صحيح مسلم حدیث نمبر: 1834
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 785.02
📖 صحيح مسلم باب:6 حدیث نمبر : 262
Sahih Muslim 1834
کتاب #6: مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام
31: باب أَمْرِ مَنْ نَعَسَ فِي صَلاَتِهِ أَوِ اسْتَعْجَمَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ أَوِ الذِّكْرُ بِأَنْ يَرْقُدَ أَوْ يَقْعُدَ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ ذَلِكَ:
باب: نماز یا قرآن مجید کی تلاوت یا ذکر کے دوران اونگھنے یا سستی غالب آنے پر اس کے جانے تک سونے یا بیٹھے رہنے کا حکم۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ . ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظ لَهُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي امْرَأَةٌ، فَقَالَ: مَنْ هَذِهِ؟ فَقُلْتُ: امْرَأَةٌ لَا تَنَامُ، تُصَلِّي، قَالَ: " عَلَيْكُمْ مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ حَتَّى تَمَلُّوا، وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ "، وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ: أَنَّهَا امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ.
ابو اسامہ اور یحییٰٰ بن سعید نے ہشام بن عروہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے میرے والد نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہوئے خبر دی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میرے پاس ایک خاتون موجود تھیں ، آپ نے پوچھا : "" یہ کون ہے؟ "" میں نے کہا : یہ ایسی عورت ہے جو رات بھر نہیں سوتی ، نماز پڑھتی رہتی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اتنا عمل کرو جتنا تمہارے بس میں ہو ، اللہ کی قسم !اللہ نہیں اکتائے گا یہاں تک کہ تم ہی عمل سے اکتا جاؤ ۔ "" اللہ کے ہاں دین کا وہی عمل پسند ہے جس پر عمل کرنے والا ہمیشگی کرے ۔ ابو اسامہ کی روایت میں ہے ، یہ بنو اسد کی عورت تھی ۔