📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: (چاند، سورج) گرہن کے احکام و مسائل (كتاب الكسوف) 🏷️ باب: باب: سورج گرہن کی نماز کے ایک اور طریقہ کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 1483 Sunan an-Nasa'i 1483
کتاب #20: کتاب: (چاند، سورج) گرہن کے احکام و مسائل
14: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ
باب: سورج گرہن کی نماز کے ایک اور طریقہ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي السَّائِبُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو حَدَّثَهُ، قال: " انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ وَقَامَ الَّذِينَ مَعَهُ، فَقَامَ قِيَامًا فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَسَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَجَلَسَ فَأَطَالَ الْجُلُوسَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَقَامَ فَصَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ مَا صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنَ الْقِيَامِ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَالْجُلُوسِ، فَجَعَلَ يَنْفُخُ فِي آخِرِ سُجُودِهِ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ وَيَبْكِي وَيَقُولُ: " لَمْ تَعِدْنِي هَذَا وَأَنَا فِيهِمْ لَمْ تَعِدْنِي هَذَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُكَ" , ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا رَأَيْتُمْ كُسُوفَ أَحَدِهِمَا فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَقَدْ أُدْنِيَتِ الْجَنَّةُ مِنِّي حَتَّى لَوْ بَسَطْتُ يَدِي لَتَعَاطَيْتُ مِنْ قُطُوفِهَا، وَلَقَدْ أُدْنِيَتِ النَّارُ مِنِّي حَتَّى لَقَدْ جَعَلْتُ أَتَّقِيهَا خَشْيَةَ أَنْ تَغْشَاكُمْ، حَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا امْرَأَةً مِنْ حِمْيَرَ تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا فَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ , فَلَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلَا هِيَ سَقَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ، فَلَقَدْ رَأَيْتُهَا تَنْهَشُهَا إِذَا أَقْبَلَتْ وَإِذَا وَلَّتْ تَنْهَشُ أَلْيَتَهَا، وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ أَخَا بَنِي الدَّعْدَاعِ يُدْفَعُ بِعَصًا ذَاتِ شُعْبَتَيْنِ فِي النَّارِ، وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ الَّذِي كَانَ يَسْرِقُ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِهِ مُتَّكِئًا عَلَى مِحْجَنِهِ فِي النَّارِ يَقُولُ: أَنَا سَارِقُ الْمِحْجَنِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے ، اور وہ لوگ بھی کھڑے ہوئے جو آپ کے ساتھ تھے ، آپ لمبا قیام کیا ، پھر لمبا رکوع کیا ، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا ، اور لمبا سجدہ کیا ، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھایا ، اور بیٹھے تو دیر تک بیٹھے رہے ، پھر آپ سجدہ میں گئے تو لمبا سجدہ کیا ، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھایا ، اور کھڑے ہو گئے ، پھر آپ نے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح قیام ، رکوع ، سجدہ اور جلوس کیا جیسے پہلی رکعت میں کیا تھا ، پھر دوسری رکعت کے آخری سجدے میں آپ ہانپنے اور رونے لگے ، آپ کہہ رہے تھے : ” تو نے مجھ سے اس کا وعدہ نہیں کیا تھا ۱؎ ، اور حال یہ ہے کہ میں ان میں موجود ہوں ، تو نے مجھ سے اس کا وعدہ نہیں کیا تھا ، اور ہم تجھ سے ( اپنے گناہوں کی ) بخشش چاہتے ہیں “ ، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا تب سورج صاف ہو چکا تھا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، اور آپ نے لوگوں کو خطاب کیا ، پہلے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا : ” سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، تو جب تم ان میں سے کسی کو گرہن لگا دیکھو تو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ، جنت مجھ سے قریب کر دی گئی یہاں تک کہ اگر میں اپنے ہاتھوں کو پھیلاتا تو میں اس کے کچھ گچھے لے لیتا ، اور جہنم مجھ سے قریب کر دی گئی یہاں تک کہ میں اس سے بچاؤ کرنے لگا ، اس خوف سے کہ کہیں وہ تمہیں ڈھانپ نہ لے ، یہاں تک کہ میں نے اس میں حمیر کی ایک عورت پر ایک بلی کی وجہ سے عذاب ہوتے ہوئے دیکھا جسے اس نے باندھ رکھا تھا ، نہ تو اس نے اسے زمین کے کیڑے مکوڑے کھانے کے لیے چھوڑا ، اور نہ ہی اس نے اسے خود کچھ کھلایا پلایا یہاں تک کہ وہ مر گئی ، میں نے اسے دیکھا وہ اس عورت کو نوچتی تھی جب وہ سامنے آتی ، اور جب وہ پیٹھ پھیر کر جاتی تو اس کے سرین کو نوچتی ، نیز میں نے اس میں دو چمڑے کی جوتیوں والے کو دیکھا ، جو قبیلہ بنی دعدع کا ایک فرد تھا ، اسے دو منہ والی لکڑی سے مار کر آگ میں دھکیلا جا رہا تھا ، نیز میں نے اس میں خمدار سر والی لکڑی چرانے والے کو دیکھا ، جو حاجیوں کا مال چراتا تھا ، وہ جہنم میں اپنی لکڑی پر ٹیک لگائے ہوئے کہہ رہا تھا : میں خمدار سر والی لکڑی چرانے والا ہوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1483]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی میری موجودگی میں انہیں عذاب دینے کا وعدہ نہیں کیا تھا، بلکہ تو نے اس کے برعکس یہ وعدہ کیا تھا کہ تو انہیں میری موجودگی میں عذاب نہیں دے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 267 (1194)، سنن الترمذی/الشمائل 44 (307)، مسند احمد 2/159، 163، 188، 198، 223، (تحفة الأشراف: 8639)، ویأتی عند المؤلف فی برقم: 1497 (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #1483
1481 1482 1483 1484 1485

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1484 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قال: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ سَب...
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو آپ کھڑے...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