سنن النسائي حدیث نمبر: 1507
Sunan an-Nasa'i 1507
کتاب #21: کتاب: بارش طلب کرنے کے احکام و مسائل
3: بَابُ : الْحَالِ الَّتِي يُسْتَحَبُّ لِلإِمَامِ أَنْ يَكُونَ عَلَيْهَا إِذَا خَرَجَ
باب: استسقاء کے لیے جب امام نکلے تو اس کی ہئیت کیسی ہو؟
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: أَرْسَلَنِي فُلَانٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَضَرِّعًا مُتَوَاضِعًا مُتَبَذِّلًا، فَلَمْ يَخْطُبْ نَحْوَ خُطْبَتِكُمْ هَذِهِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ".
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ فلاں نے مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس بھیجا کہ میں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز استسقاء کے بارے میں پوچھوں ۔ تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( استسقاء کی نماز کے لیے ) عاجزی اور انکساری کا اظہار کرتے ہوئے پھٹے پرانے کپڑے میں نکلے ، تو آپ نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا ۱؎ آپ نے دو رکعت نماز پڑھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1507]
💡 وضاحت:
۱؎: بلکہ آپ کا خطبہ دعا و استغفار اور اللہ سے عاجزی اور گڑگڑانے پر مشتمل تھا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 258 (1165)، سنن الترمذی/فیہ 278 (الجمعة 43) (558، 559)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 153 (1266)، (تحفة الأشراف: 5359)، مسند احمد 1/230، 269، 355، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1509، 1522 (حسن)