سنن النسائي حدیث نمبر: 1427
Sunan an-Nasa'i 1427
کتاب #18: کتاب: جمعہ کے فضائل و مسائل
42: بَابُ : عَدَدِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ فِي الْمَسْجِدِ
باب: نماز جمعہ کے بعد مسجد میں کتنی رکعتیں پڑھے؟
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيُصَلِّ بَعْدَهَا أَرْبَعًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی جمعہ پڑھے تو اسے چاہیئے کہ اس کے بعد چار رکعتیں پڑھے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1427]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں چار رکعت کا ذکر ہے، اور اس کے بعد والی حدیث میں دو رکعت کا، اس سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں صورتیں جائز ہیں بعض لوگوں نے دونوں رایتوں میں اس طرح سے تطبیق دی ہے کہ جو مسجد میں پڑھے وہ چار رکعت پڑھے، اور جو گھر جا کر پڑھے وہ دو رکعت پڑھے، اسی طرح چار رکعت کس طرح پڑھی جائیں، اس میں بھی دو رائے ہے ایک رائے تو یہ ہے کہ ایک سلام کے ساتھ چاروں رکعتیں پڑھی جائیں، اور دوسری رائے یہ ہے کہ دو دو کر کے چار رکعتیں پڑھی جائیں، کیونکہ صحیح حدیث میں ہے «صلاۃ اللیل والنہارمثنیٰ مثنیٰ» رات اور دن کی (نفلی نمازیں) دو دو کر کے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجمعة 18 (881)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 244 (1131)، سنن الترمذی/الصلاة (الجمعة 24) (523)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 95 (1130)، (تحفة الأشراف: 12597)، سنن الدارمی/الصلاة 207 (1616) (صحیح)