📖 صحيح مسلم (Sahih Muslim) • تمام 54 کتب ↗

كِتَاب الزَّكَاةِ

کتاب #12: زکاۃ کے احکام و مسائل

کتاب کے ابواب • حدیث: 2263 تا 2494 • کل احادیث: 232
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1ق: باب لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ:
باب: پانچ وسق سے کم میں زکوٰۃ نہیں۔
وحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَمْرَو بْنَ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ فَأَخْبَرَنِي، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ "،
سفیان بن عیینہ نے کہا: میں نے عمرو بن یحییٰ بن عمارہ سے پوچھا تو انہوں نے مجھے اپنے والد سے خبر دی، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ وسق سے کم (غلے یا کھجور) میں صدقہ (زکاۃ) نہیں اور نہ پانچ سے کم اونٹوں میں صدقہ ہے اور نہ ہی پانچ اوقیہ سے کم (چاندی) میں صدقہ ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2263]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، كِلَاهُمَا، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ،
یحییٰ بن سعید نے عمرو بن یحییٰ سے مذکورہ بالا سند کے ساتھ اسی کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2264]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِيهِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " وَأَشَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَفِّهِ بِخَمْسِ أَصَابِعِهِ "، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
ابن جریج نے کہا: مجھے عمرو بن یحییٰ بن عمارہ نے اپنے والد یحییٰ بن عمارہ سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی سے اپنی پانچوں انگلیوں سے اشارہ کیا۔۔۔ پھر (ابن جریج نے سفیان) بن عیینہ کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2265]
وحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ ".
عمارہ بن غزیہ نے یحییٰ بن عمارہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ وسق سے کم (کھجور یا غلے) میں صدقہ نہیں اور پانچ سے کم اونٹوں میں صدقہ نہیں اور پانچ اوقیہ سے کم (چاندی) میں صدقہ نہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2266]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ مِنْ تَمْرٍ، وَلَا حَبٍّ صَدَقَةٌ ".
وکیع نے سفیان سے، انہوں نے اسماعیل بن امیہ سے، انہوں نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے، انہوں نے یحییٰ بن عمارہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ وسق سے کم کھجور اور غلے میں صدقہ نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2267]
وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ فِي حَبٍّ وَلَا تَمْرٍ صَدَقَةٌ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ "،
عبدالرحمان بن مہدی نے سفیان سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ غلے میں صدقہ ہے نہ کھجور میں حتیٰ کہ وہ پانچ وسق تک پہنچ جائیں اور نہ پانچ سے کم اونٹوں میں صدقہ ہے اور نہ پانچ اوقیہ سے کم (چاندی) میں صدقہ ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2268]
وحَدَّثَنِي عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ مَهْدِيٍّ،
یحییٰ بن آدم نے کہا: ہمیں سفیان ثوری نے اسماعیل بن امیہ سے اسی مذکورہ بالا سند کے ساتھ ابن مہدی کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2269]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، وَمَعْمَرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ مَهْدِيٍّ، وَيَحْيَى بْنِ آدَمَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ بَدَلَ " التَّمْرِ ": " ثَمَرٍ ".
عبدالرزاق نے کہا: ہمیں ثوری اور معمر نے اسماعیل بن امیہ سے اسی سند کے ساتھ، ابن مہدی اور یحییٰ بن آدم کی حدیث کی طرح بیان کیا، البتہ انہوں نے تمر (کھجور) کے بجائے ثمر (پھل) کہا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2270]
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ مِنَ الْإِبِلِ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ صَدَقَةٌ ".
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں صدقہ نہیں اور نہ پانچ اونٹوں سے کم میں صدقہ ہے اور نہ ہی پانچ وسق سے کم کھجوروں میں صدقہ ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2271]
1: باب مَا فِيهِ الْعُشْرُ أَوْ نِصْفُ الْعُشْرِ:
باب: عشر اور نصف عشر کا بیان۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وعمرو بن سواد ، والوليد بن شجاع ، كلهم، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَذْكُرُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فِيمَا سَقَتِ الْأَنْهَارُ وَالْغَيْمُ الْعُشُورُ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالسَّانِيَةِ نِصْفُ الْعُشْرِ ".
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: ”جس (کھیتی) کو دریا کا پانی یا بارش سیراب کرے ان میں عشر (دسواں حصہ) ہے اور جس کو اونٹ (وغیرہ کسی جانور کے ذریعے) سے سیراب کیا جائے ان میں نصف عشر (بیسواں حصہ) ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2272]
2: باب لاَ زَكَاةَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَفَرَسِهِ:
باب: غلام اور گھوڑے پر زکوٰۃ نہیں۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " ليس على الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلَا فَرَسِهِ صَدَقَةٌ ".
عبداللہ بن دینار نے سلیمان بن یسار سے، انہوں نے عراک بن مالک سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کے ذمے نہ اس کے غلام میں صدقہ (زکاۃ) ہے اور نہ اس کے گھوڑے میں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2273]
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ عَمْرٌو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ زُهَيْرٌ يَبْلُغُ بِهِ: " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلَا فَرَسِهِ صَدَقَةٌ "،
عمرو الناقد اور زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں ایوب بن موسیٰ نے مکحول سے حدیث بیان کی، انہوں نے سلیمان بن یسار سے، انہوں نے عراک بن مالک سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔۔۔ عمرو نے کہا: (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور زہیر نے کہا: انہوں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچایا یعنی آپ سے بیان کیا۔۔۔ ”مسلمان پر اس کے غلام اور گھوڑے میں صدقہ نہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2274]
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، كُلُّهُمْ، عَنْ خُثَيْمِ بْنِ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
خثیم بن عراک بن مالک نے اپنے والد (عراک بن مالک) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی (مذکورہ بالا حدیث) کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2275]
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وأحمد بن عيسى ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَ فِي الْعَبْدِ صَدَقَةٌ، إِلَّا صَدَقَةُ الْفِطْرِ ".
مخرمہ نے اپنے والد (بکیر بن عبداللہ) سے، انہوں نے عراک بن مالک سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ آپ نے فرمایا: ”(مالک پر) غلام (کے معاملے) میں صدقہ فطر کے سوا کوئی صدقہ نہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2276]
3: باب فِي تَقْدِيمِ الزَّكَاةِ وَمَنْعِهَا:
باب: زکوٰۃ کی تقدیم اور اس سے روکنا۔
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَقِيلَ: مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالْعَبَّاسُ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللَّهُ، وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا، قَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ، وَأَعْتَادَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَمَّا الْعَبَّاسُ فَهِيَ عَلَيَّ، وَمِثْلُهَا مَعَهَا، ثُمَّ قَالَ: يَا عُمَرُ أَمَا شَعَرْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زکاۃ کی وصولی کے لیے بھیجا تو (بعد میں آپ سے) کہا گیا کہ ابن جمیل، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی اللہ عنہ نے زکاۃ روک لی ہے (نہیں دی) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن جمیل تو اس کے علاوہ کسی اور بات کا بدلہ نہیں لے رہا کہ وہ پہلے فقیر تھا تو اللہ نے اسے غنی کر دیا، رہے خالد تو تم ان پر زیادتی کر رہے ہو۔ انہوں نے اپنی زرہیں اور ہتھیار (جنگی ساز و سامان) اللہ کی راہ میں وقف کر رکھے ہیں، باقی رہے عباس تو ان کی زکاۃ میرے ذمے ہے اور اتنی اس کے ساتھ اور بھی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! کیا تمہیں معلوم نہیں، انسان کا چچا اس کے باپ جیسا ہوتا ہے؟“ (ان کی زکاۃ تم مجھ سے طلب کر سکتے تھے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 2277]
4: باب زَكَاةِ الْفِطْرِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ:
باب: مسلمانوں پر کھجور اور جو میں سے صدقہ فطر کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ عَلَى النَّاسِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ، أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ، أَوْ أُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ ".
امام مالک رحمہ اللہ نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں پر رمضان کا صدقہ فطر (فطرانہ) کھجور یا جو کا ایک صاع (فی کس) مقرر کیا، وہ (فرد) مسلمانوں میں سے آزاد ہو یا غلام، مرد یا عورت۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2278]
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، عَلَى كُلِّ عَبْدٍ أَوْ حُرٍّ، صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ ".
عبید اللہ نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام یا آزاد، چھوٹے یا بڑے ہر کسی پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو صدقہ فطر (فطرانہ) فرض قرار دیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2279]
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " فَرَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ رَمَضَانَ عَلَى الْحُرِّ وَالْعَبْدِ وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ "، قَالَ: فَعَدَلَ النَّاسُ بِهِ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ.
ایوب نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد ہو یا غلام، مرد ہو یا عورت ہر کسی پر رمضان کا صدقہ کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع مقرر فرمایا۔ کہا: لوگوں نے گندم کا نصف صاع اس (جو) کے (ایک صاع کے) مساوی قرار دیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2280]
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ صَاعٍ مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعٍ مِنْ شَعِيرٍ "، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَجَعَلَ النَّاسُ عَدْلَهُ مُدَّيْنِ مِنْ حِنْطَةٍ.
لیث نے نافع سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع صدقہ فطر (ادا) کرنے کا حکم دیا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تو لوگوں نے گندم کے دو مد اس (جو) کے ایک صاع کے برابر قرار دے لیے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2281]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ، أَوْ رَجُلٍ أَوِ امْرَأَةٍ، صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ".
ضحاک نے نافع سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں مسلمانوں میں سے ہر انسان پر آزاد یا غلام، مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا کھجوروں کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع صدقہ فطر مقرر فرمایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2282]
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: " كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ ".
زید بن اسلم نے عیاض بن عبداللہ بن سعد بن ابی سرح سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: ہم زکاۃ الفطر طعام (گندم) کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع یا کھجوروں کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع یا منقے کا ایک صاع نکالا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2283]
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: " كُنَّا نُخْرِجُ إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ، عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ مَمْلُوكٍ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ "، فَلَمْ نَزَلْ نُخْرِجُهُ حَتَّى قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا، فَكَلَّمَ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَكَانَ فِيمَا كَلَّمَ بِهِ النَّاسَ، أَنْ قَالَ: إِنِّي أَرَى أَنَّ مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، فَأَخَذَ النَّاسُ بِذَلِكَ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَمَّا أَنَا فَلَا أَزَالُ أُخْرِجُهُ كَمَا كُنْتُ أُخْرِجُهُ أَبَدًا مَا عِشْتُ.
داود بن قیس نے عیاض بن عبداللہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں موجود تھے تو ہم ہر چھوٹے بڑے آزاد اور غلام کی طرف سے طعام (گندم) کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع یا کھجوروں کا ایک صاع یا منقے کا ایک صاع زکاۃ الفطر (فطرانہ) نکالتے تھے اور ہم اسی کے مطابق نکالتے رہے یہاں تک کہ ہمارے پاس (امیر المومنین) معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما حج یا عمرہ ادا کرنے کے لیے تشریف لائے اور منبر پر لوگوں کو خطاب کیا اور لوگوں سے جو گفتگو کی اس میں یہ بھی کہا: ”میں یہ سمجھتا ہوں کہ شام سے آنے والی (مہنگی) گندم کے دو مد (نصف صاع) کھجوروں کے ایک صاع کے برابر ہیں۔“ اس کے بعد لوگوں نے اس قول کو اپنا لیا۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”لیکن میں جب تک ہوں زندگی بھر ہمیشہ اسی طرح نکالتا رہوں گا جس طرح (عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں) نکالا کرتا تھا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2284]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: " كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا، عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ حُرٍّ وَمَمْلُوكٍ، مِنْ ثَلَاثَةِ أَصْنَافٍ: صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ "، فَلَمْ نَزَلْ نُخْرِجُهُ كَذَلِكَ، حَتَّى كَانَ مُعَاوِيَةُ فَرَأَى أَنَّ مُدَّيْنِ مِنْ بُرٍّ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَمَّا أَنَا فَلَا أَزَالُ أُخْرِجُهُ كَذَلِكَ.
اسماعیل بن امیہ نے کہا: مجھے عیاض بن عبداللہ بن سعد بن ابی سرح نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں زکاۃ الفطر ہر چھوٹے بڑے آزاد اور غلام کی طرف سے تین (قسم کی) اصناف سے نکالتے تھے: کھجوروں سے ایک صاع، پنیر سے ایک صاع اور جو سے ایک صاع، ہم ہمیشہ اس کے مطابق نکالتے رہے یہاں تک کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کا دور آیا تو انہوں نے یہ رائے پیش کی کہ گندم کے دو مد کھجوروں کے ایک صاع کے برابر ہیں۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”لیکن میں تو اسی (پہلے طریقے سے) نکالتا رہوں گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2285]
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: " كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ ثَلَاثَةِ أَصْنَافٍ: الْأَقِطِ، وَالتَّمْرِ، وَالشَّعِيرِ ".
حارث بن عبدالرحمان بن ابی ذباب نے عیاض بن عبداللہ بن ابی سرح سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم فطرانہ ان تین اجناس سے نکالا کرتے تھے: پنیر، کھجور اور جو۔ (یہی ان کی بنیادی خوردنی اجناس تھیں۔) [صحيح مسلم/حدیث: 2286]
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ لَمَّا جَعَلَ نِصْفَ الصَّاعِ مِنَ الْحِنْطَةِ عَدْلَ صَاعٍ مِنْ تَمْرٍ، أَنْكَرَ ذَلِكَ أَبُو سَعِيدٍ وَقَالَ: " لَا أُخْرِجُ فِيهَا إِلَّا الَّذِي كُنْتُ أُخْرِجُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ ".
ابن عجلان نے عیاض بن عبداللہ بن ابی سرح سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما نے گندم کے آدھے صاع کو کھجوروں کے صاع کے برابر قرار دیا تو ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اس بات (کو ماننے) سے انکار کیا اور کہا: ”میں فطرانہ میں اس کے سوا اور کچھ نہ نکالوں گا جو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں نکالا کرتا تھا (اور وہ ہے) کھجوروں کا ایک صاع یا منقے کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2287]
5: باب الأَمْرِ بِإِخْرَاجِ زَكَاةِ الْفِطْرِ قَبْلَ الصَّلاَةِ:
باب: عیدالفطر کی نماز ادا کرنے سے پہلے صدقہ فطر ادا کیا جائے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ ".
موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فطرانے کے بارے میں یہ حکم دیا کہ اسے نماز عید کی طرف لوگوں کے نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2288]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَ بِإِخْرَاجِ زَكَاةِ الْفِطْرِ أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ ".
ضحاک نے نافع سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر نکالنے کے بارے میں یہ حکم دیا کہ اسے لوگوں کے عید کے نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2289]
6: باب إِثْمِ مَانِعِ الزَّكَاةِ:
باب: زکوٰۃ نہ دینے کا عذاب۔
وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ مَيْسَرَةَ الصَّنْعَانِيَّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّ أَبَا صَالِحٍ ذَكْوَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ وَلَا فِضَّةٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا، إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ صُفِّحَتْ لَهُ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ، فَأُحْمِيَ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ، فَيُكْوَى بِهَا جَنْبُهُ وَجَبِينُهُ وَظَهْرُهُ، كُلَّمَا بَرَدَتْ أُعِيدَتْ لَهُ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ، فَيَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْإِبِلُ؟، قَالَ: وَلَا صَاحِبُ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا، وَمِنْ حَقِّهَا حَلَبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا، إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ أَوْفَرَ مَا كَانَتْ، لَا يَفْقِدُ مِنْهَا فَصِيلًا وَاحِدًا، تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا وَتَعَضُّهُ بِأَفْوَاهِهَا، كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ أُولَاهَا رُدَّ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ، فَيَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْبَقَرُ وَالْغَنَمُ؟، قَالَ: وَلَا صَاحِبُ بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا، إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، لَا يَفْقِدُ مِنْهَا شَيْئًا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ وَلَا جَلْحَاءُ وَلَا عَضْبَاءُ، تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا، كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ أُولَاهَا رُدَّ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ، فَيَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْخَيْلُ؟، قَالَ: الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ: هِيَ لِرَجُلٍ وِزْرٌ، وَهِيَ لِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، فَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ وِزْرٌ، فَرَجُلٌ رَبَطَهَا رِيَاءً وَفَخْرًا وَنِوَاءً عَلَى أَهْلِ الْإِسْلَامِ، فَهِيَ لَهُ وِزْرٌ، وَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ، فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ لَمْ يَنْسَ حَقَّ اللَّهِ فِي ظُهُورِهَا وَلَا رِقَابِهَا، فَهِيَ لَهُ سِتْرٌ، وَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ، فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ، فِي مَرْجٍ وَرَوْضَةٍ فَمَا أَكَلَتْ مِنْ ذَلِكَ الْمَرْجِ أَوِ الرَّوْضَةِ مِنْ شَيْءٍ، إِلَّا كُتِبَ لَهُ عَدَدَ مَا أَكَلَتْ حَسَنَاتٌ، وَكُتِبَ لَهُ عَدَدَ أَرْوَاثِهَا وَأَبْوَالِهَا حَسَنَاتٌ، وَلَا تَقْطَعُ طِوَلَهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ، إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَدَدَ آثَارِهَا وَأَرْوَاثِهَا حَسَنَاتٍ، وَلَا مَرَّ بِهَا صَاحِبُهَا عَلَى نَهْرٍ، فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَا يُرِيدُ أَنْ يَسْقِيَهَا، إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَدَدَ مَا شَرِبَتْ حَسَنَاتٍ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْحُمُرُ؟، قَالَ: مَا أُنْزِلَ عَلَيَّ فِي الْحُمُرِ شَيْءٌ إِلَّا هَذِهِ الْآيَةَ الْفَاذَّةُ الْجَامِعَةُ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ {7} وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ {8} سورة الزلزلة آية 7-8 "،
حفص بن میسرہ صنعانی نے زید بن اسلم سے حدیث بیان کی کہ ان کو ابوصالح ذکوان نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی سونے اور چاندی کا مالک ان میں سے (یا ان کی قیمت میں سے) ان کا حق (زکاۃ) ادا نہیں کرتا تو جب قیامت کا دن ہوگا (انہیں) اس کے لیے آگ کی تختیاں بنا دیا جائے گا اور انہیں جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا اور پھر ان سے اس کے پہلو، اس کی پیشانی اور اس کی پشت کو داغا جائے گا، جب وہ (تختیاں) پھر سے (آگ میں) جائیں گی، انہیں پھر سے اس کے لیے واپس لایا جائے گا، اس دن جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے (یہ عمل مسلسل ہوتا رہے گا) حتیٰ کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا، پھر وہ جنت یا دوزخ کی طرف اپنا راستہ دیکھ لے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ”اے اللہ کے رسول! اونٹوں کا کیا حکم ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی اونٹوں کا مالک نہیں جو ان کا حق ادا نہیں کرتا اور ان کا حق یہ بھی ہے کہ ان کو پانی پلانے کے دن (ضرورت مندوں اور مسافروں کے لیے) ان کا دودھ نکالا جائے، اور جب قیامت کا دن ہوگا اس (مالک) کو ایک وسیع چٹیل میدان میں ان (اونٹوں) کے سامنے بچھا (لٹا) دیا جائے گا، وہ (اونٹ دنیا میں تعداد اور فربہی کے اعتبار سے) جتنے زیادہ سے زیادہ وافر تھے اس حالت میں ہوں گے، وہ ان میں سے دودھ چھڑائے ہوئے ایک بچے کو بھی گم نہیں پائے گا، وہ اسے اپنے قدموں سے روندیں گے اور اپنے منہ سے کاٹیں گے، جب بھی ان میں سے پہلا اونٹ اس پر سے گزر جائے گا تو دوسرا اس پر واپس لے آیا جائے گا، یہ اس دن میں (بار بار) ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی، یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے گا اور اسے جنت یا دوزخ کی طرف اس کا راستہ دیکھایا جائے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی: ”اے اللہ کے رسول! تو گائے اور بکریاں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور نہ گائے اور بکریوں کا کوئی مالک ہوگا جو ان کا حق ادا نہیں کرتا، مگر جب قیامت کا دن ہوگا تو اسے ان کے سامنے وسیع چٹیل میدان میں بچھایا (لٹایا) جائے گا۔ وہ ان میں سے کسی ایک (جانور) کو بھی گم نہیں پائے گا۔ ان میں کوئی (گائے یا بکری) نہ مڑے سینگوں والی ہوگی، نہ بغیر سینگوں کے اور نہ ہی کوئی ٹوٹے سینگوں والی ہوگی (سب سیدھے تیز سینگوں والی ہوں گی)، وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے سموں سے روندیں گی، (یہ معاملہ) اس دن میں (ہوگا) جو پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا، جب پہلا (جانور) گزر جائے گا تو ان کا دوسرا (جانور واپس) لے آیا جائے گا حتیٰ کہ بندوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے گا، اور اسے جنت یا دوزخ کی طرف اس کا راستہ دیکھایا جائے گا۔“ عرض کی گئی: ”اے اللہ کے رسول! تو گھوڑے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑے تین طرح کے ہیں: وہ جو آدمی کے بوجھ ہیں، دوسرے وہ جو آدمی کے لیے ستر (پردہ پوشی کا باعث) ہیں، تیسرے وہ جو آدمی کے لیے اجر وثواب کا باعث ہیں۔ بوجھ اور گناہ کا باعث وہ گھوڑے ہیں جن کو ان کا مالک ریاکاری، فخر وغرور، اور مسلمانوں کی دشمنی کے لیے باندھتا ہے تو یہ گھوڑے اس کے لیے بوجھ (گناہ) ہیں۔ اور وہ جو اس کے لیے پردہ پوشی کا باعث ہیں تو وہ (اس) آدمی (کے گھوڑے ہیں) جس نے انہیں (موقع ملنے پر) اللہ کی راہ میں (خود جہاد کرنے کے لیے) باندھ رکھا ہے، پھر وہ ان کی پشتوں اور گردنوں میں اللہ کے حق کو نہیں بھولا تو یہ اس کے لیے باعث ستر ہیں (چاہے اسے جہاد کا موقع ملے یا نہ ملے) اور وہ گھوڑے جو اس کے لیے اجر وثواب کا باعث ہیں تو وہ (اس) آدمی (کے گھوڑے ہیں) جس نے انہیں اللہ کی راہ میں اہل اسلام کی خاطر کسی چراگاہ یا باغیچے میں باندھ رکھا ہے (اور وہ خود جہاد پر جا سکے یا نہ جا سکے انہیں دوسروں کو جہاد کے لیے دیتا ہے) یہ گھوڑے اس چراگاہ یا باغ میں سے جتنا بھی کھائیں گے تو اس شخص کے لیے اتنی تعداد میں نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور اس شخص کے لیے ان کی لید اور پیشاب کی مقدار کے برابر (بھی) نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور وہ گھوڑے اپنی رسی تڑوا کر ایک دو ٹیلوں کی دوڑ نہیں لگائیں گے مگر اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے ان کے قدموں کے نشانات اور لید کی تعداد کے برابر نیکیاں لکھ دے گا اور نہ ہی ان کا مالک انہیں لے کر کسی نہر پر سے گزرے گا اور وہ گھوڑے اس نہر میں سے پانی پیئں گے جبکہ وہ (مالک) ان کو پانی پلانا (بھی) نہیں چاہتا مگر اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے اتنی نیکیاں لکھ دے گا جتنا ان گھوڑوں نے پانی پیا۔“ عرض کی گئی: ”اے اللہ کے رسول! اور گدھے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر گدھوں کے بارے میں اس منفرد اور جامع آیت کے سوا کوئی چیز نازل نہیں کی گئی: فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ۝ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ ’جو کوئی ایک زرے کی مقدار میں نیکی کرے گا (قیامت کے دن) اسے دیکھ لے گا اور جو کوئی ایک زرے کے برابر بُرائی کرے گا اسے دیکھ لے گا۔‘“ [صحيح مسلم/حدیث: 2290]
وحَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ إِلَى آخِرِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا " وَلَمْ يَقُلْ: " مِنْهَا حَقَّهَا "، وَذَكَرَ فِيهِ: " لَا يَفْقِدُ مِنْهَا فَصِيلًا وَاحِدًا "، وَقَالَ: " يُكْوَى بِهَا جَنْبَاهُ وَجَبْهَتُهُ وَظَهْرُهُ ".
ہشام بن سعد نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ حفص بن میسرہ کی حدیث کے آخر تک اس کے ہم معنی روایت بیان کی، البتہ انہوں نے ”جو اونٹوں کا مالک ان کا حق ادا نہیں کرتا“ کہا: اور ومن حقها (اور میں سے ان کا حق) کے الفاظ نہیں کہے اور انہوں نے (بھی) اپنی حدیث میں ”وہ ان میں سے دودھ چھڑائے ہوئے ایک بچے کو بھی گم نہ پائے گا“ کے الفاظ روایت کیے ہیں اور اسی طرح (ان سے اس کے پہلو، پیشانی اور کمر کو داغا جائے گا کے بجائے) يكوى بها جنباه وجبخته وظهره (اس کے دونوں پہلو، اس کی پیشانی اور کمر کو داغا جائے گا) کے الفاظ کہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2291]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ صَاحِبِ كَنْزٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهُ، إِلَّا أُحْمِيَ عَلَيْهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، فَيُجْعَلُ صَفَائِحَ فَيُكْوَى بِهَا جَنْبَاهُ وَجَبِينُهُ، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا، إِلَّا بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، كَأَوْفَرِ مَا كَانَتْ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ، كُلَّمَا مَضَى عَلَيْهِ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا، إِلَّا بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، كَأَوْفَرِ مَا كَانَتْ، فَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ وَلَا جَلْحَاءُ، كُلَّمَا مَضَى عَلَيْهِ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ، قَالَ سُهَيْلٌ: فَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ الْبَقَرَ أَمْ لَا؟، قَالُوا: فَالْخَيْلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا، أَوَ قَالَ: الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا، قَالَ سُهَيْلٌ: أَنَا أَشُكُّ الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ: فَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَلِرَجُلٍ وِزْرٌ، فَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ، فَالرَّجُلُ يَتَّخِذُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَيُعِدُّهَا لَهُ، فَلَا تُغَيِّبُ شَيْئًا فِي بُطُونِهَا إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَجْرًا، وَلَوْ رَعَاهَا فِي مَرْجٍ مَا أَكَلَتْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا أَجْرًا، وَلَوْ سَقَاهَا مِنْ نَهْرٍ كَانَ لَهُ بِكُلِّ قَطْرَةٍ تُغَيِّبُهَا فِي بُطُونِهَا أَجْرٌ، حَتَّى ذَكَرَ الْأَجْرَ فِي أَبْوَالِهَا وَأَرْوَاثِهَا، وَلَوِ اسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ تَخْطُوهَا أَجْرٌ، وَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ، فَالرَّجُلُ يَتَّخِذُهَا تَكَرُّمًا وَتَجَمُّلًا، وَلَا يَنْسَى حَقَّ ظُهُورِهَا وَبُطُونِهَا فِي عُسْرِهَا وَيُسْرِهَا، وَأَمَّا الَّذِي عَلَيْهِ وِزْرٌ، فَالَّذِي يَتَّخِذُهَا أَشَرًا وَبَطَرًا وَبَذَخًا وَرِيَاءَ النَّاسِ، فَذَاكَ الَّذِي هِيَ عَلَيْهِ وِزْرٌ، قَالُوا: فَالْحُمُرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيَّ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا هَذِهِ الْآيَةَ الْجَامِعَةَ الْفَاذَّةَ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ {7} وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ {8} سورة الزلزلة آية 7-8 "،
عبدالعزیز بن مختار نے کہا: ہمیں سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھی خزانے کا مالک نہیں جو اس کی زکاۃ ادا نہیں کرتا، مگر اس کے خزانے کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اس کی تختیاں بنائی جائیں گی اور ان سے اس کے دونوں پہلوؤں اور پیشانی کو داغا جائے گا حتیٰ کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے گا، (یہ) اس دن میں ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے، پھر اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ اور کوئی بھی اونٹوں کا مالک نہیں جو ان کی زکاۃ ادا نہیں کرتا مگر اسے ان (اونٹوں) کے سامنے وسیع چٹیل میدان میں لٹایا جائے گا جبکہ وہ اونٹ (تعداد اور جسامت میں) جتنے زیادہ سے زیادہ وافر تھے اس حالت میں ہوں گے (وہ) اس کے اوپر دوڑ لگائیں گے۔ جب بھی ان میں آخری اونٹ گزرے گا پہلا اونٹ، اس پر دوبارہ لایا جائے گا، حتیٰ کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے گا۔ (یہ) ایک ایسے دن میں (ہوگا) جو پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا، پھر اسے جنت یا دوزخ کی طرف اس کا راستہ دیکھا دیا جائے گا۔ اور جو بھی بکریوں کا مالک ان کی زکاۃ ادا نہیں کرتا تو اسے وہ وافر ترین حالت میں جس میں وہ تھیں، ان کے سامنے ایک وسیع وعریض چٹیل میدان میں بچھا (لٹا) دیا جائے گا، وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گی اور اپنے سینگوں سے ماریں گی۔ ان میں نہ کوئی مڑے سینگوں والی ہوگی اور نہ بغیر سینگوں کے۔ جب بھی آخری بکری گزرے گی اسی وقت پہلی دوبارہ اس پر لائی جائے گی۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسے دن میں جو پچاس ہزار سال کے برابر ہے، اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔ پھر اسے جنت یا دوزخ کی طرف اس کا راستہ دکھایا جائے گا۔“ سہیل نے کہا: میں نے نہیں جانتا کہ آپ نے گائے کا تذکرہ فرمایا یا نہیں۔ صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! تو گھوڑے (کا کیا حکم ہے؟)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن تک خیر، گھوڑوں کی پیشانی میں ہے۔۔۔“ یا فرمایا: ”گھوڑوں کی پیشانی سے بندھی ہوئی ہے۔۔۔“ سہیل نے کہا: مجھے شک ہے۔۔۔ (فرمایا) ”گھوڑے تین قسم کے ہیں۔ یہ ایک آدمی کے لیے باعث اجر ہیں، ایک آدمی کے لیے پردہ پوشی کا باعث ہیں۔ اور ایک کے لیے بوجھ اور گناہ کا سبب ہیں۔ وہ گھوڑے جو اس (مالک) کے لیے اجر (کا سبب) ہیں تو (ان کا مالک) وہ آدمی ہے جو انہیں اللہ کے راستے میں (جہاد کے لیے) پالتا ہے۔ اور تیار کرتا ہے تو یہ گھوڑے کوئی چیز اپنے پیٹ میں نہیں ڈالتے مگر اللہ اس کی وجہ سے اس کے لیے اجر لکھ دیتا ہے۔ اگر وہ انہیں چراگاہ میں چراتا ہے تو وہ کوئی چیز بھی نہیں کھاتے۔ مگر اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے اجر لکھ دیتا ہے۔ اور اگر وہ انہیں کسی نہر سے پانی پلاتا ہے تو پانی کے ہر قطرے کے بدلے جسے وہ اپنے پیٹ میں اتارتے ہیں۔ اس کے لیے اجر ہے۔ حتیٰ کہ آپ نے ان کے پیشاب اور لید کرنے میں بھی اجر ملنے کا تذکرہ کیا۔۔۔ اور اگر یہ گھوڑے ایک یا دو ٹیلوں (کا فاصلہ) دوڑیں۔ تو اس کے لیے ان کے ہر قدم کے عوض جو وہ اٹھاتے ہیں، اجر لکھ دیا جاتا ہے۔ اور وہ انسان جس کے لیے یہ باعث پردہ ہیں تو وہ آدمی ہے جو انہیں عزت وشرف اور زینت کے طور پر رکھتا ہے۔ اور وہ تنگی اور آسانی (ہر حالت) میں ان کی پشتوں اور ان کے پیٹوں کا حق نہیں بھولتا۔ رہا وہ آدمی جس کے لیے وہ بوجھ ہیں تو وہ شخص ہے جو انہیں ناسپاسی کے طور پر، غرور اور تکبر کرنے اور لوگوں کو دکھانے کے لیے رکھتا ہے تو وہی ہے جس کے لیے یہ گھوڑے بوجھ کا باعث ہیں۔“ لوگوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! تو گدھے (ان کا کیا حکم ہے؟)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ان کے بارے میں اس منفرد اور جامع آیت کے سوا کچھ نازل نہیں کیا: فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ۝ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ ’تو جو کوئی زرہ برابر نیکی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا۔‘“ [صحيح مسلم/حدیث: 2292]
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ،
عبدالعزیز دراوردی نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور (پوری) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2293]
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ بَدَلَ " عَقْصَاءُ ": " عَضْبَاءُ "، وَقَالَ: " فَيُكْوَى بِهَا جَنْبُهُ وَظَهْرُهُ "، وَلَمْ يَذْكُر: " جَبِينُهُ "،
روح بن قاسم نے کہا: ہمیں سہیل بن ابی صالح نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور عقصاء (مڑے ہوئے سینگوں والی) کے بجائے عضباء (ٹوٹے ہوئے سینگوں والی) کہا: ”اور اس کے ذریعے سے اس کا پہلو اور اس کی پشت داغی جائے گی۔“ کہا اور پیشانی کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2294]
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا لَمْ يُؤَدِّ الْمَرْءُ حَقَّ اللَّهِ أَوِ الصَّدَقَةَ فِي إِبِلِهِ "، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ.
