، میں اپنی سواری پر بیٹھا اور ان کے پاس آگیا ، اس زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھپے ہوئے تھے ، آپ کی قوم ( کے لوگ ) آپ کے خلاف دلیر ، اور جری تھے ۔ میں ایک لطیف تدبیر اختیار کرکے مکہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوااور آپ سے پوچھا آپ کیا ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نبی ہوں ۔ " پھر میں نے پوچھا : " نبی کیا ہوتا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے اللہ نے بھیجا ہے ۔ " میں نے کہا : آپ کو کیا ( پیغام ) دے کر بھیجا ہے؟آپ نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ مجھے صلہ رحمی ، بتوں کو توڑنے ، اللہ تعالیٰ کو ایک قرار دینے ، اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانے ( کاپیغام ) دے کر بھیجا ہے ۔ " میں نے آپ سے پوچھا : آپ کے ساتھ اس ( دین ) پر اور کون ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک آزاد اور ایک غلام ۔ " ۔ ۔ ۔ کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت ایمان لانے والوں میں سے ابو بکر اور بلال رضوان اللہ عنھم اجمعین تھے ۔ میں نے کہا : میں بھی آپ کا متبع ہوں ۔ فرمایا : " تم اپنے آج کل کے حالات میں ایسا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ۔ کیا تم میرا اور لوگوں کا حال نہیں دیکھتے؟لیکن ( ان حالات میں ) تم اپنے گھر کی طرف لوٹ جاؤ اور جب میرے بارے میں سنو کہ میں غالب آگیا ہوں تو میرے پاس آجانا ۔ " کہا : تو میں اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ گیا ۔ او ( بعد ازاں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لے گئے میں اپنے گھر ہی میں تھا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے ۔ تو میں بھی خبریں لینے اور لوگوں سے آپ کے حالات پوچھنے میں لگ گیا ۔ حتیٰ کہ میرے پاس اہل یثرب ( مدینہ والوں ) میں سے کچھ لوگ آئے تو میں نے پوچھا : یہ شخص جو مدینہ میں آیا ہے اس نے کیا کچھ کیا ہے؟انھوں نے کہا : لوگ تیزی سے ان ( کے دین ) کی طرف بڑھ رہے ہیں ، آپ کی قوم نے آپ کو قتل کرنا چاہا تھا لیکن وہ ایسا نہ کرسکے ۔ اس پر میں مدینہ آیا اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟آپ نے فرمایا : " ہاں تم وہی ہو ناں جو مجھ سے مکہ میں ملے تھے؟ " کہا : تو میں نے عرض کی : جی ہاں ، اور پھر پوچھا : اے اللہ کے نبی! مجھے وہ ( سب ) بتایئے جو اللہ نے آپ کوسکھایا ہے اور میں اس سے ناواقف ہوں ، مجھے نماز کے بارے میں بتایئے ۔ آپ نے فرمایا : " صبح کی نماز پڑھو اور پھر نمازسے رک جاؤ حتیٰ کہ سورج نکل کر بلند ہوجائے کیونکہ وہ جب طلوع ہوتا ہے تو شیطان ( اپنے سینگوں کو آگے کرکے یوں دیکھاتا ہے جیسے وہ اُس ) کے دو سینگوں کےدرمیان طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کافر اس ( سورج ) کو سجدہ کرتے ہیں ، اس کے بعد نماز پڑھو کیونکہ نماز کا مشاہدہ ہوتاہے اور اس میں ( فرشتے ) حاضر ہوتے ہیں یہاں تک کہ جب نیزے کا سایہ اس کے ساتھ لگ جائے ( سورج بالکل سر پر آجائے ) تو پھر نماز سے رک جاؤ کیونکہ اس وقت جہنم کو ایندھن سے بھر کو بھڑکایاجاتا ہے ، پھر جب سایہ آئے جائے ( سورج ڈھل جائے ) تو نمازپڑھو کیونکہ نماز کا مشاہدہ کیاجاتا ہے اور اس میں حاضری دی جاتی ہے حتیٰ کہ تم عصر سے فارغ ہوجاؤ ، پھر نماز سے رک جاؤ یہاں تک کہ سورج ( پوری طرح ) غروب ہوجائے کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں میں غروب ہوتا ہے اور اس وقت کافر اس کے سامنے سجدہ کرتے ہیں ۔ " کہا : پھر میں نے پوچھا : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! تو وضو؟