سنن النسائي حدیث نمبر: 1370
Sunan an-Nasa'i 1370
کتاب #18: کتاب: جمعہ کے فضائل و مسائل
2: بَابُ : التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنِ الْجُمُعَةِ
باب: نماز جمعہ چھوڑنے کی شناعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ تَرَكَ ثَلَاثَ جُمَعٍ تَهَاوُنًا بِهَا , طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ".
ابوجعد ضمری رضی اللہ عنہ ( جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ) کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے تین جمعہ سستی سے چھوڑ دیا ، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دے گا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1370]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس کا دل خیر اور ہدایت کے قبول کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دئیے جائیں گے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 210 (1052)، سنن الترمذی/الصلاة 242، الجمعة 7 (500)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 93 (1125)، (تحفة الأشراف: 11883)، مسند احمد 3/424، سنن الدارمی/الصلاة 205 (1612) (حسن صحیح)