بکیر نے (ابوصالح) ذکوان سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب انسان اپنے اونٹوں میں اللہ کا حق یا زکاۃ ادا نہیں کرتا۔۔۔“ آگے سہیل کی روایت کی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2295]
حَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا، إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ قَطُّ، وَقَعَدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ بِقَوَائِمِهَا وَأَخْفَافِهَا، وَلَا صَاحِبِ بَقَرٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا، إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ، وَقَعَدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِقَوَائِمِهَا، وَلَا صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا، إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ، وَقَعَدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا، لَيْسَ فِيهَا جَمَّاءُ وَلَا مُنْكَسِرٌ قَرْنُهَا، وَلَا صَاحِبِ كَنْزٍ لَا يَفْعَلُ فِيهِ حَقَّهُ، إِلَّا جَاءَ كَنْزُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُهُ فَاتِحًا فَاهُ، فَإِذَا أَتَاهُ فَرَّ مِنْهُ، فَيُنَادِيهِ خُذْ كَنْزَكَ الَّذِي خَبَأْتَهُ فَأَنَا عَنْهُ غَنِيٌّ، فَإِذَا رَأَى أَنْ لَا بُدَّ مِنْهُ سَلَكَ يَدَهُ فِي فِيهِ، فَيَقْضَمُهَا قَضْمَ الْفَحْلِ "، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ هَذَا الْقَوْلَ، ثُمَّ سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، وقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُّ الْإِبِلِ؟، قَالَ: " حَلَبُهَا عَلَى الْمَاءِ، وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا، وَإِعَارَةُ فَحْلِهَا وَمَنِيحَتُهَا، وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ".
ابن جریج نے کہا: مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”کوئی اونٹوں کا مالک نہیں جو ان کے معاملے میں اس طرح نہیں کرتا جس طرح ان کا حق ہے مگر وہ قیامت کے دن اپنی انتہائی زیادہ تعداد میں آئیں گے جو کبھی ان کی تھی اور وہ ان (اونٹوں) کے سامنے وسیع چٹیل میدان میں بیٹھے گا اور وہ اسے اپنے اگلے قدموں اور اپنے پاؤں سے روندیں گے۔ اسی طرح کوئی گائے کا مالک نہیں جو ان کا حق ادا نہیں کرتا مگر وہ قیامت کے دن اس سے زیادہ سے زیادہ تعداد میں آئیں گی جو کبھی ان کی تھی۔ اور وہ ان کے سامنے چٹیل میدان میں بیٹھے گا، وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے پیروں سے روندیں گی اور اسی طرح بکریوں کا کوئی مالک نہیں جو ان کا حق ادا نہیں کرتا تو وہ قیامت کے دن اپنی زیادہ سے زیادہ تعداد میں آئیں گی جو کبھی ان کی تھی اور وہ ان کے سامنے وسیع چٹیل میدان میں بیٹھے گا اور وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے سموں سے اسے روندیں گی اور ان میں نہ کوئی سینگوں کے بغیر ہوگی اور نہ ہی کوئی ٹوٹے سینگوں والی ہوگی اور کوئی (سونے چاندی کے) خزانے کا مالک نہیں جو اس کا حق ادا نہیں کرتا مگر قیامت کے دن اس کا خزانہ گنجا سانپ بن کر آئے گا اور اپنا منہ کھولے ہوئے اس کا تعاقب کرے گا، جب اس کے پاس پہنچے گا تو وہ اس سے بھاگے گا، پھر وہ (سانپ) اسے آواز دے گا: اپنا خزانہ لے لو جو تم نے (دنیا میں) چھپا کر رکھا تھا۔ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ جب (خزانے والا) دیکھے گا اس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں تو وہ اپنا ہاتھ اس (سانپ) کے منہ میں داخل کرے گا، وہ اسے اس طرح چبائے گا جس طرح سانڈھ چباتا ہے۔“ ابوزبیر نے کہا: میں نے عبید بن عمیر کو یہ بات کہتے ہوئے سنا، پھر ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اس (حدیث) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اسی طرح کہا جس طرح عبید بن عمیر نے کہا۔ اور ابوزبیر نے کہا: میں نے عبید بن عمیر کو کہتے ہوئے سنا ایک آدمی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اونٹوں کا حق کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی (پلانے کا موقع) پر ان کا دودھ دوہنا (اور لوگوں کو پلانا) اور اس کا ڈول ادھار دینا اور اس کا سانڈ ادھار دینا اور اونٹنی کو دودھ پینے کے لیے دینا اور اللہ کی راہ میں سواری کی خاطر دینا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2296]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلَا بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا، إِلَّا أُقْعِدَ لَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، تَطَؤُهُ ذَاتُ الظِّلْفِ بِظِلْفِهَا، وَتَنْطَحُهُ ذَاتُ الْقَرْنِ بِقَرْنِهَا لَيْسَ فِيهَا يَوْمَئِذٍ جَمَّاءُ وَلَا مَكْسُورَةُ الْقَرْنِ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا حَقُّهَا؟، قَالَ: إِطْرَاقُ فَحْلِهَا، وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا وَمَنِيحَتُهَا، وَحَلَبُهَا عَلَى الْمَاءِ، وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَا مِنْ صَاحِبِ مَالٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهُ، إِلَّا تَحَوَّلَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُ صَاحِبَهُ حَيْثُمَا ذَهَبَ، وَهُوَ يَفِرُّ مِنْهُ، وَيُقَالُ: هَذَا مَالُكَ الَّذِي كُنْتَ تَبْخَلُ بِهِ، فَإِذَا رَأَى أَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْهُ، أَدْخَلَ يَدَهُ فِي فِيهِ فَجَعَلَ يَقْضَمُهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ ".
عبدالملک نے ابوزبیر سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹوں، گائے اور بکریوں کا جو بھی مالک ان کا حق ادا نہیں کرتا تو اسے قیامت کے دن ان کے سامنے وسیع چٹیل میدان میں بٹھایا جائے گا۔ سموں والا جانور اسے اپنے سموں سے روندے گا اور سینگوں والا اسے اپنے سینگوں سے مارے گا، ان میں سے اس دن نہ کوئی (گائے یا بکری) بغیر سینگ کے ہوگی اور نہ ہی کوئی ٹوٹے ہوئے سینگوں والی ہوگی۔“ ہم نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! ان کا حق کیا ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”ان میں سے نر کو جفتی کے لیے دینا، ان کا ڈول ادھار دینا، ان کو دودھ پینے کے لیے دینا، ان کو پانی کے گھاٹ پر دوہنا (اور لوگوں کو پلانا) اور اللہ کی راہ میں سواری کے لیے دینا۔ اور جو بھی صاحب مال اس کی زکاۃ ادا نہیں کرتا، تو قیامت کے دن وہ مال گنجے سانپ کی شکل اختیار کر لے گا، اس کا مالک جہاں جائے گا وہ اس کے پیچھے لگا رہے گا اور وہ اس سے بھاگے گا، اسے کہا جائے گا: یہ تیرا وہی مال ہے جس میں تو بخل کیا کرتا تھا۔ جب وہ دیکھے گا کہ اس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے تو وہ اپنا ہاتھ اس کے منہ میں داخل کرے گا، وہ اسے اس طرح چبائے گا جس طرح اونٹ (چارے کو) چباتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2297]
7: باب إِرْضَاءِ السُّعَاةِ:
باب: زکوٰۃ کے تحصیلداروں کو راضی کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هِلَالٍ الْعَبْسِيُّ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنَ الْأَعْرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّ نَاسًا مِنَ الْمُصَدِّقِينَ يَأْتُونَنَا فَيَظْلِمُونَنَا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْضُوا مُصَدِّقِيكُمْ "، قَالَ جَرِيرٌ: مَا صَدَرَ عَنِّي مُصَدِّقٌ مُنْذُ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا وَهُوَ عَنِّي رَاضٍ،
عبدالواحد بن زیاد نے کہا: ہمیں محمد بن ابی اسماعیل نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں عبدالرحمان ہلال بن عبسی نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: کچھ بدوی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: کچھ زکاۃ وصول کرنے والے لوگ ہمارے پاس آتے ہیں اور ہم پر ظلم کرتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے زکاۃ وصول کرنے والوں کو راضی کیا کرو۔“ حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے تو میرے پاس سے جو کوئی زکاۃ وصول کرنے والا گیا، راضی گیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2298]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، كُلُّهُمْ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
عبدالرحیم بن سلیمان، یحییٰ بن سعید اور ابواسامہ سب نے محمد بن اسماعیل سے مذکورہ بالا سند کے ساتھ اسی کی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2299]
8: باب تَغْلِيظِ عُقُوبَةِ مَنْ لاَ يُؤَدِّي الزَّكَاةَ:
باب: زکوٰۃ نہ دینے والوں کی سخت سزا دیئے جانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَلَمَّا رَآنِي، قَالَ: " هُمُ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ "، قَالَ: فَجِئْتُ حَتَّى جَلَسْتُ فَلَمْ أَتَقَارَّ أَنْ قُمْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، مَنْ هُمْ؟، قَالَ: " هُمُ الْأَكْثَرُونَ أَمْوَالًا، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا مِنْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلَا بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ، لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَعْظَمَ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنَهُ، تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا، كُلَّمَا نَفِدَتْ أُخْرَاهَا، عَادَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ "،
وکیع نے کہا: اعمش نے ہمیں معرور بن سوید کے حوالے سے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبے کے سائے میں تشریف فرما تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ”رب کعب کی قسم! وہی لوگ سب سے زیادہ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔“ کہا: میں آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا (ہی تھا) اور اطمینان سے بیٹھا ہی نہ تھا کہ کھڑا ہو گیا اور میں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان، وہ کون لوگ ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ زیادہ مالدار لوگ ہیں، سوائے اس کے جس نے، اپنے آگے، اپنے پیچھے، اپنے دائیں، اپنے بائیں، ایسے، ایسے اور ایسے کہا (لے لو، لے لو) اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ جو بھی اونٹوں، گایوں یا بکریوں کا مالک ان کی زکاۃ ادا نہیں کرتا تو وہ قیامت کے دن اس طرح بڑی اور موٹی ہو کر آئیں گی جتنی زیادہ سے زیادہ تھیں، اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے کھروں سے روندیں گی جب بھی ان میں سے آخری گزر کر جائے گی، پہلی اس (کے سر) پر واپس آ جائے گی حتیٰ کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2300]
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ الْمَعْرُورِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ وَكِيعٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ رَجُلٌ يَمُوتُ، فَيَدَعُ إِبِلًا أَوْ بَقَرًا أَوْ غَنَمًا لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهَا ".
ابومعاویہ نے اعمش سے، انہوں نے معرور سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے۔۔۔ آگے وکیع کی روایت کی طرح ہے، البتہ (اس میں ہے کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! زمین پر جو بھی آدمی فوت ہوتا ہے اور ایسے اونٹ، گائے یا بکریاں پیچھے چھوڑ جاتا ہے جن کی اس نے زکاۃ ادا نہیں کی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2301]
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا تَأْتِي عَلَيَّ ثَالِثَةٌ، وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا دِينَارٌ أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ عَلَيَّ "،
ربیع بن مسلم نے محمد بن زیاد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے یہ بات خوشی کا باعث نہیں کہ میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور تیسرا دن مجھ پر اس طرح آئے کہ میرے پاس اس میں سے کوئی دینار بچا ہوا موجود ہو سوائے اس دینار کے جس کو میں اپنا قرض چکانے کے لیے رکھ لوں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2302]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
شعبہ نے محمد بن زیاد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے سنا۔۔۔ اسی کے مانند۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2303]
9: باب التَّرْغِيبِ فِي الصَّدَقَةِ:
باب: صدقہ کی ترغیب دینا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ كُلُّهُمْ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ عِشَاءً، وَنَحْنُ نَنْظُرُ إِلَى أُحُدٍ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ "، قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا ذَاكَ عِنْدِي ذَهَبٌ أَمْسَى ثَالِثَةً، عِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا دِينَارًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ، إِلَّا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا حَثَا بَيْنَ يَدَيْهِ، وَهَكَذَا عَنْ يَمِينِهِ، وَهَكَذَا عَنْ شِمَالِهِ "، قَالَ: ثُمَّ مَشَيْنَا، فَقَالَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ "، قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّ الْأَكْثَرِينَ هُمُ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا "، مِثْلَ مَا صَنَعَ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى، قَالَ: ثُمَّ مَشَيْنَا، قَالَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ كَمَا أَنْتَ حَتَّى آتِيَكَ "، قَالَ: فَانْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي، قَالَ: سَمِعْتُ لَغَطًا وَسَمِعْتُ صَوْتًا، قَالَ: فَقُلْتُ: لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرِضَ لَهُ، قَالَ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَّبِعَهُ، قَالَ: ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَهُ لَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ، قَالَ: فَانْتَظَرْتُهُ فَلَمَّا جَاءَ ذَكَرْتُ لَهُ الَّذِي سَمِعْتُ، قَالَ: فَقَالَ: " ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَانِي، فَقَالَ: مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ "، قَالَ: قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ: " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ".
اعمش نے زید بن وہب سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: (ایک رات) عشاء کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی کالی پتھریلی زمین پر چل رہا تھا اور ہم احد پہاڑ کو دیکھ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے ابوذر!“ میں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، حاضر ہوں!“ فرمایا: ”مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ یہ (کوہ) احد میرے پاس سونے کا ہو اور میں اس حالت میں تیسری شام کروں کہ میرے پاس اس میں سے ایک دینار بچا ہوا موجود ہو سوائے اس دینار کے جو میں نے قرض (کی ادائیگی) کے لیے بچایا ہو، اور میں اسے اللہ کے بندوں میں اس طرح (خرچ) کروں۔“ آپ نے اپنے سامنے دونوں ہاتھوں سے بھر کر ڈالنے کا اشارہ کیا۔ ”اس طرح (خرچ) کروں۔ دائیں طرف سے۔۔۔ اس طرح۔۔۔ بائیں طرف سے۔۔۔“ (ابوذر رضی اللہ عنہ نے) کہا: پھر ہم چلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر!“ میں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، حاضر ہوں!“ آپ نے فرمایا: ”یقیناً زیادہ مالدار ہی قیامت کے دن کم (مایہ) ہوں گے، مگر وہ جس نے اس طرح، اس طرح اور اس طرح (خرچ) کیا۔“ جس طرح آپ نے پہلی بار کیا تھا۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم پھر چلے۔ آپ نے فرمایا: ”اے ابوذر! میرے واپس آنے تک اسی حالت میں ٹھہرے رہنا۔“ کہا: آپ چلے یہاں تک کہ میری نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ میں نے شور سا سنا آواز سنی تو میں نے دل میں کہا شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز پیش آ گئی ہے، چنانچہ میں نے پیچھے جانے کا ارادہ کر لیا پھر مجھے آپ کا یہ فرمان یاد آ گیا: ”میرے آنے تک یہاں سے نہ ہٹنا۔“ تو میں نے آپ کا انتظار کیا، جب آپ واپس تشریف لائے تو میں نے جو (کچھ) سنا تھا آپ کو بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جبرائیل علیہ السلام تھے، میرے پاس آئے اور بتایا کہ آپ کی امت کا جو فرد اس حال میں فوت ہو گا کہ کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک نہ کرتا تھا وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ میں نے پوچھا: ”چاہے اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟“ انہوں نے کہا: ”چاہے اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2304]
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ رُفَيْعٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: خَرَجْتُ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَحْدَهُ لَيْسَ مَعَهُ إِنْسَانٌ، قَالَ: فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَكْرَهُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَهُ أَحَدٌ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَمْشِي فِي ظِلِّ الْقَمَرِ، فَالْتَفَتَ فَرَآنِي، فَقَالَ: " مَنْ هَذَا؟ "، فَقُلْتُ: أَبُو ذَرٍّ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ، قَالَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ تَعَالَهْ "، قَالَ: فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً، فَقَالَ: " إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمُ الْمُقِلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا مَنْ أَعْطَاهُ اللَّهُ خَيْرًا فَنَفَحَ فِيهِ يَمِينَهُ وَشِمَالَهُ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَوَرَاءَهُ، وَعَمِلَ فِيهِ خَيْرًا "، قَالَ: فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً، فَقَالَ: " اجْلِسْ هَا هُنَا "، قَالَ: فَأَجْلَسَنِي فِي قَاعٍ حَوْلَهُ حِجَارَةٌ، فَقَالَ لِي: " اجْلِسْ هَا هُنَا حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ "، قَالَ: فَانْطَلَقَ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى لَا أَرَاهُ، فَلَبِثَ عَنِّي فَأَطَالَ اللَّبْثَ، ثُمَّ إِنِّي سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُقْبِلٌ، وَهُوَ يَقُولُ: " وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى "، قَالَ: فَلَمَّا جَاءَ لَمْ أَصْبِرْ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ، مَنْ تُكَلِّمُ فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ؟ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرْجِعُ إِلَيْكَ شَيْئًا، قَالَ: " ذَاكَ جِبْرِيلُ عَرَضَ لِي فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ، فَقَالَ: بَشِّرْ أُمَّتَكَ أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ: وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ: وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى، قَالَ: نَعَمْ وَإِنْ شَرِبَ الْخَمْرَ ".
عبدالعزیز بن رفیع نے زید بن وہب سے اور انہوں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں ایک رات (گھر سے) باہر نکلا تو اچانک دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے جا رہے ہیں، آپ کے ساتھ کوئی انسان نہیں تو میں نے خیال کیا کہ آپ اس بات کو ناپسند کر رہے ہیں کہ کوئی آپ کے ساتھ چلے، چنانچہ میں چاند کے سائے میں چلنے لگا، آپ مڑے تو مجھے دیکھ لیا اور فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کی: ”ابوذر ہوں، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر، آ جاؤ۔“ کہا: میں کچھ دیر آپ کے ساتھ چلا تو آپ نے فرمایا: ”بے شک زیادہ مال والے ہی قیامت کے دن کم (مایہ) ہوں گے، سوائے ان کے جن کو اللہ نے مال عطا فرمایا اور انہوں نے اسے دائیں، بائیں اور آگے، پیچھے اڑا ڈالا اور اس میں نیکی کے کام کیے۔“ میں ایک گھڑی آپ کے ساتھ چلتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہاں بیٹھ جاؤ۔“ آپ نے مجھے ایک ہموار زمین میں بٹھا دیا جس کے گرد پتھر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”یہیں بیٹھے رہنا یہاں تک کہ میں تمہارے پاس لوٹ آؤں۔“ آپ پتھریلے میدان (حرہ) میں چل پڑے حتیٰ کہ میری نظروں سے اوجھل ہو گئے، آپ مجھ سے دور رکے رہے اور زیادہ دیر کر دی، پھر میں نے آپ کی آواز سنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف آتے ہوئے فرما رہے تھے: ”خواہ اس نے چوری کی ہو یا زنا کیا ہو۔“ جب آپ تشریف لائے تو میں صبر نہ کر سکا، میں نے عرض کی: ”اے اللہ کے نبی! اللہ مجھے آپ پر نثار فرمائے! آپ سیاہ پتھروں کے میدان (حرہ) کے کنارے کس سے گفتگو فرما رہے تھے؟ میں نے تو کسی کو نہیں سنا جو آپ کو جواب دے رہا ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جبرائیل علیہ السلام تھے جو سیاہ پتھروں کے کنارے میرے سامنے آئے اور کہا: اپنی امت کو بشارت دے دیجیے کہ جو کوئی اس حالت میں مرے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ میں نے کہا: ”اے جبرائیل علیہ السلام! چاہے اس نے چوری کی ہو یا زنا کیا ہو؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں!“ فرمایا: میں نے پھر کہا: ”خواہ اس نے چوری کی ہو خواہ اس نے زنا کیا ہو؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ میں نے پھر (تیسری بار) پوچھا: ”خواہ اس نے چوری کی ہو خواہ اس نے زنا کیا ہو؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں، خواہ اس نے شراب (بھی) پی ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2305]
10: باب فِي الْكَنَّازِينَ لِلأَمْوَالِ وَالتَّغْلِيظِ عَلَيْهِمْ:
باب: مال کو خزانہ بنانے والوں کے بارے میں اور ان کو ڈانٹ۔
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَبَيْنَا أَنَا فِي حَلْقَةٍ فِيهَا مَلَأٌ مِنْ قُرَيْشٍ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ أَخْشَنُ الثِّيَابِ، أَخْشَنُ الْجَسَدِ، أَخْشَنُ الْوَجْهِ فَقَامَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: بَشِّرِ الْكَانِزِينَ بِرَضْفٍ يُحْمَى عَلَيْهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، فَيُوضَعُ عَلَى حَلَمَةِ ثَدْيِ أَحَدِهِمْ، حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ نُغْضِ كَتِفَيْهِ، وَيُوضَعُ عَلَى نُغْضِ كَتِفَيْهِ، حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ حَلَمَةِ ثَدْيَيْهِ يَتَزَلْزَلُ، قَالَ: فَوَضَعَ الْقَوْمُ رُءُوسَهُمْ، فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ رَجَعَ إِلَيْهِ شَيْئًا، قَالَ: فَأَدْبَرَ، وَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى جَلَسَ إِلَى سَارِيَةٍ، فَقُلْتُ: مَا رَأَيْتُ هَؤُلَاءِ إِلَّا كَرِهُوا قُلْتَ لَهُمْ، قَالَ: إِنَّ هَؤُلَاءِ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا، إِنَّ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانِي فَأَجَبْتُهُ، فَقَالَ " أَتَرَى أُحُدًا "، فَنَظَرْتُ مَا عَلَيَّ مِنَ الشَّمْسِ، وَأَنَا أَظُنُّ أَنَّهُ يَبْعَثُنِي فِي حَاجَةٍ لَهُ، فَقُلْتُ: أَرَاهُ، فَقَالَ: " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي مِثْلَهُ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ كُلَّهُ، إِلَّا ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ، ثُمَّ هَؤُلَاءِ يَجْمَعُونَ الدُّنْيَا لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا "، قَالَ: قُلْتُ: مَا لَكَ وَلِإِخْوَتِكَ مِنْ قُرَيْشٍ، لَا تَعْتَرِيهِمْ وَتُصِيبُ مِنْهُمْ، قَالَ: لَا وَرَبِّكَ لَا أَسْأَلُهُمْ عَنْ دُنْيَا، وَلَا أَسْتَفْتِيهِمْ عَنْ دِينٍ حَتَّى أَلْحَقَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ.
ابوعلاء نے حضرت احنف بن قیس سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں مدینہ آیا تو میں قریشی سرداروں کے ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک کھردرے کپڑوں، گٹھے ہوئے جسم اور سخت چہرے والا ایک آدمی آیا اور ان کے سر پر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا: ”مال و دولت جمع کرنے والوں کو اس تپتے ہوئے پتھر کی بشارت سنا دو جس کو جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا اور اسے ان کے ایک فرد کی نوک پستان پر رکھا جائے گا حتیٰ کہ وہ اس کے دونوں کندھوں کی باریک ہڈیوں سے لہراتا ہوا نکل جائے گا اور اسے اس کے شانوں کی باریک ہڈیوں پر رکھا جائے گا حتیٰ کہ وہ اس کے پستانوں کے سروں سے حرکت کرتا ہوا نکل جائے گا۔“ (احنف نے) کہا: اس پر لوگوں نے اپنے سر جھکا لیے اور میں نے ان میں سے کسی کو نہ دیکھا کہ اس نے کوئی جواب دیا ہو۔ کہا: پھر وہ لوٹا اور میں نے اس کا پیچھا کیا حتیٰ کہ وہ ایک ستون کے ساتھ (ٹیک لگا کر) بیٹھ گیا۔ میں نے کہا: ”آپ نے انہیں جو کچھ کہا ہے، میں نے انہیں اسے ناپسند کرتے ہوئے ہی دیکھا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”یہ لوگ کچھ سمجھتے نہیں۔ میرے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا، میں نے لبیک کہا تو آپ نے فرمایا: ’کیا تم احد (پہاڑ) کو دیکھتے ہو؟‘ میں نے دیکھا کہ مجھ پر کتنا سورج باقی ہے، میں سمجھ رہا تھا کہ آپ مجھے اپنی کسی ضرورت کے لیے بھیجنا چاہتے ہیں، چنانچہ میں نے عرض کی: ’میں اسے دیکھ رہا ہوں۔‘ تو آپ نے فرمایا: ’میرے لیے یہ بات باعث مسرت نہ ہو گی کہ میرے پاس اس کے برابر سونا ہو اور میں تین دیناروں کے سوا اس سارے (سونے) کو خرچ (بھی) کر ڈالوں۔‘ پھر یہ لوگ ہیں، دنیا جمع کرتے ہیں، کچھ عقل نہیں کرتے۔“ میں نے ان سے پوچھا: ”آپ کا اپنے (حکمران) قریشی بھائیوں کے ساتھ کیا معاملہ ہے، آپ اپنی ضرورت کے لیے نہ ان کے پاس جاتے ہیں اور نہ ان سے کچھ لیتے ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: ”نہیں، تمہارے پروردگار کی قسم! نہ میں ان سے دنیا کی کوئی چیز مانگوں گا اور نہ ہی ان سے کسی دینی مسئلے کے بارے میں پوچھوں گا یہاں تک کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2306]
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ ابْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، حَدَّثَنَا خُلَيْدٌ الْعَصَرِيُّ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: كُنْتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَمَرَّ أَبُو ذَرٍّ وَهُوَ يَقُولُ: " بَشِّرِ الْكَانِزِينَ بِكَيٍّ فِي ظُهُورِهِمْ، يَخْرُجُ مِنْ جُنُوبِهِمْ، وَبِكَيٍّ مِنْ قِبَلِ أَقْفَائِهِمْ، يَخْرُجُ مِنْ جِبَاهِهِمْ "، قَالَ: ثُمَّ تَنَحَّى، فَقَعَدَ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟، قَالُوا: هَذَا أَبُو ذَرٍّ، قَالَ: فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ مَا شَيْءٌ سَمِعْتُكَ تَقُولُ قُبَيْلُ، قَالَ: " مَا قُلْتُ إِلَّا شَيْئًا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالَ: قُلْتُ: مَا تَقُولُ فِي هَذَا الْعَطَاءِ؟، قَالَ: " خُذْهُ فَإِنَّ فِيهِ الْيَوْمَ مَعُونَةً، فَإِذَا كَانَ ثَمَنًا لِدِينِكَ فَدَعْهُ ".
خلید العصری نے حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں قریش کی ایک جماعت میں موجود تھا کہ ابوذر رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہوئے گزرے: ”مال جمع کرنے والوں کو (آگ کے) ان داغوں کی بشارت سنا دو جو ان کی پشتوں پر لگائے جائیں گے اور ان کے پہلوؤں سے نکلیں گے اور ان داغوں کی جو ان کی گدیوں کی طرف سے لگائے جائیں گے اور ان کی پیشانیوں سے نکلیں گے۔“ کہا: پھر وہ الگ تھلگ ہو کر بیٹھ گئے۔ میں نے پوچھا: ”یہ صاحب کون ہیں؟“ لوگوں نے بتایا: ”یہ ابوذر رضی اللہ عنہ ہیں۔“ میں اٹھ کر ان کے پاس چلا گیا اور پوچھا: ”کیا بات تھی، تھوڑی دیر پہلے میں نے سنی آپ کہہ رہے تھے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”میں نے اس بات کے سوا کچھ نہیں کہا جو میں نے ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی۔“ کہا: میں نے پوچھا: ”(حکومت سے ملنے والے) عطیے (وظیفے) کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: ”اسے لے لو کیونکہ آج یہ معونت (مدد) سے اور جب یہ تمہارے دین کی قیمت ٹھہریں تو انہیں چھوڑ دینا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2307]
11: باب الْحَثِّ عَلَى النَّفَقَةِ وَتَبْشِيرِ الْمُنْفِقِ بِالْخَلَفِ:
باب: سخاوت کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَا ابْنَ آدَمَ أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ "، وَقَالَ: يَمِينُ اللَّهِ مَلْأَى، وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: مَلْآنُ سَحَّاءُ لَا يَغِيضُهَا شَيْءٌ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ.
زہیر بن حرب اور محمد بن عبداللہ بن نمیر نے کہا: سفیان بن عیینہ نے ہمیں ابوزناد سے حدیث بیان کی، انہوں نے اعراج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، وہ اس (سلسلہ سند) کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک لے جاتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’اے آدم کے بیٹے! تو خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا۔‘“ اور آپ نے فرمایا: ”اللہ کا دایاں ہاتھ (اچھی طرح) بھرا ہوا ہے۔“ ابن نمیر نے ’ملای‘ کے بجائے ’ملآن‘ (کا لفظ) کہا۔۔۔ ”اس کا فیض جاری رہتا ہے، دن ہو یا رات، کوئی چیز اس میں کمی نہیں کرتی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2308]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَخِي وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ قَالَ لِي أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَمِينُ اللَّهِ مَلْأَى، لَا يَغِيضُهَا سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ، أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُذْ خَلَقَ السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ، فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَمِينِهِ، قَالَ: وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، وَبِيَدِهِ الْأُخْرَى الْقَبْضَ، يَرْفَعُ وَيَخْفِضُ ".
وہب بن منبہ کے بھائی ہمام بن منبہ سے روایت ہے، کہا: یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، پھر انہوں نے چند احادیث بیان کیں، ان میں سے ایک یہ بھی تھی اور (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھ سے کہا ہے: ’خرچ کرو، میں تم پر خرچ کروں گا۔‘“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا، دن رات عطا کی بارش برسانے والا ہے، اس میں کوئی چیز کمی نہیں کرتی۔ کیا تم نے دیکھا آسمان و زمین کی تخلیق سے لے کر (اب تک) اس نے کتنا خرچ کیا ہے؟ جو کچھ اس کے دائیں ہاتھ میں ہے، اس (عطا) نے اس میں کوئی کمی نہیں کی۔“ آپ نے فرمایا: ”اس کا عرش پانی پر ہے، اس کے دوسرے ہاتھ میں قبضہ (یا واپسی کی قوت) ہے، وہ (جسے چاہتا ہے) بلند کرتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) پست کرتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2309]
12: باب فَضْلِ النَّفَقَةِ عَلَى الْعِيَالِ وَالْمَمْلُوكِ وَإِثْمِ مَنْ ضَيَّعَهُمْ أَوْ حَبَسَ نَفَقَتَهُمْ عَنْهُمْ:
باب: اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، كلاهما، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى عِيَالِهِ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ "، قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: وَبَدَأَ بِالْعِيَالِ، ثُمَّ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: وَأَيُّ رَجُلٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ رَجُلٍ يُنْفِقُ عَلَى عِيَالٍ صِغَارٍ، يُعِفُّهُمْ أَوْ يَنْفَعُهُمُ اللَّهُ بِهِ وَيُغْنِيهِمْ.
ابوقلابہ نے ابواسماء (رحبی) سے اور انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین دینار جسے انسان خرچ کرتا ہے وہ دینار ہے جسے وہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے جسے انسان اللہ کی راہ میں (جہاد کرنے کے لیے) اپنے جانور (سواری) پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے جسے وہ اللہ کے راستے میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے۔“ پھر ابوقلابہ نے کہا: ”آپ نے اہل و عیال سے ابتدا فرمائی۔“ پھر ابوقلابہ نے کہا: ”اجر میں اس آدمی سے بڑھ کر کون ہو سکتا ہے جو چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے، وہ ان کو (سوال کی) ذلت سے بچاتا ہے یا اللہ اس کے ذریعے سے انہیں فائدہ پہنچاتا ہے اور غنی کرتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2310]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُزَاحِمِ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي رَقَبَةٍ، وَدِينَارٌ تَصَدَّقْتَ بِهِ عَلَى مِسْكِينٍ، وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ، أَعْظَمُهَا أَجْرًا الَّذِي أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جن دیناروں پر اجر ملتا ہے ان میں سے) ایک دینار وہ ہے جسے تو نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا، ایک دینار وہ ہے جسے تو نے کسی کی گردن (کی آزادی) کے لیے خرچ کیا، ایک دینار وہ ہے جسے تو نے مسکین پر صدقہ کیا اور ایک دینار وہ ہے جسے تو نے اپنے گھر والوں پر صرف کیا، ان میں سب سے عظیم اجر اس دینار کا ہے جسے تو نے اپنے اہل پر خرچ کیا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2311]
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ الْكِنَانِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، إِذْ جَاءَهُ قَهْرَمَانٌ لَهُ، فَدَخَلَ، فَقَالَ: أَعْطَيْتَ الرَّقِيقَ قُوتَهُمْ، قَالَ: لَا، قَالَ: فَانْطَلِقْ فَأَعْطِهِمْ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يَحْبِسَ عَمَّنْ يَمْلِكُ قُوتَهُ".
