كتاب الجمعة
کتاب: جمعہ کے فضائل و مسائل
کتاب #18 • کل احادیث: 66
|
1: بَابُ : إِيجَابِ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کی فرضیت کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. ح وَابْنُ طَاوُسٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ , وَهَذَا الْيَوْمُ الَّذِي كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ فَهَدَانَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ , يَعْنِي يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ الْيَهُودُ غَدًا وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( دنیا میں ) ہم پیچھے آنے والے ہیں اور ( قیامت میں ) آگے ہوں گے ، صرف اتنی بات ہے کہ انہیں ( یعنی یہود و نصاریٰ کو ) کتاب ہم سے پہلے دی گئی ہے ، اور ہمیں ان کے بعد دی گئی ہے ، یہ ( جمعہ کا دن ) وہ دن ہے جس دن اللہ نے ان پر عبادت فرض کی تھی مگر انہوں نے اس میں اختلاف کیا ۱؎ ، تو اللہ تعالیٰ نے اس سے ( یعنی جمعہ کے دن سے ) ہمیں نواز دیا ، تو لوگ اس میں ہمارے تابع ہیں ۲؎ ، یہود کل کی یعنی ہفتہ ( سنیچر ) کی تعظیم کرتے ہیں ، اور نصاریٰ پرسوں کی ( یعنی اتوار کی ) “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1368]
💡 وضاحت:
۱؎: یہود نے اپنے لیے ہفتہ (سنیچر) کا دن تجویز کر لیا اور نصایٰ نے اتوار کا۔ ۲؎: کیونکہ جمعہ ہی کے دن اللہ تعالیٰ نے دنیا کو پیدا کیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجمعة 12 (896)، أحادیث الأنبیاء 54 (3486)، صحیح مسلم/الجمعة 6 (855)، (تحفة الأشراف: 13522، 13683)، مسند احمد 2/ 249، 274، 341 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَضَلَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنِ الْجُمُعَةِ مَنْ كَانَ قَبْلَنَا فَكَانَ لِلْيَهُودِ يَوْمُ السَّبْتِ , وَكَانَ لِلنَّصَارَى يَوْمُ الْأَحَدِ , فَجَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِنَا فَهَدَانَا لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ فَجَعَلَ الْجُمُعَةَ وَالسَّبْتَ وَالْأَحَدَ , وَكَذَلِكَ هُمْ لَنَا تَبَعٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , وَنَحْنُ الْآخِرُونَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا وَالْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمَقْضِيُّ لَهُمْ قَبْلَ الْخَلَائِقِ".
ابوہریرہ اور حذیفہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلے والوں کو جمعہ سے بھٹکا دیا ، یہود کے لیے ہفتہ ( سنیچر ) کا دن مقرر ہوا ، اور نصرانیوں کے لیے اتوار کا ، پھر اللہ تعالیٰ ہمیں لایا تو اس نے ہمیں جمعہ کے دن سے نوازا ، تو اب ( پہلے ) جمعہ ہے ، پھر ہفتہ ( سنیچر ) پھر اتوار ، اس طرح یہ لوگ قیامت تک ہمارے تابع ہوں گے ، ہم دنیا میں بعد میں آئے ہیں مگر قیامت کے دن پہلے ہوں گے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1369]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی تمام مخلوقات سے پہلے ہمارا فیصلہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (ب) إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجمعة 6 (856)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 78 (1083)، (تحفة الأشراف: 3311) (صحیح)
|
|
|
2: بَابُ : التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنِ الْجُمُعَةِ
باب: نماز جمعہ چھوڑنے کی شناعت کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ تَرَكَ ثَلَاثَ جُمَعٍ تَهَاوُنًا بِهَا , طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ".
ابوجعد ضمری رضی اللہ عنہ ( جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ) کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے تین جمعہ سستی سے چھوڑ دیا ، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دے گا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1370]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس کا دل خیر اور ہدایت کے قبول کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دئیے جائیں گے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 210 (1052)، سنن الترمذی/الصلاة 242، الجمعة 7 (500)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 93 (1125)، (تحفة الأشراف: 11883)، مسند احمد 3/424، سنن الدارمی/الصلاة 205 (1612) (حسن صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ الْحَضْرَمِيِّ بْنِ لَاحِقٍ، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ , وَابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثَانِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ عَلَى أَعْوَادِ مِنْبَرِهِ: " لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمُ الْجُمُعَاتِ أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَلَيَكُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ".
عبداللہ بن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منبر کے زینے سے فرمایا : ” لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آ جائیں ، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا ۱؎ اور وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے “ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1371]
💡 وضاحت:
۱؎: گویا مسلسل جمعہ کا چھوڑنا ایسا خطرناک فعل ہے جس سے دلوں پر مہر لگ سکتی ہے جس کے بعد انسان کے لیے اخروی فلاح و نجات کی امید ختم ہو جاتی ہے۔ ۲؎: ”غافلوں میں سے ہو جائیں“ کا مطلب ہے کہ اللہ کے ذکر اور اس کے احکام سے بالکل بے پرواہ ہو جائیں گے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجمعة 12 (865) (وفیہ ’’أبو ھریرة‘‘ بدل ’’ابن عباس‘‘)، سنن ابن ماجہ/المساجد 17 (794) (تحفة الأشراف: 5413، 6696)، (وفیہ ’’الجماعات‘‘ بدل ’’الجمعات‘‘)، مسند احمد 1/239، 254، 335 و 2/84، سنن الدارمی/الصلاة 205 (1611) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " رَوَاحُ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ".
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جمعہ کے لیے ( مسجد ) جانا ہر بالغ مرد پر فرض ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1372]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطھارة 129 (342)، (تحفة الأشراف: 15806)، (و عندہ زیادة ’’وعلی کل من راح إلی الجمعة الغسل“) (صحیح)
|
|
|
3: بَابُ : كَفَّارَةِ مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ
باب: عذر شرعی کے بغیر جمعہ چھوڑ دینے والے کے کفارہ کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ وَبَرَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ , فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَبِنِصْفِ دِينَارٍ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص بنا کسی عذر کے جمعہ چھوڑ دے تو وہ ایک دینار صدقہ کرے ، اور اگر ایک دینار نہ ہو تو آدھا دینار ہی کرے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1373]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، (الف) إسناده ضعيف، ابو داود (1053) ابن ماجه (1128) قتادة عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 331
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 211 (1053، 1054)، (تحفة الأشراف: 4631)، مسند احمد 5/8، 14 (ضعیف) (اس کے راوی ’’قدامہ‘‘ مجہول ہیں، نیز ”سمرہ رضی اللہ عنہ“ سے ان کا سماع نہیں ہے)
|
|
|
4: بَابُ : ذِكْرِ فَضْلِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن کی فضیلت کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ , فِيهِ خُلِقَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام , وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ , وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بہترین دن جس میں سورج نکلا جمعہ کا دن ہے ، اسی دن آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے ، اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا ، اور اسی دن انہیں جنت سے نکالا گیا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1374]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے جمعہ کے دن کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے کیونکہ اس میں بڑے بڑے امور سر انجام پائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجمعة 5 (854)، (تحفة الأشراف: 13959)، مسند احمد 2/401، 418، 512 (صحیح)
|
|
|
5: بَابُ : إِكْثَارِ الصَّلاَةِ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام , وَفِيهِ قُبِضَ , وَفِيهِ النَّفْخَةُ , وَفِيهِ الصَّعْقَةُ , فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ , فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرَمْتَ أَيْ يَقُولُونَ قَدْ بَلِيتَ؟ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ السَّلَام".
اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے دنوں میں سب سے افضل ( بہترین ) جمعہ کا دن ہے ، اسی دن آدم علیہ السلام پیدا ہوئے ، اسی میں ان کی روح قبض کی گئی ، اور اسی دن صور پھونکا جائے گا ، اور اسی دن بیہوشی طاری ہو گی ، لہٰذا تم مجھ پر زیادہ سے زیادہ صلاۃ ( درود و رحمت ) بھیجو کیونکہ تمہاری صلاۃ ( درود و رحمت ) مجھ پر پیش کیے جائیں گے “ ۱؎ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہماری صلاۃ ( درود و رحمت ) آپ پر کس طرح پیش کی جائیں گی حالانکہ آپ ریزہ ریزہ ہو چکے ہوں گے یعنی وہ کہنا چاہ رہے تھے ، کہ آپ بوسیدہ ہو چکے ہوں گے ، آپ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء علیہم السلام کے جسم کو کھائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1375]
💡 وضاحت:
۱؎: تمہارے درود مجھ پر پیش کیے جائیں گے، سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ براہ راست کسی کا درود نہیں سنتے نہ قریب سے نہ بعید سے، قریب سے سننے کی ایک روایت مشہور ہے لیکن وہ صحیح نہیں، صحیح یہی ہے کہ آپ خود کسی کا درود نہیں سنتے فرشتے ہی آپ کا درود پہنچاتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1531،1047) ابن ماجه (1636،1085) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 332
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 207 (1047)، 361 (1531)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 79 (1085)، الجنائز 65 (1636)، (تحفة الأشراف: 1736)، مسند احمد 4/8 (صحیح)
|
|
|
6: بَابُ : الأَمْرِ بِالسِّوَاكِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن مسواک کرنے کے حکم کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ , أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ , وَبُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ حَدَّثَاهُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ , وَالسِّوَاكُ , وَيَمَسُّ مِنَ الطِّيبِ مَا قَدَرَ عَلَيْهِ" , إِلَّا أَنَّ بُكَيْرًا لَمْ يَذْكُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ , وَقَالَ: فِي الطِّيبِ وَلَوْ مِنْ طِيبِ الْمَرْأَةِ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جمعہ کے دن ہر بالغ شخص پر غسل کرنا واجب ہے ، مسواک کرنا بھی ، اور خوشبو جس پروہ قادر ہو لگانا بھی ۱؎ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1376]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجمعة 3 (880)، صحیح مسلم/الجمعة 2 (846)، سنن ابی داود/الطھارة 129 (344)، (تحفة الأشراف: 4116)، مسند احمد 3/30، 65، 66، 69، ویأتی عند المؤلف برقم: 1384 (صحیح)
|
|
|
7: بَابُ : الأَمْرِ بِالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن غسل کرنے کے حکم کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی جمعہ ( کی نماز ) کے لیے آئے تو اسے چاہیئے کہ غسل کر لے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1377]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجمعة 2 (877)، 12 (894)، 26 (919)، (تحفة الأشراف: 8381)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجمعة (844)، سنن الترمذی/الصلاة 238، الجمعة 3 (492)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 80 (1088)، موطا امام مالک/الجمعة 1 (5)، مسند احمد 2/3، 9، 35، 37، 41، 42، 48، 53، 55، 57، 64، 77، 78، 101، 105، 115، 120، 141، 145، 149 (صحیح)
|
|
|
8: بَابُ : إِيجَابِ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن غسل کے واجب ہونے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ شخص پر واجب ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1378]
💡 وضاحت:
۱؎: جمعہ کی نماز کے لیے غسل شروع میں واجب تھا، جو بعد میں منسوخ ہو گیا، دیکھئیے حدیث رقم: ۱۳۸۰، ۱۳۸۱۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 161 (858)، الجمعة 2 (879)، 12 (895)، الشھادات 18 (2665)، صحیح مسلم/الجمعة 1 (846)، سنن ابی داود/الطھارة 129 (341)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 80 (1089)، موطا امام مالک/الجمعة 1 (4)، (تحفة الأشراف: 4161)، مسند احمد 3/6، 60، سنن الدارمی/الصلاة 190 (1578، 1579) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَى كُلِّ رَجُلٍ مُسْلِمٍ فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ غُسْلُ يَوْمٍ وَهُوَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر مسلمان شخص پر ہر سات دن میں ایک دن کا غسل ہے ، اور وہ جمعہ کا دن ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1379]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، مسند احمد 3/304، (تحفة الأشراف: 2706) (صحیح)
|
|
|
9: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي تَرْكِ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن غسل نہ کرنے کی رخصت کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ , أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , أَنَّهُمْ ذَكَرُوا غُسْلَ يَوْمِ الْجُمُعَةِ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ: إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يَسْكُنُونَ الْعَالِيَةَ فَيَحْضُرُونَ الْجُمُعَةَ وَبِهِمْ وَسَخٌ , فَإِذَا أَصَابَهُمُ الرَّوْحُ سَطَعَتْ أَرْوَاحُهُمْ فَيَتَأَذَّى بِهَا النَّاسُ , فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَوَ لَا يَغْتَسِلُونَ".
قاسم بن محمد ابن ابی بکر کہتے ہیں کہ لوگوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جمعہ کے دن کے غسل کا ذکر کیا ، تو انہوں نے کہا : لوگ «عالیہ» میں رہتے تھے ، تو وہ وہاں سے جمعہ میں آتے تھے ، اور ان کا حال یہ ہوتا کہ وہ میلے کچیلے ہوتے ، جب ہوا ان پر سے ہوتے ہوئے گزرتی تو ان کی بو پھیلتی ، تو لوگوں کو تکلیف ہوتی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا یہ لوگ غسل کر کے نہیں آ سکتے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1380]
💡 وضاحت:
۱؎: «عالیہ» شہر مدینہ سے جنوب مشرق میں جو آباد یاں تھیں انہیں «عالیہ» (یا عوالی) کہا جاتا تھا، آج بھی انہیں ”عوالی“ کہا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17469)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 16 (903)، البیوع 15 (2071)، صحیح مسلم/الجمعة 1 (847)، سنن ابی داود/الطہارة 130 (352) نحوہ (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ وَمَنِ اغْتَسَلَ فَالْغُسْلُ أَفْضَلُ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: الْحَسَنُ عَنْ سَمُرَةَ كِتَابًا , وَلَمْ يَسْمَعِ الْحَسَنُ مِنْ سَمُرَةَ إِلَّا حَدِيثَ الْعَقِيقَةِ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے جمعہ کے دن وضو کیا ، تو اس نے رخصت کو اختیار کیا ، اور یہ خوب ہے ۱؎ اور جس نے غسل کیا تو غسل افضل ہے “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : ” حسن بصری “ نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کو ان کی کتاب سے روایت کیا ہے ، کیونکہ حسن نے سمرہ سے سوائے عقیقہ والی حدیث کے کوئی اور حدیث نہیں سنی ہے ۲؎ واللہ اعلم ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1381]
💡 وضاحت:
۱؎: «فبہا» کا مطلب ہے «فبالرخصۃ أخذ» یعنی اس نے رخصت کو اختیار کیا، اور «نِعْمَتْ» کا مطلب «نعمت ہی الرخصۃ» ہے یہ رخصت خوب ہے، اس حدیث سے جمعہ کے غسل کے عدم وجوب پر استدلال کیا گیا ہے کیونکہ ایک تو اس میں وضو کی رخصت دی گئی ہے، اور دوسرے غسل کو افضل بتایا گیا ہے جس سے ترک غسل کی اجازت نکلتی ہے۔ ۲؎: صحیح بخاری میں حدیث عقیقہ کے علاوہ بھی حسن بصری کی سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایات موجود ہیں، اس بابت اختلاف ہے، مگر علی بن المدینی اور امام بخاری کی ترجیح یہی ہے کہ حسن بصری نے حدیث عقیقہ کے علاوہ بھی سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطھارة 130 (354)، سنن الترمذی/الصلاة 240 (الجمعة 5) (497)، (تحفة الأشراف: 4587)، مسند احمد 5/8، 11، 15، 16، 22، سنن الدارمی/الصلاة 190 (1581) (صحیح)
|
|
|
10: بَابُ : فَضْلِ غُسْلِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن کے غسل کی فضیلت کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ , وَهَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ , وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ وَغَدَا وَابْتَكَرَ وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ وَلَمْ يَلْغُ , كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ عَمَلُ سَنَةٍ صِيَامُهَا وَقِيَامُهَا".
اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو غسل کرائے ۱؎ غسل کرے ، سویرے سویرے ( مسجد ) جائے ، شروع خطبہ سے موجود رہے ، اور امام سے قریب بیٹھے ، اور کوئی لغو کام نہ کرے ، تو اس کو اس کے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزے اور قیام کا ثواب ملے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1382]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جمعہ کے لیے اپنے غسل سے پہلے بیوی سے صحبت کرے کہ اسے بھی غسل کی ضرورت ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطھارة 129 (345، 346)، سنن الترمذی/الصلاة 239 (الجمعة 4) (496)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 80 (1087)، (تحفة الأشراف: 1735)، مسند احمد 4/8، 9، 10، 104، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1385، 1399 (صحیح)
|
|
|
11: بَابُ : الْهَيْئَةِ لِلْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے لیے اچھا لباس پہننے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةً , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ"، ثُمَّ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهَا فَأَعْطَى عُمَرَ مِنْهَا حُلَّةً , فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا" , فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ( ریشم کا ) ایک جوڑا ( بکتے ) دیکھا ، تو عرض کیا : اللہ کے رسول ! کاش آپ اسے خرید لیتے ، اور جمعہ کے دن ، اور باہر کے وفود کے لیے جب وہ آپ سے ملنے آئیں پہنتے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے تو وہی پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو “ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس طرح کے کچھ جوڑے آئے ، آپ نے ان میں سے ایک جوڑا عمر رضی اللہ عنہ کو دیا ، تو انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے مجھے اسے پہننے کے لیے دیا ہے حالانکہ عطارد کے جوڑے کے بارے میں آپ نے ایسا ایسا کہا تھا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے یہ جوڑا تمہیں اس لیے نہیں دیا ہے کہ اسے تم خود پہنو “ ، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے مشرک بھائی کو دے دیا جو مکہ میں تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1383]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجمعة 7 (886)، العیدین 1 (948)، الھبة 27 (2612)، 29 (2619)، الجھاد 177 (3054) (وفیہ ’’العید‘‘ بدل ’’الجمعة‘‘)، اللباس 30 (5841)، الأدب 9 (5981)، 66 (6081) (بدون ذکر الجمعة أو العید)، صحیح مسلم/اللباس 1 (2068)، سنن ابی داود/الصلاة 219 (1076)، اللباس 10 (4040)، (تحفة الأشراف: 8335)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/اللباس 16 (3591)، موطا امام مالک/اللباس 8 (18)، مسند احمد 2/20، 39، 49 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ سُلَيْمٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْغُسْلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ , وَالسِّوَاكَ , وَأَنْ يَمَسَّ مِنَ الطِّيبِ مَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جمعہ کے دن غسل کرنا ، مسواک کرنا ، اور خوشبو لگانا جس پر وہ قادر ہو ، ہر بالغ شخص پر واجب ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1384]
💡 وضاحت:
۱؎: بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
أنظر حدیث رقم: 1376 (صحیح)
|
|
|
12: بَابُ : فَضْلِ الْمَشْىِ إِلَى الْجُمُعَةِ
باب: نماز جمعہ کے لیے پیدل جانے کی فضیلت کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْأَشْعَثِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَوْسَ بْنَ أَوْسٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَغَسَلَ وَغَدَا وَابْتَكَرَ وَمَشَى وَلَمْ يَرْكَبْ , وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ وَأَنْصَتَ وَلَمْ يَلْغُ , كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ عَمَلُ سَنَةٍ".
اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے ، اپنی بیوی کو غسل کرائے ، صبح سویرے ہی جمعہ کے لیے نکلے ، شروع خطبہ ہی سے موجود رہے ، پیدل چل کر مسجد جائے ، سواری نہ کرے ، امام سے قریب بیٹھے ، اور خاموش رہے کوئی لغو کام نہ کرے ، تو اس کے ہر قدم پر ایک سال کے عمل کا ثواب ملے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1385]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 1382 (صحیح)
|
|
|
13: بَابُ : التَّبْكِيرِ إِلَى الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے لیے مسجد سویرے جانے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ , قَعَدَتِ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ فَكَتَبُوا مَنْ جَاءَ إِلَى الْجُمُعَةِ , فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طَوَتِ الْمَلَائِكَةُ الصُّحُفَ , قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُهَجِّرُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَالْمُهْدِي بَدَنَةً، ثُمَّ كَالْمُهْدِي بَقَرَةً، ثُمَّ كَالْمُهْدِي شَاةً، ثُمَّ كَالْمُهْدِي بَطَّةً، ثُمَّ كَالْمُهْدِي دَجَاجَةً، ثُمَّ كَالْمُهْدِي بَيْضَةً".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے ( اس دن ) مسجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں ، اور جو جمعہ کے لیے آتا ہے اسے لکھتے ہیں ، اور جب امام ( خطبہ دینے کے لیے ) نکلتا ہے تو فرشتے رجسٹر لپیٹ دیتے ہیں “ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جمعہ کے لیے سب سے پہلے آنے والا ایک اونٹ کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے ، پھر اس کے بعد والا ایک گائے کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے ، پھر اس کے بعد والا ایک بکری کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے ، پھر اس کے بعد والا ایک بطخ کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے ، پھر اس کے بعد والا ایک مرغی کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے ، پھر اس کے بعد والا ایک انڈے کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1386]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ نماز جمعہ کے لیے جو جتنی جلدی پہنچے گا اتنا ہی زیادہ اجر و ثواب کا مستحق ہو گا، اور جتنی تاخیر کرے گا اتنا ہی ثواب میں کمی آتی جائے گی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجمعة 31 (929)، بدء الخلق 6 (3211)، صحیح مسلم/الجمعة 7 (850)، (تحفة الأشراف: 13465)، مسند احمد 2/259، 263، 264، 280، 505، 512، سنن الدارمی/الصلاة 193 (1585) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ كَانَ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَائِكَةٌ يَكْتُبُونَ النَّاسَ عَلَى مَنَازِلِهِمُ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ , فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طُوِيَتِ الصُّحُفُ وَاسْتَمَعُوا الْخُطْبَةَ , فَالْمُهَجِّرُ إِلَى الصَّلَاةِ كَالْمُهْدِي بَدَنَةً، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي بَقَرَةً، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي كَبْشًا حَتَّى ذَكَرَ الدَّجَاجَةَ وَالْبَيْضَةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مسجد کے دروازوں میں سے ہر دروازے پر فرشتے لوگوں کو ان کے درجات و مراتب کے مطابق یعنی ترتیب وار لکھتے ہیں ، جو پہلے آتا ہے اسے پہلے لکھتے ہیں ، جب امام خطبہ دینے کے لیے نکلتا ہے تو رجسٹر لپیٹ دیے جاتے ہیں ، اور فرشتے خطبہ سننے لگتے ہیں ، جمعہ کے لیے سب سے پہلے آنے والا ایک اونٹ قربان کرنے والے کی طرح ہے ، پھر جو اس کے بعد آئے وہ ایک گائے قربان کرنے والے کی طرح ہے ، پھر جو اس کے بعد آئے وہ ایک مینڈھا قربان کرنے والے کی طرح ہے “ ، یہاں تک کہ آپ نے مرغی اور انڈے کا ( بھی ) ذکر کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1387]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجمعة 7 (850)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 82 (1092)، (تحفة الأشراف: 13138)، مسند احمد 2/239 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَقْعُدُ الْمَلَائِكَةُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ يَكْتُبُونَ النَّاسَ عَلَى مَنَازِلِهِمْ , فَالنَّاسُ فِيهِ كَرَجُلٍ قَدَّمَ بَدَنَةً , وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَقَرَةً , وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ شَاةً , وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ دَجَاجَةً , وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ عُصْفُورًا , وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَيْضَةً".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعۃ المبارک کے دن فرشتے مسجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور لوگوں کے نام ان کے آنے کی ترتیب کے مطابق لکھتے ہیں ۔ ان میں سے کوئی تو اس آدمی کی طرح ہوں گے جس نے اعلیٰ درجے کا اونٹ صدقہ کیا ، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے کم درجے کا اونٹ صدقہ کیا ، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے اعلیٰ درجے کی گائے صدقہ کی ، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے کم درجے کی گائے صدقہ کی ، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے اعلیٰ درجے کی بکری صدقہ کی ، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے کم درجے کی بکری صدقہ کی ، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے بہترین مرغی صدقہ کی اور کچھ اس آدمی کی طرح جس نے کم درجے کی مرغی صدقہ کی ، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے قیمتی چڑیا صدقہ کی اور کچھ اس آدمی کی طرح جس نے عام چڑیا صدقہ کی ، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے بہترین انڈہ صدقہ کیا اور کچھ اس آدمی کی طرح جس نے عام انڈہ صدقہ کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1388]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح لكن قوله عصفور منكر والمحفوظ دجاجة
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، محمد بن عجلان عنعن وهو مدلس،وقوله ’’عصفور‘‘ لم أجد له طريقًا صحيحًا. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 332
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 12583) (حسن صحیح) (لیکن عصفور (گوریا) کا لفظ منکرہے، معروف ’’دجاجہ‘‘ (مرغی) کا لفظ ہے جیسا کہ پچھلی روایات میں گزرا، اور نکارت کا سبب ”ابن عجلان‘‘ ہیں، ان سے ابوہریرہ کی روایات میں بڑا وہم ہوا ہے)
|
|
|
14: بَابُ : وَقْتِ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے وقت کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ، ثُمَّ رَاحَ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلَائِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے جمعہ کے دن غسل جنابت کے مانند ( خوب اہتمام سے ) غسل کیا ، پھر وہ ( جمعہ میں شریک ہونے کے لیے ) پہلی ساعت ( گھڑی ) میں مسجد گیا ، تو گویا اس نے ایک اونٹ اللہ کی راہ میں پیش کیا ، اور جو شخص اس کے بعد والی گھڑی میں گیا ، تو گویا اس نے ایک گائے پیش کی ، اور جو تیسری گھڑی میں گیا ، تو گویا اس نے ایک مینڈھا پیش کیا ، اور جو چوتھی گھڑی میں گیا ، تو گویا اس نے ایک مرغی پیش کی ، اور جو پانچویں گھڑی میں گیا ، تو گویا اس نے ایک انڈا پیش کیا ، اور جب امام ( خطبہ دینے کے لیے ) نکل آتا ہے تو فرشتے مسجد کے اندر آ جاتے ہیں ، اور خطبہ سننے لگتے ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1389]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی نام درج کرنے والا رجسٹر بند کر دیتے ہیں، اس میں نماز جمعہ کے لیے جلد سے جلد جانے کی ترغیب و فضیلت کا بیان ہے، جو جتنی جلدی جائے گا اتنا ہی زیادہ ثواب کا مستحق ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجمعة 4 (881)، 31 (929)، صحیح مسلم/الجمعة 2 (850)، سنن ابی داود/الطھارة 129 (351)، سنن الترمذی/الصلاة 241 (الجمعة 6) (499)، موطا امام مالک/الجمعة 1 (1)، مسند احمد 2/460، سنن الدارمی/الصلاة 193 (1585) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْجُلَاحِ مَوْلَى عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَوْمُ الْجُمُعَةِ اثْنَتَا عَشْرَةَ سَاعَةً، لَا يُوجَدُ فِيهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا آتَاهُ إِيَّاهُ , فَالْتَمِسُوهَا آخِرَ سَاعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جمعہ کا دن بارہ ساعتوں ( گھڑیوں ) پر مشتمل ہے ، اس کی ایک ساعت ایسی ہے کہ اس میں جو بھی مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگتے ہوئے پایا جاتا ہے ، تو اسے وہ دیتا ہے ، تو تم اسے آخری گھڑی میں عصر کے بعد تلاش کرو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1390]
💡 وضاحت:
۱؎: اس گھڑی کے بارے میں علماء میں بہت اختلاف ہے، بعض علماء کے نزدیک راجح قول یہی ہے جو اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں: یہ گھڑی امام کے منبر پر بیٹھنے سے نماز کے ختم ہونے تک کے درمیانی وقفے میں ہوتی ہے، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 208 (1048)، (تحفة الأشراف: 1357) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قال: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ، قال: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ نَرْجِعُ فَنُرِيحُ نَوَاضِحَنَا" , قُلْتُ: أَيَّةَ سَاعَةٍ؟ قَالَ: " زَوَالُ الشَّمْسِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھتے تھے ، پھر ہم لوٹتے تو اپنے اونٹوں کو آرام دیتے ، میں نے کہا : وہ کون سا وقت ہوتا ؟ ، انہوں نے کہا : سورج ڈھلنے کا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1391]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجمعة 9 (858)، مسند احمد 3/331، (تحفة الأشراف: 2602) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ، قال: سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قال: " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ، ثُمَّ نَرْجِعُ وَلَيْسَ لِلْحِيطَانِ فَيْءٌ يُسْتَظَلُّ بِهِ".
