سنن النسائي حدیث نمبر: 1366
Sunan an-Nasa'i 1366
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
104: بَابُ : الرُّخْصَةِ لِلإِمَامِ فِي تَخَطِّي رِقَابِ النَّاسِ
باب: امام کے لیے لوگوں کی گردنیں پھلانگنے کی رخصت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَكَّارٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ النَّوْفَلِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بِالْمَدِينَةِ، ثُمَّ انْصَرَفَ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ سَرِيعًا حَتَّى تَعَجَّبَ النَّاسُ لِسُرْعَتِهِ , فَتَبِعَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ , فَدَخَلَ عَلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ، ثُمَّ خَرَجَ , فَقَالَ: " إِنِّي ذَكَرْتُ وَأَنَا فِي الْعَصْرِ شَيْئًا مِنْ تِبْرٍ كَانَ عِنْدَنَا , فَكَرِهْتُ أَنْ يَبِيتَ عِنْدَنَا فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِهِ".
عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں نماز عصر پڑھی ، پھر آپ تیزی سے لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے گئے یہاں تک کہ لوگ آپ کی تیزی سے تعجب میں پڑ گئے ، کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے پیچھے گئے ( کہ کیا معاملہ ہے ) آپ اپنی ایک بیوی کے حجرہ میں داخل ہوئے ، پھر باہر نکلے اور فرمایا : ” میں نماز عصر میں تھا کہ مجھے سونے کا وہ ڈلا یاد آ گیا جو ہمارے پاس تھا ، تو مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ رات بھر وہ ہمارے پاس پڑا رہے ، لہٰذا جا کر میں نے اسے تقسیم کرنے کا حکم دے دیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1366]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 158 (851)، العمل فی ال صلاة 18 (1221)، الزکاة 20 (1430)، الاستئذان 36 (6275)، مسند احمد 4/7، 8، 384، (تحفة الأشراف: 9906) (صحیح)