خثیمہ سے روایت ہے، کہا: ہم حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ان کا کارندہ (مینیجر) ان کے پاس آیا، وہ اندر داخل ہوا تو انہوں نے پوچھا: ”(کیا) تم نے غلاموں کو ان کا روزینہ دے دیا ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”نہیں۔“ انہوں نے کہا: ”جاؤ، انہیں دو۔“ (کیونکہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے لیے اتنا گناہ ہی کافی ہے کہ وہ جن کی خوراک کا مالک ہے انہیں نہ دے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2312]
13: باب الاِبْتِدَاءِ فِي النَّفَقَةِ بِالنَّفْسِ ثُمَّ أَهْلِهِ ثُمَّ الْقَرَابَةِ:
باب: پہلے اپنی ذات پر، پھر اپنے گھر والوں پر، پھر قرابت والوں پر خرچ کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ عَبْدًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَلَكَ مَالٌ غَيْرُهُ؟"، فَقَالَ: لَا، فَقَالَ:" مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي؟" فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ، فَجَاءَ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" ابْدَأْ بِنَفْسِكَ فَتَصَدَّقْ عَلَيْهَا، فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ فَلِأَهْلِكَ، فَإِنْ فَضَلَ عَنْ أَهْلِكَ شَيْءٌ فَلِذِي قَرَابَتِكَ، فَإِنْ فَضَلَ عَنْ ذِي قَرَابَتِكَ شَيْءٌ، فَهَكَذَا وَهَكَذَا يَقُولُ، فَبَيْنَ يَدَيْكَ وَعَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ"،
لیث نے ہمیں ابوزبیر سے خبر دی اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: بنو عذرہ کے ایک آدمی نے ایک غلام کو اپنے بعد آزادی دی (کہ میرے مرنے کے بعد وہ آزاد ہو گا)، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس اس کے علاوہ بھی کوئی مال ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ اس پر آپ نے فرمایا: ”اس (غلام) کو مجھ سے کون خریدے گا؟“ تو اسے نعیم بن عبداللہ عدوی نے آٹھ سو (800) درہم میں خرید لیا اور درہم لا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کر دیے۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: ”اپنے آپ سے ابتدا کرو، خود پر صدقہ کرو، اگر کچھ بچ جائے تو تمہارے گھر والوں کے لیے ہے، اگر تمہارے گھر والوں سے کچھ بچ جائے تو تمہارے قرابت داروں کے لیے ہے اور اگر تمہارے قرابت داروں سے کچھ بچ جائے تو اس طرف اور اس طرف خرچ کرو۔“ (راوی نے کہا:) آپ اشارے سے کہہ رہے تھے کہ اپنے سامنے، اپنے دائیں اور اپنے بائیں (خرچ کرو)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2313]
وحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو مَذْكُورٍ، أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ يُقَالُ لَهُ يَعْقُوبُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ.
ایوب نے ابوزبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انصار میں سے ابومذکور نامی ایک آدمی نے اپنے غلام کو، جسے یعقوب کہا جاتا تھا، اپنے مرنے کے بعد آزاد قرار دیا۔۔۔ آگے انہوں نے لیث کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2314]
14: باب فَضْلِ النَّفَقَةِ وَالصَّدَقَةِ عَلَى الأَقْرَبِينَ وَالزَّوْجِ وَالأَوْلاَدِ وَالْوَالِدَيْنِ وَلَوْ كَانُوا مُشْرِكِينَ:
باب: والدین اور دیگر اقرباء پر خرچ کرنے کی فضیلت اگرچہ وہ مشرک ہوں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ إسحاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالًا، وَكَانَ أَحَبُّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرَحَى، وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92 قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92، وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرَحَى، وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ، فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ شِئْتَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَخْ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ، قَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ فِيهَا وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ"، فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ.
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرما رہے تھے: ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں کسی بھی انصاری سے زیادہ مالدار تھے، ان کے مال میں سے بیرحاء والا باغ انہیں سب سے زیادہ پسند تھا جو مسجد نبوی کے سامنے واقع تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں تشریف لے جاتے اور اس کا عمدہ پانی نوش فرماتے۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ”تم نیکی حاصل نہیں کر سکو گے جب تک اپنی پسندیدہ چیز (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو۔“ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور عرض کی: ”اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ”تم نیکی حاصل نہیں کر سکو گے جب تک اپنی پسندیدہ چیز (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو۔“ مجھے اپنے اموال میں سے سب سے زیادہ بیرحاء پسند ہے اور وہ اللہ کے لیے صدقہ ہے، مجھے اس کے اچھے بدلے اور اللہ کے ہاں ذخیرہ (کے طور پر محفوظ) ہونے کی امید ہے۔ اے اللہ کے رسول! آپ اسے جہاں چاہیں رکھیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت خوب، یہ سودمند مال ہے، یہ نفع بخش مال ہے، جو تم نے اس کے بارے میں کہا میں نے سن لیا ہے اور میری رائے یہ ہے کہ تم اسے (اپنے) قرابت داروں کو دے دو۔“ تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے عزیزوں اور اپنے چچا کے بیٹوں میں تقسیم کر دیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2315]
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَرَى رَبَّنَا يَسْأَلُنَا مِنْ أَمْوَالِنَا، فَأُشْهِدُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُ أَرْضِي بَرِيحَا لِلَّهِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْعَلْهَا فِي قَرَابَتِكَ"، قَالَ: فَجَعَلَهَا فِي حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ.
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ”تم نیکی (کی حقیقی لذت) حاصل نہیں کر سکو گے جب تک اپنی پسندیدہ چیز (اللہ کی راہ میں) صرف نہ کرو۔“ (تو) ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں اپنے پروردگار کو دیکھتا ہوں کہ وہ ہم سے مال کا مطالبہ کر رہا ہے، لہٰذا اے اللہ کے رسول! میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنی زمین بیرحاء اللہ تعالیٰ کے لیے وقف کر دی۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے رشتہ داروں کو دے دو۔“ تو انہوں نے وہ حضرت حسان بن ثابت اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہما کو دے دی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2316]
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، أَنَّهَا أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَوْ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكِ".
(ام المؤمنین) حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اپنی ایک لونڈی کو آزاد کیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اسے اپنے ماموؤں کو دے دیتیں تو یہ (کام) تمہارے اجر کو بڑھا دیتا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2317]
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ"، قَالَتْ: فَرَجَعْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ، فَقُلْتُ: إِنَّكَ رَجُلٌ خَفِيفُ ذَاتِ الْيَدِ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ، فَأْتِهِ فَاسْأَلْهُ فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ يَجْزِي عَنِّي، وَإِلَّا صَرَفْتُهَا إِلَى غَيْرِكُمْ، قَالَتْ: فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ: بَلِ ائْتِيهِ أَنْتِ، قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بِبَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَاجَتِي حَاجَتُهَا، قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُلْقِيَتْ عَلَيْهِ الْمَهَابَةُ، قَالَتْ: فَخَرَجَ عَلَيْنَا بِلَالٌ، فَقُلْنَا لَهُ: ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ بِالْبَابِ تَسْأَلَانِكَ أَتُجْزِئُ الصَّدَقَةُ عَنْهُمَا عَلَى أَزْوَاجِهِمَا، وَعَلَى أَيْتَامٍ فِي حُجُورِهِمَا؟، وَلَا تُخْبِرْهُ مَنْ نَحْنُ، قَالَتْ: فَدَخَلَ بِلَالٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ هُمَا؟" فَقَالَ: امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، وَزَيْنَبُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّ الزَّيَانِبِ؟"، قَالَ: امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَهُمَا أَجْرَانِ: أَجْرُ الْقَرَابَةِ، وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ"،
ابواحوص نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابووائل سے، انہوں نے عمرو بن حارث سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ (بن مسعود) کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا (بنت عبداللہ بن ابی معاویہ) سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو، اگرچہ اپنے زیورات سے ہی کیوں نہ ہو۔“ کہا: تو میں (اپنے خاوند) عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آئی اور کہا: ”تم کم مایہ آدمی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا ہے، لہٰذا تم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر آپ سے پوچھ لو اگر اس (کو تمہیں دینے) سے میری طرف سے ادا ہو جائے گا (تو ٹھیک) ورنہ میں اسے تمہارے علاوہ دوسروں کی طرف بھیج دوں گی۔“ کہا: تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: ”بلکہ تم خود ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلی جاؤ۔“ انہوں نے کہا: میں گئی تو اس وقت ایک اور انصاری عورت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر کھڑی تھی اور (مسئلہ دریافت کرنے کے حوالے سے) اس کی ضرورت بھی وہی تھی جو میری تھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت عطا کی گئی تھی۔ کہا: بلال رضی اللہ عنہ نکل کر ہماری طرف آئے تو ہم نے ان سے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتاؤ کہ دروازے پر دو عورتیں ہیں، آپ سے پوچھ رہی ہیں کہ ان کی طرف سے ان کے خاوندوں اور ان یتیم بچوں پر جو ان کی کفالت میں ہیں، صدقہ جائز ہے؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ نہ بتانا کہ ہم کون ہیں۔“ بلال رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے کہا: ”وہ دونوں کون ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”ایک انصاری عورت ہے اور ایک زینب ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”زینبوں میں سے کون سی؟“ انہوں نے کہا: ”عبداللہ رضی اللہ عنہ کی بیوی۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”ان کے لیے دو اجر ہیں: (ایک) قرابت نبھانے کا اجر اور (دوسرا) صدقہ کرنے کا اجر۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2318]
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنِي شَقِيقٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: فَذَكَرْتُ لِإِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنِي، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِهِ سَوَاءً، قَالَ: قَالَتْ: كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَرَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ"، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ.
عمر بن حفص بن غیاث نے اپنے والد سے، انہوں نے اعمش سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی۔ (اعمش نے) کہا: میں نے (یہ حدیث) ابراہیم نخعی سے بیان کی تو انہوں نے مجھے ابوعبیدہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے عمرو بن حارث سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا سے روایت کی، بالکل اسی (مذکورہ بالا روایت) کے مانند، اور کہا: انہوں (زینب رضی اللہ عنہا) نے کہا: ”میں مسجد میں تھی (اس دروازے پر جو مسجد میں تھا)، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (بلال رضی اللہ عنہ کے بتانے پر) مجھے دیکھا تو فرمایا: ’صدقہ کرو، چاہے اپنے زیورات ہی سے کیوں نہ ہو۔‘“ اعمش نے باقی حدیث ابواحوص کی (مذکورہ بالا) روایت کے ہم معنی بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2319]
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لِي أَجْرٌ فِي بَنِي أَبِي سَلَمَةَ؟، أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ هَكَذَا وَهَكَذَا إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ، فَقَالَ:" نَعَمْ لَكِ فِيهِمْ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ"،
ابواسامہ نے کہا: ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، انہوں نے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! کیا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی اولاد پر خرچ کرنے میں میرے لیے اجر ہے؟ میں ان پر خرچ کرتی ہوں، میں انہیں ایسے، ایسے چھوڑنے والی نہیں ہوں، وہ میرے بچے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، تمہارے لیے ان میں، جو تم ان پر خرچ کرو گی، اجر ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2320]
وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَاه إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، جَمِيعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ.
علی بن مسہر اور معمر (راشد) دونوں نے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ ہشام بن عروہ سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2321]
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا أَنْفَقَ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةً وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةً"،
عبیداللہ بن معاذ عنبری کے والد نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن یزید سے، انہوں نے حضرت ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مسلمان جب اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے اور اس سے اللہ کی رضا چاہتا ہے تو وہ اس کے لئے صدقہ ہے۔" [صحيح مسلم/حدیث: 2322]
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، كِلَاهُمَا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، جَمِيعًا، عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ.
محمد بن جعفر اور وکیع دونوں نے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ شعبہ سے یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2323]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ، وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَوْ رَاهِبَةٌ، أَفَأَصِلُهَا؟، قَالَ: " نَعَمْ ".
عبداللہ بن ادریس نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، اور انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے پوچھا: "اے اللہ کے رسول! میری والدہ میرے پاس آئی ہیں اور (صلہ رحمی کی) خواہش مند ہیں۔ یا (خالی ہاتھ واپسی سے) خائف ہیں۔ کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہاں۔" [صحيح مسلم/حدیث: 2324]
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ إِذْ عَاهَدَهُمْ، فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُ أُمِّي؟، قَالَ: " نَعَمْ صِلِي أُمَّكِ ".
ہشام کے ایک اور شاگرد ابواسامہ نے اسی سند کے ساتھ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: قریش کے ساتھ معاہدے کے زمانے میں، جب آپ نے ان سے معاہدہ صلح کیا تھا، میری والدہ آئیں، وہ مشرک تھیں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور عرض کی: "اے اللہ کے رسول! میری والدہ میرے پاس آئی ہیں اور (مجھ سے صلہ رحمی کی) امید رکھتی ہیں تو کیا میں اپنی ماں سے صلہ رحمی کروں؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہاں، اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔" [صحيح مسلم/حدیث: 2325]
15: باب وُصُولِ ثَوَابِ الصَّدَقَةِ عَنِ الْمَيِّتِ إِلَيْهِ:
باب: میت کے ایصال ثواب کا بیان۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّيَ افْتُلِتَتْ نَفْسَهَا وَلَمْ تُوصِ، وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، أَفَلَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟، قَالَ: " نَعَمْ "،
محمد بن بشر نے کہا: ہم سے ہشام نے اپنے والد کے حوالے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: "اے اللہ کے رسول! میری والدہ اچانک وفات پاگئی ہیں اور انہوں نے کوئی وصیت نہیں کی، میرا ان کے بارے میں گمان ہے کہ اگر بولتیں تو وہ ضرور صدقہ کرتیں، اگر (اب) میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا انھیں اجر ملے گا؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہاں۔" [صحيح مسلم/حدیث: 2326]
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إسحاق ، كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ وَلَمْ تُوصِ، كَمَا قَالَ ابْنُ بِشْرٍ وَلَمْ يَقُلْ ذَلِكَ الْبَاقُونَ.
یحییٰ بن سعید، ابواسامہ، علی بن مسہر اور شعیب بن اسحاق سب نے ہشام سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ (اسی کی طرح) روایت بیان کی۔ ابواسامہ کی حدیث میں ’ولم توص‘ (اس نے وصیت نہیں کی) کے الفاظ ہیں، جس طرح ابن بشر نے کہا ہے۔ (جبکہ) باقی راویوں نے یہ الفاظ بیان نہیں کئے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2327]
16: باب بَيَانِ أَنَّ اسْمَ الصَّدَقَةِ يَقَعُ عَلَى كُلِّ نَوْعٍ مِنَ الْمَعْرُوفِ:
باب: ہر نیکی صدقہ ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ فِي حَدِيثِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ ".
قتیبہ بن سعید اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی اپنی سند کے ساتھ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ قتیبہ کی حدیث میں ہے: "تمھارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" اور ابن ابی شیبہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے۔۔۔ "ہر نیکی صدقہ ہے۔" [صحيح مسلم/حدیث: 2328]
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ، يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ، وَيَتَصَدَّقُونَ بِفُضُولِ أَمْوَالِهِمْ، قَالَ: " أَوَ لَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ مَا تَصَّدَّقُونَ، إِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةً، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيٌ عَنْ مُنْكَرٍ صَدَقَةٌ، وَفِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَأتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ، وَيَكُونُ لَهُ فِيهَا أَجْرٌ؟، قَالَ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي حَرَامٍ أَكَانَ عَلَيْهِ فِيهَا وِزْرٌ، فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ كَانَ لَهُ أَجْرٌ ".
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ساتھیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: "اے اللہ کے رسول! زیادہ مال رکھنے والے اجر و ثواب لے گئے، وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں اور ہماری طرح روزے رکھتے ہیں اور اپنے ضرورت سے زائد مالوں سے صدقہ کرتے ہیں (جو ہم نہیں کرسکتے)۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا اللہ تعالیٰ نے تمھارے لئے ایسی چیز نہیں بنائی جس سے تم صدقہ کرسکو؟ بے شک ہر دفعہ سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے، ہر دفعہ اللہ اکبر کہنا صدقہ ہے۔ ہر دفعہ الحمد للہ کہنا صدقہ ہے، ہر دفعہ لا إله إلا اللہ کہنا صدقہ ہے، نیکی کی تلقین کرنا صدقہ ہے اور برائی سے روکنا صدقہ ہے اور (بیوی سے مباشرت کرتے ہوئے) تمھارے عضو میں صدقہ ہے۔" صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: "اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی اپنی خواہش پوری کرتا ہے تو کیا ااس میں بھی اجر ملتا ہے؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بتاؤ، اگر وہ یہ (خواہش) حرام جگہ پوری کرتا تو کیا اسے اس گناہ ہوتا؟ اسی طرح جب وہ اسے حلال جگہ پوری کرتا ہے تو اس کے لئے اجر ہے۔" [صحيح مسلم/حدیث: 2329]
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ، عَنْ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّهُ خُلِقَ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْ بَنِي آدَمَ عَلَى سِتِّينَ وَثَلَاثِ مِائَةِ مَفْصِلٍ، فَمَنْ كَبَّرَ اللَّهَ، وَحَمِدَ اللَّهَ، وَهَلَّلَ اللَّهَ، وَسَبَّحَ اللَّهَ، وَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ، وَعَزَلَ حَجَرًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ، أَوْ شَوْكَةً، أَوْ عَظْمًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ، وَأَمَرَ بِمَعْرُوفٍ، أَوْ نَهَى عَنْ مُنْكَرٍ عَدَدَ تِلْكَ السِّتِّينَ وَالثَّلَاثِ مِائَةِ السُّلَامَى، فَإِنَّهُ يَمْشِي يَوْمَئِذٍ وَقَدْ زَحْزَحَ نَفْسَهُ عَنِ النَّارِ "، قَالَ أَبُو تَوْبَةَ: وَرُبَّمَا قَالَ: " يُمْسِي "،
ابوتوبہ ربیع بن نافع نے بیان کیا، کہا: ہمیں معاویہ بن سلام نے زید سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے ابوسلام کو بیان کرتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: مجھے عبداللہ بن فروخ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بنی آدم میں سے ہر انسان کو تین سو ساٹھ مفاصل (جوڑوں) پر پیدا کیاگیا ہے تو جس نے تکبیر کہی، اللہ کی حمد کہی، اللہ کی وحدانیت کا اقرار کیا، اللہ کی تسبیح کہی، اللہ سے مغفرت مانگی، لوگوں کے راستے سے کوئی پتھر ہٹایا، لوگوں کے راستے سے کانٹا یا ہڈی (ہٹائی)، نیکی کا حکم دیا یا برائی سے روکا، ان تین سو ساٹھ جوڑوں کی تعداد ے برابر تو وہ اس دن اس طرح چلے گا کہ وہ اپنے آپ کو دوزخ کی آگ سے دور کرچکا ہوگا۔" ابوتوبہ نے کہا: بسا اوقات انہوں (معاویہ) نے (’یمشی‘ ’چلے گا‘ کے بجائے) ’یمسی‘ (شام یا دن کا اختتام کرے گا) کہا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2330]
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ ، أَخْبَرَنِي أَخِي زَيْدٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " أَوْ أَمَرَ بِمَعْرُوفٍ "، وَقَالَ: " فَإِنَّهُ يُمْسِي يَوْمَئِذٍ "،
یحییٰ بن حسان نے کہا: ہمیں معاویہ (بن سلام) نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے زید کے بھائی نے اسی سند کے ساتھ اسی (سابقہ حدیث) کی مانند خبر دی مگر انہوں نے کہا: ”امر بالمعروف یا نیکی کا حکم دیا۔“ اور کہا: فإنه يمسي يومئذ ”وہ اس دن اس حالت میں شام کرے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2331]
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلَّامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُلِقَ كُلُّ إِنْسَانٍ "، بِنَحْوِ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ زَيْدٍ، وَقَالَ: " فَإِنَّهُ يَمْشِي يَوْمَئِذٍ ".
یحییٰ نے زید بن سلام سے اور انہوں نے اپنے دادا ابو سلام سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عبداللہ بن فروخ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہر انسان کو پیدا کیا گیا ہے۔۔۔“ آگے زید سے معاویہ کی روایت کے مانند بیان کیا اور کہا: فإنه يمشي يومئذ ”وہ اس دن چلے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2332]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ "، قِيلَ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَجِدْ؟، قَالَ: يَعْتَمِلُ بِيَدَيْهِ، فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ، قَالَ: قِيلَ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ؟، قَالَ: يُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ "، قَالَ: قِيلَ لَهُ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ؟، قَالَ: يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ أَوِ الْخَيْرِ، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ؟، قَالَ: يُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ "،
ابو اسامہ نے شعبہ سے، انہوں نے سعید بن ابی بردہ سے، انہوں نے اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا (ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مسلمان پر صدقہ لازم ہے۔“ کہا گیا: آپ کا کیا خیال ہے اگر اسے (صدقہ کرنے کے لیے کوئی چیز) نہ ملے؟ فرمایا: ”اپنے ہاتھوں سے کام کر کے اپنے آپ کو فائدہ پہنچائے اور صدقہ (بھی) کرے۔“ اس نے کہا: عرض کی گئی، آپ کیا فرماتے ہیں اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھے؟ فرمایا: ”بے بس ضرورت مند کی مدد کرے۔“ کہا: آپ سے کہا گیا: دیکھیے! اگر وہ اس کی بھی استطاعت نہ رکھے؟ فرمایا: ”نیکی یا بھلائی کا حکم دے۔“ کہا: دیکھیے اگر وہ ایسا بھی نہ کر سکے؟ فرمایا: ”وہ (اپنے آپ کو) شر سے روک لے، یہ بھی صدقہ ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2333]
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
عبدالرحمان بن مہدی نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2334]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ سُلَامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيهِ الشَّمْسُ "، قَالَ: تَعْدِلُ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ صَدَقَةٌ، وَتُعِينُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ فَتَحْمِلُهُ عَلَيْهَا، أَوْ تَرْفَعُ لَهُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ، قَالَ: وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ خُطْوَةٍ تَمْشِيهَا إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ، وَتُمِيطُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ ".
ہمام بن منبہ سے روایت ہے، کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیں۔ انہوں نے کچھ احادیث بیان کیں، ان میں سے یہ بھی ہے: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کے ہر جوڑ پر ہر روز، جس میں سورج طلوع ہوتا ہے، صدقہ ہے۔“ فرمایا: ”تم دو (آدمیوں) کے درمیان عدل کرو، (یہ) صدقہ ہے۔ اور تمہارا کسی آدمی کی، اس کے جانور کے متعلق مدد کرنا کہ اسے اس پر سوار کرا دو یا اس کی خاطر سواری پر اس کا سامان اٹھا کر رکھو، (یہ بھی) صدقہ ہے۔“ فرمایا: ”اچھی بات صدقہ ہے اور ہر قدم جس سے تم مسجد کی طرف چلتے ہو، صدقہ ہے اور تم راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دو، (یہ بھی) صدقہ ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2335]
17: باب فِي الْمُنْفِقِ وَالْمُمْسِكِ:
باب: سخی اور بخیل کے بارے میں۔
وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي مُزَرِّدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ يَوْمٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيهِ، إِلَّا مَلَكَانِ يَنْزِلَانِ، فَيَقُولُ أَحَدُهُمَا: اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا، وَيَقُولُ الْآخَرُ اللَّهُمَّ: أَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا ".
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی دن نہیں جس میں بندے صبح کرتے ہیں مگر (اس میں آسمان سے) دو فرشتے اترتے ہیں، ان میں سے ایک کہتا ہے: اے اللہ! خرچ کرنے والے کو (بہترین) بدل عطا فرما اور دوسرا کہتا ہے: اے اللہ! روکنے والے کا (مال) تلف کر دے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2336]
18: باب التَّرْغِيبِ فِي الصَّدَقَةِ قَبْلَ أَنْ لاَ يُوجَدَ مَنْ يَقْبَلُهَا:
باب: صدقہ قبول کرنے والا نہ پانے سے پہلے پہلے صدقہ کرنے کی ترغیب کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تَصَدَّقُوا فَيُوشِكُ الرَّجُلُ يَمْشِي بِصَدَقَتِهِ، فَيَقُولُ الَّذِي أُعْطِيَهَا لَوْ جِئْتَنَا بِهَا بِالْأَمْسِ قَبِلْتُهَا، فَأَمَّا الْآنَ فَلَا حَاجَةَ لِي بِهَا، فَلَا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا ".
حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: ”صدقہ کرو، وہ وقت قریب ہے کہ آدمی اپنا صدقہ لے کر چلے گا، تو جسے وہ پیش کیا جائے گا، وہ کہے گا: اگر کل تم اسے ہمارے پاس لاتے، تو میں اسے قبول کر لیتا، مگر اب مجھے اس کی ضرورت نہیں۔“ چنانچہ اسے کوئی ایسا آدمی نہیں ملے گا جو اسے قبول کر لے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2337]
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَطُوفُ الرَّجُلُ فِيهِ بِالصَّدَقَةِ مِنَ الذَّهَبِ، ثُمَّ لَا يَجِدُ أَحَدًا يَأْخُذُهَا مِنْهُ، وَيُرَى الرَّجُلُ الْوَاحِدُ يَتْبَعُهُ أَرْبَعُونَ امْرَأَةً، يَلُذْنَ بِهِ مِنْ قِلَّةِ الرِّجَالِ وَكَثْرَةِ النِّسَاءِ "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ بَرَّادٍ: " وَتَرَى الرَّجُلَ ".
عبداللہ بن براد اشعری اور ابو کریب محمد بن علاء دونوں نے کہا: ہمیں ابو اسامہ نے برید سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابو بردہ سے، انہوں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”لوگوں پر یقیناً ایسا وقت آئے گا جس میں آدمی سونے کا صدقہ لے کر گھومے گا، پھر اسے کوئی ایسا آدمی نہیں ملے گا جو اسے اس سے لے لے اور مردوں کی قلت اور عورتوں کی کثرت کی وجہ سے ایسا اکیلا آدمی دیکھا جائے گا جس کے پیچھے چالیس عورتیں ہوں گی جو اس کی پناہ لے رہی ہوں گی۔“ ابن براد کی روایت میں (ایسا اکیلا آدمی دیکھا جائے گا) کی جگہ وتر رجل (اور تم ایسے آدمی کو دیکھو گے) ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2338]
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ الْمَالُ وَيَفِيضَ، حَتَّى يَخْرُجَ الرَّجُلُ بِزَكَاةِ مَالِهِ، فَلَا يَجِدُ أَحَدًا يَقْبَلُهَا مِنْهُ، وَحَتَّى تَعُودَ أَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوجًا وَأَنْهَارًا ".
سہیل کے والد (ابو صالح) نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ مال بڑھ جائے گا اور (پانی کی طرح) بہنے لگے گا اور آدمی اپنے مال کی زکاۃ لے کر نکلے گا، تو اسے ایک شخص بھی نہیں ملے گا جو اسے اس کی طرف سے قبول کر لے اور یہاں تک کہ عرب کی سرزمین دوبارہ چراگاہوں اور نہروں میں بدل جائے گی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2339]
وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمُ الْمَالُ فَيَفِيضَ، حَتَّى يُهِمَّ رَبَّ الْمَالِ مَنْ يَقْبَلُهُ مِنْهُ صَدَقَةً، وَيُدْعَى إِلَيْهِ الرَّجُلُ فَيَقُولُ: لَا أَرَبَ لِي فِيهِ ".
ابو یونس نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تمہارے ہاں مال کی فراوانی ہو گئی، وہ مال (پانی کی طرح) بہے گا، یہاں تک کہ مال کے مالک کو یہ فکر لاحق ہو گی کہ اس سے اس (مال) کو بطور صدقہ کون قبول کرے گا؟ ایک آدمی کو اسے لینے کے لیے بلایا جائے گا، تو وہ کہے گا: مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2340]
وحَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ ، واللفظ لواصل، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَقِيءُ الْأَرْضُ أَفْلَاذَ كَبِدِهَا أَمْثَالَ الْأُسْطُوَانِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، فَيَجِيءُ الْقَاتِلُ فَيَقُولُ: فِي هَذَا قَتَلْتُ، وَيَجِيءُ الْقَاطِعُ فَيَقُولُ: فِي هَذَا قَطَعْتُ رَحِمِي، وَيَجِيءُ السَّارِقُ فَيَقُولُ: فِي هَذَا قُطِعَتْ يَدِي، ثُمَّ يَدَعُونَهُ فَلَا يَأْخُذُونَ مِنْهُ شَيْئًا ".
ابو حازم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”زمین اپنے جگر کے ٹکڑے سونے اور چاندی کے ستونوں کی صورت میں اگل دے گی، تو قاتل آئے گا اور کہے گا: کیا اس کی خاطر میں نے قتل کیا تھا؟ رشتہ داری توڑنے والا آکر کہے گا: کیا اس کے سبب میں نے قطع رحمی کی تھی؟ چور آکر کہے گا: کیا اس کے سبب میرا ہاتھ کاٹا گیا تھا؟ پھر وہ اس مال کو چھوڑ دیں گے اور اس میں سے کچھ نہیں لیں گے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2341]
19: باب قَبُولِ الصَّدَقَةِ مِنَ الْكَسْبِ الطَّيِّبِ وَتَرْبِيَتِهَا:
باب: پاک کمائی سے صدقہ کا قبول ہونا اور اس کا پرورش پانا۔
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا تَصَدَّقَ أَحَدٌ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ، وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ، إِلَّا أَخَذَهَا الرَّحْمَنُ بِيَمِينِهِ وَإِنْ كَانَتْ تَمْرَةً، فَتَرْبُو فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ حَتَّى تَكُونَ أَعْظَمَ مِنَ الْجَبَلِ، كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ ".
سعید بن یسار سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص پاکیزہ مال سے کوئی صدقہ نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ پاکیزہ مال ہی قبول فرماتا ہے، مگر وہ رحمان اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے، چاہے وہ کھجور کا ایک دانہ ہو، تو وہ اس رحمان کی ہتھیلی میں پھلتا پھولتا ہے، حتیٰ کہ پہاڑ سے بھی بڑا ہو جاتا ہے، بالکل اسی طرح جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بچھیرے یا اونٹ کے بچے کو پالتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2342]
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَتَصَدَّقُ أَحَدٌ بِتَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ، إِلَّا أَخَذَهَا اللَّهُ بِيَمِينِهِ، فَيُرَبِّيهَا كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ قَلُوصَهُ، حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ أَوْ أَعْظَمَ "،
یعقوب بن عبدالرحمن القاری نے سہیل سے، انہوں نے اپنے والد (ابو صالح) سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص اپنی پاکیزہ کمائی سے ایک کھجور بھی خرچ نہیں کرتا، مگر اللہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے قبول کرتا ہے اور اسے اس طرح پالتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بچھیرے یا اونٹ کے بچے کو پالتا ہے، حتیٰ کہ وہ (کھجور) پہاڑ کی طرح یا اس سے بھی بڑی ہو جاتی ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2343]
وحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ . ح وحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْأَوْدِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، كِلَاهُمَا، عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ رَوْحٍ " مِنَ الْكَسْبِ الطَّيِّبِ، فَيَضَعُهَا فِي حَقِّهَا "، وَفِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ: " فَيَضَعُهَا فِي مَوْضِعِهَا "،
روح بن قاسم اور سلیمان بن بلال دونوں نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ (مذکورہ بالا) حدیث بیان کی، روح کی حدیث میں ہے: من الكسب الطيب فيضعها في حقها (حلال کمائی سے صدقہ کرتا ہے، پھر اس کو وہاں لگاتا ہے جہاں اس کا حق ہے) اور سلیمان کی حدیث میں ہے: فيضعها في موضعها (اور اسے اس کی جگہ پر خرچ کرتا ہے)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2344]
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ يَعْقُوبَ، عَنْ سُهَيْلٍ.
ہشام بن سعد نے زید بن اسلم سے، انہوں نے ابو صالح سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح روایت کی جس طرح سہیل سے یعقوب کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2345]
وحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا، وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ، فَقَالَ: يَأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ سورة المؤمنون آية 51، وَقَالَ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ سورة البقرة آية 172، ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ، يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ يَا رَبِّ يَا رَبِّ، وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ ".
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک (مال) کے سوا (کوئی مال) قبول نہیں کرتا، اللہ نے مومنوں کو بھی اسی بات کا حکم دیا جس کا رسولوں کو حکم دیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ اے پیغمبران کرام! پاک چیزیں کھاؤ اور نیک کام کرو، جو عمل تم کرتے ہو، میں اسے اچھی طرح جاننے والا ہوں اور فرمایا: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ اے مومنو! جو پاک رزق ہم نے تمہیں عنایت فرمایا ہے، اس میں سے کھاؤ۔ پھر آپ نے ایک آدمی کا ذکر کیا جو طویل سفر کرتا ہے، بال پراگندہ اور جسم غبار آلود ہے۔ (دعا کے لیے) آسمان کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتا ہے، اے میرے رب! اے میرے رب! جبکہ اس کا کھانا حرام کا ہے، اس کا پینا حرام کا ہے، اس کا لباس حرام کا ہے اور اس کو غذا حرام کی ملی ہے، تو اس کی دعا کہاں سے قبول ہو گی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2346]
20: باب الْحَثِّ عَلَى الصَّدَقَةِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ أَوْ كَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ وَأَنَّهَا حِجَابٌ مِنَ النَّارِ:
باب: ایک کھجور یا ایک کام کی بات بھی صدقہ ہے اور دوزخ سے آڑ کرنے والا ہے۔
حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ أَبِي إسحاق ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَتِرَ مِنَ النَّارِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ ".
عبداللہ بن معقل نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم میں سے جو شخص آگ سے محفوظ رہنے کی استطاعت رکھے، چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے سے کیوں نہ ہو، وہ ضرور (ایسا) کرے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2347]
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ اللَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ، فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ، وَيَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ، وَيَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ، فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ "، زَادَ ابْنُ حُجْرٍ، قَالَ الْأَعْمَشُ: وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَمِثْلَهُ، وَزَادَ فِيهِ: " وَلَوْ بِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ، وقَالَ إسحاق: قَالَ الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَ .
علی بن حجر سعدی، اسحاق بن ابراہیم اور علی بن خشرم میں سے علی بن حجر نے کہا: ہمیں عیسیٰ بن یونس نے حدیث بیان کی اور باقی دونوں نے کہا: ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں اعمش نے خیثمہ کے واسطے سے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی نہیں، مگر عنقریب اللہ اس طرح اس سے بات کرے گا کہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا۔ اور اپنی دائیں جانب دیکھے گا، تو اسے وہی کچھ نظر آئے گا جو اس نے آگے بھیجا اور اپنی بائیں جانب دیکھے گا، تو وہی کچھ دکھائی دے گا جو اس نے آگے بھیجا اور اپنے آگے دیکھے گا، تو اسے اپنے منہ کے سامنے آگ دکھائی دے گی، اس لیے آگ سے بچو، اگرچہ آدھی کھجور کے ذریعے ہی سے کیوں نہ ہو۔“ (علی بن حجر نے اضافہ کیا: اعمش نے کہا: مجھے عمرو بن مرہ نے خیثمہ سے اسی جیسی حدیث بیان کی اور اس میں اضافہ کیا: ”چاہے پاکیزہ بول کے ساتھ (بچو)۔“ اسحاق نے کہا: اعمش نے کہا: عمرو بن مرہ سے روایت ہے (کہا) خیثمہ سے روایت ہے)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2348]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّارَ فَأَعْرَضَ وَأَشَاحَ، ثُمَّ قَالَ: " اتَّقُوا النَّارَ "، ثُمَّ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ كَأَنَّمَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ: " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ " وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو كُرَيْبٍ كَأَنَّمَا، وَقَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ.
