صحيح مسلم حدیث نمبر: 2394
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 1039.1
Sahih Muslim 2394
کتاب #12: زکاۃ کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِالَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، وَلَا اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ، إِنَّمَا الْمِسْكِينُ الْمُتَعَفِّفُ، اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ لا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا سورة البقرة آية 273 "،
اسماعیل نے جو ابن جعفر (بن ابی کثیر) ہیں، کہا: مجھے شریک نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عطاء بن یسار سے خبر دی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اصل) مسکین وہ نہیں جسے ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمے لوٹا دیتے ہیں، اصل مسکین سوال سے بچنے والا ہے، چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: لَا یَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا ’وہ لوگوں سے چمٹ کر (اصرار سے) نہیں مانگتے۔‘“ [صحيح مسلم/حدیث: 2394]