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے تھے ، پھر ہم اس حال میں لوٹتے کہ دیواروں کا سایہ نہ ہوتا جس سے سایہ حاصل کیا جا سکے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1392]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی زوال ہوئے ابھی تھوڑا سا وقت گزرا ہوتا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المغازي 35 (4168)، صحیح مسلم/الجمعة 9 (860)، سنن ابی داود/الصلاة 234 (1085)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 84 (1100)، (تحفة الأشراف: 4512)، مسند احمد 4/46، 50، 54، سنن الدارمی/الصلاة 194 (1587) (صحیح)
|
|
|
15: بَابُ : الأَذَانِ لِلْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کی اذان کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، " أَنَّ الْأَذَانَ كَانَ أَوَّلُ حِينَ يَجْلِسُ الْإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَلَمَّا كَانَ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ وَكَثُرَ النَّاسُ , أَمَرَ عُثْمَانُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِالْأَذَانِ الثَّالِثِ، فَأُذِّنَ بِهِ عَلَى الزَّوْرَاءِ فَثَبَتَ الْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ".
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کے زمانے میں جمعہ کے دن پہلی اذان اس وقت ہوتی تھی جس وقت امام منبر پر بیٹھتا ، پھر جب عثمان رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا ، اور لوگ بڑھ گئے تو انہوں نے جمعہ کے دن تیسری اذان کا حکم دیا ۱؎ ، وہ اذان مقام زوراء پر دی گئی ، پھر اسی پر معاملہ قائم رہا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1393]
💡 وضاحت:
۱؎: تکبیر کو شامل کر کے تیسری اذان ہوئی، یہ ترتیب میں پہلی اذان ہے جو خلیفہ راشد عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی سنت ہے، دوسری اذان اس وقت ہو گی جب امام خطبہ دینے کے لیے منبر پر بیٹھے گا، اور تیسری اذان تکبیر ہے، اگر کوئی صرف اذان اور تکبیر پر اکتفا کرے تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کی سنت کی اتباع کی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجمعة 21 (912)، 22 (913)، 24 (915)، 25 (916)، سنن ابی داود/الصلاة 225 (1087، 1088، 1089)، سنن الترمذی/الصلاة 255 (الجمعة 20) (516)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 97 (1135)، (تحفة الأشراف: 3799)، مسند احمد 3/449، 450 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ أَخْبَرَهُ، قَالَ: " إِنَّمَا أَمَرَ بِالتَّأْذِينِ الثَّالِثِ عُثْمَانُ حِينَ كَثُرَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ، وَلَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ مُؤَذِّنٍ وَاحِدٍ، وَكَانَ التَّأْذِينُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حِينَ يَجْلِسُ الْإِمَامُ".
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تو تیسری اذان کا حکم عثمان رضی اللہ عنہ نے دیا تھا جب اہل مدینہ زیادہ ہو گئے تھے ، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صرف ایک ہی مؤذن تھا ، اور جمعہ کے دن اذان اس وقت ہوتی تھی جب امام ( منبر پر ) بیٹھ جاتا تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1394]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
أنظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: " كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ إِذَا جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَإِذَا نَزَلَ أَقَامَ، ثُمَّ كَانَ كَذَلِكَ فِي زَمَنِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا".
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ اس وقت اذان دیتے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر بیٹھ جاتے ، پھر جب آپ اترتے تو وہ اقامت کہتے ، اسی طرح ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم کے زمانے میں بھی ہوتا رہا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1395]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 1393 (صحیح)
|
|
|
16: بَابُ : الصَّلاَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِمَنْ جَاءَ وَقَدْ خَرَجَ الإِمَامُ
باب: امام کے خطبہ کے لیے نکل جانے کے بعد مسجد میں آنے والے کی نماز کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَقَدْ خَرَجَ الْإِمَامُ , فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ" , قَالَ شُعْبَةُ: يَوْمَ الْجُمُعَةِ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی ( مسجد ) آئے اور امام ( خطبہ کے لیے ) نکل چکا ہو ۱؎ تو چاہیئے کہ وہ دو رکعت پڑھ لے “ ۔ شعبہ کی روایت میں ہے : ” جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن آئے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1396]
💡 وضاحت:
۱؎: خواہ اس نے خطبہ شروع کر دیا ہو یا ابھی نہ کیا ہو، بلکہ ایک روایت میں «والإمام یخطب» کے الفاظ وارد ہیں، اس میں اس بات کی تصریح ہے کہ امام کے خطبہ دینے کی حالت میں بھی یہ دونوں رکعتیں پڑھی جائیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/التھجد 25 (1166)، صحیح مسلم/الجمعة 14 (875)، (تحفة الأشراف: 2549)، مسند احمد 3/389، سنن الدارمی/الصلاة 196 (1592)، وانظر أیضا مایأتی برقم: 1401 (صحیح)
|
|
|
17: بَابُ : مَقَامِ الإِمَامِ فِي الْخُطْبَةِ
باب: خطبہ کے دوران امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ يَسْتَنِدُ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا صُنِعَ الْمِنْبَرُ وَاسْتَوَى عَلَيْهِ , اضْطَرَبَتْ تِلْكَ السَّارِيَةُ كَحَنِينِ النَّاقَةِ حَتَّى سَمِعَهَا أَهْلُ الْمَسْجِدِ، حَتَّى نَزَلَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَنَقَهَا فَسَكَتَتْ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دیتے تو مسجد کے ستونوں میں سے کھجور کے ایک تنا سے آپ ٹیک لگاتے تھے ، پھر جب منبر بنایا گیا ، اور آپ اس پر کھڑے ہوئے تو وہ ستون ( جس سے آپ سہارا لیتے تھے ) بیقرار ہو کر رونے لگا جس طرح اونٹنی روتی ہے ، یہاں تک کہ اسے مسجد والوں نے بھی سنا ، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتر کر اس کے پاس گئے ، اور اسے گلے سے لگایا تو وہ چپ ہوا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1397]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 26 (917)، المناقب 25 (3585)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 199 (1417)، تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2877)، مسند احمد 3/295، 300، 306، 324 (صحیح)
|
|
|
18: بَابُ : قِيَامِ الإِمَامِ فِي الْخُطْبَةِ
باب: امام کے کھڑے ہو کر خطبہ دینے کا بیان۔
|
|
|
أخبرنا أحمد بن عبد الله بن الحكم قال حدثنا محمد بن جعفر قال حدثنا شعبة عن منصور عن عمرو بن مرة عن أبي عبيدة عن كعب بن عجرة قال: دخل المسجد وعبد الرحمن بن أم الحكم يخطب قاعدا فقال انظروا إلى هذا يخطب قاعدا وقد قال الله عز وجل {وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما} .
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ مسجد میں آئے اور عبدالرحمٰن بن ام الحکم بیٹھ کر خطبہ دے رہے تھے تو انہوں نے کہا : اس شخص کو دیکھو بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : «وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما» ” اور جب وہ کوئی سودا بکتا دیکھیں یا کوئی تماشا نظر آ جائے تو اس کی طرف دوڑ جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا ہی چھوڑ دیتے ہیں “ ( الجمعہ : ۱۱ ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1398]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجمعة 11 (864)، (تحفة الأشراف: 11120) (صحیح)
|
|
|
19: بَابُ : الْفَضْلِ فِي الدُّنُوِّ مِنَ الإِمَامِ
باب: جمعہ میں امام کے نزدیک رہنے کی فضیلت کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قال: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، قال: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ وَابْتَكَرَ وَغَدَا وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ وَأَنْصَتَ ثُمَّ لَمْ يَلْغُ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ كَأَجْرِ سَنَةٍ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا".
اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص غسل کرائے اور خود بھی غسل کرے ، اور مسجد کے لیے سویرے نکل جائے ، اور امام سے قریب رہے ، اور خاموشی سے خطبہ سنے ، پھر کوئی لغو کام نہ کرے ، تو اسے ہر قدم کے عوض ایک سال کے روزے ، اور قیام کا ثواب ملے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1399]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 1382 (صحیح)
|
|
|
20: بَابُ : النَّهْىِ عَنْ تَخَطِّي، رِقَابِ النَّاسِ وَالإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ میں امام کے منبر پر ہونے کی حالت میں لوگوں کی گردنیں پھلانگنا منع ہے۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، قال: كُنْتُ جَالِسًا إِلَى جَانِبِهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ , فَقَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيِ اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ".
