سنن النسائي حدیث نمبر: 1476
Sunan an-Nasa'i 1476
کتاب #20: کتاب: (چاند، سورج) گرہن کے احکام و مسائل
11: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ مِنْهُ عَنْ عَائِشَةَ،
باب: ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی سورج گرہن کی نماز کی ایک اور قسم کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عَمْرَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا , أَنَّ يَهُودِيَّةً أَتَتْهَا , فَقَالَتْ: أَجَارَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ , قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ النَّاسَ لَيُعَذَّبُونَ فِي الْقُبُورِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَائِذًا بِاللَّهِ" , قَالَتْ عَائِشَةُ: " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مَخْرَجًا فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ فَخَرَجْنَا إِلَى الْحُجْرَةِ فَاجْتَمَعَ إِلَيْنَا نِسَاءٌ , وَأَقْبَلَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَلِكَ ضَحْوَةً، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ دُونَ رُكُوعِهِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، إِلَّا أَنَّ رُكُوعَهُ وَقِيَامَهُ دُونَ الرَّكْعَةِ الْأُولَى , ثُمَّ سَجَدَ وَتَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ , فَقَالَ فِيمَا يَقُولُ: " إِنَّ النَّاسَ يُفْتَنُونَ فِي قُبُورِهِمْ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ" , قَالَتْ عَائِشَةُ: كُنَّا نَسْمَعُهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس آئی ، اور کہنے لگی : اللہ تعالیٰ تمہیں قبر کے عذاب سے بچائے ، یہ سنا تو عائشہ نے پوچھا : اللہ کے رسول ! لوگوں کو قبر میں بھی عذاب دیا جائے گا ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی پناہ “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جانے کے لیے نکلے اتنے میں سورج گرہن لگ گیا ، تو ہم حجرہ میں چلے گئے ، یہ دیکھ کر دوسری عورتیں بھی ہمارے پاس جمع ہو گئیں ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور یہ چاشت کا وقت تھا ، آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے ، آپ نے نماز میں لمبا قیام کیا ، پھر لمبا رکوع کیا ، پھر رکوع سے سر اٹھایا ، تو قیام کیا پہلے قیام سے کم ، پھر آپ نے رکوع کیا ، اپنے پہلے رکوع سے کم ، پھر سجدہ کیا ، پھر آپ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے ، تو اسی طرح کیا مگر دوسری رکعت میں آپ کا رکوع اور قیام پہلی رکعت سے کم تھا ، پھر آپ نے سجدہ کیا ، اور سورج صاف ہو گیا ، تو جب آپ فارغ ہوئے ، تو منبر پر بیٹھے ، اور جو باتیں کہنی تھیں کہیں ، اس میں ایک بات یہ بھی تھی : ” کہ لوگ اپنی قبروں میں آزمائے جائیں گے ، جیسے دجال کے فتنے میں آزمائے جائیں گے “ ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اس کے بعد سے برابر ہم آپ کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1476]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الکسوف 7 (1049)، 12 (1055)، صحیح مسلم/الکسوف 2 (903)، (تحفة الأشراف: 17936)، موطا امام مالک/الکسوف 1 (3)، مسند احمد 6/35، سنن الدارمی/الصلاة 187 (1568، 1573)، ویأتی عند المؤلف برقم: 1477، 1500 (صحیح)