📖 سنن النسائي (Sunan an-Nasa'i) • تمام کتب ↗

كتاب الكسوف

کتاب: (چاند، سورج) گرہن کے احکام و مسائل

کتاب #20 • کل احادیث: 45
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: بَابُ : كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ
باب: سورج اور چاند گرہن کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ تَعَالَى لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُخَوِّفُ بِهِمَا عِبَادَهُ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، ان دونوں کو کسی کے مرنے اور کسی کے پیدا ہونے سے گرہن نہیں لگتا ، بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1460]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الکسوف 1 (1040)، 6 (1048)، 17 (1063)، اللباس 2 (5785)، (تحفة الأشراف: 11661)، مسند احمد 5/37، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1464، 1465، 1492، 1493، 1503 (صحیح)
2: بَابُ : التَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ وَالدُّعَاءِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ
باب: سورج گرہن کے وقت تسبیح و تکبیر پڑھنے اور دعا کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ هُوَ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ، قال: بَيْنَا أَنَا أَتَرَامَى بِأَسْهُمٍ لِي بِالْمَدِينَةِ إِذِ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَجَمَعْتُ أَسْهُمِي , وَقُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ مَا أَحْدَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ، فَأَتَيْتُهُ مِمَّا يَلِي ظَهْرَهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، " فَجَعَلَ يُسَبِّحُ وَيُكَبِّرُ وَيَدْعُو حَتَّى حُسِرَ عَنْهَا" , قَالَ: " ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ".
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ میں تیر اندازی میں مشغول تھا ، اتنے میں سورج کو گرہن لگ گیا ، میں نے اپنے تیروں کو سمیٹا اور دل میں ارادہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کے موقع پر کیا نئی بات کی ہے ، اسے چل کر ضرور دیکھوں گا ، میں آپ کے پیچھے کی جانب سے آپ کے پاس آیا ، آپ مسجد میں تھے ، تسبیح و تکبیر اور دعا میں لگے رہے ، یہاں تک کہ سورج صاف ہو گیا ، پھر آپ کھڑے ہوئے ، اور دو رکعت نماز پڑھی ، اور چار سجدے کیے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1461]
💡 وضاحت:
۱؎: ظاہر حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ آفتاب صاف ہو جانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، حالانکہ کسوف کی نماز گرہن صاف ہو جانے کے بعد درست نہیں، لہٰذا اس کی تاویل اس طرح کی جاتی ہے کہ عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو نماز ہی کی حالت میں کھڑا پایا، آپ تسبیح و تکبیر نماز ہی میں کر رہے تھے جیسا کہ مسلم کی ایک روایت میں ہے۔ «فأتیناہ وھو قائم فی ال صلاۃ، رافع یدیہ، فجعل یسبح ویحمد ویہلل ویکبر ویدعو» چنانچہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو اس حال میں پایا کہ آپ نماز میں کھڑے اپنے ہاتھوں کو اٹھائے ہوئے تھے اور اللہ کی تسبیح و تحمید اور تہلیل و تکبیر کے ساتھ ساتھ دعا بھی کر رہے تھے، بعضوں نے کہا ہے یہ دونوں رکعتیں نماز کسوف سے الگ بطور شکرانہ کے تھیں، لیکن یہ قول ضعیف ہے، اور دوسری روایات کے ظاہر کے خلاف ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الکسوف 5 (913)، سنن ابی داود/الصلاة 267 (1195)، (تحفة الأشراف: 9696)، مسند احمد 5/ 16، 62 (صحیح)
3: بَابُ : الأَمْرِ بِالصَّلاَةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ
باب: سورج گرہن کے وقت نماز پڑھنے کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ تَعَالَى، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سورج اور چاند گرہن کسی کے مرنے اور کسی کے پیدا ہونے سے نہیں لگتا ہے ، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، تو جب تم انہیں دیکھو تو نماز پڑھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1462]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الکسوف 1 (1042)، بدء الخلق 4 (3201)، صحیح مسلم/الکسوف 5 (914)، (تحفة الأشراف: 7373)، مسند احمد 2/109، 118 (صحیح)
4: بَابُ : الأَمْرِ بِالصَّلاَةِ عِنْدَ كُسُوفِ الْقَمَرِ
باب: چاند گرہن کے وقت نماز پڑھنے کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قال: حَدَّثَنِي قَيْسٌ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ , وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا".
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سورج گرہن اور چاند گرہن کسی کے مرنے سے نہیں لگتا ، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، جب تم انہیں دیکھو تو نماز پڑھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1463]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الکسوف 1 (1041)، 12 (1057)، بدء الخلق 4 (3204)، صحیح مسلم/الکسوف 5 (911)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 152 (1261)، (تحفة الأشراف: 10003)، مسند احمد 4/122، سنن الدارمی/الصلاة 187 (1566) (صحیح)
5: بَابُ : الأَمْرِ بِالصَّلاَةِ عِنْدَ الْكُسُوفِ حَتَّى تَنْجَلِيَ
باب: گرہن لگنے کے وقت نماز پڑھنے کا حکم جب تک کہ صاف نہ ہو جائے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَامِلٍ الْمَرْوَزِيُّ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , وَإِنَّهُمَا لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، ان دونوں کو نہ تو کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے نہ کسی کے پیدا ہونے سے ، جب تم ان دونوں کو گرہن لگا ہوا دیکھو تو نماز پڑھو یہاں تک کہ یہ صاف ہو جائیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1464]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1460 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قال: " كُنَّا جُلُوسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَسَفَتِ الشَّمْسُ , فَوَثَبَ يَجُرُّ ثَوْبَهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى انْجَلَتْ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ سورج کو گرہن لگ گیا ، تو آپ اپنا کپڑا گھسیٹتے ہوئے جلدی سے اٹھے ، اور دو رکعت نماز پڑھی یہاں تک کہ وہ چھٹ گیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1465]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1460 (صحیح)
6: بَابُ : الأَمْرِ بِالنِّدَاءِ لِصَلاَةِ الْكُسُوفِ
باب: سورج گرہن کی نماز کے لیے اعلان کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا يُنَادِي أَنِ الصَّلَاةَ جَامِعَةً فَاجْتَمَعُوا وَاصْطَفُّوا، فَصَلَّى بِهِمْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو نبی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی کو حکم دیا ، تو اس نے ندا دی کہ نماز کے لیے جمع ہو جاؤ ، تو سب جمع ہو گئے ، اور انہوں نے صف بندی کی تو آپ نے انہیں چار رکوع ، اور چار سجدوں کے ساتھ ، دو رکعت نماز پڑھائی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1466]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الکسوف 19 (1066)، صحیح مسلم/الکسوف 1 (901)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 264 (1190)، (تحفة الأشراف: 16511)، سنن الدارمی/الصلاة 187 (1568)، ویأتي عند المؤلف برقم: 1474 (صحیح)
7: بَابُ : الصُّفُوفِ فِي صَلاَةِ الْكُسُوفِ
باب: سورج گرہن کی نماز میں صف بندی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قال: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " كَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَقَامَ فَكَبَّرَ وَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ , وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف نکلے ، اور نماز کے لیے کھڑے ہوئے ، آپ نے ” اللہ اکبر “ ، کہا اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صف بندی کی ، پھر آپ نے چار رکوع اور چار سجدے مکمل کئے ، سورج آپ کے فارغ ہونے سے پہلے ہی صاف ہو گیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1467]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16487)، مسند احمد 6/87 (صحیح)
بَابُ : اب كَيْفَ صَلاَةُ الْكُسُوفِ
باب: سورج گرہن کی نماز کی کیفیت کا بیان؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُلَيَّةَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ" , وَعَنْ عَطَاءٍ مِثْلُ ذَلِكَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن لگنے پر آٹھ رکوع ، اور چار سجدوں کے ساتھ نماز پڑھی اور عطاء نے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہم سے اسی کے مثل روایت کی ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1468]
💡 وضاحت:
۱؎: عطاء کی روایت جس کی طرف امام نسائی نے اشارہ کیا ہے، حقیقت میں وہ ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی نہیں ہے، بلکہ وہ مرسل ہے، جیسا کہ امام مزی نے اسے مراسیل میں ذکر کیا ہے، ملاحظہ ہو: تحفہ الأشراف: ۱۹۰۴۹۔
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الکسوف 4 (908)، سنن ابی داود/الصلاة 262 (1183)، سنن الترمذی/الصلاة 279 (الجمعة 44) (560)، (تحفة الأشراف: 5697)، مسند احمد 1/225، 346، سنن الدارمی/الصلاة 187 (1567) (شاذ) (حبیب بن ابی ثابت مدلس کثیر الارسال ہیں، یہ حدیث انہوں نے ابن عباس سے نہیں سنی ہے، نیز یہ روایت خود ابن عباس سے مروی دیگر روایات کے خلاف ہے، دیکھئے حدیث رقم: 1470)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ" صَلَّى فِي كُسُوفٍ فَقَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ وَالْأُخْرَى مِثْلُهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرہن لگنے پر نماز پڑھی ، آپ نے قرآت کی ، پھر رکوع کیا ، پھر قرآت کی ، پھر رکوع کیا ، پھر قرآت کی ، پھر رکوع کیا ، پھر قرآت کی ، پھر رکوع کیا ، پھر سجدہ کیا ، اور دوسری رکعت بھی ایسے ہی پڑھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1469]
قال الشيخ الألباني: شاذ والمحفوظ أربع ركوعات في ركعتين
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (شاذ) (دیکھیں سابقہ روایت)
9: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ مَنْ صَلاَةِ الْكُسُوفِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ
باب: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی کسوف کی نماز کی ایک اور قسم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ ابْنِ نَمِرٍ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبَّاسٍ. ح وَأَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قال: أَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ," أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس دن سورج گرہن لگا ، دو رکعت نماز پڑھی ، تو چار رکوع اور چار سجدے کیے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1470]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الکسوف 4 (1046) مطولاً، صحیح مسلم/الکسوف 1 (901، 902)، سنن ابی داود/الصلاة 262 (1181) مطولاً، (تحفة الأشراف: 6335) (صحیح)
10: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ مِنْ صَلاَةِ الْكُسُوفِ
باب: سورج گرہن کی نماز کی ایک اور قسم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قال: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قال: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يُحَدِّثُ، قال: حَدَّثَنِي مَنْ أُصَدِّقُ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ بِالنَّاسِ قِيَامًا شَدِيدًا، يَقُومُ بِالنَّاسِ ثُمَّ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، رَكَعَ الثَّالِثَةَ ثُمَّ سَجَدَ، حَتَّى إِنَّ رِجَالًا يَوْمَئِذٍ يُغْشَى عَلَيْهِمْ، حَتَّى إِنَّ سِجَالَ الْمَاءِ لَتُصَبُّ عَلَيْهِمْ مِمَّا قَامَ بِهِمْ , يَقُولُ: إِذَا رَكَعَ اللَّهُ أَكْبَرُ , وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَلَمْ يَنْصَرِفْ حَتَّى تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ , وَلَكِنْ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُخَوِّفُكُمْ بِهِمَا، فَإِذَا كَسَفَا فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَنْجَلِيَا".
عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے بیان کیا ہے جسے میں سچا سمجھتا ہوں ، میرا گمان ہے کہ ان کی مراد ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں ، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا ، تو آپ نے لوگوں کے ساتھ بڑی دیر تک نماز میں قیام کیا ، آپ لوگوں کے ساتھ قیام کرتے ، پھر رکوع کرتے ، پھر قیام کرتے ، پھر رکوع کرتے ، پھر قیام کرتے پھر رکوع کرتے ، اس طرح آپ نے دو رکعت پڑھی ، ہر رکعت میں آپ نے تین رکوع کیا ، تیسرے رکوع سے اٹھنے کے بعد آپ نے سجدہ کیا یہاں تک کہ اس دن آدمیوں پر غشی طاری ہو گئی تھی جس کی وجہ سے ان کے اوپر پانی کے ڈول انڈیلنے پڑ گئے تھے ، آپ جب رکوع کرتے تو «اللہ اکبر» کہتے ، اور جب سر اٹھاتے تو «سمع اللہ لمن حمده» کہتے ، آپ فارغ نہیں ہوئے جب تک کہ سورج صاف نہیں ہو گیا ، پھر آپ کھڑے ہوئے ، اور آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، اور فرمایا : ” سورج اور چاند کو نہ تو کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے ، اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے سے ، لیکن یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جن کے ذریعہ وہ تمہیں ڈراتا ہے ، تو جب ان میں گرہن لگے تو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو ، اور ذکر الٰہی میں لگے رہو جب تک کہ وہ صاف نہ ہو جائیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1471]
قال الشيخ الألباني: شاذ والمحفوظ عنها في كل ركعة ركوعان
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الکسوف 1 (901)، سنن ابی داود/الصلاة 261 (1177)، (تحفة الأشراف: 16323)، مسند احمد 6/76 (شاذ) (تین رکوع کا تذکرہ شاذ ہے، محفوظ بات دو رکوع کی ہے، خود عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں دو رکوع کا تذکرہ ہے، دیکھئے حدیث رقم: 1473)۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ فِي صَلَاةِ الْآيَاتِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ" , قُلْتُ لِمُعَاذٍ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: لَا شَكَّ وَلَا مِرْيَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار سجدوں میں چھ رکوع کئے ۔ اسحاق بن ابراہیم کہتے ہیں میں نے معاذ بن ہشام سے پوچھا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے نا ، انہوں نے کہا : اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1472]
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الکسوف 1 (901)، (تحفة الأشراف: 16325) (شاذ) (دیکھئے سابقہ روایت)
11: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ مِنْهُ عَنْ عَائِشَةَ،
باب: ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی سورج گرہن کی نماز کی ایک اور قسم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قال: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ فَكَبَّرَ وَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ، فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ , فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ قَامَ فَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ تَعَالَى لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا حَتَّى يُفْرَجَ عَنْكُمْ". (حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَقَالَ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ فِي مَقَامِي هَذَا كُلَّ شَيْءٍ وُعِدْتُمْ، لَقَدْ رَأَيْتُمُونِي أَرَدْتُ أَنْ آخُذَ قِطْفًا مِنَ الْجَنَّةِ حِينَ رَأَيْتُمُونِي جَعَلْتُ أَتَقَدَّمُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ، وَرَأَيْتُ فِيهَا ابْنَ لُحَيٍّ وَهُوَ الَّذِي سَيَّبَ السَّوَائِبَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن لگا تو آپ ( نماز کے لیے ) کھڑے ہوئے ، اور تکبیر کہی ، اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صفیں باندھیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی لمبی قرآت کی ، پھر «اللہ اکبر» کہا ، اور ایک لمبا رکوع کیا ، پھر اپنا سر اٹھایا ، تو «سمع اللہ لمن حمده ربنا لك الحمد» کہا ، پھر آپ کھڑے رہے ، اور ایک لمبی قرآت کی مگر پہلی قرآت سے کم ، پھر تکبیر کہی ، اور ایک لمبا رکوع کیا ، مگر پہلے رکوع سے چھوٹا ، پھر آپ نے «سمع اللہ لمن حمده ربنا لك الحمد» کہا ، پھر سجدہ کیا ، پھر دوسری رکعت میں بھی آپ نے اسی طرح کیا ، اس طرح آپ نے چار رکوع اور چار سجدے پورے کیے ، آپ کے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی سورج صاف ہو گیا ، پھر آپ نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطاب کیا ، تو اللہ تعالیٰ کی ثنا بیان کی جو اس کے شایان شان تھی ، پھر فرمایا : بلاشبہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، انہیں نہ کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے ، نہ کسی کے پیدا ہونے سے ، جب تم انہیں دیکھو تو نماز پڑھو ، جب تک کہ وہ تم سے چھٹ نہ جائے ، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے اپنے اس کھڑے ہونے کی جگہ میں ہر وہ چیز دیکھ لی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے ، تم نے مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا ، میں نے چاہا کہ جنت کے پھلوں میں سے ایک گچھا توڑ لوں ، جب تم نے مجھے دیکھا میں آگے بڑھا تھا ، اور میں نے جہنم کو دیکھا ، اس حال میں کہ اس کا ایک حصہ دوسرے کو توڑ رہا تھا جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا ، اور میں نے اس میں ابن لحی کو دیکھا ۱؎ ، یہی ہے جس نے سب سے پہلے سائبہ چھوڑا ۲؎ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1473]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کا نام عمرو ہے اور باپ کا نام عامر ہے اور لقب لحی ہے۔ ۲؎: سائبہ ایسی اونٹنی کو کہتے ہیں جسے بتوں کے نام پر آزاد چھوڑ دیا گیا ہو، اور اس سے سواری اور بار برداری کا کوئی کام نہ لیا جاتا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الکسوف 4 (1046)، 5 (1047)، 13 (1058)، العمل فی ال صلاة 11 (1212)، بدء الخلق 4 (3203)، صحیح مسلم/الکسوف 1 (901)، سنن ابی داود/الصلاة 262 (1180) مختصراً، سنن ابن ماجہ/الإقامة 152 (1263)، (تحفة الأشراف: 16692) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُودِيَ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ فَاجْتَمَعَ النَّاسُ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو «الصلاة جامعة» ( صلاۃ باجماعت ہو گی ) کی منادی کرائی گئی ، چنانچہ لوگ اکٹھا ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو رکعت میں چار رکوع اور چار سجدے کئے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1474]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1466 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ، ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَادْعُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَبِّرُوا وَتَصَدَّقُوا"، ثُمَّ قَالَ: " يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ , مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ , وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، آپ نے لمبا قیام کیا ، پھر لمبا رکوع کیا ، پھر لمبا قیام کیا ، اور یہ پہلے قیام سے کم تھا ، پھر لمبا رکوع کیا ، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا ، پھر آپ نے رکوع سے سر اٹھایا ، اور سجدہ کیا ، پھر آپ نے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا ، پھر آپ فارغ ہوئے اس حال میں کہ سورج صاف ہو چکا تھا ، تو آپ نے لوگوں کو خطاب کیا ، پہلے آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کی ، پھر فرمایا : ” سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، ان دونوں کو نہ کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے ، اور نہ ہی کسی کے جینے سے ، تو جب تم اسے دیکھو تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ، اور اس کی بڑائی بیان کرو ، اور صدقہ کرو “ ، پھر آپ نے فرمایا : ” اے امت محمد ! اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی اس بات پر غیرت کرنے والا نہیں کہ اس کا غلام یا لونڈی زنا کرے ، اے امت محمد ! قسم اللہ کی ، اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں ، تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1475]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الکسوف 2 (1044)، صحیح مسلم/الکسوف 1 (901)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 265 (1191)، (تحفة الأشراف: 17148)، موطا امام مالک/الکسوف 1 (1)، سنن الدارمی/الصلاة 187 (1570) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عَمْرَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا , أَنَّ يَهُودِيَّةً أَتَتْهَا , فَقَالَتْ: أَجَارَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ , قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ النَّاسَ لَيُعَذَّبُونَ فِي الْقُبُورِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَائِذًا بِاللَّهِ" , قَالَتْ عَائِشَةُ: " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مَخْرَجًا فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ فَخَرَجْنَا إِلَى الْحُجْرَةِ فَاجْتَمَعَ إِلَيْنَا نِسَاءٌ , وَأَقْبَلَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَلِكَ ضَحْوَةً، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ دُونَ رُكُوعِهِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، إِلَّا أَنَّ رُكُوعَهُ وَقِيَامَهُ دُونَ الرَّكْعَةِ الْأُولَى , ثُمَّ سَجَدَ وَتَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ , فَقَالَ فِيمَا يَقُولُ: " إِنَّ النَّاسَ يُفْتَنُونَ فِي قُبُورِهِمْ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ" , قَالَتْ عَائِشَةُ: كُنَّا نَسْمَعُهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس آئی ، اور کہنے لگی : اللہ تعالیٰ تمہیں قبر کے عذاب سے بچائے ، یہ سنا تو عائشہ نے پوچھا : اللہ کے رسول ! لوگوں کو قبر میں بھی عذاب دیا جائے گا ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی پناہ “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جانے کے لیے نکلے اتنے میں سورج گرہن لگ گیا ، تو ہم حجرہ میں چلے گئے ، یہ دیکھ کر دوسری عورتیں بھی ہمارے پاس جمع ہو گئیں ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور یہ چاشت کا وقت تھا ، آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے ، آپ نے نماز میں لمبا قیام کیا ، پھر لمبا رکوع کیا ، پھر رکوع سے سر اٹھایا ، تو قیام کیا پہلے قیام سے کم ، پھر آپ نے رکوع کیا ، اپنے پہلے رکوع سے کم ، پھر سجدہ کیا ، پھر آپ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے ، تو اسی طرح کیا مگر دوسری رکعت میں آپ کا رکوع اور قیام پہلی رکعت سے کم تھا ، پھر آپ نے سجدہ کیا ، اور سورج صاف ہو گیا ، تو جب آپ فارغ ہوئے ، تو منبر پر بیٹھے ، اور جو باتیں کہنی تھیں کہیں ، اس میں ایک بات یہ بھی تھی : ” کہ لوگ اپنی قبروں میں آزمائے جائیں گے ، جیسے دجال کے فتنے میں آزمائے جائیں گے “ ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اس کے بعد سے برابر ہم آپ کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1476]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الکسوف 7 (1049)، 12 (1055)، صحیح مسلم/الکسوف 2 (903)، (تحفة الأشراف: 17936)، موطا امام مالک/الکسوف 1 (3)، مسند احمد 6/35، سنن الدارمی/الصلاة 187 (1568، 1573)، ویأتی عند المؤلف برقم: 1477، 1500 (صحیح)
12: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ
باب: سورج گرہن کی نماز کے ایک اور طریقہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ هُوَ الْأَنْصَارِيُّ، قال: سَمِعْتُ عَمْرَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: جَاءَتْنِي يَهُودِيَّةٌ تَسْأَلُنِي , فَقَالَتْ: أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُعَذَّبُ النَّاسُ فِي الْقُبُورِ؟ فَقَالَ: " عَائِذًا بِاللَّهِ" , فَرَكِبَ مَرْكَبًا يَعْنِي وَانْخَسَفَتِ الشَّمْسُ فَكُنْتُ بَيْنَ الْحُجَرِ مَعَ نِسْوَةٍ، " فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَرْكَبِهِ فَأَتَى مُصَلَّاهُ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ , ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ , ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ قَامَ قِيَامًا أَيْسَرَ مِنْ قِيَامِهِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ أَيْسَرَ مِنْ رُكُوعِهِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ أَيْسَرَ مِنْ قِيَامِهِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ أَيْسَرَ مِنْ رُكُوعِهِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ أَيْسَرَ مِنْ قِيَامِهِ الْأَوَّلِ، فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: " إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ" , قَالَتْ عَائِشَةُ: فَسَمِعْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک یہودی عورت مجھ سے کچھ پوچھنے آئی تو اس نے کہا : اللہ تعالیٰ تمہیں قبر کے عذاب سے بچائے ، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو میں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا لوگ قبروں میں بھی عذاب دیئے جاتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی پناہ “ ، پھر آپ ( کہیں جانے کے لیے ) سواری پر سوار ہوئے کہ ادھر سورج گرہن لگ گیا ، اور میں دوسری عورتوں کے ساتھ حجروں کے درمیان بیٹھی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اتر کر آئے ، اور اپنے مصلیٰ کی طرف بڑھے ، آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی تو لمبا قیام کیا ، پھر لمبا رکوع کیا ، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا ، پھر لمبا رکوع کیا ، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا ، پھر آپ نے سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا ، پھر آپ ( سجدہ سے کھڑے ہوئے ) اور آپ نے قیام کیا ، مگر اپنے پہلے قیام سے کم ، پھر رکوع کیا ، اپنے پہلے رکوع سے کم ، پھر اپنا سر اٹھایا تو قیام کیا اپنے پہلے قیام سے کم ، تو یہ چار رکوع اور چار سجدے ہوئے ، اور سورج صاف ہو گیا ، تو آپ نے فرمایا : ” تم قبروں میں آزمائے جاؤ گے اسی طرح جس طرح دجال کے فتنے سے آزمائے جاؤ گے “ ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اس کے بعد سے میں نے برابر آپ کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1477]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي كُسُوفٍ فِي صُفَّةِ زَمْزَمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسوف کی نماز میں زمزم کے چبوترے پر چار چار رکوع اور چار چار سجدے کئے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1478]
قال الشيخ الألباني: صحيح دون ذكر الصفة فإنه شاذ مخالف لكل الروايات السابقة واللاحقة
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الکسوف 18 (1064) بلفظ ’’أربع رکعات فی سجدتین‘‘ بدون ذکر الصفة (شاذ) (آپ صلی الله علیہ وسلم نے زندگی میں صرف ایک بار وہ بھی مدینہ میں سورج گرہن کی صلاة پڑھی ہے، یہ روایت شاذ ہے، کسی راوی سے وہم ہو گیا ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ صَاحِبُ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: " كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى جَعَلُوا يَخِرُّونَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ نَحْوًا مِنْ ذَلِكَ، وَجَعَلَ يَتَقَدَّمُ ثُمَّ جَعَلَ يَتَأَخَّرُ، فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ , كَانُوا يَقُولُونَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنْ عُظَمَائِهِمْ , وَإِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُرِيكُمُوهُمَا , فَإِذَا انْخَسَفَتْ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک انتہائی گرم دن میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی ، اور لمبا قیام کیا یہاں تک کہ لوگ ( بیہوش ہو ہو کر ) گرنے لگے ، پھر آپ نے لمبا رکوع کیا ، پھر آپ رکوع سے اٹھے تو آپ نے لمبا قیام کیا ، پھر آپ نے لمبا رکوع کیا ، پھر آپ رکوع سے اٹھے تو لمبا قیام کیا ، پھر دو سجدے کیے ، پھر آپ کھڑے ہوئے تو آپ نے پھر اسی طرح کیا ، نیز آپ آگے بڑھے پھر پیچھے ہٹنے لگے ، تو یہ چار رکوع اور چار سجدے ہوئے ، لوگ کہتے تھے کہ سورج اور چاند گرہن ان کے بڑے آدمیوں میں سے کسی بڑے آدمی کی موت کی وجہ سے لگتا ہے ، حالانکہ یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جنہیں اللہ تمہیں دکھاتا ہے ، تو جب گرہن لگے تو نماز پڑھو جب تک کہ وہ چھٹ نہ جائے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1479]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الکسوف 3 (904)، سنن ابی داود/الصلاة 262 (1179)، (تحفة الأشراف: 2976)، مسند احمد 3/374، 382 (صحیح)
13: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ
باب: گرہن کی نماز کے ایک اور طریقہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مَرْوَانَ، قال: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قال: " خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ فَنُودِيَ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ وَسَجْدَةً، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَسَجْدَةً , قَالَتْ عَائِشَةُ: مَا رَكَعْتُ رُكُوعًا قَطُّ وَلَا سَجَدْتُ سُجُودًا قَطُّ كَانَ أَطْوَلَ مِنْهُ , خَالَفَهُ مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا ، تو آپ نے ( نماز کا ) حکم دیا تو «الصلاة جامعة» ( نماز باجماعت پڑھی جائے گی ) کی منادی کرائی گئی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی ( پہلی رکعت میں ) آپ نے دو رکوع اور ایک سجدہ کیا ۱؎ ، پھر آپ کھڑے ہوئے ، پھر آپ نے ( دوسری رکعت میں بھی ) دو رکوع اور ایک سجدہ کیا ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے کبھی اتنا لمبا رکوع نہیں کیا ، اور نہ ہی کبھی اتنا لمبا سجدہ کیا ۔ محمد بن حمیر نے مروان کی مخالفت کی ہے ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1480]
💡 وضاحت:
۱؎: یہاں سجدہ سے مراد مکمل ایک رکعت ہے، کیونکہ کسی بھی نماز میں ایک سجدہ کا کوئی بھی قائل نہیں ہے، مطلب یہ ہے کہ ایک رکعت دو رکوع کے ساتھ پڑھی۔ ۲؎: یہ مخالفت سند اور متن دونوں میں ہے، سند میں مخالفت یہ ہے کہ مروان کی روایت میں یحییٰ بن ابی کثیر اور عبداللہ بن عمرو کے درمیان ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کا واسطہ ہے، اور محمد بن حمیر کی روایت میں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کی جگہ ابوطعمہ کا واسطہ ہے، اور متن میں مخالفت یہ ہے کہ مروان کی روایت میں سجدہ کا لفظ آیا ہے، اور محمد بن حمیر کی روایت میں اس کی جگہ سجدتین کا لفظ آیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الکسوف 3 (1045)، 8 (1051)، صحیح مسلم/الکسوف 5 (910)، (تحفة الأشراف: 8963)، مسند احمد 2/175، 220 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ حِمْيَرَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي طُعْمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قال: " كَسَفَتِ الشَّمْسُ فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ جُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ , وَكَانَتْ عَائِشَةُ , تَقُولُ: مَا سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُجُودًا , وَلَا رَكَعَ رُكُوعًا أَطْوَلَ مِنْهُ , خَالَفَهُ عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکوع کیے ، اور دو سجدے کیے ، پھر آپ کھڑے ہوئے ، اور دو رکوع اور دو سجدے کیے ، پھر سورج سے گرہن چھٹ گیا ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی سجدہ اور کوئی رکوع ان سے لمبا نہیں کیا ۔ علی بن مبارک نے معاویہ بن سلام کی مخالفت کی ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1481]
💡 وضاحت:
۱؎: علی بن مبارک نے اسے مسند عائشہ میں سے قرار دیا ہے، اور معاویہ بن سلام نے مسند عبداللہ بن عمرو میں سے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8965) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَن?ا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، قال: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو حَفْصَةَ مَوْلَى عَائِشَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ: " أَنَّهُ لَمَّا كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَأَمَرَ فَنُودِيَ أَنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ فِي صَلَاتِهِ , قَالَتْ عَائِشَةُ: فَحَسِبْتُ قَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ قَامَ مِثْلَ مَا قَامَ وَلَمْ يَسْجُدْ، ثُمَّ رَكَعَ فَسَجَدَ، ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ رَكْعَتَيْنِ وَسَجْدَةً، ثُمَّ جَلَسَ وَجُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو آپ نے وضو کیا ، اور حکم دیا تو ندا دی گئی : «الصلاة جامعة» ( نماز باجماعت ہو گی ) ، پھر آپ ( نماز کے لیے ) کھڑے ہوئے ، تو آپ نے لمبا قیام کیا ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : تو مجھے گمان ہوا کہ آپ نے سورۃ البقرہ پڑھی ، پھر آپ نے لمبا رکوع کیا ، پھر آپ نے : «سمع اللہ لمن حمده» کہا ، پھر آپ نے اسی طرح قیام کیا جیسے پہلے کیا تھا ، اور سجدہ نہیں کیا ، پھر آپ نے رکوع کیا پھر سجدہ کیا ، پھر آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے پہلے ہی کی طرح دو رکوع اور ایک سجدہ کیا ، پھر آپ بیٹھے ، تب سورج سے گرہن چھٹ چکا تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1482]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17698) (صحیح) (اس کے راوی ”ابو حفص مولی عائشہ“ لین الحدیث ہیں لیکن متابعت اور شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے)
14: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ
باب: سورج گرہن کی نماز کے ایک اور طریقہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي السَّائِبُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو حَدَّثَهُ، قال: " انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ وَقَامَ الَّذِينَ مَعَهُ، فَقَامَ قِيَامًا فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَسَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَجَلَسَ فَأَطَالَ الْجُلُوسَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَقَامَ فَصَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ مَا صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنَ الْقِيَامِ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَالْجُلُوسِ، فَجَعَلَ يَنْفُخُ فِي آخِرِ سُجُودِهِ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ وَيَبْكِي وَيَقُولُ: " لَمْ تَعِدْنِي هَذَا وَأَنَا فِيهِمْ لَمْ تَعِدْنِي هَذَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُكَ" , ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا رَأَيْتُمْ كُسُوفَ أَحَدِهِمَا فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَقَدْ أُدْنِيَتِ الْجَنَّةُ مِنِّي حَتَّى لَوْ بَسَطْتُ يَدِي لَتَعَاطَيْتُ مِنْ قُطُوفِهَا، وَلَقَدْ أُدْنِيَتِ النَّارُ مِنِّي حَتَّى لَقَدْ جَعَلْتُ أَتَّقِيهَا خَشْيَةَ أَنْ تَغْشَاكُمْ، حَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا امْرَأَةً مِنْ حِمْيَرَ تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا فَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ , فَلَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلَا هِيَ سَقَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ، فَلَقَدْ رَأَيْتُهَا تَنْهَشُهَا إِذَا أَقْبَلَتْ وَإِذَا وَلَّتْ تَنْهَشُ أَلْيَتَهَا، وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ أَخَا بَنِي الدَّعْدَاعِ يُدْفَعُ بِعَصًا ذَاتِ شُعْبَتَيْنِ فِي النَّارِ، وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ الَّذِي كَانَ يَسْرِقُ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِهِ مُتَّكِئًا عَلَى مِحْجَنِهِ فِي النَّارِ يَقُولُ: أَنَا سَارِقُ الْمِحْجَنِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے ، اور وہ لوگ بھی کھڑے ہوئے جو آپ کے ساتھ تھے ، آپ لمبا قیام کیا ، پھر لمبا رکوع کیا ، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا ، اور لمبا سجدہ کیا ، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھایا ، اور بیٹھے تو دیر تک بیٹھے رہے ، پھر آپ سجدہ میں گئے تو لمبا سجدہ کیا ، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھایا ، اور کھڑے ہو گئے ، پھر آپ نے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح قیام ، رکوع ، سجدہ اور جلوس کیا جیسے پہلی رکعت میں کیا تھا ، پھر دوسری رکعت کے آخری سجدے میں آپ ہانپنے اور رونے لگے ، آپ کہہ رہے تھے : ” تو نے مجھ سے اس کا وعدہ نہیں کیا تھا ۱؎ ، اور حال یہ ہے کہ میں ان میں موجود ہوں ، تو نے مجھ سے اس کا وعدہ نہیں کیا تھا ، اور ہم تجھ سے ( اپنے گناہوں کی ) بخشش چاہتے ہیں “ ، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا تب سورج صاف ہو چکا تھا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، اور آپ نے لوگوں کو خطاب کیا ، پہلے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا : ” سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، تو جب تم ان میں سے کسی کو گرہن لگا دیکھو تو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ، جنت مجھ سے قریب کر دی گئی یہاں تک کہ اگر میں اپنے ہاتھوں کو پھیلاتا تو میں اس کے کچھ گچھے لے لیتا ، اور جہنم مجھ سے قریب کر دی گئی یہاں تک کہ میں اس سے بچاؤ کرنے لگا ، اس خوف سے کہ کہیں وہ تمہیں ڈھانپ نہ لے ، یہاں تک کہ میں نے اس میں حمیر کی ایک عورت پر ایک بلی کی وجہ سے عذاب ہوتے ہوئے دیکھا جسے اس نے باندھ رکھا تھا ، نہ تو اس نے اسے زمین کے کیڑے مکوڑے کھانے کے لیے چھوڑا ، اور نہ ہی اس نے اسے خود کچھ کھلایا پلایا یہاں تک کہ وہ مر گئی ، میں نے اسے دیکھا وہ اس عورت کو نوچتی تھی جب وہ سامنے آتی ، اور جب وہ پیٹھ پھیر کر جاتی تو اس کے سرین کو نوچتی ، نیز میں نے اس میں دو چمڑے کی جوتیوں والے کو دیکھا ، جو قبیلہ بنی دعدع کا ایک فرد تھا ، اسے دو منہ والی لکڑی سے مار کر آگ میں دھکیلا جا رہا تھا ، نیز میں نے اس میں خمدار سر والی لکڑی چرانے والے کو دیکھا ، جو حاجیوں کا مال چراتا تھا ، وہ جہنم میں اپنی لکڑی پر ٹیک لگائے ہوئے کہہ رہا تھا : میں خمدار سر والی لکڑی چرانے والا ہوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1483]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی میری موجودگی میں انہیں عذاب دینے کا وعدہ نہیں کیا تھا، بلکہ تو نے اس کے برعکس یہ وعدہ کیا تھا کہ تو انہیں میری موجودگی میں عذاب نہیں دے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 267 (1194)، سنن الترمذی/الشمائل 44 (307)، مسند احمد 2/159، 163، 188، 198، 223، (تحفة الأشراف: 8639)، ویأتی عند المؤلف فی برقم: 1497 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قال: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ سَبَلَانُ، قال: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: " كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ فَصَلَّى لِلنَّاسِ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ وَهُوَ دُونَ السُّجُودِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَفَعَلَ فِيهِمَا مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ يَفْعَلُ فِيهِمَا مِثْلَ ذَلِكَ، حَتَّى فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَإِنَّهُمَا لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِلَى الصَّلَاةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو آپ کھڑے ہوئے ، اور آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی تو لمبا قیام کیا ، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا ، پھر قیام کیا تو لمبا قیام کیا ، اور یہ پہلے قیام سے کم تھا ، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا ، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا ، پھر آپ نے سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا ، پھر آپ نے سجدہ سے سر اٹھایا ، پھر سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا ، اور یہ پہلے سجدہ سے کم تھا ، پھر آپ ( دوسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہوئے ، تو آپ نے دو رکوع کیے ، اور ان میں پہلے جیسا ہی کیا ، پھر آپ نے دو سجدے کیے ، ان دونوں میں اسی طرح کرتے رہے جیسے پہلے کیا تھا یہاں تک کہ اپنی نماز سے فارغ ہو گئے ، پھر آپ نے فرمایا : ” سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، ان دونوں کو نہ کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے اور نہ کسی کے پیدا ہونے سے ، لہٰذا جب تم انہیں ( گرہن لگا ) دیکھو ، تو تم اللہ کے ذکر اور نماز کی طرف دوڑ پڑو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1484]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15033) (حسن صحیح)
15: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ
باب: سورج گرہن کی نماز کے ایک اور طریقہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ هِلَالٍ، قال: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَيَّاشٍ، قال: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قال: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، قال: حَدَّثَنِي ثَعْلَبَةُ بْنُ عَبَّادٍ الْعَبْدِيُّ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، أَنَّهُ شَهِدَ خُطْبَةً يَوْمًا لِسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ , فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ: بَيْنَا أَنَا يَوْمًا وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ نَرْمِي غَرَضَيْنِ لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ قِيدَ رُمْحَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ فِي عَيْنِ النَّاظِرِ مِنَ الْأُفُقِ اسْوَدَّتْ، فَقَالَ أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى الْمَسْجِدِ , فَوَاللَّهِ لَيُحْدِثَنَّ شَأْنُ هَذِهِ الشَّمْسِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُمَّتِهِ , حَدَثًا قَالَ: فَدَفَعْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ , قَالَ: فَوَافَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ , قَالَ: " فَاسْتَقْدَمَ فَصَلَّى فَقَامَ كَأَطْوَلِ قِيَامٍ قَامَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ مَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ رَكَعَ بِنَا كَأَطْوَلِ رُكُوعٍ مَا رَكَعَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ مَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ سَجَدَ بِنَا كَأَطْوَلِ سُجُودٍ مَا سَجَدَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ , قَالَ: فَوَافَقَ تَجَلِّي الشَّمْسِ جُلُوسَهُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ , فَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ , وَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَشَهِدَ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ , مُخْتَصَرٌ.
ثعلبہ بن عباد العبدی بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک دن سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے خطبہ میں حاضر ہوئے ، تو انہوں نے اپنے خطبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ایک حدیث ذکر کی ، سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک دن میں اور ایک انصاری لڑکا دونوں تیر سے نشانہ بازی کر رہے تھے ، یہاں تک کہ سورج دیکھنے والے کی نظر میں افق سے دو تین نیزے کے برابر اوپر آ چکا تھا کہ اچانک وہ سیاہ ہو گیا ، ہم میں سے ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا : چلو مسجد چلیں ، قسم اللہ کی اس سورج کا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آپ کی امت میں ضرور کوئی نیا واقعہ رونما کرے گا ، پھر ہم مسجد گئے تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے وقت میں پایا جب آپ لوگوں کی طرف نکلے ، پھر آپ آگے بڑھے اور آپ نے نماز پڑھائی ، تو اتنا لمبا قیام کیا کہ ایسا قیام آپ نے کبھی کسی نماز میں نہیں کیا تھا ، ہم آپ کی آواز سن نہیں رہے تھے ، پھر آپ نے رکوع کیا تو اتنا لمبا رکوع کیا کہ ایسا رکوع آپ نے کبھی کسی نماز میں نہیں کیا تھا ، ہم آپ کی آواز سن نہیں رہے تھے ، پھر آپ نے ہمارے ساتھ سجدہ کیا تو اتنا لمبا سجدہ کیا کہ ایسا سجدہ آپ نے کبھی کسی نماز میں نہیں کیا تھا ، ہم آپ کی آواز سن نہیں رہے تھے ، پھر آپ نے ایسے ہی دوسری رکعت میں بھی کیا ، دوسری رکعت میں آپ کے بیٹھنے کے ساتھ ہی سورج صاف ہو گیا ، تو آپ نے سلام پھیرا ، اور اللہ کی حمد اور اس کی ثنا بیان کی ، اور گواہی دی کہ نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے ، اور گواہی دی کہ آپ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، ( یہ حدیث مختصر ہے ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1485]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 262 (1184)، سنن الترمذی/الصلاة 280 (الجمعة 45) (562) مختصراً، سنن ابن ماجہ/الإقامة 152 (1264) مختصراً، (تحفة الأشراف: 4573)، مسند احمد 5/14، 16، 17، 19، 23، ویأتی عند المؤلف برقم: 1502 مختصراً (ضعیف) (اس کے راوی ’’ثعلبہ‘‘ لین الحدیث ہیں)
16: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ
باب: سورج گرہن کی نماز کے ایک اور طریقہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قال: " انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ يَجُرُّ ثَوْبَهُ فَزِعًا حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ، فَلَمْ يَزَلْ يُصَلِّي بِنَا حَتَّى انْجَلَتْ، فَلَمَّا انْجَلَتْ , قَالَ: " إِنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنَ الْعُظَمَاءِ وَلَيْسَ كَذَلِكَ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا بَدَا لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ خَشَعَ لَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا كَأَحْدَثِ صَلَاةٍ صَلَّيْتُمُوهَا مِنَ الْمَكْتُوبَةِ".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو آپ گھبرائے ہوئے اپنے کپڑے کو گھسیٹتے ہوئے باہر نکلے یہاں تک کہ آپ مسجد آئے ، اور ہمیں برابر نماز پڑھاتے رہے یہاں تک کہ سورج صاف ہو گیا ، جب سورج صاف ہو گیا تو آپ نے فرمایا : ” کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ سورج اور چاند گرہن کسی بڑے آدمی کے مرنے پر لگتا ہے ، ایسا کچھ نہیں ہے ، سورج اور چاند گرہن نہ تو کسی کے مرنے کی وجہ سے لگتا ہے اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے سے ، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، اللہ تعالیٰ جب اپنی کسی مخلوق کے لیے اپنی تجلی ظاہر کرتا ہے ، تو وہ اس کے لیے جھک جاتی ہے ، تو جب کبھی تم اس صورت حال کو دیکھو تو تم اس تازہ فرض نماز کی طرح نماز پڑھو ، جو تم نے ( گرہن لگنے سے پہلے ) پڑھی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1486]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث ضعیف ہے، آپ نے گرہن کی نماز عام نمازوں کی طرح ایک رکوع سے نہیں پڑھی تھی بلکہ دو رکوع سے پڑھی تھی۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1193) ابن ماجه (1262) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 332
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 267 (1193) مختصراً، سنن ابن ماجہ/الإقامة 152 (1262)، (تحفة الأشراف: 11631)، مسند احمد 4/267، 269، 271، 277، ویأتي عند المؤلف بأقام: 1489، 1490 (ضعیف) (اس کی سند اور متن دونوں میں اضطراب ہے، اس کا سبب ابو قلابہ مدلس ہیں، دیکھئے إرواء رقم: 662)
مکمل مطالعہ →
وأَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، أَنَّ جَدَّهُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ الْوَازِعِ حَدَّثَهُ، قال: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ، قال: " كَسَفَتِ الشَّمْسُ وَنَحْنُ إِذْ ذَاكَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، فَخَرَجَ فَزِعًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أَطَالَهُمَا فَوَافَقَ انْصِرَافُهُ انْجِلَاءَ الشَّمْسِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَإِنَّهُمَا لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَصَلُّوا كَأَحْدَثِ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ صَلَّيْتُمُوهَا".
قبیصہ بن مخارق الہلالی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سورج گرہن لگا ، ہم لوگ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں تھے ، آپ گھبرائے ہوئے اپنا کپڑا گھسیٹتے ہوئے باہر نکلے ، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی ، اور اتنا لمبا کیا کہ آپ جب نماز سے فارغ ہوئے تو سورج چھٹ چکا تھا ، آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر آپ نے فرمایا : ” سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، ان دونوں کو نہ کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے اور نہ کسی کے پیدا ہونے سے ، تو جب تم اس میں سے کچھ دیکھو تو اس تازہ فرض نماز کی طرح نماز پڑھو جو تم نے ( گرہن لگنے پہلے ) پڑھی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1487]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داد (1185) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 332
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 262 (1185، 1186)، (تحفة الأشراف: 11065)، مسند احمد 5/60، 61 (ضعیف) (یہاں ابو قلابة مدلس نے ’’نعمان‘‘ کے بجائے ’’قبیصہ‘‘ کانام لیا ہے، مذکورہ سبب سے یہ روایت بھی ضعیف ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ الْهِلَالِيِّ ," أَنَّ الشَّمْسَ انْخَسَفَتْ فَصَلَّى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى انْجَلَتْ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَكِنَّهُمَا خَلْقَانِ مِنْ خَلْقِهِ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ فِي خَلْقِهِ مَا شَاءَ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا تَجَلَّى لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ يَخْشَعُ لَهُ، فَأَيُّهُمَا حَدَثَ فَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ أَوْ يُحْدِثَ اللَّهُ أَمْرًا".
قبیصہ الہلالی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سورج گرہن لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دو رکعتیں پڑھیں یہاں تک کہ وہ صاف ہو گیا ، پھر آپ نے فرمایا : ” سورج اور چاند کو کسی کے مرنے سے گرہن نہیں لگتا ، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے دو مخلوق ہیں ، اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں جو چاہتا ہے نئی بات پیدا کرتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ جب اپنی مخلوق میں سے کسی پر تجلی فرماتا ہے تو وہ اس کے لیے جھک جاتی ہے ، لہٰذا جب ان دونوں میں سے کوئی رونما ہو تو تم نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ چھٹ جائے ، یا اللہ تعالیٰ کوئی نیا معاملہ ظاہر فرما دے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1488]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (1487) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 332
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (ضعیف)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا خَسَفَتِ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ فَصَلُّوا كَأَحْدَثِ صَلَاةٍ صَلَّيْتُمُوهَا".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب سورج اور چاند کو گرہن لگے تو نماز پڑھو ، اس تازہ نماز کی طرح جو تم نے ( گرہن لگنے سے پہلے ) پڑھی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1489]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (1486) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 332
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1486 (ضعیف)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى حِينَ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ مِثْلَ صَلَاتِنَا يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت سورج گرہن لگا ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی آپ رکوع کر رہے تھے اور سجدہ کر رہے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1490]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (1486) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 332
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1486 (ضعیف)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ خَرَجَ يَوْمًا مُسْتَعْجِلًا إِلَى الْمَسْجِدِ وَقَدِ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى حَتَّى انْجَلَتْ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا , يَقُولُونَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْخَسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنْ عُظَمَاءِ أَهْلِ الْأَرْضِ، وَإِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ , وَلَكِنَّهُمَا خَلِيقَتَانِ مِنْ خَلْقِهِ يُحْدِثُ اللَّهُ فِي خَلْقِهِ مَا يَشَاءُ، فَأَيُّهُمَا انْخَسَفَ فَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ أَوْ يُحْدِثَ اللَّهُ أَمْرًا".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بڑی جلدی میں گھر سے مسجد کی طرف نکلے ، سورج گرہن لگا تھا ، آپ نے نماز پڑھی یہاں تک کہ سورج صاف ہو گیا ، پھر آپ نے فرمایا : ” زمانہ جاہلیت کے لوگ کہا کرتے تھے کہ سورج اور چاند گرہن زمین والوں میں بڑے لوگوں میں سے کسی بڑے آدمی کے مر جانے کی وجہ سے لگتا ہے ۔ حالانکہ سورج اور چاند نہ تو کسی کے مرنے پر گہناتے ہیں اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے پر ، بلکہ یہ دونوں اللہ کی مخلوق میں سے دو مخلوق ہیں ، اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات میں جو نیا واقعہ چاہتا ہے رونما کرتا ہے ، تو ان میں سے کوئی ( بھی ) گہنائے تو تم نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ صاف ہو جائے ، یا اللہ کوئی نیا معاملہ ظاہر فرما دے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1491]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من النعمان بن بشير رضى الله عنه (جامع التحصيل للعلائي ص 162) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 333
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11615) (ضعیف) (سند میں حسن بصری مدلس ہیں اور یہاں روایت عنعنہ سے ہے، اور سند میں انقطاع ہے، تراجع الالبانی 339)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قال: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قال: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَانْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ , حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَسْجِدِ وَثَابَ إِلَيْهِ النَّاسُ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا انْكَشَفَتِ الشَّمْسُ , قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُخَوِّفُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِمَا عِبَادَهُ وَإِنَّهُمَا لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى يُكْشَفَ مَا بِكُمْ" وَذَلِكَ أَنَّ ابْنًا لَهُ مَاتَ يُقَالُ لَهُ: إِبْرَاهِيمُ , فَقَالَ لَهُ نَاسٌ فِي ذَلِكَ.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ سورج گرہن لگا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے یہاں تک کہ آپ مسجد پہنچے ، اور لوگ ( بھی ) آپ کی طرف لپکے ، پھر آپ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی ، جب سورج صاف ہو گیا تو آپ نے فرمایا : ” سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے ، اور یہ دونوں نہ تو کسی کے مرنے پر گہناتے ہیں اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے پر ، تو جب تم انہیں گہنایا ہوا دیکھو تو نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ چیز چھٹ جائے جو تم پر آن پڑی ہے “ ، اور آپ نے یہ اس لیے فرمایا کہ ( اسی روز ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تھا ، تو کچھ لوگوں نے آپ سے یہ بات کہی تھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1492]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1460 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ," أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ مِثْلَ صَلَاتِكُمْ هَذِهِ" وَذَكَرَ كُسُوفَ الشَّمْسِ.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری اسی نماز کی طرح دو رکعت نماز پڑھی ، اور انہوں نے سورج گرہن لگنے کا ذکر کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1493]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1460 (صحیح)
17: بَابُ : قَدْرِ الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْكُسُوفِ
باب: سورج گرہن کی نماز میں قرأت کی مقدار کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، قال: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قال: " خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا قَرَأَ نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ , قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ , ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ , فَقَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ". (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ هَذَا ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ , قَالَ: " إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ أَوْ أُرِيتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا، وَرَأَيْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَكَ الْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ" , قَالُوا: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " بِكُفْرِهِنَّ" , قِيلَ: يَكْفُرْنَ بِاللَّهِ , قَالَ: " يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا , قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے ساتھ لوگوں نے نماز پڑھی ، آپ نے قیام کیا تو لمبا قیام کیا ، اور سورۃ البقرہ جیسی سورت پڑھی ، پھر آپ نے ایک لمبا رکوع کیا ، پھر اپنا سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا ، اور یہ پہلے سے کم تھا ، پھر آپ نے ایک لمبا رکوع کیا ، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا ، پھر آپ نے سجدہ کیا ، پھر ایک لمبا قیام کیا ، اور یہ پہلے قیام سے کم تھا ، پھر آپ نے ایک لمبا رکوع کیا ، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا ، پھر آپ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا ، پھر ایک لمبا قیام کیا ، اور یہ پہلے قیام سے کم تھا ، پھر آپ نے ایک لمبا رکوع کیا ، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا ، پھر آپ نے سجدہ کیا ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو سورج صاف ہو چکا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، یہ دونوں کسی کے مرنے سے نہیں گہناتے ہیں ، اور نہ کسی کے پیدا ہونے سے ، چنانچہ جب تم انہیں گہنایا ہوا دیکھو تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرو “ ، لوگوں نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنی جگہ میں کسی چیز کو آگے بڑھ کر لے رہے تھے ، اور پھر ہم نے دیکھا آپ پیچھے ہٹ رہے تھے ؟ تو آپ نے فرمایا : ” میں نے جنت کو دیکھا یا مجھے جنت دکھائی گئی تو میں اس میں سے پھل کا ایک گچھا لینے کے لیے آگے بڑھا ، اور اگر میں اسے لے لیتا تو تم اس سے رہتی دنیا تک کھاتے ، اور میں نے جہنم کو دیکھا چنانچہ میں نے آج سے پہلے اس بھیانک منظر کی طرح کبھی نہیں دیکھا تھا ، اور میں نے اہل جہنم میں زیادہ تر عورتوں کو دیکھا “ ، انہوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! ایسا کیوں ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : ” ایسا ان کے کفر کی وجہ سے ہے “ ، پوچھا گیا : کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” ( نہیں بلکہ ) وہ شوہر کے ساتھ کفر کرتی ہیں ( یعنی اس کی ناشکری کرتی ہیں ) اور ( اس کے ) احسان کا انکار کرتی ہیں ، اگر تم ان میں سے کسی کے ساتھ زمانہ بھر احسان کرو ، پھر اگر وہ تم سے کوئی چیز دیکھے تو وہ کہے گی : میں نے تم سے کبھی بھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1494]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الإیمان 21 (29) مختصراً، ال صلاة 51 (431) مختصراً، الأذان 91 (748) مختصراً، الکسوف 9 (1052)، بدء الخلق 4 (3202) مختصراً، النکاح 88 (5197)، صحیح مسلم/الکسوف 3 (907)، سنن ابی داود/الصلاة 263 (1189)، (تحفة الأشراف: 5977)، موطا امام مالک/الکسوف 1 (2)، مسند احمد 1/298، 358، سنن الدارمی/الصلاة 187 (1569) (صحیح)
18: بَابُ : الْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْكُسُوفِ
باب: سورج گرہن کی نماز میں بلند آواز سے قرأت کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ وَجَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ كُلَّمَا رَفَعَ رَأْسَهُ , قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ ( گرہن کی ) نماز پڑھی ، آپ نے ان میں بلند آواز سے قرآت کی ، آپ جب جب رکوع سے سر اٹھاتے تو «سمع اللہ لمن حمده ، ربنا ولك الحمد» کہتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1495]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الکسوف 19 (1065)، صحیح مسلم/الکسوف 1 (901)، سنن ابی داود/الصلاة 264 (1190)، (تحفة الأشراف: 16528)، ویأتی عند المؤلف برقم: 1498 (صحیح)
19: بَابُ : تَرْكِ الْجَهْرِ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ
باب: سورج گرہن کی نماز میں بلند آواز سے قرأت نہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّادٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْقَيْسِ، عَنْ سَمُرَةَ ," أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا".
