📖 صحيح مسلم (Sahih Muslim) • تمام 54 کتب ↗

كِتَاب الصِّيَامِ

کتاب #13: روزوں کے احکام و مسائل

کتاب کے ابواب • حدیث: 2495 تا 2779 • کل احادیث: 285
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: باب فَضْلِ شَهْرِ رَمَضَانَ:
باب: ماہ رمضان کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ، وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ ".
اسماعیل بن جعفر نے ابوسہیل (نافع بن مالک بن ابی عامر) سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان آتا ہے جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین بیڑیوں میں جکڑ دیے جاتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2495]
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ رَمَضَانُ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ "،
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے (ابوسہیل نافع) ابن ابی انس سے روایت کی کہ انہیں ان کے والد نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان (کا آغاز) ہوتا ہے، رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیریں پہنا دی جاتی ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2496]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَالْحُلْوَانِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ " بِمِثْلِهِ.
صالح نے ابن شہاب سے باقی ماندہ سابقہ سند سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان داخل (شروع) ہوتا ہے۔“ (باقی الفاظ) اسی (یونس کی حدیث) کے مانند ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2497]
2: باب وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلاَلِ وَالْفِطْرِ لِرُؤْيَةِ الْهِلاَلِ وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلاَثِينَ يَوْمًا:
باب: اس بیان میں کہ روزہ اور افطار چاند دیکھ کر کریں اور اگر بدلی ہو تو تیس تاریخ پوری کریں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ رَمَضَانَ، فَقَالَ: " لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ، فَاقْدِرُوا لَهُ ".
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: میں نے مالک رحمہ اللہ کے سامنے قراءت کی، انہوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے رمضان کا ذکر کیا اور فرمایا: ”روزہ نہ رکھو حتیٰ کہ چاند دیکھ لو اور افطار (روزوں کا اختتام) نہ کرو حتیٰ کہ چاند دیکھ لو اور اگر تم پر مطلع ابر آلود کر دیا جائے تو اس (رمضان) کی مقدار (گنتی) پوری کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2498]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ رَمَضَانَ، فَضَرَبَ بِيَدَيْهِ، فَقَالَ: " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، ثُمَّ عَقَدَ إِبْهَامَهُ فِي الثَّالِثَةِ، فَصُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ ثَلَاثِينَ "،
ابواسامہ نے کہا: عبیداللہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں سے سمجھاتے ہوئے فرمایا: ”مہینہ اس طرح اور اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار اپنا انگوٹھا بند کر لیا۔ (یعنی 29 کی گنتی بتائی) ”چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور اسے دیکھ کر روزے ختم کرو، اگر تمہارا مطلع ابر آلود ہو جائے تو اس کے تیس دن پورے کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2499]
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: " فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا ثَلَاثِينَ "، نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ،
ہم سے ابن نمیر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں عبیداللہ نے اسی (مذکورہ بالا) سند کے ساتھ حدیث بیان کی، فرمایا: ”اگر تم پر بادل چھا جائیں تو اس کے تیس دن شمار کرو۔“ جس طرح ابواسامہ کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2500]
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ، فَقَالَ: " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، وَقَالَ: فَاقْدِرُوا لَهُ "، وَلَمْ يَقُلْ ثَلَاثِينَ.
یحییٰ بن سعید نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کر کے فرمایا: ”مہینہ انتیس کا ہوتا ہے، (اشارے سے کہا:) مہینہ اس طرح، اس طرح اور اس طرح (تین دہائیاں ہوتا) ہے۔“ اور کہا: ”اس کی گنتی پوری کرو۔“ اور تیس کا لفظ نہیں بولا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2501]
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ، فَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ ".
ایوب نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس کا ہوتا ہے (اور فیصلہ چاند سے ہوتا ہے) اس لیے نہ چاند دیکھے بغیر روزے رکھو اور نہ اسے دیکھے بغیر روزے ختم کرو اگر آسمان ابر آلود ہو تو اس کی گنتی (تیس) پوری کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2502]
وحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ ".
سلمہ بن علقمہ نے نافع سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے، جب چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب اسے دیکھ لو تو روزے ختم کرو، اگر تم پر بادل چھا جائیں تو اس کی گنتی پوری کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2503]
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ ".
سالم بن عبداللہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب اس (چاند) کو دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب اسے دیکھ لو تو روزے ختم کرو اور اگر بادل چھا جائیں تو اس (مہینے) کی گنتی پوری کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2504]
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً، لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، إِلَّا أَنْ يُغَمَّ عَلَيْكُمْ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ ".
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے۔ چاند دیکھے بغیر روزہ نہ رکھو اور اسے دیکھے بغیر روزے ختم نہ کرو مگر یہ کہ تم پر بادل چھا جائیں۔ اگر تم پر بادل چھا جائیں تو اس (مہینے) کی گنتی پوری کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2505]
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إسحاق ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا وَقَبَضَ إِبْهَامَهُ فِي الثَّالِثَةِ ".
عمرو بن دینار نے ہمیں حدیث سنائی کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”مہینہ اس طرح، اس طرح، اور اس طرح ہوتا ہے۔“ اور تیسری دفعہ اپنا انگوٹھا بند کر لیا۔ (اشارے سے انتیس کی گنتی بتائی۔) [صحيح مسلم/حدیث: 2506]
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْأَشْيَبُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ".
ابوسلمہ نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2507]
وحَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عنهما، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، عَشْرًا وَعَشْرًا وَتِسْعًا ".
موسیٰ بن طلحہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ ایسا، ایسا، ایسا (یعنی) دس، دس اور نو کا ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2508]
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشَّهْرُ كَذَا وَكَذَا وَكَذَا، وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ بِكُلِّ أَصَابِعِهِمَا، وَنَقَصَ فِي الصَّفْقَةِ الثَّالِثَةِ إِبْهَامَ الْيُمْنَى أَوِ الْيُسْرَى ".
شعبہ، جبلہ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ ہمیشہ اس طرح، اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کے ساتھ دونوں ہاتھوں کی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا اور تیسری مرتبہ آپ نے اپنے دائیں یا بائیں انگوٹھے کو بند فرما لیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2509]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُقْبَةَ وَهُوَ ابْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ "، وَطَبَّقَ شُعْبَةُ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ، وَكَسَرَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ، قَالَ عُقْبَةُ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ الشَّهْرُ ثَلَاثُونَ وَطَبَّقَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ.
شعبہ نے ہمیں عقبہ بن حریث سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس کا ہوتا ہے۔“ شعبہ نے تین بار دونوں ہاتھوں کو (دکھا کر) ایک دوسرے سے جوڑا اور تیسری بار انگوٹھا کم کر لیا۔ عقبہ نے کہا: میرا خیال ہے (پھر) انہوں (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما) نے کہا: ”مہینہ تیس کا ہوتا ہے۔“ اور (ایک دفعہ) اپنی دونوں ہتھیلیاں تین بار ایک دوسرے کے ساتھ جوڑیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2510]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ، لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، وَعَقَدَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ، وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا يَعْنِي تَمَامَ ثَلَاثِينَ "،
محمد بن المثنیٰ، ابن بشار، محمد جعفر، شعبہ، اسود بن قیس، سعید بن عمر بن سعید، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم امی امت کے لوگ ہیں نہ ہم لکھتے ہیں اور نہ ہم حساب کرتے ہیں مہینہ اس طرح ہوتا ہے اور اس طرح اور اس طرح۔“ اور تیسری مرتبہ انگوٹھے کو بند فرما لیا، اور ”مہینہ اس طرح اور اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے یعنی مکمل تیس (دنوں) کا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2511]
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ لِلشَّهْرِ الثَّانِي ثَلَاثِينَ.
سفیان نے اسود بن قیس سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور دوسرے مہینے کے تیس (دنوں) کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2512]
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، قَالَ: سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، رَجُلًا يَقُولُ: اللَّيْلَةَ لَيْلَةُ النِّصْفِ، فَقَالَ لَهُ: مَا يُدْرِيكَ أَنَّ اللَّيْلَةَ النِّصْفُ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ الْعَشْرِ مَرَّتَيْنِ، وَهَكَذَا فِي الثَّالِثَةِ وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ كُلِّهَا، وَحَبَسَ أَوْ خَنَسَ إِبْهَامَهُ ".
حضرت سعد بن عبیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا کہ آج رات آدھا مہینہ ہو گیا تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس آدمی سے فرمایا کہ تجھے کس طرح معلوم ہوا کہ رات آدھا مہینہ ہو گیا ہے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ”مہینہ اس طرح، اس طرح اور اس طرح۔“ اور آپ نے اپنی انگلیوں سے دو مرتبہ دس کا اشارہ فرمایا اور اپنی ساری انگلیوں سے اشارہ فرمایا۔ اور تیسری دفعہ اپنے انگوٹھے کو کھلنے سے روک لیا یا موڑ لیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2513]
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَصُومُوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا ".
سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب چاند دیکھ لو تو افطار (عید) کرو اگر مطلع ابر آلود ہو تو تم تیس دنوں کے روزے رکھو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2514]
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعَدَدَ ".
ربیع، ابن مسلم، محمد، ابن زیاد، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو اور اگر مطلع ابر آلود ہو تو تم روزوں کی تعداد پوری کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2515]
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمِّيَ عَلَيْكُمُ الشَّهْرُ، فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ ".
شعبہ، محمد بن زیاد، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار (عید) کرو تو اگر تم پر مہینہ پوشیدہ رہے تو تم تیس روزوں کی تعداد پوری کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2516]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهِلَالَ، فَقَالَ: " إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ ".
اعرج، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزہ افطار (عید) کرو۔ تو اگر تم پر مہینہ پوشیدہ رہے تو تم تیس روزوں کی تعداد پوری کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2517]
3: باب لاَ تَقَدَّمُوا رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ وَلاَ يَوْمَيْنِ:
باب: رمضان المبارک سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُبَارَكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقَدَّمُوا رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ، إِلَّا رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمًا فَلْيَصُمْهُ "،
علی بن مبارک، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم رمضان المبارک سے نہ ایک دن اور نہ ہی دو دن پہلے روزہ رکھو سوائے اس آدمی کے جو اس دن روزہ رکھتا تھا تو اسے چاہیے کہ وہ رکھ لے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2518]
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، كُلُّهُمْ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
معاویہ، ابن سلام، ابن مثنیٰ، ابوعامر، ہشام، ابن مثنیٰ، ابن ابی عمر، عبدالوہاب بن عبدالمجید، ایوب، ذہیر بن حرب، حسین بن محمد، شیبان، حضرت یحییٰ بن ابی کثیر رضی اللہ عنہ سے اس سند کے ساتھ اسی حدیث کی طرح روایت کیا گیا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2519]
4: باب الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ:
باب: مہینہ انتیس دنوں کا (بھی) ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْسَمَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى أَزْوَاجِهِ شَهْرًا، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً أَعُدُّهُنَّ، دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: بَدَأَ بِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ أَقْسَمْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا وَإِنَّكَ دَخَلْتَ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ أَعُدُّهُنَّ، فَقَالَ: " إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ".
معمر، حضرت زہری سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک اپنی ازواج مطہرات کے پاس نہیں جائیں گے زہری کہتے ہیں کہ مجھے عروہ نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جب انتیس راتیں گزر گئیں میں ان راتوں کا شمار کرتی رہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے۔ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: (باریوں کا) آغاز مجھ سے فرمایا میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول آپ نے قسم کھائی تھی کہ آپ ہمارے پاس ایک ماہ تک نہ آئیں گے۔ اور آپ انتیس دن کے بعد تشریف لے آئے ہیں، میں گنتی رہی ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”بیشک مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2520]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَزَلَ نِسَاءَهُ شَهْرًا، فَخَرَجَ إِلَيْنَا فِي تِسْعٍ وَعِشْرِينَ، فَقُلْنَا: إِنَّمَا الْيَوْمُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ، فَقَالَ: " إِنَّمَا الشَّهْرُ، وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَحَبَسَ إِصْبَعًا وَاحِدَةً فِي الْآخِرَةِ ".
لیث، ابن زبیر، حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے علیحدہ رہے تھے تو آپ انتیسویں دن میں ہماری طرف تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا کہ آج انتیسواں دن ہے پھر آپ نے فرمایا: ”مہینہ انتیس دنوں کا بھی ہوتا ہے۔“ اور آپ نے دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ ہلایا اور آخری مرتبہ ایک انگلی کو بند فرما لیا۔ (اتنے یعنی انتیس دن کا ہوتا ہے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 2521]
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: اعْتَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ شَهْرًا، فَخَرَجَ إِلَيْنَا صَبَاحَ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا أَصْبَحْنَا لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، ثُمَّ طَبَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ ثَلَاثًا، مَرَّتَيْنِ بِأَصَابِعِ يَدَيْهِ كُلِّهَا وَالثَّالِثَةَ بِتِسْعٍ مِنْهَا ".
ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات سے ایک مہینہ تک علیحدہ رہے انتیس دن گزر جانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف صبح کے وقت تشریف لائے تو کچھ لوگوں نے آپ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ انتیس دنوں کے بعد تشریف لے آئے؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ ملایا دو مرتبہ اپنے ہاتھوں کی ساری انگلیوں کے ساتھ اور تیسری مرتبہ نو انگلیوں کے ساتھ۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2522]
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَفَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ شَهْرًا، فَلَمَّا مَضَى تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا غَدَا عَلَيْهِمْ أَوْ رَاحَ، فَقِيلَ لَهُ: حَلَفْتَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا، قَالَ: " إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا "،
حجاج بن محمد، ابن جریج، یحییٰ بن عبداللہ بن محمد بن صیفی، عکرمہ بن عبدالرحمن بن حارث، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا خبر دیتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کچھ ازواج مطہرات کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جائیں گے۔ تو جب انتیس دن گزر گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح یا شام ان کی طرف تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے نبی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو قسم اٹھائی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک ہماری طرف تشریف نہیں لائیں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس دنوں کا بھی ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2523]
حَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ضحاک، ابن جریج سے اس سند کے ساتھ ہی اسی حدیث کی طرح روایت کیا گیا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2524]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ عَلَى الْأُخْرَى، فَقَالَ: " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا، ثُمَّ نَقَصَ فِي الثَّالِثَةِ إِصْبَعًا ".
محمد بن بشر، اسماعیل بن ابی خالد، محمد بن سعید، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا: ”مہینہ اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ ایک انگلی کم فرما لی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2525]
وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، عَشْرًا وَعَشْرًا وَتِسْعًا مَرَّةً "،
زائدہ، اسماعیل، حضرت محمد بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مہینہ اس طرح اور اس طرح اور اس طرح سے ہوتا ہے دس اور دس اور نو مرتبہ۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2526]
عبداللہ بن مبارک، اسماعیل بن ابی خالد اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اس طرح نقل کی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2527]
5: باب بَيَانِ أَنَّ لِكُلِّ بَلَدٍ رُؤْيَتَهُمْ وَأَنَّهُمْ إِذَا رَأَوُا الْهِلاَلَ بِبَلَدٍ لاَ يَثْبُتُ حُكْمُهُ لِمَا بَعُدَ عَنْهُمْ:
باب: ہر شہر کے لئے اس کی اپنی رؤیت معتبر ہے اور کسی شہر میں چاند دیکھنے سے دور والوں کے لیے رؤیت ثابت نہیں ہوتی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ، قَالَ: فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا، وَاسْتُهِلَّ عَلَيَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ، فَرَأَيْتُ الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ، فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلَالَ، فَقَالَ: " مَتَى رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ؟ "، فَقُلْتُ: " رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ "، فَقَالَ: " أَنْتَ رَأَيْتَهُ؟ "، فَقُلْتُ: " نَعَمْ وَرَآهُ النَّاسُ، وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ "، فَقَالَ: " لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ فَلَا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلَاثِينَ أَوْ نَرَاهُ "، فَقُلْتُ: " أَوَ لَا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ "، فَقَالَ: " لَا هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، وَشَكَّ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى فِي نَكْتَفِي أَوْ تَكْتَفِي.
یحییٰ بن یحییٰ، یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، یحییٰ بن یحییٰ، اسماعیل، ابن جعفر، محمد، ابن حرملہ، حضرت کریب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے مجھے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف ملک شام بھیجا میں شام میں پہنچا تو میں نے حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا کا کام پورا کیا۔ اور وہیں پر رمضان المبارک کا چاند ظاہر ہو گیا۔ اور میں نے شام میں ہی جمعے کی رات چاند دیکھا پھر میں مہینے کے آخر میں مدینے آیا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے چاند کا ذکر ہوا تو مجھے پوچھنے لگے کہ تم نے چاند کب دیکھا ہے؟ تو میں نے کہا کہ ہم نے جمعہ کی رات چاند دیکھا ہے۔ پھر فرمایا: تو نے خود دیکھا تھا؟ میں نے کہا ہاں! اور لوگوں نے بھی دیکھا ہے اور انہوں نے روزہ رکھا۔ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی روزہ رکھا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا کہ کیا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا چاند دیکھنا اور ان کا روزہ رکھنا کافی نہیں ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا نہیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی طرح کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ یحییٰ بن یحییٰ کو شک ہے کہ ”ہم اکتفا نہیں کریں گے۔“ کے الفاظ تھے یا ”آپ اکتفا نہیں کریں گے۔“ کے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2528]
6: باب بَيَانِ أَنَّهُ لاَ اعْتِبَارَ بِكِبَرِ الْهِلاَلِ وَصِغَرِهِ وَأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَمَدَّهُ لِلرُّؤْيَةِ فَإِنْ غُمَّ فَلْيُكَمَّلْ ثَلاَثُونَ.
باب: چاند کے چھوٹے بڑے ہونے کا اعتبار نہیں اور جب بادل ہوں تو تیس دن شمار کر لیا کرو۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ: خَرَجْنَا لِلْعُمْرَةِ فَلَمَّا نَزَلْنَا بِبَطْنِ نَخْلَةَ، قَالَ: تَرَاءَيْنَا الْهِلَالَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ، وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ، قَالَ: فَلَقِينَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقُلْنَا: إِنَّا رَأَيْنَا الْهِلَالَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ، وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ، فَقَالَ: أَيَّ لَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ؟، قَالَ: فَقُلْنَا: لَيْلَةَ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ مَدَّهُ لِلرُّؤْيَةِ، فَهُوَ لِلَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ ".
حصین، عمر بن مرہ، حضرت ابوالبختری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم عمرہ کے لیے نکلے تو جب ہم وادی نخلہ میں اترے تو ہم نے چاند دیکھا بعض لوگوں نے کہا کہ یہ تیسری کا چاند ہے۔ اور کسی نے کہا کہ یہ دو راتوں کا چاند ہے۔ تو ہماری ملاقات حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہوئی تو ہم نے ان سے عرض کیا کہ ہم نے چاند دیکھا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ تیسری تاریخ کا چاند ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ دوسری کا چاند ہے۔ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تم نے کس رات چاند دیکھا تھا؟ تو ہم نے عرض کیا کہ فلاں فلاں رات کا تو آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے دیکھنے کے لیے اسے بڑھا دیا ہے۔ در حقیقت وہ اسی رات کا چاند ہے جس رات تم نے اسے دیکھا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2529]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ: أَهْلَلْنَا رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ، فَأَرْسَلْنَا رَجُلًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمَدَّهُ لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ".
شعبہ، عمرو بن مرہ، حضرت ابوالبختری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے ذات عرق میں رمضان کا چاند دیکھا تو ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف ایک آدمی بھیجا تاکہ وہ چاند کے بارے میں آپ سے پوچھے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے چاند دیکھنے کے لیے بڑھا دیا ہے۔ تو اگر مطلع ابر آلود ہو تو گنتی پوری کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2530]
7: باب بَيَانِ مَعْنَى قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «شَهْرَا عِيدٍ لاَ يَنْقُصَانِ»:
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے معنی میں کہ عید کے دونوں مہینے ناقص نہیں ہوتے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ، رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ ".
یزید بن زریع، خالد، حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عید کے دو ماہ ناقص نہیں ہوتے ایک رمضان المبارک کا دوسرے ذی الحجہ کا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2531]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إسحاق بْنِ سُوَيْدٍ ، وَخَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ "، فِي حَدِيثِ خَالِدٍ: " شَهْرَا عِيدٍ رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ ".
معتمر بن سلیمان، اسحاق بن سوید، خالد، حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دو مہینے ناقص نہیں ہوتے۔“ خالد کی حدیث میں ہے کہ عید کے دو مہینے رمضان اور ذی الحجہ کے ہیں۔ خالد کی حدیث میں ہے: ”عید کے دونوں مہینے، رمضان اور ذوالحجہ۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2532]
8: باب بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ وَأَنَّ لَهُ الأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ وَدُخُولِ وَقْتِ صَلاَةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ:
باب: روزہ طلوع فجر سے شروع ہو جاتا ہے اور طلوع فجر تک کھانا وغیرہ جائز ہے، اور اس فجر (صبح کاذب) کا بیان جس میں روزہ شروع ہوتا ہے، اور اس فجر (صبح صادق) کا بیان جس میں صبح کی نماز کا وقت شروع ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ سورة البقرة آية 187، قَالَ لَهُ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجْعَلُ تَحْتَ وِسَادَتِي عِقَالَيْنِ: عِقَالًا أَبْيَضَ وَعِقَالًا أَسْوَدَ، أَعْرِفُ اللَّيْلَ مِنَ النَّهَارِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ وِسَادَتَكَ لَعَرِيضٌ، إِنَّمَا هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ، وَبَيَاضُ النَّهَارِ ".
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جب آیت حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ نازل ہوئی۔ تو حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے تکیے کے نیچے سفید اور سیاہ رنگ کے دو دھاگے رکھ لیے ہیں۔ جن کی وجہ سے میں رات اور دن میں امتیاز کر لیتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا تکیہ بہت چوڑا ہے کہ جس میں رات اور دن سما گئے ہیں۔ وہ (دھاگا) تو رات کی سیاہی اور دن کی روشنی ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2533]
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يَأْخُذُ خَيْطًا أَبْيَضَ وَخَيْطًا أَسْوَدَ، فَيَأْكُلُ حَتَّى يَسْتَبِينَهُمَا، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْفَجْرِ سورة البقرة آية 187 فَبَيَّنَ ذَلِكَ ".
فضیل بن سلیمان، ابوحازم، حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ جب یہ آیت وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ نازل ہوئی تو بعض آدمی سفید دھاگہ اور سیاہ دھاگہ لے لیتے اور جب تک ان میں واضح امتیاز نظر نہ آتا تو کھاتے رہتے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے لفظ مِنَ الْفَجْرِ نازل فرمایا اور سفید دھاگے کی وضاحت ہو گئی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2534]
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إسحاق ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187، قَالَ: فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَرَادَ الصَّوْمَ، رَبَطَ أَحَدُهُمْ فِي رِجْلَيْهِ الْخَيْطَ الْأَسْوَدَ وَالْخَيْطَ الْأَبْيَضَ، فَلَا يَزَالُ يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ، حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُ رِئْيُهُمَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ بَعْدَ ذَلِكَ مِنَ الْفَجْرِ سورة البقرة آية 187، فَعَلِمُوا أَنَّمَا يَعْنِي بِذَلِكَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ".
ابوغسان، ابوحازم، حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ نازل ہوئی تو بعض آدمی جب ان میں سے کسی کا روزہ رکھنے کا ارادہ ہوتا تو اپنے دونوں پاؤں میں سیاہ اور سفید دھاگے باندھ لیتے اور جب تک دونوں دھاگوں میں واضح امتیاز نظر نہ آتا تو کھاتے اور پیتے رہتے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے لفظ مِنَ الْفَجْرِ نازل فرمایا تو تب معلوم ہوا کہ سیاہ و سفید دھاگے سے رات اور دن مراد ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2535]
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا، حَتَّى تَسْمَعُوا تَأْذِينَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ".
لیث، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”حضرت بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت ہی اذان دے دیتے تھے لہذا تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان سنو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2536]
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا، حَتَّى تَسْمَعُوا أَذَانَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ".
یونس، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”حضرت بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت ہی اذان دے دیتے ہیں۔ لہذا تم کھاتے اور پیتے رہو یہاں تک کہ تم حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان سنو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2537]
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنَانِ: بِلَالٌ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا، حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ "، قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا، إِلَّا أَنْ يَنْزِلَ هَذَا وَيَرْقَى هَذَا،
ابن نمیر، عبیداللہ بن نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو مؤذن تھے حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت بلال رضی اللہ عنہ تو رات کے وقت ہی اذان دے دیتے ہیں لہذا تم کھاتے اور پیتے رہو یہاں تک کہ حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دیں۔“ راوی نے کہا کہ ان دونوں کی اذان میں کوئی فرق نہیں تھا۔ سوائے اس کے کہ وہ اذان دے کر اترتے تھے اور یہ چڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2538]
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ،
ابن نمیر، عبیداللہ، قاسم، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2539]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ كُلُّهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِالْإِسْنَادَيْنِ كِلَيْهِمَا نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ.
