صحيح مسلم حدیث نمبر: 2559
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 1101
Sahih Muslim 2559
کتاب #13: روزوں کے احکام و مسائل
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي إسحاق الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ، قَالَ: " يَا فُلَانُ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا "، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا، قَالَ: " انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا "، قَالَ: فَنَزَلَ فَجَدَحَ فَأَتَاهُ بِهِ، فَشَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ: " إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَا هُنَا، وَجَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ".
ہشیم، ابواسحاق شیبانی، حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے مہینے میں ایک سفر میں تھے جب سورج غروب ہو گیا تو آپ نے فرمایا: ”اے فلاں! اتر اور ہمارے لیے ستو ملا۔“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ابھی تو دن ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اتر اور ہمارے لیے ستو ملا۔“ تو وہ اترا اور اس نے ستو ملا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ستو پیا پھر آپ نے اپنے ہاتھ مبارک سے فرمایا: ”جب سورج اس طرف سے غروب ہو جائے اور اس طرف سے رات آجائے تو روزہ رکھنے والے کو افطار کر لینا چاہیے۔“ (اس کا روزہ ختم ہو چکا) [صحيح مسلم/حدیث: 2559]