📖 سنن النسائي (Sunan an-Nasa'i) • تمام کتب ↗

كتاب الاستسقاء

کتاب: بارش طلب کرنے کے احکام و مسائل

کتاب #21 • کل احادیث: 25
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: بَابُ : مَتَى يَسْتَسْقِي الإِمَامُ
باب: امام بارش کے لیے کب دعا کرے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَتِ الْمَوَاشِي وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمُطِرْنَا مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ وَهَلَكَتِ الْمَوَاشِي، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ عَلَى رُءُوسِ الْجِبَالِ وَالْآكَامِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ , فَانْجَابَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ انْجِيَابَ الثَّوْبِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! چوپائے ہلاک ہو گئے ، ( اور پانی نہ ہونے سے ) راستے ( سفر ) ٹھپ ہو گئے ، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی ، تو جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک ہم پر بارش ہوتی رہی ، تو پھر ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! گھر منہدم ہو گئے ، راستے ( سیلاب کی وجہ سے ) کٹ گئے ، اور جانور مر گئے ، تو آپ نے دعا کی : «اللہم على رءوس الجبال والآكام وبطون الأودية ومنابت الشجر» ” اے اللہ ! پہاڑوں کی چوٹیوں ، ٹیلوں ، نالوں اور درختوں پر برسا “ تو اسی وقت بادل مدینہ سے اس طرح چھٹ گئے جیسے کپڑا ( اپنے پہننے والے سے اتار دینے پر الگ ہو جاتا ہے ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1505]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الاستسقاء 6 (1013)، 7 (1014)، 9 (1016)، 10 (1017)، 12 (1019)، صحیح مسلم/الإستسقاء 2 (897)، سنن ابی داود/الصلاة 260 (1175)، (تحفة الأشراف: 906)، موطا امام مالک/الإستسقاء 2 (3)، مسند احمد 3/4 10، 182، 194، 245، 261، 271 ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1516، 1519 (صحیح)
2: بَابُ : خُرُوجِ الإِمَامِ إِلَى الْمُصَلَّى لِلاِسْتِسْقَاءِ
باب: امام کا استسقاء کے لیے عیدگاہ جانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، قَالَ سُفْيَانُ: فَسَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ يُحَدِّثُ أَبِي، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ الَّذِي أُرِيَ النِّدَاءَ , قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى يَسْتَسْقِي فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَقَلَبَ رِدَاءَهُ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا غَلَطٌ مِنَ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الَّذِي أُرِيَ النِّدَاءَ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ، وَهَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ.
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ ( جنہیں خواب میں اذان دکھائی گئی تھی ) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کی نماز پڑھنے کے لیے عید گاہ کی طرف نکلے ۔ تو آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا ، اور اپنی چادر پلٹی ، اور دو رکعت نماز پڑھی ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : یہ ابن عیینہ کی غلطی ہے ۱؎ عبداللہ بن زید جنہیں خواب میں اذان دکھائی گئی تھی وہ عبداللہ بن زید بن عبد ربہ ہیں ، اور یہ جو استسقا کی حدیث روایت کر رہے ہیں عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1506]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی سفیان بن عیینہ کا اس حدیث کے راوی کے بارے میں یہ کہنا کہ انہیں کو خواب میں اذان دکھائی گئی ان کا وہم ہے، اذان عبداللہ بن زیدبن عبدربہ کو دکھائی گئی، اور اس حدیث کے راوی کا نام عبداللہ بن زید بن عاصم ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الإستسقاء 1 (1005) 4 (1011، 1012)، 15 (1023)، 16 (1024)، 17 (1025)، 18 (1026)، 19 (1027)، 20 (1028)، الدعوات 25 (6343)، صحیح مسلم/الإستسقاء 1 (894)، سنن ابی داود/الصلاة 258 (1161، 1162، 1163، 1164)، 259 (1166، 1167)، سنن الترمذی/الصلاة 278 (الجمعة 43) (556)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 153 (1267)، موطا امام مالک/الإستسقاء 1 (1)، مسند احمد 4/38، 39، 40، 41، 42، سنن الدارمی/الصلاة 188 (1574، 1575)، (تحفة الأشراف: 5297)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1508، 1510، 1511، 1512، 1513، 1520، 1521، 1523 (صحیح)
3: بَابُ : الْحَالِ الَّتِي يُسْتَحَبُّ لِلإِمَامِ أَنْ يَكُونَ عَلَيْهَا إِذَا خَرَجَ
باب: استسقاء کے لیے جب امام نکلے تو اس کی ہئیت کیسی ہو؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: أَرْسَلَنِي فُلَانٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَضَرِّعًا مُتَوَاضِعًا مُتَبَذِّلًا، فَلَمْ يَخْطُبْ نَحْوَ خُطْبَتِكُمْ هَذِهِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ".