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کی نماز پڑھائی ( وہ کہتے ہیں ) کہ ہم آپ کی آواز نہیں سن رہے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1496]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1485 (ضعیف) (اس کے راوی ’’ثعلبہ بن عباد‘‘ لین الحدیث ہیں)
20: بَابُ : الْقَوْلِ فِي السُّجُودِ فِي صَلاَةِ الْكُسُوفِ
باب: سورج گرہن کی نماز میں سجدے میں کیا کہا جائے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ الزُّهْرِيُّ، قال: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قال: " كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ , قَالَ شُعْبَةُ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: فِي السُّجُودِ نَحْوَ ذَلِكَ , وَجَعَلَ يَبْكِي فِي سُجُودِهِ وَيَنْفُخُ , وَيَقُولُ: رَبِّ لَمْ تَعِدْنِي هَذَا وَأَنَا أَسْتَغْفِرُكَ لَمْ تَعِدْنِي هَذَا وَأَنَا فِيهِمْ"، فَلَمَّا صَلَّى , قَالَ: " عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ حَتَّى لَوْ مَدَدْتُ يَدِي تَنَاوَلْتُ مِنْ قُطُوفِهَا، وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ فَجَعَلْتُ أَنْفُخُ خَشْيَةَ أَنْ يَغْشَاكُمْ حَرُّهَا، وَرَأَيْتُ فِيهَا سَارِقَ بَدَنَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَأَيْتُ فِيهَا أَخَا بَنِي دُعْدُعٍ سَارِقَ الْحَجِيجِ فَإِذَا فُطِنَ لَهُ , قَالَ: هَذَا عَمَلُ الْمِحْجَنِ، وَرَأَيْتُ فِيهَا امْرَأَةً طَوِيلَةً سَوْدَاءَ تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ، وَإِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِذَا انْكَسَفَتْ إِحْدَاهُمَا، أَوْ قَالَ: فَعَلَ أَحَدُهُمَا شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں سورج گرہن لگا ، تو آپ نے نماز پڑھی ، تو لمبا قیام کیا ، پھر آپ نے رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا ، پھر ( رکوع سے ) سر اٹھایا تو دیر تک کھڑے رہے ( شعبہ کہتے ہیں : میرا گمان ہے عطاء نے سجدے کے سلسلہ میں بھی یہی بات کہی ہے ) اور آپ سجدے میں رونے اور پھونک مارنے لگے ، آپ فرما رہے تھے : ” میرے رب ! تو نے مجھ سے اس کا وعدہ نہیں کیا تھا ، میں تجھ سے پناہ طلب کرتا ہوں ، تو نے مجھ سے اس کا وعدہ نہیں کیا تھا اور حال یہ ہے کہ میں لوگوں میں موجود ہوں “ ، جب آپ نماز پڑھ چکے تو فرمایا : ” مجھ پر جنت پیش کی گئی یہاں تک کہ اگر میں اپنے ہاتھوں کو پھیلاتا تو میں اس کے پھلوں گچھوں میں سے توڑ لیتا ، نیز مجھ پر جہنم پیش کی گئی تو میں پھونکنے لگا اس ڈر سے کہ کہیں اس کی گرمی تمہیں نہ ڈھانپ لے ، اور میں نے اس میں اس چور کو دیکھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو چرایا تھا ، اور میں نے اس میں بنو دعدع کے اس شخص کو دیکھا جو حاجیوں کا مال چرایا کرتا تھا ، اور جب وہ پہچان لیا جاتا تو کہتا : یہ ( میری اس ) خمدار لکڑی کا کام ہے ، اور میں نے اس میں ایک کالی لمبی عورت کو دیکھا جسے ایک بلی کے سبب عذاب ہو رہا تھا ، جسے اس نے باندھ رکھا تھا ، نہ تو وہ اسے کھلاتی پلاتی تھی اور نہ ہی اسے آزاد چھوڑتی تھی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لے ، یہاں تک کہ وہ مر گئی ، اور سورج اور چاند نہ تو کسی کے مرنے کی وجہ سے گہناتے ہیں ، اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے سے ، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، لہٰذا جب ان میں سے کوئی گہنا جائے ( یا کہا : ان دونوں میں سے کوئی اس میں سے کچھ کرے ، یعنی گہنا جائے ) تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1497]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1483 (صحیح)
21: بَابُ : التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ فِي صَلاَةِ الْكُسُوفِ
باب: سورج گرہن کی نماز میں تشہد پڑھنے اور سلام پھیرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنِ الْوَلِيدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَمِرٍ، أَنَّهُ سَأَلَ الزُّهْرِيَّ عَنْ سُنَّةِ صَلَاةِ الْكُسُوفِ , فَقَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَسَفَتِ الشَّمْسُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَنَادَى أَنِ الصَّلَاةَ جَامِعَةً , فَاجْتَمَعَ النَّاسُ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا مِثْلَ قِيَامِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ , وَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ قَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ , فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ سُجُودًا طَوِيلًا مِثْلَ رُكُوعِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَقَامَ فَقَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ , فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ قَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً وَهِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى فِي الْقِيَامِ الثَّانِي، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ , فَقَالَ: " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ أَدْنَى مِنْ سُجُودِهِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ تَشَهَّدَ ثُمَّ سَلَّمَ، فَقَامَ فِيهِمْ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَأَيُّهُمَا خُسِفَ بِهِ أَوْ بِأَحَدِهِمَا فَافْزَعُوا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِذِكْرِ الصَّلَاةِ".
عبدالرحمٰن بن نمر سے روایت ہے کہ انہوں نے زہری سے گرہن کی نماز کے طریقے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی ہے وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا ، تو اس نے اعلان کیا کہ نماز جماعت سے ہونے والی ہے ، تو لوگ جمع ہو گئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی ، آپ نے اللہ اکبر کہا ، پھر ایک لمبی قرآت کی ، پھر اللہ اکبر کہا ، پھر ایک لمبا رکوع کیا ، اپنے قیام کی طرح یا اس سے بھی لمبا ، پھر اپنا سر اٹھایا ، اور «سمع اللہ لمن حمده» کہا ، پھر ایک لمبی قرآت کی یہ پہلی قرآت سے کم تھی ، پھر «اللہ اکبر» کہا ، اور ایک لمبا رکوع کیا یہ پہلے رکوع سے کم تھا ، پھر اپنا سر اٹھایا ، اور «سمع اللہ لمن حمده» کہا ، پھر آپ نے «اللہ اکبر» کہا ، اور ایک لمبا سجدہ کیا اپنے رکوع کی طرح یا اس سے بھی لمبا ، پھر آپ نے «اللہ اکبر» کہا ، اور اپنا سر اٹھایا ، پھر آپ نے «اللہ اکبر» کہا اور سجدہ کیا ، پھر آپ نے «اللہ اکبر» کہا اور ایک لمبی قرآت کی ، یہ پہلی قرآت سے کم تھی ، پھر «اللہ اکبر» کہا ، پھر ایک لمبا رکوع کیا یہ پہلے رکوع سے کم تھا ، پھر اپنا سر اٹھایا ، اور «سمع اللہ لمن حمده» کہا ، پھر ایک لمبی قرآت کی لیکن یہ پہلی قرآت سے جو دوسری رکعت میں کی تھی کم تھی ، پھر آپ نے «اللہ اکبر» کہا ، اور ایک لمبا رکوع کیا ، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا ، پھر «اللہ اکبر» کہا اور اپنا سر اٹھایا ، پھر «سمع اللہ لمن حمده» کہا ، پھر «اللہ اکبر» کہا ، اور سجدہ کیا ، اور یہ پہلے سجدہ سے کم تھا ، پھر آپ نے تشہد پڑھا ، پھر سلام پھیرا ، پھر ان کے بیچ میں کھڑے ہوئے ، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا : ” سورج اور چاند نہ تو کسی کے مرنے سے گہناتے ہیں اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے سے ، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، تو ان میں سے کسی کو گہن لگ جائے تو نماز کو یاد کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑ پڑو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1498]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1495 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكُسُوفِ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ انْصَرَفَ".
