صحيح مسلم حدیث نمبر: 1867
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 800.01
📖 صحيح مسلم باب:6 حدیث نمبر : 295
Sahih Muslim 1867
کتاب #6م: قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور
40: باب فَضْلِ اسْتِمَاعِ الْقُرْآنِ وَطَلَبِ الْقِرَاءَةِ مِنْ حَافِظِهِ لِلاِسْتِمَاعِ وَالْبُكَاءِ عِنْدَ الْقِرَاءَةِ وَالتَّدَبُّرِ:
باب: قرآن سننے، حافظ سے اس کی فرمائش کرنے اور بوقت قرأت رونے اور غور کرنے کا بیان۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا ، عَنْ حَفْصٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَأْ عَلَيَّ الْقُرْآنَ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقْرَأُ عَلَيْكَ، وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ؟ قَالَ: إِنِّي أَشْتَهِي أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي، فَقَرَأْتُ النِّسَاءَ حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا سورة النساء آية 41 رَفَعْتُ رَأْسِي، أَوْ غَمَزَنِي رَجُلٌ إِلَى جَنْبِي، فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَرَأَيْتُ دُمُوعَهُ تَسِيلُ ".
حفص بن غیاث نے اعمش سے روایت کی ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں عبیدہ ( سلمانی ) سےاور انھوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " میرے سامنے قرآن مجید کی قراءت کرو ۔ " انھوں نے کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں آپ کو سناؤں ، جبکہ آپ پر ہی تو ( قرآن مجید ) نازل ہوا ہے؟آپ نے فرمایا : " میری خواہش ہے کہ میں اسےکسی دوسرے سے سنوں ۔ " تو میں نے سورہ نساء کی قراءت شروع کی ، جب میں اس آیت پر پہنچا : فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ شَهِيدًا " اس وقت کیا حال ہوگا ، جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان پر گواہ بنا کرلائیں گے ۔ " تو میں نے اپنا سر اٹھایا ، یا میرے پہلو میں موجود آدمی نے مجھے ٹھوکا دیا تو میں نے اپنا سر اٹھایا ، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو بہہ رہے تھے ۔