سنن النسائي حدیث نمبر: 1486
Sunan an-Nasa'i 1486
کتاب #20: کتاب: (چاند، سورج) گرہن کے احکام و مسائل
16: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ
باب: سورج گرہن کی نماز کے ایک اور طریقہ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قال: " انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ يَجُرُّ ثَوْبَهُ فَزِعًا حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ، فَلَمْ يَزَلْ يُصَلِّي بِنَا حَتَّى انْجَلَتْ، فَلَمَّا انْجَلَتْ , قَالَ: " إِنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنَ الْعُظَمَاءِ وَلَيْسَ كَذَلِكَ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا بَدَا لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ خَشَعَ لَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا كَأَحْدَثِ صَلَاةٍ صَلَّيْتُمُوهَا مِنَ الْمَكْتُوبَةِ".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو آپ گھبرائے ہوئے اپنے کپڑے کو گھسیٹتے ہوئے باہر نکلے یہاں تک کہ آپ مسجد آئے ، اور ہمیں برابر نماز پڑھاتے رہے یہاں تک کہ سورج صاف ہو گیا ، جب سورج صاف ہو گیا تو آپ نے فرمایا : ” کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ سورج اور چاند گرہن کسی بڑے آدمی کے مرنے پر لگتا ہے ، ایسا کچھ نہیں ہے ، سورج اور چاند گرہن نہ تو کسی کے مرنے کی وجہ سے لگتا ہے اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے سے ، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، اللہ تعالیٰ جب اپنی کسی مخلوق کے لیے اپنی تجلی ظاہر کرتا ہے ، تو وہ اس کے لیے جھک جاتی ہے ، تو جب کبھی تم اس صورت حال کو دیکھو تو تم اس تازہ فرض نماز کی طرح نماز پڑھو ، جو تم نے ( گرہن لگنے سے پہلے ) پڑھی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1486]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث ضعیف ہے، آپ نے گرہن کی نماز عام نمازوں کی طرح ایک رکوع سے نہیں پڑھی تھی بلکہ دو رکوع سے پڑھی تھی۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1193) ابن ماجه (1262) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 332
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 267 (1193) مختصراً، سنن ابن ماجہ/الإقامة 152 (1262)، (تحفة الأشراف: 11631)، مسند احمد 4/267، 269، 271، 277، ویأتي عند المؤلف بأقام: 1489، 1490 (ضعیف) (اس کی سند اور متن دونوں میں اضطراب ہے، اس کا سبب ابو قلابہ مدلس ہیں، دیکھئے إرواء رقم: 662)