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب دونوں نے کہا: ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے عمرو بن مرہ سے، انہوں نے خیثمہ سے، انہوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آگ کا تذکرہ فرمایا، تو چہرہ مبارک ایک طرف موڑا اور اس میں مبالغہ کیا، پھر فرمایا: ”آگ سے بچو۔“ پھر رخ مبارک پھیرا اور دور ہونے کا اشارہ کیا، حتیٰ کہ ہمیں گمان ہوا جیسے آپ اس (آگ) کی طرف دیکھ رہے ہیں، پھر فرمایا: ”آگ سے بچو، چاہے آدھی کھجور کے ساتھ، جسے (یہ بھی) نہ ملے، تو اچھی بات کے ساتھ۔“ ابو کریب نے ”کانما“ (جیسے) کا (لفظ) ذکر نہیں کیا اور کہا: ہمیں ابو معاویہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2349]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ النَّارَ، فَتَعَوَّذَ مِنْهَا وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ قَالَ: " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ ".
شعبہ نے عمرو بن مرہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آگ کا ذکر کیا، تو اس سے پناہ مانگی اور تین بار اپنے چہرہ مبارک کے ساتھ دور ہونے کا اشارہ کیا، پھر فرمایا: ”آگ سے بچو، چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے سے (بچو)، اگر تم (یہ بھی) نہ پاؤ، تو اچھی بات کے ساتھ۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2350]
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَدْرِ النَّهَارِ، قَالَ: فَجَاءَهُ قَوْمٌ حُفَاةٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ أَوِ الْعَبَاءِ، مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ، فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا رَأَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ، فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّى، ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ:" يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ سورة النساء آية 1 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا سورة النساء آية 1 وَالْآيَةَ الَّتِي فِي الْحَشْرِ اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ سورة الحشر آية 18 تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِينَارِهِ مِنْ دِرْهَمِهِ مِنْ ثَوْبِهِ مِنْ صَاعِ بُرِّهِ مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ، حَتَّى قَالَ: وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ"، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ كَادَتْ كَفُّهُ تَعْجِزُ عَنْهَا بَلْ قَدْ عَجَزَتْ، قَالَ: ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رَأَيْتُ كَوْمَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِيَابٍ، حَتَّى رَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ"،
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے عون بن ابی جحیفہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے منذر بن جریر سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم دن کے ابتدائی حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ کے پاس کچھ لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن، سوراخ کر کے دھاری دار چادریں یا عبائیں گلے میں ڈالے اور تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، ان میں سے اکثر، بلکہ سب کے سب مضر قبیلے سے تھے، ان کی فاقہ زدگی کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رخ نور غمزدہ ہو گیا، آپ اندر تشریف لے گئے، پھر باہر نکلے، تو بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی اور اقامت کہی، آپ نے نماز ادا کی، پھر خطبہ دیا اور فرمایا: يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ ”اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا۔۔۔“ آیت کے آخر تک إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا اور وہ آیت جو سورہ حشر میں ہے: اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ”اللہ سے ڈرو اور ہر جان دیکھے کہ اس نے کل کے لیے آگے کیا بھیجا ہے۔“ (پھر فرمایا) ”آدمی پر لازم ہے کہ وہ اپنے دینار سے، اپنے درہم سے، اپنے کپڑے سے، اپنی گندم کے ایک صاع سے، اپنی کھجور کے ایک صاع سے۔۔۔ حتیٰ کہ آپ نے فرمایا: چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے سے صدقہ کرے۔“ (جریر نے) کہا: تو انصار میں سے ایک آدمی ایک تھیلی لایا، اس کی ہتھیلی اس (کو اٹھانے) سے عاجز آنے لگی تھی، بلکہ عاجز آگئی تھی، کہا: پھر لوگ ایک دوسرے کے پیچھے آنے لگے، یہاں تک کہ میں نے کھانے اور کپڑوں کے دو ڈھیر دیکھے، حتیٰ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک دیکھا، وہ اس طرح دمک رہا تھا جیسے اس پر سونا چڑھایا ہوا ہو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ رائج کیا، تو اس کے لیے اس کا (اپنا بھی) اجر ہے اور ان کے جیسا اجر بھی جنہوں نے اس کے بعد اس (طریقے) پر عمل کیا، اس کے بغیر کہ ان کے اجر میں کوئی کمی ہو اور جس نے اسلام میں کسی برے طریقے کی ابتدا کی، اس کا بوجھ اسی پر ہے اور ان کا بوجھ بھی جنہوں نے اس کے بعد اس پر عمل کیا، اس کے بغیر کہ ان کے بوجھ میں کوئی کمی ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2351]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرَ النَّهَارِ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُعَاذٍ مِنَ الزِّيَادَةِ، قَالَ: " ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ خَطَبَ "،
ابو اسامہ اور معاذ عنبری دونوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے عون بن ابی جحیفہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے منذر بن جریر سے سنا، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم دن کے ابتدائی حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس (حاضر) تھے۔۔۔ (آگے ابن جعفر کی حدیث کی طرح ہے۔ اور ابن معاذ کی حدیث میں اضافہ ہے، کہا: پھر آپ نے ظہر کی نماز ادا فرمائی، پھر خطبہ دیا)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2352]
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأُمَوِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ قَوْمٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ، وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ، وَفِيهِ: فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ صَعِدَ مِنْبَرًا صَغِيرًا، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ فِي كِتَابِهِ يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ سورة النساء آية 1 " الْآيَةَ،
عبدالملک بن عمیر نے منذر بن جریر سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کی خدمت میں ایک قوم درمیان میں سوراخ کر کے اون کی دھاری دار چیتھڑے گلے میں ڈالے آئی۔۔۔ اور پورا واقعہ بیان کیا اور اس میں ہے: آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر ایک چھوٹے سے منبر پر تشریف لے گئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے: یَا أَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمْ ’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو۔‘“ آیت کے آخر تک۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2353]
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، وأبي الضحى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنْ الْأَعْرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمُ الصُّوفُ، فَرَأَى سُوءَ حَالِهِمْ قَدْ أَصَابَتْهُمْ حَاجَةٌ، فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ.
عبدالرحمان بن ہلال عبسی نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: بدوؤں میں سے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے جسم پر اونی کپڑے تھے، آپ نے ان کی بدحالی دیکھی، وہ فاقہ زدہ تھے۔۔۔ پھر ان (سابقہ راویان حدیث) کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2354]
21: باب الْحَمْلِ بِأُجْرَةٍ يُتَصَدَّقُ بِهَا وَالنَّهْيِ الشَّدِيدِ عَنْ تَنْقِيصِ الْمُتَصَدِّقِ بِقَلِيلٍ:
باب: «حمال» (قلی وغیرہ) مزدوروں کو بھی صدقہ کرنا چاہئیے اور تھوڑی مقدار میں صدقہ کرنے والوں کی اہانت کرنے کو سختی سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: " أُمِرْنَا بِالصَّدَقَةِ، قَالَ: كُنَّا نُحَامِلُ، قَالَ: فَتَصَدَّقَ أَبُو عَقِيلٍ بِنِصْفِ صَاعٍ، قَالَ: وَجَاءَ إِنْسَانٌ بِشَيْءٍ أَكْثَرَ مِنْهُ، فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ: " إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ صَدَقَةِ هَذَا وَمَا فَعَلَ هَذَا الْآخَرُ إِلَّا رِيَاءً، فَنَزَلَتْ الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لا يَجِدُونَ إِلا جُهْدَهُمْ سورة التوبة آية 79، وَلَمْ يَلْفِظْ بِشْرٌ بِالْمُطَّوِّعِينَ،
یحییٰ بن معین اور بشر بن خالد نے۔ لفظ بشر کے ہیں۔ حدیث بیان کی، کہا: ہمیں محمد بن جعفر (غندر) نے خبر دی، انہوں نے شعبہ سے، انہوں نے سلیمان سے، انہوں نے ابووائل سے اور انہوں نے حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، کہا: ہم بوجھ اٹھایا کرتے تھے۔ کہا: ابوعقیل رضی اللہ عنہ نے آدھا صاع صدقہ کیا۔ ایک دوسرا انسان اس سے زیادہ کوئی چیز لایا تو منافقوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اس کے صدقے سے غنی ہے اور اس دوسرے نے محض دکھلاوا کیا ہے، اس پر یہ آیت مبارکہ اتری: الَّذِینَ یَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِینَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ فِی الصَّدَقَاتِ وَالَّذِینَ لَا یَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ ”وہ لوگ جو صدقات کے معاملے میں دل کھول کر دینے والے مسلمانوں پر طعن کرتے ہیں اور ان پر بھی جو اپنی محنت (کی اجرت) کے سوا کچھ نہیں پاتے۔“ بشر نے ’المطوعین‘ (اور بعد کے) الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2355]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ . ح وحَدَّثَنِيهِ إسحاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ ، كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ الرَّبِيعِ، قَالَ: " كُنَّا نُحَامِلُ عَلَى ظُهُورِنَا ".
سعید بن ربیع اور ابوداود دونوں نے شعبہ سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور سعید بن ربیع کی حدیث میں ہے، کہا: ہم اپنی پشتوں پر بوجھ اٹھاتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2356]
22: باب فَضْلِ الْمَنِيحَةِ:
باب: دودھ والا جانور مفت دینے کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ: " أَلَا رَجُلٌ يَمْنَحُ أَهْلَ بَيْتٍ نَاقَةً تَغْدُو بِعُسٍّ وَتَرُوحُ بِعُسٍّ إِنَّ أَجْرَهَا لَعَظِيمٌ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اسے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک) پہنچاتے تھے: ”سن لو، کوئی آدمی کسی خاندان کو (ایسی دودھ دینے والی) اونٹنی دے جو صبح کو بڑا پیالہ بھر دودھ دے اور شام کو بھی بڑا پیالہ بھر دودھ دے تو یقیناً اس (اونٹنی) کا اجر بہت بڑا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2357]
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ نَهَى فَذَكَرَ خِصَالًا، وَقَالَ: " مَنْ مَنَحَ مَنِيحَةً، غَدَتْ بِصَدَقَةٍ، وَرَاحَتْ بِصَدَقَةٍ صَبُوحِهَا وَغَبُوقِهَا ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے (کچھ اشیاء سے) منع کیا، پھر چند خصلتوں کا ذکر کیا اور فرمایا: ”جس نے دودھ پینے کے لئے جانور دیا تو اس (اونٹنی، گائے وغیرہ) نے صدقے سے صبح کی اور صدقے سے شام کی، یعنی اپنے صبح کے دودھ سے اور اپنے شام کے دودھ سے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2358]
23: باب مَثَلِ الْمُنْفِقِ وَالْبَخِيلِ:
باب: سخی اور بخیل کی مثال۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَمْرٌو : وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَثَلُ الْمُنْفِقِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلٍ عَلَيْهِ جُبَّتَانِ أَوْ جُنَّتَانِ مِنْ لَدُنْ ثُدِيِّهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا، فَإِذَا أَرَادَ الْمُنْفِقُ، وَقَالَ الْآخَرُ: فَإِذَا أَرَادَ الْمُتَصَدِّقُ أَنْ يَتَصَدَّقَ سَبَغَتْ عَلَيْهِ أَوْ مَرَّتْ، وَإِذَا أَرَادَ الْبَخِيلُ أَنْ يُنْفِقَ قَلَصَتْ عَلَيْهِ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَوْضِعَهَا، حَتَّى تُجِنَّ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ "، قَالَ: فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: " يُوَسِّعُهَا فَلَا تَتَّسِعُ ".
ابوزناد نے اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، نیز ابن جریج نے کہا: حسن بن مسلم سے، انہوں نے طاوس سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ ”خرچ کرنے والے اور صدقہ دینے والے کی مثال اس آدمی کی ہے جس کے جسم پر چھاتی سے لے کر ہنسلی کی ہڈیوں تک دو جبے یا دو زرہیں ہوں۔ جب خرچ کرنے والا اور دوسرے (راوی) نے کہا: جب صدقہ کرنے والا۔ خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ زرہ اس (کے جسم) پر کھل جاتی ہے یا رواں ہو جاتی ہے اور جب بخیل خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اس (کے جسم) پر سکڑ جاتی ہے اور ہر حلقہ اپنی جگہ (کو مضبوطی سے) پکڑ لیتا ہے حتیٰ کہ اس (کی انگلیوں) کے پوروں کو ڈھانپ دیتا ہے اور اس کے نقش پا کو مٹا دیتا ہے۔“ کہا: تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے فرمایا: ”وہ (بخیل) اس کو کھولنا چاہتا ہے لیکن وہ کھلتی نہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2359]
حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِي الْعَقَدِيَّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلَ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ، كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، قَدِ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَى ثُدِيِّهِمَا وَتَرَاقِيهِمَا، فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنْهُ، حَتَّى تُغَشِّيَ أَنَامِلَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ، وَجَعَلَ الْبَخِيلُ كُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ، قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَكَانَهَا "، قَالَ: فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِإِصْبَعِهِ فِي جَيْبِهِ: " فَلَوْ رَأَيْتَهُ يُوَسِّعُهَا وَلَا تَوَسَّعُ ".
ابراہیم بن نافع نے حسن بن مسلم سے، انہوں نے طاوس سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مثال بیان فرمائی: ”بخیل اور صدقہ کرنے والے کی مثال ایسے دو آدمیوں کی مانند ہے جن (کے جسموں) پر لوہے کی دو زرہیں ہیں، ان کے دونوں ہاتھ ان کی چھاتیوں اور ہنسلی کی ہڈیوں سے جکڑے ہوئے ہیں، پس صدقہ دینے والا جب صدقہ دینے لگتا ہے تو وہ (اس کی زرہ) پھیل جاتی ہے حتیٰ کہ اس کی انگلیوں کے پوروں کو ڈھانپ لیتی ہے اور (زمین پر گھسیٹنے کی وجہ سے) اس کے نقش قدم کو مٹانے لگتی ہے۔ اور بخیل جب صدقہ دینے کا ارادہ کرنے لگتا ہے تو وہ سکڑ جاتی ہے اور ہر حلقہ اپنی جگہ کو پکڑ لیتا ہے۔“ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنی گریبان میں ڈال رہے تھے، کاش تم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے (ایسے لگتا تھا کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے کشادہ کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2360]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إسحاق الْحَضْرَمِيُّ ، عَنْ وُهَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ، مَثَلُ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، إِذَا هَمَّ الْمُتَصَدِّقُ بِصَدَقَةٍ، اتَّسَعَتْ عَلَيْهِ حَتَّى تُعَفِّيَ أَثَرَهُ، وَإِذَا هَمَّ الْبَخِيلُ بِصَدَقَةٍ، تَقَلَّصَتْ عَلَيْهِ وَانْضَمَّتْ يَدَاهُ إِلَى تَرَاقِيهِ، وَانْقَبَضَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ إِلَى صَاحِبَتِهَا "، قَالَ: فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " فَيَجْهَدُ أَنْ يُوَسِّعَهَا فَلَا يَسْتَطِيعُ ".
عبداللہ بن طاوس نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال ان دو آدمیوں جیسی ہے جن پر لوہے کی دو زرہیں ہیں، صدقہ دینے والا جب صدقہ دینے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ (اس کی زرہ) اس پر کشادہ ہو جاتی ہے حتیٰ کہ اس کے نقش پا کو مٹانے لگتی ہے اور جب بخیل صدقہ دینے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ (زرہ) اس پر سکڑ جاتی ہے اور اس کے دونوں ہاتھ اس کی ہنسلی کے ساتھ جکڑ جاتے ہیں اور ہر حلقہ ساتھ والے حلقے کے ساتھ پیوست ہو جاتا ہے۔“ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”وہ کوشش کرتا ہے کہ اسے کشادہ کرے لیکن نہیں کر سکتا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2361]
24: باب ثُبُوتِ أَجْرِ الْمُتَصَدِّقِ وَإِنْ وَقَعَتِ الصَّدَقَةُ فِي يَدِ غَيْرِ أَهْلِهَا:
باب: صدقہ دینے والے کو ثواب ہے اگرچہ صدقہ اس کے حقدار کو نہ پہنچے۔
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " قَالَ رَجُلٌ: لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ زَانِيَةٍ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى زَانِيَةٍ، قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ غَنِيٍّ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَى غَنِيٍّ، قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى غَنِيٍّ لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِقٍ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَى سَارِقٍ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ وَعَلَى غَنِيٍّ وَعَلَى سَارِقٍ، فَأُتِيَ فَقِيلَ لَهُ: أَمَّا صَدَقَتُكَ فَقَدْ قُبِلَتْ، أَمَّا الزَّانِيَةُ فَلَعَلَّهَا تَسْتَعِفُّ بِهَا عَنْ زِنَاهَا، وَلَعَلَّ الْغَنِيَّ يَعْتَبِرُ فَيُنْفِقُ مِمَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ، وَلَعَلَّ السَّارِقَ يَسْتَعِفُّ بِهَا عَنْ سَرِقَتِهِ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی نے کہا: میں آج رات ضرور کچھ صدقہ کروں گا تو وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اسے ایک زانیہ کے ہاتھ میں دے دیا، صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ آج رات ایک زانیہ پر صدقہ کیا گیا، اس آدمی نے کہا: اے اللہ تیری حمد! زانیہ پر (صدقہ ہوا) میں ضرور صدقہ کروں گا، پھر وہ صدقہ لے کر نکلا تو اسے ایک مالدار کے ہاتھ میں دے دیا۔ صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے: ایک مالدار پر صدقہ کیا گیا۔ اس نے کہا: اے اللہ تیری حمد! مالدار پر (صدقہ ہوا) میں ضرور کچھ صدقہ کروں گا اور وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا تو اسے ایک چور کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ لوگ صبح کو باتیں کرنے لگے: چور پر صدقہ کیا گیا۔ تو اس نے کہا: اے اللہ! سب حمد تیرے ہی لئے ہے، زانیہ پر، مالدار پر، اور چور پر (صدقہ ہوا)۔ اس کو (خواب میں) کہا گیا تمہارا صدقہ قبول ہو چکا، جہاں تک زانیہ کا تعلق ہے تو ہو سکتا ہے کہ اس (صدقے) کی وجہ سے زانیہ اپنے زنا سے پاک دامنی اختیار کر لے اور شاید مالدار عبرت پکڑے اور اللہ نے جو اسے دیا ہے (خود) اس میں صدقہ کرے اور شاید اس کی وجہ سے چور اپنی چوری سے باز آجائے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2362]
25: باب أَجْرِ الْخَازِنِ الأَمِينِ وَالْمَرْأَةِ إِذَا تَصَدَّقَتْ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ بِإِذْنِهِ الصَّرِيحِ أَوِ الْعُرْفِيِّ.
باب: خازن امانتدار اور عورت کو صدقہ کا ثواب ملنا جب وہ اپنے شوہر کی اجازت سے خواہ صاف اجازت ہو یا دستور کی راہ سے اجازت ہو صدقہ دے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ كُلُّهُمْ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْخَازِنَ الْمُسْلِمَ الْأَمِينَ الَّذِي يُنْفِذُ، وَرُبَّمَا قَالَ: يُعْطِي مَا أُمِرَ بِهِ فَيُعْطِيهِ كَامِلًا مُوَفَّرًا، طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ، فَيَدْفَعُهُ إِلَى الَّذِي أُمِرَ لَهُ بِهِ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقَيْنِ ".
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک ایک مسلمان امانت دار خازن (خزانچی) جو دیئے گئے حکم پر عمل کرتا ہے۔ (یا فرمایا: ادا کرتا ہے) اسے خوش دلی کے ساتھ پورے کا پورا (بلکہ) وافر، اس شخص کو ادا کر دیتا ہے جس کے بارے میں اسے حکم دیا گیا ہے تو وہ (خازن بھی)۔۔۔ دو صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2363]
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ بَيْتِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ، كَانَ لَهَا أَجْرُهَا بِمَا أَنْفَقَتْ، وَلِزَوْجِهَا أَجْرُهُ بِمَا كَسَبَ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ لَا يَنْقُصُ بَعْضُهُمْ أَجْرَ بَعْضٍ شَيْئًا "،
جریر نے منصور سے، انہوں نے شقیق سے، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت اجاڑے بغیر اپنے گھر کے کھانے سے خرچ کرتی ہے تو اسے خرچ کرنے کی وجہ سے اجر ملے گا اور اس کے خاوند کو اس کے کمانے کی وجہ سے اپنا اجر ملے گا اور خزانچی کے لئے بھی اسی طرح (اجر) ہے۔ یہ ایک دوسرے کے اجر میں کوئی کمی نہیں کرتے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2364]
وحَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: " مِنْ طَعَامِ زَوْجِهَا ".
فضیل بن عیاض نے منصور سے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کے مانند) روایت کی اور انہوں نے (”اپنے گھر کے کھانے میں سے“ کے بجائے) ’من طعام زوجہا‘ (اپنے خاوند کے کھانے میں سے) کے الفاظ کہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2365]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ، كَانَ لَهَا أَجْرُهَا، وَلَهُ مِثْلُهُ بِمَا اكْتَسَبَ، وَلَهَا بِمَا أَنْفَقَتْ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا "،
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ابومعاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے شقیق سے، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت اجاڑے بغیر اپنے خاوند کے گھر سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتی ہے تو اس کے لئے اس کا اجر ہے اور اس (خاوند) کے لئے بھی اس کے کمانے کی وجہ سے ویسا ہی اجر ہے اور اس عورت کے لئے اس کے خرچ کرنے کی وجہ سے اور خزانچی کے لئے بھی اس جیسا (اجر) ہے، ان (سب لوگوں) کے اجر میں کچھ کمی کئے بغیر۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2366]
وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ابن نمیر نے کہا: ہمیں میرے والد اور ابومعاویہ نے اعمش سے اسی (مذکورہ بالا) سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2367]
26: باب مَا أَنْفَقَ الْعَبْدُ مِنْ مَالِ مَوْلاَهُ:
باب: غلام کا اپنے مالک کے مال سے خرچ کرنا۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، قَالَ: كُنْتُ مَمْلُوكًا، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَأَتَصَدَّقُ مِنْ مَالِ مَوَالِيَّ بِشَيْءٍ؟، قَالَ: " نَعَمْ وَالْأَجْرُ بَيْنَكُمَا نِصْفَانِ ".
محمد بن زید نے آبی اللحم (غفاری) رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں غلام تھا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا میں اپنے آقاؤں کے مال میں سے کچھ صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اور اجر تم دونوں کے درمیان آدھا آدھا (برابر برابر) ہوگا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2368]
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَيْرًا مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، قَالَ: أَمَرَنِي مَوْلَايَ أَنْ أُقَدِّدَ لَحْمًا، فَجَاءَنِي مِسْكِينٌ فَأَطْعَمْتُهُ مِنْهُ، فَعَلِمَ بِذَلِكَ مَوْلَايَ فَضَرَبَنِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَدَعَاهُ فَقَالَ: " لِمَ ضَرَبْتَهُ "، فَقَالَ: يُعْطِي طَعَامِي بِغَيْرِ أَنْ آمُرَهُ، فَقَالَ: " الْأَجْرُ بَيْنَكُمَا ".
یزید بن ابی عبید نے کہا: میں نے آبی اللحم رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام عمیر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: مجھے میرے آقا نے گوشت کے ٹکڑے کر کے خشک کرنے کا حکم دیا، میرے پاس ایک مسکین آ گیا تو میں نے اس میں سے کچھ کھلا دیا۔ میرے آقا کو اس کا پتہ چل گیا۔ تو انہوں نے مجھے مارا۔ اس پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی۔ آپ نے اسے بلا کر پوچھا: ”تم نے اسے کیوں مارا؟“ اس نے کہا: میرے حکم کے بغیر میرا کھانا (دوسروں کو) دیتا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اجر تم دونوں کے درمیان ہوگا۔“ (تم دونوں کو ملے گا) [صحيح مسلم/حدیث: 2369]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَصُمْ الْمَرْأَةُ وَبَعْلُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ، وَلَا تَأْذَنْ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ، وَمَا أَنْفَقَتْ مِنْ كَسْبِهِ مِنْ غَيْرِ أَمْرِهِ، فَإِنَّ نِصْفَ أَجْرِهِ لَهُ ".
ہمام بن منبہ سے روایت ہے، کہا: یہ وہ احادیث ہیں جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی، پھر انہوں نے کچھ احادیث ذکر کیں، ان میں سے یہ بھی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت اپنے خاوند کی موجودگی میں (نفلی) روزہ نہ رکھے مگر جب اس کی اجازت ہو اور اس کے گھر میں اس کی موجودگی میں (اپنے کسی محرم کو بھی) اس کی اجازت کے بغیر نہ آنے دے اور اس (عورت) نے اس کے حکم کے بغیر اس کی کمائی سے جو کچھ خرچ کیا تو یقیناً اس کا آدھا اجر اس (خاوند) کے لئے ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2370]
27: باب فَضلِ مَنْ ضَمَّ إِلَی الصَّدَقَةِ غَيرَهَا مِن أَنوَاعِ البِرِّ
باب: صدقہ کے ساتھ اور نیکی ملانے والے کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، واللفظ لأبي الطاهر، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ "، قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عَلَى أَحَدٍ يُدْعَى مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ، فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا؟، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ "،
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے حمید بن عبدالرحمان سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں دو دو چیزیں خرچ کیں اسے جنت میں آواز دی جائے گی کہ اے اللہ کے بندے! یہ (دروازہ) بہت اچھا ہے۔ (کیونکہ وہ دوسرے میں سے جانے کا حقدار بھی ہوگا) جو نماز پڑھنے والوں میں سے ہوگا، اسے نماز کے دروازے سے پکارا جائے گا، جو جہاد کرنے والوں میں سے ہوگا، اسے جہاد کے دروازے سے پکارا جائے گا، جو صدقہ دینے والوں میں سے ہوگا، اسے صدقے والے دروازے سے پکارا جائے گا، اور جو روزہ داروں میں سے ہوگا، اسے باب ریان (سیرابی کے دروازے) سے پکارا جائے گا۔“ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کسی انسان کو ان تمام دروازوں سے پکارے جان کی ضرورت تو نہیں ہے لیکن کیا کوئی ایسا بھی (خوش نصیب) ہوگا جسے ان تمام دروازوں سے بلایا جائے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اور مجھے امید ہے تم انہی میں سے ہوگے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2371]
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ يُونُسَ وَمَعْنَى حَدِيثِهِ.
صالح اور معمر دونوں نے زہری سے یونس کی مذکورہ بالا سند کے ساتھ اسی کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2372]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنِي شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، دَعَاهُ خَزَنَةُ الْجَنَّةِ كُلُّ خَزَنَةِ بَابٍ، أَيْ فُلُ هَلُمَّ "، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَلِكَ الَّذِي لَا تَوَى عَلَيْهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں جوڑا جوڑا خرچ کیا، اسے جنت کے پہرے دار بلائیں گے، دروازے کے تمام پہرے دار (کہیں گے:) اے فلاں! آجاؤ۔“ اس پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے فرد کو کسی قسم (کے نقصان) کا اندیشہ نہیں ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ تم انہی میں سے ہو گے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2373]
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا؟، قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَا، قَالَ: فَمَنْ تَبِعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جَنَازَةً؟، قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَا، قَالَ: فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِينًا؟، قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَا، قَالَ: فَمَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا؟، قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا اجْتَمَعْنَ فِي امْرِئٍ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج تم میں سے روزے دار کون ہے؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج تم میں سے جنازے کے ساتھ کون گیا؟“ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ آپ نے پوچھا: ”آج تم میں سے کسی نے کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہے؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں نے۔ آپ نے پوچھا: ”تو آج تم میں سے کسی بیمار کی تیمار داری کس نے کی؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی انسان میں یہ نیکیاں جمع نہیں ہوتیں مگر وہ یقیناً جنت میں داخل ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2374]
28: باب الْحَثِّ فِي الإِنْفَاقِ وَكَرَاهَةِ الإِحْصَاءِ:
باب: خرچ کرنے کی فضیلیت اور گن گن کر رکھنے کی کراہت۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْفِقِي أَوِ انْضَحِي أَوِ انْفَحِي، وَلَا تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ ".
حفص بن غیاث نے ہشام سے انہوں نے فاطمہ بنت منذر سے اور انہوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”(مال کو) خرچ کرو۔۔۔ یا ہر طرف پھیلاؤ یا (پانی کی طرح) بہاؤ۔۔۔ اور گنو نہیں ورنہ اللہ بھی تمہیں گن گن کر دے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2375]
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ ، وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْفَحِي أَوِ انْضَحِي أَوْ أَنْفِقِي، وَلَا تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ، وَلَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ "،
محمد بن خازم نے حدیث بیان کی کہا: ہمیں ہشام بن عروہ نے عباد بن حمزہ اور فاطمہ بنت منذر سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(مال کو) ہر طرف خرچ کرو۔۔۔ یا (پانی کی طرح) بہاؤ یا خرچ کرو۔۔۔ اور شمار نہ کرو ورنہ اللہ بھی تمہیں شمار کر کر کے دے گا اور سنبھال کر نہ رکھو ورنہ اللہ بھی تم سے سنبھال کر رکھے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2376]
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.
محمد بن بشر نے کہا: ہمیں ہشام نے عباد بن حمزہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا۔۔۔ ان (مذکورہ بالا راویوں) کی حدیث کے مانند۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2377]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَيْسَ لِي شَيْءٌ، إِلَّا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ أَرْضَخَ مِمَّا يُدْخِلُ عَلَيَّ؟، فَقَالَ: " ارْضَخِي مَا اسْتَطَعْتِ، وَلَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ ".
عباد بن عبداللہ بن زبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی، اے اللہ کے نبی! جو کچھ زبیر مجھے دے اس کے سوا میرے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی تو کیا مجھ پر کوئی گناہ تو نہیں کہ جو وہ مجھے دے اس میں سے تھوڑا سا صدقہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”اپنی طاقت کے مطابق تھوڑا بھی خرچ کرو اور برتن میں سنبھال کر نہ رکھو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تم سے سنبھال کر رکھے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2378]
29: باب الْحَثِّ عَلَى الصَّدَقَةِ وَلَوْ بِالْقَلِيلِ وَلاَ تُمْتَنَعُ مِنَ الْقَلِيلِ لاِحْتِقَارِهِ:
باب: تھوڑے صدقہ کی فضیلت اور اس کو حقیر نہ جاننے کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ، لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا، وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”اے مسلمان عورتو! کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے لیے (تحفے کو) حقیر نہ سمجھے چاہے وہ بکری کا ایک کھر ہو۔“ (جو میسر ہے بھیج دو) [صحيح مسلم/حدیث: 2379]
30: باب فَضْلِ إِخْفَاءِ الصَّدَقَةِ:
باب: صدقہ کو چھپا کر دینے کی فضیلت۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى جميعا، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَشَابٌّ نَشَأَ بِعِبَادَةِ اللَّهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ، فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ يَمِينُهُ مَا تُنْفِقُ شِمَالُهُ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ "،
عبید اللہ سے روایت ہے کہا: مجھے خبیب بن عبدالرحمٰن نے حفص بن عاصم سے خبر دی انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات قسم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اس دن اپنے سائے میں سایہ مہیا کرے گا جس دن کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا عدل کرنے والا حکمران اور وہ نوجوان جو اللہ کی عبادت کے ساتھ پروان چڑھا اور وہ آدمی جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہے اور ایسے دو آدمی جنہوں نے اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کی اسی پر اکٹھے ہوئے اور اسی پر جدا ہوئے اور ایسا آدمی جسے مرتبے اور حسن والی عورت نے (گناہ کی) دعوت دی تو اس (آدمی) نے کہا: میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ آدمی جس نے چھپا کر صدقہ کیا حتیٰ کہ اس کا بایاں ہاتھ جو کچھ خرچ کر رہا ہے اسے دایاں نہیں جانتا اور وہ آدمی جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا تو اس کی آنکھیں بہنے لگیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2380]
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَقَالَ: " وَرَجُلٌ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ، إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهِ ".
امام مالک نے خبیب بن عبدالرحمان سے انہوں نے حفص بن عاصم سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ۔۔۔ یا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ۔۔۔ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ (آگے) جس طرح عبید اللہ کی حدیث ہے اور انہوں نے (ایسا آدمی جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہے کے بجائے) کہا: رجل معلق بالمسجد اذا خرج منه حتي يعود اليه ”وہ آدمی جب مسجد سے نکلتا ہے تو اسی کے ساتھ معلق رہتا ہے یہاں تک کہ اس میں لوٹ آئے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2381]
31: باب بَيَانِ أَنَّ أَفْضَلَ الصَّدَقَةِ صَدَقَةُ الصَّحِيحِ الشَّحِيحِ:
باب: خوش حالی اور تندرستی میں صدقہ کرنے کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ؟، فَقَالَ: " أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ، تَخْشَى الْفَقْرَ وَتَأْمُلُ الْغِنَى، وَلَا تُمْهِلَ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ "، قُلْتَ لِفُلَانٍ: كَذَا، وَلِفُلَانٍ كَذَا، أَلَا وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ.
