صحيح مسلم حدیث نمبر: 2287
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 985.4
Sahih Muslim 2287
کتاب #12: زکاۃ کے احکام و مسائل
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ لَمَّا جَعَلَ نِصْفَ الصَّاعِ مِنَ الْحِنْطَةِ عَدْلَ صَاعٍ مِنْ تَمْرٍ، أَنْكَرَ ذَلِكَ أَبُو سَعِيدٍ وَقَالَ: " لَا أُخْرِجُ فِيهَا إِلَّا الَّذِي كُنْتُ أُخْرِجُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ ".
ابن عجلان نے عیاض بن عبداللہ بن ابی سرح سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما نے گندم کے آدھے صاع کو کھجوروں کے صاع کے برابر قرار دیا تو ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اس بات (کو ماننے) سے انکار کیا اور کہا: ”میں فطرانہ میں اس کے سوا اور کچھ نہ نکالوں گا جو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں نکالا کرتا تھا (اور وہ ہے) کھجوروں کا ایک صاع یا منقے کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2287]