ابواسامہ، عبدہ، حماد بن مسعدہ، سب نے عبیداللہ سے (پچھلی دونوں حدیثوں میں مذکور ان کی) سندوں کے ساتھ ابن نمیر کی حدیث کی طرح روایت کی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2540]
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ، أَوَ قَالَ: نِدَاءُ بِلَالٍ مِنْ سُحُورِهِ، فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ، أَوَ قَالَ: يُنَادِي بِلَيْلٍ لِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ وَيُوقِظَ نَائِمَكُمْ، وَقَالَ: لَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَصَوَّبَ يَدَهُ وَرَفَعَهَا، حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا وَفَرَّجَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ "،
اسماعیل بن ابراہیم، سلیمان تیمی، ابوعثمان، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کی وجہ سے نہ رکے یا آپ نے فرمایا کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی پکار سحری کھانے سے نہ روکے کیونکہ وہ اذان دیتے ہیں یا فرمایا کہ وہ پکارتے ہیں تاکہ نماز میں کھڑا ہونے والا سحری کے لیے لوٹ جائے۔ اور تم میں سے سونے والا جاگ جائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرما کر ہاتھ سیدھا کیا اور اوپر کو بلند کیا یہاں تک کہ آپ فرماتے کہ صبح اس طرح نہیں ہوتی پھر انگلیوں کو پھیلا کر فرمایا: ”صبح اس طرح ہوتی ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2541]
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الْأَحْمَرَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ الْفَجْرَ لَيْسَ الَّذِي يَقُولُ هَكَذَا وَجَمَعَ أَصَابِعَهُ، ثُمَّ نَكَسَهَا إِلَى الْأَرْضِ، وَلَكِنْ الَّذِي يَقُولُ هَكَذَا، وَوَضَعَ الْمُسَبِّحَةَ عَلَى الْمُسَبِّحَةِ وَمَدَّ يَدَيْهِ "،
خالد احمر، سلیمان تیمی سے اس سند کے ساتھ حضرت سلیمان تیمی سے یہ روایت اسی طرح نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں انہوں نے فرمایا کہ فجر وہ نہیں جو اس طرح ہو اور آپ نے انگلیوں کو ملایا پھر انہیں زمین کی طرف جھکایا اور فرمایا کہ فجر وہ ہے جو اس طرح ہو اور شہادت کی انگلی کو شہادت کی انگلی پر رکھ کر دونوں ہاتھوں کو پھیلایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2542]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، وَالْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، كلاهما، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَانْتَهَى حَدِيثُ الْمُعْتَمِرِ عِنْدَ قَوْلِهِ " يُنَبِّهُ نَائِمَكُمْ وَيَرْجِعُ قَائِمَكُمْ "، وقَالَ إسحاق: قَالَ جَرِيرٌ فِي حَدِيثِهِ: " وَلَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَلَكِنْ يَقُولُ هَكَذَا يَعْنِي: الْفَجْرَ، هُوَ الْمُعْتَرِضُ وَلَيْسَ بِالْمُسْتَطِيلِ ".
ابوبکر بن ابی شیبہ، معتمر بن سلیمان، اسحاق بن ابراہیم، جریر، معتمر بن سلیمان، اس سند کے ساتھ حضرت سلیمان تیمی سے اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔ اس میں ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان اس وجہ سے ہوتی ہے کہ تم میں سے جو سو رہا ہو وہ بیدار ہو جائے اور جو نماز پڑھ رہا ہو وہ لوٹ جائے۔ اسحاق نے کہا: جریر نے اپنی حدیث میں کہا ہے کہ صبح اس طرح نہیں ہے مطلب یہ کہ چوڑائی میں ہے لمبائی میں نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2543]
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيِّ ، حَدَّثَنِي وَالِدِي ، أَنَّهُ سَمِعَ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَغُرَّنَّ أَحَدَكُمْ نِدَاءُ بِلَالٍ مِنَ السَّحُورِ، وَلَا هَذَا الْبَيَاضُ حَتَّى يَسْتَطِيرَ ".
عبدالوارث، عبداللہ بن سوادہ قشیری، حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے ہیں: ”تم میں سے کوئی سحری کے وقت حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان سے دھوکا نہ کھائے اور نہ ہی اس سفیدی سے جب تک کہ وہ پھیل نہ جائے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2544]
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَغُرَّنَّكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ، وَلَا هَذَا الْبَيَاضُ لِعَمُودِ، الصُّبْحِ حَتَّى يَسْتَطِيرَ هَكَذَا ".
اسماعیل بن علیہ، عبداللہ بن سوادہ، حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی آدمی حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان سے دھوکا نہ کھائے اور نہ ہی سفیدی سے جو کہ صبح کے وقت ستونوں کی طرح ہوتی ہے یہاں تک کہ وہ ظاہر ہو جائے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2545]
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَغُرَّنَّكُمْ مِنْ سَحُورِكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ، وَلَا بَيَاضُ الْأُفُقِ الْمُسْتَطِيلُ هَكَذَا، حَتَّى يَسْتَطِيرَ هَكَذَا "، وَحَكَاهُ حَمَّادٌ بِيَدَيْهِ، قَالَ: يَعْنِي مُعْتَرِضًا.
حماد، ابن زید، عبداللہ بن سوادہ قشیری، حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی آدمی حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان سے اپنی سحری سے دھوکا نہ کھائے اور نہ ہی افق کی لمبی سفیدی سے یہاں تک کہ وہ پھیل جائے۔“ حماد نے اپنے دونوں ہاتھوں (کے اشارے) سے بیان کیا کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد چوڑائی میں پھیلنے والی (سفیدی) سے تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2546]
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَوَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَخْطُبُ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَغُرَّنَّكُمْ نِدَاءُ بِلَالٍ، وَلَا هَذَا الْبَيَاضُ، حَتَّى يَبْدُوَ الْفَجْرُ، أَوَ قَالَ: حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ "،
عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، سوادہ، حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ خطبہ دیتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی آدمی حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان سے دھوکا نہ کھائے اور نہ اس سفیدی سے یہاں تک کہ فجر ظاہر ہو جائے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2547]
وحَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي سَوَادَةُ بْنُ حَنْظَلَةَ الْقُشَيْرِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ هَذَا.
ابوداود (طیالسی) نے شعبہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (اس کے بعد یہی حدیث بیان کی۔) [صحيح مسلم/حدیث: 2548]
9: باب فَضْلِ السُّحُورِ وَتَأْكِيدِ اسْتِحْبَابِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهِ وَتَعْجِيلِ الْفِطْرِ:
باب: سحری کھانے کی فضیلت اور اس کی تاکید اور آخری وقت تک کھانے کا استحباب، اور افطاری جلدی کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَكَةً ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھایا کرو کیونکہ سحری کے کھانے میں برکت ہوتی ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2549]
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحَرِ "،
لیث، موسیٰ بن علی، ابوقیس، مولیٰ عمرو بن عاص، حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہمارے روزے اور اہل کتاب کے روزے کے درمیان سحری کھانے کا فرق ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2550]
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا، عَنْ وَكِيعٍ . ح وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ كِلَاهُمَا، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
وکیع اور وہب دونوں نے موسیٰ بن علی سے اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2551]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ "، قُلْتُ: " كَمْ كَانَ قَدْرُ مَا بَيْنَهُمَا؟ " قَالَ: " خَمْسِينَ آيَةً "،
ہشام، قتادہ، انس، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے میں نے عرض کیا کہ سحری کھانے اور نماز کے درمیان کتنا وقفہ تھا آپ نے فرمایا: ”پچاس آیات کے برابر۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2552]
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ ، كِلَاهُمَا، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
عمرو ناقد، یزید بن ہارون، ہمام، ابن مثنیٰ، سالم بن نوح، عمر بن عامر، قتادہ اس سند کے ساتھ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2553]
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ "،
عبدالعزیز بن ابی حازم، حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ ہمیشہ بھلائی کے ساتھ رہیں گے جب تک روزہ جلد افطار کرتے رہیں گے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2554]
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
قتیبہ، یعقوب، زہیر بن حرب، عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کی ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2555]
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقُلْنَا: " يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ "، قَالَتْ: " أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ؟ "، قَالَ: " قُلْنَا: عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ "، قَالَتْ: " كَذَلِكَ كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، زَادَ أَبُو كُرَيْبٍ: " وَالْآخَرُ أَبُو مُوسَى ".
یحییٰ بن یحییٰ، ابوکریب، محمد بن علاء، ابومعاویہ، اعمش، عمارہ بن عمیر، حضرت ابوعطیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں اور مسروق دونوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اے ام المؤمنین! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے دو آدمی ہیں ان میں سے ایک افطاری میں جلدی کرتا ہے اور نماز میں بھی جلدی کرتا ہے دوسرا ساتھی افطاری میں تاخیر کرتا ہے اور نماز میں بھی تاخیر کرتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: وہ کون ہیں جو افطاری میں جلدی کرتے ہیں اور نماز بھی جلدی پڑھتے ہیں؟ حضرت ابوعطیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا کہ وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔ ابوکریب کی روایت میں اتنا زائد ہے کہ دوسرے ساتھی حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2556]
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَ لَهَا مَسْرُوقٌ: رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كِلَاهُمَا لَا يَأْلُو عَنِ الْخَيْرِ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ وَالْإِفْطَارَ، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَالْإِفْطَارَ "، فَقَالَتْ: " مَنْ يُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ وَالْإِفْطَارَ؟ " قَالَ: " عَبْدُ اللَّهِ "، فَقَالَتْ: " هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ".
ابن ابی زوائد، اعمش، عمارہ، حضرت ابوعطیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں اور حضرت مسروق رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت مسروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے دو ایسے ہیں جو بھلائی کے بارے میں کمی نہیں کرتے ان میں سے ایک مغرب کی نماز اور افطاری میں جلدی کرتا ہے۔ دوسرا مغرب کی نماز اور افطاری میں تاخیر کرتا ہے۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ مغرب کی نماز اور افطاری میں کون جلدی کرتا ہے؟ مسروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2557]
10: باب بَيَانِ وَقْتِ انْقِضَاءِ الصَّوْمِ وَخُرُوجِ النَّهَارِ:
باب: روزہ کا وقت تمام ہونے، اور دن کے ختم ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، واتفقوا في اللفظ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا أَبِي ، وقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ وَأَدْبَرَ النَّهَارُ، وَغَابَتِ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ "، لَمْ يَذْكُرْ ابْنُ نُمَيْرٍ فَقَدْ.
یحییٰ بن یحییٰ، ابوکریب، ابن نمیر، یحییٰ، ابومعاویہ، ابن نمیر، ابوکریب، اسامہ، ہشام، عروہ، عاصم، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رات آجائے اور دن چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ رکھنے والے کو روزہ افطار کر لینا چاہیے۔“ ابن نمیر نے فقد (حقیقتاً) کا لفظ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2558]
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي إسحاق الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ، قَالَ: " يَا فُلَانُ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا "، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا، قَالَ: " انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا "، قَالَ: فَنَزَلَ فَجَدَحَ فَأَتَاهُ بِهِ، فَشَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ: " إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَا هُنَا، وَجَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ".
ہشیم، ابواسحاق شیبانی، حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے مہینے میں ایک سفر میں تھے جب سورج غروب ہو گیا تو آپ نے فرمایا: ”اے فلاں! اتر اور ہمارے لیے ستو ملا۔“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ابھی تو دن ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اتر اور ہمارے لیے ستو ملا۔“ تو وہ اترا اور اس نے ستو ملا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ستو پیا پھر آپ نے اپنے ہاتھ مبارک سے فرمایا: ”جب سورج اس طرف سے غروب ہو جائے اور اس طرف سے رات آجائے تو روزہ رکھنے والے کو افطار کر لینا چاہیے۔“ (اس کا روزہ ختم ہو چکا) [صحيح مسلم/حدیث: 2559]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَعَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ، قَالَ لِرَجُلٍ: " انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَمْسَيْتَ، قَالَ: " انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا "، قَالَ: إِنَّ عَلَيْنَا نَهَارًا، فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُ، فَشَرِبَ ثُمَّ قَالَ: " إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا، وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ "،
علی بن مسہر، عباد بن عوام، شیبانی، حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے جب سورج غروب ہو گیا تو آپ نے ایک آدمی سے فرمایا: ”اتر اور ہمارے لیے ستو ملا۔“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ شام ہونے دیں؟ تو آپ نے فرمایا: ”اتر اور ہمارے لیے ستو ملا۔“ اس نے عرض کیا: ابھی تو دن ہے وہ اترا اور اس نے ستو ملایا آپ نے ستو پیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم دیکھو کہ رات اس طرف آگئی ہے۔“ اور آپ نے مشرق کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا: ”تو روزہ دار کو روزہ افطار کر لینا چاہیے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2560]
وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، قَالَ: " يَا فُلَانُ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا " مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ، وَعَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ،
ابوکامل، عبدالواحد، سلیمان شیبانی، حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور آپ روزہ کی حالت میں تھے تو جب سورج غروب ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فلاں! اتر اور ہمارے لیے ستو لا۔“ آگے حدیث اسی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2561]
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، كِلَاهُمَا، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ، وَعَبَّادٍ، وَعَبْدِ الْوَاحِدِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ: فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، وَلَا قَوْلُهُ: وَجَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا، إِلَّا فِي رِوَايَةِ هُشَيْمٍ وَحْدَهُ.
ابن ابی عمر، سفیان، اسحاق، جریر، شیبانی، ابن ابی اوفیٰ، عبیداللہ بن معاذ، ابن مثنیٰ، محمد بن جعفر، شعبہ اس سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح روایت نقل کی ہے لیکن اس میں بعض الفاظ کی کمی ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2562]
11: باب النَّهْيِ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ:
باب: صوم و صال کی ممانعت۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْوِصَالِ، قَالُوا: إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: " إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ، إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى ".
یحییٰ بن یحییٰ، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال سے منع فرمایا ہے صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ آپ تو وصال کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہاری طرح نہیں ہوں کیونکہ مجھے تو کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2563]
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاصَلَ فِي رَمَضَانَ، فَوَاصَلَ النَّاسُ فَنَهَاهُمْ، قِيلَ لَهُ: أَنْتَ تُوَاصِلُ، قَالَ: " إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى "،
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں وصال فرمایا (یعنی بغیر افطاری کے مسلسل روزے رکھے) لہذا صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی وصال شروع کر دیا تو آپ نے ان کو منع فرمایا۔ آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ بھی تو وہ وصال کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”میں تمہاری طرح نہیں ہوں کیونکہ مجھے کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2564]
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَقُلْ فِي رَمَضَانَ.
عبدالوارث بن عبدالصمد، ایوب، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کی طرح نقل فرمایا ہے لیکن اس میں رمضان کا لفظ نہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2565]
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: فَإِنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُوَاصِلُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأَيُّكُمْ مِثْلِي إِنِّي أَبِيتُ، يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي "، فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا، ثُمَّ يَوْمًا ثُمَّ رَأَوْا الْهِلَالَ، فَقَالَ: " لَوْ تَأَخَّرَ الْهِلَالُ لَزِدْتُكُمْ "، كَالْمُنَكِّلِ لَهُمْ حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا.
حرملہ بن یحییٰ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال سے منع فرمایا مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ بھی تو مسلسل روزے رکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے میری طرح کون ہے؟ میں تو اس حالت میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔“ جب اس کے باوجود صحابہ رضی اللہ عنہم صوم وصال سے نہ رکے تو آپ نے ان کے ساتھ ایک افطاری کے بغیر روزہ رکھا اور پھر افطار کے بغیر روزہ رکھا پھر انہوں نے چاند دیکھ لیا آپ نے فرمایا: ”اگر چاند تاخیر کرتا تو میں اور زیادہ وصال کرتا۔“ گویا کہ آپ نے ان کے نہ رکنے پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2566]
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإسحاق ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ "، قَالُوا: فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " إِنَّكُمْ لَسْتُمْ فِي ذَلِكَ مِثْلِي، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي، فَاكْلَفُوا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ "،
زہیر بن حرب، اسحاق، زہیر، جریر، عمارہ، ابوزرعہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم وصال کے روزے رکھنے سے بچو۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ بھی تو وصال کے روزے رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس معاملے میں میری طرح نہیں ہو کیونکہ میں اس حالت میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ تو تم وہ کام کرو جس کی تم طاقت رکھتے ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2567]
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " فَاكْلَفُوا مَا لَكُمْ بِهِ طَاقَةٌ "،
قتیبہ، مغیرہ، ابوزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے سوائے اس کے کہ اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس کام کی تم طاقت رکھو وہ کام کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2568]
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنِ الْوِصَالِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ.
ابن نمیر، اعمش، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے جس میں ہے کہ آپ نے وصال سے منع فرمایا۔ (آگے) ابوزرعہ سے عمارہ کی حدیث کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2569]
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ فَجِئْتُ، فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، وَجَاءَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَامَ أَيْضًا، حَتَّى كُنَّا رَهْطًا، فَلَمَّا حَسَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّا خَلْفَهُ، جَعَلَ يَتَجَوَّزُ فِي الصَّلَاةِ، ثُمَّ دَخَلَ رَحْلَهُ فَصَلَّى صَلَاةً لَا يُصَلِّيهَا عِنْدَنَا، قَالَ: قُلْنَا لَهُ حِينَ أَصْبَحْنَا: أَفَطَنْتَ لَنَا اللَّيْلَةَ؟، قَالَ: فَقَالَ: " نَعَمْ ذَاكَ الَّذِي حَمَلَنِي عَلَى الَّذِي صَنَعْتُ "، قَالَ: فَأَخَذَ يُوَاصِلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَاكَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ، فَأَخَذَ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يُوَاصِلُونَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَالُ رِجَالٍ يُوَاصِلُونَ، إِنَّكُمْ لَسْتُمْ مِثْلِي، أَمَا وَاللَّهِ لَوْ تَمَادَّ لِي الشَّهْرُ، لَوَاصَلْتُ وِصَالا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ ".
زہیر بن حرب، ابونضر، ہاشم بن قاسم، سلیمان، ثابت، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں نماز پڑھ رہے تھے تو میں آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو کی جانب کھڑا ہو گیا یہاں تک کہ ہماری ایک جماعت بن گئی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس فرمایا کہ میں آپ کے پیچھے ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں تخفیف شروع فرما دی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے۔ آپ نے ایک ایسی نماز پڑھی جیسی نماز آپ ہمارے ساتھ نہیں پڑھتے تھے جب صبح ہوئی تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ کیا رات آپ کو ہمارا علم ہو گیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اسی وجہ سے وہ کام کیا جو میں نے کیا۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال کے روزے رکھنے شروع فرما دیے وہ مہینے کے آخر میں تھے آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے بھی کچھ لوگوں نے وصال کے روزے رکھنے شروع کر دیے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لوگ صوم وصال کیوں رکھ رہے ہیں؟ تم لوگ میری طرح نہیں ہو اللہ کی قسم! اگر یہ مہینہ لمبا ہوتا تو میں اس قدر وصال کے روزے رکھتا کہ ضد کرنے والے اپنی ضد چھوڑ دیتے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2570]
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: وَاصَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوَّلِ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَوَاصَلَ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: " لَوْ مُدَّ لَنَا الشَّهْرُ، لَوَاصَلْنَا وِصَالا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ، إِنَّكُمْ لَسْتُمْ مِثْلِي، أَوَ قَالَ: إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي ".
عاصم بن نضر تیمی، خالد، ابن حارث، حمید، ثابت، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینے کے آخر میں وصال کے روزے رکھے تو مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں نے وصال کے روزے رکھنے شروع کر دیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ہمارے لیے یہ مہینہ لمبا ہو جائے تو میں اس قدر وصال کے روزے رکھتا کہ ضد کرنے والے اپنی ضد چھوڑ دیتے کیونکہ تم میری طرح نہیں ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں تو اس حالت میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2571]
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جميعا، عَنْ عَبْدَةَ ، قَالَ إسحاق: أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: نَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ رَحْمَةً لَهُمْ، فَقَالُوا: إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: " إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ، إِنِّي يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي ".
اسحاق بن ابراہیم، عثمان بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو شفقت کے طور پر وصال کے روزوں سے منع فرمایا صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو وصال کے روزے رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہاری طرح نہیں ہوں کیونکہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2572]
12: باب بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ:
باب: روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں بشرطیکہ شہوت نہ ہو۔
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ إِحْدَى نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِمٌ "، ثُمَّ تَضْحَكُ.
علی بن حجر، سفیان، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات میں سے کسی کا بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مسکرا پڑیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2573]
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ أَسَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ؟ " فَسَكَتَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: " نَعَمْ ".
علی بن حجر، ابن ابی عمر، سفیان فرماتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمن بن قاسم سے پوچھا کہ کیا تم نے اپنے باپ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں ان کا بوسہ لے لیا کرتے تھے؟ حضرت عبدالرحمن تھوڑی دیر خاموش رہے پھر فرمایا: ہاں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2574]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ، وَأَيُّكُمْ يَمْلِكُ إِرْبَهُ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْلِكُ إِرْبَهُ ".
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، عبیداللہ بن عمر، قاسم، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں میرا بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ اور تم میں سے کون ہے جو اپنے جذبات کو قابومیں کر سکے جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے جذبات پر کنٹرول تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2575]
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، وَعَلْقَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا. ح وحَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَلَكِنَّهُ أَمْلَكُكُمْ لِإِرْبِهِ ".
یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، یحییٰ، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم، اسود، علقمہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کا بوسہ لے لیا کرتے تھے اور روزہ کی حالت میں ان سے بغل گیر ہو جایا کرتے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو تم میں سے سب سے زیادہ اپنے جذبات کو کنٹرول میں رکھنے والے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2576]
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ ".
علی بن حجر، زہیر بن حرب، سفیان، منصور، ابراہیم، علقمہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں اپنی کسی زوجہ کا بوسہ لے لیا کرتے تھے اور آپ کو تو تم میں سے سب سے زیادہ اپنے جذبات پر کنٹرول تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2577]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ ".
محمد بن مثنیٰ، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، منصور، ابراہیم، علقمہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی زوجہ مطہرہ رضی اللہ عنہا سے روزہ کی حالت میں بغل گیر ہو جایا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2578]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَوْنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا، وَمَسْرُوقٌ إلى عائشة رضي الله عنها، فقلنا لها: " أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ؟ "، قَالَتْ: " نَعَمْ وَلَكِنَّهُ كَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ، أَوْ مِنْ أَمْلَكِكُمْ لِإِرْبِهِ "، شَكَّ أَبُو عَاصِمٍ،
محمد بن مثنیٰ، ابوعاصم، ابن عون، ابراہیم، اسود، فرماتے ہیں کہ میں اور مسروق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آئے تو ہم نے آپ سے عرض کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں اپنی کسی زوجہ سے بغل گیر ہو جایا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”ہاں لیکن آپ تو تم میں سب سے زیادہ اپنے جذبات پر کنٹرول رکھنے والے تھے۔“ یا فرمایا: ”تم میں سے کون ہے جو آپ کی طرح اپنے جذبات قابومیں رکھ سکے۔“ ابوعاصم راوی کو شک ہے۔ (مفہوم ایک ہی ہے) [صحيح مسلم/حدیث: 2579]
وحَدَّثَنِيهِ يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، وَمَسْرُوقٍ ، أَنَّهُمَا دَخَلَا عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ لِيَسْأَلَانَهَا، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
یعقوب، اسماعیل، ابن عون، ابراہیم، اسود، مسروق اس سند کے ساتھ حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ سے حضرت اسود اور حضرت مسروق کے بارے میں روایت ہے کہ وہ دونوں ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور آپ سے پوچھا پھر آکر اسی طرح حدیث ذکر فرمائی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2580]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ "،
ابوبکر بن ابی شیبہ، حسن بن موسیٰ، شیبان، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ، عمر بن عبدالعزیز، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خبر دیتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں میرا بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2581]
یحییٰ بن بشر حریری، معاویہ، حضرت یحییٰ بن ابی کثیر رضی اللہ عنہ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2582]
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُقَبِّلُ فِي شَهْرِ الصَّوْمِ ".
یحییٰ بن یحییٰ، قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواحوص، زیادہ بن علاقہ، عمرو بن میمون، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزوں کے مہینے میں اپنی کسی زوجہ کا بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2583]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُقَبِّلُ فِي رَمَضَانَ وَهُوَ صَائِمٌ ".
محمد بن حاتم، بہز بن اسد، ابوبکر نہشلی، زیادہ بن علاقہ، عمرو بن میمون، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں اپنی زوجہ مطہرہ رضی اللہ عنہا کا بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2584]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ ".