جریر نے عمارہ بن قعقاع سے انہوں نے ابوزرعہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا صدقہ (اجر میں) بڑا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تم (اس وقت) صدقہ کرو جب تم تندرست ہو اور مال کی خواہش رکھتے ہو فقر سے ڈرتے ہو اور تونگری کی امید رکھتے ہو اور اس قدر تاخیر نہ کرو کہ جب (تمہاری جان) حلق تک پہنچ جائے (پھر) تم کہو: اتنا فلاں کا ہے اور اتنا فلاں کا۔ اب تو وہ فلاں (وارث) کا ہو ہی چکا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2382]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ أَجْرًا؟، فَقَالَ: " أَمَا وَأَبِيكَ لَتُنَبَّأَنَّهُ أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ، تَخْشَى الْفَقْرَ وَتَأْمُلُ الْبَقَاءَ، وَلَا تُمْهِلَ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ "، قُلْتَ: لِفُلَانٍ كَذَا، وَلِفُلَانٍ كَذَا، وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ،
ابن فضیل نے عمارہ سے انہوں نے ابوزرعہ سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! کون سا صدقہ اجر میں بڑا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں تمہارے باپ کا بھلا ہو تمہیں اس بات سے آگاه کیا جائے گا وہ یہ کہ تم اس وقت صدقہ کرو جب تم تندرست ہو اور مال کی خواہش رکھتے ہو فقر سے ڈرتے ہو اور لمبی زندگی کی امید رکھتے ہو اور (خود کو) اس قدر مہلت نہ دو کہ جب تمہاری جان حلق تک پہنچ جائے تو پھر (وصیت کرتے ہوئے) کہو فلاں کا اتنا ہے اور فلاں کا اتنا ہے وہ تو فلاں کا ہو ہی چکا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2383]
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟.
عبدالواحد نے کہا: ہم سے عمارہ بن قعقاع نے (باقی ماندہ) اسی سند کے ساتھ جریر کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی البتہ کہا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ [صحيح مسلم/حدیث: 2384]
32: باب بَيَانِ أَنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَأَنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا هِيَ الْمُنْفِقَةُ وَأَنَّ السُّفْلَى هِيَ الآخِذَةُ.
باب: صدقہ دینا افضل ہے لینا افضل نہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَهُوَ يَذْكُرُ الصَّدَقَةَ، وَالتَّعَفُّفَ عَنِ الْمَسْأَلَةِ: " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ، وَالسُّفْلَى السَّائِلَةُ ".
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبکہ آپ منبر پر تھے اور صدقہ اور سوال سے بچنے کا ذکر کر رہے تھے: ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا مانگنے والا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2385]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ جميعا، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ أَوْ خَيْرُ الصَّدَقَةِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ".
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے افضل صدقہ۔۔۔ یا سب سے اچھا صدقہ۔۔۔ وہ ہے جس کے پیچھے (دل کی) تونگری ہو اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور (دینے کی) ابتدا اس سے کرو جس کی تم کفالت کرتے ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2386]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِطِيبِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ".
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ نے مجھے عطا فرمایا میں نے (دوبارہ) مانگا تو آپ نے مجھے دے دیا میں نے پھر آپ سے سوال کیا تو آپ نے مجھے دیا پھر فرمایا: ”یہ مال شاداب (آنکھوں کو لبھانے والا) اور شیریں ہے جو تو اسے حرص و طمع کے بغیر لے گا اس کے لیے اس میں برکت عطا کی جائے گی اور جو دل کے حرص سے لے گا، اس کے لیے اس میں برکت نہیں ڈالی جائے گی، وہ اس انسان کی طرح ہوگا جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2387]
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ أَنْ تَبْذُلَ الْفَضْلَ خَيْرٌ لَكَ، وَأَنْ تُمْسِكَهُ شَرٌّ لَكَ، وَلَا تُلَامُ عَلَى كَفَافٍ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ".
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے آدم کے بیٹے! بے شک تو (ضرورت سے) زائد مال خرچ کر دے یہ تیرے لیے بہتر ہے اور تو اسے روک رکھے تو یہ تیرے لیے برا ہے اور گزر بسر جتنا رکھنے پر تمہیں کوئی ملامت نہیں کی جائے گی اور خرچ کا آغاز ان سے کرو جن کے (کے خرچ) تم ذمہ دار ہو اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2388]
33: باب النَّهْيِ عَنِ الْمَسْأَلَةِ:
باب: سوال کرنے کی ممانعت۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْيَحْصَبِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ ، يَقُولُ: إِيَّاكُمْ وَأَحَادِيثَ إِلَّا حَدِيثًا كَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ، فَإِنَّ عُمَرَ كَانَ يُخِيفُ النَّاسَ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ: " مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ ". (حديث مرفوع) وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا: " أَنَا خَازِنٌ فَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَنْ طِيبِ نَفْسٍ، فَيُبَارَكُ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَنْ مَسْأَلَةٍ وَشَرَهٍ، كَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ ".
عبداللہ بن عامر یحصبی نے کہا میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: تم اس حدیث کے سوا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں (بیان کی جاتی) تھی دوسری احادیث بیان کرنے سے بچو کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو (روایات کے سلسلے میں بھی) اللہ کا خوف دلایا کرتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے ”اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے دین میں گہرا فہم عطا فرما دیتا ہے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا: ”میں تو بس خزانچی ہوں جس کو میں خوش دلی سے دوں اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی جائے گی اور جس کو میں مانگنے پر اور (اس کے) حرص کے سبب سے دوں اس کی حالت اس انسان جیسی ہوگی جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2389]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَخِيهِ هَمَّامٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُلْحِفُوا فِي الْمَسْأَلَةِ، فَوَاللَّهِ لَا يَسْأَلُنِي أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا، فَتُخْرِجَ لَهُ مَسْأَلَتُهُ مِنِّي شَيْئًا، وَأَنَا لَهُ كَارِهٌ فَيُبَارَكَ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتُهُ "،
محمد بن عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں سفیان نے عمرو (بن دینار) سے حدیث بیان کی انہوں نے وہب بن منبہ سے انہوں نے اپنے بھائی ہمام سے اور انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مانگنے میں اصرار نہ کرو اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم میں سے کوئی شخص مجھ سے کچھ مانگے میں اسے ناپسند کرتا ہوں پھر بھی اس کا سوال مجھ سے کچھ نکلوالے تو جو میں اس کو دوں اس میں برکت ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2390]
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ مُنَبِّهٍ ، وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فِي دَارِهِ بِصَنْعَاءَ فَأَطْعَمَنِي مِنْ جَوْزَةٍ فِي دَارِهِ، عَنْ أَخِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ابن ابی عمر مکی نے کہا: ہمیں سفیان نے عمرو بن دینار سے حدیث سنائی کہا: مجھے وہب بن منبہ نے۔۔۔ جب میں صنعاء میں ان کے پاس ان کے گھر گیا اور انہوں نے مجھے اپنے گھر کے درخت سے اخروٹ کھلائے۔۔۔ اپنے بھائی سے حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا: میں نے معاویہ بن ابی سفیان کو یہ کہتے ہوئے سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے۔۔۔ (آگے) اسی (پچھلی) حدیث کے مطابق بیان کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2391]
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ يَخْطُبُ يَقُولُ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَيُعْطِي اللَّهُ ".
حمید بن عبدالرحمان بن عوف نے کہا: میں نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے سنا وہ خطبہ دیتے ہوئے کہہ رہے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے ”اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کا گہرا فہم عطا فرماتا ہے اور میں تو بس تقسیم کرنے والا ہوں اور دیتا اللہ ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2392]
34: باب الْمِسْكِينِ الَّذِي لاَ يَجِدُ غِنًى وَلاَ يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ:
باب: مسکین کون ہے؟
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِهَذَا الطَّوَّافِ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ، فَتَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ، وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، قَالُوا: فَمَا الْمِسْكِينُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ، وَلَا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ، وَلَا يَسْأَلُ النَّاسَ شَيْئًا ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اصل) مسکین یہ گھومنے والا نہیں جو لوگوں کے پاس چکر لگاتا ہے پھر ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں اسے واپس لوٹا دیتی ہیں۔“ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! تو مسکین کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جو اتنی تونگری نہیں پاتا جو اسے (سوال سے) مستغنی کردے، نہ ہی اس (کے ضرورت مند ہونے) کا پتہ چلتا ہے کہ اس کو صدقہ دیا جائے اور نہ ہی وہ لوگوں سے کوئی چیز مانگتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2393]
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِالَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، وَلَا اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ، إِنَّمَا الْمِسْكِينُ الْمُتَعَفِّفُ، اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ لا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا سورة البقرة آية 273 "،
اسماعیل نے جو ابن جعفر (بن ابی کثیر) ہیں، کہا: مجھے شریک نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عطاء بن یسار سے خبر دی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اصل) مسکین وہ نہیں جسے ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمے لوٹا دیتے ہیں، اصل مسکین سوال سے بچنے والا ہے، چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: لَا یَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا ’وہ لوگوں سے چمٹ کر (اصرار سے) نہیں مانگتے۔‘“ [صحيح مسلم/حدیث: 2394]
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ إسحاق ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، أنهما سمعا أبا هريرة ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ.
محمد بن جعفر (بن ابی کثیر) نے کہا: مجھے شریک نے خبر دی، کہا: مجھے عطاء بن یسار اور عبدالرحمان بن ابی عمرہ نے بتایا کہ ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ (آگے محمد کے بھائی) اسماعیل کی روایت کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2395]
35: باب كَرَاهَةِ الْمَسْأَلَةِ لِلنَّاسِ:
باب: لوگوں سے سوال کرنے کی کراہت۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَزَالُ الْمَسْأَلَةُ بِأَحَدِكُمْ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ، وَلَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ "،
عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلیٰ نے معمر سے، انہوں نے (امام زہری کے بھائی) عبداللہ بن مسلم سے، انہوں نے حمزہ بن عبداللہ (بن عمر) سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی شخص کے ساتھ سوال چمٹا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ سے ملے گا تو اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہ ہوگا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2396]
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَخِي الزُّهْرِيِّ هَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ " مُزْعَةُ ".
اسماعیل بن ابراہیم نے معمر سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی اور اس میں (گوشت کے) ٹکڑے کے الفاظ نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2397]
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْأَلُ النَّاسَ، حَتَّى يَأْتِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ ".
عبیداللہ بن ابی جعفر نے حمزہ بن عبداللہ بن عمر سے روایت کی کہ انہوں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی لوگوں سے سوال کرتا رہتا ہے (مانگنا اس کی عادت بن جاتا ہے) یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہ ہوگا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2398]
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا، فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرًا، فَلْيَسْتَقِلَّ أَوْ لِيَسْتَكْثِرْ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مال بڑھانے کے لئے لوگوں سے ان کا مال مانگتا ہے وہ آگ کے انگارے مانگتا ہے، کم (اکھٹے) کرلے یا زیادہ کرلے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2399]
حَدَّثَنِي هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ بَيَانٍ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ فَيَحْطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ، فَيَتَصَدَّقَ بِهِ وَيَسْتَغْنِيَ بِهِ مِنَ النَّاسِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ رَجُلًا أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ ذَلِكَ، فَإِنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا أَفْضَلُ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ "،
بیان بن ابی بشر نے قیس بن ابی حازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم میں سے کوئی شخص صبح کو نکلے اپنی پشت پر لکڑیاں اکھٹی کر لائے اور اس سے صدقہ کرے اور لوگوں (کے عطیوں) سے بے نیاز ہوجائے، وہ اس سے بہتر ہے کہ کسی آدمی سے مانگے، وہ (چاہے تو) اسے دے یا (چاہے تو) محروم رکھے، بلاشبہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل ہے اور (خرچ کی) ابتدا ان سے کرو جن کی تم کفالت کرتے ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2400]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاللَّهِ لَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ فَيَحْطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهُ "، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ بَيَانٍ.
اسماعیل نے کہا: مجھے قیس بن ابی حازم نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم میں سے ایک صبح کو نکلے، اپنی پیٹھ پر لکڑیاں لائے اور انہیں بیچے۔۔۔“ پھر بیان کی حدیث کے مانند حدیث سنائی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2401]
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنْ يَحْتَزِمَ أَحَدُكُمْ حُزْمَةً مِنْ حَطَبٍ، فَيَحْمِلَهَا عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ رَجُلًا يُعْطِيهِ أَوْ يَمْنَعُهُ ".
حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابوعبید سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایندھن کا گٹھا باندھے اور اپنی پیٹھ پر لادے، اور بیچ دے، اس کے لئے اس سے بہتر ہے کہ کسی آدمی سے سوال کرے، (چاہے) وہ اسے دے یا نہ دے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2402]
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، قَالَ سَلَمَةُ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ الدَّارِمِيُّ: أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَبِيبُ الْأَمِينُ، أَمَّا هُوَ فَحَبِيبٌ إِلَيَّ، وَأَمَّا هُوَ عِنْدِي فَأَمِينٌ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَةً أَوْ ثَمَانِيَةً أَوْ سَبْعَةً، فَقَالَ: " أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ؟ "، وَكُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِبَيْعَةٍ، فَقُلْنَا: قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ؟ "، فَقُلْنَا: قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ؟ "، قَالَ: فَبَسَطْنَا أَيْدِيَنَا، وَقُلْنَا: قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَعَلَامَ نُبَايِعُكَ؟ قَالَ: " عَلَى أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَتُطِيعُوا، وَأَسَرَّ كَلِمَةً خَفِيَّةً، وَلَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا، فَلَقَدْ رَأَيْتُ بَعْضَ أُولَئِكَ النَّفَرِ، يَسْقُطُ سَوْطُ أَحَدِهِمْ، فَمَا يَسْأَلُ أَحَدًا يُنَاوِلُهُ إِيَّاهُ ".
ابومسلم خولانی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھ سے ایک پیارے امانت دار (شخص) نے حدیث بیان کی وہ ایسا ہے کہ مجھے پیارا بھی ہے اور وہ ایسا ہے کہ میرے نزدیک امانت دار بھی ہے۔ یعنی حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ۔۔۔ انہوں نے کہا: ہم نو، آٹھ یا سات آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (حاضر) تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت نہیں کروگے؟“ اور ہم نے ابھی نئی نئی بیعت کی تھی۔ تو ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم آپ سے بیعت کر چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرو گے؟“ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم آپ سے بیعت کر چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”تم اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرو گے؟“ تو ہم نے اپنے ہاتھ بڑھا دیے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم (ایک بار) آپ سے بیعت کر چکے ہیں، اب کس بات پر آپ سے بیعت کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بات پر کہ تم اللہ کی عبادت کروگے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے اور پانچ نمازوں پر، اور اس بات پر کہ اطاعت کرو گے۔“ اور ایک جملہ آہستہ سے فرمایا: ”اور لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو گے۔“ اس کے بعد میں نے ان میں سے بعض افراد کو دیکھا کہ ان میں سے کسی کا کوڑا گر جاتا تو کسی سے نہ کہتا کہ اٹھا کر اس کے ہاتھ میں دے دے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2403]
36: باب مَنْ تَحِلُّ لَهُ الْمَسْأَلَةُ:
باب: کس شخص کے لئے سوال کرنا جائز ہے؟
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كلاهما، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِيَابٍ ، حَدَّثَنِي كِنَانَةُ بْنُ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيُّ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ ، قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فِيهَا، فَقَالَ: " أَقِمْ حَتَّى تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ، فَنَأْمُرَ لَكَ بِهَا "، قَالَ: ثُمَّ قَالَ يَا قَبِيصَةُ: إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ، أَوَ قَالَ: سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّى يَقُومَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ لَقَدْ أَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ، أَوَ قَالَ: سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، فَمَا سِوَاهُنَّ مِنَ الْمَسْأَلَةِ يَا قَبِيصَةُ سُحْتًا، يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا ".
حضرت قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے (لوگوں کے معاملات میں اصلاح کے لئے) ادائیگی کی ایک ذمہ داری قبول کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کہ آپ سے اس کے لئے کچھ مانگوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہرو حتیٰ کہ ہمارے پاس صدقہ آجائے تو ہم وہ تمہیں دے دینے کا حکم دیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے قبیصہ! تین قسم کے افراد میں سے کسی ایک کے سوا اور کسی کے لئے سوال کرنا جائز نہیں: ایک وہ آدمی جس نے کسی بڑی ادائیگی کی ذمہ داری قبول کر لی، اس کے لئے اس وقت تک سوال کرنا حلال ہو جاتا ہے حتیٰ کہ اس کو حاصل کر لے، اس کے بعد (سوال سے) رک جائے، دوسرا وہ آدمی جس پر کوئی آفت آ پڑی ہو جس نے اس کا مال تباہ کر دیا ہو، اس کے لئے سوال کرنا حلال ہو جاتا ہے یہاں تک کہ وہ زندگی کی گزران درست کر لے۔ یا فرمایا: زندگی کی بقا کا سامان کر لے۔ اور تیسرا وہ آدمی جو فاقے کا شکار ہو گیا، یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین عقلمند افراد کھڑے ہو جائیں (اور کہہ دیں) کہ فلاں آدمی فاقہ زدہ ہو گیا ہے تو اس کے لئے بھی مانگنا حلال ہو گیا یہاں تک کہ وہ درست گزران حاصل کر لے۔۔۔ یا فرمایا: زندگی باقی رکھنے جتنا حاصل کر لے۔۔۔ اے قبیصہ! ان صورتوں کے سوا سوال کرنا حرام ہے اور سوال کرنے والا حرام کھاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2404]
37: باب جَوَازِ الْأَخْذِ بِغَيْرِ سُؤَالٍ وَلَا تَطَلُّعٍ
باب: بغیر سوال اور خواہش کے لینے کا بیان۔
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ، فَأَقُولُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا، فَقُلْتُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذْهُ وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ، وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ، وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ ".
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی مجھے عنایت فرماتے تھے تو میں عرض کرتا: کسی ایسے آدمی کو عنایت فرما دیجئے جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو حتیٰ کہ ایک دفعہ آپ نے مجھے بہت سارا مال عطا کر دیا تو میں نے عرض کی: کسی ایسے فرد کو عطا کر دیجئے جو اس کا مجھ سے زیادہ محتاج ہو۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے لو اور ایسا جو مال تمہارے پاس اس طرح آئے کہ نہ تو تم اس کے خواہش مند ہو اور نہ ہی مانگنے والے ہو تو اس کو لے لو اور جو مال اس طرح نہ ملے اس کا خیال بھی دل میں نہ لاؤ۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2405]
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُعْطِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْعَطَاءَ، فَيَقُولُ لَهُ عُمَرُ: أَعْطِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ أَوْ تَصَدَّقْ بِهِ، وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ، وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ "، قَالَ سَالِمٌ: فَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا وَلَا يَرُدُّ شَيْئًا أُعْطِيَهُ،
عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو عطیہ دیتے تو عمر رضی اللہ عنہ عرض کرتے: اے اللہ کے رسول! یہ مجھ سے زیادہ ضرورت مند شخص کو دے دیجئے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو لے لو اور اپنا مال بنا لو یا اسے صدقہ کر دو اور اس مال میں سے جو تمہارے پاس اس طرح آئے کہ تم نہ اس کے خواہش مند ہو نہ مانگنے والے تو اس کو لے لو اور جو (مال) اس طرح نہ ملے تو اس کا خیال بھی دل میں نہ لاؤ۔“ سالم نے کہا: اسی وجہ سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی کسی سے کچھ نہیں مانگتے تھے اور جو چیز انہیں پیش کی جاتی تھی اس کو رد نہیں کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2406]
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ عَمْرٌو ، وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ بِمِثْلِ ذَلِكَ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّعْدِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سائب بن یزید نے عبداللہ بن سعدی سے، انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اسی کے مانند) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2407]
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ السَّاعِدِيِّ الْمَالِكِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْهَا وَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِ، أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ وَأَجْرِي عَلَى اللَّهِ، فَقَالَ: خُذْ مَا أُعْطِيتَ فَإِنِّي عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَمَّلَنِي، فَقُلْتُ مِثْلَ قَوْلِكَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أُعْطِيتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْأَلَ فَكُلْ وَتَصَدَّقْ "،
لیث نے بکیر سے، انہوں نے بسر بن سعید سے اور انہوں نے ابن ساعدی مالکی سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: مجھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صدقے (کی وصولی) کے لئے عامل مقرر کیا، جب میں اس کام سے فارغ ہوا اور انہیں (وصول کردہ) مال لا کر ادا کر دیا، تو انہوں نے مجھے کام کی اجرت دینے کا حکم دیا۔ میں نے عرض کی: میں نے تو یہ کام محض اللہ کی (رضا کی) خاطر کیا ہے اور میرا اجر اللہ نے دینا ہے۔ تو انہوں نے کہا: جو تمہیں دیا جائے اسے لے لو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کام کیا تھا، آپ نے مجھے میرے کام کی مزدوری دی تو میں نے بھی تمہاری جیسی بات کہی تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہیں تمہارے مانگے بغیر کوئی چیز دی جائے تو کھاؤ اور صدقہ کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2408]
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ السَّعْدِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الصَّدَقَةِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ.
عمرو بن حارث نے بکیر بن اشج سے، انہوں نے بسر بن سعید سے اور انہوں نے ابن سعدی سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: مجھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صدقہ وصول کرنے کے لئے عامل بنایا۔۔۔ (آگے) لیث کی حدیث کی طرح (روایت بیان کی۔) [صحيح مسلم/حدیث: 2409]
38: باب كَرَاهَةِ الْحِرْصِ عَلَى الدُّنْيَا:
باب: حرص دنیا کی مذمت۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " قَلْبُ الشَّيْخِ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَتَيْنِ: حُبِّ الْعَيْشِ، وَالْمَالِ ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع بیان کیا، آپ نے فرمایا: ”بوڑھے آدمی کا دل دو چیزوں کی محبت میں جوان ہوتا ہے: زندگی کی محبت اور مال کی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2410]
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " قَلْبُ الشَّيْخِ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَتَيْنِ: طُولُ الْحَيَاةِ، وَحُبُّ الْمَالِ ".
سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو چیزوں کی محبت میں بوڑھے کا دل بھی جوان رہتا ہے: زندگی لمبی ہونے اور مال کی محبت میں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2411]
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كلهم، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَتَشِبُّ مِنْهُ اثْنَتَانِ: الْحِرْصُ عَلَى الْمَالِ، وَالْحِرْصُ عَلَى الْعُمُرِ "،
ابوعوانہ نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدم کا بیٹا بوڑھا ہو جاتا ہے مگر اس کی دو چیزیں جوان رہتی ہیں: دولت کی حرص اور عمر کی حرص۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2412]
وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِمِثْلِهِ،
معاذ بن ہشام کے والد ہشام نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ (آگے) اسی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2413]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ.
شعبہ نے کہا: میں نے قتادہ سے سنا، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔۔। (آگے) اسی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2414]
39: باب لَوْ أَنَّ لاِبْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ لاَبْتَغَى ثَالِثًا:
باب: اگر آدم کے بیٹے کے پاس دو وادیاں مال کی ہوں تو وہ تیسری چاہے گا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ، لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ "،
ابوعوانہ نے قتادہ سے انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر آدم کے بیٹے کے پاس مال کی (بھری ہوئی) دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری حاصل کرنا چاہے گا آدمی کا پیٹ مٹی کے سوا کوئی اور چیز نہیں بھر سکتی اور اللہ اسی کی طرف توجہ فرماتا ہے جو (اس کی طرف) توجہ کرتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2415]
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: فَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ أُنْزِلَ أَمْ شَيْءٌ كَانَ يَقُولُهُ، بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ.
شعبہ نے کہا: قتادہ سے سنا وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے تھے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے مجھے پتہ نہیں ہے کہ یہ الفاظ آپ پر نازل ہوئے تھے یا آپ (خود ہی) فرما رہے تھے۔ (آگے) ابوعوانہ کی حدیث کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2416]
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ مِنْ ذَهَبٍ، أَحَبَّ أَنَّ لَهُ وَادِيًا آخَرَ، وَلَنْ يَمْلَأَ فَاهُ إِلَّا التُّرَابُ، وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ ".
ابن شہاب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”اگر ابن آدم کے پاس سونے کی (بھری ہوئی) ایک وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ اس کے پاس ایک اور وادی بھی ہو، اس کا منہ مٹی کے سوا کوئی اور چیز نہیں بھرتی اللہ اس کی طرف توجہ فرماتا ہے جو اللہ کی طرف توجہ کرتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2417]
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ مِلْءَ وَادٍ مَالًا، لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ إِلَيْهِ مِثْلُهُ، وَلَا يَمْلَأُ نَفْسَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ "، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَلَا أَدْرِي أَمِنَ الْقُرْآنِ هُوَ أَمْ لَا، وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ، قَالَ: فَلَا أَدْرِي أَمِنَ الْقُرْآنِ، لَمْ يَذْكُرْ ابْنَ عَبَّاسٍ.
مجھے زہیر بن حرب اور ہارون بن عبداللہ نے حدیث سنائی دونوں نے کہا: ہمیں حجاج بن محمد نے ابن جریج سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے عطاء سے سنا کہہ رہے تھے میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہہ رہے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اگر آدم کے بیٹے کے پاس مال سے بھری ہوئی ایک وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ اس کے پاس اس جیسی اور وادی بھی ہو آدمی کے دل کو مٹی کے سوا کچھ اور نہیں بھر سکتا اور اللہ اس پر توجہ فرماتا ہے جو اس کی طرف متوجہ ہو۔“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا مجھے معلوم نہیں یہ قرآن میں سے ہے یا نہیں اور زہیر کی روایت میں ہے انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں یہ بات قرآن میں سے ہے (یا نہیں) انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2418]
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: بَعَثَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ إِلَى قُرَّاءِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ ثَلَاثُ مِائَةِ رَجُلٍ، قَدْ قَرَءُوا الْقُرْآنَ، فَقَالَ " أَنْتُمْ خِيَارُ أَهْلِ الْبَصْرَةِ وَقُرَّاؤُهُمْ فَاتْلُوهُ، وَلَا يَطُولَنَّ عَلَيْكُمُ الْأَمَدُ، فَتَقْسُوَ قُلُوبُكُمْ كَمَا قَسَتْ قُلُوبُ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، وَإِنَّا كُنَّا نَقْرَأُ سُورَةً كُنَّا نُشَبِّهُهَا فِي الطُّولِ وَالشِّدَّةِ بِبَرَاءَةَ فَأُنْسِيتُهَا، غَيْرَ أَنِّي قَدْ حَفِظْتُ مِنْهَا لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَكُنَّا نَقْرَأُ سُورَةً كُنَّا نُشَبِّهُهَا بِإِحْدَى الْمُسَبِّحَاتِ فَأُنْسِيتُهَا، غَيْرَ أَنِّي حَفِظْتُ مِنْهَا يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لا تَفْعَلُونَ سورة الصف آية 2 فَتُكْتَبُ شَهَادَةً فِي أَعْنَاقِكُمْ فَتُسْأَلُونَ عَنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ابوحرب بن ابی اسود کے والد سے روایت ہے انہوں نے کہا: حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اہل بصرہ کے قاریوں کی طرف (انہیں بلانے کے لیے قاصد) بھیجا تو ان کے ہاں تین سو آدمی آئے جو قرآن پڑھ چکے تھے تو انہوں (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) نے کہا: تم اہل بصرہ کے بہترین لوگ اور ان کے قاری ہو اس کی تلاوت کرتے رہا کرو تم پر لمبی مدت (کا وقفہ) نہ گزرے کہ تمہارے دل سخت ہو جائیں جس طرح ان کے دل سخت ہو گئے تھے جو تم سے پہلے تھے ہم ایک سورت پڑھا کرتے تھے جسے ہم لمبائی اور (ڈرانے کی) شدت میں (سورہ) براءت سے تشبیہ دیا کرتے تو وہ مجھے بھلا دی گئی اس کے سوا کہ اس کا یہ ٹکڑا مجھے یاد رہ گیا اگر آدم کے بیٹے کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری وادی کا متلاشی ہوگا اور ابن آدم کا پیٹ تو مٹی کے سوا کوئی شے نہیں بھرتی۔ ہم ایک اور سورت پڑھا کرتے تھے جس کو ہم تسبیح والی سورتوں میں سے ایک سورت سے تشبیہ دیا کرتے تھے وہ بھی مجھے بھلا دی گئی ہاں اس میں سے مجھے یہ یاد ہے ”اے ایمان والو! وہ بات کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں وہ بطور شہادت تمہاری گردنوں میں لکھ دی جائے گی اور قیامت کے دن تم سے اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2419]
40: باب فَضلِ القنَاعَةِ وَالحَثِّ عَلَيهَا
باب: قناعت کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غنا مال و اسباب کی کثرت سے نہیں بلکہ حقیقی غنا دل کی بے نیازی ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2420]
41: باب التَّحزِيرِ مِنَ الاِ غتِرَارِ بِزِينَةِ الدُّنيَا وَمَا يَبسُطُ مِنهَا
باب: دنیا کی کشادگی اور زینت پر مغرور مت ہو۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: " لَا وَاللَّهِ مَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ إِلَّا مَا يُخْرِجُ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا "، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟، فَصَمَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: " كَيْفَ قُلْتَ "، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ أَوَ خَيْرٌ هُوَ، إِنَّ كُلَّ مَا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ، إِلَّا آكِلَةَ الْخَضِرِ أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا امْتَلَأَتْ خَاصِرَتَاهَا، اسْتَقْبَلَتِ الشَّمْسَ ثَلَطَتْ أَوْ بَالَتْ، ثُمَّ اجْتَرَّتْ فَعَادَتْ فَأَكَلَتْ، فَمَنْ يَأْخُذْ مَالًا بِحَقِّهِ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ يَأْخُذْ مَالًا بِغَيْرِ حَقِّهِ، فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ ".
عیاض بن عبداللہ بن سعد سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: ”نہیں اللہ کی قسم! لوگو! مجھے تمہارے بارے کسی چیز کا ڈر نہیں سوائے دنیا کی اس زینت کے جو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے ظاہر کرے گا۔“ ایک آدمی کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! کیا خیر شر کو لے آئے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھڑی بھر خاموش رہے پھر فرمایا: ”تم نے کس طرح کہا؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے عرض کی تھی کیا خیر شر کو لائے گی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ”خیر خیر ہی کو لاتی ہے لیکن کیا وہ (دنیا کی زیب و زینت فی ذاتہ) خیر ہے؟ وہ سب کچھ جو بہار لگاتی ہے (جانور کو) اپھارے سے مار ڈالتا ہے یا موت کے قریب کر دیتا ہے ایسے سبزہ کھانے والے جانور کے سوا جس نے کھایا اور جب اس کی کوکھیں بھر گئیں (وہ سیر ہو گیا) تو (مزید کھانے کے بجائے) اس نے سورج کا رخ کر لیا اور بیٹھ کر گوبر یا پیشاب کیا پھر جگالی کی اور دوبارہ کھایا تو (اسی طرح) جو انسان اس (مال) کے حق کے مطابق مال لیتا ہے اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور جو انسان اس کے حق کے بغیر مال لیتا ہے وہ اس کی طرح ہے جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2421]
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَخْوَفُ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا يُخْرِجُ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا "، قَالُوا: وَمَا زَهْرَةُ الدُّنْيَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " بَرَكَاتُ الْأَرْضِ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ قَالَ: " لَا يَأْتِي الْخَيْرُ إِلَّا بِالْخَيْرِ، لَا يَأْتِي الْخَيْرُ إِلَّا بِالْخَيْرِ، لَا يَأْتِي الْخَيْرُ إِلَّا بِالْخَيْرِ، إِنَّ كُلَّ مَا أَنْبَتَ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ أَوْ يُلِمُّ، إِلَّا آكِلَةَ الْخَضِرِ، فَإِنَّهَا تَأْكُلُ حَتَّى إِذَا امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتِ الشَّمْسَ، ثُمَّ اجْتَرَّتْ وَبَالَتْ وَثَلَطَتْ، ثُمَّ عَادَتْ فَأَكَلَتْ، إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ وَوَضَعَهُ فِي حَقِّهِ، فَنِعْمَ الْمَعُونَةُ هُوَ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ كَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ ".
