صحيح مسلم حدیث نمبر: 2393
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 1039
Sahih Muslim 2393
کتاب #12: زکاۃ کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِهَذَا الطَّوَّافِ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ، فَتَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ، وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، قَالُوا: فَمَا الْمِسْكِينُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ، وَلَا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ، وَلَا يَسْأَلُ النَّاسَ شَيْئًا ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اصل) مسکین یہ گھومنے والا نہیں جو لوگوں کے پاس چکر لگاتا ہے پھر ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں اسے واپس لوٹا دیتی ہیں۔“ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! تو مسکین کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جو اتنی تونگری نہیں پاتا جو اسے (سوال سے) مستغنی کردے، نہ ہی اس (کے ضرورت مند ہونے) کا پتہ چلتا ہے کہ اس کو صدقہ دیا جائے اور نہ ہی وہ لوگوں سے کوئی چیز مانگتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2393]