ابوالزاہریہ کہتے ہیں کہ میں جمعہ کے روز عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے بغل میں بیٹھا تھا تو انہوں نے کہا : ایک آدمی لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” اے فلان ! بیٹھ جاؤ تم نے ( لوگوں کو ) تکلیف دی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1400]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ اس صورت میں ہے جب اگلی صفوں میں خالی جگہ نہ ہو لیکن اگر لوگوں نے خالی جگہ چھوڑ رکھی ہو تو گردنیں پھلانگ کر جانا درست ہو گا، یا یہ اس وقت کے ساتھ خاص ہے جب امام منبر پر بیٹھا ہو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 238 (1118)، (تحفة الأشراف: 5188)، مسند احمد 4/188، 190 (صحیح)
|
|
|
21: بَابُ : الصَّلاَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِمَنْ جَاءَ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ
باب: جمعہ کے دن امام کے خطبہ دینے کی حالت میں آنے والے کی نماز کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ لَهُ: " أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ" , قَالَ: لَا، قَالَ: " فَارْكَعْ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر تھے ، ایک آدمی ( مسجد میں ) آیا تو آپ نے اس سے پوچھا : ” کیا تم نے دو رکعتیں پڑھ لیں ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، تو آپ نے فرمایا : ” تو پڑھ لو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1401]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں اس کی وضاحت نہیں کہ جمعہ سے پہلے کتنی سنتیں ہیں، اس سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ مسجد میں آنے والا دو رکعت پڑھ کر بیٹھے حتیٰ کہ اگر کوئی شخص خطبہ جمعہ کے دوران بھی آئے تو وہ بھی مختصر طور پر دو رکعت ضرور پڑھے پھر خطبہ سنے تاہم خطبہ سے پہلے آنے والا شخص دو رکعت تحیۃالمسجد ادا کرنے کے بعد دو دو کر کے جتنے چاہے نوافل پڑھ سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 32 (930)، 33 (931)، صحیح مسلم/الجمعة 14 (875)، سنن ابی داود/الصلاة 237 (1115)، سنن الترمذی/فیہ 250 (الجمعة 15) (510)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 87 (1113)، (تحفة الأشراف: 2557)، مسند احمد 3/297، 308، 369، 380، سنن الدارمی/الصلاة 196 (1406) (صحیح)
|
|
|
22: بَابُ : الإِنْصَاتِ لِلْخُطْبَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن خطبہ کے لیے خاموش کرانے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ أَنْصِتْ , فَقَدْ لَغَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے جمعہ کے دن اپنے ساتھی سے کہا : ” خاموش رہو “ اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اس نے لغو حرکت کی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1402]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجمعة 36 (934)، صحیح مسلم/الجمعة 3 (851)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 251 (الجمعة 16) (512)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 86 (1110)، (تحفة الأشراف: 13206)، موطا امام مالک/الجمعة 2 (6)، مسند احمد 2/244، 272، 280، 393، 396، 485، 518، 532، سنن الدارمی/الصلاة 195 (1590) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قال: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ، وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ أَنْصِتْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ , فَقَدْ لَغَوْتَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جب تم اپنے ساتھ والے سے جمعہ کے دن کہو : ” خاموش رہو “ اور امام خطبہ دے رہا ہو تو تم نے لغو کام کیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1403]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
23: بَابُ : فَضْلِ الإِنْصَاتِ وَتَرْكِ اللَّغْوِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن خاموش رہنے اور لغو حرکت نہ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ زِيَادِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ الْقَرْثَعِ الضَّبِّيِّ، وَكَانَ مِنَ الْقُرَّاءِ الْأَوَّلِينَ، عَنْ سَلْمَانَ، قال: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ كَمَا أُمِرَ، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى يَأْتِيَ الْجُمُعَةَ وَيُنْصِتُ حَتَّى يَقْضِيَ صَلَاتَهُ، إِلَّا كَانَ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ".
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو بھی آدمی پاکی حاصل کرتا ہے جیسا کہ اسے حکم دیا گیا ، پھر وہ اپنے گھر سے نکلتا ہے یہاں تک کہ وہ جمعہ میں آتا ہے ، اور خاموش رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی نماز ختم کر لے ، تو ( اس کا یہ عمل ) اس کے ان گناہوں کے لیے کفارہ ہو گا جو اس سے پہلے کے جمعہ سے اس جمعہ تک ہوئے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1404]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4508)، مسند احمد 5/438، 439، 440 (صحیح)
|
|
|
24: بَابُ : كَيْفِيَّةِ الْخُطْبَةِ
باب: خطبہ جمعہ کی کیفیت کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَلَّمَنَا خُطْبَةَ الْحَاجَةِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَسَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ يَقْرَأُ ثَلَاثَ آيَاتٍ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 102، يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا سورة النساء آية 1، يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلا سَدِيدًا سورة الأحزاب آية 70 , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ شَيْئًا , وَلَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ , وَلَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ حاجة ۱؎ سکھایا ، اور وہ یہ ہے : «الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا من يهده اللہ فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ” تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ، ہم اسی سے مدد اور گناہوں کی بخشش چاہتے ہیں ، اور ہم اپنے نفسوں کی شر انگیزیوں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں ، جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دیدے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا ، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں “ ، پھر آپ یہ تین آیتیں پڑھتے : «يا أيها الذين آمنوا اتقوا اللہ حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون» ” اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا کہ اس سے ڈرنا چاہیئے ، اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا “ ( آل عمران : ۱۰۲ ) ۔ «يا أيها الناس اتقوا ربكم الذي خلقكم من نفس واحدة وخلق منها زوجها وبث منهما رجالا كثيرا ونساء واتقوا اللہ الذي تساءلون به والأرحام إن اللہ كان عليكم رقيبا» ” اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا ، اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا ، اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں ، اور اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو ، اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو ، بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے “ ( الاحزاب : ۷۰ ) «يا أيها الذين آمنوا اتقوا اللہ وقولوا قولا سديدا» ” اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور صحیح و درست بات کہو “ ( النساء : ۱ ) ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : ابوعبیدہ نے اپنے والد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا ہے ، نہ ہی عبدالرحمٰن بن عبداللہ ابن مسعود نے ، اور نہ ہی عبدالجبار بن وائل بن حجر نے ، ( یعنی ان تینوں کا اپنے والد سے سماع نہیں ہے ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1405]
💡 وضاحت:
۱؎: حاجۃ کا لفظ عام ہے نکاح اور بیع وغیرہ سبھی چیزوں کو شامل ہے، اسی وجہ سے امام شافعی نے بیع و نکاح وغیرہ تمام عقود میں اس خطبہ کے پڑھنے کو مسنون قرار دیا ہے۔ نسائی کی اس سند میں بھی ابوعبیدہ ہیں، مگر ابوداؤد اور دیگر کی سندوں میں ”ابو عبیدہ“ کی جگہ ابوالاحوص ہیں، جن کا سماع ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2118) ترمذي (1105) ابن ماجه (1892) وانظر الحديث الآتي (3279) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 332
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/النکاح 33 (2118)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/النکاح 17 (1105)، سنن ابن ماجہ/النکاح 19 (1892)، (تحفة الأشراف: 9618)، مسند احمد 1/392، 432، سنن الدارمی/النکاح 20 (2248) (صحیح) (متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ’’ابو عبیدہ‘‘ اور ان کے باپ ”ابن مسعود‘‘ رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، دیکھئے البانی کا رسالہ خطبة الحاجہ)
|
|
|
25: بَابُ : حَضِّ الإِمَامِ فِي خُطْبَتِهِ عَلَى الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: امام کا اپنے خطبہ میں جمعہ کے دن کے غسل کی ترغیب دلانے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِذَا رَاحَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لیے جائے تو اسے چاہیئے کہ غسل کر لے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1406]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 7650)، مسند احمد 2/77 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَشِيطٍ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنِ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ , فَقَالَ: سُنَّةٌ , وَقَدْ حَدَّثَنِي بِهِ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكَلَّمَ بِهَا عَلَى الْمِنْبَرِ".
ابراہیم بن نشیط سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن شہاب زہری سے جمعہ کے دن کے غسل کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا : سنت ہے ، اور اسے مجھ سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا ہے ، اور انہوں نے اپنے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم ) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منبر پر بیان کیا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1407]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، عبد الله بن وهب مدلس و عنعن. وحديث البخاري (894،919) ومسلم (844) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 332
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6805)، مسند احمد 2/35 (صحیح الإسناد)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ: " مَنْ جَاءَ مِنْكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: مَا أَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ اللَّيْثَ عَلَى هَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ ابْنِ جُرَيْجٍ وَأَصْحَابُ الزُّهْرِيِّ , يَقُولُونَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ بَدَلَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے کھڑے فرمایا : ” جو شخص تم میں سے جمعہ کے لیے آئے تو چاہیئے کہ وہ غسل کر لے “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : میں کسی کو نہیں جانتا جس نے اس سند پر لیث کی متابعت کی ہو سوائے ابن جریج کے ، اور زہری کے دیگر تلامذہ «عن عبداللہ بن عبداللہ بن عمر» کے بدلے «سالم بن عبداللہ عن أبيه» کہتے ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1408]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجمعة (844)، سنن الترمذی/الصلاة 238 (493)، (تحفة الأشراف: 7270)، مسند احمد 2/120، 149 (صحیح)
|
|
|
26: بَابُ : حَثِّ الإِمَامِ عَلَى الصَّدَقَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي خُطْبَتِهِ