زید بن اسلم نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ ڈر دنیا کی اس شادابی اور زینت سے ہے جو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے ظاہر کرے گا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: دنیا کی شادابی اور زینت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”زمین کی برکات۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا خیر شر کو لے آتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”خیر سوائے خیر کے کچھ نہیں لاتی خیر سوائے خیر کے کچھ نہیں لاتی خیر سوائے خیر کے کچھ نہیں لاتی خیر سوائے خیر کے کچھ نہیں لاتی وہ سب کچھ جو بہار اگاتی ہے وہ (زیادہ کھانے کی وجہ سے ہونے والی بدہضمی کا سبب بن کر) مار دیتی ہے یا موت کے قریب کر دیتی ہے سوائے اس چارہ کھانے والے جانور کے جو کھاتا ہے یہاں تک کہ جب اس کی دونوں کوکھیں پھول جاتی ہیں (وہ سیر ہو جاتا ہے) تو وہ (مزید کھانا چھوڑ کر) سورج کی طرف منہ کر لیتا ہے پھر جگالی کرتا ہے پیشاب کرتا ہے گوبر کرتا ہے پھر لوٹتا ہے اور کھاتا ہے بلاشبہ یہ مال شاداب اور شیریں ہے جس نے اسے اس کے حق کے مطابق لیا اور حق (کے مصرف) ہی میں خرچ کیا تو وہ (مال) بہت ہی معاون و مددگار ہوگا اور جس نے اسے حق کے بغیر لیا وہ اس انسان کی طرح ہوگا جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2422]
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتَوَائِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ، فَقَالَ: " إِنَّ مِمَّا أَخَافُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا "، فَقَالَ رَجُلٌ: أَوَ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ لَهُ: مَا شَأْنُكَ تُكَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُكَلِّمُكَ؟، قَالَ: وَرَأَيْنَا أَنَّهُ يُنْزَلُ عَلَيْهِ فَأَفَاقَ يَمْسَحُ عَنْهُ الرُّحَضَاءَ، وَقَالَ: " إِنَّ هَذَا السَّائِلَ وَكَأَنَّهُ حَمِدَهُ "، فَقَالَ: " إِنَّهُ لَا يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ، وَإِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ أَوْ يُلِمُّ، إِلَّا آكِلَةَ الْخَضِرِ فَإِنَّهَا أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا امْتَلَأَتْ خَاصِرَتَاهَا، اسْتَقْبَلَتْ عَيْنَ الشَّمْسِ فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ، ثُمَّ رَتَعَتْ وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرٌ حُلْوٌ، وَنِعْمَ صَاحِبُ الْمُسْلِمِ هُوَ، لِمَنْ أَعْطَى مِنْهُ الْمِسْكِينَ وَالْيَتِيمَ وَابْنَ السَّبِيلَ "، أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَإِنَّهُ مَنْ يَأْخُذُهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ كَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَيَكُونُ عَلَيْهِ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ہلال بن ابی میمونہ نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور ہم آپ کے ارد گرد بیٹھ گئے تو آپ نے فرمایا: ”مجھے اپنے بعد تمہارے بارے میں جس چیز کا خوف ہے وہ دنیا کی شادابی اور زینت ہے جس کے دروازے تم پر کھول دیے جائیں گے۔“ تو ایک آدمی نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا خیر شر کو لے آئے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جواب میں (کچھ دیر) خاموش رہے اس سے کہا گیا: تیرا کیا معاملہ ہے؟ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرتے ہو (جبکہ) وہ تم سے بات نہیں کر رہے؟ کہا: اور ہم نے دیکھا کہ آپ پر وحی اتاری جا رہی ہے پھر آپ پسینہ پونچھتے ہوئے اپنے معمول کی حالت میں آگئے اور فرمایا: ”یہ سائل کہاں سے آیا؟“ گویا آپ نے اس کی تحسین فرمائی۔۔۔ پھر فرمایا: ”واقعہ یہ ہے کہ خیر شر کو نہیں لاتی اور بلاشبہ موسم بہار جو اگاتا ہے وہ (اپنی افراط شادابی اور مرغوبیت کی بنا پر) مار دیتا ہے یا موت کے قریب کر دیتا ہے سوائے سبزہ کھانے والے اس حیوان کے جس نے کھایا یہاں تک کہ جب اس کی کوکھیں بھر گئیں تو اس نے سورج کی آنکھ کی طرف منہ کر لیا (اور آرام سے بیٹھ کر کھایا ہوا ہضم کیا) پھر لید کی، پیشاب کیا اس کے بعد (پھر سے) گھاس کھائی۔ یقیناً یہ مال شاداب اور شیریں ہے اور یہ اس مسلمان کا بہترین ساتھی ہے جس نے اس میں سے مسکین یتیم اور مسافر کو دیا۔۔۔ یا الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے۔۔۔ اور حقیقت یہ ہے جو اسے اس کے حق کے بغیر لیتا ہے وہ اس آدمی کی مثل ہے جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا اور قیامت کے دن وہ (مال) اس کے خلاف گواہ ہوگا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2423]
42: باب فَضْلِ التَّعَفُّفِ وَالصَّبْرِ وَالْقَنَاعَةِ الْحَثُّ عَلَى كُلِّ ذٰلِكَ
باب: صبر و قناعت کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ نَاسًا مِنْ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُمْ، ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ حَتَّى إِذَا نَفِدَ مَا عِنْدَهُ، قَالَ: " مَا يَكُنْ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ، وَمَنْ يَصْبِرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ، وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ مِنْ عَطَاءٍ خَيْرٌ وَأَوْسَعُ مِنَ الصَّبْرِ "،
امام مالک بن انس نے ابن شہاب زہری سے انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مال کا سوال کیا آپ نے ان کو دے دیا انہوں نے پھر مانگا آپ نے دے دیا حتیٰ کہ آپ کے پاس جو کچھ تھا وہ ختم ہو گیا تو آپ نے فرمایا: ”میرے پاس جو بھی مال ہوگا میں اسے ہرگز تم سے (بچا کر ذخیرہ نہ کروں گا) (تمہین بانٹ دوں گا) جو شخص سوال سے بچنے کی کوشش کرے گا اللہ اسے بچائے گا اور جو استغنا (بے نیازی) اختیار کرے گا اللہ اس کو بے نیاز کر دے گا اور جو صبر کرے گا (سوال سے باز رہے گا) اللہ تعالیٰ اس کو صبر (کی قوت) قناعت فرمائے گا اور کسی کو ایسا کوئی عطیہ نہیں دیا گیا جو صبر سے بہتر اور وسیع تر ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2424]
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2425]
43: باب فِي الْكَفَافِ وَالْقَنَاعَةِ:
باب: کفایت شعاری اور قناعت پسندی کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ وَهُوَ ابْنُ شَرِيكٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ، وَرُزِقَ كَفَافًا، وَقَنَّعَهُ اللَّهُ بِمَا آتَاهُ ".
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ انسان کامیاب و بامراد ہو گیا جو مسلمان ہو گیا اور اسے گزر بسر کے بقدر روزی ملی اور اللہ تعالیٰ نے اسے جو دیا اس پر قناعت کی توفیق بخشی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2426]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ كِلَاهُمَا، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (دعا فرمائی): ”اے اللہ! آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روزی کم سے کم کھانے جتنی کر دے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2427]
44: باب إِعْطَاءِ الْمُؤَلَّفَةِ وَمَنْ يُّخَافُ عَليٰ إِيمَانِهِ إِنْ لَّمْ يُعْطَ ، وَاحْتِمَالِ مَنْ سَأَلَ بِجَفَاءٍ لَّجَهْلِهِ وَبَيَانِ الْخَوَارِجِ وَأَحْكَامِهِمْ
باب: مؤلفتہ القلوب اور جسے اگر نہ دیا جائے تو اس کے ایمان کا خوف ہو اس کو دینے اور جو اپنی جہالت کی وجہ سے سختی سے سوال کرے اور خوارج اور ان کے احکامات کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ إسحاق أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَغَيْرُ هَؤُلَاءِ كَانَ أَحَقَّ بِهِ مِنْهُمْ، قَالَ: " إِنَّهُمْ خَيَّرُونِي أَنْ يَسْأَلُونِي بِالْفُحْشِ، أَوْ يُبَخِّلُونِي، فَلَسْتُ بِبَاخِلٍ ".
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مال تقسیم کیا تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! ان کے علاوہ (جنہیں آپ نے عطا فرمایا) دوسرے لوگ اس کے زیادہ حقدار تھے۔ آپ نے فرمایا: ”انہوں نے مجھے ایک چیز اختیار کرنے پر مجبور کر دیا کہ یا تو یہ مذموم طریقے (بے جا اصرار) سے سوال کریں یا مجھے بخیل بنا دیں تو میں بخیل بننے والا نہیں ہوں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2428]
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إسحاق بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكًا . ح وحَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ إسحاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ رِدَاءٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ، فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيٌّ، فَجَبَذَهُ بِرِدَائِهِ جَبْذَةً شَدِيدَةً نَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ أَثَّرَتْ بِهَا حَاشِيَةُ الرِّدَاءِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ، ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ "،
امام مالک بن انس نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا آپ (کے کندھوں) پر خاصے موٹے کنارے کی ایک نجرانی چادر تھی اتنے میں ایک بدوی آپ کے پاس آیا اور آپ کی چادر سے (پکڑ کر) آپ کو زور سے کھینچا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن کی ایک جانب کی طرف نظر کی جس پر اس کے زور سے کھینچنے کے باعث چادر کے کنارے نے گہرا نشان ڈال دیا تھا پھر اس نے کہا: اے محمد! اللہ کا جو مال آپ کے پاس ہے اس میں سے مجھے بھی دینے کا حکم دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے ہنس پڑے اور اسے کچھ دینے کا حکم دیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2429]
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ . ح وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، كُلُّهُمْ، عَنْ إسحاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَفِي حَدِيثِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ مِنَ الزِّيَادَةِ، قَالَ: " ثُمَّ جَبَذَهُ إِلَيْهِ جَبْذَةً، رَجَعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ الْأَعْرَابِيِّ "، وَفِي حَدِيثِ هَمَّامٍ: " فَجَاذَبَهُ حَتَّى انْشَقَّ الْبُرْدُ، وَحَتَّى بَقِيَتْ حَاشِيَتُهُ فِي عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
ہمام، عکرمہ بن عمار اور اوزاعی سب نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی۔ عکرمہ بن عمار کی حدیث میں یہ اضافہ ہے پھر اس نے آپ کو زور سے اپنی طرف کھینچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بدوی کے سینے سے جا ٹکرائے۔ اور ہمام کی حدیث میں ہے اس نے آپ کے ساتھ کھینچا تانی شروع کر دی یہاں تک کہ چادر پھٹ گئی اور یہاں تک کہ اس کا کنارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک میں رہ گیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2430]
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةً وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا، فَقَالَ مَخْرَمَةُ: يَا بُنَيَّ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، قَالَ: ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي، قَالَ: فَدَعَوْتُهُ لَهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْهَا، فَقَالَ: " خَبَأْتُ هَذَا لَكَ " قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: " رَضِيَ مَخْرَمَةُ ".
لیث نے (عبداللہ) بن ابی ملیکہ سے اور انہوں نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبائیں تقسیم کیں اور مخرمہ رضی اللہ عنہ کو کوئی چیز نہ دی تو مخرمہ نے کہا: میرے بیٹے! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤ تو میں ان کے ساتھ گیا انہوں نے کہا: اندر جاؤ اور میری خاطر آپ کو بلا لاؤ میں نے ان کی خاطر آپ کو بلایا تو آپ اس طرح اس کی طرف آئے کہ آپ (کے کندھے) پر ان (قباؤں) میں سے ایک قباء تھی آپ نے فرمایا: ”یہ میں نے تمہارے لیے چھپا کر رکھی تھی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف نظر اٹھا کر فرمایا: ”مخرمہ راضی ہو گیا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2431]
حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ: قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةٌ، فَقَالَ لِي أَبِي مَخْرَمَةُ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَيْهِ عَسَى أَنْ يُعْطِيَنَا مِنْهَا شَيْئًا، قَالَ: فَقَامَ أَبِي عَلَى الْبَابِ فَتَكَلَّمَ، فَعَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ، فَخَرَجَ وَمَعَهُ قَبَاءٌ وَهُوَ يُرِيهِ مَحَاسِنَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: " خَبَأْتُ هَذَا لَكَ، خَبَأْتُ هَذَا لَكَ ".
ایوب سختیانی نے عبداللہ بن ابی ملیکہ سے اور انہوں نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبائیں آئیں تو مجھے میرے والد مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا مجھے آپ کے پاس لے چلو امید ہے آپ ہمیں بھی ان میں سے (کوئی قباء) عنایت فرمائیں گے۔ میرے والد نے دروازے پر کھڑے ہو کر گفتگو کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز پہچان لی۔ آپ باہر نکلے تو قباء آپ کے ساتھ تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اس کی خوبیاں دکھا رہے تھے اور فرما رہے تھے: ”میں نے یہ تمہارے لیے چھپا کر رکھی تھی میں نے تمہارے لیے چھپا کر رکھی تھی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2432]
45: باب إِعْطَاءِ مَنْ يُخَافُ عَلَى إِيمَانِهِ:
باب: ضعیف الایمان لوگوں کو دینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ ، أَنَّهُ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ، قَالَ: فَتَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ رَجُلًا لَمْ يُعْطِهِ وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ، فَقُمْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا؟، قَالَ: " أَوْ مُسْلِمًا " فَسَكَتُّ قَلِيلًا، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا؟، قَالَ: " أَوْ مُسْلِمًا " فَسَكَتُّ قَلِيلًا، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا؟، قَالَ: " أَوْ مُسْلِمًا "، قَالَ: " إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ، وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ، خَشْيَةَ أَنْ يُكَبَّ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ "، وَفِي حَدِيثِ الْحُلْوَانِيِّ تَكْرِيرُ الْقَوْلِ مَرَّتَيْنِ،
حسن بن علی حلوانی اور عبدبن حمید نے کہا: ہمیں یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے حدیث سنائی کہا میرے والد نے ہمیں صالح سے حدیث بیان کی انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی انہوں نے کہا: مجھے عامر بن سعد نے اپنے والد حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو مال دیا جبکہ میں بھی ان میں بیٹھا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک آدمی کو چھوڑ دیا اس کو نہ دیا۔ وہ میرے لیے ان سب کی نسبت زیادہ پسندیدہ تھا میں اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور ازراہ رازداری کے ساتھ آپ سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے آپ فلاں سے اعراض فرما رہے ہیں؟ اللہ کی قسم! میں تو اسے مومن سمجھتا ہوں آپ نے فرمایا: ”یا مسلمان۔“ میں کچھ دیر کے لیے چپ رہا پھر جو میں اس کے بارے میں جانتا تھا وہ بات مجھ پر غالب آگئی اور میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ فلاں کو نہیں دے رہے؟ اللہ کی قسم! میں اسے مومن سمجھتا ہوں آپ نے فرمایا: ”یا مسلمان۔“ اس کے بعد میں تھوڑی دیر چپ رہا پھر جو میں اس کے بارے میں جانتا تھا وہ بات مجھ پر غالب آگئی میں نے پھر عرض کی: فلاں سے آپ کے اعراض کا سبب کیا ہے اللہ کی قسم! میں تو اسے مومن سمجھتا ہوں آپ نے فرمایا: ”یا مسلمان۔“ (پھر) آپ نے فرمایا: ”میں ایک آدمی کو دیتا ہوں جبکہ دوسرا مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے اس ڈر سے (دیتا ہوں) کہ وہ اوندھے منہ آگ میں نہ ڈال دیا جائے۔“ اور حلوانی کی حدیث میں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ”یا مسلمان“ کا) تکرار دو بار ہے (تین بار نہیں۔) [صحيح مسلم/حدیث: 2433]
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ . ح وحَدَّثَنَاه إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، كُلُّهُمْ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَلَى مَعْنَى حَدِيثِ صَالِحٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ،
سفیان ثوری، ابن شہاب (زہری) کے بھتیجے (محمد بن عبداللہ بن شہاب) اور معمر سب نے (زہری) سے اسی سند کے ساتھ اسی (سابقہ حدیث) کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2434]
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ يَعْنِي حَدِيثَ الزُّهْرِيِّ الَّذِي ذَكَرْنَا، فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بَيْنَ عُنُقِي وَكَتِفِي، ثُمَّ قَالَ: " أَقِتَالًا أَيْ سَعْدُ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ ".
محمد بن سعد یہ حدیث بیان کرتے ہیں یعنی زہری مذکورہ بالا حدیث انہوں نے اپنی حدیث میں کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گردن اور کندھے کے درمیان اپنا ہاتھ مارا اور فرمایا: ”جنگ کر رہے ہو؟ اے سعد! میں ایک شخص کو دیتا ہوں۔۔۔“ (آگے اسی طرح ہے جس طرح پہلی روایت میں ہے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 2435]
46: باب إِعْطَاءِ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ عَلَى الإِسْلاَمِ وَتَصَبُّرِ مَنْ قَوِيَ إِيمَانُهُ:
باب: قوی الایمان لوگوں کو صبر کی تلقین۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ أُنَاسًا مِنْ الْأنْصَارِ قَالُوا يَوْمَ حُنَيْنٍ حِينَ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ مَا أَفَاءَ، فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي رِجَالًا مِنْ قُرَيْشٍ الْمِائَةَ مِنَ الْإِبِلِ، فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا، وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: فَحُدِّثَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَوْلِهِمْ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَاءَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ؟ " فَقَالَ لَهُ فُقَهَاءُ الْأَنْصَارِ: أَمَّا ذَوُو رَأْيِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا، وَأَمَّا أُنَاسٌ مِنَّا حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ قَالُوا: يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ يُعْطِي قُرَيْشًا، وَيَتْرُكُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنِّي أُعْطِي رِجَالًا حَدِيثِي عَهْدٍ بِكُفْرٍ أَتَأَلَّفُهُمْ، أَفَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ، وَتَرْجِعُونَ إِلَى رِحَالِكُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ، فَوَاللَّهِ لَمَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ "، فَقَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ رَضِينَا، قَالَ: " فَإِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ أَثَرَةً شَدِيدَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَإِنِّي عَلَى الْحَوْضِ "، قَالُوا: سَنَصْبِرُ،
یونس نے ابن شہاب (زہری) سے خبر دی، کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ حنین کے دن جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور فے (قبیلہ) ہوازن کے وہ اموال عطا کیے جو عطا کیے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے لوگوں کو سو سو اونٹ دینے شروع کیے تو انصار میں سے کچھ لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معاف فرمائے! آپ قریش کو دے رہے ہیں اور ہمیں چھوڑ رہے ہیں، حالانکہ ہماری تلواریں (ابھی تک) ان کے خون کے قطرے ٹپکا رہی ہیں۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کی باتوں میں سے یہ باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی گئیں تو آپ نے انصار کو بلوا بھیجا اور انہیں چمڑے کے ایک (بڑے) سائبان (کے سائے) میں جمع کیا، جب وہ سب اکٹھے ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”یہ کیا بات ہے جو مجھے تم لوگوں کی طرف سے پہنچی ہے؟“ انصار کے سمجھدار لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہمارے اہل رائے تو کچھ نہیں کہتے، البتہ ہم میں سے ان لوگوں نے، جو نو عمر ہیں، یہ بات کہی ہے کہ اللہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو معاف فرمائے، وہ قریش کو دے رہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کر رہے ہیں، حالانکہ ہماری تلواریں (ابھی تک) ان کے خون کے قطرے ٹپکا رہی ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ان کو دے رہا ہوں جو کچھ عرصہ قبل تک کفر پر تھے، ایسے لوگوں کی تالیف قلب کرنا چاہتا ہوں، کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ لوگ مال و دولت لے جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر گھروں کی طرف لوٹو؟ اللہ کی قسم! جو کچھ تم لے کر واپس جا رہے ہو وہ اس سے بہت بہتر ہے جسے وہ لوگ لے کر لوٹ رہے ہیں۔“ تو (انصار) کہنے لگے: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! ہم (بالکل) راضی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک تم (اپنی نسبت دوسروں کو) بہت زیادہ ترجیح ملتی دیکھو گے تو تم (اس پر) صبر کرنا یہاں تک کہ تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آملو۔ میں حوض پر ہوں گا (وہیں ملاقات ہو گی۔)“ انصار نے کہا: ہم (ہر صورت میں) صبر کریں گے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2436]
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مَا أَفَاءَ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ "، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: فَلَمْ نَصْبِرْ، وَقَالَ: " فَأَمَّا أُنَاسٌ حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ "،
صالح نے ابن شہاب (زہری) سے روایت کی، کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے کہا: جب اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو (قبیلہ) ہوازن کے اموال میں سے بطور فے عطا فرمایا جو عطا فرمایا۔۔۔ اور اس (پچھلی حدیث کے) مانند حدیث بیان کی، اس کے سوا کہ انہوں (صالح) نے کہا، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے صبر نہ کیا۔ اور انہوں نے (اور ہم میں سے ان لوگوں نے جو نو عمر ہیں، کے بجائے) ”نو عمر لوگوں نے“ کہا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2437]
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بمثله، إلا أَنَّهُ قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: قَالُوا: نَصْبِرُ، كَرِوَايَةِ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ.
ابن شہاب کے بھتیجے (محمد بن عبداللہ) نے اپنے چچا سے خبر دی، کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی۔ اور اسی طرح حدیث بیان کی، سوائے اس بات کے کہ انہوں نے کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان لوگوں (انصار) نے کہا: ہم صبر کریں گے۔ جس طرح یونس نے زہری سے روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2438]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ، فَقَالَ: " أَفِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ؟، فَقَالُوا: لَا إِلَّا ابْنُ أُخْتٍ لَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ ابْنَ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ، فَقَالَ: إِنَّ قُرَيْشًا حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَمُصِيبَةٍ، وَإِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَجْبُرَهُمْ وَأَتَأَلَّفَهُمْ، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا، وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى بُيُوتِكُمْ، لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا، وَسَلَكَ الْأَنْصَارُ شِعْبًا، لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ ".
قتادہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو جمع فرمایا اور پوچھا: ”کیا تم میں تمہارے سوا کوئی اور بھی ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: نہیں، ہمارے بھانجے کے سوا کوئی اور نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قوم کا بھانجا ان میں سے ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریش تھوڑے دن قبل جاہلیت اور (گمراہی) کی مصیبت میں تھے اور میں نے چاہا کہ ان کو (اسلام پر) پکا کروں اور ان کی دلجوئی کروں، کیا تم اس پر خوش نہیں ہو گے کہ لوگ دنیا واپس لے کر جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے گھروں کو لوٹو؟ اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک اور گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی گھاٹی میں چلوں گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2439]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ، قَسَمَ الْغَنَائِمَ فِي قُرَيْشٍ، فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ: إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْعَجَبُ إِنَّ سُيُوفَنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، وَإِنَّ غَنَائِمَنَا تُرَدُّ عَلَيْهِمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَهُمْ، فَقَالَ: " مَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْكُمْ؟ "، قَالُوا: هُوَ الَّذِي بَلَغَكَ، وَكَانُوا لَا يَكْذِبُونَ، قَالَ: " أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا إِلَى بُيُوتِهِمْ، وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى بُيُوتِكُمْ، لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا، وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا، لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ، أَوْ شِعْبَ الْأَنْصَارِ ".
ابوتیاح سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: جب مکہ فتح ہو گیا اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی) غنیمتیں قریش میں تقسیم کیں تو انصار نے کہا: یہ بڑے تعجب کی بات ہے، ہماری تلواروں سے ان لوگوں کے خون ٹپک رہے ہیں اور ہمارے اموال غنیمت انہی کو دیے جا رہے ہیں! یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جمع کیا اور فرمایا: ”وہ کیا بات ہے جو تمہاری طرف سے مجھے پہنچی ہے؟“ انہوں نے کہا: بات وہی ہے جو آپ تک پہنچ چکی ہے وہ لوگ جھوٹ نہیں بولتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم (اس پر) خوش نہ ہو گے کہ لوگ دنیا لے کر اپنے گھروں کو لوٹیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے گھروں کو لوٹو؟ اگر لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں اور انصار دوسری وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی یا انصار کی گھاٹی میں چلوں گا۔“ (انصار سے بھی یہی توقع ہے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 2440]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، يزيد أحدهما على الآخر الحرف بعد الحرف، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ، أَقْبَلَتْ هَوَازِنُ وَغَطَفَانُ وَغَيْرُهُمْ بِذَرَارِيِّهِمْ وَنَعَمِهِمْ، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ عَشَرَةُ آلَافٍ وَمَعَهُ الطُّلَقَاءُ، فَأَدْبَرُوا عَنْهُ حَتَّى بَقِيَ وَحْدَهُ، قَالَ: فَنَادَى يَوْمَئِذٍ نِدَاءَيْنِ لَمْ يَخْلِطْ بَيْنَهُمَا شَيْئًا، قَالَ: فَالْتَفَتَ عَنْ يَمِينِهِ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، فَقَالُوا: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَكَ، قَالَ: ثُمَّ الْتَفَتَ عَنْ يَسَارِهِ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، قَالُوا: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَكَ، قَالَ: وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ فَنَزَلَ، فَقَالَ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، فَانْهَزَمَ الْمُشْرِكُونَ وَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ كَثِيرَةً، فَقَسَمَ فِي الْمُهَاجِرِينَ وَالطُّلَقَاءِ، وَلَمْ يُعْطِ الْأَنْصَارَ شَيْئًا، فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ: إِذَا كَانَتِ الشِّدَّةُ فَنَحْنُ نُدْعَى وَتُعْطَى الْغَنَائِمُ غَيْرَنَا، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ؟ فَسَكَتُوا، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا، وَتَذْهَبُونَ بِمُحَمَّدٍ تَحُوزُونَهُ إِلَى بُيُوتِكُمْ، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ رَضِينَا، قَالَ: فَقَالَ: لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا، وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا، لَأَخَذْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ "، قَالَ هِشَامٌ: فَقُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ أَنْتَ شَاهِدٌ ذَاكَ؟، قَالَ: وَأَيْنَ أَغِيبُ عَنْهُ،
ہشام بن زید بن انس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب حنین کی جنگ ہوئی تو حوازن اور غطفان اور دوسرے لوگ اپنے بیوی بچوں اور مویشیوں کو لے کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس روز دس ہزار (اپنے ساتھی) تھے اور وہ لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جنہیں (فتح مکہ کے موقع پر غلام بنانے کی بجائے) آزاد کیا گیا تھا۔ یہ آپ کو چھوڑ کر پیچھے بھاگ گئے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے رہ گئے، کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن (مہاجرین کے بعد انصار کو) دو دفعہ پکارا، ان دونوں کو آپس میں زرہ برابر گڈ مڈ نہ کیا، آپ دائیں طرف متوجہ ہوئے اور آواز دی: ”اے جماعت انصار!“ انہوں نے کہا: لبیک، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو جائیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بائیں طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے جماعت انصار!“ انہوں نے کہا: لبیک، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو جائیے، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ آپ (اس وقت) سفید خچر پر سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اترے اور فرمایا: ”میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔“ چنانچہ مشرک شکست کھا گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غنیمت کے بہت سے اموال حاصل کیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (فتح مکہ سے زرا قبل) ہجرت کرنے والوں اور (فتح مکہ کے موقع پر) آزاد رکھے جانے والوں میں تقسیم کر دیا اور انصار کو کچھ نہ دیا، اس پر انصار نے کہا: جب سختی اور شدت کا موقع ہو تو ہمیں بلایا جاتا ہے۔ اور غنیمتیں دوسروں کو دی جاتی ہیں! یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئی، اس پر آپ نے انہیں سائبان میں جمع کیا اور فرمایا: ”اے انصار کی جماعت! وہ کیا بات ہے جو مجھے تمہارے بارے میں پہنچی ہے؟“ وہ خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انصار کی جماعت! کیا تم اس بات پر راضی نہ ہو گے کہ لوگ دنیا لے کر جائیں اور تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جمعیت میں شامل کر کے اپنے ساتھ گھروں کو لے جاؤ۔“ وہ کہہ اٹھے: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! ہم (اس پر) راضی ہیں۔ کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری وادی میں، تو میں انصار کی وادی کو اختیار کروں گا۔“ ہشام نے کہا میں نے پوچھا: ابوحمزہ! (حضرت انس رضی اللہ عنہ کی کنیت) آپ اس کے (عینی) شاہد تھے؟ انہوں نے کہا: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر کہاں غائب ہو سکتا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2441]
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي السُّمَيْطُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: افْتَتَحْنَا مَكَّةَ، ثُمَّ إِنَّا غَزَوْنَا حُنَيْنًا، فَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ بِأَحْسَنِ صُفُوفٍ رَأَيْتُ، قَالَ: فَصُفَّتِ الْخَيْلُ، ثُمَّ صُفَّتِ الْمُقَاتِلَةُ، ثُمَّ صُفَّتِ النِّسَاءُ مِنْ وَرَاءِ ذَلِكَ، ثُمَّ صُفَّتِ الْغَنَمُ، ثُمَّ صُفَّتِ النَّعَمُ، قَالَ: وَنَحْنُ بَشَرٌ كَثِيرٌ قَدْ بَلَغْنَا سِتَّةَ آلَافٍ، وَعَلَى مُجَنِّبَةِ خَيْلِنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: فَجَعَلَتْ خَيْلُنَا تَلْوِي خَلْفَ ظُهُورِنَا، فَلَمْ نَلْبَثْ أَنِ انْكَشَفَتْ خَيْلُنَا، وَفَرَّتِ الْأَعْرَابُ وَمَنْ نَعْلَمُ مِنَ النَّاسِ، قَالَ فَنَادَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا لَلْمُهَاجِرِينَ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ "، ثُمَّ قَالَ: " يَا لَلْأَنْصَارِ يَا لَلْأَنْصَارِ "، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: هَذَا حَدِيثُ عِمِّيَّةٍ، قَالَ: قُلْنَا: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فَايْمُ اللَّهِ مَا أَتَيْنَاهُمْ حَتَّى هَزَمَهُمُ اللَّهُ "، قَالَ: فَقَبَضْنَا ذَلِكَ الْمَالَ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا إِلَى الطَّائِفِ فَحَاصَرْنَاهُمْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى مَكَّةَ فَنَزَلْنَا، قَالَ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الرَّجُلَ الْمِائَةَ مِنَ الْإِبِلِ، ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ كَنَحْوِ حَدِيثِ قَتَادَةَ، وَأَبِي التَّيَّاحِ، وَهِشَامِ بْنِ زَيْدٍ.
سمیط نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم نے مکہ فتح کر لیا، پھر ہم نے حنین میں جنگ کی، میرے مشاہدے کے مطابق مشرک بہترین صف بندی کر کے (مقابلہ میں) آئے۔ پہلے گھڑ سواروں کی صف بنائی گئی، پھر جنگجوؤں (لڑنے والوں) کی، پھر اس کے پیچھے عورتوں کی صف بنائی گئی، پھر بکریوں کی قطاریں کھڑی کی گئیں، پھر اونٹوں کی قطاریں۔ کہا: اور ہم (انصار) بہت لوگ تھے، ہماری تعداد چھ ہزار کو پہنچ گئی تھی اور ہمارے پہلو کے سواروں پر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے۔ ہمارے گھڑ سوار ہماری پشتوں کی طرف مڑنے لگے اور کچھ دیر نہ گزری تھی کہ ہمارے سوار بکھر گئے اور بدو بھی بھاگ گئے اور وہ لوگ بھی جن کو ہم جانتے ہیں (مکہ کے نو مسلم) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی: ”اے مہاجرین! اے مہاجرین!“ پھر فرمایا: ”اے انصار! اے انصار!“ کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ (میرے اپنے مشاہدے کے علاوہ جنگ میں شریک لوگوں کی) جماعت کی روایت ہے۔ کہا: ہم نے کہا: لبیک، اے اللہ کے رسول! اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے، اور ہم اللہ کی قسم! ان تک پہنچے بھی نہ تھے کہ اللہ نے ان کو شکست سے دوچار کر دیا، اس پر ہم نے اس سارے مال پر قبضہ کر لیا، پھر ہم طائف کی طرف روانہ ہوئے اور چالیس دن تک ان کا محاصرہ کیا، پھر ہم مکہ واپس آئے اور وہاں پڑاؤ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو سو اونٹ (کے حساب سے) دینے کا آغاز فرمایا۔۔۔ پھر حدیث کا باقی حصہ اسی طرح بیان کیا جس طرح (اوپر کی روایات میں) قتادہ، ابوتیاح اور ہشام بن زید کی روایت ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2442]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ، وَصَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ، وَعُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ، وَالْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ، كُلَّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَأَعْطَى عَبَّاسَ بْنَ مِرْدَاسٍ دُونَ ذَلِكَ، فَقَالَ عَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ: أنجْعَلُ نَهْبِي وَنَهْبَ الْعُبَيْدِ بَيْنَ عُيَيْنَةَ وَالْأَقْرَعِ فَمَا كَانَ بَدْرٌ وَلَا حَابِسٌ يَفُوقَانِ مِرْدَاسَ فِي الْمَجْمَعِ وَمَا كُنْتُ دُونَ امْرِئٍ مِنْهُمَا وَمَنْ تَخْفِضْ الْيَوْمَ لَا يُرْفَعِ، قَالَ: فَأَتَمَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةً،
محمد بن ابی عمر مکی نے کہا: سفیان (بن عینیہ) نے ہمیں عمر بن سعید بن مسروق سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد (سعید بن مسروق) سے، انہوں نے عبایہ بن رفاعہ سے اور انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان بن حرب، صفوان بن امیہ، عینیہ بن حصین اور اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ میں سے ہر ایک کو سو سو اونٹ دیے اور عباس بن مرداس رضی اللہ عنہ کو اس سے کم دیے تو عباس بن مرداس نے (اشعار میں) کہا: کیا آپ میری اور میرے گھوڑے عبید کی غنیمت عینیہ (بن حصین بن حذیفہ بن بدر سید بن غطفان) اور اقرع (بن حابس رئیس تمیم) کے درمیان قرار دیتے ہیں، حالانکہ (عینیہ کے پردادا) بدر اور (اقرع کے والد) حابس کسی (بڑوں کے) مجمع میں (میرے والد) سے فوقیت نہیں رکھتے تھے اور میں ان دونوں میں سے کسی سے کم نہیں ہوں اور جس کو پست قرار دیا جائے گا اس کو بلند نہیں کیا جا سکے گا۔ کہا: اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بھی سو پورے کر دیے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2443]
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ، فَأَعْطَى أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، وَزَادَ وَأَعْطَى عَلْقَمَةَ بْنَ عُلَاثَةَ مِائَةً،
احمد بن عبدہ ضبی نے کہا: ہمیں سفیان (بن عینیہ) نے عمر بن سعید بن مسروق سے اسی سند کے ساتھ خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے غنائم تقسیم کیے تو ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کو سو اونٹ دیے۔۔۔ اور پچھلی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور یہ اضافہ کیا: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علقمہ بن علاثہ رضی اللہ عنہ کو بھی سو اونٹ دیے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2444]
وحَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الشَّعِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ عَلْقَمَةَ بْنَ عُلَاثَةَ، وَلَا صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ، وَلَمْ يَذْكُرِ الشِّعْرَ فِي حَدِيثِهِ.