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ فلاں نے مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس بھیجا کہ میں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز استسقاء کے بارے میں پوچھوں ۔ تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( استسقاء کی نماز کے لیے ) عاجزی اور انکساری کا اظہار کرتے ہوئے پھٹے پرانے کپڑے میں نکلے ، تو آپ نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا ۱؎ آپ نے دو رکعت نماز پڑھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1507]
💡 وضاحت:
۱؎: بلکہ آپ کا خطبہ دعا و استغفار اور اللہ سے عاجزی اور گڑگڑانے پر مشتمل تھا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 258 (1165)، سنن الترمذی/فیہ 278 (الجمعة 43) (558، 559)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 153 (1266)، (تحفة الأشراف: 5359)، مسند احمد 1/230، 269، 355، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1509، 1522 (حسن)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اسْتَسْقَى وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ".
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے استسقاء کی نماز پڑھی ، اور آپ کے جسم مبارک پر ایک سیاہ چادر تھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1508]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1506 (صحیح)
4: بَابُ : جُلُوسِ الإِمَامِ عَلَى الْمِنْبَرِ لِلاِسْتِسْقَاءِ
باب: بارش کی دعا کے لیے امام کے منبر پر بیٹھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَبَذِّلًا مُتَوَاضِعًا مُتَضَرِّعًا فَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ , وَلَكِنْ لَمْ يَزَلْ فِي الدُّعَاءِ وَالتَّضَرُّعِ وَالتَّكْبِيرِ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا كَانَ يُصَلِّي فِي الْعِيدَيْنِ".
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استسقاء کی نماز کے متعلق پوچھا ، تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھٹے پرانے کپڑوں میں عاجزی اور گریہ وزاری کا اظہار کرتے ہوئے نکلے ، اور منبر پر بیٹھے ، تو آپ نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا ، بلکہ آپ برابر دعا اور عاجزی کرتے رہے ، اور اللہ کی بڑائی بیان کرنے میں لگے رہے ، اور آپ نے دو رکعت نماز پڑھی جیسے آپ عیدین میں پڑھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1509]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1507 (حسن)
5: بَابُ : تَحْوِيلِ الإِمَامِ ظَهْرَهُ إِلَى النَّاسِ عِنْدَ الدُّعَاءِ فِي الاِسْتِسْقَاءِ
باب: استسقاء میں دعا کے وقت امام کا اپنی پیٹھ لوگوں کی طرف پھیرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، أَنَّ عَمَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَسْتَسْقِي فَحَوَّلَ رِدَاءَهُ وَحَوَّلَ لِلنَّاسِ ظَهْرَهُ وَدَعَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَقَرَأَ فَجَهَرَ".
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ استسقاء کی نماز کے لیے نکلے تو آپ نے اپنی چادر پلٹی ، اور لوگوں کی جانب اپنی پیٹھ پھیری ، اور دعا کی ، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی ، اور قرآت کی تو بلند آواز سے قرآت کی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1510]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1506 (صحیح)
6: بَابُ : تَقْلِيبِ الإِمَامِ الرِّدَاءَ عِنْدَ الاِسْتِسْقَاءِ
باب: استسقاء کے وقت امام کے چادر پلٹنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْتَسْقَى وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَقَلَبَ رِدَاءَهُ".
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کے لیے نکلے ، تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی ، اور اپنی چادر پلٹی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1511]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر رقم: 1506 (صحیح)
7: بَابُ : مَتَى يُحَوِّلُ الإِمَامُ رِدَاءَهُ
باب: امام کب اپنی چادر پلٹے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ , يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ , يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَاسْتَسْقَى وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ حِينَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ".
