سنن النسائي حدیث نمبر: 1368
Sunan an-Nasa'i 1368
کتاب #18: کتاب: جمعہ کے فضائل و مسائل
1: بَابُ : إِيجَابِ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کی فرضیت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. ح وَابْنُ طَاوُسٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ , وَهَذَا الْيَوْمُ الَّذِي كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ فَهَدَانَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ , يَعْنِي يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ الْيَهُودُ غَدًا وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( دنیا میں ) ہم پیچھے آنے والے ہیں اور ( قیامت میں ) آگے ہوں گے ، صرف اتنی بات ہے کہ انہیں ( یعنی یہود و نصاریٰ کو ) کتاب ہم سے پہلے دی گئی ہے ، اور ہمیں ان کے بعد دی گئی ہے ، یہ ( جمعہ کا دن ) وہ دن ہے جس دن اللہ نے ان پر عبادت فرض کی تھی مگر انہوں نے اس میں اختلاف کیا ۱؎ ، تو اللہ تعالیٰ نے اس سے ( یعنی جمعہ کے دن سے ) ہمیں نواز دیا ، تو لوگ اس میں ہمارے تابع ہیں ۲؎ ، یہود کل کی یعنی ہفتہ ( سنیچر ) کی تعظیم کرتے ہیں ، اور نصاریٰ پرسوں کی ( یعنی اتوار کی ) “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1368]
💡 وضاحت:
۱؎: یہود نے اپنے لیے ہفتہ (سنیچر) کا دن تجویز کر لیا اور نصایٰ نے اتوار کا۔ ۲؎: کیونکہ جمعہ ہی کے دن اللہ تعالیٰ نے دنیا کو پیدا کیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجمعة 12 (896)، أحادیث الأنبیاء 54 (3486)، صحیح مسلم/الجمعة 6 (855)، (تحفة الأشراف: 13522، 13683)، مسند احمد 2/ 249، 274، 341 (صحیح)