مجھے اس کے بارے میں بھی بتایئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے جوشخص بھی وضو کے لئے پانی اپنے قریب کرتاہے ۔ پھر کلی کرتاہے اور ناک میں پانی کھینچ کر اسے جھاڑتاہے تو اس سے اس کے چہرے ، منہ ، اور ناک کے نتھنوں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ، پھر جب وہ اللہ کے حکم کےمطابق اپنے چہرے کو دھوتا ہے تو لازماً اس کے چہرے کےگناہ بھی پانی کے ساتھ اس کی داڑھی کے کناروں سے گر جاتے ہیں ، پھر وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں ( کے اوپر ) تک دھوتا ہے ۔ تو لازماً اس کے ہاتھوں کےگناہ پانی کے ساتھ اس کے پوروں سے گرجاتے ہیں ، پھر وہ سر کا مسح کرتاہے تو اس کے سر کے گناہ پانی کے ساتھ اس کے بالوں کے اطراف سے زائل ہوجاتے ہیں ، پھر وہ ٹخنوں ( کے اوپر ) تک اپنے دونوں قدم دھوتا ہے ۔ تو اس کے دونوں پاؤں کے گناہ پانی کے ساتھ اس کے پوروں سے گر جاتے ہیں ، پھر اگر وہ کھڑا ہوانماز پڑھی اور اللہ کے شایان شان اس کی حمد وثنا اور بزرگی بیان کی اور اپنا دل اللہ کے لئے ( ہر قسم کے دوسرے خیالات وتصورات سے ) خالی کرلیا تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکلتا ہے جس طرح اس وقت تھا جس دن اس کی ماں نے اسے ( ہر قسم کے گناہوں سے پاک ) جنا تھا ۔ " حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( ایک اور ) صحابی حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سنائی تو ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا : اے عمرو بن عبسہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ !دیکھ لوتم کیا کہہ رہے ہو ۔ ایک ہی جگہ اس آدمی کو اتناکچھ عطا کردیا جاتا ہے! اس پر عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اے ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ !میری عمر بڑھ گئی ہے میری ہڈیاں نرم ہوگئیں ہیں اور میری موت کا وقت بھی قریب آچکا ہے اور مجھے کوئی ضرورت نہیں کہ اللہ پر جھوٹ بولوں ۔ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولوں ۔ اگر میں نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ، دو ، تین ۔ ۔ ۔ حتیٰ کہ انھوں نے سات بار شمار کیا ۔ ۔ ۔ بار نہ سنا ہوتا تو میں اس حدیث کو کبھی بیان نہ کرتا بلکہ میں نے تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سے بھی زیادہ بارسنا ہے ۔
|
|
|
53: باب لاَ تَتَحَرَّوْا بِصَلاَتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلاَ غُرُوبَهَا:
باب: سورج کے طلوع اور غروب کے وقت نماز میں جلدی نہ کرو۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: وَهِمَ عُمَرُ، إِنَّمَا " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَحَرَّى طُلُوعُ الشَّمْسِ وَغُرُوبُهَا ".
وہیب نے کہا : ہم سے عبداللہ بن طاوس نے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد ( طاوس ) سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو وہم لاحق ہوا ہے ( کہ وہ ہر صورت عصر کے بعد نماز پڑھنے کو قابل سزا سمجھتے ہیں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس بات سے منع فرمایا ہے کہ سورج کے طلوع یا اس کے غروب کے وقت نماز پڑھنے کا قصد کیا جائے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: لَمْ يَدَعْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، قَالَ: فَقَالَتْ عَائِشَةُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَتَحَرَّوْا طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا، فَتُصَلُّوا عِنْدَ ذَلِكَ ".
