سنن النسائي حدیث نمبر: 1526
Sunan an-Nasa'i 1526
کتاب #21: کتاب: بارش طلب کرنے کے احکام و مسائل
16: بَابُ : كَرَاهِيَةِ الاِسْتِمْطَارِ بِالْكَوْكَبِ
باب: ستاروں کی گردش پر پانی برسنے کا اعتقاد رکھنا جائز نہیں۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ , قَالَ: مُطِرَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَلَمْ تَسْمَعُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمُ اللَّيْلَةَ , قَالَ: مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ، يَقُولُونَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، فَأَمَّا مَنْ آمَنَ بِي وَحَمِدَنِي عَلَى سُقْيَايَ فَذَاكَ الَّذِي آمَنَ بِي وَكَفَرَ بِالْكَوْكَبِ، وَمَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَاكَ الَّذِي كَفَرَ بِي وَآمَنَ بِالْكَوْكَبِ".
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بارش ہوئی تو آپ نے فرمایا : ” کیا تم نے سنا نہیں کہ تمہارے رب نے آج رات کیا فرمایا ؟ اس نے فرمایا : میں نے جب بھی بارش کی نعمت اپنے بندوں پر کی تو ان میں سے ایک گروہ اس کی وجہ سے کافر رہا ، وہ کہتا رہا : فلاں و فلاں نچھتر کے سبب ہم پر بارش ہوئی ، تو رہا وہ شخص جو مجھ پر ایمان لایا ، اور میرے بارش برسانے پر اس نے میری تعریف کی ، تو یہ وہی شخص ہے جو مجھ پر ایمان لایا ، اور ستاروں کا انکار کیا ، اور جس نے کہا : ہم فلاں فلاں نچھتر کے سبب بارش دیئے گئے ، تو یہ وہ شخص ہے جس نے میرے ساتھ کفر کیا ، اور ستاروں پر ایمان رکھا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1526]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 156 (846)، الاستسقاء 28 (1038)، المغازي 35 (4147)، التوحید 35 (7503)، صحیح مسلم/الإیمان 32 (71)، سنن ابی داود/الطب 22 (3906)، (تحفة الأشراف: 3757)، موطا امام مالک/الاستسقاء 3 (4)، مسند احمد 4/115، 116، 117 (صحیح)