سنن النسائي حدیث نمبر: 1487
Sunan an-Nasa'i 1487
کتاب #20: کتاب: (چاند، سورج) گرہن کے احکام و مسائل
16: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ
باب: سورج گرہن کی نماز کے ایک اور طریقہ کا بیان۔
وأَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، أَنَّ جَدَّهُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ الْوَازِعِ حَدَّثَهُ، قال: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ، قال: " كَسَفَتِ الشَّمْسُ وَنَحْنُ إِذْ ذَاكَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، فَخَرَجَ فَزِعًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أَطَالَهُمَا فَوَافَقَ انْصِرَافُهُ انْجِلَاءَ الشَّمْسِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَإِنَّهُمَا لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَصَلُّوا كَأَحْدَثِ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ صَلَّيْتُمُوهَا".
قبیصہ بن مخارق الہلالی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سورج گرہن لگا ، ہم لوگ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں تھے ، آپ گھبرائے ہوئے اپنا کپڑا گھسیٹتے ہوئے باہر نکلے ، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی ، اور اتنا لمبا کیا کہ آپ جب نماز سے فارغ ہوئے تو سورج چھٹ چکا تھا ، آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر آپ نے فرمایا : ” سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، ان دونوں کو نہ کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے اور نہ کسی کے پیدا ہونے سے ، تو جب تم اس میں سے کچھ دیکھو تو اس تازہ فرض نماز کی طرح نماز پڑھو جو تم نے ( گرہن لگنے پہلے ) پڑھی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1487]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داد (1185) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 332
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 262 (1185، 1186)، (تحفة الأشراف: 11065)، مسند احمد 5/60، 61 (ضعیف) (یہاں ابو قلابة مدلس نے ’’نعمان‘‘ کے بجائے ’’قبیصہ‘‘ کانام لیا ہے، مذکورہ سبب سے یہ روایت بھی ضعیف ہے)