📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: بارش طلب کرنے کے احکام و مسائل (كتاب الاستسقاء) 🏷️ باب: باب: جب بارش سے نقصان کا ڈر ہو تو امام۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 1528 Sunan an-Nasa'i 1528
کتاب #21: کتاب: بارش طلب کرنے کے احکام و مسائل
17: بَابُ : مَسْأَلَةِ الإِمَامِ رَفْعَ الْمَطَرِ إِذَا خَافَ ضَرَرَهُ
باب: جب بارش سے نقصان کا ڈر ہو تو امام۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قال: قَحَطَ الْمَطَرُ عَامًا، فَقَامَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَحَطَ الْمَطَرُ وَأَجْدَبَتِ الْأَرْضُ وَهَلَكَ الْمَالُ , قَالَ: " فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابَةً، فَمَدَّ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ يَسْتَسْقِي اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ" , قَالَ: فَمَا صَلَّيْنَا الْجُمُعَةَ حَتَّى أَهَمَّ الشَّابَّ الْقَرِيبَ الدَّارِ الرُّجُوعُ إِلَى أَهْلِهِ فَدَامَتْ جُمُعَةٌ، فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ الَّتِي تَلِيهَا , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ وَاحْتَبَسَ الرُّكْبَانُ , قَالَ: " فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسُرْعَةِ مَلَالَةِ ابْنِ آدَمَ وَقَالَ بِيَدَيْهِ: " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا فَتَكَشَّطَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک سال بارش نہیں ہوئی تو کچھ مسلمان جمعہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوئے ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! بارش نہیں ہو رہی ہے ، زمین سوکھ گئی ہے ، اور جانور ہلاک ہو گئے ہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا ، اور اس وقت آسمان میں ہمیں بادل کا کوئی ٹکڑا نظر نہیں آ رہا تھا ، آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو خوب دراز کیا یہاں تک کہ مجھے آپ کے بغلوں کی سفیدی دکھائی دینے لگی ، آپ اللہ تعالیٰ سے پانی برسنے کے لیے دعا کر رہے تھے ۔ ابھی ہم جمعہ کی نماز سے فارغ بھی نہیں ہوئے تھے ( کہ بارش ہونے لگی ) یہاں تک کہ جس جوان کا گھر قریب تھا اس کو بھی اپنے گھر جانا مشکل ہو گیا ، اور برابر دوسرے جمعہ تک بارش ہوتی رہی ، جب اگلا جمعہ آیا تو لوگ کہنے لگے : اللہ کے رسول ! گھر گر گئے ، اور سوار محبوس ہو کر رہ گئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابن آدم ( انسان ) کے جلد اکتا جانے پر مسکرائے ، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یوں دعا کی : «اللہم حوالينا ولا علينا» ” اے اللہ ! ہمارے اطراف میں برسا اور ( اب ) ہم پر نہ برسا “ تو مدینہ سے بادل چھٹ گئے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1528]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 596)، مسند احمد 3/104 (صحیح الإسناد)
سنن النسائي • حدیث #1528
1526 1527 1528 1529 1530
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