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( جائے نماز کی طرف ) نکلے ، تو آپ نے استسقاء کی نماز پڑھی ، اور جس وقت آپ قبلہ رخ ہوئے اپنی چادر پلٹی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1512]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1506 (صحیح)
8: بَابُ : رَفْعِ الإِمَامِ يَدَهُ
باب: (استسقاء کے لیے دعا مانگتے وقت) امام کے ہاتھ اٹھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو تَقِيٍّ الْحِمْصِيُّ، قال: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِي الِاسْتِسْقَاءِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَقَلَبَ الرِّدَاءَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ".
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو استسقاء میں دیکھا کہ آپ قبلہ رخ ہوئے ، آپ نے اپنی چادر پلٹی ، اور ( دعا مانگنے کے لیے ) اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1513]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1506 (صحیح)
9: بَابُ : كَيْفَ يَرْفَعُ
باب: استسقاء میں ہاتھ کیسے اٹھائے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنَ الدُّعَاءِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَإِنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوائے استسقاء کے اپنے دونوں ہاتھ کسی دعا میں نہیں اٹھاتے تھے ، آپ اس میں اپنے دونوں ہاتھ اتنا بلند کرتے کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1514]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الإستسقاء 22 (1031)، المناقب 23 (3565)، الدعوات 23 (6341)، صحیح مسلم/الإستسقاء 1 (895)، سنن ابی داود/الصلاة 260 (1170)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 118 (1180)، (تحفة الأشراف: 1168)، مسند احمد 3/ 181، 282، سنن الدارمی/الصلاة 189 (1576) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، عَنْ آبِي اللَّحْمِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ: " يَسْتَسْقِي وَهُوَ مُقْنِعٌ بِكَفَّيْهِ يَدْعُو".
آبی اللحم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احجار الزیت کے پاس دیکھا کہ آپ بارش کے لیے دعا کر رہے تھے ، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اٹھائے دعا کر رہے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1515]
💡 وضاحت:
۱؎: احجار الزیت مدینہ میں ایک مقام کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 278 (الجمعة 43) (557)، (تحفة الأشراف: 5)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 260 (1168)، مسند احمد 5/223 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ وَهُوَ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَقَطَّعَتِ السُّبُلُ وَهَلَكَتِ الْأَمْوَالُ وَأَجْدَبَ الْبِلَادُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ حِذَاءَ وَجْهِهِ، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ اسْقِنَا"، فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِنْبَرِ حَتَّى أُوسِعْنَا مَطَرًا وَأُمْطِرْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ إِلَى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى، فَقَامَ رَجُلٌ لَا أَدْرِي هُوَ الَّذِي قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْقِ: لَنَا أَمْ لَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْقَطَعَتِ السُّبُلُ وَهَلَكَتِ الْأَمْوَالُ مِنْ كَثْرَةِ الْمَاءِ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يُمْسِكَ عَنَّا الْمَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا وَلَكِنْ عَلَى الْجِبَالِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ"، قَالَ: وَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ تَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ تَمَزَّقَ السَّحَابُ حَتَّى مَا نَرَى مِنْهُ شَيْئًا.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ جمعہ کے روز مسجد میں تھے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! راستے ( سفر ) ٹھپ ہو گئے ، جانور ہلاک ہو گئے ، اور علاقے خشک سالی کا شکار ہو گئے ، لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہمیں سیراب کرے ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرے کے بالمقابل اٹھایا ، پھر آپ نے دعا کی : «اللہم اسقنا» ” اے اللہ ! ہمیں سیراب کر “ تو قسم اللہ کی ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی منبر سے اترے بھی نہ تھے کہ زور دار بارش ہونے لگی ، اور اس دن سے دوسرے جمعہ تک بارش ہوتی رہی ۔ چنانچہ پھر ایک آدمی کھڑا ہوا ( مجھے یاد نہیں کہ یہ وہی شخص تھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بارش کے لیے دعا کرنے کے لیے کہا تھا یا کوئی دوسرا شخص تھا ) اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! پانی کی زیادتی کی وجہ سے راستے بند ہو گئے ہیں ، اور جانور ہلاک ہو گئے ہیں ، لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ ( اب ) ہم سے بارش روک لے ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : «اللہم حوالينا ولا علينا ولكن على الجبال ومنابت الشجر» ” اے اللہ ! ہمارے اطراف میں برسا ، ہم پر نہ برسا ، اور پہاڑوں پر اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر برسا “ ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : قسم اللہ کی ! آپ کا یہ کہنا ہی تھا کہ بادل پھٹ پھٹ کر ( آسمان صاف ہو گیا ) یہاں تک کہ ہمیں اس میں سے کچھ نہیں دکھائی دے رہا تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1516]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1505 (صحیح)
10: بَابُ : ذِكْرِ الدُّعَاءِ
باب: استسقاء کی دعا کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو هِشَامٍ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنِي وُهَيْبٌ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اللَّهُمَّ اسْقِنَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : «اللہم اسقنا» ” اے اللہ ! ہمیں سیراب فرما “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1517]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1666) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قال: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَهُوَ الْعُمَرِيُّ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَامَ إِلَيْهِ النَّاسُ فَصَاحُوا، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَحَطَتِ الْمَطَرُ وَهَلَكَتِ الْبَهَائِمُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا، قَالَ: " اللَّهُمَّ اسْقِنَا اللَّهُمَّ اسْقِنَا" , قَالَ: وَايْمُ اللَّهِ مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً مِنْ سَحَابٍ , قَالَ: فَأَنْشَأَتْ سَحَابَةٌ فَانْتَشَرَتْ، ثُمَّ إِنَّهَا أُمْطِرَتْ وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى وَانْصَرَفَ النَّاسُ، فَلَمْ تَزَلْ تَمْطُرُ إِلَى يَوْمِ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ صَاحُوا إِلَيْهِ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ وَتَقَطَّعَتِ السُّبُلُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَحْبِسَهَا عَنَّا، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا"، فَتَقَشَّعَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ فَجَعَلَتْ تَمْطُرُ حَوْلَهَا وَمَا تَمْطُرُ بِالْمَدِينَةِ قَطْرَةً، فَنَظَرْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ وَإِنَّهَا لَفِي مِثْلِ الْإِكْلِيلِ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ کچھ لوگ آپ کی طرف اٹھ کر بڑھے ، اور چلا کر کہنے لگے : اللہ کے نبی ! بارش نہیں ہو رہی ہے ، اور جانور ہلاک ہو رہے ہیں ، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہمیں سیراب کرے ۔ تو آپ نے دعا کی : «اللہم اسقنا اللہم اسقنا» ” اے اللہ ! ہمیں سیراب فرما ، اے اللہ ہمیں سیراب فرما “ ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : قسم اللہ کی ! اس وقت ہم کو آسمان میں بادل کا ایک ٹکڑا بھی نظر نہیں آ رہا تھا ( مگر آپ کے دعا کرتے ہی ) بدلی اٹھی ، اور پھیل گئی ، پھر برسنے لگی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اترے ، اور آپ نے نماز پڑھی ، اور لوگ فارغ ہو کر پلٹے تو دوسرے جمعہ تک برابر بارش ہوتی رہی ۔ تو دوسرے جمعہ کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دینے لگے ، تو لوگ پھر چلا کر کہنے لگے : اللہ کے نبی ! گھر گر گئے ، راستے ٹھپ ہو گئے ، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ اب اسے ہم سے روک لے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے ، اور آپ نے دعا فرمائی : «اللہم حوالينا ولا علينا» ” اے اللہ ! ہمارے اطراف میں برسا ہم پر نہ برسا “ تو بادل مدینہ سے چھٹ گئے ، اور اس کے اطراف میں برسنے لگے ، اور مدینہ میں ایک بوند بارش کی نہیں پڑ رہی تھی ۔ میں نے مدینہ کو دیکھا کہ وہ ایسا لگ رہا تھا گویا وہ تاج پہنے ہوئے ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1518]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الإستسقاء 14 (1021)، صحیح مسلم/الإستسقاء 2 (897)، (تحفة الأشراف: 456) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ، فَاسْتَقْبَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَتِ الْأَمْوَالُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يُغِيثَنَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ أَغِثْنَا اللَّهُمَّ أَغِثْنَا"، قَالَ أَنَسٌ: وَلَا وَاللَّهِ مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ مِنْ سَحَابَةٍ وَلَا قَزَعَةٍ وَمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ سَلْعٍ مِنْ بَيْتٍ وَلَا دَارٍ فَطَلَعَتْ سَحَابَةٌ مِثْلُ التُّرْسِ، فَلَمَّا تَوَسَّطَتِ السَّمَاءَ انْتَشَرَتْ وَأَمْطَرَتْ، قَالَ أَنَسٌ: وَلَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا الشَّمْسَ سَبْتًا، قَالَ: ثُمَّ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ ذَلِكَ الْبَابِ فِي الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ فَاسْتَقْبَلَهُ قَائِمًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ وَسَلَّمَ عَلَيْكَ، هَلَكَتِ الْأَمْوَالُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يُمْسِكَهَا عَنَّا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا اللَّهُمَّ عَلَى الْآكَامِ وَالظِّرَابِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ" قَالَ: فَأَقْلَعَتْ وَخَرَجْنَا نَمْشِي فِي الشَّمْسِ , قَالَ شَرِيكٌ: سَأَلْتُ أَنَسًا أَهُوَ الرَّجُلُ الْأَوَّلُ؟ قَالَ: لَا.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ دے رہے تھے ، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رخ کر کے کھڑا ہو گیا ، اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! مال ( جانور ) ہلاک ہو گئے ، اور راستے بند ہو گئے ، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہمیں سیراب کرے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ، اور دعا کی : «اللہم أغثنا اللہم أغثنا» ” اے اللہ ! ہمیں سیراب فرما ، اے اللہ ہمیں سیراب فرما “ ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : قسم اللہ کی ! ہم کو آسمان میں کہیں بادل یا بادل کا کوئی ٹکڑا دکھائی نہیں دے رہا تھا ، اور ہمارے اور سلع پہاڑی کے بیچ کسی گھر یا مکان کی آڑ نہ تھی ، اتنے میں ڈھال کے مانند بادل کا ایک ٹکڑا نمودار ہوا ، پھر جب وہ آسمان کے درمیان میں پہنچا تو پھیل گیا ، اور برسنے لگا ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : قسم اللہ کی ! ہم نے ایک ہفتہ تک سورج نہیں دیکھا ۔ پھر اگلے جمعہ میں اسی دروازے سے ایک آدمی داخل ہوا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ دے رہے تھے ، تو وہ آپ کی طرف چہرہ کر کے کھڑا ہو گیا ، اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ کا سلام و صلاۃ ( درود و رحمت ) ہو آپ پر ! مال ہلاک ہو گئے ( جانور مر گئے ) ، اور راستے بند ہو گئے ، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہم سے اسے روک لے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے ، اور دعا کی : «اللہم حوالينا ولا علينا اللہم على الآكام والظراب وبطون الأودية ومنابت الشجر» ” اے اللہ ! ہمارے اردگرد برسا ، ہم پر نہ برسا ، اے اللہ ! ٹیلوں ، چوٹیوں ، گھاٹیوں اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر برسا “ یہ کہنا تھا کہ بادل چھٹ گئے ، اور ہم نکل کر دھوپ میں چل رہے تھے ۔ شریک بن عبداللہ بن ابی نمر کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا یہ وہی پہلا شخص تھا ، تو انہوں نے کہا : نہیں ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1519]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں جزم ہے، اور اس سے پہلے ایک روایت گزر چکی ہے اس میں ہے کہ انہوں نے کہا «لا أدری ہو الذی قال لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم استسق لنا أم لا» دونوں میں اس طرح تطبیق دی گئی ہے کہ شاید انہیں بھول جانے کے بعد یاد آیا ہو، یا یاد رہا ہو پھر بھول گئے ہوں یا «لا» یہاں «لا أدری» کے معنی میں ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1505 (حسن صحیح)
11: بَابُ : الصَّلاَةِ بَعْدَ الدُّعَاءِ
باب: استسقاء میں دعا مانگنے کے بعد نماز پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ وَيُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قال: أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمَّهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَسْتَسْقِي فَحَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ يَدْعُو اللَّهَ وَيَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ , ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ" , قَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ فِي الْحَدِيثِ: وَقَرَأَ فِيهِمَا.