معمر نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ طاوس کے بیٹے سے ، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد دو رکعت پڑھنی کبھی نہیں چھوڑ ی تھی کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نےکہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نماز کے لئے تم جان بوجھ کر سورج کے طلوع اور اس کے غروب ہونے کا قصد نہ کرو کہ اس وقت نماز پڑھو ۔
|
|
|
54: باب مَعْرِفَةِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ كَانَ يُصَلِّيهِمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ:
باب: عصر کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے ان کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ، والْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَرْسَلُوهُ إِلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنَّا جَمِيعًا، وَسَلْهَا، عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَقُلْ إِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّكِ تُصَلِّينَهُمَا، وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُمَا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَكُنْتُ أَصْرِفُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ النَّاسَ عَنْهَا، قَالَ كُرَيْبٌ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا وَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي بِهِ، فَقَالَتْ: سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ، فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا، فَرَدُّونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي بِهِ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُمَا، ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا، أَمَّا حِينَ صَلَّاهُمَا فَإِنَّهُ صَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَصَلَّاهُمَا فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ، فَقُلْتُ: قُومِي بِجَنْبِهِ فَقُولِي لَهُ: تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْمَعُكَ تَنْهَى، عَنْ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا، فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ، قَالَ: فَفَعَلَتِ الْجَارِيَةُ فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: " يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ، عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، إِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالْإِسْلَامِ مِنْ قَوْمِهِمْ، فَشَغَلُونِي، عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام کریب سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، عبدالرحمان بن ازہر ، مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ انھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بھیجا اور کہا کہ ہم سب کی طرف سے انھیں سلام عرض کرنا اور ان سے عصر کے بعد کی دو رکعت کے بارے میں پوچھنا اور کہنا کہ ہمیں خبر ملی ہے کہ آ پ یہ ( دو رکعتیں ) پڑھتی ہیں ۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہم تک یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے روکا ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مل کر لوگوں کو ان سے روکا کرتا تھا ۔ کریب نے کہا : میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان حضرات نے جو پیغام د ے کر مجھے بھیجا تھا میں نے ان تک پہنچایا ۔ انھوں نے جواب دیا ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھو ۔ میں نکل کر ان حضرات کے پاس لوٹا اور انھیں ان کے جواب سے آگاہ کیا ۔ ان حضرات نے مجھے وہی پیغام دے کر حضرت اسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف بھیج دیا جس طرح حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بھیجاتھا ، اس پر ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ آپ ان دو رکعتوں سے روکتے تھے ، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا ، ہاں ، آپ نے جب یہ دو رکعتیں پڑھیں تھیں اس وقت آپ عصر کی نماز پڑھ چکے تھے ، پھر ( عصر پڑھ کر ) آپ ( میرے گھر میں ) داخل ہوئے جبکہ میرے پاس انصار کے قبیلے بنو حرام کے قبیلے کی کچھ عورتیں موجودتھیں ، آ پ نے یہ دو رکعتیں ادا ( کرنی شروع ) کیں تو میں نے آپ کے پاس خادمہ بھیجی اور ( اس سے ) کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک جانب جا کر کھڑی ہوجاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرو کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں : میں آپ سے سنتی رہی ہوں کہ آپ ( عصر کے بعد ) ان دو رکعتوں سے منع فرماتے تھے اور اب میں آپ کو پڑھتے ہوئےدیکھ رہی ہوں؟اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ سے اشارہ فرمائیں تو پیچھے ہٹ ( کرکھڑی ہو ) جانا ۔ اس لڑکی نے ایسے ہی کیا ، آپ نے ہاتھ سے اشارہ فرمایا ، وہ آپ سے پیچھے ہٹ ( کر کھڑی ہو ) گئی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیراتو فرمایا : " اے ابو امیہ ( حذیفہ بن مغیرہ مخزومی ) کی بیٹی!تم نے عصر کے بعد کی دورکعتوں کے بارے میں پوچھا ہے ، تو ( معاملہ یہ ہے کہ ) بنو عبدالقیس کے کچھ افراد اپنی قوم کے اسلام ( لانے کی اطلاع ) کے ساتھ میرے پاس آئے ، اور انھوں نے مجھے ظہر کی بعد کی دورکعتوں سے مشغول کردیا ، یہ وہی دو رکعتیں ہیں ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وقُتَيْبَةُ وعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، " أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ ، عَنِ السَّجْدَتَيْنِ اللَّتَيْنِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ "، فَقَالَتْ: " كَانَ يُصَلِّيهِمَا قَبْلَ الْعَصْرِ، ثُمَّ إِنَّهُ شُغِلَ عَنْهُمَا أَوْ نَسِيَهُمَا فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ، ثُمَّ أَثْبَتَهُمَا وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَثْبَتَهَا ". قَالَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ: قَالَ إِسْمَاعِيلُ: " تَعْنِي دَاوَمَ عَلَيْهَا ".
یحییٰ بن ایوب ، قتیبہ ، اور علی بن حجر نے اسماعیل بن جعفر سے حدیث بیان کی ، ابن ایوب نے کہا : ہمیں اسماعیل نے حدیث سنائی ، کہا مجھے محمد بن ابی حرملہ نے خبر دی ، انھوں نےکہا ، مجھے ابو سلمہ نے خبر دی کہ انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ان دو ر کعتوں کے بارے میں پوچھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد پڑھتے تھے ۔ انھوں نےکہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دو رکعتیں ( ظہر کے بعد ) عصر سے پہلے پڑھتے تھے ، پھر ایک دن ان کے پڑھنے سے مشغول ہوگئے یا انھیں بھول گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ عصر کے بعد پڑھیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں قائم رکھا کیونکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نماز ( ایک دفعہ ) پڑھ لیتے تو اسے قائم رکھتے تھے ۔ یحییٰ بن ایوب نے کہا : اسماعیل نے کہا ( اثبتها اسے قائم رکھتے تھے ) سے مراد ہے : آپ اس پر ہمیشہ عمل فرماتے تھے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، جَمِيعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي قَطُّ ".
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاں عصر کے بعد دو رکعتیں کبھی نہیں چھوڑیں ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو إسحاق الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " صَلَاتَانِ مَا تَرَكَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي قَطُّ سِرًّا وَلَا عَلَانِيَةً: رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ".
عبدالرحمان بن اسود نے اپنے والد اسود سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : دو نمازیں ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر میں انھیں رازداری سے اور اعلانیہ کبھی ترک نہیں کیا : دو رکعتیں فجر سے پہلے اور دو رکعتیں عصر کے بعد ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إسحاق ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، ومَسْرُوقٍ ، قَالَا: نَشْهَدُ عَلَى عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " مَا كَانَ يَوْمُهُ الَّذِي كَانَ يَكُونُ عِنْدِي، إِلَّا صَلَّاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، تَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ".
ابو اسحاق نے اسود اور مسروق سے روایت کی ، ان دونوں نے کہا : ہم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں گواہی دیتے ہیں کہ انھوں نے کہا : کوئی دن جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ہوتے تھے ایسا نہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دو رکعتیں نہ پڑھی ہوں ۔ ان کی مراد عصر کے بعد کی دو رکعتوں سے تھی ۔
|
|
|
55: باب اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلاَةِ الْمَغْرِبِ:
باب: نماز مغرب سے پہلے دو رکعتوں کے پڑھنے کا بیان۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وأَبُو كُرَيْبٍ ، جميعا، عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، عَنِ التَّطَوُّعِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَ: " كَانَ عُمَرُ يَضْرِبُ الْأَيْدِي عَلَى صَلَاةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَكُنَّا نُصَلِّي عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ "، فَقُلْتُ لَهُ: " أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّاهُمَا؟ " قَالَ: " كَانَ يَرَانَا نُصَلِّيهِمَا فَلَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا ".
