سنن النسائي حدیث نمبر: 1527
Sunan an-Nasa'i 1527
کتاب #21: کتاب: بارش طلب کرنے کے احکام و مسائل
16: بَابُ : كَرَاهِيَةِ الاِسْتِمْطَارِ بِالْكَوْكَبِ
باب: ستاروں کی گردش پر پانی برسنے کا اعتقاد رکھنا جائز نہیں۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَتَّابِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أَمْسَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَطَرَ عَنْ عِبَادِهِ خَمْسَ سِنِينَ ثُمَّ أَرْسَلَهُ , لَأَصْبَحَتْ طَائِفَةٌ مِنَ النَّاسِ كَافِرِينَ , يَقُولُونَ: سُقِينَا بِنَوْءِ الْمِجْدَحِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے پانچ سال تک بارش روکے رکھے ، پھر اسے چھوڑے تو بھی لوگوں میں سے ایک گروہ کافر ہی رہے گا ، کہے گا : ہم تو مجدح ستارے کے سبب برسائے گئے ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1527]
💡 وضاحت:
۱؎: ”مجدح ستارے“ ان ستاروں میں سے ایک ستارے کا نام ہے جو عربوں کے نزدیک بارش پر دلالت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے بارش بند ہونے کی دعا کرے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، عتاب: مجهول الحال (التحرير: 4420) لم يوثقه غير ابن حبان،وقال سفيان بن عينة أحد رواته:’’لا أدري من عتاب‘‘؟ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 333
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4148)، مسند احمد 3/7، سنن الدارمی/الرقاق 49 (2804) (ضعیف) (اس کے راوی ’’عتاب‘‘ لین الحدیث ہیں)