محمد بن بشار، عبدالرحمن، سفیان، ابوزناد، علی بن حسین، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زوجہ مطہرہ رضی اللہ عنہا کا روزہ کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2585]
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ "،
یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، یحییٰ، ابومعاویہ، اعمش، مسلم، شتیر بن شکل، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں اپنی زوجہ مطہرہ رضی اللہ عنہا کا بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2586]
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ جَرِيرٍ ، كِلَاهُمَا، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ابوربیع زہرانی، ابوعوانہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، مسلم، شتیر بن شکل، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا اس سند کے ساتھ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح حدیث نقل کی فرمائی ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2587]
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ الْحِمْيَرِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُقَبِّلُ الصَّائِمُ؟، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَلْ هَذِهِ لِأُمِّ سَلَمَةَ "، فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَتْقَاكُمْ لِلَّهِ، وَأَخْشَاكُمْ لَهُ ".
ہارون بن سعید، ابن وہب، عمرو، ابن حارث، عبدربہ بن سعید، عبداللہ بن کعب حمیری، حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ روزہ دار بوسہ لے سکتا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”یہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھو۔“ تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے ہیں۔ حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے گناہ سارے معاف فرما دیے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”سنو! اللہ کی قسم! میں تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والا اور اللہ سے ڈرنے والا ہوں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2588]
13: باب صِحَّةِ صَوْمِ مَنْ طَلَعَ عَلَيْهِ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ:
باب: روزے میں اگر جنبی کو صبح ہو جائے تو روزہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُصُّ يَقُولُ فِي قَصَصِهِ " مَنْ أَدْرَكَهُ الْفَجْرُ جُنُبًا فَلَا يَصُمْ "، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ لِأَبِيهِ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ، فَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ ، وَأُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَسَأَلَهُمَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَكِلْتَاهُمَا قَالَتْ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ حُلُمٍ ثُمَّ يَصُومُ "، قَالَ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى مَرْوَانَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ مَرْوَانُ: " عَزَمْتُ عَلَيْكَ إِلَّا مَا ذَهَبْتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَرَدَدْتَ عَلَيْهِ مَا يَقُولُ "، قَالَ: فَجِئْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ حَاضِرُ ذَلِكَ كُلِّهِ، قَالَ: فَذَكَرَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: " أَهُمَا قَالَتَاهُ لَكَ؟ " قَالَ: " نَعَمْ " قَالَ: " هُمَا أَعْلَمُ "، ثُمَّ رَدَّ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا كَانَ يَقُولُ فِي ذَلِكَ إِلَى الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: " سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنْ الْفَضْلِ، وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالَ: فَرَجَعَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَمَّا كَانَ يَقُولُ فِي ذَلِكَ، قُلْتُ لِعَبْدِ الْمَلِكِ: " أَقَالَتَا فِي رَمَضَانَ؟ " قَالَ: " كَذَلِكَ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ حُلُمٍ، ثُمَّ يَصُومُ ".
محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، ابن جریج، محمد بن رافع، عبدالرزاق بن ہمام، ابن جریج، عبدالملک بن ابی بکر بن عبدالرحمن، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ اپنی روایات بیان کرتے ہیں جس آدمی نے جنبی حالت میں صبح کی تو وہ روزہ نہ رکھے، راوی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کا ذکر اپنے باپ عبدالرحمن بن حارث سے کیا تو انہوں نے اس کا انکار کر دیا، تو حضرت عبدالرحمن چلے اور میں بھی ان کے ساتھ چلا یہاں تک کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت عبدالرحمن نے ان دونوں سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احتلام کے بغیر جنبی ہونے کی حالت میں صبح کرتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم چلے یہاں تک کہ مروان کے پاس آگئے حضرت عبدالرحمن نے مروان سے اس بارے میں ذکر کیا تو مروان نے کہا کہ میں تم پر لازم کرتا ہوں کہ تم ضرور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف جاؤ اور اس کی تردید کرو جو وہ کہتے ہیں تو ہم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود تھے حضرت عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ سارا کچھ ذکر کیا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا ان دونوں نے تجھ سے یہی فرمایا ہے؟ حضرت عبدالرحمن نے کہا کہ ہاں! حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ دونوں اس مسئلہ کو زیادہ جانتی ہیں۔ پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے اس قول کی جو کہ آپ نے فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا تھا اس کی تردید کر دی۔ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے یہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے قول سے رجوع کر لیا جو وہ کہا کرتے تھے راوی کہتے ہیں کہ میں نے عبدالملک سے کہا کہ کیا ان دونوں نے یہ حدیث رمضان کے بارے میں بیان کی تھی؟ انہوں نے کہا کہ آپ بغیر احتلام کے جنبی حالت میں صبح اٹھتے پھر آپ روزہ رکھتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2589]
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أن عائشة زوج النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ فِي رَمَضَانَ، وَهُوَ جُنُبٌ مِنْ غَيْرِ حُلُمٍ، فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ ".
حرملہ بن یحییٰ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں جنبی حالت میں بغیر احتلام کے صبح اٹھتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل فرماتے اور روزہ رکھتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2590]
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ الْحِمْيَرِيِّ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ مَرْوَانَ أَرْسَلَهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَسْأَلُ عَنِ الرَّجُلِ يُصْبِحُ جُنُبًا أَيَصُومُ؟، فَقَالَتْ " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ، لَا مِنْ حُلُمٍ، ثُمَّ لَا يُفْطِرُ وَلَا يَقْضِي ".
ہارون بن سعید، ابن وہب، عمرو، ابن حارث، عبدربہ، حضرت عبداللہ بن کعب حمیری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مروان نے ان کو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف ایک آدمی کے بارے میں پوچھنے کے لیے بھیجا کہ وہ جنبی حالت میں صبح اٹھتا ہے کیا وہ روزہ رکھ سکتا ہے؟ تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جماع کی وجہ سے جنبی حالت میں بغیر احتلام کے صبح اٹھتے پھر آپ افطار نہ کرتے اور نہ ہی اس کی قضا کرتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2591]
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُمَا قَالَتَا: " إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ، غَيْرِ احْتِلَامٍ فِي رَمَضَانَ، ثُمَّ يَصُومُ ".
یحییٰ بن یحییٰ، مالک، عبدربہ، ابن سعید، ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں جماع کی وجہ سے نہ کہ احتلام کی وجہ سے جنبی حالت میں صبح کرتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2592]
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيُّ أَبُو طُوَالَةَ ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِيهِ، وَهِيَ تَسْمَعُ مِنْ وَرَاءِ الْبَابِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تُدْرِكُنِي الصَّلَاةُ وَأَنَا جُنُبٌ أَفَأَصُومُ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأَنَا تُدْرِكُنِي الصَّلَاةُ وَأَنَا جُنُبٌ فَأَصُومُ، فَقَالَ: لَسْتَ مِثْلَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ، وَأَعْلَمَكُمْ بِمَا أَتَّقِي ".
یحییٰ بن یحییٰ، ایوب، قتیبہ، ابن حجر، ابن ایوب، اسماعیل بن جعفر، عبداللہ بن عبدالرحمن، ابن معمر بن حزم انصاری، ابوطوالہ، یونس، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی مسئلہ پوچھنے کے لیے آیا اور وہ دروازے کے پیچھے سے سن رہی تھیں۔ اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جنبی حالت میں ہوتا ہوں کہ نماز کا وقت ہو جاتا ہے تو کیا میں اس وقت روزہ رکھ سکتا ہوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی تو نماز کے وقت جنبی حالت میں اٹھتا ہوں تو میں بھی تو روزہ رکھتا ہوں۔“ تو اس آدمی نے: اے اللہ کے رسول! آپ ہماری طرح تو نہیں ہیں آپ کے تو اگلے پچھلے گناہ اللہ نے معاف فرما دیے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم مجھے امید ہے کہ میں تم میں سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں اور میں تم میں سب سے زیادہ جانتا ہوں ان چیزوں کو جن سے بچنا چاہیے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2593]
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ الرَّجُلِ يُصْبِحُ جُنُبًا أَيَصُومُ؟، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا، مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يَصُومُ ".
احمد بن عثمان نوفلی، ابوعاصم، ابن جریج، محمد بن یوسف، حضرت سلیمان بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا کہ وہ جنبی حالت میں صبح کرتا ہے تو کیا وہ آدمی روزہ رکھ سکتا ہے؟ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنبی حالت میں بغیر احتلام کے صبح کرتے پھر آپ روزہ رکھتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2594]
14: باب تَغْلِيظِ تَحْرِيمِ الْجِمَاعِ فِي نَهَارِ رَمَضَانَ عَلَى الصَّائِمِ وَوُجُوبِ الْكَفَّارَةِ الْكُبْرَى فِيهِ وَبَيَانِهَا وَأَنَّهَا تَجِبُ عَلَى الْمُوسِرِ وَالْمُعْسِرِ وَتَثْبُتُ فِي ذِمَّةِ الْمُعْسِرِ حَتَّى يَسْتَطِيعَ:
باب: رمضان کے دنوں میں روزہ دار پر ہم بستری کی سخت حرمت اور اس کے کفارہ کے وجوب کا بیان، اور یہ کفارہ مالدار اور تنگ دست دونوں پر واجب ہے، اور تنگ دست کے ذمے اس وقت واجب ہو گا جب وہ اس کی طاقت رکھتا ہو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ كُلُّهُمْ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلَكْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " وَمَا أَهْلَكَكَ؟ "، قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ: " هَلْ تَجِدُ مَا تُعْتِقُ رَقَبَةً؟ "، قَالَ: لَا، قَالَ: " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟ "، قَالَ: لَا، قَالَ: " فَهَلْ تَجِدُ مَا تُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟ "، قَالَ: لَا، قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ، " فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ "، فَقَالَ: " تَصَدَّقْ بِهَذَا "، قَالَ: أَفْقَرَ مِنَّا فَمَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا، " فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ "، ثُمَّ قَالَ: " اذْهَبْ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ "،
یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن نمیر، ابن عیینہ، سفیان بن عیینہ، حمید بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں ہلاک ہو گیا آپ نے فرمایا: ”تو کیسے ہلاک ہو گیا؟“ اس نے عرض کیا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی ہے آپ نے فرمایا: ”کیا تو ایک غلام آزاد کر سکتا ہے؟“ اس نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا تو مسلسل دو مہینے کے روزے رکھ سکتا ہے؟“ اس نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے؟“ اس نے عرض کیا کہ نہیں، راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ آدمی بیٹھ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو محتاجوں میں صدقہ کر دو۔“ اس نے عرض کیا: کیا ہم سے بھی زیادہ محتاج ہے؟ مدینہ کے دونوں اطراف کے درمیان والے گھروں میں کوئی ایسا گھر نہیں جو ہم سے زیادہ محتاج ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں مبارک ظاہر ہو گئیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے فرمایا: ”جا اور اسے اپنے گھر والوں کو کھلا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2595]
حَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَ رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَقَالَ: بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ وَهُوَ الزِّنْبِيلُ، وَلَمْ يَذْكُرْ: فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ.
اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، حضرت محمد بن مسلم زہری رضی اللہ عنہ سے اس سند کے ساتھ اس طرح روایت نقل کی گئی ہے اور راوی نے کہا کہ اس میں اس ٹوکرے کا ذکر نہیں ہے۔ جس میں کھجوریں تھیں۔ یعنی زنبیل اور وہ یہ بھی ذکر نہیں کرتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2596]
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ، فَاسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً؟، قَالَ: لَا، قَالَ: وَهَلْ تَسْتَطِيعُ صِيَامَ شَهْرَيْنِ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا "،
یحییٰ بن یحییٰ، محمد بن رمح، لیث، قتیبہ، ابن شہاب، حمید بن عبدالرحمن، ابن عوف، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مسئلہ کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو ایک غلام آزاد کر سکتا ہے؟“ اس نے عرض کیا: نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو دو مہینے کے روزے رکھ سکتا ہے؟“ اس نے عرض کیا: نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2597]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ " أَنَّ رَجُلًا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكَفِّرَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ "، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
محمد بن رافع، اسحاق بن عیسیٰ، مالک، حضرت زہری رضی اللہ عنہ سے اس سند کے ساتھ روایت ہے کہ ایک آدمی نے رمضان میں روزہ افطار کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم فرمایا کہ ایک غلام آزاد کر کے کفارہ ادا کرے پھر ابن عیینہ کی حدیث کی طرح حدیث ذکر فرمائی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2598]
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ أَنْ يُعْتِقَ رَقَبَةً، أَوْ يَصُومَ شَهْرَيْنِ، أَوْ يُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا "،
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، ابن شہاب، حمید بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم فرمایا جس آدمی نے رمضان میں روزہ توڑ لیا تھا اسے چاہیے کہ وہ ایک غلام آزاد کرے یا دو مہینے کے روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2599]
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ ابن عیینہ کی حدیث کی طرح روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2600]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: احْتَرَقْتُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِمَ؟ "، قَالَ: وَطِئْتُ امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ نَهَارًا، قَالَ: " تَصَدَّقْ تَصَدَّقْ "، قَالَ مَا عِنْدِي شَيْءٌ، " فَأَمَرَهُ أَنْ يَجْلِسَ "، فَجَاءَهُ عَرَقَانِ فِيهِمَا طَعَامٌ، " فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِهِ "،
محمد بن رمح، ابن مہاجر، لیث، یحییٰ بن سعید، عبدالرحمن بن قاسم، محمد بن جعفر، ابن زبیر، عباد بن عبداللہ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا: میں تو جل گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں؟“ اس نے عرض کی کہ میں نے رمضان کے دنوں میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ کر، صدقہ کر۔“ اس آدمی نے عرض کیا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم فرمایا کہ وہ بیٹھ جائے تو آپ کی خدمت میں دو ٹوکرے آئے جس میں کھانا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو حکم فرمایا: ”اس کو صدقہ کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2601]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْر حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: " أَتَى رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَلَيْسَ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ: " تَصَدَّقْ تَصَدَّقْ "، وَلَا قَوْلُهُ: " نَهَارًا ".
محمد بن مثنیٰ، عبدالوہاب ثقفی، یحییٰ بن سعید، عبدالرحمن بن قاسم، محمد بن جعفر بن زبیر، عبداللہ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور پھر حدیث ذکر فرمائی اور اس میں صدقہ کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی دن کا ذکر ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2602]
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَهُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: أَتَى رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ احْتَرَقْتُ احْتَرَقْتُ، فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا شَأْنُهُ؟، فَقَالَ: أَصَبْتُ أَهْلِي، قَالَ: تَصَدَّقْ، فَقَالَ وَاللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَالِي شَيْءٌ وَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ، قَالَ: اجْلِسْ، فَجَلَسَ فَبَيْنَا هُوَ عَلَى ذَلِكَ، أَقْبَلَ رَجُلٌ يَسُوقُ حِمَارًا عَلَيْهِ طَعَامٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ آنِفًا؟، فَقَامَ الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَصَدَّقْ بِهَذَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغَيْرَنَا، فَوَاللَّهِ إِنَّا لَجِيَاعٌ مَا لَنَا شَيْءٌ، قَالَ: فَكُلُوهُ ".
ابوطاہر، ابن وہب، عمرو بن لیث، عبدالرحمن بن قاسم، محمد بن جعفر بن زبیر، عباد بن عبداللہ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں۔ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رمضان میں مسجد میں آیا اور اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں تو جل گیا میں تو جل گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا ہوا؟“ تو اس نے عرض کیا کہ میں نے اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ کر۔“ تو اس نے عرض کیا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تو کچھ بھی نہیں اور میں اس پر قدرت بھی نہیں رکھتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹھ جا۔“ تو وہ بیٹھ گیا اسی دوران ایک آدمی اپنا گدھا ہانکتے ہوئے لایا جس پر کھانا رکھا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جلنے والا آدمی کہاں ہے؟“ وہ آدمی کھڑا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو صدقہ کر۔“ تو اس آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہمارے علاوہ بھی (کوئی صدقہ کا مستحق ہے) اللہ کی قسم ہم بھوکے ہیں ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ہی اسے کھا لو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2603]
15: باب جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ وَأَنَّ الأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلاَ ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ:
باب: رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کا بیان، اور بہتر یہ ہے کہ جو باب: روزہ کی طاقت رکھتا ہے وہ روزہ رکھے، اور جس کے لیے مشقت ہو تو وہ نہ رکھے۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ أَخْبَرَهُ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ، ثُمَّ أَفْطَرَ "، قَالَ: وَكَانَ صَحَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّبِعُونَ الْأَحْدَثَ فَالْأَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ،
یحییٰ بن یحییٰ، محمد بن رمح، لیث، قتیبہ بن سعید، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ والے سال رمضان میں نکلے تو آپ نے روزہ رکھا جب آپ کدید کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ افطار کر لیا۔ راوی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر نئے سے نئے حکم کی پیروی کیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2604]
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، قَالَ يَحْيَى: قَالَ سُفْيَانُ: لَا أَدْرِي مِنْ قَوْلِ مَنْ هُوَ يَعْنِي، وَكَانَ يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمر، اسحاق بن ابراہیم، سفیان، حضرت زہری سے اس سند کے ساتھ اسی طرح حدیث نقل کی گئی ہے سفیان نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ کس کا قول ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری قول کو لیا جاتا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2605]
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ الزُّهْرِيُّ وَكَانَ الْفِطْرُ آخر الأمرين وإنما يؤخذ من أمر رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْآخِرِ فَالْآخِرِ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: " فَصَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ لِثَلَاثَ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ "،
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، حضرت زہری رضی اللہ عنہ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے اور زہری نے کہا کہ روزہ افطار کرنا آخری عمل تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری عمل کو ہی اپنایا جاتا ہے زہری نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کی تیرہ تاریخ کو مکہ مکرمہ پہنچے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2606]
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَكَانُوا يَتَّبِعُونَ الْأَحْدَثَ فَالْأَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ، وَيَرَوْنَهُ النَّاسِخَ الْمُحْكَمَ.
حرملہ بن یحییٰ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، لیث اس سند کے ساتھ ابن شہاب سے لیث کی حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے ابن شہاب نے فرمایا کہ وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری عمل کی پیروی کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری عمل کو ناسخ قرار دیتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2607]
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ فَشَرِبَهُ نَهَارًا لِيَرَاهُ النَّاسُ، ثُمَّ أَفْطَرَ حَتَّى دَخَلَ مَكَّةَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: فَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفْطَرَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ ".
اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، مجاہد، طاؤس، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں ایک سفر میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عسفان کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا جس میں کوئی پینے کی چیز تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دن کے وقت میں پیا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ نہیں رکھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہو گئے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کے دوران روزہ رکھا بھی اور نہیں بھی رکھا تو جو چاہے سفر میں روزہ رکھ لے اور جو چاہے روزہ نہ رکھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2608]
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " لَا تَعِبْ عَلَى مَنْ صَامَ وَلَا عَلَى مَنْ أَفْطَرَ، قَدْ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ وَأَفْطَرَ ".
ابوکریب، وکیع، سفیان، عبدالکریم، طاؤس، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم برا بھلا نہیں کہتے تھے کہ جو روزہ رکھے اور نہ ہی برا بھلا کہتے ہیں جو آدمی سفر میں روزہ نہ رکھے تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا بھی اور روزہ افطار بھی کیا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2609]
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ فَصَامَ النَّاسُ، ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ فَرَفَعَهُ حَتَّى نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ، ثُمَّ شَرِبَ فَقِيلَ لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ: إِنَّ بَعْضَ النَّاسِ قَدْ صَامَ، فَقَالَ: " أُولَئِكَ الْعُصَاةُ أُولَئِكَ الْعُصَاةُ "،
محمد بن مثنیٰ، عبدالوہاب، ابن عبدالمجید، جعفر، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ والے سال رمضان میں مکہ کی طرف نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا جب آپ کراع الغمیم پہنچے تو لوگوں نے بھی روزہ رکھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا پھر اسے بلند کیا یہاں تک کہ لوگوں نے اسے دیکھ لیا پھر آپ نے وہ پی لیا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ کچھ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لوگ نافرمان ہیں یہ لوگ نافرمان ہیں۔“ (فائدہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کے دوران میں روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کی اجازت دے رکھی تھی لیکن اس موقع پر روزے لوگوں کے لیے تکلیف اور مشقت کا باعث بن رہے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی شدید مشقت کی بنا پر اس انداز میں افطار کیا کہ سب دیکھ لیں اور افطار کر لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل کے باوجود نہ افطار کرنے والے سخت زجر و توبیخ کے مستحق تھے) [صحيح مسلم/حدیث: 2610]
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ جَعْفَرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِمُ الصِّيَامُ وَإِنَّمَا يَنْظُرُونَ فِيمَا فَعَلْتَ، " فَدَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ بَعْدَ الْعَصْرِ ".
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز، حضرت جعفر سے اس سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی گئی ہے اور اس میں یہ زائد ہے کہ آپ سے عرض کیا گیا کہ لوگوں پر روزہ دشوار ہو رہا ہے اور وہ اس بارے میں انتظار کر رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد پانی کا ایک پیالہ منگوایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2611]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَرَأَى رَجُلًا قَدِ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ، وَقَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: " مَا لَهُ؟ "، قَالُوا: رَجُلٌ صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ "،
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنیٰ، ابن بشار، محمد بن جعفر، غندر، شعبہ، محمد بن عبدالرحمن، ابن سعد، محمد بن عمرو بن حسن، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ لوگ اس کے ارد گرد جمع ہیں اور اس پر سایہ کیا گیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس آدمی کو کیا ہوا ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: یہ ایک آدمی ہے جس نے روزہ رکھا ہوا ہے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ نیکی نہیں کہ تم سفر میں روزہ رکھو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2612]
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا بِمِثْلِهِ،
عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، محمد بن عبدالرحمن، محمد بن عمرو بن حسن، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا باقی حدیث اسی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2613]
وحَدَّثَنَاه أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَزَادَ قَالَ شُعْبَةُ: وَكَانَ يَبْلُغُنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّهُ كَانَ يَزِيدُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَفِي هَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّهُ قَالَ: " عَلَيْكُمْ بِرُخْصَةِ اللَّهِ الَّذِي رَخَّصَ لَكُمْ "، قَالَ: فَلَمَّا سَأَلْتُهُ لَمْ يَحْفَظْهُ.
احمد بن عثمان نوفلی، ابوداود، شعبہ، یحییٰ بن ابی کثیر اس طرح ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت نقل کی گئی ہے جس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو رخصت عطا فرمائی ہے اس پر عمل کرنا تمہارے لیے ضروری ہے راوی نے کہا کہ جب میں نے ان سے سوال کیا تو ان کو یاد نہیں تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2614]
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: " غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسِتَّ عَشْرَةَ مَضَتْ مِنْ رَمَضَانَ، فَمِنَّا مَنْ صَامَ، وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ، فَلَمْ يَعِبْ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ "،
ہداب بن خالد، ہمام بن یحییٰ، قتادہ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سات سولہ رمضان کو ایک غزوہ میں گئے تو ہم میں سے کچھ لوگ روزے سے تھے اور کچھ بغیر روزے کے چنانچہ نہ تو روزہ رکھنے والوں نے نہ رکھنے والوں کی مذمت کی اور نہ ہی نہ رکھنے والوں نے رکھنے والوں پر کوئی نکیر کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2615]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ التَّيْمِيِّ . ح وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ كُلُّهُمْ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ هَمَّامٍ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ التَّيْمِيِّ، وَعُمَرَ بْنِ عَامِرٍ، وَهِشَامٍ " لِثَمَانَ عَشْرَةَ خَلَتْ "، وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ " فِي ثِنْتَيْ عَشْرَةَ "، وَشُعْبَةَ: " لِسَبْعَ عَشْرَةَ أَوْ تِسْعَ عَشْرَةَ ".
محمد بن ابی بکر مقدمی، یحییٰ بن سعید تیمی، محمد بن مثنیٰ، ابن مہدی، شعبہ، ابوعامر، ہشام، سالم بن نوح، عمر (ابن عامر)، ابوبکر بن ابی شیبہ اس سند کے ساتھ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے ہمام کی حدیث کی طرح روایت کیا گیا ہے سوائے اس کے کہ تیمی اور عمر بن عامر اور ہشام کی روایت میں اٹھارہ تاریخ اور سعید کی حدیث میں بارہ تاریخ اور شعبہ کی حدیث میں سترہ یا انیس تاریخ ذکر کی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2616]
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ، فَمَا يُعَابُ عَلَى الصَّائِمِ صَوْمُهُ، وَلَا عَلَى الْمُفْطِرِ إِفْطَارُهُ ".
نصر بن علی جہضمی، بشر (ابن مفضل)، ابومسلمہ، ابونضرہ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو کوئی بھی روزہ رکھنے والے کے روزہ پر تنقید نہیں کرتا تھا اور نہ ہی روزہ کے افطار کرنے والے پر کوئی تنقید کرتا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2617]
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ، فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، فَلَا يَجِدُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ "، يَرَوْنَ أَنَّ مَنْ وَجَدَ قُوَّةً فَصَامَ فَإِنَّ ذَلِكَ حَسَنٌ، وَيَرَوْنَ أَنَّ مَنْ وَجَدَ ضَعْفًا فَأَفْطَرَ، فَإِنَّ ذَلِكَ حَسَنٌ.
