كتاب تقصير الصلاة فى السفر
کتاب: سفر میں قصر نماز کے احکام و مسائل
کتاب #19 • کل احادیث: 26
|
1: بَابُ :
باب:
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قال: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة النساء آية 101 فَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ , فَقَالَ: " صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ".
یعلیٰ بن امیہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے آیت کریمہ : «ليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة إن خفتم أن يفتنكم الذين كفروا» ” تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں ، اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے “ ( النساء : ۱۰۱ ) ، کے متعلق عرض کیا کہ اب تو لوگ مامون اور بےخوف ہو گئے ہیں ؟ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھے بھی اس سے تعجب ہوا تھا جس سے تم کو تعجب ہے ، تو میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ، تو آپ نے فرمایا : ” یہ ایک صدقہ ہے ۱؎ جسے اللہ تعالیٰ نے تم پر کیا ہے ، تو تم اس کے صدقہ کو قبول کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1434]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اسے اللہ تعالیٰ نے تمہاری کمزوری اور درماندگی کو دیکھتے ہوئے تمہاری پریشانی اور مشقت کے ازالہ کے لیے بطور رحمت تمہارے لیے مشروع کیا ہے، لہٰذا آیت میں «إن خفتم» (اگر تمہیں ڈر ہو) کی جو قید ہے وہ اتفاقی ہے احترازی نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المسافرین 1 (686)، سنن ابی داود/الصلاة 270 (1199، 1200)، سنن الترمذی/تفسیر النساء 5 (3034)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 73 (1065)، (تحفة الأشراف: 10659)، مسند احمد 1/25، 36، سنن الدارمی/الصلاة 179 (1546) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: إِنَّا نَجِدُ صَلَاةَ الْحَضَرِ وَصَلَاةَ الْخَوْفِ فِي الْقُرْآنِ، وَلَا نَجِدُ صَلَاةَ السَّفَرِ فِي الْقُرْآنِ , فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: " يَا ابْنَ أَخِي , إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ إِلَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا نَعْلَمُ شَيْئًا وَإِنَّمَا نَفْعَلُ كَمَا رَأَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ".
امیہ بن عبداللہ بن خالد سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے کہا کہ ہم قرآن میں حضر کی صلاۃ ۱؎ اور خوف کی صلاۃ کے احکام ۲؎ تو پاتے ہیں ، مگر سفر کی صلاۃ کو قرآن میں نہیں پاتے ؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا : بھتیجے ! اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم میں بھیجا ، اور ہم اس وقت کچھ نہیں جانتے تھے ، ہم تو ویسے ہی کریں گے جیسے ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے ۳؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1435]
💡 وضاحت:
۱؎: قرآن کے سلسلہ میں جو مطلق اوامر وارد ہیں ان کا محمل یہی حضر کی صلاۃ ہے۔ ۲؎: خوف کی صلاۃ کا ذکر آیت کریمہ: «وإذا ضربتم في الأرض فليس عليكم جناح أن تقصروا» (النساء: 101) میں ہے۔ ۳؎: اور آپ نے بغیر خوف کے بھی قصر کیا ہے، لہٰذا یہ ایسی دلیل ہے جس سے اسی طرح حکم ثابت ہوتا ہے جیسے قرآن سے ثابت ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 458 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ لَا يَخَافُ إِلَّا رَبَّ الْعَالَمِينَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ کے لیے نکلے ، آپ صرف رب العالمین سے ہی ڈر رہے تھے ۱؎ ( اس کے باوجود ) آپ ( راستہ بھر ) دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1436]
💡 وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ کسی دشمن کا کوئی خوف نہیں تھا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الصلاة 274 (الجمعة 39) (547)، (تحفة الأشراف: 6436)، مسند احمد 1/215، 226، 255، 345، 362، 369 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: " كُنَّا نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ لَا نَخَافُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ نُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان سفر کرتے تھے ، ہمیں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا ڈر نہیں ہوتا تھا ، پھر بھی ہم دو رکعتیں ہی پڑھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1437]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، قال: سَمِعْتُ حَبِيبَ بْنَ عُبَيْدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ ابْنِ السِّمْطِ، قال: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يُصَلِّي بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَفْعَلُ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ.