باب: جمعہ کے دن امام کے اپنے خطبہ میں صدقہ پر ابھارنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَصَلَّيْتَ" , قَالَ: لَا , قَالَ: " صَلِّ رَكْعَتَيْنِ"، وَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَأَلْقَوْا ثِيَابًا فَأَعْطَاهُ مِنْهَا ثَوْبَيْنِ، فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ الثَّانِيَةُ جَاءَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ قَالَ: فَأَلْقَى أَحَدَ ثَوْبَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَاءَ هَذَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ، فَأَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ فَأَلْقَوْا ثِيَابًا، فَأَمَرْتُ لَهُ مِنْهَا بِثَوْبَيْنِ، ثُمَّ جَاءَ الْآنَ فَأَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ فَأَلْقَى أَحَدَهُمَا فَانْتَهَرَهُ , وَقَالَ: خُذْ ثَوْبَكَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جمعہ کے دن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ، تو ایک آدمی خستہ حالت میں ( مسجد میں ) آیا اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم نے نماز پڑھی ؟ “ اس نے عرض کیا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” دو رکعتیں پڑھ لو “ ، اور آپ نے ( دوران خطبہ ) لوگوں کو صدقہ پر ابھارا ، لوگوں نے صدقہ میں کپڑے دیئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے دو کپڑے اس شخص کو دیے ، پھر جب دوسرا جمعہ آیا تو وہ شخص پھر آیا ، اس وقت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ، آپ نے لوگوں کو پھر صدقہ پر ابھارا ، تو اس شخص نے بھی اپنے کپڑوں میں سے ایک کپڑا ڈال دیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ شخص ( پچھلے ) جمعہ کو بڑی خستہ حالت میں آیا ، تو میں نے لوگوں کو صدقے پر ابھارا ، تو انہوں نے صدقے میں کپڑے دیئے ، میں نے اس میں سے دو کپڑے اس شخص کو دینے کا حکم دیا ، اب وہ پھر آیا تو میں نے پھر لوگوں کو صدقے کا حکم دیا تو اس نے بھی اپنے دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا صدقہ میں دے دیا “ ، پھر آپ نے اسے ڈانٹا اور فرمایا : ” اپنا کپڑا اٹھا لو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1409]
💡 وضاحت:
۱؎: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا صدقہ قبول نہیں کیا کیونکہ اس کے پاس صرف دو ہی کپڑے تھے جو اس کی ضرورت سے زائد نہیں تھے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 250 (الجمعة 15) (511)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 87 (1113)، مسند احمد 3/25، سنن الدارمی/الصلاة 196 (1593)، (تحفة الأشراف: 4272) (حسن)
|
|
|
27: بَابُ : مُخَاطَبَةِ الإِمَامِ رَعِيَّتَهُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ
باب: امام (حاکم) کے خطبہ جمعہ میں منبر پر رعایا سے مخاطب ہونے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ , فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَّيْتَ" , قَالَ: لَا، قَالَ: " قُمْ فَارْكَعْ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جمعہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی آیا ۱؎ ( اور بیٹھ گیا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا : ” تم نے سنت پڑھ لی ؟ “ ، اس نے کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” کھڑے ہو جاؤ اور ( سنت ) پڑھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1410]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ سلیک غطفانی تھے جیسا کہ ابوداؤد کی حدیث میں اس کی صراحت موجود ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجمعة 32 (930)، صحیح مسلم/الجمعة 14 (875)، سنن ابی داود/الصلاة 237 (1115)، سنن الترمذی/الصلاة 250 (510)، (تحفة الأشراف: 2511) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى إِسْرَائِيلُ بْنُ مُوسَى، قال: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ، يَقُولُ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَالْحَسَنُ مَعَهُ، وَهُوَ يُقْبِلُ عَلَى النَّاسِ مَرَّةً وَعَلَيْهِ مَرَّةً , وَيَقُولُ: " إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَظِيمَتَيْنِ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا ، حسن رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے ، آپ کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے ، تو کبھی ان کی طرف ، اور آپ فرما رہے تھے : ” میرا یہ بچہ سردار ہے ، اور شاید اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرا دے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1411]
💡 وضاحت:
۱؎: الحمدللہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی سچ ثابت ہوئی اور امت مسلمہ کے دو گروہ باہم متفق ہو گئے ہوا یہ کہ حسن رضی اللہ عنہ نے خلافت سے دستبرداری فرمائی اور ساری امت معاویہ رضی اللہ عنہ کی امارت پر متفق ہو گئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلح 9 (2704)، المناقب 25 (3629)، فضائل الصحابة 22 (3746)، الفتن 20 (7109)، سنن ابی داود/السنة 13 (4662)، سنن الترمذی/المناقب 31 (3773)، (تحفة الأشراف: 11658)، مسند احمد 5/37، 44، 49، 51 (صحیح)
|
|
|
28: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي الْخُطْبَةِ
باب: خطبہ جمعہ میں قرآن پڑھنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قال: حَدَّثَنَا عَلِيٌّ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنَةِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَتْ: " حَفِظْتُ ق وَالْقُرْءَانِ الْمَجِيدِ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ".
حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کی بیٹی ( ام ہشام ) کہتی ہیں کہ میں نے «ق والقرآن المجيد» کو جمعہ کے دن منبر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے سن سن کر یاد کیا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1412]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے خطبے میں پوری سورۃ ق پابندی سے پڑھا کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجمعة 13 (873)، سنن ابی داود/الصلاة 229 (1100، 1102، 1103)، مسند احمد 6/435، 463، (تحفة الأشراف: 18363) (صحیح)
|
|
|
29: بَابُ : الإِشَارَةِ فِي الْخُطْبَةِ
باب: خطبہ جمعہ میں اشارہ کرنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُصَيْنٍ، أَنَّ بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ رَفَعَ يَدَيْهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ فَسَبَّهُ عُمَارَةُ بْنُ رُوَيْبَةَ الثَّقَفِيُّ، وَقال: " مَا زَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَذَا، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ".
حصین سے روایت ہے کہ بشر بن مروان نے جمعہ کے دن منبر پر ( خطبہ دیتے ہوئے ) اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا ، تو اس پر عمارہ بن رویبہ ثقفی رضی اللہ عنہ نے انہیں برا بھلا کہا ، اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زیادہ نہیں کیا ، اور انہوں نے اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1413]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجمعة 13 (874)، سنن ابی داود/الصلاة 230 (1104)، سنن الترمذی/الصلاة 254 (الجمعة 19) (515)، (تحفة الأشراف: 10377)، مسند احمد 4/135، 136، 261، سنن الدارمی/الصلاة 201 (1601، 1602) (صحیح)
|
|
|
30: بَابُ : نُزُولِ الإِمَامِ عَنِ الْمِنْبَرِ، قَبْلَ فَرَاغِهِ مِنَ الْخُطْبَةِ وَقَطْعِهِ كَلاَمَهُ وَرُجُوعِهِ إِلَيْهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن خطبہ کے خاتمہ سے پہلے امام کے منبر سے اترنے اور خطبہ سے رک جانے پھر دوبارہ منبر کی طرف لوٹنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قال: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَجَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , وَعَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَعْثُرَانِ فِيهِمَا، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَطَعَ كَلَامَهُ , فَحَمَلَهُمَا ثُمَّ عَادَ إِلَى الْمِنْبَرِ، ثُمَّ قَالَ: " صَدَقَ اللَّهُ إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ سورة التغابن آية 15 , رَأَيْتُ هَذَيْنِ يَعْثُرَانِ فِي قَمِيصَيْهِمَا، فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قَطَعْتُ كَلَامِي فَحَمَلْتُهُمَا".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے اتنے میں حسن اور حسین رضی اللہ عنہم لال رنگ کی قمیص پہنے گرتے پڑتے آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( منبر سے ) اتر پڑے ، اور اپنی بات بیچ ہی میں کاٹ دی ، اور ان دونوں کو گود میں اٹھا لیا ، پھر منبر پر واپس آ گئے ، پھر فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے سچ کہا ہے «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» ” تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں “ میں نے ان دونوں کو ان کی قمیصوں میں گرتے پڑتے آتے دیکھا تو میں صبر نہ کر سکا یہاں تک کہ میں نے اپنی گفتگو بیچ ہی میں کاٹ دی ، اور ان دونوں کو اٹھا لیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1414]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 233 (1109)، سنن الترمذی/المناقب 31 (3774)، سنن ابن ماجہ/اللباس 20 (3600)، (تحفة الأشراف: 1958)، مسند احمد 5/354، ویأتی عند المؤلف برقم: 1586 (صحیح)
|
|
|
31: بَابُ : مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ تَقْصِيرِ الْخُطْبَةِ
باب: خطبہ مختصر دینے کے استحباب کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ غَزْوَانَ، قال: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عُقَيْلٍ، قال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ الذِّكْرَ وَيُقِلُّ اللَّغْوَ وَيُطِيلُ الصَّلَاةَ وَيُقَصِّرُ الْخُطْبَةَ، وَلَا يَأْنَفُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَ الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ فَيَقْضِيَ لَهُ الْحَاجَةَ".
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذکرو اذکار زیادہ کرتے ، لایعنی باتوں سے گریز کرتے ، نماز لمبی پڑھتے ، اور خطبہ مختصر دیتے تھے ، اور بیواؤں اور مسکینوں کے ساتھ جانے میں کہ ان کی ضرورت پوری کریں ، عار محسوس نہیں کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1415]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5183)، سنن الدارمی/المقدمة 13 (75) (صحیح)
|
|
|
32: بَابُ : كَمْ يَخْطُبُ
باب: جمعہ کے دن کتنے خطبے دے؟
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قال: " جَالَسْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْتُهُ يَخْطُبُ إِلَّا قَائِمًا وَيَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ الْخُطْبَةَ الْآخِرَةَ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم نشینی کی ، تو میں نے آپ کو کھڑے ہو کر ہی خطبہ دیتے دیکھا ، آپ بیچ میں بیٹھتے ، پھر کھڑے ہوتے ، اور دوسرا خطبہ دیتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1416]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2177)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجمعة 10 (762)، سنن ابی داود/الصلاة 228 (1093)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 85 (1105)، مسند احمد 5/87، 88، 89، 90، 91، 92، 93، 94، 95، 97، 98، 99، 100، 101، 102، 107، سنن الدارمی/الصلاة 199 (1598) (صحیح)
|
|
|
33: بَابُ : الْفَصْلِ بَيْنَ الْخُطْبَتَيْنِ بِالْجُلُوسِ
باب: دونوں خطبوں کے درمیان بیٹھ کر فصل کرنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ الْخُطْبَتَيْنِ وَهُوَ قَائِمٌ وَكَانَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا بِجُلُوسٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر دو خطبے دیتے تھے ، ان دونوں کے بیچ میں بیٹھ کر فصل کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1417]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجمعة 30 (928)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجمعة 10 (861)، سنن الترمذی/الصلاة 246 (506)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 85 (1103)، (تحفة الأشراف: 7812)، مسند احمد 2/98 (صحیح)
|
|
|
34: بَابُ : السُّكُوتِ فِي الْقَعْدَةِ بَيْنَ الْخُطْبَتَيْنِ
باب: خطیب کے جمعہ کے دونوں خطبوں کے درمیان خاموشی سے بیٹھنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، قال: حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قال: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَائِمًا، ثُمَّ يَقْعُدُ قِعْدَةً لَا يَتَكَلَّمُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ خُطْبَةً أُخْرَى، فَمَنْ حَدَّثَكُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ قَاعِدًا فَقَدْ كَذَبَ.