عمرو ناقد، اسماعیل بن ابراہیم، جریری، ابونضرہ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان میں ایک غزوہ میں تھے تو ہم میں سے کوئی روزہ دار ہوتا اور کوئی افطار ہوتا تو نہ تو روزہ دار افطار کرنے والے پر تنقید کرتا وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر کوئی طاقت رکھتا ہے تو روزہ رکھ لے تو یہ اس کے لیے اچھا ہے اور وہ یہ بھی سمجھتے اگر کوئی ضعف پاتا ہے تو وہ افطار کر لے تو یہ اس کے لیے اچھا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2618]
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، وَسَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ كُلُّهُمْ، عَنْ مَرْوَانَ ، قَالَ سَعِيدٌ: أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رضي الله عنهم، قَالَا: " سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَصُومُ الصَّائِمُ وَيُفْطِرُ الْمُفْطِرُ، فَلَا يَعِيبُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ ".
سعید بن عمر، سہل بن عثمان، سوید بن سعید، حسین بن حریث، سعید، مروان بن معاویہ، عاصم، ابونضرہ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا تو روزہ رکھنے والا روزہ رکھتا اور افطار کرنے والا روزہ افطار کر لیتا تھا اور ان میں سے کوئی کسی کو ملامت نہیں کرتا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2619]
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ صَوْمِ رَمَضَانَ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: " سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي رَمَضَانَ فَلَمْ يَعِبْ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ ".
یحییٰ بن یحییٰ، ابوخثیمہ، حضرت حمید سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سفر میں رمضان کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا ہے تو کوئی روزہ رکھنے والا روزہ چھوڑنے والے کی ملامت نہیں کرتا تھا اور نہ ہی روزہ چھوڑنے والا روزہ رکھنے والے کی ملامت کرتا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2620]
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ: خَرَجْتُ فَصُمْتُ، فَقَالُوا لِي: أَعِدْ، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّ أَنَسًا أَخْبَرَنِي: " أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يُسَافِرُونَ، فَلَا يَعِيبُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ "، فَلَقِيتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ فَأَخْبَرَنِي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، بِمِثْلِهِ.
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوخالد احمر، حضرت حمید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ فرمایا کہ میں نکلا اور میں نے روزہ رکھ لیا تو لوگوں نے مجھ سے کہا کہ تم دوبارہ روزہ رکھو میں نے کہا حضرت انس رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم سفر کرتے تھے تو کوئی بھی روزہ رکھنے والا روزہ چھوڑنے والے کی ملامت نہیں کرتا تھا اور نہ ہی روزہ چھوڑنے والا روزہ رکھنے والے کی ملامت کرتا تھا پھر میں نے ابن ابی ملیکہ سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے اس طرح کی خبر دی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2621]
16: باب أَجْرِ الْمُفْطِرِ فِي السَّفَرِ إِذَا تَوَلَّى الْعَمَلَ:
باب: سفر میں روزہ چھوڑنے والے کے اجر کا بیان جبکہ وہ خدمت والے کام میں لگا رہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ مُوَرِّقٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، قَالَ: فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ أَكْثَرُنَا ظِلًّا صَاحِبُ الْكِسَاءِ، وَمِنَّا مَنْ يَتَّقِي الشَّمْسَ بِيَدِهِ، قَالَ: فَسَقَطَ الصُّوَّامُ وَقَامَ الْمُفْطِرُونَ، فَضَرَبُوا الْأَبْنِيَةِ وَسَقَوْا الرِّكَابَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ ".
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، عاصم، مورق، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو ہم میں کچھ روزہ دار تھے اور کچھ روزہ چھوڑے ہوئے تھے راوی نے کہا کہ ہم ایک جگہ سخت گرمی کے موسم میں اترے اور ہم میں سب سے زیادہ سایہ حاصل کرنے والا وہ آدمی تھا کہ جس کے پاس چادر تھی ہم میں سے کچھ اپنے ہاتھوں سے دھوپ سے بچ رہے تھے راوی نے کہا کہ روزہ رکھنے والے تو گر گئے اور روزہ چھوڑنے والے قائم رہے انہوں نے خیمے لگائے اور اونٹوں کو پانی پلایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج کے دن روزہ چھوڑنے والے اجر حاصل کر گئے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2622]
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ مُوَرِّقٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَصَامَ بَعْضٌ وَأَفْطَرَ بَعْضٌ، فَتَحَزَّمَ الْمُفْطِرُونَ وَعَمِلُوا، وَضَعُفَ الصُّوَّامُ عَنْ بَعْضِ الْعَمَلِ، قَالَ: فَقَالَ فِي ذَلِكَ: " ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ ".
ابوکریب، حفص، عاصم، مورق، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے کچھ نے روزہ رکھا اور کچھ نے روزہ چھوڑ دیا روزہ نہ رکھنے والے تو خدمت کے کام پر لگ گئے اور روزہ رکھنے والے خدمت کے کام میں کمزور پڑ گئے راوی نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: ”روزہ افطار کرنے والے اجر پا گئے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2623]
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَزَعَةُ ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مَكْثُورٌ عَلَيْهِ، فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ، قُلْتُ: إِنِّي لَا أَسْأَلُكَ عَمَّا يَسْأَلُكَ هَؤُلَاءِ عَنْهُ، سَأَلْتُهُ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ وَنَحْنُ صِيَامٌ، قَالَ: فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُمْ قَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ، وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ "، فَكَانَتْ رُخْصَةً فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ، ثُمَّ نَزَلْنَا مَنْزِلًا آخَرَ، فَقَالَ: " إِنَّكُمْ مُصَبِّحُو عَدُوِّكُمْ وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ، فَأَفْطِرُوا "، وَكَانَتْ عَزْمَةً فَأَفْطَرْنَا، ثُمَّ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا نَصُومُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ.
محمد بن حاتم، عبدالرحمن بن مہدی، معاویہ بن صالح، حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے قزعہ نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اس حال میں کہ ان کے پاس لوگوں کا جمگھٹا لگا ہوا تھا تو لوگ ان سے علیحدہ ہو گئے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ میں آپ سے وہ نہیں پوچھوں گا جس کے بارے میں یہ پوچھ رہے ہیں (راوی کہتے ہیں) کہ میں نے سفر کے روزہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ تک سفر کیا ہے اور ہم روزہ کی حالت میں تھے انہوں نے فرمایا کہ ہم ایک جگہ اترے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دشمن کے قریب ہو گئے ہو اور اب افطار کرنا (روزہ نہ رکھنا) تمہارے لیے قوت و طاقت کا باعث ہو گا۔“ تو روزہ کی رخصت تھی پھر ہم میں سے کچھ نے روزہ رکھا اور کچھ نے روزہ نہ رکھا پھر جب ہم دوسری منزل تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم صبح کے وقت اپنے دشمن کے پاس گئے روزہ نہ رکھنے سے تمہارے اندر طاقت زیادہ ہو گی اس لیے روزہ نہ رکھو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم ضروری تھا اس لیے ہم نے روزہ نہیں رکھا۔ پھر ہم نے دیکھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں روزہ رکھتے رہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2624]
17: باب التَّخْيِيرِ فِي الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي السَّفَرِ:
باب: سفر میں روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کے اختیار کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: سَأَلَ حَمْزَةُ بْنُ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ؟، فَقَالَ: " إِنْ شِئْتَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ ".
قتیبہ بن سعید، لیث، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزے رکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تو چاہے تو روزہ رکھ لے اور اگر تو چاہے تو روزہ افطار کر لے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2625]
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصَّوْمَ، أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ؟، قَالَ: " صُمْ إِنْ شِئْتَ، وَأَفْطِرْ إِنْ شِئْتَ "،
ابوربیع، حماد، ابن زید، ہشام، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں ایک ایسا آدمی ہوں کہ مسلسل روزے رکھتا ہوں تو کیا میں سفر میں بھی روزہ رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو روزہ رکھ لے اور اگر چاہے تو افطار کر لے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2626]
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ: إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصَّوْمَ،
یحییٰ بن یحییٰ، ابومعاویہ، ہشام سے اس سند کے ساتھ اسی طرح حدیث نقل کی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2627]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ كِلَاهُمَا، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّ حَمْزَةَ، قَالَ: إِنِّي رَجُلٌ أَصُومُ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ؟.
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابن نمیر، ابوبکر، عبدالرحیم بن سلیمان، ہشام سے اس سند کے ساتھ روایت ہے کہ حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ایک روزے دار آدمی ہوں تو کیا میں سفر میں بھی روزہ رکھوں؟ [صحيح مسلم/حدیث: 2628]
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، قَالَ هَارُونُ حَدَّثَنَا، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَجِدُ بِي قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّهِ، فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ، فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ "، قَالَ هَارُونُ فِي حَدِيثِهِ: " هِيَ رُخْصَةٌ "، وَلَمْ يَذْكُرْ مِنَ اللَّهِ.
ابوطاہر، ہارون بن سعید، ہارون، ابوطاہر، ابن وہب، عمرو بن حارث، ابواسود، عروہ بن زبیر، ابومرواح، حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں سفر میں روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں تو کیا مجھ پر کوئی گناہ تو نہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ کی طرف سے ایک رخصت ہے تو جس نے اس رخصت پر عمل کیا تو اس نے اچھا کیا اور جس نے روزہ رکھنا پسند کیا تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔“ ہارون نے اپنی حدیث میں رخصۃ کا لفظ کہا ہے اور من اللہ کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2629]
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ، حَتَّى إِنْ كَانَ أَحَدُنَا لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ، وَمَا فِينَا صَائِمٌ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ ".
داود بن رشید، ولید بن مسلم، سعید بن عبدالعزیز، اسماعیل، عبیداللہ، ام درداء، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے مہینے میں گرمی کے موسم میں ایک سفر میں نکلے یہاں تک کہ گرمی کی وجہ سے ہم میں سے کچھ لوگ اپنے ہاتھوں کو اپنے سر پر رکھ لیتے تھے اور ہم میں سے کوئی بھی روزہ دار نہیں تھا سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2630]
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَيَّانَ الدِّمَشْقِيِّ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، قَالَتْ: قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : " لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ، وَمَا مِنَّا أَحَدٌ صَائِمٌ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ ".
عبداللہ بن مسلمہ، ہشام بن سعید، عثمان بن حیان، دمشقی، حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سخت گرمیوں کے دنوں میں بعض سفروں میں دیکھا کہ لوگ سخت گرمی کی وجہ سے اپنے ہاتھوں کو اپنے سروں پر رکھ لیتے ہیں اور ہم میں سے سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے کوئی بھی روزہ دار نہیں تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2631]
18: باب اسْتِحْبَابِ الْفِطْرِ لِلْحَاجِّ بِعَرَفَاتٍ يَوْمَ عَرَفَةَ:
باب: حاجی کے لئے عرفات کے میدان میں عرفہ کے دن روزہ نہ رکھنے کے استحباب کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ : " أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ صَائِمٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بِصَائِمٍ، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ بِعَرَفَةَ، فَشَرِبَهُ "،
یحییٰ بن یحییٰ، مالک، ابونضر، عمیر، مولی ابن عباس، حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے ان کے پاس عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے بارے میں بات چیت کی ان میں سے کچھ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں تھے اور کچھ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں نہیں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دودھ کا ایک پیالہ اس وقت بھیجا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر عرفہ کے دن سوار تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دودھ پی لیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2632]
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ " وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ "، وَقَالَ: عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ،
اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر، سفیان، ابونصر سے اس سند کے ساتھ روایت ہے لیکن اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اونٹ پر سوار ہونے کا ذکر نہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2633]
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَقَالَ: عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ.
زہیر بن حرب، عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، سالم بن ابی النضر سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2634]
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عُمَيْرًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ الْفَضْلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: " شَكَّ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صِيَامِ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَنَحْنُ بِهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِقَعْبٍ فِيهِ لَبَنٌ وَهُوَ بِعَرَفَةَ، فَشَرِبَهُ ".
ہارون بن سعید، ابن وہب، عمرو، ابونضر، مولی ابن عباس، حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کچھ لوگوں نے عرفہ کے دن روزہ کے بارے میں شک کیا حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک پیالہ بھیجا جس میں دودھ تھا عرفہ کے دن تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دودھ پی لیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2635]
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " إِنَّ النَّاسَ شَكُّوا فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ مَيْمُونَةُ بِحِلَابِ اللَّبَنِ وَهُوَ وَاقِفٌ فِي الْمَوْقِفِ، فَشَرِبَ مِنْهُ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ ".
ہارون بن سعید، ابن وہب، عمرو، بکیر، بن اشج، کریب، مولی ابن عباس، حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ لوگ عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے بارے میں شک میں پڑ گئے چنانچہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دودھ کا ایک لوٹا بھیجا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات کے میدان میں کھڑے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دودھ پیا جبکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2636]
19: باب صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ:
باب: عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصُومُ عَاشُورَاءَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ، فَلَمَّا هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، فَلَمَّا فُرِضَ شَهْرُ رَمَضَانَ، قَالَ: " مَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ "،
زہیر بن حرب، جریر، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ قریش جاہلیت کے زمانہ میں عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جب مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس کا روزہ رکھنے کا حکم فرمایا تو جب رمضان کے روزے فرض کر دیے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چاہے یوم عاشورہ کا روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2637]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ، وَقَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ: وَتَرَكَ عَاشُورَاءَ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ، وَلَمْ يَجْعَلْهُ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَرِوَايَةِ جَرِيرٍ.
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابن نمیر، ہشام سے اس سند کے ساتھ روایت ہے اور حدیث کے شروع میں ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور حدیث کے آخر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا کہ جو چاہے اس کا روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2638]
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: " أَنَّ يَوْمَ عَاشُورَاءَ كَانَ يُصَامُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ، مَنْ شَاءَ صَامَهُ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ ".
عمرو ناقد، سفیان، زہری، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عاشورہ کے دن جاہلیت کے زمانہ میں روزہ رکھا جاتا تھا تو جب اسلام آیا کہ جو چاہے اس کا روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2639]
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِصِيَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ رَمَضَانُ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ، كَانَ مَنْ شَاءَ صَامَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ ".
حرملہ بن یحییٰ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے عاشورہ کے روزہ کا حکم فرمایا کرتے تھے تو جب رمضان کے روزے فرض ہو گئے تو جو چاہے عاشورہ کے دن روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2640]
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ جميعا، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ عِرَاكًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ قُرَيْشًا كَانَتْ تَصُومُ عَاشُورَاءَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصِيَامِهِ، حَتَّى فُرِضَ رَمَضَانُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْهُ ".
قتیبہ بن سعید، محمد بن رمح، لیث بن سعید، یزید بن ابی حبیب، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جاہلیت کے زمانے میں قریشی لوگ عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے تو جب رمضان کے روزے فرض ہو گئے تو (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا) ”جو چاہے عاشورہ کے دن روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2641]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَأَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَهُ وَالْمُسْلِمُونَ قَبْلَ أَنْ يُفْتَرَضَ رَمَضَانُ، فَلَمَّا افْتُرِضَ رَمَضَانُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ عَاشُورَاءَ يَوْمٌ مِنْ أَيَّامِ اللَّهِ، فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ "،
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، ابن نمیر، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانے کے لوگ عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے بھی رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے اس کا روزہ رکھا جب رمضان کے روزے فرض ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عاشورہ اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے تو جو چاہے عاشورہ کا روزہ رکھے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2642]
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِمِثْلِهِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ.
محمد بن مثنیٰ، زہیر بن حرب، یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، عبیداللہ سے اس سند کے ساتھ بھی یہ حدیث روایت کی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2643]
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَوْمًا يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ، وَمَنْ كَرِهَ فَلْيَدَعْهُ ".
قتیبہ بن سعید، لیث، ابن رمح، لیث، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عاشورہ کے دن کا ذکر کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاہلیت والے لوگ اس دن روزہ رکھتے تھے تو تم میں جو کوئی پسند کرتا ہے کہ وہ روزہ رکھے تو رکھ لے اور جو کوئی ناپسند کرتا ہے تو وہ چھوڑ دے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2644]
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ: " إِنَّ هَذَا يَوْمٌ كَانَ يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَتْرُكَهُ فَلْيَتْرُكْهُ "، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا يَصُومُهُ إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ صِيَامَهُ،
ابوکریب، ابواسامہ، ولید، ابن کثیر، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عاشورہ کے دن کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا کہ ”یہ وہ دن ہے جس دن جاہلیت کے لوگ روزہ رکھتے تھے تو جو کوئی پسند کرتا ہے کہ اس دن روزہ رکھے تو وہ روزہ رکھ لے اور جو کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ چھوڑ دے تو وہ چھوڑ دے۔“ اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما روزہ نہیں رکھتے تھے سوائے اس کے کہ ان روزوں سے موافقت ہو جائے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2645]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْمُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ سَوَاءً.
محمد بن احمد بن ابی خلف، روح، ابومالک، عبیداللہ بن اخنس، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عاشورہ کے دن کے روزہ کا ذکر کیا گیا پھر آگے اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2646]
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْعَسْقَلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: " ذَاكَ يَوْمٌ كَانَ يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ ".
احمد بن عثمان نوفلی، ابوعاصم، عمر بن محمد بن زید عسقلانی، سالم بن عبداللہ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عاشورہ کے دن کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے کہ جس دن جاہلیت کے لوگ روزہ رکھتے تھے تو جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے روزہ چھوڑ دے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2647]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: دَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَتَغَدَّى، فَقَالَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ادْنُ إِلَى الْغَدَاءِ، فَقَالَ: أَوَلَيْسَ الْيَوْمُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ؟، قَالَ: وَهَلْ تَدْرِي مَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ؟، قَالَ: وَمَا هُوَ؟، قَالَ: " إِنَّمَا هُوَ يَوْمٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ شَهْرُ رَمَضَانَ، فَلَمَّا نَزَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ تُرِكَ "، وقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: " تَرَكَهُ "،
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، ابوبکر، ابومعاویہ، اعمش، عمارہ، حضرت عبدالرحمن بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے اس حال میں کہ وہ صبح کا ناشتہ کر رہے تھے انہوں نے فرمایا: ”اے ابومحمد! آؤ ناشتہ کر لو۔“ تو انہوں نے کہا کہ کیا آج عاشورہ کا دن نہیں ہے؟ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تو جانتا ہے کہ عاشورہ کا دن کیا ہے؟“ اشعث نے کہا: وہ کیا ہے؟ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے کہ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے کے روزے فرض ہونے سے پہلے روزہ رکھا کرتے تھے تو جب رمضان کے مہینے کے روزے فرض ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن کا روزہ چھوڑ دیا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2648]
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَا: " فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ تَرَكَهُ ".
زہیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اعمش سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث اس طرح نقل کی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2649]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي زُبَيْدٌ الْيَامِيُّ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَكَنٍ ، أَنَّ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ دَخَلَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَهُوَ يَأْكُلُ، فَقَالَ: " يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ادْنُ فَكُلْ "، قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: " كُنَّا نَصُومُهُ ثُمَّ تُرِكَ ".
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، یحییٰ بن سعید، سفیان، محمد بن حاتم، زبید یامی، عمارہ بن عمیر، حضرت قیس بن سکن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ عاشورہ کے دن حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اس حال میں آئے کہ آپ کھا رہے تھے تو انہوں نے فرمایا: ”اے ابومحمد! قریب ہو جاؤ اور کھاؤ۔“ انہوں نے کہا: میں روزے سے ہوں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم بھی اس دن روزہ رکھتے تھے لیکن چھوڑ دیا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2650]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: دَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ يَأْكُلُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: " قَدْ كَانَ يُصَامُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ تُرِكَ، فَإِنْ كُنْتَ مُفْطِرًا فَاطْعَمْ ".
محمد بن حاتم، اسحاق بن منصور، اسرائیل، منصور، ابراہیم، علقمہ، اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس عاشورہ کے دن اس حال میں آئے کہ وہ کھانا کھا رہے تھے تو انہوں نے فرمایا: ”اے ابوعبدالرحمن! آج تو عاشورہ ہے؟“ تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے روزہ رکھا جاتا تھا تو جب رمضان کے روزے فرض ہو گئے یہ روزہ چھوڑ دیا گیا کہ اگر تیرا روزہ نہیں تو تو بھی کھا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2651]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِصِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، وَيَحُثُّنَا عَلَيْهِ، وَيَتَعَاهَدُنَا عِنْدَهُ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ، لَمْ يَأْمُرْنَا، وَلَمْ يَنْهَنَا، وَلَمْ يَتَعَاهَدْنَا عِنْدَهُ ".
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبیداللہ بن موسیٰ، شیبان، اشعث بن ابی شعشاء، جعفر بن ابی ثور، حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا حکم فرماتے تھے اور ہمیں اس پر آمادہ کرتے تھے اور اس کا اہتمام کرتے تھے تو جب رمضان کے روزے فرض کر دیے گئے تو پھر آپ نہ ہمیں اس کا حکم فرماتے اور نہ اس سے منع فرماتے اور نہ ہی اس کا اہتمام فرماتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2652]
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ خَطِيبًا بِالْمَدِينَةِ يَعْنِي فِي قَدْمَةٍ قَدِمَهَا خَطَبَهُمْ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِهَذَا الْيَوْمِ: " هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ، وَلَمْ يَكْتُبْ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، وَأَنَا صَائِمٌ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُفْطِرَ فَلْيُفْطِرْ "،
حرملہ بن یحییٰ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت حمید بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ انہوں نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا مدینہ میں خطبہ سنا یعنی جب وہ مدینہ آئے تو انہوں نے عاشورہ کے دن خطبہ دیا اور فرمایا: ”اے مدینہ والو! کہاں ہیں تمہارے علماء؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن کے لیے فرماتے ہوئے سنا کہ یہ عاشورہ کا دن ہے اور اللہ تعالیٰ نے تم پر اس دن کا روزہ فرض نہیں کیا اور میں روزے سے ہوں تو جو تم میں سے پسند کرتا ہو کہ وہ روزہ رکھے تو اسے چاہیے کہ وہ روزہ رکھ لے اور جو تم میں سے پسند کرتا ہو کہ وہ افطار کر لے تو اسے چاہیے کہ وہ افطار کر لے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2653]
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ،
ابوطاہر عبداللہ، عبداللہ بن وہب، مالک بن انس، ابن شہاب سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت کیا گیا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2654]
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مِثْلِ هَذَا الْيَوْمِ: " إِنِّي صَائِمٌ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ "، وَلَمْ يَذْكُرْ بَاقِي حَدِيثِ مَالِكٍ وَيُونُسَ.
ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، زہری سے اس سند کے ساتھ روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دن کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا کہ ”میں روزے سے ہوں کہ جو چاہتا ہے کہ روزہ رکھ لے وہ رکھ لے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2655]
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَوَجَدَ الْيَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَسُئِلُوا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالُوا: هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي أَظْهَرَ اللَّهُ فِيهِ مُوسَى وَبَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى فِرْعَوْنَ، فَنَحْنُ نَصُومُهُ تَعْظِيمًا لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَحْنُ أَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ، فَأَمَرَ بِصَوْمِهِ "،
یحییٰ بن یحییٰ، ہشیم، ابوبشر، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہوئے پایا تو لوگوں نے ان سے اس روزے کے بارے میں پوچھا تو وہ کہنے لگے کہ یہ وہ دن ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اور بنی اسرائیل کو فرعون پر غلبہ عطا فرمایا تھا تو ہم اس دن کی عظمت کی وجہ سے روزہ رکھتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم تم سے زیادہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قریب ہیں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روزے کا حکم فرمایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2656]
وحَدَّثَنَاه ابْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ جَمِيعًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: فَسَأَلَهُمْ عَنْ ذَلِكَ.
ابن بشار، ابوبکر بن نافع، محمد بن جعفر، شعبہ، ابوبشر سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے اور اس میں ہے کہ آپ نے ان سے اس کی وجہ پوچھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2657]
وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَوَجَدَ الْيَهُودَ صِيَامًا يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَهُ؟ "، فَقَالُوا: هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ، أَنْجَى اللَّهُ فِيهِ مُوسَى وَقَوْمَهُ، وَغَرَّقَ فِرْعَوْنَ وَقَوْمَهُ فَصَامَهُ مُوسَى شُكْرًا، فَنَحْنُ نَصُومُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَنَحْنُ أَحَقُّ وَأَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ، فَصَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ "،
ابن ابی عمر، سفیان، ایوب، عبداللہ بن سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہوئے پایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اس دن کی کیا وجہ ہے؟“ تو وہ کہنے لگے کہ یہ وہ عظیم دن ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات عطا فرمائی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق فرمایا چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے شکرانے کا روزہ رکھا اس لیے ہم بھی روزہ رکھتے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم زیادہ حق دار ہیں اور تم سے زیادہ موسیٰ علیہ السلام کے قریب ہیں۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2658]
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ، عَنِ ابْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، لَمْ يُسَمِّهِ.