ابن سمط کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ذوالحلیفہ ۱؎ میں دو رکعت نماز پڑھتے دیکھا ، تو میں نے ان سے اس سلسلہ میں سوال کیا ، تو انہوں نے کہا : میں تو ویسے ہی کر رہا ہوں جیسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1438]
💡 وضاحت:
۱؎: جو مدینہ سے بارہ کیلو میٹر کی دوری پرہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المسافرین 1 (692)، (تحفة الأشراف: 10462)، مسند احمد 1/29، 30 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَلَمْ يَزَلْ يَقْصُرُ حَتَّى رَجَعَ فَأَقَامَ بِهَا عَشْرًا".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ جانے کے لیے نکلا تو آپ برابر قصر کرتے رہے یہاں تک کہ آپ واپس لوٹ آئے ، آپ نے وہاں دس دن تک قیام کیا تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1439]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تقصیر ال صلاة 1 (1081)، المغازي 52 (4297) مختصراً، صحیح مسلم/المسافرین 1 (693)، سنن ابی داود/الصلاة 279 (1233)، سنن الترمذی/الصلاة 275 (الجمعة 40) (548)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 76 (1077)، مسند احمد 3/187، 190، 282، سنن الدارمی/الصلاة 180 (1551)، ویأتی عند المؤلف فی باب 4 (برقم: 1453) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ , قَالَ أَبِي , أَنْبَأَنَا أَبُو حَمْزَةَ وَهُوَ السُّكَّرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں دو رکعتیں پڑھیں ، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعتیں پڑھیں ، اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعتیں ہی پڑھیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1440]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9458)، مسند احمد 1/378، 422 (صحیح الإسناد)
|
|
|
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عُمَرَ، قال: " صَلَاةُ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَانِ، وَالْفِطْرِ رَكْعَتَانِ، وَالنَّحْرِ رَكْعَتَانِ، وَالسَّفَرِ رَكْعَتَانِ، تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جمعہ کی نماز دو رکعت ہے ، عید الفطر کی نماز دو رکعت ہے ، عید الاضحی کی نماز دو رکعت ہے ، اور سفر کی نماز دو رکعت ہے ، اور بزبان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب پوری ہیں ، ان میں کوئی کمی نہیں ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1441]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 1421 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ، قال: حَدَّثَنِي زَيْدٌ، عَنْ أَيُّوبَ وَهُوَ ابْنُ عَائِذٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ أَبِي الْحَجَّاجِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: " فُرِضَتْ صَلَاةُ الْحَضَرِ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا، وَصَلَاةُ السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَاةُ الْخَوْفِ رَكْعَةً".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ حضر ( اقامت ) کی نماز تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر چار رکعتیں فرض ہوئیں ، اور سفر کی نماز دو رکعت ، اور خوف کی نماز ایک رکعت ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1442]
💡 وضاحت:
۱؎: حذیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں اس کی صراحت ہے، بعض صحابہ کرام اور ائمہ عظام اس کے قائل بھی ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 457 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مَاهَانَ، قال: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَائِذٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا، وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر حضر ( اقامت ) میں چار رکعتیں ، اور سفر میں دو رکعتیں ، اور خوف میں ایک رکعت نماز فرض کی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1443]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 457 (صحیح)
|
|
|
2: بَابُ : الصَّلاَةِ بِمَكَّةَ
باب: مکہ میں نماز قصر کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى فِي حَدِيثِهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قال: سَمِعْتُ مُوسَى وَهُوَ ابْنُ سَلَمَةَ، قال: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: كَيْفَ أُصَلِّي بِمَكَّةَ إِذَا لَمْ أُصَلِّ فِي جَمَاعَةٍ؟ قَالَ: " رَكْعَتَيْنِ سُنَّةَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ میں مکہ میں کس طرح نماز پڑھوں کہ جب میں جماعت سے نہ پڑھوں ؟ تو انہوں نے کہا : دو رکعت پڑھو ، ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ( پر عمل کرو ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1444]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المسافرین 1 (688)، مسند احمد 1/216، 226، 290، 337، 369، (تحفة الأشراف: 6504) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قال: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ مُوسَى بْنَ سَلَمَةَ حَدَّثَهُمْ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ , قُلْتُ: تَفُوتُنِي الصَّلَاةُ فِي جَمَاعَةٍ وَأَنَا بِالْبَطْحَاءِ مَا تَرَى أَنْ أُصَلِّيَ؟ , قَالَ: " رَكْعَتَيْنِ سُنَّةَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
موسیٰ بن سلمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہم سے پوچھا : میں نے کہا : مجھ سے باجماعت نماز چھوٹ جاتی ہے اور میں بطحاء میں ہوتا ہوں ، تو میں کتنی رکعت پڑھوں ؟ انہوں نے کہا : دو رکعت پڑھو ، ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ( پر عمل کرو ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1445]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 1444 (صحیح)
|
|
|
3: بَابُ : الصَّلاَةِ بِمِنًى
باب: منیٰ میں نماز قصر کرنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ، قال: " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى آمَنَ مَا كَانَ النَّاسُ وَأَكْثَرَهُ رَكْعَتَيْنِ".
حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو ہی رکعت پڑھی ، ایک ایسے وقت میں جس میں کہ لوگ سب سے زیادہ مامون و بےخوف تھے ، اور تعداد میں زیادہ تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1446]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تقصیر 2 (1083)، الحج 84 (1656)، صحیح مسلم/المسافرین 2 (696)، سنن ابی داود/الحج 77 (1965)، سنن الترمذی/الحج 52 (882)، مسند احمد 4/306 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ. ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ، قال: " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى أَكْثَرَ مَا كَانَ النَّاسُ وَآمَنَهُ رَكْعَتَيْنِ".
حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منیٰ میں دو رکعت پڑھائی ، ایک ایسے وقت میں جس میں لوگ تعداد میں زیادہ تھے ، اور سب سے زیادہ مامون و بےخوف تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1447]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ عُثْمَانَ رَكْعَتَيْنِ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعت پڑھی ، اور عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی ان کی خلافت کے شروع میں دو ہی رکعت پڑھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1448]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1472)، مسند احمد 3/144، 145، 168 (حسن)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قال: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، قال: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ. ح وَأَنْبَأَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: " صَلَّيْتُ بِمِنًى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو رکعت پڑھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1449]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تقصیر ال صلاة 2 (1084)، الحج 84 (1657)، صحیح مسلم/المسافرین 2 (695)، سنن ابی داود/الحج 76 (1960)، (تحفة الأشراف: 9383)، مسند احمد 1/378، 416، 422، 425، 464، سنن الدارمی/المناسک 47 (1916) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قال: حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قال: صَلَّى عُثْمَانُ بِمِنًى أَرْبَعًا حَتَّى بَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ فَقَالَ: " لَقَدْ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ".
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعت پڑھی یہاں تک کہ اس کی خبر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو ہوئی تو انہوں نے کہا : میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو ہی رکعت پڑھی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1450]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: أَنْبَأَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال: " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَكْعَتَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعت پڑھی ، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعت ، اور عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو ہی رکعت پڑھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1451]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تقصیر ال صلاة 2 (1082)، صحیح مسلم/المسافرین 2 (694)، (تحفة الأشراف: 8151)، مسند احمد 2/16، 55 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قال: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّاهَا أَبُو بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّاهَا عُمَرُ رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّاهَا عُثْمَانُ صَدْرًا مِنْ خِلَافَتِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں دو رکعت پڑھی ، اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم نے بھی وہاں دو ہی رکعت پڑھی ، اور عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی خلافت کے شروع میں دو ہی رکعت پڑھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1452]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تقصیر ال صلاة 2 (1082)، الحج 84 (1655)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 2 (694)، (تحفة الأشراف: 7307)، مسند احمد 2/140 (صحیح)
|
|
|
4: بَابُ : الْمَقَامِ الَّذِي يُقْصَرُ بِمِثْلِهِ الصَّلاَةُ
باب: کتنے دن کی اقامت تک نماز قصر کی جا سکتی ہے؟
|
|
|
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قال: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَكَانَ يُصَلِّي بِنَا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا" , قُلْتُ: هَلْ أَقَامَ بِمَكَّةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ جانے کے لیے نکلے ، تو آپ ہمیں دو رکعت پڑھاتے رہے یہاں تک کہ ہم واپس لوٹ آئے ، یحییٰ بن ابی اسحاق کہتے ہیں : میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ نے مکہ میں قیام کیا تھا ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، ہم نے وہاں دس دن قیام کیا تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1453]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 1439 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ الْبَصْرِيُّ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ," أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَ بِمَكَّةَ خَمْسَةَ عَشَرَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پندرہ دن ٹھہرے رہے ۱؎ اور آپ دو دو رکعتیں پڑھتے رہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1454]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ فتح مکہ کی بات ہے اور دس دن کے قیام والی روایت حجۃ الوداع کے موقع کی ہے، فتح مکہ کے موقع پر مکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے دنوں تک قیام کیا اس سلسلہ میں روایتیں مختلف ہیں، صحیح بخاری کی روایت میں ۱۹ دن کا ذکر ہے، اور ابوداؤد کی ایک روایت اٹھارہ دن، اور دوسری میں سترہ دن کا ذکر ہے، تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ جس نے دخول اور خروج کے دنوں کو شمار نہیں کیا، اس نے سترہ کی روایت کی ہے اور جس نے دخول کا شمار کیا اور خروج کا نہیں یا خروج کا شمار کیا اور دخول کا نہیں، اس نے اٹھارہ کی روایت کی ہے، رہی پندرہ دن والی مؤلف کی روایت تو یہ شاذ ہے، اور اگر اسے صحیح مان لیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ راوی نے سمجھا کہ اصل ۱۷ دن ہے، پھر اس میں سے دخول اور خروج کو خارج کر کے ۱۵ دن کی روایت کی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح بلفظ تسعة عشر يوما
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5832)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 279 (1231)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 76 (1076) (شاذ) (کیوں کہ تمام صحیح روایات کے خلاف ہے، صحیح روایت ”انیس دن‘‘ کی ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَمْكُثُ الْمُهَاجِرُ بَعْدَ قَضَاءِ نُسُكِهِ ثَلَاثًا".
علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہاجر حج و عمرہ کے ارکان و مناسک پورے کرنے کے بعد ( مکہ میں ) تین دن تک ٹھر سکتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1455]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/مناقب الأنصار 47 (3933)، صحیح مسلم/الحج 81 (1352)، سنن ابی داود/الحج 92 (2022)، سنن الترمذی/الحج 103 (949)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 76 (1073)، (تحفة الأشراف: 11008)، مسند احمد 4/339، 5/52، سنن الدارمی/الصلاة 180 (1553) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ , قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ، قال: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَمْكُثُ الْمُهَاجِرُ بِمَكَّةَ بَعْدَ نُسُكِهِ ثَلَاثًا".
علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہاجر اپنے نسک ( حج و عمرہ کے ارکان ) پورے کرنے کے بعد مکہ میں تین دن ٹھر سکتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1456]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قال: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ زُهَيْرٍ الْأَزْدِيُّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا اعْتَمَرَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، حَتَّى إِذَا قَدِمَتْ مَكَّةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي قَصَرْتَ وَأَتْمَمْتُ وَأَفْطَرْتَ وَصُمْتُ , قَالَ: " أَحْسَنْتِ يَا عَائِشَةُ وَمَا عَابَ عَلَيَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرہ کرنے کے لیے مدینہ سے مکہ کے لیے نکلیں یہاں تک کہ جب وہ مکہ آ گئیں ، تو انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ! آپ نے نماز قصر پڑھی ہے ، اور میں نے پوری پڑھی ہے ، اور آپ نے روزہ نہیں رکھا ہے اور میں نے رکھا ہے تو آپ نے فرمایا : ” عائشہ ! تم نے اچھا کیا “ ، اور آپ نے مجھ پر کوئی نکیر نہیں کی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1457]
قال الشيخ الألباني:
منكر
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16298) (منکر) (سند میں ’’عبدالرحمن‘‘ اور ”عائشہ رضی اللہ عنہا“ کے درمیان انقطاع ہے، نیز یہ تمام صحیح روایات کے خلاف ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے رمضان میں کوئی عمرہ نہیں کیا ہے، جبکہ اس روایت کے بعض طرق میں ’’رمضان میں‘‘ کا تذکرہ ہے)
|
|
|
5: بَابُ : تَرْكِ التَّطَوُّعِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر میں سنت (نفل) نہ پڑھنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قال: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ زُهَيْرٍ، قال: حَدَّثَنَا وَبَرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَزِيدُ فِي السَّفَرِ عَلَى رَكْعَتَيْنِ لَا يُصَلِّي قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا , فَقِيلَ لَهُ: مَا هَذَا؟ قَالَ: " هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ".
وبرہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہم سفر میں دو رکعت پر اضافہ نہیں کرتے تھے ، نہ تو اس سے پہلے نماز پڑھتے اور نہ ہی اس کے بعد ، تو ان سے کہا گیا : یہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1458]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8556) (حسن صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، قال: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي سَفَرٍ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى طِنْفِسَةٍ لَهُ، فَرَأَى قَوْمًا يُسَبِّحُونَ , قَالَ: مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟ قُلْتُ: يُسَبِّحُونَ , قَالَ: لَوْ كُنْتُ مُصَلِّيًا قَبْلَهَا أَوْ بَعْدَهَا لَأَتْمَمْتُهَا، صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ: " لَا يَزِيدُ فِي السَّفَرِ عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ , وَأَبَا بَكْرٍ حَتَّى قُبِضَ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ كَذَلِكَ".
حفص بن عاصم کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ ایک سفر میں تھا تو انہوں نے ظہر اور عصر کی نمازیں دو دو رکعت پڑھیں ، پھر اپنے خیمے کی طرف لوٹنے لگے ، تو لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں ، تو انہوں نے پوچھا : یہ لوگ ( اب ) کیا کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا : یہ لوگ سنت پڑھ رہے ہیں ، تو انہوں نے کہا : اگر میں اس سے پہلے یا بعد میں کوئی نماز پڑھنے والا ہوتا تو میں فرض ہی کو پورا کرتا ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ، آپ سفر میں دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ، ابوبکر کے ساتھ رہا یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ بھی رہا یہ سب لوگ اسی طرح کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1459]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تقصیر ال صلاة 11 (1101، 1102)، صحیح مسلم/المسافرین 1 (689)، سنن ابی داود/الصلاة 276 (1223)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 274 (الجمعة 39) (544)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 75 (1071)، (تحفة الأشراف: 6693)، مسند احمد 2/24، 56 (صحیح)
|
|