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا ، پھر آپ کچھ دیر چپ چاپ بیٹھتے پھر کھڑے ہوتے اور دوسرا خطبہ دیتے ، جو تم سے بیان کرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے تو وہ غلط گو جھوٹا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1418]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2141)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجمعة 10 (862)، مسند احمد 5/89، 90، 91، 93، 95، 100 (حسن)
|
|
|
35: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي الْخُطْبَةِ الثَّانِيَةِ وَالذِّكْرِ فِيهَا
باب: دوسرے خطبے میں قرأت اور ذکر الٰہی کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قال: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا، ثُمَّ يَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ وَيَقْرَأُ آيَاتٍ وَيَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَكَانَتْ خُطْبَتُهُ قَصْدًا وَصَلَاتُهُ قَصْدًا".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے ، پھر آپ بیچ میں بیٹھتے ، پھر کھڑے ہوتے ، اور کچھ آیتیں پڑھتے ، اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ۱؎ اور آپ کا خطبہ درمیانی ہوتا تھا ، اور نماز بھی درمیانی ہوتی تھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1419]
💡 وضاحت:
۱؎: صحیح مسلم میں جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ ہی کی ایک روایت میں یہ صراحت ہے کہ آپ جمعہ میں دو خطبے دیتے تھے، اور دونوں میں تلاوت قرآن اور وعظ و تذکیر کیا کرتے تھے، اس لیے وعظ و تذکیر کے لیے صرف پہلے خطبے کو خاص کر لینا خلاف سنت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 229 (1101)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 85 (1106)، (تحفة الأشراف: 2163)، مسند احمد 5/86، 88، 91، 93، 98، 102، 106، 107ں ویأتی عند المؤلف فی العیدین 26 (برقم: 1585) (حسن)
|
|
|
36: بَابُ : الْكَلاَمِ وَالْقِيَامِ بَعْدَ النُّزُولِ عَنِ الْمِنْبَرِ
باب: منبر سے اترنے کے بعد کھڑے رہنے اور گفتگو کرنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ، قال: حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ عَنِ الْمِنْبَرِ فَيَعْرِضُ لَهُ الرَّجُلُ فَيُكَلِّمُهُ، فَيَقُومُ مَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ، ثُمَّ يَتَقَدَّمُ إِلَى مُصَلَّاهُ فَيُصَلِّي".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترتے پھر کوئی آدمی آپ کے سامنے آ جاتا تو آپ اس سے گفتگو کرتے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ کھڑے رہتے جب تک کہ وہ اپنی ضرورت پوری نہ کر لیتا یعنی اپنی بات ختم نہ کر لیتا ، پھر آپ اپنی جائے نماز کی طرف بڑھتے ، اور نماز پڑھاتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1420]
قال الشيخ الألباني:
شاذ والمحفوظ أن ذلك كان في صلاة العشاء
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1120) ترمذي (517) ابن ماجه (1117) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 332
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 240 (1120)، سنن الترمذی/الصلاة 256 (الجمعة 21) (517)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 89 (1117)، (تحفة الأشراف: 260)، مسند احمد 3/119، 127، 213 (شاذ) (صحیح بات یہ ہے کہ واقعہ عشاء کی صلاة میں پیش آیا تھا، بقول امام بخاری اس میں جریر بن حازم سے وہم ہو گیا ہے، کما نقل عنہ الترمذی)
|
|
|
37: بَابُ : عَدَدِ صَلاَةِ الْجُمُعَةِ
باب: نماز جمعہ کی رکعات کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قال: قَالَ عُمَرُ: " صَلَاةُ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَانِ، وَصَلَاةُ الْفِطْرِ رَكْعَتَانِ، وَصَلَاةُ الْأَضْحَى رَكْعَتَانِ، وَصَلَاةُ السَّفَرِ رَكْعَتَانِ، تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ.
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جمعہ کی نماز ، عید الفطر کی نماز ، اور عید الاضحی کی نماز ، اور سفر کی نماز ، دو دو رکعتیں ہیں ، اور یہ بزبان محمد صلی اللہ علیہ وسلم پوری ہیں ، ان میں کوئی کمی نہیں ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے عمر رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1421]
💡 وضاحت:
۱؎: محقق بات یہ ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کا سماع عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے، دیکھئیے مسند احمد، ونصب الرایہ (۲/۱۸۹) نیز ابن ماجہ کی دوسری سند (۱۰۶۴) میں عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ اور عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان ”کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ“ کا واسطہ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الإقامة 73 (1063)، (تحفة الأشراف: 10596)، مسند احمد 1/37، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1441 و 1567 (صحیح)
|
|
|
38: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْجُمُعَةِ بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ وَالْمُنَافِقِينَ
باب: نماز جمعہ میں سورۃ الجمعہ اور سورۃ منافقین پڑھنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي مُخَوَّلٌ، قال: سَمِعْتُ مُسْلِمًا الْبَطِينَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ الم تَنْزِيلُ وَ هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ وَفِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ وَالْمُنَافِقِينَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے روز نماز فجر میں «الم * تنزيل» اور «هل أتى على الإنسان» پڑھتے ، اور جمعہ کی صلاۃ میں سورۃ ” جمعہ “ اور سورۃ ” منافقون “ پڑھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1422]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 957 (صحیح)
|
|
|
39: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْجُمُعَةِ بِـ { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى } وَ{ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ }
باب: نماز جمعہ میں «سبح اسم ربک الأعلی» اور «ھل أتاک حدیث الغاشیۃ» پڑھنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قال: أَخْبَرَنِي مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَمُرَةَ، قال: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ".
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1423]
💡 وضاحت:
۱؎: اس روایت میں اور اس سے پہلے والے باب کی روایت میں بظاہر تعارض ہے، پر یہ اختلاف دونوں کے جواز اور دونوں کے مسنون ہونے پر دلالت کرتا ہے، مطلب یہ ہے کہ کبھی آپ جمعہ کی پہلی رکعت میں ”سورۃ جمعہ“ اور دوسری رکعت میں ”سورۃ منافقون“ پڑھتے اور کبھی «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 242 (1125)، (تحفة الأشراف: 4615)، مسند احمد 5/7، 13، 14، 19 (صحیح)
|
|
|
40: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ فِي الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْجُمُعَةِ
باب: نماز جمعہ میں سورتوں کی قرأت کے متعلق نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم سے روایت کرنے میں ان کے تلامذہ کے اختلاف کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ , سَأَلَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ , مَاذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى إِثْرِ سُورَةِ الْجُمُعَةِ؟ قَالَ: " كَانَ يَقْرَأُ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ".
عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ضحاک بن قیس نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن سورۃ الجمعہ کے بعد کون سی سورۃ پڑھتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : آپ «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1424]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجمعة 16 (878)، سنن ابی داود/الصلاة 242 (1123)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 90 (1119)، (تحفة الأشراف: 11634)، موطا امام مالک/الجمعة 9 (19)، مسند احمد 4/270، 277، سنن الدارمی/الصلاة 203 (1607) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، أَنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ أَخْبَرَهُ، قال: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قال: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ , وَرُبَّمَا اجْتَمَعَ الْعِيدُ وَالْجُمُعَةُ , فَيَقْرَأُ بِهِمَا فِيهِمَا جَمِيعًا".