مخلد بن خالد شعیری نے کہا: ہمیں سفیان (بن عینیہ) نے حدیث سنائی، کہا: مجھے عمر بن سعید نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور اس میں نہ علقمہ بن علاثہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا نہ صفوان بن امیہ کا اور نہ اپنی حدیث میں اشعار ہی ذکر کیے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2445]
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَتَحَ حُنَيْنًا قَسَمَ الْغَنَائِمَ، فَأَعْطَى الْمُؤَلَّفَةَ قُلُوبُهُمْ، فَبَلَغَهُ أَنَّ الْأَنْصَارَ يُحِبُّونَ أَنْ يُصِيبُوا مَا أَصَابَ النَّاسُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَهُمْ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَمْ أَجِدْكُمْ ضُلَّالًا فَهَدَاكُمُ اللَّهُ بِي، وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمُ اللَّهُ بِي، وَمُتَفَرِّقِينَ فَجَمَعَكُمُ اللَّهُ بِي، وَيَقُولُونَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ، فَقَالَ: أَلَا تُجِيبُونِي "، فَقَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ، فَقَالَ: أَمَا إِنَّكُمْ لَوْ شِئْتُمْ أَنْ تَقُولُوا كَذَا وَكَذَا، وَكَانَ مِنَ الْأَمْرِ كَذَا وَكَذَا لِأَشْيَاءَ عَدَّدَهَا " زَعَمَ عَمْرٌ وَأَنْ لَا يَحْفَظُهَا، فَقَالَ: " أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاءِ وَالْإِبِلِ، وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى رِحَالِكُمْ الْأَنْصَارُ شِعَارٌ، وَالنَّاسُ دِثَارٌ وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَشِعْبًا، لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ وَشِعْبَهُمْ، إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ ".
عمرو بن یحییٰ بن عمارہ نے عباد بن تمیم سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین فتح کیا، غنائم تقسیم کیے تو جن کی تالیف قلب مقصود تھی ان کو (بہت زیادہ) عطا فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی کہ انصار بھی اتنا لینا چاہتے ہیں جتنا دوسرے لوگوں کو ملا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ان کو خطاب فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”اے گروہ انصار! کیا میں نے تم کو گمراہ نہیں پایا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے تمہیں ہدایت نصیب فرمائی! اور تمہیں محتاج و ضرورت مند نہ پایا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے تمہیں غنی کر دیا! کیا تمہیں منتشر نہ پایا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے تمہیں متحد کر دیا!“ ان سب نے کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بھی بڑھ کر احسان فرمانے والے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھے جواب نہیں دو گے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ احسان کرنے والے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بھی، اگر چاہو تو کہہ سکتے ہو ایسا تھا ایسا تھا اور معاملہ ایسے ہوا، ایسے ہوا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی باتیں گنوائیں، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اس حالت میں آئے کہ آپ کو جھٹلایا گیا تھا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکیلا چھوڑ دیا گیا تھا ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکال دیا گیا تھا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹھکانہ مہیا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ذمہ داریوں کا بوجھ تھا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مواسات کی) عمرو (بن یحییٰ) کا خیال ہے وہ انہیں یاد نہیں رکھ سکے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس پر راضی نہیں ہوتے کہ لوگ اونٹ اور بکریاں لے کر جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لے کر گھروں کو جاؤ؟ انصار قریب تر ہیں اور لوگ ان کے بعد ہیں (شعار وہ کپڑے جو سب سے پہلے جسم پر پہنے جاتے ہیں، دثار وہ کپڑے جو بعد میں اوڑھے جاتے ہیں) اور اگر ہجرت (کا فرق) نہ ہوتا تو میں بھی انصار کا ایک فرد ہوتا اور اگر لوگ ایک وادی اور گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور ان کی گھاٹی میں چلوں گا، بلاشبہ تم میرے بعد (خود پر دوسروں کو) ترجیح ملتی پاؤ گے تو صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھے حوض پر آملو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2446]
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وإسحاق بن إبراهيم ، قَالَ إسحاق أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ، آثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا فِي الْقِسْمَةِ، فَأَعْطَى الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَأَعْطَى عُيَيْنَةَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَأَعْطَى أُنَاسًا مِنْ أَشْرَافِ الْعَرَبِ، وَآثَرَهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْقِسْمَةِ، فَقَالَ رَجُلٌ: وَاللَّهِ إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا عُدِلَ فِيهَا، وَمَا أُرِيدَ فِيهَا وَجْهُ اللَّهِ، قَالَ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ، قَالَ: فَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ حَتَّى كَانَ كَالصِّرْفِ، ثُمَّ قَالَ: " فَمَنْ يَعْدِلُ إِنْ لَمْ يَعْدِلِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ؟، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ "، قَالَ: قُلْتُ: لَا جَرَمَ، لَا أَرْفَعُ إِلَيْهِ بَعْدَهَا حَدِيثًا.
منصور نے ابووائل (شقیق) سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب حنین کی جنگ ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو (مال غنیمت کی) تقسیم میں ترجیح دی۔ آپ نے اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کو سو اونٹ دیے، عینیہ کو بھی اتنے ہی (اونٹ) دیے اور عرب کے دوسرے اشراف کو بھی عطا کیا اور اس دن (مال غنیمت کی) تقسیم میں نہ عدل کیا گیا اور نہ اللہ کی رضا کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ کہا: میں نے (دل میں) کہا: اللہ کی قسم! میں (اس بات سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور آگاہ کروں گا، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس بات کی اطلاع دی جو اس نے کہی تھی۔ (غصے سے) آپ کا چہرہ مبارک متغیر ہوا یہاں تک کہ وہ سرخ رنگ کی طرح ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ اور اس کا رسول عدل نہیں کریں گے تو پھر کون عدل کرے گا!“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے! انہیں اس سے بھی زیادہ اذیت پہنچائی گئی تو انہوں نے صبر کیا۔“ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے دل میں سوچا آئندہ کبھی (اس قسم کی) کوئی بات آپ کے سامنے پیش نہیں کروں گا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2447]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّهَا لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَرْتُهُ، فَغَضِبَ مِنْ ذَلِكَ غَضَبًا شَدِيدًا وَاحْمَرَّ وَجْهُهُ، حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَذْكُرْهُ لَهُ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: " قَدْ أَوُذِيَ مُوسَى بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ ".
اعمش نے (ابووائل) شقیق سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ (مال) تقسیم کیا تو ایک آدمی نے کہا: اس تقسیم میں اللہ کی رضا کو پیش نظر نہیں رکھا گیا۔ کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور چپکے چپکے سے آپ کو بتا دیا، اس سے آپ انتہائی غصے میں آگئے، آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا حتیٰ کہ میں نے خواہش کی، کاش! یہ بات میں آپ کو نہ بتاتا، کہا: پھر آپ نے فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام کو اس سے بھی زیادہ اذیت پہنچائی گئی تو انہوں نے صبر کیا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2448]
47: باب ذِكْرِ الْخَوَارِجِ وَصِفَاتِهِمْ:
باب: خوارج اور ان کی صفات کا ذکر۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ مُنْصَرَفَهُ مِنْ حُنَيْنٍ، وَفِي ثَوْبِ بِلَالٍ فِضَّةٌ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبِضُ مِنْهَا يُعْطِي النَّاسَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ اعْدِلْ، قَالَ: " وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ لَقَدْ خِبْتَ وَخَسِرْتَ إِنْ لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَقْتُلَ هَذَا الْمُنَافِقَ، فَقَالَ: مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنِّي أَقْتُلُ أَصْحَابِي، إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنْهُ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ "،
لیث نے یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حنین سے واپسی کے وقت جعرانہ میں ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں چاندی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مٹھی بھر بھر کے لوگوں کو دے رہے تھے۔ تو اس نے کہا: اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) عدل کیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے ویل (ہلاکت یا جہنم) ہو! اگر میں عدل نہیں کر رہا تو کون عدل کرے گا؟ اگر میں عدل نہیں کر رہا تو میں ناکام ہو گیا اور خسارے میں پڑ گیا۔“ اس پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجیے میں اس منافق کو قتل کر دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(میں اس بات سے) اللہ کی پناہ (مانگتا ہوں)! کہ لوگ ایسی باتیں کریں کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہوں۔ یہ شک یہ اور اس کے ساتھی قرآن پڑھیں گے، وہ ان کے حلق سے آگے نہیں بڑھے گا، (یہ لوگ) اس طرح اس (دین اسلام) سے نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے (آگے) نکل جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2449]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْسِمُ مَغَانِمَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
عبدالوہاب ثقفی نے کہا: میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا، کہہ رہے تھے: مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، نیز قرہ بن خالد نے بھی ابوزبیر کے واسطے سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غنیمتیں تقسیم فرما رہے تھے۔۔۔ اور (مذکورہ بالا حدیث کے مانند) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2450]
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: بَعَثَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ بِالْيَمَنِ، بِذَهَبَةٍ فِي تُرْبَتِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ: الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيُّ، وَعُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيُّ، ثُمَّ أَحَدُ بَنِي كِلَابٍ، وَزَيْدُ الْخَيْرِ الطَّائِيُّ، ثُمَّ أَحَدُ بَنِي نَبْهَانَ، قَالَ: فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ، فَقَالُوا: أَتُعْطِي صَنَادِيدَ نَجْدٍ وَتَدَعُنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ لِأَتَأَلَّفَهُمْ "، فَجَاءَ رَجُلٌ كَثُّ اللِّحْيَةِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ نَاتِئُ الْجَبِينِ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ، فَقَالَ: اتَّقِ اللَّهَ يَا مُحَمَّدُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ إِنْ عَصَيْتُهُ أَيَأْمَنُنِي عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تَأْمَنُونِي "، قَالَ: ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ فَاسْتَأْذَنَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فِي قَتْلِهِ، يُرَوْنَ أَنَّهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا، قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ ".
سعید بن مسروق نے عبدالرحمان بن ابی نعم سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ جب یمن میں تھے تو انہوں نے کچھ سونا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا جو اپنی مٹی کے اندر ہی تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار افراد: اقرع بن حابس حنظلی، عینیہ (بن حصین بن حذیفہ) بن بدر فزاری، علقمہ بن علاثہ عامری رضی اللہ عنہ جو اس کے بعد (آگے بڑے قبیلے) بنو کلاب (بن ربیعہ بن عامر) کا ایک فرد تھا اور زید الخیر طائی جو اس کے بعد (آگے بنو طے کی ذیلی شاخ) بنو نہمان کا ایک فرد تھا، میں تقسیم فرما دیا، کہا: اس پر قریش ناراض ہو گئے اور کہنے لگے: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نجدی سرداروں کو عطا کریں گے اور ہمیں چھوڑ دیں گے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کام میں نے ان کی تالیف قلب کی خاطر کیا ہے۔“ اتنے میں گھنی داڑھی، ابھرے ہوئے رخساروں، دھنسی ہوئی آنکھوں، نکلی ہوئی پیشانی، منڈھے ہوئے سر والا ایک شخص آیا اور کہا: اے محمد! اللہ سے ڈریں! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اس کی نافرمانی کروں گا تو اس کی فرمانبرداری کون کرے گا! وہ تو مجھے تمام روئے زمین کے لوگوں پر امین سمجھتا ہے اور تم مجھے امین نہیں سمجھتے؟“ پھر وہ آدمی پیٹھ پھیر کر چل دیا، لوگوں میں سے ایک شخص نے اس کو قتل کرنے کی اجازت طلب کی۔۔۔ بیان کرنے والے سمجھتے ہیں کہ وہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی اصل (جس قبیلے سے اس کا اپنا تعلق ہے) سے ایسی قوم ہو گی جو قرآن پڑھے گی لیکن وہ ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔ وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر نشانہ بنائے جانے والے شکار سے نکل جاتا ہے، اگر میں نے ان کو پا لیا تو میں ہر صورت انہیں اس طرح قتل کروں گا جس طرح (عذاب بھیج کر) قوم عاد کو قتل کیا گیا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2451]
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: بَعَثَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْيَمَنِ بِذَهَبَةٍ فِي أَدِيمٍ مَقْرُوظٍ، لَمْ تُحَصَّلْ مِنْ تُرَابِهَا، قَالَ: فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ: بَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ حِصْنٍ، وَالْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ، وَزَيْدِ الْخَيْلِ، وَالرَّابِعُ إِمَّا عَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ وَإِمَّا عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: كُنَّا نَحْنُ أَحَقَّ بِهَذَا مِنْ هَؤُلَاءِ، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَلَا تَأْمَنُونِي وَأَنَا أَمِينُ مَنْ فِي السَّمَاءِ، يَأْتِينِي خَبَرُ السَّمَاءِ صَبَاحًا وَمَسَاءً "، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ نَاشِزُ الْجَبْهَةِ كَثُّ اللِّحْيَةِ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ مُشَمَّرُ الْإِزَارِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اتَّقِ اللَّهَ، فَقَالَ: " وَيْلَكَ أَوَلَسْتُ أَحَقَّ أَهْلِ الْأَرْضِ أَنْ يَتَّقِيَ اللَّهَ "، قَالَ: ثُمَّ وَلَّى الرَّجُلُ، فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ؟، فَقَالَ: " لَا لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ يُصَلِّي "، قَالَ خَالِدٌ: وَكَمْ مِنْ مُصَلٍّ يَقُولُ بِلِسَانِهِ مَا لَيْسَ فِي قَلْبِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَمْ أُومَرْ أَنْ أَنْقُبَ عَنْ قُلُوبِ النَّاسِ، وَلَا أَشُقَّ بُطُونَهُمْ "، قَالَ: ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْهِ وَهُوَ مُقَفٍّ، فَقَالَ: " إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا، قَوْمٌ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ رَطْبًا، لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ، كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ "، قَالَ: أَظُنُّهُ قَالَ: " لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ "،
عبدالواحد نے عمارہ بن قعقاع سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبدالرحمان بن ابی نعم نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے یمن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رنگے ہوئے (دباغت شدہ) چمڑے میں (خام) سونے کا ایک ٹکڑا بھیجا جسے مٹی سے الگ نہیں کیا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار افراد: عینیہ بن حصین، اقرع بن حابس، زید الخیل اور چوتھے فرد علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل رضی اللہ عنہ کے درمیان تقسیم کر دیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے ایک آدمی نے کہا: ہم اس (عطیے) کے ان لوگوں کی نسبت زیادہ حق دار تھے۔ کہا: یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے؟ حالانکہ میں اس کا امین ہوں جو آسمان میں ہے، میرے پاس صبح و شام آسمان کی خبر آتی ہے۔“ (ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے) کہا: گھنی داڑھی، ابھرے ہوئے رخساروں، دھنسی ہوئی آنکھوں، نکلی ہوئی پیشانی، منڈھے ہوئے سر والا اور پنڈلی تک اٹھے تہبند والا ایک شخص کھڑا ہوا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ سے ڈریے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھ پر افسوس، کیا میں تمام اہل زمین سے بڑھ کر اللہ سے ڈرنے کا حقدار نہیں ہوں!“ پھر وہ آدمی پیٹھ پھیر کر چل دیا۔ تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، ہو سکتا ہے کہ وہ نماز پڑھتا ہو۔“ خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: کتنے ہی نمازی ہیں جو زبان سے (وہ بات) کہتے ہیں (کلمہ پڑھتے ہیں) جو ان کے دلوں میں نہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ لوگوں کے دلوں میں سوراخ کروں اور نہ یہ کہ ان کے پیٹ چاک کروں۔“ پھر جب وہ پشت پھیر کر جا رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”یہ حقیقت ہے کہ اس کی اصل سے ایسے لوگ نکلیں گے جو اللہ کی کتاب کو بڑی تراوٹ سے پڑھیں گے (لیکن) وہ ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گی، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر نشانہ بنائے جانے والے شکار سے نکلتا ہے۔“ (ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے) کہا: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں نے ان کو پا لیا تو انہیں اس طرح قتل کروں گا جس طرح ثمود قتل ہوئے تھے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2452]
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ وَعَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ عَامِرَ بْنَ الطُّفَيْلِ، وَقَالَ: " نَاتِئُ الْجَبْهَةِ "، وَلَمْ يَقُلْ: " نَاشِزُ "، وَزَادَ: فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ، قَالَ: " لَا "، قَالَ: ثُمَّ أَدْبَرَ، فَقَامَ إِلَيْهِ خَالِدٌ سَيْفُ اللَّهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ، قَالَ: " لَا "، فَقَالَ: " إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ لَيِّنًا رَطْبًا "، وَقَالَ: قَالَ عُمَارَةُ: حَسِبْتُهُ قَالَ: " لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ "،
جریر نے عمارہ بن قعقاع سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، انہوں نے علقمہ بن علاثہ کا ذکر کیا اور عامر بن طفیل کا ذکر نہیں کیا۔ نیز ناتی الجبہۃ (نکلی ہوئی پیشانی والا) کہا اور (عبدالواحد کی طرح ناشز (ابھری ہوئی پیشانی والا) نہیں کہا اور ان الفاظ کا اضافہ کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ کہا: پھر وہ پیٹھ پھیر کر چل پڑا تو خالد سیف اللہ رضی اللہ عنہ اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ پھر فرمایا: ”حقیقت یہ ہے کہ عنقریب اس کی اصل سے ایسے لوگ نکلیں گے جو اللہ تعالیٰ کی کتاب نرمی اور تراوٹ سے پڑھیں گے۔“ (جریر نے) کہا: عمارہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں نے ان کو پا لیا تو ان کو اسی طرح قتل کروں گا جس طرح ثمود قتل ہوئے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2453]
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ " بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ: زَيْدُ الْخَيْرِ، وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ، وَعُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ أَوْ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ "، وَقَالَ: " نَاشِزُ الْجَبْهَةِ " كَرِوَايَةِ عَبْدِ الْوَاحِدِ، وَقَالَ: " إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ " وَلَمْ يَذْكُرْ: " لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ ".
عمارہ بن قعقاع کے ایک دوسرے شاگرد ابن فضیل نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی اور کہا: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خام سونا) چار افراد: زید الخیر، اقرع بن حابس، عینیہ بن حصین اور علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل میں (تقسیم کیا۔) اور عبدالواحد کی روایت کی طرح ”ابھری ہوئی پیشانی والا“ کہا اور انہوں نے ”اس کی اصل سے (جس سے اس کا تعلق ہے) ایک قوم نکلے گی“ کے الفاظ بیان کیے اور ”لئن أدركت لأقتلنهم قتل ثمود“ (اگر میں نے ان کو پا لیا تو ان کو اس طرح قتل کروں گا جس طرح ثمود قتل ہوئے) کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2454]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَعَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أنهما أتيا أبا سعيد الخدري فسألاه عَنْ الْحَرُورِيَّةِ، هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهَا؟، قَالَ: لَا أَدْرِي مَنْ الْحَرُورِيَّةُ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَخْرُجُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ وَلَمْ يَقُلْ مِنْهَا قَوْمٌ تَحْقِرُونَ صَلَاتَكُمْ مَعَ صَلَاتِهِمْ، فَيَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حُلُوقَهُمْ أَوْ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، فَيَنْظُرُ الرَّامِي إِلَى سَهْمِهِ إِلَى نَصْلِهِ إِلَى رِصَافِهِ، فَيَتَمَارَى فِي الْفُوقَةِ هَلْ عَلِقَ بِهَا مِنَ الدَّمِ شَيْءٌ ".
محمد بن ابراہیم نے ابوسلمہ اور عطاء بن یسار سے روایت کی کہ وہ دونوں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے حروریہ کے بارے میں دریافت کیا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا تھا؟ انہوں نے کہا: حروریہ کو تو میں نہیں جانتا، البتہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اس امت میں ایک قوم نکلے گی۔“ آپ نے ”اس امت میں سے“ نہیں کہا۔ ”تم اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں سے ہیچ سمجھو گے، وہ قرآن پڑھیں گے اور وہ ان کے حلق۔۔۔ یا ان کے گلے۔۔۔ سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ اس طرح دین سے نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار کیے ہوئے جانور سے نکل جاتا ہے اور تیر انداز اپنے تیر کی لکڑی کو، اس کے پھل کو، اس کی تانت کو دیکھتا ہے اور اس کے پچھلے حصے (سوفار یا چٹکی) کے بارے میں شک میں مبتلا ہوتا ہے کہ کیا اس کے ساتھ (شکار کے) خون میں کچھ لگا ہے۔“ (تیر تیزی سے نکل جائے تو اس پر خون وغیرہ زیادہ نہیں لگتا۔ اسی طرح تیزی کے ساتھ دین سے نکلنے والے پر دین کا کوئی اثر باقی نہیں رہتا۔) [صحيح مسلم/حدیث: 2455]
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْفِهْرِيُّ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَالضَّحَّاكُ الْهَمْدَانِيُّ ، أن أبا سعيد الخدري ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْسِمُ قَسْمًا، أَتَاهُ ذُو الْخُوَيْصِرَةِ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اعْدِلْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِنْ لَمْ أَعْدِلْ، قَدْ خِبْتُ وَخَسِرْتُ إِنْ لَمْ أَعْدِلْ "، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِيهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْهُ فَإِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يُنْظَرُ إِلَى نَصْلِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى رِصَافِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى نَضِيِّهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ وَهُوَ الْقِدْحُ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى قُذَذِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ آيَتُهُمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ إِحْدَى عَضُدَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ أَوْ مِثْلُ الْبَضْعَةِ تَتَدَرْدَرُ، يَخْرُجُونَ عَلَى حِينِ فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ "، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَشْهَدُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَاتَلَهُمْ وَأَنَا مَعَهُ، فَأَمَرَ بِذَلِكَ الرَّجُلِ فَالْتُمِسَ فَوُجِدَ، فَأُتِيَ بِهِ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَيْهِ عَلَى نَعْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي نَعَتَ.
ابن شہاب سے روایت ہے، کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمان اور ضحاک ہمدانی نے خبر دی کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ مال تقسیم فرما رہے تھے کہ اسی اثناء میں آپ کے پاس ذو الخویصرہ جو بنو تمیم کا ایک فرد تھا، آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! عدل کیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری ہلاکت (کا سامان ہو)! اگر میں عدل نہیں کروں گا تو کون عدل کرے گا؟ اگر میں عدل نہیں کر رہا تو میں ناکام ہو گیا اور خسارے میں پڑ گیا۔“ (یا اگر میں نے عدل نہ کیا تو تم ناکام رہو گے اور خسارے میں ہوں گے) اس پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجیے میں اس منافق کو قتل کر دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے چھوڑ دو، اس کے کچھ ساتھی ہوں گے۔ تمہارا کوئی فرد اپنی نماز کو ان کی نماز اور اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے سامنے ہیچ سمجھے گا، یہ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن ان کی ہنسلیوں سے نیچے نہیں اترے گا۔ اسلام سے اس طرح نکلیں گے جیسے تیر نشانہ بنائے گئے شکار سے نکلتا ہے۔ اس کے پھل (یا پیکان) کو دیکھا جائے تو اس میں کچھ نہیں پایا جاتا، پھر اس کے سوفار کو دیکھا جائے تو اس میں بھی کچھ نہیں پایا جاتا، پھر اس کے پر کو دیکھا جائے تو اس میں کچھ نہیں پایا جاتا، وہ (تیر) گوبر اور خون سے آگے نکل گیا (لیکن اس پر لگا کچھ بھی نہیں)، ان کی نشانی ایک سیاہ فام مرد ہے، اس کے دونوں مونڈھوں میں سے ایک مونڈھا عورت کے پستان کی طرح یا گوشت کے ہلتے ہوئے ٹکڑے کی طرح ہوگا۔ وہ لوگ (مسلمانوں) کے باہمی اختلاف کے وقت (نمودار) ہوں گے۔“ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے خلاف جنگ کی، میں ان کے ساتھ تھا۔ انہوں نے اس آدمی (کو تلاش کرنے) کے بارے میں حکم دیا، اسے تلاش کیا گیا تو وہ مل گیا، اس (کی لاش) کو لایا گیا تو میں نے اس کو اسی طرح دیکھا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا تعارف کرایا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2456]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ قَوْمًا، يَكُونُونَ فِي أُمَّتِهِ يَخْرُجُونَ فِي فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ سِيمَاهُمُ التَّحَالُقُ، قَالَ: " هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ أَوْ مِنْ أَشَرِّ الْخَلْقِ، يَقْتُلُهُمْ أَدْنَى الطَّائِفَتَيْنِ إِلَى الْحَقِّ "، قَالَ: فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ مَثَلًا، أَوَ قَالَ: قَوْلًا الرَّجُلُ يَرْمِي الرَّمِيَّةَ، أَوَ قَالَ الْغَرَضَ فَيَنْظُرُ فِي النَّصْلِ فَلَا يَرَى بَصِيرَةً، وَيَنْظُرُ فِي النَّضِيِّ فَلَا يَرَى بَصِيرَةً، وَيَنْظُرُ فِي الْفُوقِ فَلَا يَرَى بَصِيرَةً، قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: وَأَنْتُمْ قَتَلْتُمُوهُمْ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ.
سلیمان بن ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کا تذکرہ فرمایا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ہوں گے، وہ لوگوں میں افتراق کے وقت سے نکلیں گے، ان کی نشانی سر منڈانا ہو گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مخلوق کے بدترین لوگ۔ یا مخلوق کے بدترین لوگوں میں سے ہوں گے، ان کو دو گروہوں میں سے وہ (گروہ) قتل کرے گا جو حق کے قریب تر ہوگا۔“ آپ نے ان کی مثال بیان کی یا بات ارشاد فرمائی: ”انسان شکار کو۔۔۔ یا فرمایا: نشانے کو۔ تیر مارتا ہے وہ پھل کو دیکھتا ہے تو اسے (خون کا) نشان نظر نہیں آتا (جس سے بصیرت حاصل ہو جائے کہ شکار کو لگا ہے)، پیکان اور پر کے درمیانی حصے کو دیکھتا ہے تو کوئی نشان نظر نہیں آتا، وہ سوفار (پچھلے حصے) کو دیکھتا ہے تو کوئی نشان نہیں دیکھتا۔“ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اہل عراق! تم ہی نے ان کو (حضرت علی رضی اللہ عنہ کی معیت میں) قتل کیا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2457]
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ وَهُوَ ابْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَمْرُقُ مَارِقَةٌ عِنْدَ فُرْقَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، يَقْتُلُهَا أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ ".
قاسم بن فضل حدانی نے حدیث بیان کی، کہا: ہم سے ابونضرہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں میں افتراق کے وقت تیزی سے (اپنے ہدف کے اندر سے) نکل جانے والا ایک گروہ نکلے گا دو جماعتوں میں سے جو جماعت حق سے زیادہ تعلق رکھنے والی ہو گی، (وہی) اسے قتل کرے گی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2458]
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَكُونُ فِي أُمَّتِي فِرْقَتَانِ، فَتَخْرُجُ مِنْ بَيْنِهِمَا مَارِقَةٌ، يَلِي قَتْلَهُمْ أَوْلَاهُمْ بِالْحَقِّ ".
قتادہ نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے دو گروہ ہوں گے ان دونوں کے درمیان سے، دین میں سے تیزی سے باہر ہو جانے والے نکلیں گے، انہیں وہ گروہ قتل کرے گا جو دونوں گروہوں میں سے زیادہ حق کے لائق ہوگا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2459]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَمْرُقُ مَارِقَةٌ فِي فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ، فَيَلِي قَتْلَهُمْ أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ ".
داود نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں گروہ بندی کے وقت دین میں سے تیزی سے نکل جانے والا ایک فرقہ تیزی سے نکلے گا۔ ان کے قتل کی ذمہ داری دونوں جماعتوں میں سے حق سے زیادہ تعلق رکھنے والی جماعت پوری کرے گی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2460]
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ الضَّحَّاكِ الْمِشْرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثٍ ذَكَرَ فِيهِ: " قَوْمًا يَخْرُجُونَ عَلَى فُرْقَةٍ مُخْتَلِفَةٍ يَقْتُلُهُمْ أَقْرَبُ الطَّائِفَتَيْنِ مِنَ الْحَقِّ ".
ضحاک مشرقی نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ایک حدیث میں روایت کی جس میں آپ نے اس قوم کا تذکرہ فرمایا جو (امت کے) مختلف گروہوں میں بٹنے کے وقت نکلے گی، ان کو دونوں گروہوں میں سے حق سے قریب تر گروہ قتل کرے گا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2461]
48: باب التَّحْرِيضِ عَلَى قَتْلِ الْخَوَارِجِ:
باب: خوارج کے قتل پر ابھارنے کے بارے میں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، جميعا، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ الْأَشَجُّ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ : إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقُولَ عَلَيْهِ مَا لَمْ يَقُلْ، وَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ، فَإِنَّ الْحَرْبَ خَدْعَةٌ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " سَيَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ فِي قَتْلِهِمْ أَجْرًا لِمَنْ قَتَلَهُمْ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "،
وکیع نے حدیث بیان کی کہا اعمش نے ہمیں خیثمہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے سوید بن غفلہ سے روایت کی انہوں نے کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سناؤں تو یہ بات کہ میں آسمان سے گر پڑوں مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں آپ کی طرف کوئی ایسی بات منسوب کروں جو آپ نے نہیں فرمائی۔ اور جب میں تم سے اس معاملے میں بات کروں جو میرے اور تمہارے درمیان ہے (تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے استشہاد کر سکتا ہوں کہ) جنگ ایک چال ہے (لیکن) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (بصراحت یہ) فرماتے ہوئے سنا: ”عنقریب (خلافت راشدہ کے) آخری زمانے میں ایک قوم نکلے گی وہ لوگ کم عمر اور کم عقل ہوں گے (بظاہر) مخلوق کی سب سے بہترین بات کہیں گے قرآن پڑھیں گے جو ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا دین کے اندر سے اس طرح تیزی سے نکل جائیں گے جس طرح تیر تیزی سے شکار کے اندر سے نکل جاتا ہے جب تمہارا ان سے سامنا ہو تو ان کو قتل کر دینا جس نے ان کو قتل کیا اس کے لیے یقیناً قیامت کے دن اللہ کے ہاں اجر ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2462]
حَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ،
عیسیٰ بن یونس اور سفیان دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2463]
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا " يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ".
اعمش سے جریر اور ابومعاویہ نے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور ان دونوں کی حدیث میں ”دین میں سے تیز رفتاری کے ساتھ یوں نکلیں گے جس طرح تیر نشانہ لگے شکار سے تیزی سے نکل جاتا ہے“ کے الفاظ نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2464]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُمَا، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: ذَكَرَ الْخَوَارِجَ، فَقَالَ: " فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ، أَوْ مُودَنُ الْيَدِ أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ، لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَحَدَّثْتُكُمْ بِمَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالَ: قُلْتُ: " آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ " قَالَ: " إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ "،
ایوب نے محمد سے انہوں نے عبیدہ سے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے خوارج کا ذکر کیا اور کہا: ان میں ایک آدمی ناقص چھوٹے یا زیادہ اور ہلتے ہوئے گوشت کے (جیسے) ہاتھ والا ہوگا اگر تمہارے اترانے کا ڈر نہ ہوتا تو جو کچھ اللہ تعالیٰ نے انہیں قتل کرنے والوں کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے وعدہ فرمایا ہے وہ میں تمہیں بتاتا۔ (عبیدہ نے) کہا میں نے عرض کی: کیا آپ نے یہ (وعدہ براہ راست) محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: رب کعبہ کی قسم! ہاں رب کعبہ کی قسم! ہاں رب کعبہ کی قسم! ہاں [صحيح مسلم/حدیث: 2465]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، قَالَ: لَا أُحَدِّثُكُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْهُ فَذَكَرَ عَنْ عَلِيٍّ نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ مَرْفُوعًا.
