سنن النسائي حدیث نمبر: 1482
Sunan an-Nasa'i 1482
کتاب #20: کتاب: (چاند، سورج) گرہن کے احکام و مسائل
13: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ
باب: گرہن کی نماز کے ایک اور طریقہ کا بیان۔
أَخْبَرَن?ا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، قال: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو حَفْصَةَ مَوْلَى عَائِشَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ: " أَنَّهُ لَمَّا كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَأَمَرَ فَنُودِيَ أَنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ فِي صَلَاتِهِ , قَالَتْ عَائِشَةُ: فَحَسِبْتُ قَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ قَامَ مِثْلَ مَا قَامَ وَلَمْ يَسْجُدْ، ثُمَّ رَكَعَ فَسَجَدَ، ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ رَكْعَتَيْنِ وَسَجْدَةً، ثُمَّ جَلَسَ وَجُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو آپ نے وضو کیا ، اور حکم دیا تو ندا دی گئی : «الصلاة جامعة» ( نماز باجماعت ہو گی ) ، پھر آپ ( نماز کے لیے ) کھڑے ہوئے ، تو آپ نے لمبا قیام کیا ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : تو مجھے گمان ہوا کہ آپ نے سورۃ البقرہ پڑھی ، پھر آپ نے لمبا رکوع کیا ، پھر آپ نے : «سمع اللہ لمن حمده» کہا ، پھر آپ نے اسی طرح قیام کیا جیسے پہلے کیا تھا ، اور سجدہ نہیں کیا ، پھر آپ نے رکوع کیا پھر سجدہ کیا ، پھر آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے پہلے ہی کی طرح دو رکوع اور ایک سجدہ کیا ، پھر آپ بیٹھے ، تب سورج سے گرہن چھٹ چکا تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1482]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17698) (صحیح) (اس کے راوی ”ابو حفص مولی عائشہ“ لین الحدیث ہیں لیکن متابعت اور شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے)