صحيح مسلم حدیث نمبر: 2446
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 1061
Sahih Muslim 2446
کتاب #12: زکاۃ کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَتَحَ حُنَيْنًا قَسَمَ الْغَنَائِمَ، فَأَعْطَى الْمُؤَلَّفَةَ قُلُوبُهُمْ، فَبَلَغَهُ أَنَّ الْأَنْصَارَ يُحِبُّونَ أَنْ يُصِيبُوا مَا أَصَابَ النَّاسُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَهُمْ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَمْ أَجِدْكُمْ ضُلَّالًا فَهَدَاكُمُ اللَّهُ بِي، وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمُ اللَّهُ بِي، وَمُتَفَرِّقِينَ فَجَمَعَكُمُ اللَّهُ بِي، وَيَقُولُونَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ، فَقَالَ: أَلَا تُجِيبُونِي "، فَقَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ، فَقَالَ: أَمَا إِنَّكُمْ لَوْ شِئْتُمْ أَنْ تَقُولُوا كَذَا وَكَذَا، وَكَانَ مِنَ الْأَمْرِ كَذَا وَكَذَا لِأَشْيَاءَ عَدَّدَهَا " زَعَمَ عَمْرٌ وَأَنْ لَا يَحْفَظُهَا، فَقَالَ: " أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاءِ وَالْإِبِلِ، وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى رِحَالِكُمْ الْأَنْصَارُ شِعَارٌ، وَالنَّاسُ دِثَارٌ وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَشِعْبًا، لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ وَشِعْبَهُمْ، إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ ".
عمرو بن یحییٰ بن عمارہ نے عباد بن تمیم سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین فتح کیا، غنائم تقسیم کیے تو جن کی تالیف قلب مقصود تھی ان کو (بہت زیادہ) عطا فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی کہ انصار بھی اتنا لینا چاہتے ہیں جتنا دوسرے لوگوں کو ملا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ان کو خطاب فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”اے گروہ انصار! کیا میں نے تم کو گمراہ نہیں پایا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے تمہیں ہدایت نصیب فرمائی! اور تمہیں محتاج و ضرورت مند نہ پایا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے تمہیں غنی کر دیا! کیا تمہیں منتشر نہ پایا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے تمہیں متحد کر دیا!“ ان سب نے کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بھی بڑھ کر احسان فرمانے والے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھے جواب نہیں دو گے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ احسان کرنے والے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بھی، اگر چاہو تو کہہ سکتے ہو ایسا تھا ایسا تھا اور معاملہ ایسے ہوا، ایسے ہوا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی باتیں گنوائیں، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اس حالت میں آئے کہ آپ کو جھٹلایا گیا تھا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکیلا چھوڑ دیا گیا تھا ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکال دیا گیا تھا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹھکانہ مہیا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ذمہ داریوں کا بوجھ تھا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مواسات کی) عمرو (بن یحییٰ) کا خیال ہے وہ انہیں یاد نہیں رکھ سکے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس پر راضی نہیں ہوتے کہ لوگ اونٹ اور بکریاں لے کر جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لے کر گھروں کو جاؤ؟ انصار قریب تر ہیں اور لوگ ان کے بعد ہیں (شعار وہ کپڑے جو سب سے پہلے جسم پر پہنے جاتے ہیں، دثار وہ کپڑے جو بعد میں اوڑھے جاتے ہیں) اور اگر ہجرت (کا فرق) نہ ہوتا تو میں بھی انصار کا ایک فرد ہوتا اور اگر لوگ ایک وادی اور گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور ان کی گھاٹی میں چلوں گا، بلاشبہ تم میرے بعد (خود پر دوسروں کو) ترجیح ملتی پاؤ گے تو صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھے حوض پر آملو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2446]