سنن النسائي حدیث نمبر: 1488
Sunan an-Nasa'i 1488
کتاب #20: کتاب: (چاند، سورج) گرہن کے احکام و مسائل
16: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ
باب: سورج گرہن کی نماز کے ایک اور طریقہ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ الْهِلَالِيِّ ," أَنَّ الشَّمْسَ انْخَسَفَتْ فَصَلَّى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى انْجَلَتْ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَكِنَّهُمَا خَلْقَانِ مِنْ خَلْقِهِ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ فِي خَلْقِهِ مَا شَاءَ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا تَجَلَّى لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ يَخْشَعُ لَهُ، فَأَيُّهُمَا حَدَثَ فَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ أَوْ يُحْدِثَ اللَّهُ أَمْرًا".
قبیصہ الہلالی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سورج گرہن لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دو رکعتیں پڑھیں یہاں تک کہ وہ صاف ہو گیا ، پھر آپ نے فرمایا : ” سورج اور چاند کو کسی کے مرنے سے گرہن نہیں لگتا ، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے دو مخلوق ہیں ، اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں جو چاہتا ہے نئی بات پیدا کرتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ جب اپنی مخلوق میں سے کسی پر تجلی فرماتا ہے تو وہ اس کے لیے جھک جاتی ہے ، لہٰذا جب ان دونوں میں سے کوئی رونما ہو تو تم نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ چھٹ جائے ، یا اللہ تعالیٰ کوئی نیا معاملہ ظاہر فرما دے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1488]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (1487) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 332
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (ضعیف)