مختار بن فلفل سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عصر کے بعد نفل نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا : حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عصر کے بعد نماز پڑھنے پر ہاتھوں پر مارتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےدور میں ہم سورج کے غروب ہوجانے کے بعد نماز مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے ۔ تو میں نے ان سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دو رکعتیں پڑھیں؟انھوں نے کہا : آپ ہمیں پڑھتا دیکھتے تھے آپ نے نہ ہمیں حکم دیا اور نہ روکا ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كُنَّا بِالْمَدِينَةِ، فَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ لِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ ابْتَدَرُوا السَّوَارِيَ، فَيَرْكَعُونَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ الْغَرِيبَ لَيَدْخُلُ الْمَسْجِدَ، فَيَحْسِبُ أَنَّ الصَّلَاةَ قَدْ صُلِّيَتْ مِنْ كَثْرَةِ مَنْ يُصَلِّيهِمَا ".
عبدالعزیز بن صہیب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم مدینے میں ہوتے تھے ، جب موذن مغرب کی اذان دیتا و لوگ ستونوں کی طرح لپکتے تھے اور وہ دو رکعتیں پڑھتے تھے حتیٰ کہ ایک مسافر مسجد میں آتا تو ان رکعتوں کو پڑھنے والوں کی کثرت دیکھ کر یہ سمجھتا کہ مغرب کی نماز ہوچکی ہے ۔
|
|
|
56: باب بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاَةٌ:
باب: اذان اور اقامت کے درمیان نوافل کا بیان۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، ووَكِيعٌ ، عَنْ كَهْمَسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، قَالَهَا ثَلَاثًا، قَالَ فِي الثَّالِثَةِ لِمَنْ شَاءَ ".
کہمس نےکہا : ہم سے عبداللہ بن بریدہ نے حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " ہر دو اذانوں ( اذان اور تکبیر ) کے درمیان نماز ہے ۔ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ فرمایا ( اور ) تیسری دفعہ فرمایا : " اس کے لئے جو چاہے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " فِي الرَّابِعَةِ لِمَنْ شَاءَ ".
جریری نے عبداللہ بن بریرہ سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مثل روایت کی ، مگرانھوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوتھی مرتبہ فرمایا؛ " اس کے لئے جو چاہے ۔
|
|
|
57: باب صَلاَةِ الْخَوْفِ:
باب: نماز خوف کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةً وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ، ثُمَّ انْصَرَفُوا وَقَامُوا فِي مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ مُقْبِلِينَ عَلَى الْعَدُوِّ، وَجَاءَ أُولَئِكَ ثُمَّ صَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَضَى هَؤُلَاءِ رَكْعَةً وَهَؤُلَاءِ رَكْعَةً ".
معمر نے زہری سے ، انھوں نے سالم سے اور انھوں نےحضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف پڑھائی ، دو گروہوں میں سے ایک کو ایک رکعت پڑھائی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا ہواتھا ، پھر یہ ( آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والے ) پلٹ گئے اور اپنے ساتھیوں کی جگہ دشمن کی طرف رخ کرکے جاکھڑے ہوئے اور وہ لوگ آگئے ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بھی ایک رکعت پڑھائی اور اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا پھر ( آپ کے بعد ) انہوں نے بھی اپنی رکعت مکمل کرلی اور انھوں نے بھی دوسری رکعت مکمل کرلی ۔
|
|
|
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَوْفِ، وَيَقُولُ: " صَلَّيْتُهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْمَعْنَى ".
