سنن النسائي حدیث نمبر: 1361
Sunan an-Nasa'i 1361
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
100: بَابُ : الاِنْصِرَافِ مِنَ الصَّلاَةِ
باب: نماز سے سلام پھیر کر مقتدیوں کی طرف پلٹنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَا يَجْعَلَنَّ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ مِنْ نَفْسِهِ جُزْءًا يَرَى أَنَّ حَتْمًا عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ , لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَكْثَرَ انْصِرَافِهِ عَنْ يَسَارِهِ".
اسود کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : تم میں سے کوئی خود سے شیطان کا کوئی حصہ نہ کرے کہ غیر ضروری چیز کو اپنے اوپر لازم سمجھ لے ، اور داہنی طرف ہی سے پلٹنے کو اپنے اوپر لازم کر لے ، میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر بائیں طرف سے پلٹتے دیکھا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1361]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 159 (852)، صحیح مسلم/المسافرین 7 (707)، سنن ابی داود/الصلاة 205 (1042)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 33 (930)، (تحفة الأشراف: 9177)، مسند احمد 1/383، 429، 464، سنن الدارمی/الصلاة 89 (1390) (صحیح)