اسحاق بن ابراہیم، عبدالرزاق، معمر، ایوب سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں عبداللہ بن سعید بن جبیر کا نام ذکر نہیں کیا گیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2659]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ، وَتَتَّخِذُهُ عِيدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صُومُوهُ أَنْتُمْ "
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابواسامہ، ابوعمیس، قیس بن سالم، طارق بن شہاب، حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ یہودی لوگ عاشورہ کے دن کی تعظیم کرتے تھے اور اسے عید سمجھتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم بھی اس دن کو روزہ رکھو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2660]
وحَدَّثَنَاه أَحْمَدُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ ، أَخْبَرَنِي قَيْسٌ ، فَذَكَرَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ. (حديث موقوف) وَزَادَ: قَالَ وَزَادَ: قَالَ أَبُو أُسَامَةَ ، فَحَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ أَهْلُ خَيْبَرَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، يَتَّخِذُونَهُ عِيدًا، وَيُلْبِسُونَ نِسَاءَهُمْ فِيهِ حُلِيَّهُمْ وَشَارَتَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَصُومُوهُ أَنْتُمْ ".
احمد بن منذر، حماد بن اسامہ، ابوعمیس، قیس، صدقہ بن ابی عمران، قیس بن سالم، طارق بن شہاب، حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ خیبر کے یہودی عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے اور اسے عید سمجھتے تھے اور اپنی عورتوں کو زیور پہناتے اور بناؤ سنگھار کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بھی اس دن کو روزہ رکھو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2661]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَسُئِلَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؟، فَقَالَ " مَا عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ يَوْمًا، يَطْلُبُ فَضْلَهُ عَلَى الْأَيَّامِ إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ، وَلَا شَهْرًا إِلَّا هَذَا الشَّهْرَ "، يَعْنِي: رَمَضَانَ،
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، سفیان، ابن عیینہ، عبیداللہ بن ابی یزید، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عاشورہ کے دن کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عاشورہ کے دن کے علاوہ کسی اور دن کی وجہ سے روزہ رکھا ہو اور نہ کسی مہینے میں سوائے اس مہینے یعنی رمضان کے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2662]
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، بِمِثْلِهِ.
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، عبیداللہ بن ابی یزید سے اس سند کے ساتھ اسی طرح کی یہ حدیث نقل کی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2663]
20: باب أَيُّ يَوْمٍ يُصَامُ فِي عَاشُورَاءَ:
باب: عاشورہ کا روزہ کس دن رکھا جائے۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ فِي زَمْزَمَ، فَقُلْتُ لَهُ أَخْبِرْنِي عَنْ صَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: " إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ، وَأَصْبِحْ يَوْمَ التَّاسِعِ صَائِمًا، قُلْتُ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ، قَالَ: نَعَمْ،
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع بن جراح، حاجب بن عمر، حکم بن اعرج سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اس حال میں کہ وہ زم زم کے قریب اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے عاشورہ کے روزے کے بارے میں خبر دیجیے انہوں نے فرمایا: ”جب تو محرم کا چاند دیکھے تو گنتا رہ اور نویں تاریخ کے دن کی صبح روزے کی حالت میں کر۔“ میں نے عرض کیا کہ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے انہوں نے فرمایا: ”ہاں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2664]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمْرٍو ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ عِنْدَ زَمْزَمَ، عَنْ صَوْمِ عَاشُورَاءَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ.
محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، معاویہ بن عمرو، حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس حال میں پوچھا کہ وہ زم زم کے پاس اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے عاشورہ کے روزے کے بارے میں پوچھا اس کے بعد اسی طرح حدیث مبارکہ ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2665]
وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ أُمَيَّةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا غَطَفَانَ بْنَ طَرِيفٍ الْمُرِّيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: حِينَ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ يَوْمٌ تُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، صُمْنَا الْيَوْمَ التَّاسِعَ "، قَالَ: فَلَمْ يَأْتِ الْعَامُ الْمُقْبِلُ، حَتَّى تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حسن بن علی حلوانی، ابن ابی مریم، یحییٰ بن ایوب، اسماعیل بن امیہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور اس کے روزے کا حکم فرمایا تو انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اس دن تو یہودی اور نصاریٰ تعظیم کرتے ہیں۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آئندہ سال آئے گا تو ہم نویں تاریخ کا بھی روزہ رکھیں گے۔“ راوی نے کہا کہ ابھی آئندہ سال نہیں آیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2666]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ ، لَعَلَّهُ قَالَ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ، لَأَصُومَنَّ التَّاسِعَ "، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: يَعْنِي يَوْمَ عَاشُورَاءَ.
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، وکیع، ابن ابی ذئب، قاسم بن عبداللہ، عبداللہ بن عمیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں آنے والے سال تک زندہ رہا تو میں نویں تاریخ کا بھی ضرور روزہ رکھوں گا۔“ اور ابوبکر کی روایت میں ہے کہ آپ نے عاشورہ کے دن کا روزہ بھی فرمایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2667]
21: باب مَنْ أَكَلَ فِي عَاشُورَاءَ فَلْيَكُفَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ:
باب: جس نے عاشورہ کے دن (صبح) کھانا کھا لیا ہو تو اسے چاہیے کہ باقی ماندہ دن کھانے سے رکا رہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيل ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ مَنْ كَانَ لَمْ يَصُمْ فَلْيَصُمْ، وَمَنْ كَانَ أَكَلَ فَلْيُتِمَّ صِيَامَهُ إِلَى اللَّيْلِ ".
قتیبہ بن سعید، حاتم یعنی ابن اسماعیل، یزید بن ابی عبید، حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اسلم کے ایک آدمی کو عاشورہ کے دن بھیجا اور اسے حکم فرمایا کہ وہ لوگوں میں اعلان کر دے کہ ”جس آدمی نے روزہ نہ رکھا ہو وہ روزہ رکھ لے اور جس نے کھا لیا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے روزے کو رات تک پورا کر لے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2668]
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ بْنِ لَاحِقٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ ، قَالَتْ: " أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ عَاشُورَاءَ، إِلَى قُرَى الْأَنْصَارِ الَّتِي حَوْلَ الْمَدِينَةِ، مَنْ كَانَ أَصْبَحَ صَائِمًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، وَمَنْ كَانَ أَصْبَحَ مُفْطِرًا فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ، فَكُنَّا بَعْدَ ذَلِكَ نَصُومُهُ، وَنُصَوِّمُ صِبْيَانَنَا الصِّغَارَ مِنْهُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَنَذْهَبُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَنَجْعَلُ لَهُمُ اللُّعْبَةَ مِنَ الْعِهْنِ، فَإِذَا بَكَى أَحَدُهُمْ عَلَى الطَّعَامِ، أَعْطَيْنَاهَا إِيَّاهُ عِنْدَ الْإِفْطَارِ "،
ابوبکر بن نافع، بشر بن مفضل بن لاحق، خالد بن ذکوان، حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کی صبح کو انصار کی اس بستی کی طرف جو مدینہ منورہ کے ارد گرد تھی یہ پیغام بھجوا دیا کہ ”جس آدمی نے صبح روزہ رکھا تو وہ اپنے روزے کو پورا کر لے اور جس نے صبح کو افطار کر لیا ہو تو اسے چاہیے کہ باقی دن روزہ پورا کر لے۔“ اس کے بعد ہم روزہ رکھتے تھے اور ہم اپنے چھوٹے بچوں کو بھی روزہ رکھواتے تھے اور ہم انہیں مسجد کی طرف لے جاتے اور ہم ان کے لیے روئی کی گڑیاں بناتے اور جب ان بچوں میں سے کوئی کھانے کی وجہ سے روتا تو ہم انہیں وہ گڑیا دے دیتے تاکہ وہ افطاری تک ان کے ساتھ کھیلتے رہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2669]
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ الْعَطَّارُ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ ، قَالَ: سَأَلْتُ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ مُعَوِّذٍ عَنْ صَوْمِ عَاشُورَاءَ، قَالَتْ: " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُسُلَهُ فِي قُرَى الْأَنْصَارِ "، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ بِشْرٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " وَنَصْنَعُ لَهُمُ اللُّعْبَةَ مِنَ الْعِهْنِ، فَنَذْهَبُ بِهِ مَعَنَا، فَإِذَا سَأَلُونَا الطَّعَامَ، أَعْطَيْنَاهُمُ اللُّعْبَةَ تُلْهِيهِمْ، حَتَّى يُتِمُّوا صَوْمَهُمْ ".
یحییٰ بن یحییٰ، ابومعشر، عطار، خالد بن ذکوان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے عاشورہ کے روزے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی بستی میں اپنا نمائندہ بھیجا پھر آگے بشر کی حدیث کی طرح روایت ذکر کی سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ ہم ان بچوں کے لیے روئی کی گڑیاں بناتے تاکہ وہ ان سے کھیلیں اور وہ ہمارے ساتھ مسجد میں جاتے تو جب وہ ہم سے کھانا مانگتے تو ہم انہیں وہ گڑیاں دے دیتے اور وہ ان سے کھیل میں لگ کر روزہ بھول جاتے یہاں تک کہ ان کا روزہ پورا ہو جاتا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2670]
22: باب النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الأَضْحَى:
باب: عید الفطر اور عیدالاضحیٰ کو روزہ رکھنے کی ممانعت۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ، أَنَّهُ قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَجَاءَ فَصَلَّى، ثُمَّ انْصَرَفَ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: " إِنَّ هَذَيْنِ يَوْمَانِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِهِمَا: يَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ، وَالْآخَرُ يَوْمٌ تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُكِكُمْ ".
یحییٰ بن یحییٰ، مالک، ابن شہاب، حضرت ابوعبید مولی بن ازہر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں عید کے دن حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا تو آپ آئے اور نماز پڑھی پھر نماز سے فارغ ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: ”یہ وہ دن ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ایک وہ دن ہے کہ جس دن تم افطار کرتے ہو اور دوسرا وہ دن ہے کہ جس میں تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2671]
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ: يَوْمِ الْأَضْحَى، وَيَوْمِ الْفِطْرِ ".
یحییٰ بن یحییٰ، مالک، محمد بن یحییٰ بن حبان، اعرج، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں کے روزوں سے منع فرمایا: ”ایک قربانی کے دن اور دوسرا فطر کے دن۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2672]
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهُوَ ابْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ مِنْهُ حَدِيثًا فَأَعْجَبَنِي، فَقُلْتُ لَهُ: آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَقُولُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ أَسْمَعْ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " لَا يَصْلُحُ الصِّيَامُ فِي يَوْمَيْنِ: يَوْمِ الْأَضْحَى، وَيَوْمِ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ ".
قتیبہ بن سعید، جریر، عبدالملک، ابن عمیر، قزعہ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک حدیث سنی جو مجھے بڑی عجیب لگی قزعہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے؟ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ بات کہہ سکتا ہوں جس کو میں نے آپ سے نہ سنا ہو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ”دو دنوں میں روزہ رکھنا درست نہیں ایک قربانی کے دن دوسرے رمضان عید الفطر کے دن۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2673]
وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ: يَوْمِ الْفِطْرِ، وَيَوْمِ النَّحْرِ ".
ابوکامل جحدری، عبدالعزیز بن مختار، عمرو بن یحییٰ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں کے روزے رکھنے سے منع فرمایا: ”ایک عید الفطر کے دن دوسرے عید الاضحیٰ یعنی قربانی کے دن۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2674]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَصُومَ يَوْمًا، فَوَافَقَ يَوْمَ أَضْحَى أَوْ فِطْرٍ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: " أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى بِوَفَاءِ النَّذْرِ، وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ هَذَا الْيَوْمِ "..
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ابن عون، حضرت زیاد بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا کہ ایک آدمی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف آیا اور عرض کیا کہ میں نے منت مانی تھی کہ میں ایک دن کا روزہ رکھوں گا تو وہ دن قربانی کی عید کے دن یا عید الفطر کے دن سے موافقت کر رہا ہے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے منت کو پورا کرنے کا حکم دیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کے روزے سے منع فرمایا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2675]
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمَيْنِ: يَوْمِ الْفِطْرِ، وَيَوْمِ الْأَضْحَى ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو روزوں، فطر کے دن اور قربانی کے دن (کے روزوں) سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2676]
23: باب تَحْرِيمِ صَوْمِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ:
باب: ایام تشریق میں روزہ رکھنے کی حرمت، اور یہ کہ وہ کھانے، پینے، اور اللہ عزوجل کے ذکر کے دن ہیں۔
وحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ نُبَيْشَةَ الْهُذَلِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ "،
سریج بن یونس، ہشیم، خالد، ابو ملیح، حضرت نبیشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تشریق کے دن کھانے اور پینے کے دن ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2677]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ نُبَيْشَةَ ، قَالَ خَالِدٌ: فَلَقِيتُ أَبَا الْمَلِيحِ فَسَأَلْتُهُ فَحَدَّثَنِي بِهِ فَذَكَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هُشَيْمٍ، وَزَادَ فِيهِ: " وَذِكْرٍ لِلَّهِ ".
محمد بن عبداللہ بن نمیر، اسماعیل بن علیہ، خالد، ابو ملیح، نبیشہ، اس سند کے ساتھ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی حدیث کی طرح حدیث منقول ہے اور اس میں صرف ”ذکر اللہ“ کے الفاظ زائد ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2678]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَهُ وَأَوْسَ بْنَ الْحَدَثَانِ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ، فَنَادَى أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَأَيَّامُ مِنًى أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ "،
ابو بکر بن ابی شیبہ، محمد بن سابق، ابراہیم بن طہمان، ابو زبیر، حضرت کعب رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اوس بن حدثان کو تشریق کے دنوں میں یہ اعلان کرانے کے لیے بھیجا کہ: ”جنت میں مومن کے سوا کوئی داخل نہیں ہوگا۔“ اور منیٰ میں دن کھانے اور پینے کے دن ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2679]
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " فَنَادَيَا ".
عبد بن حمید، ابو عامر، عبدالملک بن عمرو، ابراہیم بن طہمان، اس سند کے ساتھ بھی اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں جا کر اعلان کر دو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2680]
24: باب كَرَاهِيَةِ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مُنْفَرِدًا:
باب: خاص جمعہ کے دن روزہ رکھنا مکروہ ہے (ہاں اگر جمعہ کا دن عادت کے مطابق روزوں میں آ جائے تو پھر مکروہ نہیں ہے)۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟، فَقَالَ: " نَعَمْ وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ "،
عمرو ناقد، سفیان بن عیینہ، عبدالحمید بن جبیر، حضرت محمد بن عباد بن جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا، اس حال میں کہ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”ہاں! قسم ہے اس گھر کے رب کی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2681]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، بِمِثْلِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، عبدالحمید بن جبیر بن شیبہ، محمد بن عباد بن جعفر، جابر بن عبداللہ، اس سند میں بھی حضرت محمد بن عباد بن جعفر خبر دیتے ہیں کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس حدیث کی طرح نقل فرمایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2682]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ . ح حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَصُمْ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِلَّا أَنْ يَصُومَ قَبْلَهُ، أَوْ يَصُومَ بَعْدَهُ ".
ابو بکر بن ابی شیبہ، حفص، ابو معاویہ، اعمش، یحییٰ بن یحییٰ، ابو معاویہ، اعمش، ابو صالح، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کوئی آدمی جمعہ کے دن روزہ رکھے سوائے اس کے کہ وہ اس سے پہلے یا اس کے بعد روزہ رکھے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2683]
وحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي الْجُعْفِيَّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَخْتَصُّوا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِقِيَامٍ مِنْ بَيْنِ اللَّيَالِي، وَلَا تَخُصُّوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِيَامٍ مِنْ بَيْنِ الْأَيَّامِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي صَوْمٍ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ ".
ابو کریب، حسین یعنی جعفی، زائدہ، ہشام، ابن سیرین، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”راتوں میں سے جمعہ کی رات کو قیام کے ساتھ مخصوص نہ کرو اور نہ ہی دنوں میں سے جمعہ کے دن کو روزے کے ساتھ مخصوص کرو سوائے اس کے کہ تم میں سے جو کوئی روزے رکھ رہا ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2684]
25: باب بَيَانِ نَسْخِ قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ} بِقَوْلِهِ: {فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ}:
باب: آیت «وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ» کے منسوخ ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى سَلَمَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ سورة البقرة آية 184 كَانَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُفْطِرَ وَيَفْتَدِيَ، حَتَّى نَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي بَعْدَهَا فَنَسَخَتْهَا ".
قتیبہ بن سعید، بکر یعنی ابن مضر، عمرو بن حارث، بکیر، یزید مولیٰ سلمہ، حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہوں وہ روزہ کے بدلہ میں ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں، جس آدمی کا روزہ چھوڑنے کا ارادہ ہوتا تو وہ فدیہ دے دیتا، یہاں تک کہ اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی جس نے اس حکم کو منسوخ کر دیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2685]
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: " كُنَّا فِي رَمَضَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ فَافْتَدَى بِطَعَامِ مِسْكِينٍ، حَتَّى أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ سورة البقرة آية 185 ".
عمرو بن سواد عامری، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، بکیر بن اشجع، یزید مولیٰ سلمہ بن اکوع، حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رمضان کے مہینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ مبارک میں ہم سے جو چاہتا روزہ رکھ لیتا اور جو چاہتا روزہ چھوڑ دیتا اور ایک مسکین کو کھانا کھلا کر ایک روزے کا فدیہ دے دیتا، یہاں تک کہ یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ تو جو تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو تو اسے چاہیے کہ وہ روزہ رکھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2686]
26: باب جَوَازِ تَأْخِيرِ قَضَّاءِ رَمَضَانَ مَالَمْ يَجِيْ رَمَضَانَ آخَرُ ، لِمَنْ أَفْطَرَ بِعُذْرِ مَرَضٍ وَّسَفَرٍ وَّحَيْضٍ وَّ نَحْوِ ذَلِكَ
باب: قضاء رمضان کی تاخیر کا جواز جب تک کہ دوسرا رمضان نہ آ جائے، یہ اس کے لیے ہے جس نے کسی عذر کی بناء پر روزہ چھوڑا ہو، جیسے: بیماری، سفر، حیض وغیرہ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: " كَانَ يَكُونُ عَلَيَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ، فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَهُ إِلَّا فِي شَعْبَانَ الشُّغْلُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "،
احمد بن عبداللہ بن یونس، زہیر، یحییٰ بن سعید، حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ رمضان کے روزے مجھ سے قضا ہو جاتے تھے، تو میں ان روزوں کی قضا شعبان کے سوا نہیں کر سکتی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مشغولیت کی وجہ سے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2687]
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " وَذَلِكَ لِمَكَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "،
اسحاق بن ابراہیم، بشر بن عمر زہرانی، سلیمان بن بلال، یحییٰ بن سعید، اس سند کے ساتھ اس طرح بیان کرتے ہیں سوائے اس کہ اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے مشغول رہتی تھیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2688]
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: فَظَنَنْتُ أَنَّ ذَلِكَ لِمَكَانِهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَحْيَى يَقُولُهُ،
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، یحییٰ بن سعید، اس سند کے ساتھ اس طرح بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ یہ تاخیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مشغولیت کی وجہ سے ہوتی تھی۔ یہ بات یحییٰ کہتے ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2689]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا، عَنْ يَحْيَى : بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرَا فِي الْحَدِيثِ " الشُّغْلُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
محمد بن مثنیٰ، عبدالوہاب، عمرو ناقد، سفیان، یحییٰ سے اس سند کے ساتھ روایت ہے اور اس حدیث میں یہ ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے قضا میں تاخیر ہوتی تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2690]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: إِنْ كَانَتْ إِحْدَانَا لَتُفْطِرُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا تَقْدِرُ عَلَى أَنْ تَقْضِيَهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَأْتِيَ شَعْبَانُ ".
محمد بن ابی عمر مکی، عبدالعزیز بن محمد دراوردی، یزید بن عبداللہ بن ہاد، محمد بن ابراہیم، ابی سلمہ بن عبدالرحمان، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ اگر ہم میں سے کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کوئی روزہ چھوڑتی تھی تو وہ قدرت نہ رکھتی کہ ان کی قضا کر لے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے، یہاں تک کہ شعبان آ جاتا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2691]
27: باب قَضَاءِ الصِّيَامِ عَنِ الْمَيِّتِ:
باب: میت کی طرف سے روزوں کی قضا کا بیان۔
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ، صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ ".
ہارون بن سعید، احمد بن عیسیٰ، ابن وہب، عمر بن حارث، عبیداللہ بن ابی جعفر، محمد بن جعفر بن زبیر، عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی انتقال کر جائے اور اس پر کچھ روزے لازم ہوں تو اس کا وارث اس کی طرف سے روزے رکھے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2692]
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ، فَقَالَ: " أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتِ تَقْضِينَهُ؟ "، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: " فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ بِالْقَضَاءِ ".
اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، اعمش، مسلم، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی کہ میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اور اس پر ایک مہینے کے روزے لازم ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا کیا خیال ہے کہ اگر اس پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تو اسے ادا کرتی؟“ اس نے عرض کیا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا قرض زیادہ حق ہے کہ اسے ادا کیا جائے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2693]
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا؟، فَقَالَ: " لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ عَنْهَا؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى "، قَالَ سُلَيْمَانُ : فَقَالَ الْحَكَمُ ، وَسَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ جَمِيعًا: وَنَحْنُ جُلُوسٌ حِينَ حَدَّثَ مُسْلِمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَا: سَمِعْنَا مُجَاهِدًا يَذْكُرُ هَذَا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
احمد بن عمر وکیعی، حسین بن علی، زائدہ، سلیمان، مسلم، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اور اس پر ایک مہینے کے روزوں کی قضا لازم ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تیری ماں پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تو وہ قرض اس کی طرف سے ادا کرتی؟“ عرض کیا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا قرض زیادہ اس کا حق دار ہے کہ اسے ادا کیا جائے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2694]
وحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، وَالْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَمُجَاهِدٍ ، وَعَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِهَذَا الْحَدِيثِ.
ابوسعید اشج، ابوخالد، اعمش، سلمہ بن کہیل، حکم بن عتیبہ، مسلم بن جبیر، مجاہد، عطاء، ابن عباس رضی اللہ عنہما اس سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کی طرح روایت کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2695]
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، وعبد بن حميد جميعا، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ عَدِيٍّ، قَالَ عَبد: حَدَّثَنِي زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ نَذْرٍ، أَفَأَصُومُ عَنْهَا؟، قَالَ: " أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ فَقَضَيْتِيهِ، أَكَانَ يُؤَدِّي ذَلِكِ عَنْهَا؟ "، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: " فَصُومِي عَنْ أُمِّكِ ".
اسحاق بن منصور، ابن ابی خلف، عبدبن حمید، زکریا بن عدی، عبیداللہ بن عمرو، زید بن ابی انیسہ، حکم بن عتیبہ، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرمایا کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور عرض کرنے لگی: ”اے اللہ کے رسول! میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے، اس پر منت کا روزہ لازم تھا، تو کیا میں اس کی طرف سے روزہ رکھوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا کیا خیال ہے؟ کہ اگر تیری ماں پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تو اس کی طرف سے ادا کرتی؟“ اس نے عرض کیا: ہاں! آپ نے فرمایا: ”اللہ کا قرض اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اسے ادا کیا جائے۔“ آپ نے فرمایا: ”تو اپنی ماں کی طرف سے روزہ رکھ۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2696]
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ أَبُو الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِجَارِيَةٍ، وَإِنَّهَا مَاتَتْ، قَالَ: فَقَالَ: " وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَدَّهَا عَلَيْكِ الْمِيرَاثُ "، قَالَتْ " يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ كَانَ عَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ، أَفَأَصُومُ عَنْهَا؟، قَالَ: " صُومِي عَنْهَا "، قَالَتْ: إِنَّهَا لَمْ تَحُجَّ قَطُّ، أَفَأَحُجُّ عَنْهَا؟، قَالَ: " حُجِّي عَنْهَا "،
علی بن مسہر، ابوالحسن نے عبداللہ بن عطاء سے، انہوں نے عبداللہ بن بریدہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: ایک بار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر ایک عورت نے کہا: میں نے اپنی والدہ کو ایک لونڈی بطور صدقہ دی تھی اور وہ (والدہ) فوت ہو گئی ہیں۔ کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اجر پکا ہو گیا۔ اور وراثت نے وہ (لونڈی) تمہیں لوٹا دی۔“ اس نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! ان کے ذمے ایک ماہ کے روزے تھے، کیا میں ان کی طرف سے روزے رکھوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کی طرف سے روزے رکھو۔“ اس نے پوچھا: انہوں نے کبھی حج نہیں کیا تھا، کیا میں ان کی طرف سے حج کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کی طرف سے حج کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2697]
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: صَوْمُ شَهْرَيْنِ،
عبداللہ بن نمیر نے عبداللہ بن عطاء سے، انہوں نے عبداللہ بن بریدہ سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ (آگے) ابن مسہر کی حدیث کے مانند (حدیث بیان کی) مگر انہوں نے کہا: ”دو ماہ کے روزے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2698]
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ، وَقَالَ: صَوْمُ شَهْرٍ،
عبدالرزاق نے کہا: ہمیں (سفیان) ثوری نے عبداللہ بن عطاء سے خبر دی، انہوں نے ابن بریدہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔۔۔ اس کے بعد اسی (سابقہ حدیث) کے مانند حدیث بیان کی اور انہوں نے کہا: ”ایک ماہ کے روزے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2699]
وحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ سُفْيَانَ : بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: صَوْمُ شَهْرَيْنِ،
عبیداللہ بن موسیٰ نے سفیان (ثوری) سے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کی مانند) حدیث بیان کی اور انہوں نے کہا: ”دو ماہ کے روزے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2700]
وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ، وَقَالَ: صَوْمُ شَهْرٍ.