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کی غرض سے نکلے ، تو آپ نے لوگوں کی جانب اپنی پیٹھ پھیری ، اور قبلہ رخ کھڑے ہو کر اللہ سے دعا کی ، اور اپنی چادر الٹی ، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی ۔ ابن ابی ذئب کہتے ہیں : حدیث میں یہ بھی ہے : «وقرأ فيهما» ” اور ان دونوں میں قرأت کی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1520]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1506 (صحیح)
12: بَابُ : كَمْ صَلاَةُ الاِسْتِسْقَاءِ
باب: استسقاء کی نماز میں کتنی رکعتیں ہیں؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَرَجَ يَسْتَسْقِي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ".
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے بارش طلب کرنے نکلے ، تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی ، اور قبلہ کی طرف منہ کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1521]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1506 (صحیح)
13: بَابُ : كَيْفَ صَلاَةُ الاِسْتِسْقَاءِ
باب: نماز استسقاء کس طرح پڑھی جائے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: أَرْسَلَنِي أَمِيرٌ مِنَ الْأُمَرَاءِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا مَنَعَهُ أَنْ يَسْأَلَنِي؟ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَاضِعًا مُتَبَذِّلًا مُتَخَشِّعًا مُتَضَرِّعًا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدَيْنِ وَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ".
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ امراء میں سے ایک امیر نے مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس بھیجا کہ میں ان سے استسقاء کے بارے میں پوچھوں ، تو ابن عباس رضی اللہ عنہم نے کہا : وہ مجھ سے خود کیوں نہیں پوچھتے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاجزی و انکساری کے ساتھ پھٹے پرانے کپڑوں میں گریہ وزاری کرتے ہوئے نکلے ، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی ، اسی طرح جیسی آپ عیدین میں پڑھتے تھے ، اور آپ نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1522]
💡 وضاحت:
۱؎: یہاں نفی قید کی ہے، مقید کی نہیں جیسا کہ اس پر وہ احادیث دلالت کرتی ہیں جن میں خطبہ کی تصریح ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1507 (حسن)
14: بَابُ : الْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الاِسْتِسْقَاءِ
باب: استسقاء کی نماز میں بلند آواز سے قرأت کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَرَجَ فَاسْتَسْقَى فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ جَهَرَ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ".
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کے لیے نکلے ، تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی ، ان میں آپ نے بلند آواز سے قرآت کی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1523]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1506 (صحیح)
15: بَابُ : الْقَوْلِ عِنْدَ الْمَطَرِ
باب: بارش کے وقت کی دعا کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " إِذَا أُمْطِرَ، قَالَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ صَيِّبًا نَافِعًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش ہوتی تو کہتے : «‏اللہم اجعله صيبا نافعا» ” اے اللہ ! خوب برسا اور اسے فائدہ مند بنا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1524]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب 113 (5099) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الدعاء 21 (3889) مطولاً، (تحفة الأشراف: 16146)، مسند احمد 6/41، 90، 119، 137، 138، 166، 190، 222 (صحیح)
16: بَابُ : كَرَاهِيَةِ الاِسْتِمْطَارِ بِالْكَوْكَبِ
باب: ستاروں کی گردش پر پانی برسنے کا اعتقاد رکھنا جائز نہیں۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ، يَقُولُونَ: الْكَوْكَبُ وَبِالْكَوْكَبِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جب بھی میں نے اپنے بندوں کو بارش کی نعمت سے نوازا تو ان میں سے ایک گروہ اس کی وجہ سے کافر رہا ، وہ لوگ کہتے رہے : فلاں ستارے نے ایسا کیا ہے ، اور فلاں ستارے کی وجہ سے ایسا ہوا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1525]
💡 وضاحت:
۱؎: حالانکہ ستاروں میں کوئی طاقت نہیں، وہ تو جماد ہیں، یہ نعمت تو اس ذات باری تعالیٰ نے دی ہے جس نے ستاروں، ساری مخلوقات کو پیدا کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإیمان 32 (72)، (تحفة الأشراف: 14113)، مسند احمد 2/362، 368، 421 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ , قَالَ: مُطِرَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَلَمْ تَسْمَعُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمُ اللَّيْلَةَ , قَالَ: مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ، يَقُولُونَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، فَأَمَّا مَنْ آمَنَ بِي وَحَمِدَنِي عَلَى سُقْيَايَ فَذَاكَ الَّذِي آمَنَ بِي وَكَفَرَ بِالْكَوْكَبِ، وَمَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَاكَ الَّذِي كَفَرَ بِي وَآمَنَ بِالْكَوْكَبِ".