حبیب بن سالم نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے اور جب کبھی عید اور جمعہ دونوں جمع ہو جاتے تو ان دونوں میں بھی آپ انہی دونوں سورتوں کو پڑھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1425]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجمعة 16 (878)، سنن ابی داود/الصلاة 242 (1122)، سنن الترمذی/الصلاة 268 (الجمعة 33) (533)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 157 (1281)، (تحفة الأشراف: 11612)، مسند احمد 4/271، 273، 276، 277، سنن الدارمی/الصلاة 203 (1609)، ویأتی عند المؤلف برقم: 1569، 1591 (صحیح)
|
|
|
41: بَابُ : مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ صَلاَةِ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کی ایک رکعت پا لینے والے شخص کی نماز جمعہ کے حکم کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , وَمُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَدْرَكَ مِنْ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے جمعہ کی نماز میں سے ایک رکعت پا لی تو اس نے ( جمعہ کی نماز ) پا لی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1426]
قال الشيخ الألباني:
شاذ بذكر الجمعة والمحفوظ الصلاة
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 30 (607)، سنن الترمذی/الصلاة 260 (524)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 91 (1122)، (تحفة الأشراف: 15143)، مسند احمد 2/241، سنن الدارمی/الصلاة 22 (1256) (شاذ بذکر الجمعة) (جمعہ کا لفظ صرف مؤلف کے یہاں ہے، باقی تمام محدثین کے یہاں صرف ”صلاة“ کا لفظ ہے، تفاصیل کے لیے مذکور تخریج ملاحظہ فرمائیں، اس لیے جمعہ کا لفظ شاذ ہے)
|
|
|
42: بَابُ : عَدَدِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ فِي الْمَسْجِدِ
باب: نماز جمعہ کے بعد مسجد میں کتنی رکعتیں پڑھے؟
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيُصَلِّ بَعْدَهَا أَرْبَعًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی جمعہ پڑھے تو اسے چاہیئے کہ اس کے بعد چار رکعتیں پڑھے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1427]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں چار رکعت کا ذکر ہے، اور اس کے بعد والی حدیث میں دو رکعت کا، اس سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں صورتیں جائز ہیں بعض لوگوں نے دونوں رایتوں میں اس طرح سے تطبیق دی ہے کہ جو مسجد میں پڑھے وہ چار رکعت پڑھے، اور جو گھر جا کر پڑھے وہ دو رکعت پڑھے، اسی طرح چار رکعت کس طرح پڑھی جائیں، اس میں بھی دو رائے ہے ایک رائے تو یہ ہے کہ ایک سلام کے ساتھ چاروں رکعتیں پڑھی جائیں، اور دوسری رائے یہ ہے کہ دو دو کر کے چار رکعتیں پڑھی جائیں، کیونکہ صحیح حدیث میں ہے «صلاۃ اللیل والنہارمثنیٰ مثنیٰ» رات اور دن کی (نفلی نمازیں) دو دو کر کے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجمعة 18 (881)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 244 (1131)، سنن الترمذی/الصلاة (الجمعة 24) (523)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 95 (1130)، (تحفة الأشراف: 12597)، سنن الدارمی/الصلاة 207 (1616) (صحیح)
|
|
|
43: بَابُ : صَلاَةِ الإِمَامِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے بعد امام کے نفلی نماز پڑھنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَنْصَرِفَ فَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد نماز نہیں پڑھتے تھے یہاں تک کہ گھر لوٹ آتے ، پھر دو رکعتیں پڑھتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1428]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجمعة 18 (882)، سنن ابی داود/الصلاة 244 (1127)، سنن الترمذی/الصلاة 259 (الجمعة 24) (522)، (تحفة الأشراف: 8343)، مسند احمد 2/449، 499، وانظر حدیث رقم: 874 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد دو رکعت اپنے گھر میں پڑھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1429]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 244 (1132)، (تحفة الأشراف: 6948) (صحیح)
|
|
|
44: بَابُ : إِطَالَةِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے بعد دو رکعت لمبی سنت پڑھنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، " أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ يُطِيلُ فِيهِمَا , وَيَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ وہ جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے ، اور ان کو لمبی کرتے تھے اور کہتے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1430]
قال الشيخ الألباني:
شاذ بذكر إطالتهما
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 244 (1127، 1128)، (تحفة الأشراف: 7548، مسند احمد 2/103 (شاذ) (ان دونوں رکعتوں کو لمبی کرنے کا ذکر شاذ ہے)
|
|
|
45: بَابُ : ذِكْرِ السَّاعَةِ الَّتِي يُسْتَجَابُ فِيهَا الدُّعَاءُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن کی قبولیت دعا کی گھڑی کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا بَكْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: أَتَيْتُ الطُّورَ فَوَجَدْتُ ثَمَّ كَعْبًا، فَمَكَثْتُ أَنَا وَهُوَ يَوْمًا أُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُحَدِّثُنِي عَنِ التَّوْرَاةِ، فَقُلْتُ لَهُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُهْبِطَ , وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ , وَفِيهِ قُبِضَ , وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا وَهِيَ تُصْبِحُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مُصِيخَةً حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلَّا ابْنَ آدَمَ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يُصَادِفُهَا مُؤْمِنٌ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ" , فَقَالَ كَعْبٌ: ذَلِكَ يَوْمٌ فِي كُلِّ سَنَةٍ , فَقُلْتُ: بَلْ هِيَ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ، فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ، ثُمَّ قَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں طور پہاڑی پر آیا تو وہاں مجھے کعب ( کعب احبار ) رضی اللہ عنہ ملے تو میں اور وہ دونوں ایک دن تک ساتھ رہے ، میں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں بیان کرتا تھا ، اور وہ مجھ سے تورات کی باتیں بیان کرتے تھے ، میں نے ان سے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” بہترین دن جس میں سورج نکلا جمعہ کا دن ہے ، اسی میں آدم پیدا کئے گئے ، اسی میں ( دنیا میں ) اتارے گئے ، اسی میں ان کی توبہ قبول کی گئی ، اسی میں ان کی روح نکالی گئی ، اور اسی دن قیامت قائم ہو گی ، زمین پر رہنے والی کوئی مخلوق ایسی نہیں ہے جو جمعہ کے دن قیامت کے ڈر سے صبح کو سورج نکلنے تک کان نہ لگائے رہے ، سوائے ابن آدم کے ، اور اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ کسی مومن کو یہ گھڑی مل جائے اور نماز کی حالت میں ہو اور وہ اللہ سے اس ساعت میں کچھ مانگے تو وہ اسے ضرور دے گا “ ، کعب نے کہا : یہ ہر سال میں ایک دن ہے ، میں نے کہا : نہیں ، بلکہ یہ گھڑی ہر جمعہ میں ہوتی ہے ، تو کعب نے تورات پڑھ کر دیکھا تو کہنے لگے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے ، یہ ہر جمعہ میں ہے ۔ پھر میں ( وہاں سے ) نکلا ، تو میری ملاقات بصرہ بن ابی بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، تو انہوں نے پوچھا : آپ کہاں سے آ رہے ہیں ؟ میں نے کہا : طور سے ، انہوں نے کہا : کاش کہ میں آپ سے وہاں جانے سے پہلے ملا ہوتا ، تو آپ وہاں نہ جاتے ، میں نے ان سے کہا : کیوں ؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ، آپ فرما رہے تھے : ” سواریاں استعمال نہ کی جائیں یعنی سفر نہ کیا جائے مگر تین مسجدوں کی طرف : ایک مسجد الحرام کی طرف ، دوسری میری مسجد یعنی مسجد نبوی کی طرف ، اور تیسری مسجد بیت المقدس ۱؎ کی طرف ۔ پھر میں عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے کہا : کاش آپ نے مجھے دیکھا ہوتا ، میں طور گیا تو میری ملاقات کعب سے ہوئی ، پھر میں اور وہ دونوں پورے دن ساتھ رہے ، میں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں بیان کرتا تھا ، اور وہ مجھ سے تورات کی باتیں بیان کرتے تھے ، میں نے ان سے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دنوں میں بہترین دن جمعہ کا دن ہے جس میں سورج نکلا ، اسی میں آدم پیدا کئے گئے ، اسی میں دنیا میں اتارے گئے ، اسی میں ان کی توبہ قبول ہوئی ، اسی میں ان کی روح نکالی گئی ، اور اسی میں قیامت قائم ہو گی ، زمین پر کوئی ایسی مخلوق نہیں ہے جو قیامت کے ڈر سے جمعہ کے دن صبح سے سورج نکلنے تک کان نہ لگائے رہے سوائے ابن آدم کے ، اور اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ جس مسلمان کو وہ گھڑی نماز کی حالت میں مل جائے ، اور وہ اللہ سے کچھ مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کو وہ چیز ضرور دے گا ، اس پر کعب نے کہا : ایسا دن ہر سال میں ایک ہے ، تو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا : کعب نے غلط کہا ، میں نے کہا : پھر کعب نے ( تورات ) پڑھی اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے ، وہ ہر جمعہ میں ہے ، تو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا : کعب نے سچ کہا ، پھر انہوں نے کہا : میں اس گھڑی کو جانتا ہوں ، تو میں نے کہا : اے بھائی ! مجھے وہ گھڑی بتا دیں ، انہوں نے کہا : وہ گھڑی جمعہ کے دن سورج ڈوبنے سے پہلے کی آخری گھڑی ہے ، تو میں نے کہا : کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہیں سنا کہ آپ نے فرمایا : ” جو مومن اس گھڑی کو پائے اور وہ نماز میں ہو “ جبکہ اس گھڑی میں کوئی نماز نہیں ہے ، تو انہوں نے کہا : کیا آپ نے نہیں سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جو شخص نماز پڑھے پھر بیٹھ کر دوسری نماز کا انتظار کرتا رہے ، تو وہ نماز ہی میں ہوتا ہے “ ، میں نے کہا : کیوں نہیں سنا ہے ؟ اس پر انہوں نے کہا : تو وہ اسی طرح ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1431]
💡 وضاحت:
۱؎: لہٰذا ان تین مساجد کے علاوہ کسی اور مسجد کے لیے ثواب کی نیت سے سفر جائز نہیں ہے، ایسے ہی مقام کی زیارت کے لیے ثواب کی نیت سے جانا خواہ وہ کوئی قبر ہو یا شہر درست نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 207 (1046) مختصراً، سنن الترمذی/الصلاة 237 (الجمعة 2) (491) مختصراً، موطا امام مالک/الجمعة 7 (16)، (تحفة الأشراف: 15000)، مسند احمد 2/476، 504، 5/451، 453، وقولہ: ’’فیہ ساعة لایصادفھا۔۔۔ الخ عند الشیخین والترمذی من طریق الأعرج عنہ، أنظر رقم: 1432 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قال: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ رَبَاحٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قال: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جمعہ میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ اگر کوئی مسلمان بندہ اس گھڑی کو پا لے ، اور اس میں اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کو ضرور دے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1432]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13307) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا , إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ" , قُلْنَا: يُقَلِّلُهَا يُزَهِّدُهَا، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا نَعْلَمُ أَحَدًا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ رَبَاحٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ إِلَّا أَيُّوبَ بْنَ سُوَيْدٍ، فَإِنَّهُ حَدَّثَ بِهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ وَأَبِي سَلَمَةَ وَأَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جمعہ والے دن ایک گھڑی ایسی ہے کہ کوئی مسلمان بندہ اسے نماز میں کھڑا پا لے ، پھر اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے ، تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور دے گا “ ، اور آپ اسے ہاتھ کے اشارے سے کم کر کے بتا رہے تھے ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : ہم کسی کون ہیں جانتے جس نے اس حدیث کو عن معمر ، عن الزهري ، عن سعيد ( المقبري ) کے طریق سے روایت کیا ہو ، سوائے رباح کے ، البتہ ایوب بن سوید نے اس کو عن يونس ، عن الزهري ، عن سعيد وأبي سلمة کے طریق سے روایت کیا ہے ، لیکن ایوب بن سوید متروک الحدیث ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1433]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الدعوات 61 (6400)، صحیح مسلم/الجمعة 4 (852)، (تحفة الأشراف: 14406)، مسند احمد 2/230، 284، 498، سنن الدارمی/الصلاة 204 (1610) (صحیح)
|
|