عبدالملک بن ابی سلیمان نے عبداللہ بن عطاء سے، انہوں نے سلیمان بن بریرہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی۔۔۔ (آگے) ان کی حدیث کے مانند (بیان کیا) اور انہوں نے بھی کہا: ”ایک ماہ کے روزے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2701]
28: باب نُدْبِ الصَّائِمِ إذَا دُعِيَ إِلَي الطَّعَامِ وَلَمْ يُرِدِ الْإِفْطَارَ ، أَوْ شُوتِمَ أَوْ قُوتِلَ أَنْ يَقُولَ : إِنِّي صَائِمٌ وَّأَنَّهُ يُنزِّهُ صَوْمَهُ عَنِ الرَّفَثِ وَالْجَهْلِ وَنَحْوِهِ
باب: اس بات کے استحباب کا بیان کہ جب کوئی روزہ دار کو کھانے کی طرف بلائے یا اسے گالی دی جائے یا اس سے جھگڑا کیا جائے تو وہ یہ کہے کہ میں روزہ دار ہوں، اور یہ اس کے روزے کو لغو، اور جہل وغیرہ سے محفوظ رکھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وقَالَ زُهَيْرٌ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ، فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو کھانے کی طرف بلایا جائے اور وہ روزہ دار ہو تو وہ کہہ دے: میں روزے سے ہوں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2702]
29: باب حِفْظِ اللِّسَانِ لِلصَّائِمِ:
باب: روزہ دار کے لئے زبان کی حفاظت کا بیان۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رِوَايَةً، قَالَ: " إِذَا أَصْبَحَ أَحَدُكُمْ يَوْمًا صَائِمًا، فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ، فَإِنِ امْرُؤٌ شَاتَمَهُ أَوْ قَاتَلَهُ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ إِنِّي صَائِمٌ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے) روایت کی، کہا: ”جب تم میں سے کوئی کسی دن روزے سے ہو تو وہ فحش گوئی نہ کرے، نہ جہالت والا کوئی کام کرے، اگر کوئی شخص اس سے گالی گلوچ یا لڑائی جھگڑا (کرنا) چاہے تو وہ کہے: میں روزہ دار ہوں، میں روزہ دار ہوں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2703]
30: باب فَضْلِ الصِّيَامِ:
باب: روزے کی فضیلت۔
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ، إِلَّا الصِّيَامَ هُوَ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلْفَةُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ".
ابن شہاب سے روایت ہے، کہا: سعید بن مسیب نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: ”اللہ عزوجل نے فرمایا: ابن آدم کے تمام اعمال اس کے لیے ہیں سوائے روزے کے، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2704]
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ وَهُوَ الْحِزَامِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصِّيَامُ جُنَّةٌ ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ ایک ڈھال ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2705]
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ، فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَرْفُثْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَسْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ "، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا: إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ بِفِطْرِهِ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ.
عطاء نے ابوصالح الزیات سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے فرمایا: ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ اور روزہ ڈھال ہے، لہٰذا جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو وہ اس دن فحش گفتگو نہ کرے اور نہ شور و غل کرے۔ اگر کوئی اسے برا بھلا کہے یا اس سے جھگڑا کرے تو وہ کہہ دے: میں روزہ دار ہوں، میں روزہ دار ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! قیامت کے دن روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہو گی۔ اور روزہ دار کے لیے دو خوشی کے موقع ہیں، وہ ان دونوں پر خوش ہوتا ہے: جب وہ (روزہ) افطار کرتا ہے تو اپنے افطار سے خوش ہوتا ہے اور جب اپنے رب کو ملے گا تو اپنے روزے (کی وجہ) سے خوش ہو گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2706]
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعمِائَة ضِعْفٍ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ، وَلَخُلُوفُ فِيهِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ".
اعمش نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن آدم کا ہر عمل بڑھایا جاتا ہے۔ نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک (بڑھا دی جاتی ہے)۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: سوائے روزے کے (کیونکہ) وہ (خالصتاً) میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ وہ میری خاطر اپنی خواہش اور اپنا کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشی ہیں: ایک خوشی اس کے (روزہ) افطار کرنے کے وقت کی اور (دوسری) خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت کی۔ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2707]
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: " إِنَّ الصَّوْمَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، إِنَّ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَيْنِ: إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ، وَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ فَرِحَ "، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ،
محمد بن فضیل نے ابوسنان سے، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، ان دونوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: بلاشبہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ بلاشبہ روزہ دار کے لیے دو خوشی ہیں: جب وہ (روزہ) افطار کرتا ہے خوش ہوتا ہے۔ اور جب وہ اللہ سے ملاقات کرے گا، خوش ہو گا۔ اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! اللہ کے ہاں، روزہ دار کے منہ کی بو کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2708]
وَحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاق بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ الْهُذَلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ وَهُوَ أَبُو سِنَانٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: وَقَالَ: " إِذَا لَقِيَ اللَّهَ فَجَزَاهُ فَرِحَ ".
عبدالعزیز بن مسلم نے کہا: ہمیں ضرار بن مرہ (ابوسنان) نے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کے مانند) حدیث سنائی، کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ اللہ سے ملے گا اور اللہ اس کو اجر و ثواب عطا کرے گا تو وہ خوش ہو گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2709]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ وَهُوَ الْقَطَوَانِيُّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا، يُقَالُ لَهُ: الرَّيَّانُ، يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَا يَدْخُلُ مَعَهُمْ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ، يُقَالُ: أَيْنَ الصَّائِمُونَ؟ فَيَدْخُلُونَ مِنْهُ، فَإِذَا دَخَلَ آخِرُهُمْ أُغْلِقَ، فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ ".
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایک (ایسا) دروازہ ہے جسے ’الریان‘ کہا جاتا ہے، قیامت کے دن اس میں سے روزہ دار داخل ہوں گے، ان کے ساتھ ان کے سوا کوئی اور داخل نہیں ہو گا۔ جب ان میں سے آخری (فرد) داخل ہو جائے گا، تو وہ (دروازہ) بند کر دیا جائے گا، اس کے بعد کوئی اس سے داخل نہیں ہو سکے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2710]
31: باب فَضْلِ الصِّيَامِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لِمَنْ يُطِيقُهُ بِلاَ ضَرَرٍ وَلاَ تَفْوِيتِ حَقٍّ:
باب: جو اللہ کے راستے میں بغیر کسی تکلیف کے روزہ رکھ سکتا ہو اس کے روزے کی فضیلت۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَصُومُ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِكَ الْيَوْمِ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا "،
ابن ہاد نے سہیل بن ابی صالح سے، انہوں نے نعمان بن ابی عیاش سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص نہیں جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے مگر اللہ تعالیٰ اس دن (کے روزے) کے بدلے اس کے چہرے کو (جہنم کی) آگ سے ستر سال کی مسافت تک دور کر دیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2711]
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ : بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
عبدالعزیز یعنی دراوردی نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ، (سابقہ حدیث کے مانند) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2712]
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، وَسُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا ".
ابن جریج نے یحییٰ بن سعید اور سہیل بن ابی صالح سے خبر دی کہ ان دونوں نے نعمان بن عیاش زرقی سے سنا، وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھا، اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو (جہنم کی) آگ سے ستر سال کی مسافت تک دور کر دیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2713]
32: باب جَوَازِ صَوْمِ النَّافِلَةِ بِنِيَّةٍ مِنَ النَّهَارِ قَبْلَ الزَّوَالِ وَجَوَازِ فِطْرِ الصَّائِمِ نَفْلاً مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ:
باب: زوال سے قبل نفلی روزے کی نیت کا جواز اور بلاعذر اس کے توڑ دینے کا بیان، اور بہتر یہ ہے کہ اس کو پورا کیا جائے۔
وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ: " يَا عَائِشَةُ، هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟ "، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ، قَالَ: " فَإِنِّي صَائِمٌ "، قَالَتْ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ، أَوْ جَاءَنَا زَوْرٌ، قَالَتْ: فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ أَوْ جَاءَنَا زَوْرٌ، وَقَدْ خَبَأْتُ لَكَ شَيْئًا، قَالَ: " مَا هُوَ؟ "، قُلْتُ: حَيْسٌ، قَالَ: " هَاتِيهِ "، فَجِئْتُ بِهِ، " فَأَكَلَ "، ثُمَّ قَالَ: " قَدْ كُنْتُ أَصْبَحْتُ صَائِمًا "، قَالَ طَلْحَةُ فَحَدَّثْتُ مُجَاهِدًا بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: ذَاكَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ يُخْرِجُ الصَّدَقَةَ مِنْ مَالِهِ فَإِنْ شَاءَ أَمْضَاهَا، وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا.
عبدالواحد بن زیاد نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں طلحہ بن یحییٰ نے حدیث سنائی، (انہوں نے کہا:) مجھے عائشہ بنت طلحہ نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث سنائی، کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے عائشہ! کیا تمہارے پاس (کھانے کی) کوئی چیز ہے؟“ کہا: تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس کوئی چیز نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو (پھر) میں روزے سے ہوں۔“ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے تو ہمارے پاس ہدیہ بھیجا گیا یا ہمارے پاس ملاقاتی (جو ہدیہ لائے) آ گئے۔ کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے، میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہمیں ہدیہ دیا گیا ہے یا ہمارے پاس مہمان آئے، اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کچھ محفوظ کر کے رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کی: وہ حیس (کھجور، گھی اور پنیر سے بنا ہوا کھانا) ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لائیے۔“ تو میں اسے لے آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھا لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے روزے کی حالت میں صبح کی تھی۔“ طلحہ نے کہا: میں نے یہ حدیث مجاہد کو سنائی تو انہوں نے کہا: یہ اس آدمی کی طرح ہے جو اپنے مال سے صدقہ نکالتا ہے، اگر وہ چاہے تو دے دے اور اگر وہ چاہے تو اس کو روک لے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2714]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ: " هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ "، فَقُلْنَا: لَا، قَالَ: " فَإِنِّي إِذَنْ صَائِمٌ "، ثُمَّ أَتَانَا يَوْمًا آخَرَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ، فَقَالَ: " أَرِينِيهِ فَلَقَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا، فَأَكَلَ ".
وکیع نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور پوچھا: ”کیا آپ لوگوں کے پاس (کھانے کی) کوئی چیز ہے؟“ تو ہم نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تب میں روزے سے ہوں۔“ پھر ایک اور دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہمیں حیس تحفے میں ملا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دکھائیے، میں نے روزے کی حالت میں صبح کی تھی۔“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھا لیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2715]
33: باب أَكْلُ النَّاسِي وَشُرْبُهُ وَجِمَاعُهُ لاَ يُفْطِرُ:
باب: بھول کر کھانے پینے اور جماع سے روزہ نہ ٹوٹنے کا بیان۔
وحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هِشَامٍ الْقُرْدُوسِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ فَأَكَلَ أَوْ شَرِبَ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص روزے کی حالت میں بھول کر کھا لیا یا پی لیا تو وہ اپنا روزہ پورا کرے کیونکہ اس کو اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2716]
34: باب صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ وَاسْتِحْبَابِ أَنْ لاَ يُخْلِيَ شَهْرًا عَنْ صَوْمٍ.
باب: رمضان کے علاوہ دوسرے مہینوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں اور ان کے استحباب کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ؟ قَالَتْ: " وَاللَّهِ إِنْ صَامَ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ، حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ، وَلَا أَفْطَرَهُ حَتَّى يُصِيبَ مِنْهُ ".
سعید جریری نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے سوا کسی متعین مہینے کے روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! رمضان کے سوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی متعین مہینے کے (پورے) روزے نہیں رکھے یہاں تک کہ آپ آگے تشریف لے گئے اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مہینے کے روزے ترک کیے، جب تک کہ اس میں سے (کچھ دنوں کے) روزے رکھ (نہ) لیتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2717]
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا كُلَّهُ؟، قَالَتْ: " مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ إِلَّا رَمَضَانَ، وَلَا أَفْطَرَهُ كُلَّهُ، حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ، حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
کہمس نے عبداللہ بن شقیق سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی پورے مہینے کے روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نہیں جانتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے سوا کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے مہینے کے روزے چھوڑے، تا آنکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے (کچھ دنوں کے) روزے رکھ (نہ) لیتے، یہاں تک کہ آپ اپنی (دائمی منزل کی) راہ پر تشریف لے گئے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2718]
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ ، وَهِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ حَمَّادٌ: وَأَظُنُّ أَيُّوبَ قَدْ سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ صَامَ قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ أَفْطَرَ قَدْ أَفْطَرَ، قَالَتْ: وَمَا رَأَيْتُهُ صَامَ شَهْرًا كَامِلًا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَمَضَانَ "،
حماد نے ایوب اور ہشام سے، انہوں نے محمد سے، انہوں نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی۔ حماد نے کہا: میرا خیال ہے، ایوب نے اس حدیث کا عبداللہ بن شقیق سے سماع کیا۔ کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تھے حتیٰ کہ ہم کہتے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے پر روزے رکھتے جا رہے ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم افطار کرتے (روزے رکھنا ترک کر دیتے) حتیٰ کہ ہم کہتے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل افطار کر رہے ہیں۔ کہا: جب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے ہیں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی پورے مہینے کے روزے رکھے ہوں، اس کے سوا کہ وہ رمضان کا مہینہ ہو۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2719]
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْإِسْنَادِ هِشَامًا، وَلَا مُحَمَّدًا.
قتیبہ نے ہمیں حدیث سنائی، (کہا:) ہمیں حماد نے ایوب سے حدیث سنائی، انہوں نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا۔۔۔ اسی (سابقہ حدیث) کے مانند، انہوں نے سند میں ہشام اور محمد کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2720]
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يَصُومُ، وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ، إِلَّا رَمَضَانَ، وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ مِنْهُ صِيَامًا، فِي شَعْبَانَ ".
عمر بن عبیداللہ کے آزاد کردہ غلام ابونضر نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان (بن عوف) سے اور انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے حتیٰ کہ ہم کہتے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک نہیں کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے چھوڑ دیتے حتیٰ کہ ہم کہتے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے نہیں رکھیں گے۔ اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے سوا کبھی کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں، اور میں نے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی (اور) مہینے میں اس سے زیادہ روزے رکھے ہوں جتنے شعبان میں رکھتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2721]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ أَفْطَرَ، وَلَمْ أَرَهُ صَائِمًا مِنْ شَهْرٍ قَطُّ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا ".
ابن ابی لبید نے ابوسلمہ سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل روزے رکھتے حتیٰ کہ ہم کہتے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک نہیں کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے چھوڑ دیتے حتیٰ کہ ہم کہتے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے نہیں رکھیں گے۔ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی اور مہینے میں شعبان کے روزوں کی نسبت زیادہ روزے رکھتے نہیں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم (گویا) پورے شعبان کے روزے رکھتے تھے، محض چند دن چھوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورا شعبان روزے رکھتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2722]
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشَّهْرِ مِنَ السَّنَةِ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ، وَكَانَ يَقُولُ: خُذُوا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَمَلَّ حَتَّى تَمَلُّوا، وَكَانَ يَقُولُ: أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى اللَّهِ، مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ، وَإِنْ قَلَّ ".
یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سال کے کسی مہینے میں، شعبان سے بڑھ کر، روزے نہیں رکھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”اتنے ہی اعمال اپناؤ جتنوں کی تم طاقت رکھتے ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہرگز نہیں اکتائے گا حتیٰ کہ تم خود ہی (عمل کرنے سے) اکتا جاؤ گے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”اللہ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جس پر عمل کرنے والا ہمیشہ قائم رہے چاہے وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2723]
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " مَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ، وَكَانَ يَصُومُ إِذَا صَامَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ: لَا وَاللَّهِ لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ إِذَا أَفْطَرَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ: لَا وَاللَّهِ لَا يَصُومُ "،
ابوعوانہ نے ابوبشر سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے سوا کبھی پورا مہینہ روزے نہیں رکھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تو اتنے روزے رکھتے کہ کہنے والا کہتا: نہیں، اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک نہیں کریں گے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے چھوڑتے تو (مسلسل) چھوڑتے حتیٰ کہ کہنے والا کہتا: نہیں، اللہ کی قسم! آپ روزے نہیں رکھیں گے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2724]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ غُنْدَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: " شَهْرًا مُتَتَابِعًا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ ".
شعبہ نے اسی سند کے ساتھ ابوبشر سے (سابقہ حدیث کے مانند) روایت کی اور (”پورا مہینہ“ کے بجائے) ”جب سے مدینہ آئے متواتر کوئی مہینہ“ کہا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2725]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ صَوْمِ رَجَبٍ، وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ فِي رَجَبٍ، فَقَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ، حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ "،
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں عثمان بن حکیم نے حدیث سنائی، کہا: میں نے سعید بن جبیر سے رجب میں روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا، اور ہم ان دنوں رجب میں ہی تھے، تو انہوں نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے حتیٰ کہ ہم کہتے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک نہیں کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک کرتے حتیٰ کہ ہم کہتے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے نہیں رکھیں گے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2726]
وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كِلَاهُمَا، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ.
علی بن مسہر اور عیسیٰ بن یونس دونوں نے اسی سند کے ساتھ عثمان بن حکیم سے اسی (سابقہ حدیث) کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2727]
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَصُومُ حَتَّى يُقَالَ قَدْ صَامَ قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى يُقَالَ قَدْ أَفْطَرَ قَدْ أَفْطَرَ ".
زہیر بن حرب اور ابوبکر بن نافع نے۔ الفاظ انہی کے ہیں۔ دو الگ الگ سندوں کے ساتھ حماد سے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے حتیٰ کہ کہا جاتا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے شروع کر دیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے شروع کر دیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک کرتے حتیٰ کہ کہا جاتا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے رکھنے چھوڑ دیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے رکھنے چھوڑ دیے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2728]
35: باب النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ:
باب: صوم دھر یہاں تک کہ عیدین اور ایام تشریق میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کا بیان۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وَهْبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ يَقُولُ: لَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ وَلَأَصُومَنَّ النَّهَارَ مَا عِشْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " آنْتَ الَّذِي تَقُولُ ذَلِكَ؟ "، فَقُلْتُ لَهُ: قَدْ قُلْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَنَمْ وَقُمْ وَصُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَذَلِكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ "، قَالَ قُلْتُ: فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ "، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا وَذَلِكَ صِيَامُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ أَعْدَلُ الصِّيَامِ "، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍ وَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: لَأَنْ أَكُونَ قَبِلْتُ الثَّلَاثَةَ الْأَيَّامَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَهْلِي وَمَالِي ".
ابن شہاب نے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی کہ وہ (عبداللہ) کہتا ہے: میں جب تک زندہ ہوں (مسلسل) رات کا قیام کروں گا اور دن کا روزہ رکھوں گا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ہی ہو جو یہ باتیں کرتے ہو؟“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اللہ کے رسول! واقعی میں نے ہی یہ کہا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ کام نہیں کر سکو گے، لہذا روزہ رکھو اور روزہ ترک بھی کرو۔ نیند بھی کرو اور قیام بھی کرو، مہینے میں تین دن کے روزے رکھ لیا کرو کیونکہ ہر نیکی (کا اجر) دس گنا ہے۔ اس طرح یہ سارے وقت کے روزوں کی طرح ہے۔“ میں نے عرض کی: میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دن روزہ رکھو اور دو دن نہ رکھو۔“ کہا: میں نے عرض کی: میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن نہ رکھو۔“ یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے۔ اور یہ روزوں کا سب سے منصفانہ (طریقہ) ہے۔ کہا: میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے افضل کوئی صورت نہیں۔“ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ بات مجھے اپنے اہل و عیال سے بھی زیادہ عزیز ہے کہ میں (مہینے میں) تین دنوں کی بات تسلیم کر لیتا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2729]
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ابْنُ الرُّومِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَتَّى نَأْتِيَ أَبَا سَلَمَةَ ، فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهِ رَسُولًا فَخَرَجَ عَلَيْنَا، وَإِذَا عِنْدَ بَابِ دَارِهِ مَسْجِدٌ، قَالَ: فَكُنَّا فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: إِنْ تَشَاءُوا أَنْ تَدْخُلُوا وَإِنْ تَشَاءُوا أَنْ تَقْعُدُوا هَا هُنَا، قَالَ: فَقُلْنَا: لَا بَلْ نَقْعُدُ هَا هُنَا، فَحَدِّثْنَا، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كُنْتُ أَصُومُ الدَّهْرَ وَأَقْرَأُ الْقُرْآنَ كُلَّ لَيْلَةٍ، قَالَ: فَإِمَّا ذُكِرْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيَّ فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ لِي: " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ الدَّهْرَ وَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ كُلَّ لَيْلَةٍ "، فَقُلْتُ: بَلَى يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَلَمْ أُرِدْ بِذَلِكَ إِلَّا الْخَيْرَ، قَالَ: " فَإِنَّ بِحَسْبِكَ أَنْ تَصُومَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ "، قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " فَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا "، قَالَ: " فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ كَانَ أَعْبَدَ النَّاسِ "، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَمَا صَوْمُ دَاوُدَ؟، قَالَ: " كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا "، قَالَ: " وَاقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ "، قَالَ: قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ؟، قَالَ: " فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ عِشْرِينَ "، قَالَ " قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ؟، قَالَ: " فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ عَشْرٍ "، قَالَ: قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ؟، قَالَ " فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ سَبْعٍ وَلَا تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ فَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا "، قَالَ: فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَيَّ، قَالَ: وَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكَ لَا تَدْرِي لَعَلَّكَ يَطُولُ بِكَ عُمْرٌ "، قَالَ فَصِرْتُ إِلَى الَّذِي، قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلَمَّا كَبِرْتُ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ قَبِلْتُ رُخْصَةَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
عکرمہ بن عمار نے کہا: ہمیں یحییٰ نے حدیث سنائی، کہا: میں اور عبداللہ بن یزید حضرت ابوسلمہ کے پاس حاضری کے لیے (اپنے گھروں سے) روانہ ہوئے۔ ہم نے ایک پیغام لے جانے والا آدمی ان کے پاس بھیجا تو وہ بھی ہمارے لیے باہر نکل آئے۔ وہاں ان کے گھر کے دروازے کے پاس ایک مسجد تھی، کہا: ہم مسجد میں رہے یہاں تک کہ وہ بھی ہمارے پاس آ گئے۔ انہوں نے کہا: اگر تم چاہو تو (گھر میں) داخل ہو جاؤ۔ اور اگر چاہو تو یہیں (مسجد میں) بیٹھ جاؤ۔ کہا: ہم نے کہا: نہیں، ہم یہیں بیٹھیں گے، آپ ہمیں احادیث سنائیں۔ انہوں نے کہا: مجھے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے حدیث سنائی، کہا: میں مسلسل روزے رکھتا تھا اور ہر رات (قیام میں پورے) قرآن کی قراءت کرتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میرا ذکر کیا گیا (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے) یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیغام بھیجا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا مجھے نہیں بتایا گیا کہ تم ہمیشہ (ہر روز) روزہ رکھتے ہو اور ہر رات (پورا) قرآن پڑھتے ہو؟“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی کریم! کیوں نہیں (یہ بات درست ہے) اور ایسا کرنے میں میرے پیش نظر بھلائی کے سوا کچھ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ تم ہر مہینے میں تین دن روزے رکھو۔“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں اس سے افضل عمل کرنے کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر تمہاری بیوی کا حق ہے، تم پر تمہارے مہمانوں کا حق ہے، اور تم پر تمہارے جسم کا حق ہے۔“ (آخر میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نبی داود علیہ السلام کے روزوں کی طرح روزے رکھو، وہ سب لوگوں سے بڑھ کر عبادت گزار تھے۔“ کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! داود علیہ السلام کا روزہ کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔“ فرمایا: ”قرآن کی قراءت ایک ماہ میں (مکمل) کرو۔“ کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ہر بیس دن میں پڑھ لیا کرو۔“ کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ہر دس دن میں پڑھ لیا کرو۔“ کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ہر سات دن میں پڑھ لیا کرو۔ اس سے زیادہ نہ کرو، تم پر تمہاری بیوی کا حق ہے، تم پر تمہارے مہمانوں کا حق ہے، اور تم پر تمہارے جسم کا حق ہے۔“ کہا: میں نے (اپنے اوپر) سختی کی تو مجھ پر سختی کی گئی۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم نہیں جانتے شاید تمہاری عمر طویل ہو۔“ کہا: میں اسی کی طرف آ گیا جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا، جب میں بوڑھا ہو گیا تو میں نے پسند کیا (اور تمنا کی) کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رخصت قبول کر لی ہوتی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2730]
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ : بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ فِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ " مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنَّ لَكَ بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا فَذَلِكَ الدَّهْرُ كُلُّهُ "، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ، قُلْتُ: وَمَا صَوْمُ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ؟، قَالَ: " نِصْفُ الدَّهْرِ "، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ شَيْئًا وَلَمْ يَقُلْ: " وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا "، وَلَكِنْ قَالَ: " وَإِنَّ لِوَلَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ".