فلیح نے زہری سے ، انھوں نے سالم بن عبداللہ بن عمر سے اور انھوں نے ا پنے والد سے روایت کی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صلاۃ الخوف ( کاطریقہ ) بیان کرتے اور فرماتے : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ نماز پڑھی ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اسی کے ہم معنی حدیث ہے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ، فَقَامَتْ طَائِفَةٌ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ ذَهَبُوا وَجَاءَ الْآخَرُونَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ قَضَتِ الطَّائِفَتَانِ رَكْعَةً رَكْعَةً "، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: " فَإِذَا كَانَ خَوْفٌ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، فَصَلِّ رَاكِبًا أَوْ قَائِمًا، تُومِئُ إِيمَاءً ".
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ا پنے جنگ کے ایام میں سے ایک دن نماز خوف پڑھائی ، ایک گروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز کے لئے کھڑہوگیا ۔ اور دوسرا دشمن کے بالمقابل ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھ کھڑے ہونے والوں کو ایک رکعت پڑھا دی ، پھر یہ لوگ ( دشمن کے مقابلےمیں ) چلے گئے اور دوسرے آگئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بھی ایک رکعت پڑھا دی ، پھر ان دونوں گروہوں نے ( یکے بعد دیگرے ) ایک ایک رکعت اداکرلی ۔ ( نافع ) نے کہا : ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اگر خوف اس سے زیادہ ہو ( اور صف بندی ممکن نہ ہو ) تو سواری پر یا کھڑے کھڑے اشاارہ کرو اور نماز پڑھ لو ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ، فَصَفَّنَا صَفَّيْنِ صَفٌّ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْعَدُوُّ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَكَبَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَرَفَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ انْحَدَرَ بِالسُّجُودِ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نَحْرِ الْعَدُوِّ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّجُودَ، وَقَامَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ وَقَامُوا، ثُمَّ تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ، ثُمَّ رَكَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَرَفَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ انْحَدَرَ بِالسُّجُودِ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ الَّذِي كَانَ مُؤَخَّرًا فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نُحُورِ الْعَدُوِّ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّجُودَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ فَسَجَدُوا، ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَلَّمْنَا جَمِيعًا ". قَالَ جَابِرٌ: " كَمَا يَصْنَعُ حَرَسُكُمْ هَؤُلَاءِ بِأُمَرَائِهِمْ ".
عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف میں شریک ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری دو صفیں بنائیں ، ایک صف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھی ( اوردوسری ان کے پیچھے ) اور دشمن ہمارے اور قبلے کے درمیان تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر ( تحریمہ ) کہی اور ہم سب نے بھی تکبیر کہی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا اور ہم سب نے رکوع کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا اور ہم سب نے سراٹھایا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کے لئے جھک گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متصل صف نے بھی سجدہ کیا اور پچھلی صف دشمن کے مد مقابل کھڑی رہی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کے کرلیے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متصل صف ( سجدے کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ) کھڑی ہوگئی تو پچھلی صف سجدے کے لئے نیچے ہوئی اور پھر کھڑی ہوگئی ، اس کے بعد پچھلی صف آگے آگئی اور اگلی صف پیچھے چلی گئی ، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو ہم سب نے رکوع کیا ۔ پھر آپ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا اور ہم سب نے بھی سراٹھایا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متصل صف جو پہلی رکعت میں پیچھے تھی ، سجدے کے لئے نیچے چلی گئی اور پچھلی صف دشمن کے مقابلے میں کھڑی رہی ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متصل صف نے سجدہ کرلیا تو پچھلی صف سجدے کے لئے جھکی ۔ انھوں نے سجدے کیے ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا اور ہم سب نے بھی سلام پھیردیا ۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا : جس طرح تمہارےمحافظ ( آجکل ) اپنے امیروں کی حفاظت کے لئے کرتے ہیں ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا مِنْ جُهَيْنَةَ، فَقَاتَلُونَا قِتَالًا شَدِيدًا، فَلَمَّا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ، قَالَ الْمُشْرِكُونَ: لَوْ مِلْنَا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً لَاقْتَطَعْنَاهُمْ، فَأَخْبَرَ جِبْرِيلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " وَقَالُوا إِنَّهُ سَتَأْتِيهِمْ صَلَاةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنَ الْأَوْلَادِ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ، قَالَ: صَفَّنَا صَفَّيْنِ وَالْمُشْرِكُونَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، قَالَ: فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرْنَا، وَرَكَعَ فَرَكَعْنَا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الْأَوَّلُ، فَلَمَّا قَامُوا سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي، ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الْأَوَّلُ وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الثَّانِي، فَقَامُوا مَقَامَ الْأَوَّلِ فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرْنَا، وَرَكَعَ فَرَكَعْنَا، ثُمَّ سَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الْأَوَّلُ وَقَامَ الثَّانِي، فَلَمَّا سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي ثُمَّ جَلَسُوا جَمِيعًا سَلَّمَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: ثُمَّ خَصَّ جَابِرٌ أَنْ قَالَ: كَمَا يُصَلِّي أُمَرَاؤُكُمْ هَؤُلَاءِ.
ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا؛ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جہینہ قبیلے کے لوگوں سے جنگ لڑی ، انھوں نے ہمارے ساتھ بڑی شدیدجنگ کی جب ہم نے ظہر کی نماز پڑھی تو مشرکوں نے کہا : اگر ہم ان پر یکبارگی حملہ کریں تو ان کو کاٹ کررکھ دیں ۔ جبرئیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات سے آگاہ کردیا اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان لوگوں نے کہا ہے کہ ابھی ان کی ایک ایسی نماز کا وقت آنےوالاہے جو ان کو ان کی اولاد سے بھی زیادہ پیاری ہے ۔ جب عصرکا وقت آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری دو صفیں بنائیں جبکہ مشرک ہمارے اور ہمارے قبیلے کے درمیان تھے ۔ کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر تحریمہ کہی اور ہم نے بھی تکبیر کہی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا اور ہم نے بھی رکوع کیا ، پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلی صف نے بھی سجدہ کیا ۔ جب یہ حضرات کھڑے ہوگئے تو دوسر ی صف والوں نے سجدے کیے ، پھر پہلی صف پیچھے چلی گئی اور دوسری آگے بڑھ گئی اور پہلی صف کی جگہ کھڑی ہوگئی ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور ہم نے بھی تکبیرکہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا اور ہم نے بھی رکوع کیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( موجودہ ) پہلی صف نے سجدہ کیا اور دوسری کھڑی رہی ۔ پھر جب دوسری صف نے سجدے کرلیے اور اس کے بعد سب بیٹھ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کے ساتھ سلام پھیرا ۔ ابو زبیر نے کہا : پھر حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خصوصی طور پر فرمایا : جس طرح تمہارے یہ امیر نماز پڑھتے ہیں ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَّى بِأَصْحَابِهِ فِي الْخَوْفِ، فَصَفَّهُمْ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ يَلُونَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا حَتَّى صَلَّى الَّذِينَ خَلْفَهُمْ رَكْعَةً، ثُمَّ تَقَدَّمُوا وَتَأَخَّرَ الَّذِينَ كَانُوا قُدَّامَهُمْ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ قَعَدَ حَتَّى صَلَّى الَّذِينَ تَخَلَّفُوا رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ ".
عبدالرحمان بن قاسم نے اپنے والد سے ، انھوں نے صالح بن خوات بن جبیرسے اور انھوں نے حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو نماز خوف پڑھائی اور انھیں اپنے پیچھے دو صفوں میں کھڑا کیا اور اپنے ساتھ ( کی صف ) والوں کوایک رکعت پڑھائی ۔ پھر آپ کھڑے ہوگئے اور کھڑے ہی رہے یہاں تک کہ ان سے پیچھے والوں نے ایک رکعت پڑھ لی ، پھر یہ آگے آگے اور جو ان سے آگے تھے پیچھے چلے گئے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ایک رکعت پڑھائی ۔ پھر آپ بیٹھ گئے حتیٰ کہ جو پیچھے چلے گئے تھے انھوں نے ( بھی ایک اور ) رکعت پڑھ لی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ ، عَمَّنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلَاةَ الْخَوْفِ، " أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ وِجَاهَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ انْصَرَفُوا فَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ، وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى، فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ ".