ابن عون نے محمد سے اور انہوں نے عبیدہ سے روایت کی، انہوں نے کہا میں تمہیں صرف وہی بیان کروں گا جو میں نے ان (علی رضی اللہ عنہ) سے سنا ہے پھر انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایوب کی حدیث کی طرح مرفوع حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2466]
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ الْجُهَنِيُّ ، أَنَّهُ كَانَ فِي الْجَيْشِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، الَّذِينَ سَارُوا إِلَى الْخَوَارِجِ، فَقَالَ عَلِيٌّرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لَيْسَ قِرَاءَتُكُمْ إِلَى قِرَاءَتِهِمْ بِشَيْءٍ، وَلَا صَلَاتُكُمْ إِلَى صَلَاتِهِمْ بِشَيْءٍ، وَلَا صِيَامُكُمْ إِلَى صِيَامِهِمْ بِشَيْءٍ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَحْسِبُونَ أَنَّهُ لَهُمْ وَهُوَ عَلَيْهِمْ، لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَوْ يَعْلَمُ الْجَيْشُ الَّذِينَ يُصِيبُونَهُمْ، مَا قُضِيَ لَهُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاتَّكَلُوا عَنِ الْعَمَلِ، وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّ فِيهِمْ رَجُلًا لَهُ عَضُدٌ، وَلَيْسَ لَهُ ذِرَاعٌ عَلَى رَأْسِ عَضُدِهِ مِثْلُ حَلَمَةِ الثَّدْيِ، عَلَيْهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ، فَتَذْهَبُونَ إِلَى مُعَاوِيَةَ وَأَهْلِ الشَّامِ، وَتَتْرُكُونَ هَؤُلَاءِ يَخْلُفُونَكُمْ فِي ذَرَارِيِّكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونُوا هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ، فَإِنَّهُمْ قَدْ سَفَكُوا الدَّمَ الْحَرَامَ وَأَغَارُوا فِي سَرْحِ النَّاسِ، فَسِيرُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ "، قَالَ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ: فَنَزَّلَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ مَنْزِلًا، حَتَّى قَالَ: مَرَرْنَا عَلَى قَنْطَرَةٍ فَلَمَّا الْتَقَيْنَا، وَعَلَى الْخَوَارِجِ يَوْمَئِذٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ الرَّاسِبِيُّ، فَقَالَ لَهُمْ: أَلْقُوا الرِّمَاحَ وَسُلُّوا سُيُوفَكُمْ مِنْ جُفُونِهَا، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يُنَاشِدُوكُمْ كَمَا نَاشَدُوكُمْ يَوْمَ حَرُورَاءَ، فَرَجَعُوا فَوَحَّشُوا بِرِمَاحِهِمْ وَسَلُّوا السُّيُوفَ وَشَجَرَهُمُ النَّاسُ بِرِمَاحِهِمْ، قَالَ: وَقُتِلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، وَمَا أُصِيبَ مِنَ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ إِلَّا رَجُلَانِ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الْتَمِسُوا فِيهِمُ الْمُخْدَجَ، فَالْتَمَسُوهُ فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَقَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَفْسِهِ حَتَّى أَتَى نَاسًا، قَدْ قُتِلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، قَالَ: أَخِّرُوهُمْ فَوَجَدُوهُ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ فَكَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَبَلَّغَ رَسُولُهُ، قَالَ: فَقَامَ إِلَيْهِ عَبِيدَةُ السَّلْمَانِيُّ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَلِلَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَسَمِعْتَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِي وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ حَتَّى اسْتَحْلَفَهُ ثَلَاثًا وَهُوَ يَحْلِفُ لَهُ.
سلمہ بن کہیل نے کہا: مجھے زید بن وہب جہنی ؒ نے حدیث سنائی کہ وہ اس لشکر میں شامل تھے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا (اور) خوارج کی طرف روانہ ہوا تھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میری امت سے کچھ لوگ نکلیں گے وہ (اس طرح) قرآن پڑھیں گے کہ تمہاری قراءت ان کی قراءت کے مقابلے میں کچھ نہ ہو گی اور نہ تمہاری نمازوں کی ان کی نمازوں کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہو گی اور نہ ہی تمہارے روزوں کی ان کے روزوں کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہو گی۔ وہ قرآن پڑھیں گے اور خیال کریں گے وہ ان کے حق میں ہے حالانکہ وہ ان کے خلاف ہوگا ان کی نماز ان کی ہنسلیوں سے آگے نہیں بڑھے گی وہ اس طرح تیز رفتاری کے ساتھ اسلام سے نکل جائیں گے جس طرح تیر بہت تیزی سے شکار کے اندر سے نکل جاتا ہے۔“ ”اگر وہ لشکر جو ان کو جا لے گا جان لے کہ ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ان کے بارے میں کیا فیصلہ ہوا ہے تو وہ عمل سے (بے نیاز ہو کر صرف اسی عمل پر) بھروسا کر لیں۔ اس (گروہ) کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک آدمی ہوگا جس کا عضد (بازو، کندھے سے لے کر کہنی تک کا حصہ) ہوگا کلائی نہیں ہوگی اس کے بازو کے سرے پر پستان کی نوک کی طرح (کا نشان) ہوگا جس پر سفید بال ہوں گے تو لوگ معاویہ رضی اللہ عنہ اور اہل شام کی طرف جا رہے ہو اور ان (لوگوں) کو چھوڑ رہے ہو جو تمہارے بعد تمہارے بچوں اور اموال پر آپڑیں گے اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ وہی قوم ہے کیونکہ انہوں نے (مسلمانوں کا) حرمت والا خون بہایا ہے اور لوگوں کے مویشیوں پر غارت گری کی ہے اللہ کا نام لے کر (ان کی طرف) چلو۔“ سلمہ بن کہیل نے کہا: مجھے زید بن وہب نے (ایک ایک) منزل میں اتارا (ہر منزل کے بارے میں تفصیل سے) بتایا حتیٰ کہ بتایا: ہم ایک پل پر سے گزرے پھر جب ہمارا آمنا سامنا ہوا تو اس روز خوارج کا سپہ سالار عبداللہ بن وہب راسی تھا اس نے ان سے کہا: اپنے نیزے پھینک دو اور اپنی تلواریں نیاموں سے نکال لو کیونکہ مجھے خطرہ ہے کہ وہ تمہارے سامنے (صلح کے لیے اللہ کا نام) پکاریں گے جس طرح انہوں نے خروراء کے دن تمہارے سامنے پکارا تھا تو انہوں نے لوٹ کر اپنے نیزے دور پھینک دیے اور تلواریں سونت لیں تو لوگ انہی نیزوں کے ساتھ ان پر پل پڑے اور وہ ایک دوسرے پر قتل ہوئے (ایک کے بعد دوسرا آتا اور قتل ہو کر پہلوں پر گرتا) اور اس روز (علی رضی اللہ عنہ کا ساتھ دینے والے) لوگوں میں سے دو کے سوا کوئی اور قتل نہ ہوا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا ان میں ادھورے ہاتھ والے کو تلاش کرو لوگوں نے بہت ڈھونڈا لیکن اس کو نہ پا سکے اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ خود اٹھے اور ان لوگوں کے پاس آئے جو قتل ہو کر ایک دوسرے پر گرے ہوئے تھے آپ نے فرمایا: ان کو ہٹاؤ تو انہوں نے اسے (لاشوں کے نیچے) زمین سے لگا ہوا پایا۔ آپ نے اللہ اکبر کہا پھر کہا: اللہ نے سچ فرمایا اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اسی طرح ہم تک) پہنچا دیا۔ (زید بن وہب نے) کہا عبیدہ سلمانی کھڑے ہو کر آپ کے سامنے حاضر ہوئے اور کہا اے امیر المومنین! اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں! آپ نے واقعی یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی؟ تو انہوں نے کہا: ہاں اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں! حتیٰ کہ اس نے آپ سے تین دفعہ قسم لی اور آپ اس کے سامنے حلف اٹھاتے رہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2467]
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ الْحَرُورِيَّةَ لَمَّا خَرَجَتْ وَهُوَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالُوا: لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ، قَالَ عَلِيٌّ : كَلِمَةُ حَقٍّ أُرِيدَ بِهَا بَاطِلٌ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَ نَاسًا إِنِّي لَأَعْرِفُ صِفَتَهُمْ فِي هَؤُلَاءِ، يَقُولُونَ الْحَقَّ بِأَلْسِنَتِهِمْ لَا يَجُوزُ هَذَا مِنْهُمْ، وَأَشَارَ إِلَى حَلْقِهِ مِنْ أَبْغَضِ خَلْقِ اللَّهِ إِلَيْهِ، مِنْهُمْ أَسْوَدُ إِحْدَى يَدَيْهِ طُبْيُ شَاةٍ أَوْ حَلَمَةُ ثَدْيٍ، فَلَمَّا قَتَلَهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: انْظُرُوا فَنَظَرُوا، فَلَمْ يَجِدُوا شَيْئًا، فَقَالَ: ارْجِعُوا فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ وَجَدُوهُ فِي خَرِبَةٍ، فَأَتَوْا بِهِ حَتَّى وَضَعُوهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: وَأَنَا حَاضِرُ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِهِمْ، وَقَوْلِ عَلِيٍّ فِيهِمْ، زَادَ يُونُسُ فِي رِوَايَتِهِ، قَالَ بُكَيْرٌ: وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ، عَنْ ابْنِ حُنَيْنٍ، أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ ذَلِكَ الْأَسْوَدَ.
ابوطاہر اور یونس بن عبدالاعلی دونوں نے کہا ہمیں عبداللہ بن وہب نے خبر دی انہوں نے کہا مجھے عمرو بن حارث نے بکیر اشج سے خبر دی انہوں نے بسر بن سعید سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبید اللہ سے روایت کی کہ جب حروریہ نے خروج کیا اور وہ (عبید اللہ) حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا تو انہوں نے کہا حکومت اللہ کے سوا کسی کی نہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کلمہ حق ہے جس سے باطل مراد لیا گیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کی صفات بیان کیں میں ان لوگوں میں ان صفات کو خوب پہچانتا ہوں (آپ نے فرمایا): ”وہ اپنی زبانوں سے حق بات کہیں گے اور وہ (حق) ان کی اس جگہ۔۔۔ آپ نے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ سے آگے نہیں بڑھے گا یہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے اس کے ہاں سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہیں ان میں ایک سیاہ رنگ کا آدمی ہوگا اس کا ایک ہاتھ بکرکے تھن یا نوک پستان کی طرح ہوگا جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو قتل کیا ڈھونڈو۔ لوگوں نے ڈھونڈا تو انہیں کچھ نہ ملا فرمایا دوبارہ تلاش کرو اللہ کی قسم! میں نے جھوٹ نہیں بولا اور نہ مجھے جھوٹ بتایا گیا دو یا تین دفعہ (یہی فقرہ) کہا پھر انہوں نے اسے ایک کھنڈر میں پا لیا تو وہ اسے لے آئے یہاں تک کہ اسے آپ کے سامنے رکھ دیا۔ عبید اللہ نے کہا: میں بے شک ان کے اس معاملے میں اور ان کے متعلق حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بات کے وقت حاضر تھا۔ یونس نے اپنی روایت میں اضافہ کیا: بکیر نے کہا مجھے (عبداللہ) بن حنین (ہاشمی) سے ایک آدمی نے حدیث بیان کی اس نے کہا میں نے بھی اس کا لاش کو دیکھا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2468]
49: باب الْخَوَارِجُ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ:
باب: خوارج کا ساری مخلوق سے بدتر ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي، أَوْ سَيَكُونُ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي، قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَلَاقِيمَهُمْ، يَخْرُجُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ، هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ "، فَقَالَ ابْنُ الصَّامِتِ: فَلَقِيتُ رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو الْغِفَارِيَّ أَخَا الْحَكَمِ الْغِفَارِيِّ، قُلْتُ: مَا حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي ذَرٍّ كَذَا وَكَذَا، فَذَكَرْتُ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن صامت نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ میرے بعد میری امت سے۔۔۔ یا عنقریب میرے بعد میری امت سے۔۔۔ ایک قوم ہو گی جو قرآن پڑھیں گے وہ ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترے گا وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے پھر اس میں واپس نہیں آئیں گے۔ وہ انسانوں اور مخلوقات میں بدترین ہوں گے۔“ ابن صامت نے کہا: میں حکم غفاری رضی اللہ عنہ کو ملا، میں نے کہا: (یہ) کیا حدیث ہے جو میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے اس طرح سنی ہے؟ اس کے بعد میں نے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا میں نے بھی یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2469]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: سَأَلْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ ، هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْخَوَارِجَ؟، فَقَالَ: " سَمِعْتُهُ وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ بِأَلْسِنَتِهِمْ، لَا يَعْدُو تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ "،
علی بن مسہر نے (ابواسحاق شیبانی) سے اور انہوں نے یسر بن عمرو سے روایت کی انہوں نے کہا میں نے سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوارج کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا تھا۔۔۔ اور آپ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی جانب اشارہ کیا تھا۔۔۔ ”ایک قوم ہو گی جو اپنی زبانوں سے قرآن مجید کی تلاوت کریں گے لیکن وہ ان کی ہنسلی کی ہڈیوں سے آگے نہیں جائے گا وہ دین سے اس طرح تیزی سے نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار میں سے نکل جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2470]
وحَدَّثَنَاه أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: " يَخْرُجُ مِنْهُ أَقْوَامٌ ".
عبدالواحد نے کہا: ہمیں (ابواسحاق) سلیمان شیبانی نے اسی سند کے ساتھ (مذکورہ) حدیث بیان کی اور کہا ”اس (جانب) سے کچھ قومیں نکلیں گی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2471]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ ، جَمِيعًا، عَنْ يَزِيدَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو إسحاق الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ أُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَتِيهُ قَوْمٌ قِبَلَ الْمَشْرِقِ، مُحَلَّقَةٌ رُءُوسُهُمْ ".
اعوام بن حوشب سے روایت ہے کہا ابواسحاق شیبانی نے سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی فرمایا: ”ایک قوم مشرق کی طرف سرگرداں پھرے گی ان کے سر منڈھے ہوئے ہوں گے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2472]
50: باب تَحْرِيمِ الزَّكَاةِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى آلِهِ وَهُمْ بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ دُونَ غَيْرِهِمْ:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اولاد بنی ہاشم و بنی عبدالمطلب پر زکوٰۃ حرام ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: أَخَذَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كِخْ كِخْ ارْمِ بِهَا أَمَا عَلِمْتَ أَنَّا لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ "،
عبید اللہ بن معاذ عنبری نے کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا ہمیں شعبہ نے محمد بن زیاد سے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے صدقے کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لے لی اور اسے اپنے منہ میں ڈال لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوڑو، چھوڑو، پھینک دو اسے کیا تم نہیں جانتے کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے؟“ [صحيح مسلم/حدیث: 2473]
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا، عَنْ وَكِيعٍ ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: " أَنَّا لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ "،
وکیع نے شعبہ سے اسی (مذکورہ بالا) سند کے ساتھ روایت کی اور (”ہم صدقہ نہیں کھاتے“ کے بجائے) ”ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں“ کہا ہے [صحيح مسلم/حدیث: 2474]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، كَمَا قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ: " أَنَّا لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ ".
محمد بن جعفر اور ابن ابی عدی دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ (اسی طرح) حدیث بیان کی جس طرح ابن معاذ نے کہا: ”کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2475]
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنِّي لَأَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِي، فَأَجِدُ التَّمْرَةَ سَاقِطَةً عَلَى فِرَاشِي، ثُمَّ أَرْفَعُهَا لِآكُلَهَا، ثُمَّ أَخْشَى أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً، فَأُلْقِيهَا ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابویونس نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”میں اپنے گھر لوٹتا ہوں اور اپنے بستر پر ایک کھجور گری ہوئی پاتا ہوں میں اسے کھانے کے لیے اٹھاتا ہوں پھر ڈرتا ہوں کہ یہ صدقہ نہ ہو تو اسے پھینک دیتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2476]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاللَّهِ إِنِّي لَأَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِي، فَأَجِدُ التَّمْرَةَ سَاقِطَةً عَلَى فِرَاشِي، أَوْ فِي بَيْتِي، فَأَرْفَعُهَا لِآكُلَهَا، ثُمَّ أَخْشَى أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً، أَوْ مِنَ الصَّدَقَةِ فَأُلْقِيهَا ".
ہمام بن منبہ نے کہا: یہ (احادیث) ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں انہوں نے کچھ احادیث بیان کیں ان میں سے (ایک حدیث یہ) ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں اپنے گھر والوں کے پاس لوٹتا ہوں اور اپنے بستر پر۔۔۔ یا اپنے گھر میں۔۔۔ ایک کھجور گری ہوئی پاتا ہوں میں اسے کھانے کے لیے اٹھاتا ہوں پھر میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ صدقہ (نہ) ہو (یا صدقے میں سے نہ ہو) تو میں اسے پھینک دیتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2477]
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ تَمْرَةً، فَقَالَ: " لَوْلَا أَنْ تَكُونَ مِنَ الصَّدَقَةِ لَأَكَلْتُهَا ".
سفیان نے منصور سے انہوں نے طلحہ بن مصرف سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کھجور ملی تو آپ نے فرمایا: ”اگر یہ (امکان) نہ ہوتا کہ یہ صدقے میں سے ہو سکتی ہے تو میں اسے کھا لیتا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2478]
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِتَمْرَةٍ بِالطَّرِيقِ، فَقَالَ: " لَوْلَا أَنْ تَكُونَ مِنَ الصَّدَقَةِ لَأَكَلْتُهَا ".
زائدہ نے منصور اور انہوں نے طلحہ بن مصرف سے روایت کی انہوں نے کہا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راستے میں (پڑی ہوئی) ایک کھجور کے قریب سے گزرے تو فرمایا: ”اگر یہ (امکان) نہ ہوتا کہ یہ صدقے سے ہو گی تو میں اسے کھا لیتا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2479]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ تَمْرَةً، فَقَالَ: " لَوْلَا أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً لَأَكَلْتُهَا ".
قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کھجور ملی تو آپ نے فرمایا: ”اگر یہ (امکان) نہ ہوتا کہ یہ صدقہ ہوگا تو میں اسے کھا لیتا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2480]
51: باب تَرْكِ اسْتِعْمَالِ آلِ النَّبِيِّ عَلَى الصَّدَقَةِ:
باب: آل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ کو استعمال نہ کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ حَدَّثَهُ، قَالَ: اجْتَمَعَ رَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَا: وَاللَّهِ لَوْ بَعَثْنَا هَذَيْنِ الْغُلَامَيْنِ، قَالَا لِي: وَلِلْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ: إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَلَّمَاهُ فَأَمَّرَهُمَا عَلَى هَذِهِ الصَّدَقَاتِ، فَأَدَّيَا مَا يُؤَدِّي النَّاسُ، وَأَصَابَا مِمَّا يُصِيبُ النَّاسُ، قَالَ: فَبَيْنَمَا هُمَا فِي ذَلِكَ جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَوَقَفَ عَلَيْهِمَا فَذَكَرَا لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: لَا تَفْعَلَا فَوَاللَّهِ مَا هُوَ بِفَاعِلٍ، فَانْتَحَاهُ رَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا تَصْنَعُ هَذَا إِلَّا نَفَاسَةً مِنْكَ عَلَيْنَا، فَوَاللَّهِ لَقَدْ نِلْتَ صِهْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا نَفِسْنَاهُ عَلَيْكَ، قَالَ عَلِيٌّ: أَرْسِلُوهُمَا فَانْطَلَقَا وَاضْطَجَعَ عَلِيٌّ، قَالَ: فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ سَبَقْنَاهُ إِلَى الْحُجْرَةِ، فَقُمْنَا عِنْدَهَا حَتَّى جَاءَ، فَأَخَذَ بِآذَانِنَا، ثُمَّ قَالَ: " أَخْرِجَا مَا تُصَرِّرَانِ "، ثُمَّ دَخَلَ وَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَ: فَتَوَاكَلْنَا الْكَلَامَ، ثُمَّ تَكَلَّمَ أَحَدُنَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْتَ أَبَرُّ النَّاسِ وَأَوْصَلُ النَّاسِ، وَقَدْ بَلَغْنَا النِّكَاحَ فَجِئْنَا لِتُؤَمِّرَنَا عَلَى بَعْضِ هَذِهِ الصَّدَقَاتِ، فَنُؤَدِّيَ إِلَيْكَ كَمَا يُؤَدِّي النَّاسُ وَنُصِيبَ كَمَا يُصِيبُونَ، قَالَ: فَسَكَتَ طَوِيلًا حَتَّى أَرَدْنَا أَنْ نُكَلِّمَهُ، قَالَ: وَجَعَلَتْ زَيْنَبُ تُلْمِعُ عَلَيْنَا مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ أَنْ لَا تُكَلِّمَاهُ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَنْبَغِي لِآلِ مُحَمَّدٍ، إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ، ادْعُوَا لِي مَحْمِيَةَ، وَكَانَ عَلَى الْخُمُسِ، وَنَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ "، قَالَ: فَجَاءَاهُ، فَقَالَ لِمَحْمِيَةَ: " أَنْكِحْ هَذَا الْغُلَامَ ابْنَتَكَ لِلْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ "، فَأَنْكَحَهُ، وَقَالَ لِنَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ: " أَنْكِحْ هَذَا الْغُلَامَ ابْنَتَكَ لِي "، فَأَنْكَحَنِي، وَقَالَ لِمَحْمِيَةَ: " أَصْدِقْ عَنْهُمَا مِنَ الْخُمُسِ كَذَا وَكَذَا "، قَالَ الزُّهْرِيُّ وَلَمْ يُسَمِّهِ لِي،
امام مالک نے زہری سے روایت کی کہ عبداللہ بن نوفل بن حارث بن عبدالمطلب نے انہیں حدیث بیان کی کہ عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث (بن عبدالمطلب) رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ربیعہ بن حارث اور عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اکٹھے ہوئے اور دونوں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر ہم ان دونوں لڑکوں کو،، انہوں نے (یہ بات) میرے اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہی۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجیں اور یہ دونوں آپ سے بات کریں اور آپ ان دونوں کو ان صدقات کی وصولی پر مقرر کر دیں جو کچھ (دوسرے) لوگ (لا کر) ادا کرتے ہیں یہ دونوں ادا کریں اور ان دونوں کو بھی وہی کچھ ملے جو (دوسرے) لوگوں کو ملتا ہے (تو کتنا اچھا ہو!) وہ دونوں اسی (مشورے) میں (مشغول) تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے اور ان کے پاس کھڑے ہو گئے ان دونوں نے اس بات کا ان کے سامنے ذکر کیا تو حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ دونوں ایسا نہ کریں اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کام کرنے والے نہیں اس پر ربیعہ بن حارث رضی اللہ عنہ ان کے درپے ہو گئے اور کہا اللہ کی قسم! تم محض اس لیے ہمارے ساتھ ایسا کر رہے ہو تا کہ تم ہم پر اپنی برتری جتاؤ اللہ کی قسم! تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد ہونے کا شرف حاصل ہوا تو (اس موقع پر) ہم نے تو تم پر برتری نہیں جتائی تھی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا تم ان دونوں کو بھیج دو۔ وہ دونوں چلے گئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ (وہیں) لیٹ گئے (ابن ربیعہ نے) کہا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھا لی تو وہ دونوں آپ سے پہلے حجرے کے قریب پہنچ گئے اور کہا: ہم وہاں کھڑے ہو گئے حتیٰ کہ جب آپ تشریف لائے تو (اظہار اپنائیت کے طور پر) ہمارے کان پکڑ لیے پھر فرمایا: ”تم دونوں کے دل میں جو کچھ ہے اسے نکالو (اس کا اظہار کرو۔)“ پھر آپ اندر داخل ہوئے ہم بھی ساتھ ہی داخل ہو گئے اس دن آپ زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے ہاں تھے ہم نے گفتگو ایک دوسرے پر ڈالی (ہر ایک نے چاہا دوسرا بات کرے) پھر ہم میں سے ایک نے گفتگو شروع کی کہا: اے اللہ کے رسول! آپ سب لوگوں سے بڑھ کر احسان کرنے والے اور سب لوگوں سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے ہیں ہم دونوں نکاح کی عمر کو پہنچ گئے ہیں ہم اس لیے حاضر ہوئے ہیں کہ آپ ہمیں بھی ان صدقات میں سے کچھ (صدقات) کی وصولی کے لیے مقرر فرما دیں جس طرح لوگ لا کر ادا کرتے ہیں ہم بھی لا کر دیں گے اور جس طرح انہیں ملتا ہے ہمیں بھی ملے گا آپ خاصی دیر تک خاموش رہے حتیٰ کہ ہم نے (دوبارہ) گفتگو کرنے کا ارادہ کر لیا۔ کہا تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا پردے کے پیچھے سے اشارہ کرنے لگیں کہ تم دونوں ان (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے بات نہ کرو کہا: پھر (کچھ دیر بعد) آپ نے فرمایا: ”آل محمد کے لیے صدقہ روا نہیں۔ یہ تو لوگوں (کے مال) کا میل کچل ہے۔“ محمیہ وہ خمس (غنیمت کے پانچویں حصے) پر مامور تھے۔۔۔ اور نوفل بن حارث بن عبدالمطلب کو میرے پاس بلاؤ۔ کہا وہ دونوں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے محمیہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اس لڑکے (فضل بن عباس رضی اللہ عنہ) سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دو۔“ تو اس نے ان کا نکاح کر دیا اور آپ نے نوفل بن حارث رضی اللہ عنہ سے کہا تم اس لڑکے سے اپنی بیٹی کی شادی کر دو۔ (میرے بارے میں۔) تو اس نے میرا نکاح کر دیا اور آپ نے محمیہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”خمس (جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھا) میں سے ان دونوں کا اتن اتن حق مہر ادا کر دو۔“ زہری نے کہا اس (عبداللہ بن عبداللہ) نے حق مہر مجھے نہیں بتایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2481]
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ الْهَاشِمِيِّ ، أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ رَبِيعَةَ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَالْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَا لِعَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ، وَلِلْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ: ائْتِيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مَالِكٍ، وَقَالَ فِيهِ: فَأَلْقَى عَلِيٌّ رِدَاءَهُ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَيْهِ، وَقَالَ: أَنَا أَبُو حَسَنٍ الْقَرْمُ، وَاللَّهِ لَا أَرِيمُ مَكَانِي حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْكُمَا ابْنَاكُمَا بِحَوْرِ مَا بَعَثْتُمَا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: ثُمَّ قَالَ لَنَا: " إِنَّ هَذِهِ الصَّدَقَاتِ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ، وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ "، وَقَالَ أَيْضًا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ادْعُوَا لِي مَحْمِيَةَ بْنَ جَزْءٍ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى الْأَخْمَاسِ.
یونس بن یزید نے ابن شہاب سے اور انہوں نے عبداللہ بن حارث بن نوفل ہاشمی سے روایت کی کہ حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب نے انہیں بتایا کہ ان کے والد ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب اور عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے عبدالمطلب بن ربیعہ اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا تم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔۔۔ اور امام مالک رحمہ اللہ کی (مذکورہ بالا) حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں کہا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی چادر بچھائی اور اس پر لیٹ گئے اور کہا میں بات پر ڈٹ جانے والا ابوحسن ہوں اللہ کی قسم! میں اپنی جگہ نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ تم دونوں کے بیٹے جس مقصد کے لیے انہیں بھیج رہے ہو اس کا جواب لے کر تمہارے پاس واپس (نہ آجائیں۔) اور اس حدیث میں کہا: پھر آپ نے ہمیں فرمایا: ”یہ صدقات لوگوں کا میل کچل ہیں اور یقیناً یہ محمد اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال نہیں۔“ اور یہ بھی کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے پاس محمیہ بن جزء کو بلاؤ۔“ وہ بنو اسد کا ایک فرد تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اموال خمس کے انتظامات کے لیے مقرر کیا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2482]
52: باب إِبَاحَةِ الْهَدِيَّةِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِبَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ وَإِنْ كَانَ الْمُهْدِي مَلَكَهَا بِطَرِيقِ الصَّدَقَةِ وَبَيَانِ أَنَّ الصَّدَقَةَ إِذَا قَبَضَهَا الْمُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ زَالَ عَنْهَا وَصْفُ الصَّدَقَةِ وَحَلَّتْ لِكُلِّ أَحَدٍ مِمَّنْ كَانَتِ الصَّدَقَةُ مُحَرَّمَةً عَلَيْهِ:
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اولاد پر ہدیہ حلال ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ بْنَ السَّبَّاقِ ، قَالَ: إِنَّ جُوَيْرِيَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: " هَلْ مِنْ طَعَامٍ؟، قَالَتْ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عِنْدَنَا طَعَامٌ، إِلَّا عَظْمٌ مِنْ شَاةٍ أُعْطِيَتْهُ مَوْلَاتِي مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ: قَرِّبِيهِ فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا "،
لیث نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عبید بن سباق نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت جویریہ (بنت حارث) رضی اللہ عنہا نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے اور پوچھا: ”کیا کھانے کی کوئی چیز ہے؟“ انہوں نے عرض کی نہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی قسم! ہمارے پاس اس بکری کی ہزی (والے گوشت) کے سوا کھانے کی اور کوئی چیز نہیں جو میری آزاد کردہ لونڈی کو بطور صدقہ دی گئی تھی آپ نے فرمایا: ”اسے ہی لے آؤ وہ اپنے مقام پر پہنچ چکی ہے (جس کو صدقہ کے طور پر دی گئی تھی اسے مل گئی ہے اور اس کی ملکیت میں آچکی ہے۔)“ [صحيح مسلم/حدیث: 2483]
ابن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی (مذکورہ حدیث) کی طرح روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2484]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: أَهْدَتْ بَرِيرَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمًا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَيْهَا، فَقَال: " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ ".
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ کنیز) حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا نے کچھ گوشت جو اس پر صدقہ کیا گیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور ہدیہ پیش کیا تو آپ نے فرمایا: ”وہ اس کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2485]
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقِيلَ: هَذَا مَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ ".
اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گائے کا گوشت پیش کیا گیا اور بتایا گیا کہ یہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو بطور صدقہ دیا گیا تھا تو آپ نے فرمایا: ”وہ اس کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2486]
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَتْ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ قَضِيَّاتٍ، كَانَ النَّاسُ يَتَصَدَّقُونَ عَلَيْهَا وَتُهْدِي لَنَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَلَكُمْ هَدِيَّةٌ فَكُلُوهُ "،
ہشام بن عروہ نے عبدالرحمن بن قاسم انہوں نے اپنے والد (قاسم بن محمد بن ابی بکر) سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا بریرہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے تین (شرعی) فیصلے ہوئے تھے لوگ اس کو صدقہ دیتے تھے اور وہ ہمیں تحفہ دے دیتی تھیں میں نے اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: ”وہ اس پر صدقہ ہے اور تمہارے لیے ہدیہ ہے پس تم اسے (بلا ہچکچاہٹ) کھاؤ۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2487]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِكَ،
سماک اور شعبہ نے عبدالرحمن بن قاسم سے روایت کی کہا میں نے قاسم سے سنا، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس (سابقہ حدیث) کے مانند بیان کر رہے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2488]
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِكَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " وَهُوَ لَنَا مِنْهَا هَدِيَّةٌ ".
ربیعہ نے قاسم سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی البتہ انہوں نے (اس حدیث میں) کہا: ”وہ اس کی طرف سے ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2489]
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: بَعَثَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَبَعَثْتُ إِلَى عَائِشَةَ مِنْهَا بِشَيْءٍ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَائِشَةَ، قَالَ: " هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟، قَالَتْ: لَا إِلَّا أَنَّ نُسَيْبَةَ بَعَثَتْ إِلَيْنَا مِنَ الشَّاةِ الَّتِي بَعَثْتُمْ بِهَا إِلَيْهَا، قَالَ: إِنَّهَا قَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا ".
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے صدقے کی ایک بکری بھیجی میں نے اس میں سے کچھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیج دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے تو آپ نے پوچھا: ”کیا آپ کے پاس (کھانے کے لیے) کچھ ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں البتہ نسیبہ (ام عطیہ رضی اللہ عنہا) نے اس (صدقے کی) بکری میں سے کچھ حصہ بھیجا ہے جو آپ نے ان کے ہاں بھیجی تھی آپ نے فرمایا: ”وہ اپنی جگہ پہنچ چکی ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2490]
53: باب قَبُولِ النَّبِيِّ الْهَدِيَّةَ وَرَدِّهِ الصَّدَقَةَ:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہدیہ قبول کرنا اور صدقہ کو رد کرنا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ سَأَلَ عَنْهُ، فَإِنْ قِيلَ هَدِيَّةٌ أَكَلَ مِنْهَا، وَإِنْ قِيلَ صَدَقَةٌ لَمْ يَأْكُلْ مِنْهَا ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کھانا پیش کیا جاتا آپ اس کے بارے میں پوچھتے اگر یہ کہا جاتا کہ تحفہ ہے تو اسے کھا لیتے اور اگر کہا جاتا کہ صدقہ ہے تو اسے نہ کھاتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2491]
54: باب الدُّعَاءِ لِمَنْ أَتَى بِصَدَقَتِهِ:
باب: صدقہ لانے والے کو دعا دینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ مُرَّةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَتِهِمْ، قَالَ: " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ، فَأَتَاهُ أَبِي أَبُو أَوْفَى بِصَدَقَتِهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى ".
وکیع اور معاذ عنبری نے شعبہ سے اور انہوں نے عمرو بن مرہ سے روایت کی انہوں نے کہا حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب لوگ (بیت المال میں ادائیگی کے لیے) اپنا صدقہ لاتے آپ فرماتے ”اے اللہ! آل پر صلاة بھیج (رحمت فرما!)“ میرے والد ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بھی آپ کے پاس اپنا صدقہ لائے تو آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! ابواوفیٰ کی آل پر رحمت نازل فرما۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2492]
ح وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " صَلِّ عَلَيْهِمْ ".
عبداللہ بن ادریس نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی البتہ انہوں نے آل ابی اوفی کے بجائے ”ان سب پر رحمت بھیج“ کہا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2493]
55: باب إِرْضَاءِ السَّاعِي مَا لَمْ يَطْلُبْ حَرَامًا:
باب: تحصیلدار زکوٰۃ کو راضی رکھنے کا بیان جب تک وہ مال حرام طلب نہ کرے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، وَأَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وعبد الأعلى ، كلهم عَنْ دَاوُدَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَتَاكُمُ الْمُصَدِّقُ، فَلْيَصْدُرْ عَنْكُمْ وَهُوَ عَنْكُمْ رَاضٍ ".
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہارے پاس صدقہ وصول کرنے والا آئے تو وہ تمہارے ہاں سے اس حال میں لوٹے کہ وہ تم سے خوش ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2494]
← پچھلی کتاب #13 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #15 →