حسین المعلم نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کے مانند) حدیث سنائی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: ”ہر مہینے میں تین دن“ کے بعد یہ الفاظ زائد بیان کیے: ”تمہارے لیے ہر نیکی کے بدلے میں اس جیسی دس (نیکیاں) ہیں، تو یہ سارے سال کے (روزے) ہیں۔“ اور (اس) حدیث میں کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے نبی داود علیہ السلام کا روزہ کیا تھا؟ فرمایا: ”آدھا سال۔“ اور انہوں نے حدیث میں قرآن پڑھنے کے حوالے سے کچھ بیان نہیں کیا اور انہوں نے ”تمہارے مہمانوں کا تم پر حق ہے“ کے الفاظ بیان نہیں کیے، اس کی بجائے انہوں نے کہا: (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”اور تمہاری اولاد کا تم پر حق ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2731]
حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: وَأَحْسَبُنِي قَدْ سَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ "، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: " فَاقْرَأْهُ فِي عِشْرِينَ لَيْلَةً "، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ " فَاقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ وَلَا تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ ".
شیبان نے یحییٰ سے، انہوں نے بنو زہرہ کے مولیٰ محمد بن عبدالرحمان سے، انہوں نے ابوسلمہ سے روایت کی۔ (یحییٰ نے کہا:) میرا اپنے بارے میں خیال ہے کہ میں نے خود بھی یہ حدیث ابوسلمہ سے سنی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”قرآن مجید کی تلاوت مہینے میں (مکمل) کیا کرو۔“ میں نے عرض کی: میں (اس سے زیادہ کی) قوت پاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیس راتوں میں پڑھ لیا کرو۔“ میں نے عرض کی: میں (اس سے زیادہ کی) قوت پاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات دنوں میں پڑھ لیا کرو۔“ اور اس سے زیادہ (قراءت) مت کرنا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2732]
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ قِرَاءَةً، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنِ ابْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا تَكُنْ بِمِثْلِ فُلَانٍ كَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ ".
اوزاعی نے کہا: مجھے یحییٰ بن ابی کثیر نے (عمر) بن حکم بن ثوبان سے حدیث سنائی، کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے حدیث سنائی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبداللہ! فلاں شخص کی طرح نہ ہو جانا، وہ رات کو قیام کرتا تھا، پھر اس نے رات کا قیام ترک کر دیا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2733]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يَزْعُمُ، أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَصُومُ أَسْرُدُ وَأُصَلِّي اللَّيْلَ فَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيَّ وَإِمَّا لَقِيتُهُ، فَقَالَ: " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ وَلَا تُفْطِرُ، وَتُصَلِّي اللَّيْلَ فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ لِعَيْنِكَ حَظًّا، وَلِنَفْسِكَ حَظًّا، وَلِأَهْلِكَ حَظًّا، فَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَصَلِّ وَنَمْ، وَصُمْ مِنْ كُلِّ عَشْرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا، وَلَكَ أَجْرُ تِسْعَةٍ "، قَالَ: إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ: " فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام "، قَالَ: وَكَيْفَ كَانَ دَاوُدُ يَصُومُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟، قَالَ: " كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى "، قَالَ: مَنْ لِي بِهَذِهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟، قَالَ: " عَطَاءٌ "، فَلَا أَدْرِي كَيْفَ ذَكَرَ صِيَامَ الْأَبَدِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ، لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ، لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ "،
عبدالرزاق نے کہا: ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا: میں نے عطاء سے سنا، وہ کہتے تھے کہ ابوعباس نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ میں روزے رکھتا ہوں، لگاتار رکھتا ہوں اور رات بھر قیام کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیغام بھیجا یا میری آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا مجھے نہیں بتایا گیا کہ تم روزے رکھتے ہو اور (کوئی روزہ) نہیں چھوڑتے اور رات بھر نماز پڑھتے ہو؟ تم ایسا نہ کرو کیونکہ (تمہارے وقت میں سے) تمہاری آنکھ کا بھی حصہ ہے۔ (کہ وہ نیند کے دوران میں آرام کرے) اور تمہاری جان کا بھی حصہ ہے۔ اور تمہارے گھر والوں کا بھی حصہ ہے۔ لہذا تم روزے رکھو بھی اور ترک بھی کرو، نماز پڑھو، آرام بھی کرو، اور ہر دس دن میں سے ایک دن کا روزہ رکھو اور تمہیں (باقی) نو دنوں کا (بھی) اجر ملے گا۔“ کہا: اے اللہ کے نبی! میں خود کو اس سے زیادہ طاقت رکھنے والا پاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر داود علیہ السلام کے روزے رکھو۔“ کہا: اے اللہ کے نبی! داود علیہ السلام کے روزے کس طرح تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے، ایک دن افطار کرتے تھے اور جب (دشمن سے) آمنا سامنا ہوتا تو بھاگتے نہیں تھے۔“ کہا: اے اللہ کے نبی کریم! مجھے اس کی ضمانت کون دے گا (کہ میری زندگی کا ہر دن روزے سے شمار ہو گا؟) عطاء نے کہا: میں نہیں جانتا کہ انہوں نے ہمیشہ روزہ رکھنے کا ذکر کس طرح کیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے روزہ نہیں رکھا جس نے (وقفے کے بغیر) ہمیشہ روزہ رکھا، اس نے روزہ نہیں رکھا جس نے ہمیشہ روزہ رکھا۔ اس نے روزہ نہیں رکھا جس نے ہمیشہ روزہ رکھا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2734]
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ : بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: إِنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ أَخْبَرَهُ، قَالَ مُسْلِم: أَبُو الْعَبَّاسِ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ثِقَةٌ عَدْلٌ.
محمد بن بکر نے ہم سے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں ابن جریج نے اسی سند سے (سابقہ حدیث کے مانند) حدیث سنائی اور کہا کہ ابوعباس الشاعر نے ان کو خبر دی۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا: ابوعباس سائب بن فروخ اہل مکہ سے ہیں، ثقہ اور عدول ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2735]
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، سَمِعَ أَبَا الْعَبَّاسِ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، إِنَّكَ لَتَصُومُ الدَّهْرَ، وَتَقُومُ اللَّيْلَ، وَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ لَهُ الْعَيْنُ، وَنَهَكَتْ لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ، صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ صَوْمُ الشَّهْرِ كُلِّهِ "، قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى "،
شعبہ نے ہمیں حبیب سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوعباس (سائب بن فروخ) سے سنا، انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے سنا، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے عبداللہ بن عمرو! تم ہمیشہ (بلاوقفہ روزانہ) روزے رکھتے ہو اور رات بھر قیام کرتے ہو اور جب تم ایسا ہی کرو گے تو (ایسا کرنے والے کی) آنکھیں اندر دھنس جائیں گی اور (جاگ جاگ کر) کمزور ہو جائیں گی، (اور جہاں تک اجر کا تعلق ہے تو) جس نے ہمیشہ روزہ رکھا، اس نے روزہ نہ رکھا، مہینے میں سے تین دن کے روزے پورے مہینے کے روزے (متصور) ہوں گے۔“ میں نے عرض کی: میں اس سے زیادہ (روزے رکھنے) کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم داود علیہ السلام کے روزے کی طرح روزے رکھو، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ترک کرتے تھے اور (دشمن سے) آمنے سامنے کے وقت بھاگتے نہیں تھے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2736]
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ : بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: " وَنَفِهَتِ النَّفْسُ ".
مسعر سے روایت ہے، کہا: ہمیں حبیب بن ابی ثابت نے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کے مانند) حدیث سنائی اور کہا: ”اور (ہمیشہ روزے رکھنے والے کی) جان درماندہ ہو جائے گی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2737]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ "، قُلْتُ: إِنِّي أَفْعَلُ ذَلِكَ، قَالَ: " فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ عَيْنَاكَ، وَنَفِهَتْ نَفْسُكَ، لِعَيْنِكَ حَقٌّ، وَلِنَفْسِكَ حَقٌّ، وَلِأَهْلِكَ حَقٌّ، قُمْ وَنَمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ ".
سفیان بن عینیہ نے عمرو سے، انہوں نے ابوعباس سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ”کیا مجھے خبر نہیں دی گئی کہ تم رات بھر قیام کرتے ہو اور (روزانہ) دن کا روزہ رکھتے ہو؟“ میں نے عرض کی: میں یہ کام کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم یہ کام کرو گے تو (اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ) تمہاری آنکھیں اندر کو دھنس جائیں گی۔ اور تمہاری جان کمزور ہو جائے گی۔ تم پر تمہاری آنکھ کا حق ہے۔ تمہاری اپنی ذات کا حق ہے۔ اور تمہارے گھر والوں کا حق ہے۔ قیام کرو اور نیند بھی لو، روزہ رکھو بھی اور روزہ چھوڑو بھی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2738]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَحَبَّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ، وَأَحَبَّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَيَقُومُ ثُلُثَهُ، وَيَنَامُ سُدُسَهُ، وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا، وَيُفْطِرُ يَوْمًا ".
سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی، انہوں نے عمرو بن اوس سے اور انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ (نفلی) روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ (نفلی) نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے۔ وہ آدھی رات تک سوتے تھے اور اس کا ایک تہائی قیام کرتے تھے اور اس کے (آخری) چھٹے حصے میں سو جاتے تھے۔ اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے (روزہ نہ رکھتے) تھے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2739]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ نِصْفَ الدَّهْرِ، وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، كَانَ يَرْقُدُ شَطْرَ اللَّيْلِ، ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْقُدُ آخِرَهُ، يَقُومُ ثُلُثَ اللَّيْلِ بَعْدَ شَطْرِهِ "، قَالَ: قُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ: أَعَمْرُو بْنُ أَوْسٍ كَانَ يَقُولُ يَقُومُ ثُلُثَ اللَّيْلِ بَعْدَ شَطْرِهِ؟، قَالَ: نَعَمْ.
ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی کہ ان کو عمرو بن اوس نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے (یہ) خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں۔ وہ آدھا زمانہ روزے رکھتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے، وہ آدھی رات تک سوتے تھے پھر قیام کرتے تھے، پھر اس کے آخری حصے میں سو جاتے تھے، وہ آدھی رات کے بعد رات کا ایک تہائی حصہ قیام کرتے تھے۔“ میں (ابن جریج) نے عمرو بن دینار سے پوچھا: کیا عمرو بن اوس یہ کہتے تھے: ”وہ آدھی رات کے بعد رات کا تہائی حصہ قیام کرتے تھے؟“ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2740]
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الْمَلِيحِ ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِيكَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَحَدَّثَنَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذُكِرَ لَهُ صَوْمِي فَدَخَلَ عَلَيَّ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ وِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، فَجَلَسَ عَلَى الْأَرْضِ وَصَارَتِ الْوِسَادَةُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، فَقَالَ لِي: " أَمَا يَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ؟ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " خَمْسًا ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " سَبْعًا ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " تِسْعًا "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " أَحَدَ عَشَرَ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ، شَطْرُ الدَّهْرِ، صِيَامُ يَوْمٍ وَإِفْطَارُ يَوْمٍ ".
ابوقلابہ (بن زید بن عامر الجرمی البصری) نے کہا: مجھے ابوملیح نے خبر دی، کہا: میں تمہارے والد کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس گیا تو انہوں نے ہمیں حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میرے روزوں کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چمڑے کا ایک تکیہ رکھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر بیٹھ گئے اور تکیہ میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان میں آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”کیا تمہیں ہر مہینے میں سے تین دن (کے روزے) کافی نہیں؟“ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! (اس سے زیادہ)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ۔“ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! (اس سے زیادہ)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات۔“ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! (اس سے زیادہ)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نو۔“ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! (اس سے زیادہ)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گیارہ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”داود علیہ السلام کے روزوں سے بڑھ کر کوئی روزے نہیں ہیں، آدھا زمانہ، ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن نہ رکھنا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2741]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: " صُمْ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ "، قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ "، قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ "، قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " صُمْ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ "، قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " صُمْ أَفْضَلَ الصِّيَامِ عِنْدَ اللَّهِ، صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ".
زیاد بن فیاض سے روایت ہے، کہا: میں نے ابوعیاض سے سنا، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”ایک دن کا روزہ رکھو اور تمہارے لیے ان (دنوں) کا اجر ہے جو باقی ہیں۔“ کہا: میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو دن روزے رکھو اور تمہارے لیے ان (دنوں) کا اجر ہے جو باقی ہیں۔“ کہا: میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین دن روزے رکھو اور تمہارے لیے ان (دنوں) کا اجر ہے جو باقی ہیں۔“ کہا: میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار دن روزے رکھو اور تمہارے لیے ان (دنوں) کا اجر ہے جو باقی ہیں۔“ کہا: میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ فضیلت والے روزے، یعنی داود علیہ السلام کے روزے کی طرح (روزے) رکھو، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن چھوڑ دیتے تھے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2742]
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ جميعا، عَنِ ابْنِ مَهْدِيٍّ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، بَلَغَنِي أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ، وَتَقُومُ اللَّيْلَ، فَلَا تَفْعَلْ فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَظًّا، وَلِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَظًّا، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَظًّا، صُمْ وَأَفْطِرْ، صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَذَلِكَ صَوْمُ الدَّهْرِ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بِي قُوَّةً، قَالَ: " فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، صُمْ يَوْمًا، وَأَفْطِرْ يَوْمًا "، فَكَانَ يَقُولُ: يَا لَيْتَنِي أَخَذْتُ بِالرُّخْصَةِ.
سعید بن میناء نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے عبداللہ بن عمرو! مجھے خبر ملی ہے کہ تم (روزانہ) دن کا روزہ رکھتے ہو اور رات بھر قیام کرتے ہو، ایسا مت کرو کیونکہ تم پر تمہارے جسم کا حصہ (ادا کرنا ضروری) ہے، تم پر تمہاری آنکھ کا حصہ (ادا کرنا ضروری) ہے، تم پر تمہاری بیوی کا حصہ (ادا کرنا ضروری) ہے، روزے رکھو اور ترک بھی کرو، ہر مہینے میں سے تین دن کے روزے رکھ لیا کرو۔ یہ سارے وقت کے روزوں (کے برابر) ہیں۔“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے اندر (زیادہ روزے رکھنے کی) قوت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم داود علیہ السلام کے روزے کی طرح (روزے) رکھو، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن چھوڑ دیتے تھے۔“ وہ کہا کرتے تھے: کاش! میں نے رخصت کو قبول کیا ہوتا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2743]
36: باب اسْتِحْبَابِ صِياَمِ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَصَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ وَعَاشُورَاءَ وَالاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ.
باب: ہر مہینے تین دن کے روزے اور یوم عرفہ کا روزہ اور عاشورہ اور سوموار اور جمعرات کے دن کے روزے کے استحباب کا بیان۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ الْعَدَوِيَّةُ ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ؟ "، قَالَتْ: " نَعَمْ "، فَقُلْتُ لَهَا: " مِنْ أَيِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ كَانَ يَصُومُ "، قَالَتْ: " لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَيِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ يَصُومُ ".
سیدہ معاذہ العدویہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ میں تین روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر پوچھا کہ کن دنوں میں (روزے رکھتے تھے؟) انہوں نے کہا: کچھ پرواہ نہ کرتے، کسی بھی دن روزہ رکھ لیتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2744]
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ أَوَ قَالَ لِرَجُلٍ وَهُوَ يَسْمَعُ: " يَا فُلَانُ أَصُمْتَ مِنْ سُرَّةِ هَذَا الشَّهْرِ؟ "، قَالَ: لَا، قَالَ: " فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ ".
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا، یا کسی اور شخص سے پوچھا اور وہ سن رہے تھے: ”اے فلاں! کیا تم نے اس مہینے کے وسط میں روزے رکھے ہیں؟“ اس نے جواب دیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو جب (رمضان مکمل کر کے) روزے ترک کرو تو (ہر مہینے) دو دن کے روزے رکھتے رہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2745]
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ : رَجُلٌ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كَيْفَ تَصُومُ؟، " فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ غَضَبَهُ، قَالَ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ، وَغَضَبِ رَسُولِهِ فَجَعَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُرَدِّدُ هَذَا الْكَلَامَ حَتَّى سَكَنَ غَضَبُهُ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الدَّهْرَ كُلَّهُ؟، قَالَ: " لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ "، أَوَ قَالَ: " لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ "، قَالَ: كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ، وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟، قَالَ: " وَيُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ "، قَالَ: كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا، وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟، قَالَ: " ذَاكَ صَوْمُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام "، قَالَ: كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا، وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ؟، قَالَ: " وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِكَ "، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ، فَهَذَا صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ، صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ، وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ، وَصِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ ".
حماد نے غیلان سے، انہوں نے عبداللہ بن معبدزمانی سے اور انہوں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: آپ کس طرح روزے رکھتے ہیں؟ اس کی بات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ دیکھا تو کہنے لگے: ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہیں، ہم اللہ کے غصے سے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غصے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہما بار بار ان کلمات کو دہرانے لگے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ کے رسول! اس شخص کا کیا حکم ہے جو سال بھر (مسلسل) روزہ رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ اس نے روزہ رکھا نہ اس نے افطار کیا۔“ یا فرمایا: ”اس نے روزہ نہیں رکھا، اس نے افطار نہیں کیا۔“ کہا: اس کا کیا حکم ہے جو دو دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا کوئی اس کی طاقت رکھتا ہے؟“ پوچھا: اس کا کیا حکم ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے۔“ پوچھا: اس کا کیا حکم ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور دو دن افطار کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے پسند ہے کہ مجھے اس کی طاقت مل جاتی۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مہینے کے تین روزے اور ایک رمضان (کے روزوں) سے (لے کر دوسرے) رمضان (کے روزے) یہ (عمل) سارے سال کے روزوں (کے برابر) ہے۔ اور عرفہ کے دن کا روزہ، میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا اور اگلے سال کے گناہوں کا بھی، اور یوم عاشورہ کا روزہ، میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2746]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ واللفظ لابن المثنى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيَّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سُئِلَ عَنْ صَوْمِهِ، قَالَ: " فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِبَيْعَتِنَا بَيْعَةً، قَالَ: فَسُئِلَ عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ، فَقَالَ: " لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ، أَوْ مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ "، قَالَ: فَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمَيْنِ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ، قَالَ: " وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ "، قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمَيْنِ، قَالَ: " لَيْتَ أَنَّ اللَّهَ قَوَّانَا لِذَلِكَ "، قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ، قَالَ: " ذَاكَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام "، قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ، قَالَ: " ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ، وَيَوْمٌ بُعِثْتُ أَوْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ "، قَالَ: فَقَالَ: " صَوْمُ ثَلَاثَةٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَمَضَانَ إِلَى رَمَضَانَ صَوْمُ الدَّهْرِ "، قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ، فَقَالَ: " يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالْبَاقِيَةَ "، قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: " يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ "، وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ رِوَايَةِ شُعْبَةَ، قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ، فَسَكَتْنَا عَنْ ذِكْرِ الْخَمِيسِ لَمَّا نُرَاهُ وَهْمًا،
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے غیلان بن جریر سے حدیث سنائی، انہوں نے عبداللہ بن معبدزمانی سے سنا، انہوں نے حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے روزوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے عرض کی: ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے، اور بیعت کے طور پر اپنی بیعت پر راضی ہیں (جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی)۔ کہا: اس کے بعد آپ سے بغیر وقفے کے ہمیشہ روزہ رکھنے (صیام الدہر) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص نے روزہ رکھا نہ افطار کیا۔“ اس کے بعد آپ سے دو دن روزہ رکھنے اور ایک دن ترک کرنے کے بارے میں پوچھا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طاقت کون رکھتا ہے؟“ کہا: اور آپ سے ایک دن روزہ رکھنے اور دو دن ترک کرنے کے بارے میں پوچھا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاش کے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کام کی طاقت دی ہوتی۔“ کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن روزہ ترک کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میرے بھائی داود علیہ السلام کا روزہ ہے۔“ کہا: اور آپ سے سوموار کا روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دن ہے جب میں پیدا ہوا اور جس دن مجھے (رسول بنا کر) بھیجا گیا، یا مجھ پر (قرآن) نازل کیا گیا۔“ کہا: اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ماہ کے تین روزے اور اگلے رمضان تک رمضان کے روزے ہی ہمیشہ کے روزے ہیں۔“ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔“ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عاشورہ کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔“ امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا: اس حدیث میں شعبہ کی روایت (یوں) ہے: انہوں (ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) نے کہا: اور آپ سے سوموار اور جمعرات کے روزے کے بارے میں سوال کیا گیا۔ لیکن ہم نے جمعرات کے ذکر سے سکوت کیا ہے، کیونکہ ہمارے خیال میں یہ (راوی کا) وہم ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2747]
وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ،
معاذ بن معاذ، شبابہ اور نضر بن شمیل سب نے شعبہ سے اس سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کے مانند) روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2748]
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ، غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ فِيهِ الِاثْنَيْنِ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْخَمِيسَ.
ابان عطار نے کہا: ہمیں غیلان بن جریر نے اسی سند کے ساتھ شعبہ کی حدیث کی مانند حدیث بیان کی، مگر انہوں نے (اپنی) اس حدیث میں سوموار کا ذکر کیا، جمعرات کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2749]
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ غَيْلَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سُئِلَ عَنْ صَوْمِ الِاثْنَيْنِ "، فَقَالَ: " فِيهِ وُلِدْتُ، وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ ".
ہمیں مہدی بن میمون نے حدیث سنائی، انہوں نے غیلان سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوموار کے روزے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسی دن پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر (قرآن) نازل کیا گیا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2750]
37: باب صَوْمِ سَرَرِ شَعْبَانَ:
باب: شعبان کے روزوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ وَلَمْ أَفْهَمْ مُطَرِّفًا مِنْ هَدَّابٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَوْ لِآخَرَ: " أَصُمْتَ مِنْ سُرَرِ شَعْبَانَ؟ "، قَالَ: لَا، قَالَ: " فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ ".
ثابت نے مطرف سے، انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے۔۔۔ یا کسی اور آدمی سے۔۔۔ فرمایا: ”کیا تم نے شعبان کے وسط میں روزے رکھے ہیں؟“ اس نے جواب دیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم روزے ختم کر لو تو دو دن کے روزے رکھنا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2751]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: " هَلْ صُمْتَ مِنْ سُرَرِ هَذَا الشَّهْرِ شَيْئًا؟ "، قَالَ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِذَا أَفْطَرْتَ مِنْ رَمَضَانَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ مَكَانَهُ ".
ابوعلاء نے مطرف سے اور انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے پوچھا: ”کیا تم نے اس مہینے کے دوران میں کچھ روزے رکھے ہیں؟“ اس نے جواب دیا: نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم رمضان کے روزے ختم کر لو تو اس کی جگہ دو روزے رکھ لینا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2752]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ ابْنِ أَخِي مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا يُحَدِّثُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: " هَلْ صُمْتَ مِنْ سُرَرِ هَذَا الشَّهْرِ شَيْئًا؟ "، يَعْنِي شَعْبَانَ، قَالَ: لَا، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: " إِذَا أَفْطَرْتَ رَمَضَانَ، فَصُمْ يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ "، شُعْبَةُ الَّذِي شَكَّ فِيهِ، قَالَ: وَأَظُنُّهُ قَالَ يَوْمَيْنِ،
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے مطرف بن شخیر کے بھتیجے سے حدیث سنائی، کہا: میں نے مطرف کو حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے پوچھا: ”کیا تم نے اس مہینے یعنی شعبان کے وسط (یا دوران) میں کچھ روزے رکھے ہیں؟“ اس نے جواب دیا: نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”جب تم رمضان کے روزے ختم کر لو اس کے بعد ایک دن یا دو دن کے روزے رکھ لینا۔“ شعبہ نے۔۔۔ جن کو شک ہوا۔۔۔ کہا: میرا خیال ہے کہ آپ نے دو دن کے روزے کہا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2753]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، وَيَحْيَى اللُّؤْلُئِيُّ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِئِ ابْنِ أَخِي مُطَرِّفٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، بِمِثْلِهِ.
