صحيح مسلم حدیث نمبر: 2448
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 1062.1
Sahih Muslim 2448
کتاب #12: زکاۃ کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّهَا لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَرْتُهُ، فَغَضِبَ مِنْ ذَلِكَ غَضَبًا شَدِيدًا وَاحْمَرَّ وَجْهُهُ، حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَذْكُرْهُ لَهُ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: " قَدْ أَوُذِيَ مُوسَى بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ ".
اعمش نے (ابووائل) شقیق سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ (مال) تقسیم کیا تو ایک آدمی نے کہا: اس تقسیم میں اللہ کی رضا کو پیش نظر نہیں رکھا گیا۔ کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور چپکے چپکے سے آپ کو بتا دیا، اس سے آپ انتہائی غصے میں آگئے، آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا حتیٰ کہ میں نے خواہش کی، کاش! یہ بات میں آپ کو نہ بتاتا، کہا: پھر آپ نے فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام کو اس سے بھی زیادہ اذیت پہنچائی گئی تو انہوں نے صبر کیا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2448]