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہم کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گرہن کی نماز پڑھی ، تو آپ نے قیام کیا تو لمبا قیام کیا ، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا ، پھر ( اپنا سر رکوع سے ) اٹھایا تو لمبا قیام کیا ، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا ، پھر اپنا سر رکوع سے اٹھایا ، پھر سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا ، پھر ( اپنا سر سجدہ سے ) اٹھایا ، پھر سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا ، پھر آپ نے قیام کیا تو لمبا قیام کیا ، پھر آپ نے رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا ، پھر اپنا سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا ، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا ، پھر اپنا سر اٹھایا ، پھر سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا ، پھر اپنا سر اٹھایا ، پھر سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا ، پھر اپنا سر اٹھایا ، اور نماز سے فارغ ہو گئے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1499]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 90 (745) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الإقامة 152 (1265) مطولاً، (تحفة الأشراف: 15717)، مسند احمد 6/350، 351 (صحیح)
22: بَابُ : الْقُعُودِ عَلَى الْمِنْبَرِ بَعْدَ صَلاَةِ الْكُسُوفِ
باب: سورج گرہن کی نماز کے بعد (خطبہ دینے کے لی) منبر پر بیٹھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عَمْرَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مَخْرَجًا فَخُسِفَ بِالشَّمْسِ فَخَرَجْنَا إِلَى الْحُجْرَةِ , فَاجْتَمَعَ إِلَيْنَا نِسَاءٌ وَأَقْبَلَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَلِكَ ضَحْوَةً، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ دُونَ رُكُوعِهِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ إِلَّا أَنَّ قِيَامَهُ وَرُكُوعَهُ دُونَ الرَّكْعَةِ الْأُولَى، ثُمَّ سَجَدَ وَتَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ , فَقَالَ فِيمَا يَقُولُ: " إِنَّ النَّاسَ يُفْتَنُونَ فِي قُبُورِهِمْ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ , مُخْتَصَرٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جانے کے لیے نکلے کہ سورج کو گرہن لگ گیا ، تو ہم حجرے کی طرف چلے ، اور کچھ اور عورتیں بھی ہمارے پاس جمع ہو گئیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، اور یہ چاشت کا وقت تھا ، ( آپ نماز پڑھنے کے لیے ) کھڑے ہوئے ، تو آپ نے ایک لمبا قیام کیا ، پھر ایک لمبا رکوع کیا ، پھر اپنا سر اٹھایا ، پھر قیام کیا پہلے قیام سے کم ، پھر رکوع کیا پہلے رکوع سے کم ، پھر سجدہ کیا ، پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو بھی ایسے ہی کیا ، مگر آپ کا یہ قیام اور رکوع پہلی والی رکعت کے قیام اور رکوع سے کم تھا ، پھر آپ نے سجدہ کیا ، اور سورج صاف ہو گیا ، جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو منبر پر بیٹھے ، اور منبر پر جو باتیں آپ نے کہیں ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ ” لوگوں کو ان کی قبروں میں دجال کی آزمائش کی طرح آزمایا جائے گا “ ، یہ حدیث مختصر ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1500]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1476 (صحیح)
23: بَابُ : كَيْفَ الْخُطْبَةُ فِي الْكُسُوفِ
باب: گرہن لگنے پر کس طرح خطبہ دیا جائے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ فَصَلَّى فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ جِدًّا، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ فَفَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ وَقَدْ جُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ , وَقَالَ: " يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ , إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ أَمَتُهُ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگا ، تو آپ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی تو بہت لمبا قیام کیا ، پھر رکوع کیا تو بہت لمبا رکوع کیا ، پھر ( رکوع سے سر ) اٹھایا ، پھر قیام کیا تو بہت لمبا قیام کیا ، اور یہ پہلے قیام سے کم تھا ، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا ، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا ، پھر آپ نے سجدہ کیا ، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا ، اور یہ پہلے سے کم تھا ، پھر آپ نے رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا ، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا ، پھر آپ نے ( رکوع سے سر ) اٹھایا تو لمبا قیام کیا ، اور یہ پہلے قیام سے کم تھا ، پھر آپ نے رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا ، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا ، پھر آپ نے سجدہ کیا یہاں تک کہ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے ، تو سورج سے گرہن چھٹ چکا تھا ، پھر آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا ، تو اللہ کی حمد اور اس کی ثنا بیان کی ، پھر فرمایا : ” سورج اور چاند کو نہ تو کسی کے مرنے کی وجہ سے گرہن لگتا ہے ، اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے سے ، لہٰذا جب تم اسے دیکھو تو نماز پڑھو ، اور صدقہ خیرات کرو ، اور اللہ عزوجل کو یاد کرو “ ، نیز فرمایا : ” اے امت محمد ! کوئی اللہ تعالیٰ سے زیادہ اس بات پر غیرت والا نہیں کہ اس کا غلام یا اس کی باندی زنا کرے ، اے امت محمد ! اگر تم لوگ وہ چیز جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1501]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17092) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ سَمُرَةَ ," أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ حِينَ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ: أَمَّا بَعْدُ".
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت سورج گرہن لگا خطبہ دیا تو آپ نے ( حمد و ثنا کے بعد ) «أما بعد» کہا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1502]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1485 (ضعیف) (اس کے راوی ”ثعلبہ“ لین الحدیث ہیں)
24: بَابُ : الأَمْرِ بِالدُّعَاءِ فِي الْكُسُوفِ
باب: گرہن لگنے پر دعا مانگنے کا حکم۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قال: " كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ إِلَى الْمَسْجِدِ يَجُرُّ رِدَاءَهُ مِنَ الْعَجَلَةِ، فَقَامَ إِلَيْهِ النَّاسُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلُّونَ فَلَمَّا انْجَلَتْ خَطَبَنَا , فَقَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُخَوِّفُ بِهِمَا عِبَادَهُ وَإِنَّهُمَا لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ كُسُوفَ أَحَدِهِمَا فَصَلُّوا وَادْعُوا حَتَّى يَنْكَشِفَ مَا بِكُمْ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ سورج گرہن لگ گیا ، تو آپ جلدی سے اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے مسجد کی طرف بڑھے ، تو لوگ بھی آپ کے ساتھ ہو لیے ، آپ نے دو رکعت نماز پڑھی ، اسی طرح جیسے لوگ پڑھتے ہیں ، پھر جب سورج صاف ہو گیا تو آپ نے ہمیں خطبہ دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جن کے ذریعہ وہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے ، اور ان دونوں کو کسی کے مرنے سے گرہن نہیں لگتا ، تو جب تم ان دونوں میں سے کسی کو گرہن لگا دیکھو تو نماز پڑھو ، اور دعا کرو یہاں تک کہ جو تمہیں لاحق ہوا ہے چھٹ جائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1503]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1460 (صحیح)
25: بَابُ : الأَمْرِ بِالاِسْتِغْفَارِ فِي الْكُسُوفِ
باب: گرہن لگنے پر استغفار کرنے کا حکم۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قال: " خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزِعًا يَخْشَى أَنْ تَكُونَ السَّاعَةُ، فَقَامَ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ، فَقَامَ يُصَلِّي بِأَطْوَلِ قِيَامٍ وَرُكُوعٍ وَسُجُودٍ مَا رَأَيْتُهُ يَفْعَلُهُ فِي صَلَاتِهِ قَطُّ , ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الْآيَاتِ الَّتِي يُرْسِلُ اللَّهُ لَا تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّ اللَّهَ يُرْسِلُهَا يُخَوِّفُ بِهَا عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ وَدُعَائِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر کھڑے ہوئے ، آپ ڈر رہے تھے کہ کہیں قیامت تو نہیں آ گئی ہے ، چنانچہ آپ اٹھے یہاں تک کہ مسجد آئے ، پھر نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو آپ نے اتنے لمبے لمبے قیام ، رکوع اور سجدے کیے کہ اتنے لمبے میں نے آپ کو کسی نماز میں کرتے نہیں دیکھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ وہ نشانیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے ، یہ نہ کسی کے مرنے سے ہوتے ہیں نہ کسی کے پیدا ہونے سے ، بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے بندوں کو ڈرانے کے لیے بھیجتا ہے ، تو جب تم ان میں سے کچھ دیکھو تو اللہ کو یاد کرنے اور اس سے دعا اور استغفار کرنے کے لیے دوڑ پڑو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1504]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الکسوف 14 (1059)، صحیح مسلم/الکسوف 5 (912)، (تحفة الأشراف: 9045) (صحیح)
← پچھلی کتاب #19 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #21 →