نضر نے ہمیں خبر دی (کہا:) ہمیں شعبہ نے خبر دی (کہا:) ہمیں مطرف کے بھتیجے عبداللہ بن ہانی نے اسی سند کے ساتھ اس (سابقہ حدیث) کے مانند حدیث روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2754]
38: باب فَضْلِ صَوْمِ الْمُحَرَّمِ:
باب: محرم کے روزوں کی فضیلت۔
حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ، وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ ".
ابوبشر نے حمید بن عبدالرحمان حمیری سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2755]
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَرْفَعُهُ، قَالَ: سُئِلَ أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ، وَأَيُّ الصِّيَامِ أَفْضَلُ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ؟، فَقَالَ " أَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ الصَّلَاةُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، وَأَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ صِيَامُ شَهْرِ اللَّهِ الْمُحَرَّمِ "،
جریر نے عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے محمد بن منتشر سے، انہوں نے حمید بن عبدالرحمان سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، وہ اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بیان کر رہے تھے۔ کہا: آپ سے دریافت کیا گیا: فرض نماز کے بعد کون سی نماز افضل ہے اور ماہ رمضان کے بعد کون سے روزے افضل ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز آدھی رات کی نماز ہے اور رمضان کے مہینے کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2756]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي ذِكْرِ الصِّيَامِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
زائدہ نے عبدالملک بن عمیر سے اسی سند کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روزوں کے ذکر میں اس (سابقہ حدیث) کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2757]
39: باب اسْتِحْبَابِ صَوْمِ سِتَّةِ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ اتِّبَاعًا لِرَمَضَانَ:
باب: رمضان کے بعد ماہ شوال کے چھ روزوں کے استحباب کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جميعا، عَنْ إِسْمَاعِيل، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتِ بْنِ الْحَارِثِ الْخَزْرَجِيِّ ، 25 عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله قَالَ: " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَأَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوّالٍ. كَانَ كَصِيَامِ الدّهْرِ ".
ہمیں اسماعیل بن جعفر نے حدیث سنائی، (کہا:) مجھے سعد بن سعید قیس نے عمر بن ثابت بن حارث خزعجی سے خبر دی، انہوں نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے ان کو حدیث سنائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے روزے رکھے، پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ (پورے سال) مسلسل روزے رکھنے کی طرح ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2758]
وحدّثنا ابْنُ نُمَيْرٍ. حَدّثَنَا أَبِي. حَدّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ أَخُ وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ ثَابِتٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: بِمِثْلِهِ،
عبداللہ بن نمیر نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔۔۔ اسی (سابقہ حدیث) کے مانند۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2759]
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِمِثْلِهِ.
عبداللہ بن مبارک نے سعد بن سعید سے روایت کی، کہا: میں نے عمر بن ثابت سے سنا، کہا: میں نے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔۔۔ اسی (سابقہ حدیث) کے مانند۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2760]
40: باب فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا وَبَيَانِ مَحِلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِهَا:
باب: شب قدر کی فضیلت اور اس کو تلاش کرنے کی ترغیب، اور اس کے تعین کا بیان۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْمَنَامِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَى رُؤْيَاكُمْ قَدْ تَوَاطَأَتْ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ، فَمَنْ كَانَ مُتَحَرِّيَهَا، فَلْيَتَحَرَّهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ ".
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہ آخری سات راتوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں کو خواب میں لیلۃ القدر دکھائی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں دیکھتا ہوں کہ تمہارا خواب آخری سات راتوں میں ایک دوسرے کے موافق ہو گیا ہے، اب جو اس (لیلۃ القدر) کو تلاش کرنا چاہے وہ اسے آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔“ (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بیان کردہ مکمل الفاظ آگے حدیث: 2764 میں ہیں)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2761]
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ ".
عبداللہ بن دینار نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، فرمایا: ”لیلۃ القدر کو (رمضان کی) آخری سات راتوں میں تلاش کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2762]
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: رَأَى رَجُلٌ أَنَّ لَيْلَةَ الْقَدْرِ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَى رُؤْيَاكُمْ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فَاطْلُبُوهَا فِي الْوِتْرِ مِنْهَا ".
سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی، کہا: ایک شخص نے (خواب میں) دیکھا کہ لیلۃ القدر ستائیسویں رات ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارا خواب آخری عشرے کے بارے میں ہے، تم اس (لیلۃ القدر) کو اس (عشرے) کی طاق (راتوں) میں تلاش کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2763]
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ أَبَاهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِلَيْلَةِ الْقَدْرِ: " إِنَّ نَاسًا مِنْكُمْ قَدْ أُرُوا أَنَّهَا فِي السَّبْعِ الْأُوَلِ، وَأُرِيَ نَاسٌ مِنْكُمْ أَنَّهَا فِي السَّبْعِ الْغَوَابِرِ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ ".
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، (کہا:) مجھے سالم بن عبداللہ بن عمر نے خبر دی کہ ان کے والد نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لیلۃ القدر کے بارے میں سنا، فرما رہے تھے: ”تم میں سے کچھ لوگوں کو (خواب میں) دکھایا گیا ہے کہ یہ پہلی سات راتوں میں ہے اور تم میں سے کچھ لوگوں کو دکھایا گیا ہے کہ یہ بعد میں آنے والی سات راتوں میں ہے، تو تم اس کو بعد میں آنے والی (آخری) دس راتوں میں تلاش کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2764]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُقْبَةَ وَهُوَ ابْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ يَعْنِي لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَإِنْ ضَعُفَ أَحَدُكُمْ أَوْ عَجَزَ، فَلَا يُغْلَبَنَّ عَلَى السَّبْعِ الْبَوَاقِي ".
عقبہ نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس یعنی لیلۃ القدر کو آخری دس راتوں میں تلاش کرو، اگر تم میں سے کوئی کمزور پڑ جائے یا بے بس ہو جائے تو وہ باقی کی سات راتوں میں (کسی صورت سستی یا کمزوری سے) مغلوب نہ ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2765]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ كَانَ مُلْتَمِسَهَا، فَلْيَلْتَمِسْهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ".
شعبہ نے جبلہ سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ آپ نے فرمایا: ”جو اس رات کا متلاشی ہو تو وہ اسے آخری دس راتوں میں تلاش کرے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2766]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ جَبَلَةَ ، وَمُحَارِبٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَحَيَّنُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، أَوَ قَالَ: فِي التِّسْعِ الْأَوَاخِرِ ".
شیبانی نے جبلہ اور محارب سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لیلۃ القدر کے وقت آخری دس راتوں میں تلاش کرو۔“ یا فرمایا: ”آخری سات راتوں میں (تلاش کرو)۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2767]
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، ثُمَّ أَيْقَظَنِي بَعْضُ أَهْلِي فَنُسِّيتُهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ "، وقَالَ حَرْمَلَةُ: فَنَسِيتُهَا.
ہمیں ابوطاہر اور حرملہ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں ابن وہب نے خبر دی (کہا:) مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے (خواب میں) شب قدر دکھائی گئی پھر مجھے میرے گھر والوں میں سے کسی نے بیدار کر دیا تو وہ مجھے بھلا دی گئی، تم اسے بعد میں آنے والی (آخری) دس راتوں میں تلاش کرو۔“ حرملہ نے (”مجھے بھلا دی گئی“ کے بجائے) ”میں اسے بھول گیا“ کہا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2768]
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ فِي الْعَشْرِ الَّتِي فِي وَسَطِ الشَّهْرِ، فَإِذَا كَانَ مِنْ حِينِ تَمْضِي عِشْرُونَ لَيْلَةً، وَيَسْتَقْبِلُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ، يَرْجِعُ إِلَى مَسْكَنِهِ، وَرَجَعَ مَنْ كَانَ يُجَاوِرُ مَعَهُ، ثُمَّ إِنَّهُ أَقَامَ فِي شَهْرٍ جَاوَرَ فِيهِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ الَّتِي كَانَ يَرْجِعُ فِيهَا، فَخَطَبَ النَّاسَ فَأَمَرَهُمْ بِمَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ: " إِنِّي كُنْتُ أُجَاوِرُ هَذِهِ الْعَشْرَ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُجَاوِرَ هَذِهِ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ، فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَبِتْ فِي مُعْتَكَفِهِ، وَقَدْ رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فَأُنْسِيتُهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي كُلِّ وِتْرٍ، وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ "، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: مُطِرْنَا لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ، فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ فِي مُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَقَدِ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، وَوَجْهُهُ مُبْتَلٌّ طِينًا وَمَاءً،
ہمیں بکر نے ابن ہاد سے حدیث سنائی، انہوں نے محمد بن ابراہیم سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دس دنوں میں اعتکاف کرتے تھے جو مہینے کے درمیان میں ہوتے ہیں، جب وہ وقت آتا کہ بیس راتیں گزر جاتیں اور اکیسویں رات کی آمد ہوتی تو اپنے گھر لوٹ جاتے اور وہ شخص بھی لوٹ جاتا جو آپ کے ساتھ اعتکاف کرتا تھا۔ پھر آپ ایک مہینے، جس میں آپ نے اعتکاف کیا تھا، اس رات ٹھہرے رہے جس میں آپ (گھر) لوٹ جایا کرتے تھے۔ آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا، جو اللہ تعالیٰ نے چاہا اس کا حکم دیا۔ پھر فرمایا: ”میں ان (درمیانے) دس دنوں کا اعتکاف کرتا تھا۔ پھر مجھ پر منکشف ہوا کہ میں اس آخری عشرے کا اعتکاف کروں۔ تو جس شخص نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ اپنے اعتکاف کی جگہ ہی میں رات بسر کرے اور بلاشبہ میں نے یہ رات خواب میں دیکھی ہے اس کے بعد وہ مجھے بھلا دی گئی۔ لہٰذا تم اسے آخری عشرے کی ہر طاق رات میں تلاش کرو۔ میں اپنے آپ کو (خواب میں) دیکھا کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔“ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: اکیسویں رات ہم پر بارش ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھنے کی جگہ میں مسجد (کی چھت) ٹپک پڑی، میں نے جب آپ صبح کی نماز سے فارغ ہو چکے تھے، آپ کو دیکھا تو آپ کا چہرہ مبارک مٹی اور پانی سے بھیگا ہوا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2769]
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُجَاوِرُ فِي رَمَضَانَ الْعَشْرَ الَّتِي فِي وَسَطِ الشَّهْرِ "، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " فَلْيَثْبُتْ فِي مُعْتَكَفِهِ "، وَقَالَ: " وَجَبِينُهُ مُمْتَلِئًا طِينًا وَمَاءً ".
عبدالعزیز، یعنی دراوردی نے یزید (بن ہاد) سے، انہوں نے محمد بن ابراہیم سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں درمیانے عشرے کا اعتکاف کرتے تھے۔۔۔ (آگے) اس (سابقہ حدیث) کے مانند حدیث بیان کی، البتہ انہوں نے (اپنے ”اعتکاف کی جگہ میں رات گزارنے“ کے بجائے) ”اپنے اعتکاف کی جگہ میں ٹھہرے رہے“ کہا اور کہا: آپ کی پیشانی مٹی اور پانی سے بھری ہوئی تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2770]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوَّلَ مِنْ رَمَضَانَ، ثُمَّ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ فِي قُبَّةٍ تُرْكِيَّةٍ عَلَى سُدَّتِهَا حَصِيرٌ، قَالَ: فَأَخَذَ الْحَصِيرَ بِيَدِهِ فَنَحَّاهَا فِي نَاحِيَةِ الْقُبَّةِ، ثُمَّ أَطْلَعَ رَأْسَهُ فَكَلَّمَ النَّاسَ فَدَنَوْا مِنْهُ، فَقَالَ: " إِنِّي اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الْأَوَّلَ أَلْتَمِسُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ، ثُمَّ أُتِيتُ فَقِيلَ لِي: إِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَعْتَكِفَ فَلْيَعْتَكِفْ "، فَاعْتَكَفَ النَّاسُ مَعَهُ، قَالَ: " وَإِنِّي أُرْبِئْتُهَا لَيْلَةَ وِتْرٍ، وَإِنِّي أَسْجُدُ صَبِيحَتَهَا فِي طِينٍ وَمَاءٍ "، فَأَصْبَحَ مِنْ لَيْلَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ، وَقَدْ قَامَ إِلَى الصُّبْحِ فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ، فَأَبْصَرْتُ الطِّينَ وَالْمَاءَ، فَخَرَجَ حِينَ فَرَغَ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، وَجَبِينُهُ وَرَوْثَةُ أَنْفِهِ فِيهِمَا الطِّينُ وَالْمَاءُ، وَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ.
ہم سے عمارہ بن غزیہ انصاری نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے محمد بن ابراہیم سے سنا، وہ ابوسلمہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ترکی خیمے کے اندر، جس کے دروازے پر چٹائی تھی، رمضان کے پہلے عشرے میں اعتکاف کیا، پھر درمیانے عشرے میں اعتکاف کیا۔ کہا: تو آپ نے چٹائی کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر خیمے کے ایک کونے میں کیا، پھر اپنا سر مبارک خیمے سے باہر نکال کر لوگوں سے گفتگو فرمائی، لوگ آپ کے قریب ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس شب (قدر) کو تلاش کرنے کے لیے پہلے عشرے کا اعتکاف کیا، پھر میں نے درمیانے عشرے کا اعتکاف کیا، پھر میرے پاس (بخاری حدیث: 813 میں ہے: جبریل علیہ السلام کی آمد ہوئی تو مجھ سے کہا گیا: وہ آخری دس راتوں میں ہے) تو اب تم میں سے جو اعتکاف کرنا چاہے وہ اعتکاف کر لے۔“ لوگوں نے آپ کے ساتھ اعتکاف کیا۔ آپ نے فرمایا: ”اور مجھے وہ ایک طاق رات دکھائی گئی اور یہ کہ میں اس (رات) کی صبح مٹی اور پانی میں سجدہ کر رہا ہوں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیسویں رات کی صبح کی، اور آپ نے (اس میں) صبح تک قیام کیا تھا پھر بارش ہوئی تو مسجد (کی چھت) ٹپک پڑی، میں نے مٹی اور پانی دیکھا، اس کے بعد جب آپ صبح کی نماز سے فارغ ہو کر باہر نکلے تو آپ کی پیشانی اور ناک کے کنارے دونوں میں مٹی اور پانی (کے نشانات) موجود تھے اور یہ آخری عشرے میں اکیسویں کی رات تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2771]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَأَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَ لِي صَدِيقًا، فَقُلْتُ: أَلَا تَخْرُجُ بِنَا إِلَى النَّخْلِ، فَخَرَجَ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ، فَقُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ؟، فَقَالَ: نَعَمْ، اعْتَكَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْوُسْطَى مِنْ رَمَضَانَ، فَخَرَجْنَا صَبِيحَةَ عِشْرِينَ، فَخَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنِّي أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ وَإِنِّي نَسِيتُهَا أَوْ أُنْسِيتُهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ كُلِّ وِتْرٍ، وَإِنِّي أُرِيتُ أَنِّي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ، فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَرْجِعْ "، قَالَ: فَرَجَعْنَا وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً، قَالَ: وَجَاءَتْ سَحَابَةٌ فَمُطِرْنَا حَتَّى سَالَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ، وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِي الْمَاءِ وَالطِّينِ، قَالَ: حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ فِي جَبْهَتِهِ،
ہشام نے یحییٰ سے اور انہوں نے ابوسلمہ سے روایت کی، کہا: ہم نے آپس میں لیلۃ القدر کے بارے میں بات چیت کی، پھر میں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ میرے دوست تھے، میں نے کہا: کیا آپ ہمارے ساتھ نخلستان میں نہیں چلیں گے؟ وہ نکلے اور ان (کے کندھوں) پر دھاری دار چادر تھی، میں نے ان سے پوچھا: (کیا) آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیلۃ القدر کا ذکر کرتے ہوئے سنا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے درمیانے عشرے میں اعتکاف کیا، ہم بیسویں (رات) کی صبح کو (اعتکاف سے) نکلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: ”مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی اور اب میں بھول گیا ہوں۔۔۔ مجھے بھلا دی گئی ہے۔۔۔ اس لیے تم اس کو آخری عشرے کی ہر طاق رات میں تلاش کرو اور میں نے دیکھا کہ میں (اس رات) پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔“ تو جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ واپس (اعتکاف میں) چلا جائے۔ کہا: ہم واپس ہو گئے اور ہمیں آسمان میں بادل کا کوئی ٹکڑا نظر نہیں آ رہا تھا، کہا: ایک بدلی آئی، ہم پر بارش ہوئی یہاں تک کہ مسجد کی چھت بہہ پڑی۔ وہ کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی تھی اور نماز کھڑی کی گئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہے تھے، کہا: یہاں تک کہ میں نے آپ کی پیشانی پر مٹی کا نشان بھی دیکھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2772]
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ كِلَاهُمَا، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَفِي حَدِيثِهِمَا " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ انْصَرَفَ، وَعَلَى جَبْهَتِهِ وَأَرْنَبَتِهِ أَثَرُ الطِّينِ ".
معمر اور اوزاعی دونوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ اس (سابقہ حدیث) کے ہم معنی روایت کی۔ اور ان دونوں کی حدیث میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے (فارغ ہو کر) پلٹے تو میں نے آپ کو اس حال میں دیکھا کہ آپ کی پیشانی اور ناک کے کنارے پر مٹی کا نشان تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2773]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ، يَلْتَمِسُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ قَبْلَ أَنْ تُبَانَ لَهُ، فَلَمَّا انْقَضَيْنَ أَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَقُوِّضَ، ثُمَّ أُبِينَتْ لَهُ أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فَأَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَأُعِيدَ، ثُمَّ خَرَجَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهَا كَانَتْ أُبِينَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ، وَإِنِّي خَرَجْتُ لِأُخْبِرَكُمْ بِهَا، فَجَاءَ رَجُلَانِ يَحْتَقَّانِ مَعَهُمَا الشَّيْطَانُ فَنُسِّيتُهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، الْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ "، قَالَ: قُلْتُ يَا أَبَا سَعِيدٍ: إِنَّكُمْ أَعْلَمُ بِالْعَدَدِ مِنَّا، قَالَ: أَجَلْ، نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْكُمْ، قَالَ: قُلْتُ: مَا التَّاسِعَةُ وَالسَّابِعَةُ وَالْخَامِسَةُ، قَالَ: إِذَا مَضَتْ وَاحِدَةٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ وَهِيَ التَّاسِعَةُ، فَإِذَا مَضَتْ ثَلَاثٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا السَّابِعَةُ، فَإِذَا مَضَى خَمْسٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا الْخَامِسَةُ، وَقَالَ ابْنُ خَلَّادٍ: مَكَانَ يَحْتَقَّانِ يَخْتَصِمَانِ.
محمد بن مثنیٰ اور ابوبکر بن خلاد نے کہا: ہمیں عبدالاعلیٰ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سعید نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے درمیانے عشرے کا اعتکاف کیا اس سے پہلے کہ آپ کے سامنے اس کو کھول دیا جائے۔ آپ لیلۃ القدر کو تلاش کر رہے تھے۔ جب یہ (دس راتیں) ختم ہو گئیں تو آپ نے حکم دیا اور ان خیموں کو اکھاڑ دیا گیا، پھر (وہ رات) آپ پر واضح کر دی گئی کہ وہ آخری عشرے میں ہے۔ اس پر آپ نے (خیمے لگانے کا) حکم دیا تو ان کو دوبارہ لگا دیا گیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر لوگوں کے سامنے آئے اور فرمایا: ”اے لوگو! مجھ پر لیلۃ القدر واضح کر دی گئی اور میں تم کو اس کے بارے میں بتانے کے لیے نکلا تو دو آدمی (ایک دوسرے پر) اپنے حق کا دعویٰ کرتے ہوئے آئے، ان کے ساتھ شیطان تھا۔ اس پر وہ مجھے بھلا دی گئی۔ تم اسے رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو۔ تم نویں، ساتویں اور پانچویں (رات) میں تلاش کرو۔“ (ابونضرہ نے) کہا: میں نے کہا: ابوسعید! ہماری نسبت آپ اس گنتی کو زیادہ جانتے ہیں، انہوں نے کہا: ہاں، ہم اسے جاننے کے تم سے زیادہ حقدار ہیں۔ کہا: میں نے پوچھا: نویں، ساتویں، اور پانچویں سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جب اکیسویں رات گزرتی ہے تو وہی رات جس کے بعد بائیسویں آتی ہے وہی نویں ہے اور جب تیئسویں رات گزرتی ہے تو وہی جس کے بعد (آخر سے گنتے ہوئے ساتویں رات آتی ہے) ساتویں ہے، اس کے بعد جب پچیسویں رات گزرتی ہے تو وہی جس کے بعد پانچویں رات آتی ہے، پانچویں ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2774]
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَهْلِ بْنِ إِسْحَاق بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيُّ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَقَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ: عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، ثُمَّ أُنْسِيتُهَا، وَأَرَانِي صُبْحَهَا أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ "، قَالَ: فَمُطِرْنَا لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْصَرَفَ، وَإِنَّ أَثَرَ الْمَاءِ وَالطِّينِ عَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ يَقُولُ: ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ.
بسر بن سعید نے حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے شب قدر دکھائی گئی پھر مجھے بھلا دی گئی۔ اس کی صبح میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔“ کہا: تیئسویں رات ہم پر بارش ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی پھر آپ نے (رخ) پھیرا تو آپ کی پیشانی اور ناک پر پانی اور مٹی کے نشانات تھے، کہا: اور عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے (لیلۃ القدر) تیئیسویں ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2775]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: " الْتَمِسُوا "، وَقَالَ وَكِيعٌ: " تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیلۃ القدر کو رمضان کی آخری دس راتوں میں تلاش کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2776]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدَةَ ، وَعَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، سمعا زر بن حبيش ، يَقُولُ: سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: مَنْ يَقُمْ الْحَوْلَ يُصِبْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَقَالَ: " رَحِمَهُ اللَّهُ أَرَادَ أَنْ لَا يَتَّكِلَ النَّاسُ أَمَا إِنَّهُ قَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ، وَأَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، وَأَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، ثُمَّ حَلَفَ لَا يَسْتَثْنِي أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ "، فَقُلْتُ: بِأَيِّ شَيْءٍ تَقُولُ ذَلِكَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ؟، قَالَ: " بِالْعَلَامَةِ أَوْ بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا تَطْلُعُ يَوْمَئِذٍ لَا شُعَاعَ لَهَا ".
سفیان بن عیینہ نے عبدہ اور عاصم بن ابی نجود سے روایت کی، ان دونوں نے حضرت زر بن حبیش سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، میں نے کہا: آپ کے بھائی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو سال بھر (رات کو) قیام کرے گا، وہ لیلۃ القدر کو پا لے گا۔ انہوں نے فرمایا: ”اللہ ان پر رحم فرمائے، انہوں نے چاہا کہ لوگ (کم راتوں کی عبادت پر) قناعت نہ کر لیں، ورنہ وہ خوب جانتے ہیں کہ وہ رمضان ہی میں ہے اور آخری عشرے میں ہے اور یہ بھی کہ وہ ستائیسویں رات ہے۔“ پھر انہوں نے استثناء (ان شاء اللہ کہے) بغیر قسم کھا کر کہا: وہ ستائیسویں رات ہی ہے۔ اس پر میں نے کہا: ابومنذر! یہ بات آپ کس بنا پر کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اس علامت یا نشانی کی بنا پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتائی ہے کہ اس دن سورج نکلتا ہے، اس کی شعائیں (نمایاں) نہیں ہوتیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2777]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَةَ بْنَ أَبِي لُبَابَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ أُبَيٌّ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ: " وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُهَا "، قَالَ شُعْبَةُ: " وَأَكْبَرُ عِلْمِي هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِيَامِهَا، هِيَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ "، وَإِنَّمَا شَكَّ شُعْبَةُ فِي هَذَا الْحَرْفِ، هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " وَحَدَّثَنِي بِهَا صَاحِبٌ لِي عَنْهُ ".
شعبہ نے کہا: میں نے عبدہ بن ابی لبابہ سے سنا، وہ حضرت زر بن حبیش سے حدیث بیان کر رہے تھے۔ انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ کہا: حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے لیلۃ القدر کے بارے میں کہا: واللہ! إني لأعلمها ۔ شعبہ نے (روایت کے الفاظ بیان کرتے ہوئے) کہا: میرا غالب گمان ہے کہ یہ وہی رات ہے جس (پر پوری رات) کے قیام کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا (اور) وہ ستائیسویں رات ہے۔ اس فقرے میں شعبہ نے شک کیا: ”یہ وہی رات ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا۔“ اور کہا: اس کے بارے میں مجھے میرے ایک ساتھی نے ان (عبدہ) کے حوالے سے حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2778]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ وَهُوَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَيُّكُمْ يَذْكُرُ حِينَ طَلَعَ الْقَمَرُ، وَهُوَ مِثْلُ شِقِّ جَفْنَةٍ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہم نے آپس میں لیلۃ القدر کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کس کو یاد ہے جب چاند طلوع ہوا اور وہ پیالے کے ایک ٹکڑے کے مانند تھا (وہی رات تھی)؟“ [صحيح مسلم/حدیث: 2779]
← پچھلی کتاب #14 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #16 →