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بارش ہوئی تو آپ نے فرمایا : ” کیا تم نے سنا نہیں کہ تمہارے رب نے آج رات کیا فرمایا ؟ اس نے فرمایا : میں نے جب بھی بارش کی نعمت اپنے بندوں پر کی تو ان میں سے ایک گروہ اس کی وجہ سے کافر رہا ، وہ کہتا رہا : فلاں و فلاں نچھتر کے سبب ہم پر بارش ہوئی ، تو رہا وہ شخص جو مجھ پر ایمان لایا ، اور میرے بارش برسانے پر اس نے میری تعریف کی ، تو یہ وہی شخص ہے جو مجھ پر ایمان لایا ، اور ستاروں کا انکار کیا ، اور جس نے کہا : ہم فلاں فلاں نچھتر کے سبب بارش دیئے گئے ، تو یہ وہ شخص ہے جس نے میرے ساتھ کفر کیا ، اور ستاروں پر ایمان رکھا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1526]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 156 (846)، الاستسقاء 28 (1038)، المغازي 35 (4147)، التوحید 35 (7503)، صحیح مسلم/الإیمان 32 (71)، سنن ابی داود/الطب 22 (3906)، (تحفة الأشراف: 3757)، موطا امام مالک/الاستسقاء 3 (4)، مسند احمد 4/115، 116، 117 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَتَّابِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أَمْسَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَطَرَ عَنْ عِبَادِهِ خَمْسَ سِنِينَ ثُمَّ أَرْسَلَهُ , لَأَصْبَحَتْ طَائِفَةٌ مِنَ النَّاسِ كَافِرِينَ , يَقُولُونَ: سُقِينَا بِنَوْءِ الْمِجْدَحِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے پانچ سال تک بارش روکے رکھے ، پھر اسے چھوڑے تو بھی لوگوں میں سے ایک گروہ کافر ہی رہے گا ، کہے گا : ہم تو مجدح ستارے کے سبب برسائے گئے ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1527]
💡 وضاحت:
۱؎: مجدح ستارے ان ستاروں میں سے ایک ستارے کا نام ہے جو عربوں کے نزدیک بارش پر دلالت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے بارش بند ہونے کی دعا کرے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، عتاب: مجهول الحال (التحرير: 4420) لم يوثقه غير ابن حبان،وقال سفيان بن عينة أحد رواته:’’لا أدري من عتاب‘‘؟ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 333
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4148)، مسند احمد 3/7، سنن الدارمی/الرقاق 49 (2804) (ضعیف) (اس کے راوی ’’عتاب‘‘ لین الحدیث ہیں)
17: بَابُ : مَسْأَلَةِ الإِمَامِ رَفْعَ الْمَطَرِ إِذَا خَافَ ضَرَرَهُ
باب: جب بارش سے نقصان کا ڈر ہو تو امام۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قال: قَحَطَ الْمَطَرُ عَامًا، فَقَامَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَحَطَ الْمَطَرُ وَأَجْدَبَتِ الْأَرْضُ وَهَلَكَ الْمَالُ , قَالَ: " فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابَةً، فَمَدَّ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ يَسْتَسْقِي اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ" , قَالَ: فَمَا صَلَّيْنَا الْجُمُعَةَ حَتَّى أَهَمَّ الشَّابَّ الْقَرِيبَ الدَّارِ الرُّجُوعُ إِلَى أَهْلِهِ فَدَامَتْ جُمُعَةٌ، فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ الَّتِي تَلِيهَا , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ وَاحْتَبَسَ الرُّكْبَانُ , قَالَ: " فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسُرْعَةِ مَلَالَةِ ابْنِ آدَمَ وَقَالَ بِيَدَيْهِ: " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا فَتَكَشَّطَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک سال بارش نہیں ہوئی تو کچھ مسلمان جمعہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوئے ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! بارش نہیں ہو رہی ہے ، زمین سوکھ گئی ہے ، اور جانور ہلاک ہو گئے ہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا ، اور اس وقت آسمان میں ہمیں بادل کا کوئی ٹکڑا نظر نہیں آ رہا تھا ، آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو خوب دراز کیا یہاں تک کہ مجھے آپ کے بغلوں کی سفیدی دکھائی دینے لگی ، آپ اللہ تعالیٰ سے پانی برسنے کے لیے دعا کر رہے تھے ۔ ابھی ہم جمعہ کی نماز سے فارغ بھی نہیں ہوئے تھے ( کہ بارش ہونے لگی ) یہاں تک کہ جس جوان کا گھر قریب تھا اس کو بھی اپنے گھر جانا مشکل ہو گیا ، اور برابر دوسرے جمعہ تک بارش ہوتی رہی ، جب اگلا جمعہ آیا تو لوگ کہنے لگے : اللہ کے رسول ! گھر گر گئے ، اور سوار محبوس ہو کر رہ گئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابن آدم ( انسان ) کے جلد اکتا جانے پر مسکرائے ، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یوں دعا کی : «اللہم حوالينا ولا علينا» ” اے اللہ ! ہمارے اطراف میں برسا اور ( اب ) ہم پر نہ برسا “ تو مدینہ سے بادل چھٹ گئے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1528]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 596)، مسند احمد 3/104 (صحیح الإسناد)
18: بَابُ : رَفْعِ الإِمَامِ يَدَيْهِ عِنْدَ مَسْأَلَةِ إِمْسَاكِ الْمَطَرِ
باب: بارش روکنے کی دعا کے وقت امام اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قال: أَنْبَأَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال: أَصَابَ النَّاسُ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , مَا وَضَعَهَا حَتَّى ثَارَ سَحَابٌ أَمْثَالُ الْجِبَالِ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِهِ حَتَّى رَأَيْتُ الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَمُطِرْنَا يَوْمَنَا ذَلِكَ وَمِنَ الْغَدِ وَالَّذِي يَلِيهِ حَتَّى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى، فَقَامَ ذَلِكَ الْأَعْرَابِيُّ أَوْ قَالَ غَيْرُهُ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , تَهَدَّمَ الْبِنَاءُ وَغَرِقَ الْمَالُ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ , فَقَالَ: " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا" , فَمَا يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ السَّحَابِ إِلَّا انْفَرَجَتْ , حَتَّى صَارَتِ الْمَدِينَةُ مِثْلَ الْجَوْبَةِ وَسَالَ الْوَادِي , وَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَّا أَخْبَرَ بِالْجَوْدِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( ایک بار ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کو قحط سالی سے دو چار ہونا پڑا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک اعرابی ( بدو ) کھڑا ہوا ، اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! مال ( جانور ) ہلاک ہو گئے ، اور بال بچے بھوکے ہیں ، لہٰذا آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا ، اس وقت ہمیں آسمان پر بادل کا کوئی ٹکڑا دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ آپ نے اپنے ہاتھوں کو ابھی نیچے بھی نہیں کیا تھا کہ بادل پہاڑ کے مانند امنڈنے لگا ، اور آپ ابھی اپنے منبر سے اترے بھی نہیں کہ میں نے دیکھا بارش کا پانی آپ کی داڑھی سے ٹپک رہا ہے ، ہم پر اس دن ، دوسرے دن اور اس کے بعد والے دن یہاں تک کہ دوسرے جمعہ تک برابر بارش ہوتی رہی ، تو وہی اعرابی یا کوئی اور شخص کھڑا ہوا ، اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! عمارتیں منہدم ہو گئیں ، اور مال و اسباب ڈوب گئے ، لہٰذا آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے ۔ تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا ، اور آپ نے یوں دعا کی : «اللہم حوالينا ولا علينا» ” اے اللہ ! ہمارے اطراف میں برسا اور ( اب ) ہم پر نہ برسا “ چنانچہ آپ نے اپنے ہاتھ سے بادل کی جانب جس طرف سے بھی اشارہ کیا ، وہ وہاں سے چھٹ گئے یہاں تک کہ مدینہ ایک گڈھے کی طرح لگنے لگا ، اور وادی پانی سے بھر گئی ، اور جو بھی کوئی کسی طرف سے آتا یہی بتاتا کہ خوب بارش ہوئی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1529]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجمعة 35 (933)، الإستسقاء 11 (1018)، 24 (1032)، صحیح مسلم/الإستسقاء 2 (897)، (تحفة الأشراف: 174)، مسند احمد 3/256 (صحیح)
← پچھلی کتاب #20 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #22 →