سنن النسائي حدیث نمبر: 1363
Sunan an-Nasa'i 1363
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
101: بَابُ : الْوَقْتِ الَّذِي يَنْصَرِفُ فِيهِ النِّسَاءُ مِنَ الصَّلاَةِ
باب: نماز سے فراغت کے بعد عورتوں کے گھر لوٹنے کے وقت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ النِّسَاءُ يُصَلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ , فَكَانَ إِذَا سَلَّمَ انْصَرَفْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ فَلَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر ادا کرتی تھیں ، جب آپ سلام پھیرتے تو وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی نکل جاتیں ، اور اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتیں ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1363]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورتیں امام کے سلام پھیرتے ہی اپنے گھروں کو واپس چلی جاتیں، تاکہ مردوں کی بھیڑ بھاڑ سے انہیں واسطہ نہ پڑے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16521)، سنن الدارمی/الصلاة 20 (1252) (صحیح)