یزید بن رومان نے صالح بن خوات سےاور انھوں نے اس شخص سے نقل کیا جس نے غزوہ ذات الرقاع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں نمازخوف پڑھی تھی ۔ کہ ایک گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صف بنائی اور دوسرا گروہ دشمن کے رو برو تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ والوں کو ایک رکعت پڑھائی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہے اور انھوں نے اپنے طور پر ( دوسری رکعت پڑھ کر ) نماز مکمل کرلی اور ( سلام پھیر کر ) چلے گئے اور دشمن کے سامنے صف بند ہوگئے اور دوسرا گروہ آگیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو رکعت رہتی تھی ۔ ان کو پڑھا دی پھر بیٹھے رہے اور ان لوگوں نے اپنے طور پر ( رکعت پڑھ کر ) نماز مکمل کرلی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ سلام پھیرا ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ، قَالَ: كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا عَلَى شَجَرَةٍ ظَلِيلَةٍ تَرَكْنَاهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَسَيْفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلَّقٌ بِشَجَرَةٍ، فَأَخَذَ سَيْفَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرَطَهُ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَخَافُنِي؟ قَالَ: " لَا "، قَالَ: فَمَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ: " اللَّهُ يَمْنَعُنِي مِنْكَ "، قَالَ: فَتَهَدَّدَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَغْمَدَ السَّيْفَ وَعَلَّقَهُ، قَالَ: فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى بِطَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ تَأَخَّرُوا وَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الْأُخْرَى رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ، وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ.
۔ ابان بن یزید نے کہا : ہم سے یحییٰ ابن کثیر نے ابو سلمہ ( بن عبدالرحمان ) سے حدیث بیان کی اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( جہاد پر ) آئے ۔ حتیٰ کہ جب ہم ذات الرقاع ( نامی پہاڑ ) تک پہنچے ۔ کہا : ہماری عادت تھی کہ جب ہم کسی گھنے سائے والے درخت تک پہنچے تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چھوڑ دیتے ، کہا : ایک مشرک آیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار درخت پر لٹکی ہوئی تھی ، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوارپکڑ لی ، اسے میان سے نکالا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا : کیا آپ مجھ سے ڈ رتے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نہیں ۔ " اس نے کہا : تو پھر آپ کومجھ سے کون بچائے گا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " اللہ تعالیٰ مجھے تم سےمحفوظ فرمائے گا ۔ " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے اسے دھمکایا تو اس نے تلوار میان میں ڈال لی اور اسے لٹکایا ۔ اس کے بعد نماز کے لئے اذان کہی گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعت نماز پڑھائی ، پھر وہ گروہ پیچھے چلا گیااس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں ۔ کہا اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہوئیں اور لوگوں کی دو دو رکعتیں ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ جَابِرًا أَخْبَرَهُ " أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى بِالطَّائِفَةِ الْأُخْرَى رَكْعَتَيْنِ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، وَصَلَّى بِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ ".
معاویہ بن سلام نے کہا : مجھے یحییٰ ( بن ا بی کثیر ) نے خبردی ، انھوں نے کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمان نے خبر دی کہ انھیں جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف پڑھی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کودو رکعتیں پڑھائیں ، پھر دوسرے گروہ کو دو ر کعتیں پڑھائیں ، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار ر کعتیں پڑھیں اور ہر گروہ کو دو دو رکعتیں پڑھائیں ۔
|
|