📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل (كتاب السهو) 🏷️ باب: باب: نماز پڑھنے اور فارغ ہونے تک اس کے ساتھ رہنے والے کے ثواب کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 1365 Sunan an-Nasa'i 1365
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
103: بَابُ : ثَوَابِ مَنْ صَلَّى مَعَ الإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ
باب: نماز پڑھنے اور فارغ ہونے تک اس کے ساتھ رہنے والے کے ثواب کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ , فَلَمْ يَقُمْ بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ مِنَ الشَّهْرِ , فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ ثُلُثِ اللَّيْلِ، ثُمَّ كَانَتْ سَادِسَةٌ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا , فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ قَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ , قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَوْ نَفَلْتَنَا قِيَامَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ , قَالَ: " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ" , قَالَ: ثُمَّ كَانَتِ الرَّابِعَةُ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا , فَلَمَّا بَقِيَ ثُلُثٌ مِنَ الشَّهْرِ أَرْسَلَ إِلَى بَنَاتِهِ وَنِسَائِهِ وَحَشَدَ النَّاسَ , فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ، ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ , قَالَ دَاوُدُ , قُلْتُ: مَا الْفَلَاحُ , قَالَ: السُّحُورُ.
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روزے رکھے ، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تراویح پڑھانے کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ رمضان کے مہینہ کی سات راتیں رہ گئیں ، تو آپ ہمیں تراویح پڑھانے کھڑے ہوئے ( اور پڑھاتے رہے ) یہاں تک کہ تہائی رات کے قریب گزر گئی ، پھر چھٹی رات آئی لیکن آپ ہمیں پڑھانے کھڑے نہیں ہوئے ، پھر جب پانچویں رات آئی تو آپ ہمیں تراویح پڑھانے کھڑے ہوئے ( اور پڑھاتے رہے ) یہاں تک کہ تقریباً آدھی رات گزر گئی ، تو ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کاش آپ یہ رات پوری پڑھاتے ، آپ نے فرمایا : ” آدمی جب امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے تو اس کے لیے پوری رات کا قیام شمار کیا جاتا ہے “ ، پھر چوتھی رات آئی تو آپ ہمیں تراویح پڑھانے نہیں کھڑے ہوئے ، پھر جب رمضان کے مہینہ کی تین راتیں باقی رہ گئیں ، تو آپ نے اپنی بیٹیوں اور بیویوں کو کہلا بھیجا اور لوگوں کو بھی جمع کیا ، اور ہمیں تراویح پڑھائی یہاں تک کہ ہمیں خوف ہوا کہیں ہم سے فلاح چھوٹ نہ جائے ، پھر اس کے بعد مہینہ کے باقی دنوں میں آپ نے ہمیں تراویح نہیں پڑھائی ۔ داود بن ابی ہند کہتے ہیں : میں نے پوچھا : فلاح کیا ہے ؟ تو انہوں نے ( ولید بن عبدالرحمٰن نے ) کہا : سحری کھانا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1365]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 318 (1375)، سنن الترمذی/الصوم 81 (806)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 173 (1327)، (تحفة الأشراف: 11903)، مسند احمد 5/159، 163، سنن الدارمی/الصوم 54 (1818، 1819)، ویأتی عند المؤلف برقم: 1606 (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #1365
1363 1364 1365 1366 1367
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