سنن النسائي حدیث نمبر: 1364
Sunan an-Nasa'i 1364
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
102: بَابُ : النَّهْىِ عَنْ مُبَادَرَةِ الإِمَامِ، بِالاِنْصِرَافِ مِنَ الصَّلاَةِ
باب: امام سے پہلے سلام پھیرنے سے ممانعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ ابْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ , فَقَالَ: " إِنِّي إِمَامُكُمْ فَلَا تُبَادِرُونِي بِالرُّكُوعِ وَلَا بِالسُّجُودِ وَلَا بِالْقِيَامِ وَلَا بِالِانْصِرَافِ , فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا" , قُلْنَا: مَا رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی ، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : ” میں تمہارا امام ہوں ، تو تم مجھ سے رکوع و سجود اور قیام میں جلدی نہ کرو ، اور نہ ہی سلام میں ، کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں ، اور پیچھے سے بھی “ ، پھر آپ نے فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اگر تم وہ چیزیں دیکھتے جو میں دیکھتا ہوں تو تم ہنستے کم ، اور روتے زیادہ “ ، ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے کیا دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” میں نے جنت اور جہنم دیکھی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1364]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصلاة 25 (426)، (تحفة الأشراف: 1577)، مسند احمد 3/102، 126، 154، 217، 240، 245، 290، سنن الدارمی/الصلاة 72 (1356) (صحیح)